حدیث لوح

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

حدیث لوح حضرت فاطمہ زہرا(س) یا حدیث جابر، ائمہ معصومین کی امامت کو ثابت کرنے کے سلسلے میں پیغمبر اکرم(ص) سے نقل ہونے والی احادیث میں سے ایک ہے۔

یہ حدیث سند کے حوالے سے اپنی مقبولیت اور مختلف منابع میں کثرت کے ساتھ نقل ہونے کی وجہ سے ائمہ معصومین کی امامت و خلافت کو ثابت کرنے میں ایک ممتاز مقام کا حامل ہے۔ اس حدیث کی سب سے اہم خصوصیت اس میں تمام ائمہ(ع) کے ناموں کا مذکور ہونا ہے جس میں امام علی(ع) سے لے کر بارہویں امام حضرت امام مہدی(ع) کا نام مذکور ہے۔

اس حدیث کا سب سے زیادہ مشہور نقل رسول اکرم(ص) کے جلیل القدر اور معروف صحابی جابر بن عبداللہ انصاری کے توسط سے نقل ہوئی ہے۔ وہ تختی جس پر یہ حدیث لکهی ہوئی تھی ایک ایسی تختی ہے جسے خدا نے امام حسین(ع) کی ولادت باسعادت کے موقع پر پیغمبر اکرم(ص) کو بطور ہدیہ عطا فرمایا تها اور رسول اکرم(ص) نے حضرت زہرا کی خشنودی کیلئے اسے حضرت فاطمہ(س) کو ہدیہ کے طور پر عطا فرمایا تها۔ حدیث لوح مختلف طریقوں سے مختلف الفاظ کے ساتھ نقل ہوئی ہے۔

حدیث لوح کا مشہور متن

حدیث لوح کئی طریقوں سے نقل ہوئی ہے لیکن اس کا سب سے زیادہ مشہور نقل جابر بن عبداللہ انصاری کی روایت ہے، جس کے مطابق یہ حدیث یوں ہے: امام صادق(ع) فرماتے ہیں کہ ایک دن میرے والد گرامی (امام محمد باقر) نے جابر بن عبداللہ انصاری سے فرمایا کہ اس لوح اور اس پر مندرج مطالب کے بارے میں ہمیں آگاہ کرو جسے تم نے حضرت فاطمہ(س) کے پاس مشاہدہ کیا تھا۔ اس پر جابر نے کہا: ایک دن میں رسول اکرم(ص) کی حیات طیبہ میں امام حسین(ع) کی ولادت با سعادت کی مناسبت سے حضرت زہرا کو تبریک و نہنیت پیش کرنے کی غرض سے ان کے ہاں گیا تو میں نے آپ(س) کے پاس اسک سبز رنگ کی تختی دیکھی اس موقع پر خیال کیا کہ شاید یہ زمرد کی کوئی تختی ہو گی لیکن اس پر سفید رنگوں میں واضح اور روشن تحریر دیکھی جو سورج کی طرح چمک رہی تھی، میں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان، یہ تختی کیا ہے؟ حضرت فاطمہ(س) نے فرمایا: "یہ وہ لوح ہے جسے خدا نے اپنے رسول حضرت محمد مصطفی(ص) کو بطور ہدیہ دیا تھا۔ اس لوح پر میرے والد گرامی، میرے شوہر نامدار اور میرے بچوں اور میرے نسل سے آنے والے اماموں اور اوصیاؤں کے نام درج ہیں۔ میرے والد گرامی رسول اللہ(ص) نے اسے مجھے عطا فرمائی ہے تاکہ اسے دیکھ میرے دل کو خوشی اور سرور حاصل ہو جائے۔" اس کے بعد آپکی دادی حضرت فاطمہ(س) نے وہ لوح میرے حوالے فرمایی۔ میں نے اس لوح میں جو کچھ تحریر تھی اس کا مطالعہ کیا اور اسے یاداشت کیا۔ اس وقت جابر نے ایک نازل چمڑے پر لکھی ہوی ایک کتابچہ نکالی اسے کھولا اور اسے میرے والد گرامی(امام محمد باقر) کو دکھائی۔ میرے والد گرامی نے جابر سے فرمایا: جابر! اب جو کتاب تمهارے پر ہے اس میں دیکھ لیں تاکہ میں اسے بغیر دیکھے تمہیں سنا دوں۔ جابر نے اپنے پاس موجود نسخے میں نگاہ کرنا شروع کیا اور میرے والد گرامی نے اس میں موجود تمام مطالب کو زبانی سنا دیا۔ خدا کی قسم امام(ع) نے جو بھی سنایا وہ اور ان مطالب میں جو اس لوح پر تحریر تھی میں ایک حرف کا بھی کمی بیشی نہیں تھی۔ جابر خواند. جب امام نے آخر تک سنایا تو جابر نے کہا میں خدا کو گواہ رکھ کر کہتا ہوں کی جو کچھ میں نے حضرت فاطمہ زہراء(س) کے پاس اس لوح میں دیکھا تھا بعینہ یہی تھا جو آپ نے فرمایا۔ اس لوح پر تحریر متن یوں ہے:

