نفس المہموم (کتاب)

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
نفس المہموم (کتاب)  
کتاب نفس المهموم.jpg
مؤلف شیخ عباس قمی
تاریخ تالیف چودہویں صدی ہجری
زبان عربی
موضوع واقعہ کربلا کے بارے میں مقتل

نَفَسُ المَهْموم فی مُصیبَةِ سیّدنا الحُسَیْن المَظْلوم، واقعہ کربلا اور اس کے بعد پیش آنے والے حالات کے سلسلہ میں تالیف کی گئی کتاب ہے جس کے مولف شیخ عباس قمی ہیں۔ اس کتاب کے مطالب امام حسین علیہ السلام کی ولادت سے شروع ہوتے ہیں اور اس کے بعد ان کے مناقب کا ذکر ہوا ہے اور اس کے بعد واقعہ کربلا سے مربوط تمام واقعات کی شرح و تفصیل بیان ہوئی ہے۔ میرزا ابو الحسن شعرانی اور محمد باقر کمرہ ای نے اس کتاب کا ترجمہ فارسی زبان میں کیا ہے۔ اردو میں اس کا ترجمہ علامہ سید صفدر حسین نجفی نے کیا ہے۔

مولف کے بارے میں

عباس بن محمد رضا قمی (1294۔1359 ق) شیخ عباس قمی اور محدث قمی کے نام سے مشہور چودہویں صدی ہجری کے شیعہ علماء میں سے ہیں جنہوں نے حدیث، تاریخ، وعظ اور خطابت کے موضوعات پر کام کیا ہے۔ انہوں نے بہت سے موضوعات پر مختلف عناوین میں کتابیں تالیف کی ہیں۔ جن میں مفاتیح الجنان، سفینۃ البحار اور منتہی الآمال سب سے زیادہ معروف ہیں۔ 1359 ق میں نجف اشرف میں ان کی وفات ہوئی اور امام امیر المومنین (ع) کے حرم میں مدفون ہیں۔

تالیف کتاب کا مقصد

شیخ عباس قمی نے اپنی اس کتاب نفس المہموم کی تالیف کا مقصد امام حسین علیہ السلام کے سلسلہ میں معتبر روایات کی مدد سے مختصر مقتل کی جمع آوری بیان کیا ہے اور انہوں نے اس کام کو اپنی آخری آرزو قرار دیا ہے۔[1]

وجہ تسمیہ

اس کتاب کا یہ نام امام جعفر صادق علیہ السلام کی اس حدیث سے اخذ کیا گیا ہے جس میں آپ نے فرمایا: نَفَسُ المَهمومِ لِظُلمِنا تَسبیحٌ وَ هَمُّهُ لَنا عِبادَةٌ وَ کِتمانُ سِرّنا جِهادُ فی سَبیلِ اللهِ ،[2] ترجمہ: ہماری مصیبت پر غمگین ہونے والے کی سانس تسبیح کا ثواب رکھتی ہے، ہمارے غم میں مغموم ہونا عبادت ہے اور ہمارے راز کو کتمان کرنا اور چھپانا جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ اس کے بعد امام صادق (ع) فرماتے ہیں: واجب ہے کہ اس حدیث کو سونے کے پانی سے تحریر کیا جائے۔

چونکہ یہ کتاب اہل بیت (ع) کے مصائب کو بیان کرتی ہے اس لئے محدث قمی نے اس کے لئے نفس المہموم کے نام کا انتخاب کیا ہے۔

کتاب کے مطالب

یہ کتاب امام حسین علیہ السلام کی زندگی اور ان کے جہاد کے سلسلہ مختصر طور پر تحریر کی گئی ہے جس کی ابتداء ان کی ولادت سے ہوتی ہے اور اس کا اختتام توابین کے قیام، خروج مختار اور یزید کی موت پر ہوتا ہے۔[3] یہ کتاب پانچ ابواب اور ایک خاتمہ پر مشتمل ہے:

  • پہلا باب: اس میں دو فصلیں ہیں:

1۔ فصل اول امام حسین علیہ السلام کے مناقب کے سلسلہ میں ہے اور اس میں بالترتیب ان کی شجاعت، علم، فصاحت، زہد، تواضع اور عبادت شامل ہیں۔

2۔ دوسری فصل میں امام حسین (ع) کی عزا میں گریہ کرنے اور ان کے قاتلوں پر لعنت کا ثواب ذکر ہوا ہے۔

