تقیہ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
شیعہ عقائد
السعید۲.jpg
خدا شناسی
توحید توحید ذاتی  • توحید صفاتی  • توحید افعالی • توحید عبادی
فروع توسل • شفاعت • تبرک
عدل (الہی افعال)
حسن و قبح  • بداء  • امر بین الامرین
نبوت
عصمت انبیاء  • ختم نبوت  • علم غیب  • معجزہ • قرآن میں عدم تحریف
امامت
عقائد عصمت ائمہ • ولایت تكوینی  • ائمہ کا علم غیب • غیبت (غیبت صغری، غیبت کبری)  • انتظار  • ظہور  • رجعت
ائمہ امام علیؑ  • امام حسنؑ  • امام حسینؑ  • امام سجادؑ  • امام باقرؑ  • امام صادقؑ  • امام کاظمؑ  • امام رضاؑ  • امام جوادؑ  • امام ہادیؑ  • امام عسکریؑ  • امام مہدی(عج)
معاد
برزخ  • جسمانی معاد  • حشر • صراط  • تطائر کتب  • میزان
نمایاں مسائل
معصومین  • مہدویت  • مرجعیت


تَقیہ ایک دینی اصطلاح کا نام ہے جس کے معنی کسی خاص مواقع پر اپنی قلبی عقیدے کے برخلاف کسی عقیدے کا اظہار کرنا یا کسی کام کو انجام دینے کے ہیں۔ تقیہ لغت میں منع کرنا، پرہیز کرنا اور چھپانے کے معنی میں آتا ہے۔ دینی اصطلاح میں تقیہ سے مراد حق اور حقیقت کے برخلاف دوسروں کے عقیدے کے مطابق عمل کرکے اپنے آپ کو ان کے گزند سے محفوظ رکھنے کو تقیہ کہا جاتا ہے۔ شیخ مفید کی تعبیر کے مطابق مخالفوں کے سامنے کسی دنیوی یا دینی نقصان سے بچنے کی خاطر حق اور حق پر اعتقاد رکھنے کو چھپانے کا نام تقیہ کہلاتا ہے۔

تقیہ میں نفاق کے برخلاف کہ جس کا موضوع شرک اور باطل کو چھپا کر حق اور حقیقت کا اظہار کرنا ہے، مومن کسی جانی یا مالی ضرر سے بچنے کی خاطر حق اور حقیقت کے اظہار سے خوداری کرتا ہے۔ اس کے جواز پر قرآنی، روائی اور عقلی دلائل موجود ہیں۔ منجملہ ان میں سے ایک عقلی توجیہ جو تقیہ کو جائز قرار دیتی ہے وہ انسان کا خود یا اپنی کمیونٹی کو مخالفین کی ظلم اور ستم سے بچانا ہے۔

تقیہ کی بحث پہلی صدی ہجری سے ہی کلامی اور فقہی طور پر مورد بحث واقع ہوتی چلی آرہی ہے جس کی واضح مثال یہ ہے کہ ایک طرف سے شیعہ علماء کی اکثریت اپنی علمی آثار میں تقیہ کے موضوع پر کوئی نہ کوئی کتاب یا مقالات کی شکل میں اثر چھوڑ گئے ہیں تو دوسری طرف سے بعض فرق جیسے خوارج بھی تقیہ کے جواز کے قائل تھے اور ہیں۔ بعض مورخین کے مطابق مأمون عباسی کے دور میں خلیفہ کی دھمکی اور جبر کی وجہ سے بعض دانشمندوں کا ظاہری طور پر قرآن کے مخلوق ہونے کی بات کو قبول کرنا تقیہ کی مصادیق میں سے ہیں۔

اہل تشیع حضرات دوسرے مذاہب سے زیادہ تقیہ پر عمل کرنے کے حوالے سے مشہور ہیں۔ اس کی وجہ بعض شیعہ فرقوں میں باطن گرائی کی طرف میلان اور مختلف ادوار میں سماجی، ثقافتی اور اقتصادی طور پر مختلف حوالے سے ان کے خلاف ہونے والے اقدامات ہیں۔ اہل سنت کے بعض علماء تقیہ کو شیعوں کی کمزوری خیال کرتے ہیں جبکہ شیعہ علماء اس کا جواب دیتے آئے ہیں اور اس بات سے موافقت نہیں کرتے ہیں.

تقیہ کے لغوی معنی

تقیہ کا لفظ مادہ "و ـ ق ـ ی‌" سے مصدر یا اسم مصدر کا صیغہ اور [1] پرہیز کرنا، خوداری کرنا اور مخفی کرنے کے معنی میں آتا ہے۔[2]مفسرین، متکلمین اور فقہاء نے تقیہ کی جو تعریف کی ہے وہ کم و بیش لغوی معنی کے نزدیک ہے۔ [3] ان تمام تعاریف میں کسی دنیوی یا اخروی نقصان سے بچنے کی خاطر حق کو چھپانا یا حق کے برخلاف اظہار کرنے کا عنصر پایا جاتا ہے۔

اصطلاح میں تقیہ کی تعریف

شیعہ علماء تقیہ کی ماہیت اور حقیقت میں متفق القول ہیں لیکن اس کے بیان میں مختلف تعابیر پیش کئے ہیں جن میں سے بعض کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

