الذریعۃ الی تصانیف الشیعۃ (کتاب)

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
الذریعہ الی تصانیف الشیعہ(کتاب)
الذریعه.jpg
مؤلف: آقا بزرگ تہرانی متوفی ۱۳۸۹ ق
زبان: عربی
موضوع: کتابشناسی
تعداد مجلد: ۲۵ جلدیں
ناشر: دار الاضواء بیروت(لبنان)


الذَریعَة الی تَصانیف الشیعة (ترجمہ: تالیفات شیعہ کی شناخت کا دستاویز) الذریعہ کے نام سے مشہور، شیعہ مؤلفین کی تالیفات کی شناخت کے سلسلہ میں موجود اہم ترین کتاب ہے۔ اس معروف کتاب کے مؤلف آقا بزرگ تہرانی ہیں، یہ عربی زبان میں ہے اور اس کا شمار شیعہ کتاب شناسی کے سلسلہ میں بزرگ ترین دائرۃ المعارف (انسائکلو پیڈیا) میں ہوتا ہے۔[1] یہ ۲۵ جلدوں پر مشتمل ہے اور حروف تہجی کی ترتیب کے مطابق تدوین کی گئی ہے۔ اس کے مجموعی صٖفحات کی تعداد ۱۱۲۳۹ ہے اور اس میں شیعہ علماء کی مختلف موضوعات پر مشتمل ۵۳۵۱۰ کتابوں (تصنیف، تالیف اور ترجمہ) کا تعارف پیش کیا گیا ہے۔

آقا بزرگ تہرانی نے اس مجموعہ کی جمع آوری کے سلسلہ میں شیعوں کی اولین فہرست نگاری کے منابع جیسے فہرست شیخ طوسی، فہرست نجاشی و فہرست العلماء سے استفادہ کیا ہے۔ انہوں نے ان منابع کے علاوہ مختلف کتب خانوں کی فہرست سے بھی استفادہ کیا ہے اور بعض اوقات مطبوعہ و خطی منابع سے جس کا انہوں نے خود مشاہدہ و مطالعہ کیا تھا اور اسی طرح سے ان چیزوں کی طرف جو انہوں نے مورد اعتبار اشخاص سے سنی تھیں، استناد کیا ہے۔

قم اور نجف سے اس کی طباعت اور نشر و اشاعت میں چالیس سال سے زیادہ عرصہ لگا اور اس کی کچھ جلدیں مؤلف کے انتقال کے بعد طبع ہوئی۔ اس مجموعہ کی نشر و اشاعت کے بعد اس میں ایک جلد کا اضافہ کیا گیا جسے اس کتاب کے پہلے مستدرک کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ اس جلد میں بعض وہ آثار جو الذریعہ میں نہیں ہیں، ان کو تدوین کیا گیا ہے۔

الذریعہ، کتاب شناسی کے انسائکلو پیڈیا اور دائرۃ المعارف سے بڑھ کر ہے اور آقا بزرگ نے اس میں میراث مکتوب شیعہ کی جمع آوری کے علاوہ اس کتاب میں تحقیقی مقالات بھی تحریر کئے ہیں۔

مؤلف کتاب

اصلی مقالہ: آقا بزرگ تہرانی

محمد محسن بن علی معروف بہ آقا بزرگ (1293۔1389 ق/ 1876۔1970 ع) شیعہ امامیہ فقیہ، کتاب شناس و ماہر کتابیات ہیں۔ ان کی کتابوں میں سے متعدد تالیفات ہم تک پہچی ہیں ان میں بزرگ دائرۃ المعارف الذریعہ سب سے اہم کتاب الذریعہ ہے جس میں شیعہ کتب اور آثار اور بزرگان شیعہ کے طبقات کا تعارف پیش کیا گیا ہے اور اس انسائکلو پیڈیا میں چوتھی صدی ہجری سے لیکر چودہویں صدی ہجری تک کے علماء و رجال شیعہ کی سوانح حیات، ان کے آثار کا ذکر کیا گیا ہے۔

