زیارت امام حسین (ع)

ویکی شیعہ سے
(زیارت امام حسین سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
زیارت امام حسین(ع).jpg
دعا و مناجات
مسجد جامع خرمشهر.jpg


زیارت امام حسین علیہ السلام کا مفہوم، زیارت کرنے والے کا امام (ع) کے حرم اور روضہ میں ان کی محبت و احترام اور معنوی و روحانی کسب فیض کی نیت سے حاضر ہونا ہے۔ زیارت شیعہ ثقافت میں افضل ترین مستحب عبادتوں میں سے ایک ہے جس کی مختلف و متعدد دینی مناسبتوں جیسے عاشورا، اربعین، نیمہ شعبان، روز عرفہ، عید الفطر، عید الاضحی، شب ہای جمعہ، میں زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ شیعہ ائمہ (ع) حاکمان وقت کی طرف سے سختی و فشار کے باوجود ہمیشہ کربلا کے فضائل اور حائر حسینی کی عظیم منزلت کا ذکر کرکے شیعوں کو اس کی زیارت اور عظمت کی طرف رغبت دلاتے تھے۔ بہت سی احادیث میں امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے اخروی ثواب کے علاوہ، اس کے آثار اور روضہ میں حاضری کے آداب، زیارت کی کیفیت کی تفصیل بیان ہوئی ہے۔

تاریخی قدمت

بعض روایات دینی کے مطابق، امام حسین علیہ السلام کی شہادت کا مقام، اسلام سے پہلے کے ادوار سے مورد احترام رہا ہے۔[1] ایک روایت کے مطابق، امام علی علیہ السلام بھی جنگ صفین سے واپسی پر جب کربلا کے مقام پر پہچے تو آپ نے واقعہ عاشورا کو یاد کیا اور گریہ فرمایا۔[2]

نقل ہوا ہے کہ امام حسین علیہ السلام کی قبر کی زیارت کرنے والے سب سے پہلے زائر جابر بن عبد اللہ انصاری تھے۔ جنہوں نے خود کو عطیہ کوفی کے ساتھ مدینہ سے امام (ع) کی شہادت کے اربعین کے موقع پر کربلا پہچایا۔[3] سید بن طاووس لہوف میں کہتے ہیں کہ اسی دن حضرت زینب (س) اور اسیران کربلا بھی کربلا میں وارد ہوئے ہیں۔[4] بعض نے عبید اللہ بن حر جعفی کو اولین زائر امام حسین (ع) خیال کیا ہے۔[5]

بنی امیہ کے دور میں ان کی سخت گیریوں[6] کے باوجود لوگ کربلا کی زیارت کو جاتے تھے۔ عقبی بن عمرو سہمی، عرب زبان شاعر پہلی صدی ہجری کے اواخر میں کربلا میں وارد ہوتا ہے اور مرثیہ نظم کرتا ہے۔[7] بنی امیہ کے زمانہ میں زائرین پر سختیوں کے باوجود حائر حسینی کی تخریب نہیں کی گئی۔ لیکن بعض عباسی خلفاء نے جن میں ہارون الرشید، متوکل، شامل ہیں، نے بارہا حرم امام حسین علیہ السلام کی تخریب کے لئے اقدام کئے، متوکل نے تو نشان قبر کو مٹانے اور عوام کو زیارت سے روکنے کی غرض سے زمین حرم کو کھود کر اس میں پانی جاری کرنے کا حکم دے دیا۔[8] اس کے بر عکس آل بویہ، جلایریان، صفویہ و قاجاریہ کی حکومت کے زمانے میں امام حسین علیہ السلام کے روضہ کی توسیع و باز سازی و تزئین کے سلسلہ میں بنیادی اور وسیع پیمانے پر اقدامات کئے گئے۔ [9]

ابن بطوطہ (متوفی ۷۰۳ ق) نے امام حسین علیہ السلام کی زیارت اور روضہ کے ایک گوشہ میں زائرین کے اطعام کا تذکرہ کیا ہے۔[10] ابن صباغ (۸۵۵ ق) نے بھی نویں صدی ہجری میں لوگوں کے بڑی تعداد میں زیارت کرنے کی طرف اشارہ کیا ہے۔[11]