  • دوسرا باب: اس میں لوگوں کے یزید بن معاویہ کے ہاتھ پر بیعت کرنے سے لیکر امام حسین (ع) کی شہادت تک کے احوال ذکر ہیں۔ یہ باب اس کتاب کا مفصل ترین باب ہے اور یہ بیس فصلوں میں مرتب کیا گیا ہے۔ اس باب میں رشید ہجری، حجر بن عدی، عمرو بن حمق خزاعی کے واقعہ کربلا سے پہلے قتل ہونے کو بیان کیا گیا ہے۔
  • تیسرا باب: امام حسین (ع)، ان کے بھائیوں، بیٹوں، اصحاب و انصار کی شہادت کے بعد کے واقعات چند فصول میں۔
  • چوتھا باب: جو کچھ امام حسین (ع) کی شہادت کے بعد پیش آیا اس کا بیان جیسے آسمان کا گریہ، فرشتوں کا نالہ و فریاد، جنات کا گریہ۔
  • پانچواں باب: امام حسین (ع) کی اولاد و ازواج اور ان کی زیارت کی فضیلت اور اسی طرح سے امام حسین (ع) کے روضہ کی تخریب کے سلسلہ میں ظالم حکام کے ظلم و ستم کے سلسلہ میں ہے۔
  • کتاب کے خاتمہ میں: توابین اور مختار کے قیام کے اوپر روشنی ڈالی گئی ہے۔

منابع کتاب

نفس المہوم کی تالیف سے پہلے واقعہ کربلا کے نقل کرنے کے سلسلہ میں مقررین کے لئے مرجع و منبع کتب میں بحار الانوار کی دس جلدیں، ابن نمای حلی کی کتاب مثیر الاحزان، سید عبد اللہ شبر کی کتاب مہیج الاحزان، سید بن طاووس کی تالیف لہوف اور مقتل ابو مخنف وغیرہ کتابیں شامل تھیں۔ علی دوانی کی نظر میں ان میں سے کسی بھی کتاب سے واقعات کربلا کے سلسلہ میں تشفی نہیں ہوتی تھی اور ان میں کوئی بھی جامع و کافی نہیں تھی۔[4] اس لحاظ سے محدث قمی نے منبر کی تمام معتبر کتب سے جنہیں وہ اہنی زندگی میں معتبر و صحیح مانتے تھے، اس کتاب کی تدوین کی۔[5]

شیخ عباس قمی نے اس کتاب کی تالیف میں مندرجہ ذیل کتب منبر سے استفادہ کیا ہے:

  • تاریخ کامل، مولف ابن اثیر جرزی
  • تاریخ طبری، مولف محمد بن جریر طبری
  • مقاتل الطالبین، مولف ابوالفرج اصفهانی
  • مروج الذهب و معادن الجوهر، مولف علی بن حسین مسعودی
  • تذکرة الخواص، مولف سبط بن جوزی
  • مطالب السئول فی مناقب آل الرسول، مولف محمد بن طلحه شافعی
  • الفصول المهمه فی معرفه الائمه، مولف ابن صباغ مالکی
  • کشف الغُمَّه، مولف علی بن عیسی اربلی
  • العِقد الفَرید، مولف احمد بن محمد قرطبی مالکی
  • روضة الواعظین، مولف فتال نیشابوری
  • مُثیر الاحزان، مولف ابن نمای حلی
  • روضة الصفا، مولف خاوند شاه
  • تسلیة المجالس، مولف محمد بن ابی طالب موسی حسینی[6]

کتاب کے حقوق کی حفاظت کی درخواست

شیخ عباس قمی نے اس کتاب میں قارئین سے درخواست کی ہے کہ اگر وہ اس کے مطالب کو کہیں نقل کریں تو اس کے ساتھ کتاب اور مولف کا نام بھی ذکر کریں۔ اسی طرح سے انہوں نے ادبی سرقت کے برے ہونے پر تاکید کرتے ہوئے اسے اموال کی چوری سے بدتر کہا ہے۔