شیخ مفید : تقیہ سے مراد کسی دنیوی یا دینی نقصان سے بچنے کیلئے مخالفین کے سامنے حق یا حق پر اعتقاد رکھنے کو چھپانا ہے۔[4]

امین الاسلام طبرسی: تقیہ یہ ہے کہ جان کی حفاظت کی خاطر ایسی چیز زبان پر لانا جس کو انسان کا دل قبول نہ کرتا ہو[5]

شیخ انصاری : تقیہ سے مراد دوسروں کے ساتھ رفتار یا گفتار میں ان کی پیروی کرتے ہوئے خود کو دوسروں کے گزند سے محفوظ رکھنا ہے ۔ [6]

تقیہ اور نفاق کے اشتراکات اور افتراقات

ایک چیز میں یہ دونوں مشتکر ہیں اور وہ یہ ہے کہ دونوں میں جس چیز پر عقیدہ رکھتے ہیں اسے چھپایا جاتا ہے۔ لیکن نفاق میں کفر اور باطل کو چھپا کر ایمان کا اظہار کیا جاتا ہے جبکہ تقیہ میں کسی جانی یا مالی نقصان سے بچنے کی خاطر حق کو چھپا کر باطل اور کفر کا اظہار کیا جاتا ہے۔[7]

تقیہ کی جواز پر دلیل

تقیہ کی جواز پر بہت ساری قرآنی، روایی اور عقلی دلائل کے علاوہ اجماع بھی اس کی جواز پر دلالت کرتی ہے۔

قرآنی دلائل

تقیہ کا لفظ براہ راست قرآن میں نہیں آیا ہے لیکن اس کے مشتقات بعض آیات میں ذکر ہوئے ہیں۔ اسلامی تعلیمات میں متعدد مقامات پر خاص شرائط جیسے اضطراری حالتوں میں تقیہ کی جواز بلکہ وجوب پر مختلف آیات سے استدلال کیا جاتا ہے۔[8]

ترجمہ:خبردار صاحبانِ ایمان .مومنین کو چھوڑ کر کفار کو اپنا و لی اور سرپرست نہ بنائیں کہ جو بھی ایسا کرے گا اس کا خدا سے کوئی تعلق نہ ہوگا مگر یہ کہ تمہیں کفار سے خوف ہو تو کوئی حرج بھی نہیں ہے اور خدا تمہیں اپنی ہستی سے ڈراتا ہے اور اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔[9]

اس آیت کا مخاطب تمام مسلمان ہیں۔ اس آیت کے مطابق صدر اسلام کے مسلمان جو مشرکین کے آذار و اذیت کا سامنا کرنا پڑتا تھا ان کی پیروی کرنے سے مسلمانوں کو منع کی گئی لیکن ضرورت پڑنے کی صورت میں اور کسی جانی یا مالی نقصان کی صورت میں تقیہ کرنے کا مجاز تھے۔[10] شیعہ مفسرین اور علماء [11] اہل سنّت[12] بھی اس آیت سے تقیہ کے جواز پر استدلال کرتے ہیں۔

ترجمہ:جو شخص بھی ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کرلے .... علاوہ اس کے کہ جو کفر پر مجبور کردیا جائے اور اس کا دل ایمان کی طرف سے مطمئن ہو ....اور کفر کے لئے سینہ کشادہ رکھتا ہو اس کے اوپر خدا کا غضب ہے اور اس کے لئے بہت بڑا عذاب ہے۔[13]

یہ آیت عمار یاسر اور اسکے مشرکین کے ظلم و بربریت سے بچنے کی خاطر تقیہ اختیار کرتے ہوئے کفر کے اظہار کرنے کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ پیغمبر اکرم(ص) نے عمار یاسر کے اس کام کی تائید کرتے ہوئے آئندہ بھی ایسی حالات کے پیش آنے پر اس عمل کو تکرار کرنے کا حکم دیا۔ [14]

ترجمہ: اور فرعون والوں میں سے ایک مرد مومن نے جو اپنے ایمان کو حُھپائے ہوئے تھا یہ کہا کہ کیا تم لوگ کسی شخص کو صرف اس بات پر قتل کررہے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ ہے اور وہ تمہارے رب کی طرف سے کھلی ہوئی دلیلیں بھی لے کر آیا ہے اور اگر جھوٹا ہے تو اس کے جھوٹ کا عذاب اس کے سر ہوگا اور اگر سچا نکل آیا تو جن باتوں سے ڈرا رہا ہے وہ مصیبتیں تم پر نازل بھی ہوسکتی ہیں - بیشک اللہ کسی زیادتی کرنے والے اور جھوٹے کی رہنمائی نہیں کرتا ہے۔[15]

یہ آیت مؤمن آل فرعون کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ جب فروعون کے کارندے حضرت موسی کو قتل کرنا چاہا تو فرعون کے اپنے خاندان میں سے ایک شخص جو در اصل مومن تھا اور اپنا ایمان مخفی رکھا ہوا تھا انہیں اس کام سے باز رکھا۔[16]

