پندرہ شعبان

ويکی شيعه سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش
مسجد مقدس جمکران میں پندرہ شعبان کے جشن کا سماں
کربلا بین الحرمین میں پندرہ شعبان کے جشن کا منظر
جشنِ نصفِ شعبان

پندرہ شعبان، شعبان المعظم کی اہم تاریخوں میں سے ہے جس دن شیعوں کے بارہویں امام حضرت امام مہدی علیہ السلام کی ولادت ہوئی۔ بعض احادیث کے مطابق پندرہ شعبان کی رات جسے شب برات بھی کہا جاتا ہے شب قدر کے بعد افضل ترین راتوں میں شمار ہوتی ہے اور اکثر شیعہ حضرات شب قدر کی مانند اس رات کو بھی شب بیداری اور عبادت کی حالت میں گزارتے ہیں۔ بعض اہل سنت حضرات جو تصوف کے قائل ہیں، بھی اس رات کی فضیلت کے معتقد ہیں۔ پندرہ شعبان کو امام مہدی علیہ السلام کی ولادت با سعادت کی مناسبت سے شیعہ نشین علاقوں میں بڑے زور و شور اور پروقار انداز میں جشن منایا جاتا ہے ۔ ایران میں مسجد جمکران اور عراق میں کربلا میں شیعہ بڑی تعداد میں جمع ہوکر جشن مناتے ہیں۔ ایران میں اس دن سرکاری طور پر چھٹی ہوتی ہے اور ایرانی کیلنڈر میں اس دن کو روز جہانی مستضعفان (مظلوموں کا عالمی دن) کے نام سے یاد کیا جاتاہے۔ ابن تیمیہ اور بیشتر سلفی (وہابی) علماء اس دن ہر قسم کے مراسم اور جشن منانے کو بدعت سمجھتے ہیں۔

پندرہ شعبان احادیث کی روشنی میں

احادیث میں پیغمبر اکرم(ص) اور ائمہ معصومین سے پندرہ شعبان کی رات شب بیداری اور عبادت انجام دینے کی بہت زیادہ سفارش ہوئی ہے۔ منجملہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ: جبرئیل نے پیغمبر اکرم(ص) پندرہ شعبان کی رات نیند سے بیدار کیا اور نماز پڑھنے، قرآن کی تلاوت کرنے اور دعا و استغفار کی سفارش کی۔[1] ایک اور روایت میں آیا ہے کہ: پیغمبر اکرم(ص) کی ایک زوجہ نے پندرہ شعبان کی رات آپ(ص) کے بارے میں خاص عبادتوں جیسے طولانی اور متعدد سجدوں کے انجام دنے کی خبر دی ہے۔[2] امام علی(ع) اور امام صادق(ع) نے بھی اس رات خاص اعمال کی انجام دہی کی سفارش کی ہے۔[3]

احادیث میں اس دن کی اہمیت کی ایک اہم وجہ خدا کی آخری حجت، منجی عالم بشریت حضرت امام مہدی(عج) کی ولادت با سعادت ذکر ہوئی ہے۔ [4]


امام زمانہ کی ولادت کا دن

مفصل مضمون: امام مہدی علیہ السلام

تاریخ کی متعدد دستاویزات اور شیعہ عقاید کے مطابق سنہ 255 یا 256 ہجری قمری شعبان کی پندرہ تاریخ کو امام زمانہ(عج) کی ولادت ہوئی۔ [5][6] [7]

پندرہ شعبان کی فضیلت

متعدد احادیث میں پندرہ شعبان کے دن اور رات کی اهمیت اور فضیلت بیان ہوئی ہے۔ان میں سے بعض درج ذیل ہیں:

  • خدا کی خشنودى، بخشش، رزق و روزی اور نیكى کے دروازوں کا کھلنا؛ [8]
  • انسان کی رزق و روزی کی تقسیم اور اس کے مرنے کے دن کا مقرر ہونا؛[9]
  • تمام انسانوں کی مغرفت سوای مشرک، قمارباز، قطع رحم كرنے والا، شراب خور اور وہ انسان جو گناه پر اصرار کرتا ہے۔[10]
  • شب قدر کے بعد افضل ترین رات؛ [11]