حدیث لوح
ترجمہ
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ

هَذَا کتَابٌ مِنَ اللَّهِ الْعَزِیزِ الْحَکیمِ*- لِمُحَمَّدٍ نَبِیهِ وَ نُورِهِ وَ سَفِیرِهِ وَ حِجَابِهِ وَ دَلِیلِهِ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِینُ مِنْ عِنْدِ رَبِّ الْعَالَمِینَ عَظِّمْ یا مُحَمَّدُ أَسْمَائِی وَ اشْکرْ نَعْمَائِی وَ لَا تَجْحَدْ آلَائِی إِنِّی أَنَا اللَّهُ لا إِلهَ إِلَّا أَنَا قَاصِمُ الْجَبَّارِینَ وَ مُدِیلُ الْمَظْلُومِینَ وَ دَیانُ الدِّینِ إِنِّی أَنَا اللَّهُ لا إِلهَ إِلَّا أَنَا فَمَنْ رَجَا غَیرَ فَضْلِی أَوْ خَافَ غَیرَ عَدْلِی عَذَّبْتُهُ عَذاباً لا أُعَذِّبُهُ أَحَداً مِنَ الْعالَمِینَ فَإِیای فَاعْبُدْ وَ عَلَی فَتَوَکلْ إِنِّی لَمْ أَبْعَثْ نَبِیاً فَأُکمِلَتْ أَیامُهُ وَ انْقَضَتْ مُدَّتُهُ إِلَّا جَعَلْتُ لَهُ وَصِیاً وَ إِنِّی فَضَّلْتُک عَلَی الْأَنْبِیاءِ وَ فَضَّلْتُ وَصِیک عَلَی الْأَوْصِیاءِ وَ أَکرَمْتُک بِشِبْلَیک وَ سِبْطَیک حَسَنٍ وَ حُسَینٍ فَجَعَلْتُ حَسَناً مَعْدِنَ عِلْمِی-بَعْدَ انْقِضَاءِ مُدَّةِ أَبِیهِ وَ جَعَلْتُ حُسَیناً خَازِنَ وَحْیی وَ أَکرَمْتُهُ بِالشَّهَادَةِ وَ خَتَمْتُ لَهُ بِالسَّعَادَةِ فَهُوَ أَفْضَلُ مَنِ اسْتُشْهِدَ وَ أَرْفَعُ الشُّهَدَاءِ دَرَجَةً جَعَلْتُ کلِمَتِی التَّامَّةَ مَعَهُ وَ حُجَّتِی الْبَالِغَةَ عِنْدَهُ بِعِتْرَتِهِ أُثِیبُ وَ أُعَاقِبُ أَوَّلُهُمْ عَلِی سَیدُ الْعَابِدِینَ وَ زَینُ أَوْلِیائِی الْمَاضِینَ وَ ابْنُهُ شِبْهُ جَدِّهِ الْمَحْمُودِ مُحَمَّدٌ الْبَاقِرُ عِلْمِی وَ الْمَعْدِنُ لِحِکمَتِی سَیهْلِک الْمُرْتَابُونَ فِی جَعْفَرٍ الرَّادُّ عَلَیهِ کالرَّادِّ عَلَی حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّی لَأُکرِمَنَّ مَثْوَی جَعْفَرٍ وَ لَأَسُرَّنَّهُ فِی أَشْیاعِهِ وَ أَنْصَارِهِ وَ أَوْلِیائِهِ أُتِیحَتْ بَعْدَهُ مُوسَی فِتْنَةٌ عَمْیاءُ حِنْدِسٌ- لِأَنَّ خَیطَ فَرْضِی لَا