دیگر آیات

اضطراری اور خاص حالات میں تقیہ کے وجوب اور جواز کو اضطرار اور حرج سے مربوط آیات سے بھی استنباط کر سکتے ہیں جیسے سورہ بقرہ کی آیت نمبر ۱۷۳ ، ۱۸۵ اور ۱۹۵ اسی طرح سورہ انعام کی آیت نمبر ۱۴۵ اور سورہ نحل کی آیت نمبر ۱۱۵ اور سورہ حج کی آیت نمبر ۷۸ سے بھی تقیہ کا جواز یا وجوب استنباط کر سکتے ہیں۔[17] احادیث میں بھی مذکورہ آیات اور بعض دیگر آیات سے تقیہ کے جواز یا وجوب پر استدلال کیا گیا ہی۔[18]

تقیہ احادیث کی روشنی میں

بہت ساری احادیث تقیہ کے جواز پر دلالت کرتی ہیں۔[19] احادیث کے مطابق تقیہ مومن کے افضل ترین کاموں میں سے ہے اور امت کی اصلاح کا موجب ہے اور دین اس کے بغیر کامل نہیں ہے۔[20] اضطراری اور خاص حالات میں تقیہ کے جواز یا وجوب پر موجود احادیث [21] کے علاوہ بعض احادیث عام حالات میں بھی اس کے جواز پر موجود ہیں۔[22] اسی طرح وہ احادیث جو دلالت کرتی ہیں کہ احکام شرعی اولیہ، اضطرار اور احتاج کی صورت میں اٹھا لئے جاتے ہیں جیسے حدیث رفع اور حدیث لاضرر [23] وغیرہ تقیہ کے جواز پر اہم ترین دلائل میں شمار ہوتی ہیں۔[24] اسی طرح وہ احادیث جو جھوٹ اور توریہ کو خاص موارد میں تجویز کرتے ہیں، جیسے "کتمان" سے مربوط احادیث وغیرہ بھی تقیہ کی مشروعیت پر بہترین دلیل ہے۔[25] اسی طرح اکراہ سے متعلق احادیث بھی تقیہ پر دلیل بنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔[26]

تقیہ اور سیرت نبوی(ص)

نقل ہوئی ہے کہ حضرت محمد(ص) کی مدینہ کی طرف ہجرت کے بعد مہاجرین میں سے بعض افراد مکہ مکرمہ سے اپنا مال و اموال لانے کیلئے آنحضرت سے مکہ جانے کی رخصت لیتے ہوئے مشرکین کو خوش کرنے کیلئے اپنی قلبنی اعتقاد کے برخلاف بعض کلمات ادا کرنے کی اجازت دریافت کی تو آنحضرت نے انہیں ایسے کلمات کے ادا کرنے کی اجازت دے دی۔[27] آپ(ص) کے صحابہ اور تابعین سے بھی مختلف موارد میں ایسے رفتار یا گفتار صادر ہوئے ہیں جو تقیہ پر دلالت کرتی ہے جیسے ابن عباس، [28] ابن مسعود، [29] جابر بن عبداللہ انصاری، [30] حذیفہ بن یمان، [31] ابوالدَرداء[32] اور سعید بن مُسَیب وغیرہ [33]

صحابہ کی زندگی میں تقیہ کے نمونے

ابن مسعود اور حذیفہ بن یمانی عثمان بن عفان کے ہاں پہنچتے ہیں: عثمان خطاب حذیفہ سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں: یہ تمہارے میں مجھ تک پہنچنے والی خبریں کیا ہیں؟ حذیفہ نے جواب دیا میں نے انہیں نہیں کہا ہے۔

عثمان نے کہا: تم ان کے درمیان نیکو کار ترین اور بہترین فرد ہو۔

ابن مسعود کہتے ہیں جب عثمان باہر چلا گیا تو میں نے حذیفہ سے کہا: کیا تم نے یہ باتیں نہیں کہی تھی؟

حذیفہ نے جواب دیا: کیوں نہیں میں نے کہا تھا لیکن میں نے دین کے کچھ حصے پر عمل کرنے کے ذریعے(ترس کی وجہ سے زبان پر لانے والے کلمات) اپنے دین کے بقیہ حصوں کو محفوظ کر لیا ہوں۔[34]

اجماع

شیعہ منابع میں تقیہ پر دلالت کرنے والی دلائل میں سے ایک اجماع ہے۔[35] اہل سنت منابع میں بھی تعض موارد میں تقیہ کی جواز پر اجماع کا دعوی کیا گیا ہے۔[36]

دلیل عقلی

تقیہ کے جواز پر عقلی دلائل دلیل سیرہ عقلا ہے جو ہر صورت میں دفع ضرر کو ضروری سمجھتی ہے۔[37] اس دلیل کو قبول کرنے کی صورت میں تقیہ فقط شیعوں یا مسلمانوں کے ساتھ مختص نہیں ہوگا بلکہ تمام بنی نوع انسان کو شامل کرے گا۔ گذشتہ انبیاء اور خدا کے نیک بندوں کی زندگی میں تقیہ کے بہت سارے نمونے گذرے ہیں جیسے حضرت ابراہیم(ع)کا کافرون کے ساتھ رفتار، حضرت یوسف کا اپنے بھائیوں کے ساتھ مصر میں ہونے والی گفتگو، آسیہ بنت مزاحم اور ہمسر فرعون کا مخفیانہ طور پر عبادت انجام دینا، حضرت موسی اور ہارون کا فرعون کے روبرو ہونا اور اصحاب کہف کا تقیہ کرنا۔[38] مذکورہ موارد میں تقیہ کا مودر تائید قرار پانا اضطراری موارد میں تقیہ کے فطری اور عقلی ہونے پر دلیل ہے۔