زیارت امام حسین (ع) احادیث میں

پیغمبر اکرم (ص)[12] اور ائمہ معصومین (ع)[13] سے بڑی تعداد میں وارد ہونے والی روایات کے مطابق، بر ترین و افضل ترین اعمال میں سے ایک کربلا میں امام حسین علیہ السلام کی زیارت کرنا ہے۔ زیارت کے آغاز سے انجام اور وطن واپسی تک کا عرصہ اس کی عمر میں حساب نہیں کیا جائے گا۔ بعض وہ فضائل جن کا ذکر روایات میں آیا ہے، ذیل میں ان کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے:[14]

  • عرش الہی پر اللہ کی زیارت کا ثواب
  • اللہ کا زائرین پر مباہات کرنا
  • پیغمبر (ص) اور ائمہ (ع) کا دعا کرنا
  • عاقبت بخیر ہونا
  • رزق و روزی میں اضافہ ہونا
  • عمر میں اضافہ ہونا
  • خطرات کا دور ہونا
  • گزشتہ و آئندہ گناہوں کی بخشش[15]
  • دعا کا قبول ہونا
  • فرشتوں کا دعا کرنا
  • بے شمار ثواب

شیخ عباس قمی، مفاتیح الجنان میں سید احمد رشتی کو امام زمانہ علیہ السلام کی طرف سے کی گئی سفارش کا ذکر کرتے ہیں کہ امام عصر (ع) نے تین بار ان کو تاکید کی کہ روزانہ زیارت عاشورا کی تلاوت کریں۔[16] علماء دین سے امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے خواص اور خصوصیات کے سلسلہ میں بہت سے واقعات نقل ہوئے ہیں اور اس بارے میں بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں۔

وجوب زیارت

بعض جوامع حدیثی میں، وجوب زیارت امام حسین علیہ السلام کے عنوان سے بعض فصلیں موجود ہیں جو اس بات کی علامت ہیں کہ ان کتابوں کے مولفین کی نظر میں زیارت واجب عمل ہے۔ جیسے شیخ مفید کتاب المزار میں،[17] شیخ حر عاملی وسائل الشیعہ میں۔[18] صاحب حدائق بھی زیارت حضرت سید الشہداء کے وجوب کے قائل ہیں۔

پیدل زیارت

کتاب نور العین فی مشی الی زیارۃ قبر الحسین (ع) میں 21 احادیث زیارت پر پیدل جانے کی فضیلت کے سلسلہ میں ذکر ہوئی ہیں۔[19] پیدل زیارت پر جانے والے کے ہر قدم کے بدلہ میں ملنا والا ثواب اس طرح ہے: نیکیوں کا دو برابر ہو جانا، بعض گناہوں کا محو ہو جانا، درجات کا بلند ہونا، ایک حج اور ایک عمرہ، پیغمبر (ص) یا امام (ع) کے ساتھ جہاد کا اجر اور اس شہید کا ثواب جس کا خون راہ خدا میں بہا ہے۔

مختلف روایات میں پیدل زیارت کرنے والے کے ہر قدم کے عوض میں ثواب کی مختلف مقدار جیسے: ایک نیکی اور ایک گناہ کی معافی،[20] دس نیکیاں اور دس گناہوں کی بخشش،[21] ہزار نیکیاں اور ہزار گناہوں کی بخشش،[22] ایک لاکھ نیکیاں اور ایک لاکھ گناہوں کی بخشش،[23] کا ذکر ہوا ہے کہ جو پیدل زیارت پر جانے کی راہ میں پڑنے والی سختیوں، حالات اور اس کی معرفت کے تناسب سے ہو سکتی ہیں۔

شیخ مرتضی انصاری بھی اس سنت کے احیاء کرنے والوں میں شامل تھے اور وہ خود بھی نجف سے کربلا پیدل جایا کرتے تھے۔ میرزا حسین نوری ہر سال پیادہ روی کرتے تھے۔ سید محمد مہدی بحر العلوم اہل طوریج کے پیادہ دستہ عزاداری میں واضح طور پر حاضر ہوتے تھے۔ شیخ جعفر کاشف الغطاء پابندی کے ساتھ پیادہ روی کرتے تھے اور مرعشی نجفی بیس مرتبہ پیدل کربلا کی زیارت سے مشرف ہوئے ہیں۔[24] گزشتہ کچھ برسوں میں بڑی تعداد شیعہ نیمہ شعبان اور خاص طور پر اربعین حسینی کے موقع پر پیدل زیارت کے لئے کربلا کا سفر کرتے ہیں۔