طویل بیماری کے بعد نجف میں ان کی وفات ہوئی اور ان کی وصیت کے مطابق انہیں ان کے تکب خانہ میں جسے انہوں نے علماء و طلاب کے استفادہ کے لئے وقف کر دیا تھا، دفن کیا گیا۔

تالیف کا مقصد

آقا بزرگ کے بڑے بیٹے علی نقی منزوی کے مطابق جس وقت جرجی زیدان نے تاریخ آداب اللغۃ العربیۃ نامی کتاب میں لکھا کہ اسلام کی ابتدائی صدیوں میں شیعوں کے درمیان نامدار فقہاء میں سے کوئی قابل ذکر شخصیت نظر نہیں آتی ہے تو اس وقت تین حضرات سید حسن صدر، محمد حسین کاشف الغطاء اور آقا بزرگ تہرانی نے فیصلہ کیا کہ اس کا شایان شان جواب دیا جائے۔

اسی طرح سے مؤلف نے کتاب الذریعہ کی اولین طبع کے مقدمہ میں ذکر کیا ہے کہ چند چیزوں نے انہیں اس کتاب کی تالیف کی طرف کھینچا ہے: ان میں شیعہ علماء کی تالیفات سے ان کی دیرینہ انسیت، اس بات کی طرف توجہ کہ ان میں فقط بعض کتابیں مشہور اور متداول تھیں اور زیادہ تر فراموشی اور نابودی کی نذر ہو چکی تھیں، مسلمانوں کی متاخر مھم ترین کتاب شناسی (کشف الظنون، تالیف حاجی خلیفہ) میں موجود نواقص اور اغلاط کو مد نظر رکھتے ہوئے، خاص طور پر علمائے شیعہ کی تالیفات کے سلسلہ میں، بعض بزرگان جیسے سید حسن صدر کی درخواست اور تشویق کرنا، شامل ہیں۔[2]

کتاب کی نام گزاری

آقا بزرگ تہرانی اپنی کتاب کے سلسلہ میں تحریر کرتے ہیں: اجزاء کتاب کی ترتیب کے مکمل ہونے کے بعد میں نے اسے سید حسن صدر کو دکھایا۔ انہوں نے اس کتاب کی تعریف و تحسین کے ضمن میں اس کا نام الذریعہ الی معرفۃ مصنفات الشیعہ رکھا۔[3]

شیخ میرزا محمد تہرانی عسکری (1281۔1371 ق) نے اس کا نام کشف الحجاب عن تصانیف الاصحاب رکھا ہے۔ آقا بزرگ اس بارے میں کہتے ہیں: میں نے حسن اتفاق کے طور پر اس کتاب کو اس کی تدوین و تالیف کی ابتدائی تاریخ سے حساب کیا تو یہ نام اس کے تاریخی نام کے طور پر سامنے آیا۔[4]

مطالب اور ہیئت

الذریعہ، شیعہ (امامیہ و غیر امامیہ) تالیفات کے سلسلہ میں ایک عظیم کتاب شناسی کا منبع ہے۔ اسی طرح سے ان بعض کتابوں کے لئے بھی جو شیعوں کے بارے میں اہل سنت مؤلفین کی تصنیفات ہیں۔ جس میں ۵۵۰۰۰ ہزار سے زائد تالیفات، تصنیفات اور مختلف موضوعات کی فارسی، عربی، ترکی، اردو اور گجراتی میں کئے گئے ترجمے پر مشتمل کتابیں شامل ہیں۔[5]

اس کتاب کی ترتیب حروف تہجی کے اعتبار سے کی گئی ہے اور اس میں پہلی صدی ہجری سے چودہویں صدی ہجری (۱۳۷۰) تک کی جمع آوری کی گئی ہے۔[6] اس کتاب کی جلدیں خطی نسخے میں ۶ جلدوں پر مشتمل ہیں، جبکہ اس کی طبع اور شائع شدہ جلدیں ۳۰ ہیں۔ جس میں سے آخر کی ۵ جلدیں مستدرکات الذریعہ کے طور پر شمار ہوتی ہیں۔