مسلمان کا مسلمان سے تقیہ

اگرچہ بعض آیات اور احادیث میں تقیہ کو مسلمان کا کافر کے مقابلے میں اپنے عقیدے کو چھپانے کے ساتھ مختص کیا گیا ہے۔ لیکن فقہاء اور مفسرین تصریح کرتے ہیں کہ تقیہ صرف اس مورد کے ساتھ مختص نہیں ہے بلکہ حتی مسلمان کا مسلمان کے مقابلے میں بھی تقیہ صدق آ سکتی ہے۔[39] اہل سنّت کے بہت سارے علماء منجملہ شافعی حفظ جان کی خاطر مسلمان کا مسلمان کے مقابلے میں بھی تقیہ کی مشروعیت پر تصریح کرتے ہیں۔[40]

شیعوں کا تقیہ کی طرف زیادہ رجحان کے عوامل و اسباب

شیعوں کے ہاں تقیہ کیسے رائج ہوا اس بارے میں درج ذیل موارد علتوں کی طرف اشارہ کر سکتے ہیں:

  1. بعض لوگ شیعوں میں موجود باطن گرائی کوان میں تقیہ جیسے عمل کی پیدائش کا سبب سمجھتے ہیں۔
  2. بعض لوگ معاشرے کے سخت حالات کو شیعوں میں تقیہ کی پیدائش کا سبب سمجھتے ہیں۔ تاریخی شواہد کی بنا پر شیعہ مذہب پوری تاریخ میں مختلف سماجی، ثقافتی اور سیاسی حوالے سے بہت زیادہ دباؤ میں چلے آرہے ہیں؛ صلح امام حسن(ع) کے واقعے کے بعد معاویہ نے اپنے گورنروں شیعوں کے ساتھ سختی سے پیش آنے کا حکم دیا اور حضرت علی(ع) کو ممبروں سے دشنام دینے لگے۔ یہ حالات کم و بیش بنی امیہ کے دور میں عمر بن عبدالعزیز کے زمانے تک جاری رہی۔ [41] بنی عباس کے دور میں حالات نے ایک اور انداز اپنایا مثلا، متوکل عباسی شیعوں کو قتل کرنے اور جیلوں میں بند کرنے کے علاوہ انہیں امام حسین(ع) کی زیارت سے بھی منع کردیا یہاں تک کہ امام حسین(ع) کے ضریح مطہر کو بھی خراب کر دیا اور ابن سِکیت کو امام حسن(ع) اور امام حسین(ع) کے ساتھ محبت کا اظہار کرنے پر نہایت بے دردی کے ساتھ شہید کر دیا۔[42] اس بنا پر ائمہ طاہرین(ع) اپنی اور اپنے شیعوں کی جان کی حفاظت اور انہیں پراکندگی سے بچانے کی خاطر تقیہ کرنے کو ان پر ضروری قرار دیتے تھے۔ علی بن یقطین جو کہ ہارون الرشید کا وزیر اور شیعہ مذہب سے تعلق رکھتا تھا کا امام کاظم(ع) کے حکم سے تقیہ کرنا اس بات کی واضح دلیل ہے۔[43]

حکم شرعی کے حوالے سے تقیہ کی تقسیم

حکم تکلیفی

تقیہ کی مختلف حوالے سے تقسیم بندی کی جاتی ہے۔[44] شیخ مفید تقیہ کو اس کے احکام کے حوالے سے وجوب، حرمت اور استحباب میں تقسیم کرتے ہیں۔ بنابراین جہاں جان پر خطرہ ہو وہاں تقیہ کرنا واجب لیکن جہاں صرف مالی نقصان کا خطرہ ہو وہاں تقیہ کرنا مباح سمجھتے ہیں۔[45]

واجب

احادیث اور فقہاء کے فتوا کے مطابق جہاں بھی اضطرار صدق آئے وہاں تقیہ کرنا واجب ہے۔[46] فقہاء کے مطابق وجوب تقیہ کیلئے اہم ترین شرط [47] جسے احادیث سے استخراج کرتے ہیں [48] اپنی یا اپنے متعلقین میں سے کسی کی جان یا عزت کو خطرہ لاحق ہونا ہے۔

مستحب

شیخ انصاری اہل سنت کے ساتھ مدارا کرنا اور ان کے ساتھ معاشرت کرنا جیسے بیماروں کی عیادت، تشییع جنازہ اور ان کے مساجد میں حاضر ہو کر ان کے ساتھ نماز پڑھنا وغیرہ کو مستحب تقیہ کا مصداق سمجھتے ہیں۔[49] متاخرین اس طرح کے تقیہ کو احادیث کی تعابیر کو مدنظر رکھتے ہوئے [50] "تقیہ مداراتی‌" کا نام دیتے ہیں اس معنی میں کہ مسلمانوں کے دیگر مذاہب حتی مشرکین کے ساتھ حسن سلوک اور تسامح سے پیش آتے ہوئے ان کی حمایت حاصل کرنا اور مستقبل میں ان کے گزند سے محفوظ رہ سکیں۔