ینْقَطِعُ وَ حُجَّتِی لَا تَخْفَی وَ أَنَّ أَوْلِیائِی یسْقَوْنَ بِالْکأْسِ الْأَوْفَی مَنْ جَحَدَ وَاحِداً مِنْهُمْ فَقَدْ جَحَدَ نِعْمَتِی وَ مَنْ غَیرَ آیةً مِنْ کتَابِی فَقَدِ افْتَرَی عَلَی وَیلٌ لِلْمُفْتَرِینَ الْجَاحِدِینَ عِنْدَ انْقِضَاءِ مُدَّةِ مُوسَی عَبْدِی وَ حَبِیبِی وَ خِیرَتِی فِی عَلِی وَلِیی وَ نَاصِرِی وَ مَنْ أَضَعُ عَلَیهِ أَعْبَاءَ النُّبُوَّةِ وَ أَمْتَحِنُهُ بِالاضْطِلَاعِ بِهَا یقْتُلُهُ عِفْرِیتٌ مُسْتَکبِرٌ یدْفَنُ فِی الْمَدِینَةِ الَّتِی بَنَاهَا الْعَبْدُ الصَّالِحُ- إِلَی جَنْبِ شَرِّ خَلْقِی حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّی لَأَسُرَّنَّهُ بِمُحَمَّدٍ ابْنِهِ وَ خَلِیفَتِهِ مِنْ بَعْدِهِ وَ وَارِثِ عِلْمِهِ فَهُوَ مَعْدِنُ عِلْمِی وَ مَوْضِعُ سِرِّی وَ حُجَّتِی عَلَی خَلْقِی لَا یؤْمِنُ عَبْدٌ بِهِ إِلَّا جَعَلْتُ الْجَنَّةَ مَثْوَاهُ وَ شَفَّعْتُهُ فِی سَبْعِینَ مِنْ أَهْلِ بَیتِهِ کلُّهُمْ قَدِ اسْتَوْجَبُوا النَّارَ وَ أَخْتِمُ بِالسَّعَادَةِ لِابْنِهِ عَلِی وَلِیی وَ نَاصِرِی وَ الشَّاهِدِ فِی خَلْقِی وَ أَمِینِی عَلَی وَحْیی أُخْرِجُ مِنْهُ الدَّاعِی إِلَی سَبِیلِی وَ الْخَازِنَ لِعِلْمِی الْحَسَنَ وَ أُکمِلُ ذَلِک بِابْنِهِ محمد رَحْمَةً لِلْعَالَمِینَ عَلَیهِ کمَالُ مُوسَی وَ بَهَاءُ عِیسَی وَ صَبْرُ أَیوبَ فَیذَلُّ أَوْلِیائِی فِی زَمَانِهِ وَ تُتَهَادَی رُءُوسُهُمْ کمَا تُتَهَادَی رُءُوسُ التُّرْک وَ الدَّیلَمِ فَیقْتَلُونَ وَ یحْرَقُونَ وَ یکونُونَ خَائِفِینَ مَرْعُوبِینَ وَجِلِینَ تُصْبَغُ الْأَرْضُ بِدِمَائِهِمْ وَ یفْشُو الْوَیلُ وَ الرَّنَّةُ فِی نِسَائِهِمْ أُولَئِک أَوْلِیائِی حَقّاً بِهِمْ أَدْفَعُ کلَّ فِتْنَةٍ عَمْیاءَ حِنْدِسٍ وَ بِهِمْ أَکشِفُ الزَّلَازِلَ وَ أَدْفَعُ الْآصَارَ وَ الْأَغْلَالَ أُولئِک عَلَیهِمْ صَلَواتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ وَ أُولئِک هُمُ الْمُهْتَدُونَ۔