سفر زیارت کا خرچ

روایات کے مطابق، ان پیسوں کے عوض میں جو زیارت امام حسین علیہ السلام کی راہ میں خرچ ہوئے ہیں، خداوند آخرت میں اسے ہزاروں شہر عطا کرے گا اور جو کچھ اس نے خرچ کیا ہے اسے دنیا میں اس کا عوض عطا کرے گا۔[25] اگر کوئی خود نہیں جا سکتا ہے تو اس کے ذریعہ کسی کو زیارت کے لئے عظا کئے گئے ہر درہم[26] کے بدلے اسے دنیا میں کئے گنا اجر ملے گا، اس کے علاوہ آخرت میں اسے کوہ احد کے برابر اجر عطا ہوگا۔[27]

امام جعفر صادق (ع) اور امام علی نقی (ع) سے نقل ہوا ہے کہ وہ بیماری کے وقت اپنی نیابت میں امام حسین علیہ السلام کی زیارت اور زیارت کی دعا کے لئے دوسرے افراد کو بھیجا کرتے تھے۔[28]

زیارت امام حسین کے خاص آداب

معصومین علیہم السلام کی زیارت کے لئے آداب و مستحبات ذکر ہوئے ہیں لیکن ان میں بھی امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے مخصوص آداب ہیں جیسے:

  • سفر سے پہلے تین دن روزہ رکھنا
  • لذیذ اور متنوع کھانوں سے پرہیز کرنا اور سادہ کھانے پر اکتفاء کرنا
  • حزن و غم و اندوہ کی حالت میں زیارت کرنا
  • عطر و گلاب کے استعمال سے پرہیز کرنا
  • آشفتہ سر و صورت اور لباس کے ساتھ زیارت پر جانا، غم زدہ و پریشان حال افراد کی طرح
  • زیارت سے پہلے آب فرات سے غسل کرنا
  • پیدل زیارت کے لئے جانا۔[29]

امام حسین علیہ السلام کے لئے نماز زیارت بھی کئی نقل ہوئی ہیں: دو رکعت سورہ یاسین و سورہ رحمن کے ساتھ، چار رکعت سورہ توحید اور کافرون کے ساتھ (دو دو رکعت کرکے)، دو رکعت سورہ رحمن و تبارک کے ساتھ، چار رکعت، ہر رکعت پچاس بار سورہ حمد اور پچاس بار سورہ توحید کے ساتھ۔ ان میں بعض نمازوں کے بعد دعائیں بھی نقل ہوئی ہیں۔

زیارت کے مخصوس ایام

امام حسین علیہ السلام کی زیارت سال کے تمام ایام میں جب بھی انسان جانے کی آمادگی رکھتا ہو مطلوب و پسندیدہ عمل ہے۔ امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: بہتر ہے کہ امیر انسان سال میں دو بار اور غریب سال میں ایک بار امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لئے جائے۔[30] البتہ فضیلت کی وجہ سے بعض ایام میں امام حسین (ع) کی زیارت کی زیادہ تاکید کی گئی ہے۔:[31][32]

  • شب و روز جمعہ
  • روز عرفہ
  • ماہ رجب، اول ماہ و نیمہ رجب
  • ماہ شعبان، خاص طور پر شب و روز نیمہ شعبان
  • روز ولادت امام حسین (ع) (تین شعبان)
  • ماہ رمضان میں روزانہ، خاس طور پر نیمہ رمضان اور آخری دھہ میں
  • شب اول ماہ رمضان اور شب آخر میں
  • شب ھای قدر، خاص طور پر تیئیسویں شب میں
  • شب عید فطر و عید قربان
  • روز مباہلہ (24 ذی الحجہ)
  • روز نزول سورہ ھل اتی (25 ذی الحجہ)

دور سے زیارت کرنا

دوسرے تمام معصومین (ع) کی طرح امام حسین علیہ السلام کی دور سے زیارت کرنے کی بہت فضیلت ہے۔ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: اگر تہمارا گھر اتنی دور ہو کہ وہاں سے آ کر نزدیک سے زیارت کرنا باعث زحمت ہو تو اپنے گھر کی چھت پر جا کر دو رکعت نماز پڑھنے کے بعد سلام کرکے ہماری قبور کی طرف اشارہ کروم کیونکہ یہ سلام ہم پہچ جائے گا۔