مہم ترین مطالب

الذریعہ مجموعی طور پر ۱۱۲۳۹ صفحات پر مشتمل ہے اور اس میں تالیفات شیعہ میں سے ۵۳۵۱۰ کتابوں کا تعارف اور ان کے سلسلہ میں تحقیق پیش کی گئی ہے۔[7] اس کے مجلدات کے بعض مہم ترین مطالب کا خلاصہ یہاں پر ذکر کیا جا رہا ہے:

  • پہلی جلد میں مؤلف، محمد علی اردوبادی اور شیخ محمد حسین کاشف الغطاء کے تین مقدموں کے علاوہ سید حسن صدر کی تقریظ بھی شامل ہے۔ اس جلد میں شیعہ علماء کے اجازات میں سے ۸۰۰ اجازوں کا ذکر کیا گیا ہے جن میں سے سب سے اہم استاد اور علماء شیعہ کے طبقات کی کڑیوں کا نقشہ ہے۔
  • دوسری جلد میں شیعوں کے چار سو گانہ اصول پیش کئے گئے ہیں۔
  • چوتھی جلد میں ایران میں تقویم نویسی (جنتری) کی تاریخ اور تفسیری کی کتابوں کی فہرست ذکر ہوئی ہے۔
  • پانچویں جلد میں شیعہ علم کلام کی بہت سی کتب جو جواب یا جوابات کے عنوان سے لکھی گئی ہیں، کو شامل کیا گیا ہے۔
  • چھٹی جلد میں کتب حدیثی کے ۷۶۳ عناوین کا ذکر ہوا ہے جن کا شمار شیعہ حقوق کے اصلی منابع میں ہوتا ہے۔ چھٹی، ساتویں اور آٹھویں جلدوں کے آخر میں مؤلف کتاب کے مورد استفادہ کتب خانوں میں سے بعض کی فہرست دی گئی ہے۔
  • ساتویں جلد میں خمسہ و خطبہ کے بعض بخش تاریخی حیثیت رکھتے ہیں۔
  • آٹھویں جلد کے مفید حصوں میں سے ایک حصہ کو دائرۃ المعارف نویسی (انسائکلو پیڈیا نویسی) کی تاریخ اور دوسرے حصہ کو داستان پردازی کی تاریخ اور مزید ایک بخش دعا نویسی اور ڈائری نویسی کی طرف بھی اشارہ کیا جا سکتا ہے۔
  • نویں جلد شعر اور شعراء شیعہ سے مخصوص ہے اور اس کی ترتیب شعراء کے تخلص کے پہلے لفط کے مطابق ہے۔ اس میں ۸۵۰۰ شیعہ شعراء کا ذکر کیا گیا ہے اور شعراء کی نسبت و انساب کے تحت ان کی فہرست تنظیم کی گئی ہے۔ اس فہرست میں ان کے شہروں، کاموں اور خاندان کے اعتبار سے دستہ بندی کی گئی ہے۔ ایک دوسری فہرست میں شعراء کے تمام آثار کو حروف تہجی کی ترتیب کے لحاظ سے جمع کیا گیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ نویں جلد میں اصطلاحات اور رموز کو کشف کرنے والا جدول پہلے ایڈیشن میں شائع نہیں ہوا تھا لیکن دوسرے ایڈیشن میں اسے شائع کیا گیا ہے حالانکہ اسے بیروت سے طبع ہونے والے تیسرے ایڈیشن میں پھر حذف کر دیا گیا ہے۔
  • اس کی دسویں جلد میں شیعہ علم کلام کی تالیفات کو رد اور جواب کے عنوان سے اور بہت سی رجال کی کتب کا تذکرہ کیا گیا ہے۔
  • گیارہویں جلد میں بہت سے بے نام کتابچوں کا ذکر رسالہ کے عنوان سے کیا گیا ہے۔
  • شیعہ علم نجوم کی تاریخ کو زیج کے عنوان اور ساقی نامہ کو شیعہ صفویہ دور میں ترقی پسند ادبیات کی تاریخ کے عنوان سے بارہویں جلد کے مفید بخش کے طور پر ذکر نقل کیا گیا ہے۔
  • تیرہویں جلد میں کچھ غلطیاں پیش آئیں ہیں اور اس کے فقط نجف سے شائع شدہ ۱۰۰ نسخے مکمل ہیں۔
  • مصحح نے پندرہویں جلد کے آخر میں اس جلد میں ذکر ہونے والے مؤلفین کے اسماء کی فہرست کا اضافہ کیا ہے۔
  • سولہویں جلد مؤلف کے بیٹے احمد منزوی کی تصحیح کے ساتھ شائع ہوئی ہے۔ مصحح نے اس جلد میں ذکر ہونے والے مؤلفین کے نام کی فہرست کا اس میں اضافہ کیا ہے۔
  • انیسویں جلد میں مثنوی کے عنوان سے تقریبا ۱۱۵۰ مثنوی کا ذکر ہوا ہے۔
  • بیسویں جلد کے شروع میں ۱۲ صفحوں میں آقا بزرگ تہرانی کی سوانح عمری کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے۔
  • چوبیسویں جلد میں نجوم کے عنوان میں اس علم کی تاریخ اور مسلمانوں کے لئے عربی زبان میں اس کے ترجمہ کے سلسلہ میں پیشگام ایرانیوں کا ذکر ہوا ہے اور نوادر کے عنوان میں صدر اسلام کی ابتدائی تین صدیوں میں تالیف ہونے والے چھوٹے کتابچوں کا ذکر کیا گیا ہے جو 400 اصل کے نام سے معروف ہیں جن کا تذکرہ اس کتاب کی دوسری جلد میں بھی آیا ہے۔
  • پچیسویں جلد کے آخر میں اس کتاب کی 25 جلدوں کی اشاعت کی تاریخ، اس جلد میں ذکر ہونے والی کتابوں کے مؤلفین کے اسماء کی فہرست اور اس کی 25 جلدوں میں ذکر ہونے والے اغلاط اور اس میں ذکر ہونے والے مفید حوالوں کا تذکرہ کیا گیا ہے جو 143 سفحات پر مشتمل ہے۔
  • چھبیسویں جلد کو اس کتاب کے اولین مستدرک کے عنوان سے ذکر کیا جا سکتا ہے۔ اس جلد میں مؤلف کتاب کے مستدرکات کو سید احمد حسینی کے قلم سے استان قدس رضوی کے ادارہ نشر و اشاعت نے 1405 ق میں طبع کیا ہے۔

