مقتل الحسین (مقرم)

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مقتل مُقَرَّم
کتاب مقتل مقرم.jpg
مؤلف: سید عبدالرزاق مقرم
زبان: عربی
موضوع: قیام امام حسینؑ
ترجمہ
ترجمہ: اردو
مترجم: حسن رضا باقر

کتاب مَقتَلُ الحُسَین جو مقتل مُقَرَّم کے نام سے مشہور ہے جسے شیعہ عالم دین عبدالرزاق موسوی مقرم نے امام حسینؑ کی زندگی، آپؑ کے قیام، شہادت اور شہادت کے بعد کے حالات نیز واقعہ عاشورا کے نتائج کے بارے میں لکھا ہے۔

مؤلف کے بارے میں

سید عبدالرّزاق بن محمد موسوی مُقَرَّم جو مقرم کے نام سے مشہور ہے۔ آپ 1316ھ کو نجف میں پیدا ہوئے۔ آپ کا شمار 14ویں صدی ہجری کے شیعہ علما میں ہوتا ہے۔ آپ کی شہرت اہل بیتؑ کی حالات زندگی پر کتابیں لکھنے کی وجہ سے ہے۔

تألیف کی روش

مقرم نے معتبر مصادر سے مطالب نقل کرنے، واضح اور دلیل کے تحت بیان کرنے، معتبر اسناد سے منطبق کرنے اور کتاب کو تفکر کے مبنا کے تحت حقائق کو سلیس عبارت میں لکھنے کی کوشش کی ہے۔[1] آپ مختلف جعلی اور بے بنیاد باتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دلیل کے ساتھ انہیں رد کرتا ہے۔ اس کتاب کے حوالہ جات میں راویوں کی زبان پر رائج الفاظ کے بارے میں بعض فقہی، لغوی، ادبی اور تحقیقاتی مطالب ذکر ہوئے ہیں اور جو مطالب مؤلف نے اپنی ان تحقیقات میں بیان کیا ہے ان سے قارئین مستفید ہوتے ہیں۔ روایت کربلا میں بعض ایسے مرد، عورتیں اور بچے شامل ہیں جن کے نام بعض اوقات ایک دوسرے سے اشتباہ ہوجاتے ہیں اور اس کتاب کے مؤلف کی روش کے تحت اس کتاب میں وہ ساری مشکلات حل ہوتی ہیں۔[2]

کتاب کے مضامین

کلی طور پر اس کتاب کو سات حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے:

کتاب کے مصادر

کتاب کا اصلی حصہ جو مقتل پر مشتمل ہے اسے مؤلف نے مختلف کتابوں اور مقاتل جیسے خوارزمی، مثیر الاحزان، نفس المہموم، تذکرة الخواص، تاریخ طبری، ارشاد المفید، لہوف اور امالی صدوق سے لیا ہے اور بعض دفعہ ضعیف مطالب کو اسرار الشہادۃ جیسی کتابوں سے نقل کیا ہے۔ جبکہ معاصر شعرا کے بعض اشعار اور مرثیے بھی کتاب کے ساتھ ضمیمہ کیا ہے۔[4]

ترجمہ اور طباعت

مقتل مقرم کا دنیا کی مختلف زبانوں میں سے اردو، فارسی، انگریزی اور دیگر زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے۔

  • اردو میں حسن رضا باقر ابن حافظ اقبال حسین جاوید نے 2014 میں ترجمہ کیا اور تراب پبلیکیشنز لاہور نے اسکی طباعت کی۔
  • فارسی زبان میں عزیزالله عطاردی نے «چہرہ خونین حسین سیدالشہداءؑ» یا «داستان کربلا» کے نام سے مقتل مقرم، کا سب سے پہلا ترجمہ کیا۔ مرتضی فہیم کرمانی نے بھی اس کتاب «سالار کربلا، حسین بن علیؑ» کے نام سے فارسی میں ترجمہ کیا اور انتشارات سیدالشہداء نے زیور طبع سے آراستہ کیا۔[5]

حوالہ جات

  1. مقرم، ترجمہ مقتل مقرم، ۱۳۸۱ش، ص۳۴.
  2. مقرم، ترجمہ مقتل مقرم، ۱۳۸۱ش، ص۳۸.
  3. مقرم، مقتل الحسین(ع)، ۱۴۲۶ق، فہرست کتاب.
  4. مقرم، ترجمہ مقتل مقرم، ۱۳۸۱ش، ص۲۸۲.
  5. اسفندیاری، کتابشناسی تاریخی امام حسین، ۱۳۸۰ش، ص۱۶۲.

مآخذ

  • مقرم، عبدالرزاق، مقتل الحسینؑ، بیروت، مؤسسۃ الخرسان، ۱۴۲۶ق.
  • مقرم، عبدالرزاق، مقتل الحسینؑ، ترجمہ: محمد مہدی عزیز الہی کرمانی، قم، نوید اسلام، ۱۳۸۱ش.
  • اسفندیاری، محمد، کتابشناسی تاریخی امام حسین، تہران، وزارت ارشاد، ۱۳۸۰ش.
  • کتاب شناخت سیرہ معصومان، مرکز تحقیقات رایانہ‌ای علوم اسلامی نور.