اللہ کے نام سے جو بہت رحم والا نہایت مہربان ہے

یہ وہ کتاب ہے جسے خداوند عالم کی طرف سے حضرت محمد پر نازل کی گئی ہے جو زمین پر خدا کا رسول اور اس کی آیات اور نشانیوں میں سے ہیں۔ اس تحریر جبرئیل کے ذریعے خداوند عالم کی طرف سے لائی گئی ہے کہ اے محمد! میرے اسماء کی تعظیم کرو اور میری نعمتوں پر شکریہ ادا کرو اور ہرگز میری نشانیوں کا انکار مت کرو۔ میں عالمین کا پروردگار اور معبود ہوں اور میرے سوا کوئی معبود نہیں ہے، طاغوتوں کو مغلوب کرنے والا اور مظلوموں کا حامی اور روز جزا کا مالک میں ہوں۔ میں وہی خدا ہوں ہو جو تمہارا معبود ہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ جو شخص بھی میرے سوا کسی اور سے لو لگائے بیٹھے یا میرے عدل کے سوا کسی اور چیز کا خوف دل میں رکھے تو میں اس شخص کو سخت عذاب میں مبتلا کرونگا کہ دنیا میں کسی نے ایسے عذاب کا تجربہ نہ کیا ہو۔ پس صرف میری عبادت کیا کر اور مجھ پر ہی کیا کر۔ میں نے کسی نبی کو مبعوث نہیں کیا اور اس کی رسالت کو مکمل نہیں کیا اور اسکی تبلیغ کا دورانیہ ختم نہیں کیا مگر یہ کہ اس کا کوئی جانشین مقرر کیا۔ اے [ محمد(ص)] میں نے آپ کو تمام انبیاء پر بربری دی اور تمہارے جانشین کو بھی تمام وصیوں پر برتری دی۔ اس کے بعد آپ کو آپکے دو بیٹے امام حسن(ع اور امام حسین(ع) کی وجہ سے اور عزت اور شرف بخشا۔ ان کے والد گرامی حضرت علی کی زندگی اور دوران امامت کے ختم ہونے کے بعد امام حسن(ع) کو اپنے علم کا خزینہ قرار دیا اور امام حسین(ع) کو اپنی وحی کا محافظ اور نگہبان قرار دیا۔ امام حسین(ع) کو شہادت کی نعمت عطا کر کے انہیں مزید شرف اور سعادت عطا کیا۔ امام حسین(ع) وہ با فضیلت‌ترین شخصیت ہے جو شہید ہوا اور شہداء کے درمیان سب سے افضل مقام پر فائز ہوا۔ امامت اور توحید کو تمام و کمال ان کے ساتھ رکھا میری حجت بالغہ کو ان کے ہاں قرار دیا ان کی اہل بیت اور قرابت کے مطابق میں صالحوں کو ثواب اور بدکاروں کو عقاب دونگا۔ ان کا پہلا فرزند علی [بن الحسین] عبادت گزاروں کی زینت اور میرے دوستوں میں سے ہے۔ ان کے بعد ان کے فرزند جو نام میں اپنے نانا رسول خدا کے ہمنام ہیں جو علم و حکمت کو عیاں کرنے والے ہیں۔ عنقریب امام جعفر صادق کی امامت میں شک کرنے والے ہلاک ہو جائیں گے جس نے بھی اسے ٹھکرایا گویا اس نے مجھے ٹھکرایا۔ یہ میرا ہی کلام ہے: میں قسم کھاتا ہوں کہ امام جعفر صادق(ع) اور ہر اس شخص کے مقام و منصب کو شرف بخشوں گا جس نے اس پر ایمان لے آیا۔ ان کی محبت اور عشق کو ان کے دوستوں، شیعوں، پیروی کرنے والوں اور ان کے مددگاروں کے دلوں میں قرار دونگا۔ اس کے بعد اندھے اور سیاہ فتنہ اور تقیہ کو امام موسی کاظم کے سامنے سے ہٹا دونگا کیونکہ خدا کی عطاعت اور حکم خداوندی کبھی منقطع نہیں ہوگا اور میری حجت اور دلیل لوگوں سے کبھی بھی مخفی نہیں رہے گا اور میرے چاہنے والے کبھی بھی بد بخت نیہس رہے گا۔ اگر کوئی میری کسی ایک حجت کا بھی انکار کرے تو گویا میری عطا کردہ نعمت کا انکار کیا ہے اور جس نے بھی میری کتاب کے ایک آیت کو تبدیل کیا تو گویا مجھ پر تہمت باندھا ہے۔ ہلاکت ہو تہمت لگانے والوں اور انکار کرنے والوں پر۔ اور آخر کار میرے بندے اور دوست امام موسی کاظم(ع) کی امامت کا دور ختم ہو گا۔ آگاہ ہوجاؤ! جس نے بھی میرے آٹهویں حجت کو جھوٹا سمجھا گویا اس نے میرے تمام اولیا کا انکار کیا ہے۔ علی [بن موسی(ع)] میرے دوست اور مددگار ہے اور میں نے علم، عصمت اور نبوت کے صفات سے ان کو مزین کرکے ان کی حفاظت کے حوالے سے ان کا امتحان لونگا۔ستمگروں اور متکبروں کی شیطانیت انہیں شہید کرے گی اور اس شہر میں جسے میرے صالح بندے (ذوالقرنین) نے تعمیر کیا ہے، میں میرے بندوں میں سے بدترین بندگان (ہارون الرشید) کے ساتھ دفن ہوگا۔ آٹھویں امام کی آنکھوں کو ان کے فرزند ارجمند اور ان کے جانشین کی ولادت کے ذریعے روشن کرینگے۔ محمد [بن علی بن موسی الرضا(ع)] میرے علم و دانش کے وارث اور معدن حکمت ہیں اور میرے بندوں پر میری حجت ہیں۔ جس نے بھی ان پر ایمان لے آیا بہشت اس کا مقدر ہے اور اسے اپنے اہل و عیال میں سے 70 آدمیوں کی شفاعت کرنے کا حق دونگا جن پر جہنم واجب ہو چکی ہو۔ ان کے بعد ان کے لخت جگر علی [بن محمدبن علی بن موسی الرضا(ع)] میرے دوست اور مددگار کو سعادتمند کردوگا۔ وہ میرے وحی کے امین ہونگے۔ ان کے صلب سے حسن [بن علی بن محمد] کو پیدا کرونگا جو لوگوں کو خدا کی راہ میں دعوت دینے والا اور خدا کے علم کے نگہبان ہونگے۔ اس کے میں اپنی حجت کو ان کے بیٹے محمد کے آنے کے ذریعے عالمین پر تمام کر دونگا۔ موسی کے قدرت و کمال، عیسی عظمت و نور اور ایوب کا صبر سب کے سب ان میں پائے گا۔ وہ ایک ایسے زمانے میں آئے گا جس زمانے میں میرے بندے ذلیل و خوار ہو چکے ہونگے اور مغلوں اور دیلمیوں کے مغرور مشرکوں کے ذریعے آگ میں جلائے جائین گے۔ ان کے سر بعنوان ہدیہ دور و دراز بھیجا جائے گا اور سب پر ترس و وحشت طاری ہوگا۔ زمین ان کے خون سے رنگین ہو جائے گی اور ان کے عورتوں میں ہلاکت اور چیخ و پکار عام ہو گی۔ یہ لوگ حقیقت میں زمین پر میری حجت اور اولیاء ہونگے۔ ان کے ذریعے ہر اندھے فتنوں اور زلزوں کو خدا کی مخلوق سے دور کرونگا اور ان کے ذریعے خدا کے دشمنوں کے مکر و فریب اور مخفی چالوں کا سراغ لگایا جائے گا اور خدا کی مخلوق سے غلامی کی طوق و زنجیروں کو ان کے ذریعے ہی توڑا جائے گا۔ خدا کی رحمت اور درود ہو ان پر یہ لوگ وہی ہدایت پانے والے ہیں۔۔"