الذریعہ کی اشاعت کا ماجرا

آقا بزرگ تہرانی 1354 ق تک سامرا میں مقیم تھے اور اسی زمانہ میں انہوں نے اسے اشاعت کے لئے مکمل کیا اور طباعت کا ارادہ کیا تھا کہ سامرا والوں کا شیعہ و ایرانی مخالف تعصب پر مبنی واقعہ پیش آیا اور شیخ ہادی تہرانی کے قتل سے مؤلف کو یہ اندازہ ہوا کہ وہ یہاں اس کتاب کی اشاعت نہیں کر سکتے ہیں۔ لہذا انہوں نے اپنی رہائش کو سامرا سے نجف منتقل کر لیا۔

آقا بزرگ نے نجف میں اسے اپنے تاجر عمو حاج حبیب اللہ محسنی کی مالی مدد سے مطبعۃ السادۃ کے نام سے ایک چاپ خانہ قائم کیا تا کہ وہ اپنی کتابوں کیا اشاعت کر سکیں لیکن عراق کی شاہی حکومت نے اس بہانے سے کہ وہ ایرانی ہیں، کتاب کی اشاعت پر پابندی عائد کی۔ یہاں تک کہ بیحد مشقت کے بعد ان کے چاپ خانہ کو ایک عراقی کے زیر نظر قرار دیا گیا اور پھر شاہی حکومت نے ایک دوسرے بہانے سے چاپ خانہ کو بند کر دیا۔