پنرہ شعبان کے اعمال

پندرہ شعبان کے دن اور رات کے اعمال
پندرہ شعبان کی رات
  • غسل کرنا جو گناہوں کی تخفیف کا موجب بنتا ہے۔
  • شب بیداری اور نماز، دعا اور استغفار میں مشغول رہنا۔
  • دعائے کمیل پڑھنا۔
  • زیارت امام حسین(ع) جو گناہوں کی بخشش کا باعث بنتا ہے۔ بعض احادیث کے مطابق تمام انبیاء اس رات آپ(ع) کی زیارت کرتے ہیں۔ اگر آپ(ع) کے روضہ اقدس سے دور ہو تو کسی بلندی پر جا کر دائیں بائیں دیکھنے کی بعد آسمان کی طرف منہ کرکے این الفاظ میں امام حسین(ع) کی زیارت کی جائے: اَلسَّلامُ عَلَیْكَ یا اَبا عَبْدِاللّهِ، اَلسَّلامُ عَلَیْكَ وَ رَحْمَةُاللّهِ وَ بَرَكاتُهُ
  • اس دعا کا پڑھنا جو امام زمانہ کی زیارت کے معادل ہے:

اَللّهُمَّ بِحَقِّ لَیْلَتِنا (هذِهِ) وَ مَوْلُودِها وَ حُجَّتِكَ وَ مَوْعُودِهَا الَّتى قَرَنْتَ اِلى فَضْلِها فَضْلاً فَتَمَّتْ كَلِمَتُكَ صِدْقاً وَ عَدْلاً لا مُبَدِّلَ لِكَلِماتِكَ وَلا مُعَقِّبَ لاِیاتِكَ نُورُكَ الْمُتَاَلِّقُ وَ ضِیاَّؤُكَ الْمُشْرِقُ وَ الْعَلَمُ النُّورُ فى طَخْیاَّءِ الدَّیْجُورِ الْغائِبُ الْمَسْتُورُ جَلَّ مَوْلِدُهُ وَ كَرُمَ مَحْتِدُهُ وَالْمَلاَّئِكَةُ شُهَّدُهُ وَاللّهُ ناصِرُهُ وَ مُؤَیِّدُهُ اِذا آنَ میعادُهُ وَالْمَلاَّئِكَةُ اَمْد ادُهُ سَیْفُ اللّهِ الَّذى لا یَنْبوُ وَ نُورُهُ الَّذى لا یَخْبوُ وَ ذوُالْحِلْمِ الَّذى لا یَصْبوُا مَدارُ الَّدهْرِ وَ نَوامیسُ الْعَصْرِ و َوُلاةُ الاْمْرِ وَالْمُنَزَّلُ عَلَیْهِمْ ما یَتَنَزَّلُ فى لَیْلَةِ الْقَدْرِ وَ اَصْحابُ الْحَشْرِ وَالنَّشْرِ تَراجِمَةُ وَحْیِهِ وَ وُلاةُ اَمْرِهِ وَ نَهْیِهِ اَللّهُمَّ فَصَلِّ عَلى خاتِمِهْم وَ قآئِمِهِمُ الْمَسْتُورِ عَنْ عَوالِمِهِمْ اَللّهُمَّ وَ اَدْرِكَ بِنا اءَیّامَهُ وَظُهُورَهُ وَقِیامَهُ وَاجْعَلْنا مِنْ اَنْصارِهِ وَاقْرِنْ ثارَنا بِثارِهِ وَاكْتُبْنا فى اَعْوانِهِ وَ خُلَصاَّئِهِ وَ اَحْیِنا فى دَوْلَتِهِ ناعِمینَ وَ بِصُحْبَتِهِ غانِمینَ وَ بِحَقِّهِ قآئِمینَ وَ مِنَ السُّوَّءِ سالِمینَ یا اَرْحَمَ الرّاحِمینَ وَالْحَمْدُلِلّهِ رَبِّ الْعالَمینَ وَ صَلَواتُهُ عَلى سَیِّدِنا مُحَمَّدٍ خاتَمِ النَّبِیّینَ وَ الْمُرْسَلینَ وَ عَلى اَهْلِ بَیْتِهِ الصّادِقینَ وَ عِتْرَتِهَ النّاطِقینَ وَالْعَنْ جَمیعَ الظّالِمینَ واحْكُمْ بَیْنَنا وَ بَیْنَهُمْ یا اَحْكَمَ الْحاكِمینَ النّاطِقینَ وَالْعَنْ جَمیعَ الظّالِمینَ واحْكُمْ بَیْنَنا وَ بَیْنَهُمْ یا اَحْكَمَ الْحاكِمینَ