تقیہ مباح

شیخ مفید نے تقیہ کو مالی نقصان کی صورت میں مباح دانستہ قرار دیتے ہیں۔[51] فخر رازی نیز مالی نقصان کی خاطر تقیہ کرنے کو جائز سمجھتے ہیں۔[52]

تقیہ حرام

فقہا< احادیث کی روشنی میں چند موارد میں تقیہ کرنے کو حرام سمجھتے ہیں؛ منجملہ یہ کہ دین کے واجبات اور محرمات جن کی رعایت کرنا ضروری اور لازمی ہے جن کی رعایت نہ کرنے سے دین ختم ہونے اور نابود ہونے کا خطرہ ہے جیسے قرآن کو محو کرنا، کعبہ کو ویران کرنا دین کے کسی ضروری حکم اصول دین یا فروع دین یا اصول مذہب کا انکار کرنا اس طرح تقیہ کرنا خون ریزی اور قتل و غارت تک متج ہوتی ہیں وہ موارد ہیں جہاں تقیہ کرنا حرام ہے۔[53]، شراب پینا، وضو میں جوتے پر میح کرنا، اماموں سے بیزاری کا اظہار کرنا بھی تقیہ حرام کے مصادیق میں سے ہیں۔ [54] بعض فقہاء سوائے اضطراری حالت کے تقیہ کرنے کو حرام سمجھتے ہیں۔[55]

حکم وضعی

فقہاء تقیہ کے طور پر انجام پانے والے کسی عمل کے حکم وضعی کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اگر تقیہ کے طور پر انجام دیا جانے والا عمل عبادات میں سے ہو تو اس عمل کو اضطراری حالات کے برطرف ہونے کی بعد ادا یا قضا کے طور پر اعادہ کرنا ضروری نہیں ہے۔ دوسرے لفظوں میں فقہاء تقیہ کی صورت میں انجام دی جانے والے عمل کو مُجْزی سمجھتے ہیں۔[56]