حدیث لوح کے مختلف نسخہ جات

حدیث لوح مختلف طریقوں سے مختلف الفاظ کے ساتھ مختصر اور مبسوط طور پر نقل ہوئی ہے۔ ان میں سے صرف پانچ نقل کی جانچ پرتال کریں گے:

  1. پہلی نقل (مشہور حدیث لوح): کلینی نے کافی اور صدوق نے اکمال الدین میں اسے ذکر کیا ہے۔
  2. دوسری نقل: پہلی حدیث کا ایک حصہ امام باقر(ع) کے توسط سے جابر جعفی نے نقل کیا ہے۔ امام محمد باقر(ع) نے جابر بن عبداللہ انصاری کے توسط سے یوں فرماتے ہیں: "جابر بن عبداللہ انصاری نے کہا: ایک دن شہزادی حضرت فاطمہ زہرا(س) کے گھر چلا گیا، ان کے ہاں ایک لوح دیکھا جس کی روشنی سے آنکھیں چندیا جاتی تھی۔ اس لوح پر بارہ شخصیات کے نام درج تھے۔ تین نام لوح کے اوپر، تین نام لوح کے داخلی حصے میں، تین نام لوح کے آخری حصے میں اور باقی تین نام لوح کے کناروں پر درج تھے۔ اسی طرح جابر کہتے ہیں کہ جب میں نے اس لوح پر نظر دوڑائی تو اس لوح کے تین جگہوں پر "محمد" اور چار جگہوں پر "علی" لکھی ہوئی تھی۔
  3. تیسری نقل: اسحاق بن عمار نے امام صادق(ع) سے نقل کیا ہے کہ امام نے ان سے مخاطب ہو کر فرمایا: "اسحاق! کیا تم پسند کروگے میں تمہیں ایک بشارت دوں؟ اسحاق نے کہا: میری جان آپ پر قربان یابن رسول اللہ، جی میں اس خبر کو سنا پسند کرتا ہوں۔ اس وقت امام نے فرمایا: ہمارے ہاں ایک کتاب ہے جسے رسول خدا(ص) نے املا دیا ہے اور امیرالمؤمنین علی(ع) نے اسے لکھا ہے۔ اس کتاب میں یوں آیا ہے : بسم اللہ الرحمن الرحیم، یہ کتاب خدائے العزیز الحکیم کی طرف سے ہے ... اس کے بعد اس مذکورہ حدیث کو آخر تک حدیث اول کی طرح ذکر فرمایا۔ تیسر نقل میں جابر بن عبداللہ انصاری کا نام نہیں ہے اور روایت ان سے نقل نہیں ہوئی ہے۔
  4. چوتھی نقل : فضل بن شاذان نے اس حدیث کو یوں نقل کیا ہے: فضل‌بن شاذان نے "حدیث لوح" کو اپنی مخصوص طریقے سی نقل کیا ہے۔ اس حدیث کے راوی، ابوخالد کابلی ہیں۔ ابوخالد، نے اس لوح کو جسے خدا نے پیغمبر اکرم(ص) کو ہدیہ عطا فرمایا تھا اور اس میں خود امام کا نام اور بقیہ اماموں کے نام درج تھے کو امام سجاد(ع) کے ہاں دیکھا ہے۔[1]
  5. پانچویں نقل: شیخ صدوق کی کتاب کمال الدینِ میں امام صادق(ع) سے منقول ہے۔ اس حدیث کے مطابق امام باقر(ع) نے اپنے فرزندوں کو اپنے بھائی زید کے پاس جمع کیا پھر ایک کتاب کو انہیں دکھایا جو پیغمبر اکرم(ص) کی املاء اور حضرت علی(ع) کے دست مبارک سے لکھی گئی تھی اور اس میں لوح حضرت فاطمہ زہرا(س) مندرج تھا۔ اس روایت میں بھی جابر کا نام مذکور نہیں ہے۔

حدیث لوح کی حثیت

حدیث لوح ان احادیث میں سے ہے جو شیعہ معتبر کتابوں میں نقل ہوئی ہے۔ اس حدیث کی تائید میں کئی مطالب وارد ہوئی ہیں جو اس کے صحیح ہونے اور اس کی اہمیت پر دلالت کرتی ہیں۔