  • ہر روز بوقت زوال صلوات پڑھنے کی سفارش ہوئی ہے۔
  • اس دعا کا پڑھنا جسے پیغمبر اکرم(ص) پندرہ شعبان کی رات پڑھا کرتے تھے:

اَللّهُمَّ اقْسِمْ لَنا مِنْ خَشْیَتِكَ ما یَحُولُ بَیْنَنا وَ بَیْنَ مَعْصِیَتِكَ وَ مِنْ طاعَتِكَ ما تُبَلِّغُنا بِهِ رِضْوانَكَ وَ مِنَ الْیَقینِ ما یَهُونُ عَلَیْنا بِهِ مُصیباتُ الدُّنْیا اَللّهُمَّ اَمْتِعْنا بِاَسْماعِنا وَ اَبْصارِنا وَ قُوَّتِنا ما اَحْیَیْتَنا وَاجْعَلْهُ الْوارِثَ مِنّا وَاجْعَلْ ثارَنا عَلى مَنْ ظَلَمَنا وَانْصُرنا عَلى مَنْ عادانا وَلا تَجْعَلْ مُصیبَتَنا فى دینِنا وَلا تَجْعَلِ الدُّنْیا اَكْبَرَ هَمِّنا وَلا مَبْلَغَ عِلْمِنا وَلا تُسَلِّطْ عَلَیْنا مَنْ لا یَرْحَمُنا بِرَحْمَتِكَ یا اَرْحَمَ الرّاحِمینَ.

  • "سُبْحانَ اللّهِ" ، "الْحَمْدُلِلّهِ" ، "اللّهُ اَكْبَرُ" اور "لا اِلهَ اِلا اللّهُ" جیسے اذکار کا سو مرتبہ ورد کرنا۔
  • نماز جعفر طیار پڑھنا۔
  • چار ركعت نماز پڑھنا جس کی ہر رکعت میں سورہ حمد اور سورہ توحید 100 مرتبہ اور نماز کے بعد اس دعا کی پڑھنا:

اَللّهُمَّ اِنّى اِلَیْكَ فَقیرٌ وَمِنْ عَذاِبكَ خائِفٌ مُسْتَجیرٌ اَللّهُمَّ لا تُبَدِّلْ اِسْمى وَلا تُغَیِّرْ جِسْمى وَلاتَجْهَدْ بَلاَّئى وَلا تُشْمِتْ بى اَعْداَّئى اَعُوذُ بِعَفْوِكَ مِنْ عِق ابِكَ وَ اَعُوذُ بِرَحْمَتِكَ مِنْ عَذابِكَ وَ اَعُوذُ بِرِضاكَ مِنْ سَخَطِكَ وَ اَعُوذُبِكَ مِنْكَ جَلَّ ثَناَّؤُكَ اَنْتَ كَما اَثْنَیْتَ عَلى نَفْسِكَ وَ فَوْقَ ما یَقُولُ الْقآئِلُونَ.

