ضریح

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
صفوی دور میں حرم امام رضاؑ کی فولادی ضریح

ضریح سونے، چاندی، تانبے یا لکڑی کی ایک جالی دار ہیئت ہے کہ جسے امام، امامزادے یا بزرگ مذہبی شخصیات کی قبروں پر نصب کیا جاتا ہے۔ ضریح کی تاریخ پیدائش اور اس کی موجودہ شکل تک کے ارتقائی مراحل کے بارے میں درست معلومات دستیاب نہیں ہے؛ تاہم ضریح بمعنی چھوٹا کمرہ اور صندوق پہلی صدی ہجری سے رائج تھی۔ بظاہر موجودہ(سونے چاندی سے بنی ہوئی اور جالی دار) شکل کی ضریح کی بازگشت صفوی دور کی طرف ہوتی ہے۔

مفہوم

ضریح عربی زبان کا لفظ ہے کہ جس کا عربی لغات میں معنی قبر [1] اور قبر کا وسطی شگاف ہے؛ تاہم فارسی اصطلاح میں یہ چھوٹے کمرے، صندوق اور دھاتی یا لکڑی کی جالی دار ہیئت کو کہتے ہیں کہ جسے امام یا امام زادے کی قبر پر رکھا جاتا ہے۔[2][3] ضریح اپنے فارسی معنوں کیساتھ لبنان میں شبّاک (بمعنی دھات یا لکڑی کی چاردیواری) اور مصر میں مقصورہ (بمعنی سرا، حجرہ اور چھوٹا گھر) کے نام سے مشہور ہے۔ ضریح، مستطیل شکل کا ایک چھوٹا کمرہ یا احاطہ ہے کہ جس سے مزار کی اندورنی فضا آس پاس کی چیزوں سے جدا ہو جاتی ہے۔ عام طور پر ضریح کے چار کونے ہوتے ہیں۔تاہم امام حسینؑ اور امامین عسکریینؑ کی ضریحوں کے چھ کونے ہیں۔ ضریح کے اضلاع میں نذر و نیاز ڈالنے کیلئے کچھ دریچے کھلے رکھے جاتے ہیں۔

تاریخ

ہمیں اس حوالے سے کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں کہ شروع کی صدیوں میں کب اور کیوں ضریح کو بنایا گیا اور وہ کس طرح ارتقائی مراحل طے کرتے ہوئے موجودہ شکل و صورت تک پہنچی۔ البتہ مسلمانوں کے عقائد میں بزرگان دین کے احترام و تکریم کی ضرورت و بداہت اس امر کی باعث بنی کہ ان کی رحلت کے بعد ان کی یاد میں ایک عمارت تعمیر کی جائے، قبر کے اوپر صندوق بنایا جائے، اس پر سنگ کاری کریں اور آخر میں ضریح نصب کر کے ان کی آرام گاہ کو زیارت گاہ میں تبدیل کر دیا جائے۔ [حوالہ درکار]

ضریح بمعنی چھوٹا کمرہ اور صندوق اول صدی ہجری سے ہی رائج تھا؛ مثال کے طور پر سنہ 65ھ تک امام حسینؑ کی جائے دفن کے اوپر صندوق کی تنصیب اور ایک چھوٹی عمارت تعمیر کیے جانے کے بارے میں روایات موجود ہیں۔[4] اسی طرح ہارون عباسی نے 170ھ کے لگ بھگ امام علیؑ کے مزار پر سفید اینٹوں کی ضریح تعمیر کی تھی۔[5] تاہم بظاہر موجودہ (چاندی اور تانبے کی جالی دار) شکل میں ضریح کی تاریخ صفوی دور کی ہے۔ [حوالہ درکار]

ابن بطوطہ (متوفی 703/779ھ) نے اپنے سفرنامے میں امام رضاؑ کے مزار پر ایک لکڑی کی ضریح کا ذکر کیا ہے کہ جس کی سطح پر چاندی کی ملمع کاری کی گئی تھی۔[6]