آقا برزگ نے مجبور ہو کر چاپ خانہ کو فروخت کر دیا تا کہ وہ اپنی کتابوں کو کسی دوسرے چاپ خانے سے چھپوا سکیں۔ پہلی جلد طبع ہونے کے بعد عراق کی شاہی حکومت کے وزارت ثقافت نے چھ ماہ تک اس کی نشر پر پابندی عائد کی اور ان کا سب سے بڑا بہانہ یہ تھا کہ اس کے مؤلف کا نام فارسی ہے۔[8]

عراق میں موجود ڈھیروں مشکلات کے پیش نظر الذریعہ کی اشاعت کا کام ناگزیر ہو کر ان کے بیٹے علی نقی منزوی کی مدد سے تہران منتقل کرنا پڑا۔ اس کے بعد سے الذریعہ کی اکثر جلدیں تہران کے چاپ خانے سے اور بعض ان کے شاگردوں اور بیٹوں کے اہتمام کے سبب نجف سے طبع ہوئیں اور ابھی بیسویں جلد کی اشاعت نہیں ہوئی تھی کہ آقا بزرگ کی رحلت ہو جاتی ہے۔[9] اس کی مجموعی جلدوں کی طبع اور اشاعت میں چالیس سال کا وقت لگا۔ اس کی تمام جلدوں کی پہلی طباعت کے بعد ایرانی و لبنانی ناشرین نے اسے بارہا طبع و شائع کیا۔

الذریعہ کے مستدرکات

عبد العزیز طباطبایی نے آقا بزرگ کے انتقال کے بعد الذریعہ کے لئے ایک مستدرک مرتب کیا اور اس میں انہوں نے اس کی غلطیوں کا ذکر کیا۔ اسی طرح سے انہوں نے ان عناوین کا اس میں اضافہ کیا جن سے مؤلف نے غفلت کی تھی۔ البتہ بعض دوسرے افراد جیسے عبد الحسین حایری و محمد علی روضاتی اصفہانی نے الذریعہ کے حاشیہ پر مستدرک تحریر کیں مگر وہ طبع نہیں ہو سکیں۔

محمد طباطبایی بہبہانی نے عبد الحسین حایری کے کاموں سے آشنائی حاصل کرنے کے بعد جو انہوں نے الذریعہ میں عدم موجود عناوین کے ضبط اور توضیح کے سلسلہ میں کیا تھا، جب بھی انہیں تالیفات شیعہ کے سلسلہ میں کوئی جدید عنوان حاصل ہوتا وہ اسے اس کے حاشیہ پر مختصر وضاحت کے ساتھ لکھ لیتے یہاں تک کہ ان کے عناوین کی تعداد عبد الحسین حایری کے عناوین کے ساتھ مل کر ۵۰۰ تک پہچ گئی۔ یہ عناوین اسلامی پارلیامینٹ کے کتب خانہ کے رئیس شہاب الدین محمد علی احمدی ابہری کی حمایت اور تشویق سے الشریعہ الی استدراک الذریعہ کے عنوان کے ساتھ شائع ہوئی۔[10]

کتاب پر تنقید

الذریعہ اپنی اہمیت کے باوجود کہ یہ کتاب ایسے زمانہ میں تالیف کی گئی جب کتاب تحریر کرنا اور منابع تک دسترسی حاصل کرنا آسانی سے ممکن نہیں تھا، بعض کتب کی اطلاعات کے ثبت کے سلسلہ میں اس میں کمی و کاستی پائی جاتی ہے۔ جن میں کتاب کے نام میں اختصار یا تغییر کرنا،[11] مؤلفین کے سواںحی احوال کا دقیق نہ ہونا۔[12] اور کتاب کے موضوع کا بیان نہ کرنا شامل ہیں۔[13] بعض موارد میں کتابوں کے سلسلہ میں حق مطلب ادا نہیں ہو سکا ہے۔[14] ان میں سے بعض خامیاں مؤلف کی طرف سے تھیں؛ البتہ بعض محققین کا ماننا ہے کہ ان میں سے بعض خامیوں کی بازگشت ان کے بیٹے کی طرف ہوتی ہیں جن کے ہاتھ میں الذریعہ کی طباعت کی ذمہ داری تھی۔[15]