زیارت عاشورا کے راویوں میں سے ایک علقمہ نے امام محمد باقر علیہ السلام سے پوچھا: میری جان آپ پر قربان یہ فرمائیں جو انسان کربلا سے دور کسی علاقہ میں رہتا ہے اور روز عاشورا اس کے لئے شہر کربلا میں آ کر نزدیک سے قبر کی زیارت کرنا ممکن نہ ہو اور وہ اس دن دور سے زیارت کرے تو اس کی زیارت کا کیا ثواب ہے؟ حضرت نے جواب میں فرمایا: میں ضمانت لیتا ہوں اگر کسی نے امام حسین (ع) کی زیارت اس دن دور سے کی (زیارت عاشورا اور آداب کی رعایت کے ساتھ) تو اسے نزدیک سے زیارت کا پورا ثواب ملے گا۔[33]

مفاتیح الجنان میں امام حسین (ع) کی مطلقہ زیارات میں پہلی زیارت کے مقدمہ میں بھی ذکر ہوا ہے: ایک شخص نے امام صادق (ع) سے پوچھا: میری جان آپ پر فدا، اکثر ایسا ہوتا ہے کہ میں امام حسین علیہ السلام کو یاد کرتا ہوں تو وقت مجھے کیا کہنا چاہئے؟ فرمایا: تین بار کہو؛ صلی اللہ علیک یا ابا عبد اللہ۔ یہ آپ پر دور اور نزدیک سے سلام کرنے کا طریقہ ہے۔ دوسری جگہ پر یہ مختصر زیارت بھی ذکر ہوئی ہے: السلام علیک یا ابا عبد اللہ، السلام علیک و رحمۃ اللہ برکاتہ۔[34] کتاب کامل الزیارات میں بھی دور سے پڑھی جانے والی زیارت مفصل طور پر بیان ہوئی ہے۔

زیارت عاشورا اور دوسری مخصوص زیارتیں دور سے پڑھنا شیعوں کے درمیان رائج عمل تھا اور کبھی کبھی یہ زیارتیں مساجد و امام باڑوں میں مومنین ایک ساتھ پڑھتے ہیں۔

زیارت نامے

کتاب جامع زیارات معصومین میں 26 زیارات مطلقہ ذکر ہوئی ہیں جنہیں کسی بھی زمانہ میں پڑھا جا سکتا ہے اور 33 زیارات ایسی نقل ہوئی ہیں جو مخصوص ایام سے تعلق رکھتی ہیں جنہیں امام حسین (ع) کی زیارت کے باب میں جمع کیا گیا ہے۔ زیارت عاشورا، زیارت وارث اور زیارت ناحیہ مقدسہ ان میں سب سے زیادہ مشہور زیارت نامے ہیں۔ ہر امام کی زیارت، زیارات جامعہ کے ذریعہ سے بھی کی جا سکتی ہے۔ کتاب مفاتیح الجنان میں ان میں سے اکثر زیارات موجود ہیں۔

زیارت امام حسین عصر حاضر میں

زمانہ قدیم سے ہی بہت سے زائرین مختلف ایام میں روضہ امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لئے آتے تھے۔ بعثی حکومت کے دور میں عزاداری پر سختی و پابندی کی سیاسی کار فرما رہی۔ صدام کی تیس سالہ حکومت کے دوران اس سیاست پر سختی سے اور وسیع پیمانہ پر عمل ہوتا رہا اور اس دوران اہل بیت (ع) کی عزاداری پر مکمل طور پر پابندی لگا دی گئی۔[35] صدام کے سقوط کے بعد عزاداری ایک نئے مرحلہ میں داخل ہوئی اور عراقی عوام اور دنیا بھر کے شیعہ وسیع پیمانے پر، مختلف مناسبات پر، خاص طور پر اربعین کے موقع پر پیادہ روی کرتے ہوئے امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لئے جاتے ہیں۔[36]