اس حدیث کو ثقۃ الاسلام کلینی نے اپنی کتاب کافی میں باوثوق راویوں سے نقل کیا ہے۔[2] ان کے علاوہ دیگر علماء نے بھی اس حدیث کو معتبر قرار دیا ہے اور اس حدیث کو اپنی اپنی کتابوں میں اسی سند یا دیگر اسناد کے ساتھ ذکر کئے ہیں۔ نعمانی نے کتاب الغیبۃ، شیخ صدوق نے عیون اخبارالرضا، شیخ مفید نے کتاب اختصاص اور شیخ طوسی نے کتاب الغیبۃ میں اس حدیث کو نقل کیا ہے۔ [3]

اسی طرح احتجاج، ارشاد القلوب، تأویل الآیات، تقریب المعارف، فضائل فضل بن شاذان، مناقب ابن شہر آشوب، کشف الغمہ، الفصول المختارہ، الصراط المستقیم، الارشاد شیخ مفید و... جیسی کتابوں میں بھی اس روایت کو کلی یا جزوی طور پر بیان کیا ہے۔[حوالہ درکار]


حدیث لوح سے چند اہم نکات

  • تمام انبیاء کی جانشینی کا تعیین ہونا: اس حدیث کے مطابق خداوند عالم فرماتے ہیں: "إِنِّی لَمْ أَبْعَثْ نَبِیاً فَأُکمِلَتْ أَیامُهُ وَ انْقَضَتْ مُدَّتُهُ إِلَّا جَعَلْتُ لَهُ وَصِیاً" یعنی وصی کا تعیین کرنا خدا کی سنتوں میں سے ہے آدم سے خاتم تک یہ سنت جاری رہی ہے۔ اس حوالے سے ایک طولانی حدیث امام صادق(ع) سے نقل ہوئی ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ تمام انبیاء کے کوئی نہ کوئی وصی اور جانشین تھے۔ اس حدیث میں بعض انبیاء کے نام اور ان کے بعض وصیوں کے نام بھی آئے ہیں۔
  • امیر المومنین تمام اوصیاء سے افضل ہیں: امیر المؤمنین حضرت علی(ع) کی تمام اوصیاء پر برتری اور فضیلت ان حقائق میں سے ہیں جن کی بہت ساری احادیث گواہی دیتی ہیں۔
  • امامت کا امام حسین کی نسل میں سے ہونا: علامہ مجلسی کی توضیحات کے مطابق ہم کہہ سکتے ہیں کہ "کلمۃ التامہ اور حجت بالغہ" جسے خدا نے امام حسین کے نام مبارک کے ساتھ ذکر فرمایا ہے، سے مراد "امامت" ہے جَعَلْتُ کلِمَتِی التَّامَّةَ مَعَهُ وَ حُجَّتِی الْبَالِغَةَ عِنْدَهُ اور اس امر کی خصوصیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے دو مختلف الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔ اس کے علاوہ "حجت بالغہ سے مراد وہ دلائل اور براہین بھی ہو سکتی ہیں جو اماموں کی حقانیت پر دلالت کرتی ہیں۔ بہرحال اس عبارت سے مراد یہی ہے کہ ائمہ معصومین کا سلسلہ امام حسین کی نسل سے ہی ہوگا جس پر بہت ساری احادیث بھی گواہ ہیں۔[4]
  • ہدایت الاہی باقی رہے گی جب تک امامت باقی
  • کسی ایک امام کی امامت کا انکار تمام ائمہ کے انکار کار مترادف ہے: جس طرح تمام انبیاء پر ایمان لانا واجب ہے اور کسی ایک نبی کی رسالت کا انکار موجب کفر ہے، کسی ایک امام کی امامت کا انکار بھی تمام اماموں کی امامت کے انکار کے مساوی ہے۔
  • امام زمانہ کے توسط سے امامت کا کامل ہونا: خداوند عالم نے حدیث لوح میں فرمایا ہے: "وَ أُکمِلُ ذَلِک بِابْنِهِ محمّد رَحْمَةً لِلْعَالَمِینَ" یعنی خداوند عالم امام زمانہ کے توسط سے امامت کو کمال کی منزل تک پہنچاتا ہے۔
  • حدیث لوح میں مہدویت کا تذکرہ: مہدویت سے مراد آخرالزمان میں کسی الہی نجات دہندہ اور مصلح غیبی کا ظہور ہے۔ جو آخری زمانے میں قیام کرینگے اور دنیا سے ظلم و جور کو نابود کرکے دنیا میں عدل و انصاف کا بول بالا کرینگے۔ خداوند متعال نے خود حدیث لوح فاطمہ میں ستمگروں کی نابودی اور مظلومین کی حکمرانی کی طرف اشارہ فرمایا ہے: "قَاصِمُ الْجَبَّارِینَ وَ مُدِیلُ الْمَظْلُومِینَ"
  • حدیث لوح میں ائمہ کی زندگی میں پیش آنے والے وقایع کی پشن گوئی: لوح حضرت فاطمہ(س) کا ایک حصہ ان واقایع پر مشتمل ہیں جو اماموں کی زندگی میں پیش آئینگے۔