الذریعہ کے منابع

آقا بزرگ تہرانی نے کتاب الذریعہ کی تالیف میں اس زمانہ میں دسترس میں موجود تمام فہرست نامی شیعہ کتب سے استفادہ کیا، جن میں سے بعض درج ذیل ہیں:

۱۔ فہرست شیخ طوسی

۲۔ فہرست ابو العباس نجاشی

۳۔ فہرست العلماء مؤلف ابن شہر آشوب مازندرانی سروی

۴۔ امل الآمل مؤلف شیخ حر عاملی

۵۔ خاتمہ مستدرک الوسائل مؤلف شیخ میرزا حسین نوری

انہوں نے فہرست نامی ان منابع کے علاوہ مخلتف کتب خانوں اور مطبوعہ و غیر مطبوعہ کتب کے مطالعہ اور مشاہدہ سے اس میں استفادہ کیا ہے اور بعض اوقات انہوں نے جو کچھ معتبر افراد سے سماع کیا تھا ان سے استناد کیا ہے۔

بہر کیف مؤلف نے جن منابع سے اس میں استفادہ کیا ہے ان میں شخصی و عمومی کتب خانے، کتب رجال کی چھان بین، تاریخ و سیر کی کتب، کتب خانوں کی فہرست اور اہل فضل و دانش کی دست نویس فہرستیں شامل ہیں۔

تفاسیر، حاشیے اور نوٹس

  • تبویب الذریعہ الی تصانیف الشیعہ؛ احمد دیباجی اصفہانی، تہران، مکتبہ الاسلامیہ، ۱۳۵۲ ش۔ اس کتاب کو مؤلف کے نوادگان میں سے ایک نے تحریر کیا ہے۔ انہوں نے اس میں موجود کتب کی موضوعی تقسیم بندی کی ہے اور انہیں اخلاقیات، ادبیات، ادعیہ، اصول دین و ۔۔۔ جیسے موضوعات میں تقسیم کیا ہے۔
  • فہرس اعلام الذریعہ الی تصانیف الشیعہ: اس کتاب کو ان کے بیٹے علی نقی منزوی کے زیر نظر ان کے بعض بیٹوں، اعزا اور شاگردوں نے تالیف کیا ہے، ۳ج، تہران، دانشگاه تہران، موسسہ­ انتشارات و چاپ ۱۳۷۷ ش.
  • معجم المؤلفی الشیعہ؛ علی فاضل قائینی نجفی، تہران، من منشورات مطبعہ وزارة الارشاد الاسلامی، الطبعہ الاولی، ۱۴۰۵ ق
  • الشریعہ الی استدراک الذریعہ؛ سید محمد طباطبایی بہبہانی (منصور)، الجزء الاول، تہران، کتابخانہ، موزه و مرکز اسناد مجلس شورای اسلامی. الطبعہ الاولی، ۱۳۸۳ ش/۱۴۲۵ق/۲۰۰۴ ع

الذریعہ کی تصحیح کا پلان

سن ۱۳۸۵ ش میں موسسہ کتاب شناسی شیعہ نامی ادارہ حوزہ علمیہ قم میں کتاب الذریعہ کے مقصد کو آگے بڑھانے کے لئے تاسیس کیا گیا۔ اس ادارہ نے اس سلسلہ میں دو مستقل کام دانش نامہ آزاد شیعہ (فارسی)[16] اور تاریخ التراث الشیعی (عربی) کے نام سے شروع کیا ہے اور اس کے علاوہ اس نے کتاب الذریعہ کی تصحیح و تکمیل کے سلسلہ کا آغاز کیا ہے۔ جس میں الذریعہ کی مکمل نظر ثانی مؤلف کے دست نویس نسخہ کے مطابق، اس میں مذکورہ کتب کے بارے میں ہر طرح کی جدید اطلاعات کا اضافہ کرنا اور ان تمام تالیفات کی تصحیح و تکمیل جو الذریعہ کے سلسلہ میں تصنیف ہوئیں ہیں، شامل ہے۔[17]