پندرہ شعبان کے دن

پندرہ شعبان اہل سنت کی نگاہ میں

پندرہ شعبان صرف شیعوں کے ہاں قابل احترام اور اہمیت کا حامل نہیں بلکہ اہل سنت بطور خاص اہل سنت کے وہ حضرات جو تصوف کے قائل ہیں، کے ہاں بھے اس دن اور رات کی ایک خاص اہمیت ہے ۔ اہل سنت کے متعدد روایات میں پیغمبر اکرم(ص) اور صحابہ کرام سے اس رات میں عبادت کی اہمیت اور اس میں انسان کی رزق و روزی اور مقدرات کے مشخص ہونے کے بارے میں احادیث نقل ہوئی ہیں۔ [12][13][14][15][16] اہل سنت کے بعض علماء ان احادیث کے صحیح ہونے اور پندرہ شعبان کی رات کی فضیلت سے انکار کرتے ہیں جبکہ ابن تیمیہ جن کا شمار سلفیوں کے نظریہ پردازوں میں ہوتا ہے، بھی اس رات کی فضیلت سے چشم پوشی نہ کر سکے ہیں لیکن وہ اس رات کو مسجدوں میں جمع ہوکر 100 رکعت نماز پڑھنے کو بدعت سمجھتے ہیں۔[17] اس بنا پر چودہویں اور پندرہویں صدی کے سلفی علماء جیسے تھانوی، یوسف قرضاوی اور محمد صالح منجد اس رات کو شب بیداری اور شب برات کے اعمال کی انجام دہی کو بدعت سمجھتے ہیں۔[18][19][20]

اہل سنت میں سے وہ حضرات جو اس دن اور رات کی فضیلت اور اہمیت کے معتقد ہیں وہ شب زنده‎داری اور دیگر عباتیں جیسے قرآن کی تلاوت، مستحب نمازوں اور دعاوں کا پڑھنا اور روزہ رکھنا وغیرہ، انجام دینے کا اہتمام کرتے ہیں۔ اہل سنت کے ہاں بھی یہ رات شب برات کے نام سے معروف ہے۔ [21][22][23] 100رکعت نماز جسے صلوۃ الخیر کہا جاتا ہے جس میں ہزار دفعہ سورہ توحید پڑھا جاتا ہے، بھی اس رات کے اعمال میں شمار کیا جاتا ہے جو اہل تشیع اور اہل سنت ۔[24] برصغیر پاک و ہند وغیرہ میں زیارت اہل قبور، نذر و نیاز اور صدقہ وغیرہ شب برات کے مراسم میں شمار ہوتے ہیں۔[25]

پندرہ شعبان کا جشن

پندرہ شعبان کو سڑکوں پر چراغان کا منظر
پندرہ شعبان کو سڑکوں پر چراغان کا منظر

اہل تشیع اس دن امام مہدی (ع) کی دلادت با سعادت کی مناسبت سے ایک عظیم جشن منعقد کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں سڑکوں اور گلی کوچوں میں مختلف مقامات پر چراغان کا منظر انتہائی دیدہ زیب ہوا کرتا ہے۔ مساجد اور امام باگاہوں یا دیگر مذہبی مقامات پر جشن برپا کرتے ہیں جس میں لوگ منقبت اور قصاید کے ذریعے امام عالی مقام کے حضور اظہار عقیدت کرتے ہیں۔ غریبوں میں مفت کھانا دینا اور انہیں صدقہ وغیرہ دینا بھی ایک سنت حسنہ کے عنوان سے اس دن انجام دیا جاتا ہے۔ ایران میں یہ جشن ایک خاص انداز میں نہایت ہی اہتمام کے ساتھ منایا جاتا ہے اور دہہ مہدویت کے عنوان سے کئی دن تک امام مہدی کے حوالے سے مختلف محافل سیمنارز اور دیگر پروگرامز منعقد کیا جاتا ہے اس طرح لوگوں میں امام مہدی علیہ السلام کے حوالے سے زیادہ سے زیادہ آگاہی پیدا کرنے کی کوشش کیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے مسجد جمکران میں ایران کے مختلف شہروں سے لوگ اس دن جمع ہوتے ہیں اور شب بیداری اور دیگر عباتوں کے ذریعے خدا سے تقرب حاصل کرنے اور مختلف پروگراموں کے ذریعے امام مہدی کی شخصیت، آپ کے ظہور، قیام اور حکومت کے خدوخال سے زیادہ سے زیادہ آگاہی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس دن ایران میں سرکاری طور پر چھٹی ہوتی ہے اور اس دن کو ایران میں روز جہانی مستضعفان (مظلوموں کا عالمی دن) کے عنوان سے منایا جاتا ہے