اس کتاب کے ترجمے

نفس المہموم اردو ترجمہ
  • نفس المہموم کا پہلا فارسی ترجمہ میرزا ابو الحسن شعرانی نے دمع السجوم کے نام سے کیا۔ انہوں نے 1396 ق میں اس کی تصحیح کا کام شروع کیا اور اس کے ایک سال بعد اس کا ترجمہ کیا۔ بعض لوگوں کا ماننا ہے کہ اس ترجمہ کا نقص یہ ہے کہ انہوں ںے ترجمہ کے ساتھ ساتھ بہت سی توضیحات اور اضافات کا اس میں اضافہ کر دیا ہے اور کتاب کے متن کو اضافات سے جدا نہیں کیا ہے۔
  • محمد باقر کمرہ ای نے 1339 ش میں اس کا فارسی ترجمہ رموز الشہادۃ کے عنوان سے کیا ہے۔[7] انہوں ںے اس ترجمہ کے ساتھ شیخ عباس قمی کی کتاب نفثۃ المصدور کا بھی اس میں اضافہ کر دیا ہے کیونکہ وہ اسے نفس المہموم کا تکملہ سمجھتے ہیں۔[8] اس ترجمہ کی خصوصیت یہ ہے کہ انہوں ںے اس میں موجود عربی اشعار کا ترجمہ کرنے کے بجائے اس کے آخر میں محمد حسین اصفہانی اور اختر طوسی کے اشعار کو پیش کیا ہے۔[9] علی دوانی نے اس ترجمہ کی تعریف کی ہے۔[10]
  • اس کا ایک ترجمہ بر امام حسین (ع) چہ گزشت؟ کے نام سے ہوا ہے جسے جواد قیومی اصفہانی نے کیا ہے۔[11]
  • نفس المہموم کا اردو ترجمہ نفس المہموم کے نام سے ہی ہوا ہے جسے علامہ سید صفدر حسین نجفی نے انجام دیا ہے اور یہ کتاب ولی عصر ٹرسٹ جھنگ کی طرف سے شائع ہوئی ہے۔

خلاصہ و ترتیب

  • سید علی کاشفی خوانساری نے کتاب نفس المہموم کا گزیدہ نفس المہموم کے نام سے خلاصہ کرکے اسے مرتب کیا ہے۔[12]
  • یاسین حجازی نے ایک کتاب دمع السجوم کے مطابق جو میرزا شعرانی کا نفس المہموم کا فارسی ترجمہ ہے، کتاب آہ کے نام سے مرتب کی ہے جو ایک طرح کی تحقیق اور ترتیب پر مشتمل ہے۔[13] یہ کتاب پہلی بار 1387 ش میں طبع و نشر ہوئی ہے۔[14]

حوالہ جات

  1. قمی، نفس المهموم، المکتبة الحیدریة، ص۷.
  2. شیخ مفید، الأمالی، ۱۴۱۳ق، ص۳۳۸.
  3. میر شریفی، برگ‌های بی‌خزان، ۱۳۸۲ش، ص۱۸۵.
  4. دوانی، مفاخر اسلام، ۱۳۷۷ش، ج۱۱، ص۶۲۴.
  5. دوانی، مفاخر اسلام، ۱۳۷۷ش، ج۱۱، ص۶۲۴.
  6. قمی، نفس المهموم، المکتبة الحیدریة، ص۷-۱۱.
  7. کاشفی خوانساری، گزیده نفس المهموم، ۱۳۸۴ش، ص۴۱.
  8. کمره‌ای، رموز الشهاده، ۱۳۹۱ش، ص۱۲.
  9. کمره‌ای، رموز الشهادة، ۱۳۹۱ش، ص۱۶.
  10. دوانی، مفاخر اسلام، ۱۳۷۷ش، ج۱۱، ص۶۳۹.
  11. رجوع کریں: قمی، بر امام حسین چه گذشت؟: ترجمه نفس المهموم، تهران، دارالثقلین، ۱۳۸۷ش.
  12. رجوع کریں: کاشفی خوانساری، گزیده نفس المهموم عباس قمی، نشر حوا، ۱۳۸۸ش.
  13. رجوع کریں: حجازی، کتاب آه، ۱۳۸۸ش، ص۶-۱۲.
  14. حجازی، کتاب آه، ۱۳۸۸ش، ص۴.


منابع

  • حجازی، یاسین، کتاب آه، تهران، جام طهور، ۱۳۸۸ش
  • دوانی، علی، مفاخر اسلام، ج۱۱، انتشارات مرکز اسناد انقلاب اسلامی، ۱۳۷۷ش
  • شیخ مفید، محمد بن محمد، الأمالی، قم، کنگره شیخ مفید، ۱۴۱۳ق
  • قمی، شیخ عباس، بر امام حسین چه گذشت؟: ترجمه نفس المهموم، تهران، دار الثقلین، ۱۳۸۷ش
  • قمی، شیخ عباس، رموز الشهاده، ترجمه محمد باقر کمره‌ای، [تهران]، انتشارات کتابچی، ۱۳۹۱ش
  • قمی، شیخ عباس، نفس المهموم، قم، المکتبة الحیدری
  • کاشفی خونساری، سید علی، گزیده نفس المهموم، تهران، کانون پرورش فکری کودکان و نوجوانان، ۱۳۸۴ش
  • میر شریفی، سید علی، برگ‌ های بی‌ خزان، انتشارات دلیل ما، ۱۳۸۲ش