معالی السبطین فی احوال الحسن و الحسین (کتاب)

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
کتاب معالی السبطین

معالی السبطین کے نام سے معروف کتاب شیخ مہدی حائری مازندرانی نے لکھی ۔ کتاب کا مکمل نام " معالی السبطین فی أحوال الامامَین الحسن و الحسین ہے ۔اس کتاب کا اکثر حصہ واقعہ عاشورا اور کربلا سے مربوط ہے ۔واقعہ کربلا پر تحقیق کرنے والے محققین میں سے بعض کی رائے کے مطابق یہ کتاب چنداں اہمیت کی حامل نہیں ہے اور وہ اسے تحریف کے منابع سے شمار کرتے ہیں چونکہ اس کتاب میں جھوٹ پر مشتمل اور غیر مستند مطالب مذکور ہیں۔

مؤلف کا تعارف

صاحب کتاب کا نام شیخ محمد مہدی بن شیخ عبد الہادی ابو الحسن بن شاہ مازندرانی حائری ہے ۔ 1293 ق کو کربلا میں پیدا ہوئے اور 1384 کو وہیں فوت ہوئے ۔ایک علمی گھرانے سے تعلق تھا ان کا خاندان آل مازندرانی کے نام سے کربلا میں پہچانا جاتا ۔فقہ اور اصول اپنے والد کے پاس پڑھا ۔ پھر خطابت کے پیشے میں تخصص کیا ۔ عراق کے معروفترین خطباء میں سے شمار ہوتے تھے . [1] شجرۂ طوبیٰ اور الکوکب الدری نام کی کتابیں معالی السبطین سے پہلے لکھیں .[2]

کتاب

جیسا کہ نام سے واضح ہے کہ یہ کتاب حضرت امام حسن اور امام حسین علیہما السلام کے بارے میں لکھی گئی ہے ۔ یہ کتاب دو اجزا پر مشتمل ہے ۔ پہلا جزو حضرت امام حسن کے متعلق ہے کہ جس میں بارہ مجالس مذکور ہیں اور 39 صفحات پر مشتمل ہے ۔ بقیہ مکمل کتاب حضرت امام حسین ؑ ، عزادرای اور عاشورا کے بارے میں ہے ۔[3]

محققین کی رائے

سید محمد علی قاضی اس کتاب کے متعلق لکھتے ہیں :

معالی السبطین کے منقولات کسی بھی اعتبار سے قابل اعتبار نہیں ہیں مگر یہ کہ وہ اپنے مستندات کے ماخذ نقل کرے۔نیز یہ ایسی کتابوں میں سے نہیں ہے کہ اسے اصلی ماخذ قرار دیا جا سکے ۔ کتاب کے مؤلف سے آشنائی رکھتا ہوں اور اس خطو کتابت بھی رہی ہے ۔ اس کتاب میں صحیح اور نادرست باہم مخلوط ہیں لہذا کتاب کا مطالعہ کرنے والے کیلئے ضروری ہے وہ غیر معتبر سے معتبر کو دقت سے جدا کرے ۔[4]

تحریفی مقامات

  1. مدینہ سے امام حسین علیہ السلام اپنے خادموں ،زیورات اور عطریات وغیرہ کے ہمراہ شاہانہ خروج۔
  2. شب عاشور امام حسین علیہ السلام کے اصحاب کا پراگندہ ہونا۔
  3. روز عاشور امام حسین کا حضرت عباس کے پاس پناہ لینے کا افسانہ۔
  4. حضرت قاسم بن حسن کی شادی کا واقعہ ۔
  5. اسقونی شربة من الماءکے الفاظ سے امام کا پانی مانگنا۔
  6. امام سجاد علیہ السلام کا شہادتوں سے بے خبر ہونا اور امام کا فرمانا : میرے اور تیرے سوا کوئی مرد باقی نہیں ہے ۔
  7. حضرت علی اکبر کی شہادت کے موقع پر آپکی والدہ لیلا برہنہ سر اور پاؤں باہرآئیں اور فرمایا : ووالدہ۔
  8. شہید وہب بن عبد اللہ بن حباب کلبی کا اضافہ۔[5]

حوالہ جات

  1. امین عاملی، اعیان الشیعہ ج 2 ص 333۔
  2. ۔صحتی، عاشورا پژوہی، ص 82
  3. ۔صحتی، عاشورا پژوہی، ص 82
  4. قاضی طباطبائی، تحقیق دربارۂ اول اربعین سید الشہداء ص 206
  5. ۔صحتی، عاشورا پژوہی، ص 84