عراق میں بھی شیعیان حیدر کرار پندرہ شعبان کے دن پروقار انداز میں جشن برگزار کرتے ہیں اور اس دن بطور خاص زیارت امام حسین علیہ السلام کی خاطر عراق کے مختلف شہروں سے کربلا کی طرف روانہ ہوتے ہیں اور کربلا میں یہ جشن نہایت ہی خوبصورت انداز میں منعقد کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ بحرین، یمن، مصر، لبنان، سوریہ سمیت بر صغیر پاک و ہند میں بھی یہ جشن نہایت عقیدت اور احترام سے منایا جاتا ہے۔

اس تاریخ کے اہم واقعات

  1. ولادت امام مہدی(عج)(255ہجری بمطابق 2 اگست 969عیسوی)
  2. وفاتِ علی بن محمد سمری نائب امام زمانہ(عج)(329ہجری بمطابق 20 مئی 941عیسوی) آپ چوتھے اور آخری نائب خاص تھے۔
  3. وفاتِ آیت اللہ شیخ علی اکبر الہیان(1380ہجری مطابق 2فروری 1961عیسوی)
  4. ولادت آیت اللہ محمدمہدی ربانی املشی(1313ہجری بمطابق 31جنوری 1896عیسوی)
  5. وفاتِ حجت الاسلام والمسلمین شیخ احمد کافی(1398ہجری بمطابق 21 جولائی 1978عیسوی)
  6. وفاتِ آیت اللہ حسن نوری ہمدانی(1411ہجری بمطابق 2 مارچ 1991عیسوی)