حوالہ جات

  1. ﻓﯿﻮﻣﯽ، اﻟﻤﺼﺒﺎح اﻟﻤﻨﯿﺮ، ج۲، ص۶۶۹؛ ﺣﻤﯿﺮی، ﺷﻤﺲ اﻟﻌﻠﻮم، ج۲، ﺑﺺ ۷۵۸؛ اﻃﻔﯿﺶ، ﺗﯿﺴﯿﺮ اﻟﺘﻔﺴﯿﺮ، ج۲، ص۴۳.
  2. اﺑﻦ ﻣﻨﻈﻮر، ﻟﺴﺎن اﻟﻌﺮب، ج۱۵، ص۴۰۲ و ۴۰۱.
  3. ﻧﮏ: ﻃﺒﺮی، ﺟﺎﻣﻊ اﻟﺒﯿﺎن، ج۳، ص۱۵۳ -۱۵۲؛ ﺳﺮﺧﺴﯽ، اﻟﻤﺒﺴﻮط، ج۲۴، ص۴۵؛ ﺧﻮﯾﯽ، اﻟﺘﻨﻘﯿﺢ، ج۴، ص۲۵۳؛ رﺷﯿﺪ رﺿﺎ، اﻟﻤﻨﺎر، ج۳، ص۲۸۰؛ ﻣﮑﺎرم، اﻟﻘﻮاﻋﺪ اﻟﻔﻘﻬﯿﻪ، ج۱، ص۳۹۳.
  4. مفید، تصحیح اعتقادات الامامیہ، ص۱۳۷
  5. طبرسی، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، ج۲، ص۷۲۹
  6. انصاری، التقیہ، ص۳۷
  7. نک. فاضل مقداد، اللوامع الالہ یہ فی المباحث الکلامیہ ، ص۳۷۷ و امین، نقض الوشیعہ ، ص۱۸۵
  8. فاضل مقداد، ص۳۷۷ـ ۳۷۸
  9. سورہ آل عمران،آییت نمبر:٢٨۔
  10. طوسی؛ فخررازی؛ نَسَفی؛ سُیوطی؛ طباطبائی، ذیل آیہ
  11. طوسی، التبیان؛ طباطبائی، اسی ظرح
  12. زمخشری؛ آلوسی؛ مراغی؛ قاسمی،
  13. سورہ نحل، آیت نمبر 106۔
  14. واحدی نیشابوری، ص۱۹۰؛ زَمَخْشَری؛ طَبْرِسی؛ قُرطُبی، اسی آیت کے ذیل میں
  15. سورہ غافر، آیت نمبر28۔
  16. رجوع کنید بہ طوسی؛ طبرسی؛ قرطبی؛ سیوطی، اس آیت کے ذیل میں
  17. رجوع کنید بہ طوسی؛ طبرسی؛ سیوطی، ذیل آیات
  18. حرّ عاملی، السیرہ الحلبیہ، ج۱۶، ص۲۰۳ـ ۲۰۴، ۲۰۶، ۲۱۲ـ۲۱۴؛ مجلسی، بحارالانوار، ج۷۲، ص۳۹۳ـ ۳۹۴، ۳۹۶، ۴۰۸، ۴۱۸، ۴۲۱، ۴۳۰، ۴۳۲
  19. موسوی بجنوردی، القواعد الفقہیہ، ج۵، ص۵۳؛ ان احادیث سے زیادہ سے زیادہ آگاہی کیلئے کتاب وسایل الشیعہ، ج۱، باب ۲۵ و ج۱۶، باب۲۹
  20. کلینی، الکافی، ج۲، ص۲۱۷ـ ۲۲۱؛ مجلسی، بحار الانوار، ج۷۲، ص۳۹۴، ۳۹۷ـ ۳۹۸، ۴۲۳
  21. ابن حنبل، مسندالامام احمدبن حنبل، ج۵، ص۱۶۸؛ کلینی، الکافی، ج۲، ص۲۱۸، حدیث ۷؛ مجلسی، بحارالانوار، ج۷۲، ص۴۲۱، ۴۲۸
  22. حرّ عاملی، وسایل الشیعہ، ج۱۶، ص۲۱۴ـ ۲۱۸
  23. ابن حنبل، مسندالامام احمدبن حنبل، ج۱، ص۳۱۳، ج۵، ص۳۲۷؛ کلینی، الکافی، ج۵، ص۲۸۰، ۲۹۲ـ۲۹۴؛ مجلسی، بحارالانوار، ج۵، ص۳۰۳
  24. قرطبی، الجامع لاحکام القرآن، ذیل نحل: ۱۰۶؛ انصاری، التقیہ، ص۴۰؛ امین، نقض الوشیعہ، ص۱۸۹؛ موسوی بجنوردی، القواعد الفقہیہ، ج۵، ص۵۴ ـ ۵۵
  25. کلینی، الکافی، ج۲، ص۲۲۱ـ۲۲۶؛ غزالی، احیاء علوم الدین، ج۳، ص۱۳۷؛ امین، نقض الوشیعہ، ص۱۸۸ـ ۱۸۹
  26. خمینی، المکاسب المحرمہ، ج۲، ص۲۲۶ـ۲۲۷
  27. السیرہ الحلبیہ، ج۳، ص۵۱ ـ۵۲
  28. ابن حجر عسقلانی، فتح الباری، ج۱۲، ص۲۷۹
  29. ابن حزم، المحلّی، ج۸، ص۳۳۶