حوالہ جات

  1. برای نمونه ن ک:بحار الانوار چاپ بیروت، ج۴ ص۲۴۳و ص۲۴۴
  2. بحار الانوار، ج۴۴، ص۲۵۵، ح ۴
  3. بحارالانوار، ج۶۸، ص۱۳۰،‌ح ۶۲
  4. اللهوف فی قتلی الطفوف، ص۱۱۴
  5. تاریخ طبری، ج۴، ص۴۷۰
  6. ابن قولویه، کامل الزیارات، ص۲۰۳ـ۲۰۶، ۲۴۲ـ۲۴۵
  7. فرهنگ زیارت، ص۲۹
  8. ابوالفرج اصفهانی، مقاتل الطالبیین، ص۳۹۵ـ۳۹۶؛ طوسی، الامالی، ص۳۲۵ـ۳۲۹
  9. کلیدار، تاریخ کربلاء و حائرالحسین(ع)، ص۱۷۱ـ۱۷۳
  10. فرهنگ زیارت، ص۲۹
  11. فرهنگ زیارت، ص۲۹
  12. ۱۰ حدیث: جامع احادیث المعصومین، ج۳، صص۳۶-۳۹
  13. ۷۸ حدیث: جامع احادیث المعصومین، ج۳، صص۳۹-۶۹
  14. اسرار عاشورا، ج۲، صص۱۰۳-۱۰۵؛ سایت غدیر
  15. «من زار الحسین(ع) عارفاً بحقّه، غفر الله له ما تقدم من ذنبه و ما تأخر؛ هر کس امام حسین(ع) را با شناخت حق او زیارت کند، خداوند گناهان گذشته و آینده او را می‌آمرزد.» کامل الزیارات، ص۱۳۸، باب۵۴، ح۱
  16. مفاتیح الجنان، پس از زیارت جامعه
  17. باب وجوب زیارة الحسین ص۲۶ و باب حد وجوبها فی الزمان علی الأغنیاء و الفقراء ص۲۸
  18. بَابُ وُجُوبِ زِیارَةِ الْحُسَینِ وَ الْأَئِمَّةِ(ع) عَلَی شِیعَتِهِمْ کفَایةً‌. وسائل الشیعة ج۱۴ ص۴۴۳
  19. ص۱۱-۱۷
  20. کامل الزیارات، ص۱۳۴
  21. کامل الزیارات، ۱۸۷
  22. کامل الزیارات، ۱۳۲
  23. بحارالانوار، ج۱۰۱، ص۲۰۲
  24. فرهنگ زیارت، ص ۵۶
  25. کامل الزیارات، ص۱۳۲
  26. حدود سه و نیم گرم نقره
  27. کامل الزیارات، ص۱۲۹
  28. وسایل الشیعه، ج۱۰، ص۴۲۱؛ کامل الزیارات، ص۲۷۴
  29. مفاتیح الجنان
  30. کامل الزیارات، ص۲۹۴
  31. کامل الزیارات، باب ۷۰ تا ۷۴، ص۱۸۶ تا ۲۰۱ و بحارالأنوار، ج۹۸، باب ۱۲ تا ۱۴، ص۸۵ تا ۱۰۴
  32. اسرار عاشورا، ج۲، ص۱۰۱
  33. کامل الزیارات، باب ۷۱، صفحه ۱۷۵، حدیث ۸.
  34. کامل الزیارات، باب ۹۶، صفحه ۲۸۷، حدیث ۲.
  35. فرهنگ زیارت، ص۲۸۴
  36. فرهنگ زیارت، ص۲۸۴


منابع

  • جامع زیارات المعصومین، مؤسسۃ الامام الہادی (ع)، ناشر: پیام امام ہادی (ع)، اعتماد، قم، ۱۳۸۹ش
  • اسرار عاشورا، سید محمد نجفی یزدی، دفتر انتشارات اسلامی، قم، ۱۳۷۷ش
  • ابن قولویہ، جعفر بن محمد، کامل الزیارات، محقق و مصحح: امینی، عبد الحسین،‌ دار المرتضویۃ، نجف اشرف، چاپ اول، ۱۳۵۶ش
  • نورالعین فی المشی الی زیارۃ قبر الحسین (ع)، محمدحسن اصطہباناتی، دار المیزان، بیروت
  • شیخ مفید، محمّد بن محمد بن نعمان، کتاب المزار، کنگرہ جہانی ہزارہ شیخ مفید، قم، چاپ اول، ۱۴۱۳ق
  • شیخ طوسی، امالی، قم، دار الثقافہ، ۱۴۱۴ق
  • جمعی از نویسندگان، نگاہی نو بہ جریان عاشورا، قم، دفتر تبلیغات اسلامی، ۱۳۸۷، چاپ ششم
  • کلینی، محمد بن یعقوب، کافی،‌ دار الکتب الإسلامیۃ، ۱۴۰۷ق
  • تاریخ طبری، محمد بن جریر طبری،‌ دار التراث، بیروت، ۱۹۶۷م
  • اللہوف فی قتلی الطفوف،السید ابن طاووس، أنوار الہدی، قم، ۱۴۱۷ق
  • فرہنگ زیارت، فصلنامہ فرہنگی، اجتماعی، سیاسی و خبری، سال پنجم، شمارہ نوزدہم و بیستم، تابستان و پاییز، ۱۳۹۳ش