حوالہ جات

  1. مجلسی، بحارالانوار، بیروت، دارالاحیاءالتراث العربی، چاپ سوم، ۱۴۰۳ق ج ۹۸، ص۴۱۳.
  2. سید بن طاووس، اقبال الأعمال، تحقیق:جواد قیومی اصفہانی، ص۲۱۷-۲۱۶.
  3. سید بن طاووس، اقبال الأعمال، تحقیق:جواد قیومی اصفہانی، ص۵۴۰؛ مجلسی، بحارالانوار، بیروت، دارالاحیاءالتراث العربی، چاپ سوم، ۱۴۰۳ق، ج۹۴، ص۸۴ و ۸۵.
  4. سید بن طاووس، علی بن موسی، اقبال الأعمال، تحقیق:جواد قیومی اصفہانی، ص۲۱۸ و ۲۱۹.
  5. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۱، ص۵۱۴؛ شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ص۳۳۹؛ طبری، دلائل الامامہ، ۱۴۱۳ق، ص۵۰۱؛ طوسی، کتاب الغیبہ، ۱۴۱۱ق، ص۲۳۹.
  6. طوسی، کتاب الغیبہ، ۱۴۱۱ق، ص۲۳۱. شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ص۳۴۶.
  7. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۱، ص۳۲۹، ح۵ و ص۵۱۴، ح۱. ابن‎بابویہ، محمد بن علی، مترجم: محمد باقر کمرہ‎ای، کمال‎الدین و تمام النعمۃ، تہران، کتابفروشی اسلامیہ، ۱۳۷۷ش، ج۲، ص۱۰۴؛
  8. سید بن طاووس، اقبال الاعمال، تحقیق:جواد قیومی اصفہانی، ص۲۱۲؛ مجلسی، بحارالانوار، بیروت، دارالاحیاءالتراث العربی، چاپ سوم، ۱۴۰۳ق، ج۹۸، ص۴۱۳.
  9. سید بن طاووس، اقبال الاعمال، تحقیق:جواد قیومی اصفہانی، ص۲۱۲؛ مجلسی، بحارالانوار، بیروت، ۱۴۰۳ق، ج۹۸، ص۴۱۳.
  10. سید بن طاووس، اقبال الاعمال، تحقیق:جواد قیومی اصفہانی، ص۲۱۷-۲۱۶.
  11. سید بن طاووس ص۲۰۹؛ مجلسی، بحارالانوار، بیروت، ۱۴۰۳ق، ج۹۴، ص۸۵.
  12. منذری، الترغیب والترہیب، عبدالعظيم بن عبدالقوی تحقیق: ابراہیم شمس الدین، دارالكتب العلميۃ، چاپ اول، ۱۴۱۷ق، ج۲، ص۷۳و۷۴؛ ج۳، ص۶۷، ۲۳۳ و۳۰۷-۳۰۹.
  13. البانی، السلسلۃ الصحیحۃ، رياض، مكتبۃ المعارف للنشر والتوزيع، ج۳، ص۱۳۵؛ ج۴، ص۸۶.
  14. ابن حجر عسقلانی، الأمالی المطلقۃ، تحقیق: حمدی عبدالمجید السلفی، بیروت، ص۵۲.
  15. بیہقی، شعب الایمان، بیروت، دارالکتب العلمیۃ/منشورات محمد علی بیضون، چاپ اول، ج۳، ص۳۷۸-۳۸۶.
  16. احمد نگری، جامع العلوم، بیروت، ۱۳۹۵ق، ج۳، ص۱۷۹.
  17. ابن تیمیہ، فتاوای، بیروت، دارالكتب العلميۃ، چاپ اول، ج۵، ص۳۴۴.
  18. تھانوی، تسہیل بہشتی زیور، بہ اہتمام اساتید جامع الرشید، کتاب گھر، کراچی، ۱۳۲۷ق، ص۷۵.
  19. پندرہ شعبان کی رات کو شب بیداری اور شب برات کے اعمال کی انجام دہی کا حکم، یوسف قرضاوی کا ویب سائٹ
  20. عطيہ صقر، شب نیمہ شعبان؛ فضیلت و حکم شرعی شب زنده‎داری در آن، اسلام آن لاین.
  21. ملتانی، بہاء الدین زکریا، الاوراد، اسلام آباد، ۱۳۹۸ق، ج۱، ص۱۷۴ـ۱۷۶.
  22. علوی کرمانی، محمد، سیر الاولیاء، اسلام آباد، ۱۳۹۸ق، ج۱، ص۴۰۵.
  23. نوربخش، محمد بن محمد، الفقہ الاحوط، کراچی، ۱۳۹۳ق، ج۱، ص۱۱۲ـ۱۱۳.
  24. علوی کرمانی، سیرالاولیاء، اسلام آباد، ۱۳۹۸ق، ج۱، ص۴۰۵.
  25. احمد دہلوی، فرہنگ آصفیہ، ذیل «شب برات»، لاہور، ۱۹۸۶ق.