حدیث لوح اہل سنت منابع میں

طبرسی نے کتاب اعلام الوری میں اس بات کو بیان کیا ہے کہ اہل سنت نے طور جزئی اپنی کتابوں میں اس حدیث کا تذکرہ کیا ہے ۔ [5] اس کے باوجود یہ حدیث بطور جامع اہل سنت منابع میں نہیں پائی جاتی ہے۔

متعلقہ صفحات

حوالہ جات

  1. طالعی، عبدالحسین، تحفہ آسمانی، ص۳۸.
  2. کلینی، محمد بن یعقوب؛ الکافی، ج۱، ص۵۲۷.
  3. نعمانی، محمد بن ابراہیم؛ الغیبہ، ص۶۲؛ شیخ صدوق، کمال الدین، ج۱، ص۳۰۸؛ شیخ صدوق، عیون أخبارالرضا علیہ السلام، ج۱، ص۴۱؛ تاج الدین شعیری، جامع الاخبار، ص۱۸؛ مجلسی، محمدباقر؛ بحارالانوار، ج۳۶، ص۱۹۵؛ شیخ مفید، الاختصاص، ص۲۱۰؛ شیخ طوسی، الغیبہ، ص۱۴۳.
  4. نک: مجلسی، محمدباقر، بحارالانوار، ج ۲۶، باب ان الائمہ من ذریۃ الحسین.
  5. طبرسی، فضل بن الحسن، اعلام الوری باعلام الہدی، ص۲۵۸.


منابع

  • شعیری، تاج الدین، جامع الاخبار، قم، انتشارات رضی، ۱۳۶۳ ش.
  • شیخ صدوق، محمّدبن بابویہ، الخصال، قم، جامعہ مدرّسین، ۱۴۰۳ ق.
  • شیخ صدوق، محمّدبن بابویہ، عیون أخبارالرضا علیہ السلام، انتشارات جہان، ۱۳۷۸ ق
  • شیخ صدوق، محمّدبن بابویہ، کمال الدین، قم، جامعہ مدرّسین، ۱۴۰۵ ق.
  • شیخ مفید، الاختصاص، قم، کنگرہ شیخ مفید، ۱۴۱۳ ق.
  • کلینی، محمّدبن یعقوب، الکافی، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، ۱۴۰۷ ق.
  • طالعی، عبدالحسین، تحفہ آسمانی، تہران، میقات، ۱۳۷۸ ش.
  • طبرسی، فضل بن الحسن،اعلام الوری باعلام الہدی، منشورات المکتبہ الاسلامیہ، ط۳. بی‌تا.
  • طوسی، محمّدبن حسن، الغیبہ، قم، موسسۃ المعارف الاسلامیہ، ۱۴۱۱ ق.
  • مجلسی، محمّدباقر، بحارالانوار، بیروت، موسّسۃ الوفاء، ۱۴۰۳ ق.
  • نعمانی، محمّدبن ابراہیم، الغیبہ، تہران، مکتبۃ الصدوق، ۱۳۹۷ ق.