احکام

فقہا نے ضریح سے مربوط احکام کے بارے میں باب طہارت جیسے ابواب میں بات کی ہے اور معصومینؑ اور امام زادوں کی ضریحوں کو لائق احترام اور انہیں نجس کرنے یا ان کی توہین کرنے کو حرام قرار دیا ہے۔[7] [8] وہابیوں نے ضریح کی ساخت کو بدعت و شرک خیال کرتے ہوئے بارہا بزرگان دین کی ضریحوں کو منہدم کیا ہے؛ منجملہ انہوں نے مدینہ میں آئمہ بقیع کی ضریحوں جبکہ سنہ 1216ھ کو کربلا میں امام حسینؑ کی ضریح پر لوٹ مار کی اور انہیں گرا دیا۔[9] حسام السلطنہ نے سنہ 1297ھ کے اپنے سفر حج کے دوران آئمہ بقیع کے مزاروں پر لکڑی کی سبز ضریح کا مشاہدہ کرنے کا ذکر کیا ہے [10] کہ جسے سنہ 1344ھ میں مدینہ پر وہابیوں کے دوسرے حملے کے دوران منہدم کر دیا گیا۔[11]

ضریح سازی

ضریح سازی ایک ہنر ہے جو نقاشی، خطاطی، شیشہ کاری، کندہ کاری، طلا کاری اور دھاتی کام کا مجموعہ ہے۔[12] اسی لیے عام طور پر ضریح کی ساخت کیلئے دھات کے کام، سونے کے کام، نقاشی ، جالی سازی اور شیشہ کاری کے ماہرین کی ایک ٹیم ایک دوسرے سے تعاون کرتی ہے۔ ضریح سازی اصفہان کا ایک مروجہ دستی ہنر تھا۔ خود ضریح کے علاوہ متبرک دروازوں کی ساخت کیلئے بھی ’’ضریح سازی‘‘ سے استفادہ کیا جاتا ہے۔[13] ضریح کی ساخت کے ساتھ ہی بانی کا نام، تاریخ ساخت، صاحب قبر کا نام وغیرہ ثبت کر دئیے جاتے ہیں۔ ضریح ایک ہیئت (Structure)، ستونوں، کتبوں، سونے کی جالیوں، زیورات، مزین میخوں، گلدانوں، اندرونی حصے میں نقاشیوں اور چھت کے اوپر چادر وغیرہ ڈالنے سے تشکیل پاتی ہے۔[14]

ضریح کی ساخت اور تجدید ساخت کی کارگاہیں

ایران میں آئمہؑ اور دیگر بزرگوں کی ضریحوں کیلئے خصوصی کارگاہیں قائم کی گئی ہیں۔

ضریح امام حسینؑ کی ساخت

تفصیلی مضمون: ضریح
: ضریح امام حسینؑ امام حسینؑ کی جدید ضریح کی ساخت کا کام خرداد 1387شمسی سے قم کے مدرسہ علمیہ معصومیہ میں شروع ہوا اور اس کا اختتام 1391شمسی میں ہوا۔

ضریح عسکریینؑ کی تجدید ساخت

یہ کارگاہ 1384شمسی اور 1386 شمسی میں حرم عسکریین کے انہدام کے بعد قم میں 1389شمسی کو آیت اللہ سیستانی کے نمائندے سید جواد شہرستانی کی زیر نگرانی قائم کی گئی۔ ضریح عسکریین کی ساخت کا کام 1389شمسی میں مکمل ہوا۔[15]

حوالہ جات

  1. النہایہ، ج3، ص81(مادہ ضرح)؛ لسان العرب، ج3، ص103(مادہ ضرح)۔
  2. دہخدا، ج10، ص15169۔
  3. واژہ یاب۔
  4. کرباسی، تاریخ المراقدالحسین و اہل بیتہ و انصارہ، ج1، ص245250؛ طعمہ، تاریخ مرقد الحسین و العباس، ص7073۔
  5. آل محبوبہ، ماضی النجف وحاضرہا، ج1، ص41۔
  6. ابن بطوطہ، ج1، ص441۔
  7. امام خمینی، ص75؛ شیخ انصاری، ص50۔
  8. امام خمینی، ص75؛ شیخ انصاری، ص50۔
  9. Longrigg, Four centuries of modern Iraq,217
  10. حسام السلطنہ، دلیل الانام، ص152۔
  11. البقیع قصۃ التدمیر، ص113-139؛ بقیع الغرقد، ص49۔
  12. عمرانی، ص157۔
  13. تاریخچہ ضریح‌سازی اصفہان در کتابخانہ مرکزی بررسی می‌شود۔
  14. تاریخچہ ضریح‌سازی اصفہان در کتابخانہ مرکزی بررسی می‌شود۔
  15. آخرین وضعیت ساخت ضریح حرمین عسکریینؑ۔


مآخذ