مآخذ

  • ابن بابویہ، محمد بن علی، مترجم: محمد باقر کمرہ‎ای، کمال الدین و تمام النعمۃ، تہران، کتابفروشی اسلامیہ، ۱۳۷۷ش.
  • ابن‎تیمیہ، احمد بن عبدالحلیم، فتاوای، بیروت، دارالکتب العلمیۃ، چاپ اول، ۱۴۰۸ق.
  • احمد دہلوی، فرہنگ آصفیہ، ذیل «شب برات»، لاہور، ۱۹۸۶ق.
  • احمد نگری، جامع العلوم، بیروت، ۱۳۹۵ق.
  • البانی، محمد ناصرالدین، السلسلۃ الصحیحۃ، ریاض، مکتبۃ المعارف للنشر والتوزیع، چاپ اول، ۱۴۱۵ق.
  • بیرونی خوارزمی، ابوریحان محمد بن احمد، التّفہیم لاوئل صناعۃ التنجیم، ابوریحان بیرونی، با تجدید نظر و تعلیقات جلال الدین ہمایی، انجمن آثار ملی ایران، بی‎تا.
  • بیہقی، احمد بن حسین، شعب الایمان، تحقیق: ابوہاجر محمد سعید بسیونی زغلول، بیروت، دارالکتب العلمیۃ/ منشورات محمد علی بیضون، چاپ اول، ۱۴۲۱ق.
  • تہانوی، تسہیل بہشتی زیور، بہ اہتمام اساتید جامع الرشید، کتاب گہر، کراچی، ۱۳۲۷ق،
  • خرمشاہی، بہاء الدین، حافظ نامہ، انتشارات علمی و فرہنگی، چاپ بیست و یکم، ۱۳۹۳ش.
  • دہخدا، علی اکبر، لغت نامہ، ذیل «برات»، زیرنظر محمدمعین، تہران ۱۳۲۵ـ۱۳۵۹ش.
  • رامپوری، غیاث‎الدین محمدبن جلال‎الدین بن رامپوری، غیاث اللغات، بہ اہتمام منصور ثروت، تہران، امبیرکبیر، ۱۳۹۳ش.
  • سید بن طاووس، علی بن موسی، اقبال الأعمال، تحقیق: جواد قیومی اصفہانی، دفتر تبلیغات اسلامی حوزہ علمیہ قم، ۱۴۱۸ق.
  • شیخ مفید، محمد بن محمد، الارشاد فی معرفۃ حجج اللہ علی العباد، بیروت،‌ دارالمفید، ۱۴۱۳ق.
  • طبری، محمد بن جریر، دلائل الامامہ، تحقیق: موسسہ بعثت، قم، مؤسسہ بعثت، چاپ اول، ۱۴۱۳ق.
  • طوسی، محمد بن حسن، کتاب الغیبہ، قم، مؤسسہ معارف اسلامی، ۱۴۱۱ق.
  • عسقلانی، احمد بن حجر، الأمالی المطلقۃ، تحقیق: حمدی عبدالمجید السلفی، بیروت، المکتب الاسلامی، چاپ اول، ۱۴۱۶ق.
  • علوی کرمانی، محمد، سیر الاولیاء، اسلام آباد، ۱۳۹۸ق.
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تہرن، دارالکتب الإسلامیۃ، ۱۳۸۹ق.
  • مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، تصحیح: محمد باقر محمودی و دیگران، بیروت، دارالاحیاءالتراث العربی، چاپ سوم، ۱۴۰۳ق.
  • ملتانی، بہاءالدین زکریا، الاوراد، اسلام آباد، ۱۳۹۸ق.
  • منذری، عبدالعظیم بن عبدالقوی، الترغیب والترہیب، عبدالعظیم بن عبدالقوی تحقیق: ابراہیم شمس الدین، دارالکتب العلمیۃ، چاپ اول، ۱۴۱۷ق.
  • مولوی، جلال‎الدین محمدبن محمد، دیوان شمس، بہ تصحیح عزیز اللہ کاسب، نشر محمد، ۱۳۸۷ش.
  • نوربخش، محمد بن محمد، الفقہ الاحوط، کراچی، ۱۳۹۳ق.
  • با شکوہ ترین جشن تولد برای کامل ترین انسان، پایگاہ اطلاع رسانی حوزہ.
  • حکم شرعی شب زندہ‎داری و برگزاری مراسم عبادی بہ مناسبت نیمہ شعبان، پایگاہ اینترنتی یوسف قرضاوی.
  • عطيہ صقر، شب نیمہ شعبان؛ فضیلت و حکم شرعی شب زندہ‎داری در آن، پایگاہ اینترنتی اسلام آن لاین.
  • پژوہشی بر آیین ہای جشن نیمہ شعبان در کشورہای اسلامی، پایگاہ اینترنتی سازمان تبلیغات اسلامی.