  30. شمس الائمہ سرخسی، کتاب المبسوط، ج۲۴، ص۴۷
  31. صنعانی، ج 6، ص 474، ح 33050
  32. بخاری جُعْفی، صحیح البخاری، ج۷، ص۱۰۲
  33. امینی، الغدیر فی الکتاب والسنہ والادب، ج۱، ص۳۸۰
  34. صنعانی، ج 6، ص 474، ح 33050
  35. محقق کَرکی، رسائل المحقق الکرکی، ج۲، ص۵۱؛ موسوی بجنوردی، القواعد الفقہیہ، ج۵، ص۵۰
  36. قرطبی، الجامع لاحکام القرآن، آل عمران کی آیت نمبر۲۸ کے ذیل میں۔
  37. فاضل مقداد، اللوامع الالہیہ فی المباحث الکلامیہ، ص۳۷۷؛ امین، نقض الوشیعہ، ص۱۸۲
  38. ثعلبی، قصص الانبیاء، ص۶۹، ۱۶۶؛ حرّ عاملی، وسایل الشیعہ، ج۱۶، ص۲۱۵، ۲۱۹، ۲۳۰ـ۲۳۱؛ مجلسی، بحارالانوار، ج۷۲، ص۳۹۶، ۴۰۷، ۴۲۵، ۴۲۹
  39. فخر رازی، التفسیرالکبیر، ذیل آل عمران: ۲۸ و موسوی بجنوردی، القواعد الفقہیہ، ج۵، ص۷۵
  40. سبحانی، الانصاف فی مسائل دام فیہا الخلاف، ج۲، ص۳۳۰ـ۳۳۱
  41. ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج۱۱، ص۴۳ـ۴۶
  42. طبری، تاریخ طبری، ج۹، ص۱۸۵؛ ابن جوزی، المنتظم فی تاریخ الملوک و الامم، ج۱۱، ص۲۳۷
  43. آل کاشف الغطاء، اصل الشیعہ و اصولہا، ص۳۱۵ـ۳۱۶؛ امین، نقض الوشیعہ، ص۱۹۸ـ۲۰۰
  44. شہید اول، القواعد و الفوائد، قسم ۲، ص۱۵۷ـ ۱۵۸؛ خمینی، الرسائل، ج۲، ص۱۷۴ـ ۱۷۵؛ ہمو، المکاسب المحرمہ، ج۲، ص۲۳۶
  45. مفید، اوائل المقالات فی المذاہب والمختارات، ص۱۳۵ـ۱۳۶
  46. مفید، ہمان و حرّ عاملی، وسایل الشیعہ، ج۱۶، ص۲۱۴ و شُبَّر، الاصول الاصلیہ و القواعد الشرعیہ، ص۳۲۱ـ۳۲۲ و خمینی، الرسائل، ج۲، ص۱۷۶
  47. مفید، اوائل المقالات فی المذاہب والمختارات، ص۹۶؛ خمینی، المکاسب المحرمہ، ج۲، ص۲۴۲ـ ۲۴۴
  48. حرّعاملی، وسایل الشیعہ، ج۱۶، ص۲۰۳
  49. انصاری، التقیہ، ص۳۹ـ۴۰
  50. مجلسی، بحارالانوار، ج۷۲، ص۳۹۶، ۴۰۱، ۴۱۷ـ ۴۱۸، ۴۳۸ـ۴۴۱
  51. مفید، اوائل المقالات فی المذاہب والمختارات، ص۱۳۵ـ۱۳۶
  52. فخر رازی، التفسیرالکبیر، سورہ آل عمران کی آیت نمبر:۲۸ کے ذیل میں۔
  53. بہ دلیل فَاِذا بَلَغَا لدم فَلا تَقیة
  54. حرّ عاملی، وسایل الشیعہ ج۱۶، ص۲۱۵ـ۲۱۷، ۲۳۴؛ خمینی، المکاسب المحرمہ ، ج۲، ص۲۲۵ـ۲۲۷؛ ہمو، الرسائل، ج۲، ص۱۷۷ـ۱۸۴
  55. حرّ عاملی، ,وسایل الشیعہ، ج۱۶، ص۲۱۴؛ شبّر، الاصول الاصلیہ و القواعد الشرعیہ، ص۳۲۱
  56. نک. انصاری، التقیہ، ص۴۳ و موسوی بجنوردی، القواعد الفقہیہ، ج۵، ص۵۵ ـ۵۷ و خمینی، الرسائل، ج۲، ص۱۸۸ـ۱۹۱

