ذو حسم

ویکی شیعہ سے

ذو حُسَم یا ذی حُسَم، مکہ اور کوفہ کے درمیان واقع منزلوں میں سے ایک منزل کا نام ہے۔ واقعہ کربلا میں اسی مقام پر حر بن یزید ریاحی کی کمانڈ میں بھیجے گئے ابن زیاد کے سپاہیوں سے حضرت امام حسین(ع) کا آمنا سامنا ہوا۔ حضرت امام حسین(ع) نے انکی سواریوں کو پانی پلانے کا حکم دیا۔ حر کے سپاہیوں نے ظہر اور عصر کی نماز حضرت امام حسین(ع) کی اقتدا میں ادا کی۔ اسی جگہ پہ حضرت امام حسین(ع) کا ایک خطبہ منقول ہوا ہے جس میں آپ نے کوفیوں کے خطوط اور انکی دعوت کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اسی طرح امام(ع) اور حر کے درمیان ایک مکالمہ بھی اسی مقام سے منسوب ہے۔

محل وقوع

حسم کا معنی روکنا ہے ۔ مکہ اور کوفہ کے درمیان ایک منزل کا نام ہے ۔حضرت امام حسین ؑ نے اس سے پہلے شراف اور بیضہ نامی جگہ پر پڑاؤ ڈالا تھا ۔

امام حسین(ع) کا لشکر کوفہ سے پہلی ملاقات

ذوحسم وہ پہلی منزل تھی جہاں پر امام حسین(ع) کے قافلے کا لشکر کوفہ سے آمنا سامنے ہوا۔ امام حسین(ع) کا قافلہ شَراف نامی منزل پر ایک رات قیام کے بعد اپنا سفر جاری رکھتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے کہ دن کے نصف حصے میں دشمن کے لشکر کے آثار نمودار ہوئے۔ امام نے اپنے ساتھیوں سے دریافت کیا کہ آیا یہاں کوئی ایسی جگہ ہے جس کے صرف ایک طرف سے دشمن کے ساتھ آمنا سامنا ہو سکے؟ امام کے ساتھیوں نے ذو حُسَم نامی جگہے کی نشاندھی کرائی۔ جب امام(ع) کا قافلہ ذوحسم مستقر ہوئے تو کوفیوں کا لشکر بھی وہاں آ پہنچے۔ ان کی تعداد ہزار نفر تھی جن کی کمانڈ حر بن یزید کر رہے تھے۔[1]

لشکر کوفہ کو سیراب کرنا

حر اور ان کا لشکر دن کی گرمی میں اس جگہے پر پہنچے جہاں امام حسین(ع) کا قافلہ پڑاو ڈالے ہوئے تھے۔ اس موقع پر امام(ع) نے اپنے قافلے میں موجود جوانوں سے فرمایا: "اس لشکر کو پانی دیں اور انہیں سیراب کریں اور ان کے گھوڑوں کو بھی پانی پلا دیں"۔ جوانان قافلہ حسینی نے کوفہ کے لشکر کو پانی پلانے کے بعد برتنوں کو بھر بھر کر ان کے گھوڑوں کے سامنے رکھا یوں ان کے گھوڑوں کو بھی سیراب کیا۔[2]

آیین تشت‌گذاری، جو ایران میں محرم الحرام کی عزاداری‌ کی رسومات میں سے ہے، اس واقعے کی عکاسی کرتی ہے جس میں امام حسین(ع) نے دشمن کے لشکر اور ان کے گھوڑوں تک کو بھی پانی پلایا تھا۔[3]

امام(ع) کا خطبہ

نماز ظہر کے وقت امام(ع) نے حجاج بن مسروق جعفی سے اذان دینے کا کہا۔ اس کے بعد امام(ع) نے حر کے لشکر سے مخاطب ہو کر ایک خطبہ ارشاد فرمایا:

ایہا الناس ! خدا اور تمہارے سامنے میں معذور ہو ۔ میں صرف تمہارے خطوط اور نمائندوں کے ملنے کے بعد یہاں آیا ہوں جن کا یہ مضمون تھا کہ میں تمہاری طرف جلد قدم بڑھاؤں، ہمارا کوئی امام اور پیشوا نہیں ہے اور شاید خداوند تمہاری وجہ سے ہماری ہدایت کرے اور ہم ہدایت پا جائیں۔ اگر تم مجھے اطمینان دو کہ تم اپنے عہد پر باقی رہو گے کہ تو میں تمہارے شہر آؤں گا اور اگر میرا آنا تمہیں نا گوار ہو تو میں وہیں واپس پلٹ جاتا ہوں جہاں سے آیا ہوں[4]۔

اس خطبے کے بعد امام(ع) نے مؤذن سے اقامہ کہنے کا کہا اس کے بعد حر سے فرمایا: آیا اپنے لشکریوں کے ساتھ نماز پڑھنا چاہتے ہو؟ حر نے کہا: ہم آپ کی اقتداء میں نماز پڑھنا چاہتے ہیں۔ یوں حر اور اس کے لشکر نے امام(ع) کی اقتداء میں نماز ادا کیں۔ [5]

حر اور امام کی گفتگو

حضرت امام حسین(ع) نے نماز عصر کے بعد حر بن یزید ریاحی کے سپاہیوں سے خطاب کیا جس میں آپ نے کوفیوں کی جانب سے بھیجے گئے خطوط اور دعوت کے پیغامات کی طرف اشارہ کیا کہ جن کی بنا پر آپ نے یہاں آنے کا ارادہ کیا تھا۔ لیکن حر بن یزید ریاحی نے اس سے لا علمی کا اظہار کیا تو امام نے عقبہ بن سمعان کو حکم دیا کہ وہ خورجین سے ان خطوط کو نکال کر پیش کرے۔ حر نے جواب میں کہا ہم ان لوگوں میں سے نہیں ہیں جنہوں نے آپ کو خطوط لکھے ہوں۔ امام حسین(ع) نے اسی مقام پر حر کو ثکلتک امک ! ما ترید تمہاری ماں تمہارے عزا میں بیٹھے! تم کیا چاہتے ہو؟ کہہ کر خطاب کیا۔[6]

حوالہ جات

  1. طبری، تاریخ، ج۵، ص۴۰۰-۴۰۱.
  2. طبری، تاریخ، ج۵، ص۴۰۰-۴۰۱.
  3. مظاہری، محسن‌حسام، فرہنگ سوگ شیعی، ۱۳۹۵ش، ص ۳۳۰.
  4. ابن‌اثیر، الکامل، ج۴، ص۴۷؛ شیخ مفید، ارشاد، ج۲، ص۷۹.
  5. ابن‌اثیر، الکامل، ج۴، ص۴۶؛ شیخ مفید، ارشاد، ج۲، ص۷۹.
  6. ابن‌اثیر، الکامل، ج۴، ص۴۷؛ شیخ مفید، ارشاد، ج۲، ص۷۹.

مآخذ