مآخذ

  • قرآن کریم.
  • آل کاشف الغطاء، محمدحسین، اصل الشیعہ و اصولہا، چاپ علاء آل جعفر، قم ۱۴۱۵.
  • آلوسی، محمودبن عبداللّہ، روح المعانی، بیروت: داراحیاءالتراث العربی، بی‌تا.
  • ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، چاپ محمد ابوالفضل ابراہیم، قم ۱۴۰۴.
  • ابن جوزی، المنتظم فی تاریخ الملوک و الامم، چاپ محمد عبدالقادر عطا و مصطفی عبدالقادر عطا، بیروت ۱۴۱۲/۱۹۹۲.
  • عسقلانی، ابن حجر، فتح الباری:شرح صحیح البخاری، بیروت:دارالمعرفہ، بی‌تا.
  • ابن حزم، المحلّی '، چاپ احمد محمد شاکر، بیروت: دارالجلیل، بی‌تا.
  • ابن حنبل، مسندالامام احمدبن حنبل، قاہرہ، ۱۳۱۳، چاپ افست، بیروت، بی‌تا.
  • ابن خلّکان؛ ابن منظور؛ محمد ابوزہرہ، الامام الصادق: حیاتہ و عصرہ، آراؤہ و فقہہ، قاہرہ ۱۹۹۳.
  • ابن منظور، محمد بن مکرم، بی‌تا، لسان العرب، ج ۱۵ ، دار الفکر-دار صادر، بیروت.
  • امین، محسن، نقض الوشیعہ، او، الشیعہ بین الحقائق و الاوہام، بیروت ۱۴۰۳/۱۹۸۳.
  • امینی، عبدالحسین، الغدیرفی الکتاب والسنہ والادب، ج۱، بیروت ۱۳۸۷/۱۹۶۷.
  • انصاری، مرتضی بن محمدامین، التقیہ، چاپ فارس حسون، قم ۱۴۱۲.
  • بحرانی، یوسف بن احمد، الحدائق الناصرہ فی احکام العترہ الطاہرہ، قم ۱۳۶۳ـ ۱۳۶۷ ش.
  • بخاری جعفی، محمدبن اسماعیل، صحیح البخاری، استانبول ۱۴۰۱/۱۹۸۱.
  • ثعلبی، احمدبن محمد، قصص الانبیاء، المسَمّی ' عرائس المجالس، بیروت: المکتبہ الثقافیہ، بی‌تا.
  • جصّاص، احمدبن علی، کتاب احکام القرآن، استانبول ۱۳۳۵ـ ۱۳۳۸، چاپ افست بیروت ۱۴۰۶/ ۱۹۸۶.
  • جوہری، اسماعیل بن حماد، الصحاح: تاج اللغۃ و صحاح العربیۃ، ج۶، بی‌تا، محقق:عطار، احمد عبد الغفور، دار العلم للملایین، بیروت.
  • حرّ عاملی، محمدبن حسن، تفصيل وسائل‌الشيعۃ الى تحصيل مسائل‌الشريعۃ، قم ۱۴۰۹ـ۱۴۱۲.
  • حلبی، علی بن ابراہیم، السیرہ الحلبیہ، بیروت، ۱۳۲۰، چاپ افست، بی‌تا.
  • خمینی، روح اللّہ، الرسائل، قم ۱۳۸۵.
  • خمینی، روح اللّہ، المکاسب المحرمہ، قم ۱۳۷۴ش.
  • سبحانی، جعفر، الانصاف فی مسائل دام فیہا الخلاف، قم ۱۳۸۱ ش.
  • شبّر، عبداللّہ، الاصول الاصلیہ و القواعد الشرعیہ، قم ۱۴۰۴.
  • شرف الدین، عبدالحسین، أجوبہ مسائل جاراللّہ، چاپ عبدالزہراء یاسری، قم ۱۴۱۶/ ۱۹۹۵.
  • شمس الائمہ سرخسی، محمدبن احمد، کتاب المبسوط، بیروت ۱۴۰۶/ ۱۹۸۶.
  • شہرستانی، محمدبن عبدالکریم، الملل و النحل، چاپ محمد سیدکیلانی، بیروت ۱۴۰۶/۱۹۸۶.
  • الصنعانی، أبو بكر عبد الرزاق بن ہمام(211ق)، المصنف، تحقيق حبيب الرحمن الأعظمی، المكتب الإسلامی - بيروت، چاپ دوم، 1403ق.
  • محمدبن مکی شہید اول، البیان، چاپ محمد حسون، قم ۱۴۱۲.
  • محمدبن مکی شہید اول، القواعد و الفوائد: فی الفقہ و الاصول و العربیہ، چاپ عبدالہادی حکیم، نجف ? ۱۳۹۹/۱۹۷۹، چاپ افست قم، بی‌تا.
  • طباطبائی، محمدحسين، الميزان فى تفسيرالقرآن، بيروت ۱۳۹۰ـ۱۳۹۴/ ۱۹۷۱ـ۱۹۷۴
  • طبری، محمد بن جریر، تاریخ الطبری: تاریخ الامم و الملوک، چاپ محمد ابوالفضل ابراہیم، بیروت ۱۳۸۲ – ۱۳۸۷ / ۱۹۶۲ – ۱۹۶۷.
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، محقق و معلق: ہاشم رسولی و فضل اللہ یزدی طباطبایی، ناصر خسرو، تہران، ۱۳۷۲.
  • طوسی، محمدبن حسن، التبیان فی تفسیر القرآن، چاپ احمد حبیب قصیر عاملی، بیروت، بی‌تا.
  • طوسی، محمدبن حسن، الفہرست، چاپ جواد قیومی، قم ۱۴۱۷.
  • غزالی، محمدبن محمد، احیاء علوم الدین، بیروت: دارالندوہ الجدید، بی‌تا.
  • فاضل مقداد، مقدادبن عبداللّہ، اللوامع الالہیہ فی المباحث الکلامیہ، چاپ محمدعلی قاضی طباطبائی، قم ۱۳۸۰ ش.
  • فخررازی، محمدبن عمر، التفسیرالکبیر، او، مفاتیح الغیب، بیروت ۱۴۲۱/۲۰۰۰.
  • فیروزآبادی، محمدبن یعقوب، القاموس المحیط، بیروت ۱۴۰۷/ ۱۹۸۷.
  • قاسمی، محمد جمال الدین، تفسیرالقاسمی، المسمی محاسن التاویل، چاپ محمد فؤاد عبدالباقی، بیروت ۱۳۹۸/ ۱۹۷۸.
  • قرطبی، محمدبن احمد، الجامع لاحکام القرآن، بیروت ۱۴۰۵/ ۱۹۸۵.
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، چاپ علی اکبر غفاری، بیروت ۱۴۰۱.
  • مجلسی، محمدباقربن محمدتقى، بحارالانوار، بيروت ۱۴۰۳/۱۹۸۳.
  • محقق کرکی، علی بن حسین، رسائل المحقق الکرکی، چاپ محمد حسون، ج۲، رسالہ ۸: رسالہ فی التقیہ، قم ۱۴۰۹.
  • مراغی، احمد مصطفی، تفسیرالمراغی، بیروت، ۱۳۶۵.
  • مظفر، محمدرضا، عقائدالامامیہ، قم، بی‌تا.
  • مفید، محمدبن محمد، اوائل المقالات فی المذاہب والمختارات، چاپ عباسقلی ص.وجدی (واعظ چرندابی)، تبریز ۱۳۷۱، چاپ افست قم، بی‌تا.
  • ہمو، تصحیح اعتقادات الامامیہ، چاپ حسین درگاہی، بیروت ۱۴۱۴/۱۹۹۳.
  • موسوی بجنوردی، حسن، القواعد الفقہیہ، چاپ مہدی مہریزی و محمدحسین درایتی، قم ۱۳۷۷ ش.
  • نجاشی، احمدبن علی، فہرست اسماء مصنفی الشیعہ المشتہر ب رجال النجاشی، چاپ موسی شبیری زنجانی، قم ۱۴۰۷.
  • نسفی، عبداللّہ بن احمد، تفسیرالقرآن الجلیل، المسمی بمدارک التنزیل و حقائق التأویل، بیروت: دارالکتاب العربی، بی‌تا.
  • نیشابوری، علی بن احمد واحدی، اسباب النزول الآیات، قاہرہ ۱۳۸۸/۱۹۶۸.