حوالہ جات

  1. موسوی بجنوردی: دایره المعارف بزرگ اسلامی، ج۱، ص۴۵۵.
  2. دانشنامہ جہان اسلام، مدخل «الذریعہ الی تصانیف الشیعہ».
  3. زندگی و آثار شیخ آقا بزرگ تہرانی، ص۹۸، به نقل از الذریعہ، ج۱، ص۴.
  4. زندگی و آثار شیخ آقا بزرگ تہرانی، ص۹۸.
  5. کتاب شناسی گزیده توصیفی تاریخ و تمدن ملل اسلامی، ۱۳۸۲، ص۱۶۵
  6. آقا بزرگ، الذریعہ، ج۸، ۲۹۶.
  7. الذریعہ الی تصانیف الشیعہ، ہمہ­ مجلدات، ر ک بہ: دایره المعارف تشیع، ج۸، ۱۳۷۹ ش، صص۲۱-۲۴ همان، ص۲۵۲-۲۵۳، ہمو: آینده، شماره‌ ہای ۷و۸، ۱۳۵۹ش، ص۵۸۸-۵۹۲.
  8. الذریعہ و آقا بزرگ تہرانی، شماره‌ہای ۳و۴، ص۲۵۰.
  9. مصنفات شیعہ، ص۸-۹ از مقدمہ کتاب.
  10. الشریعه الی استدراک الذریعه، ۱۳۸۳، ص۱۳-۱۶ از مقدمه.
  11. برای نمونہ استنباط الاحکام فی عصر غیبة الامام، در الذریعہ، ج۲، ص۳۴، قس: ج۱۵، ص۱۳۴، ج۱۸، ص ۱۹۱؛ کشف الاستار عن وجه الکتب و الاسفار، در الذریعہ، ج۱۸، ص ۱۱، قس ج۱۸، ص۲۷.
  12. برای نمونہ شرح الفصوص از شیخ محمد تقی استرآبادی در الذریعہ، ج۱۳، ص۳۸۱، قس ج۱۴، ص ۱۰۷؛ ذیل الشرح النصوص تفسیر آقا فتح علی زنجانی، در ج۴، ص۲۹۷، قس ج۹، ص۸۰۷
  13. برای نمونہ، کتاب البیان در الذریعہ، ج۳، ص ۱۷۱، ثابت نامہ در الذریعہ ج۵، ص ۳؛ زبان دل در الذریعہ ج۱۲، ص۱۵؛ المقامع القامعہ در الذریعہ ج۲۲، ص۱۴
  14. برای نمونہ آداب ناصری در الذریعہ، ج۱، ص۳۱؛ تاریخ ادوار فقہ در الذریعہ، ج۳، ص۲۳۱
  15. محمد رضا، حسینی جلالی، ج۲، ۲۹۶-۳۱۸؛ برای تفصیل نقدہایی که بر الذریعہ وارد شده، مختاری، ۱۳۹۰ش، ص۲۸۶-۳۱۴
  16. صفری، ص۱۶۱-۱۷۲
  17. برای تفصیل، مختاری، ۱۳۸۹ش، ص۳۹۶-۳۹۸


منابع

  • تفضلی، آذر و مہین فضائلی جوان، فرہنگ بزرگ اسلام و ایران از قرن اول تا چہاردہم ہجری، مشہد، بنیاد پژوہش‌ های اسلامی، آستان قدس رضوی، چاپ اول، ۱۳۷۲ ش
  • حاج سید جوادی، احمد صدر و دیگران، دایره المعارف تشیع، ج۸، تہران، نشر شہید سعید محبی، چاپ اول، ۱۳۷۹ ش
  • حسینی جلالی، محمد حسین، فہرست تراث اہل بیت علیهم السلام، برگردان و تحقیق و نگارش: س.م.م. مرکز چاپ و نشر بنیاد بعثت، تہران، چاپ اول، ۱۳۸۰ ش
  • حسینی جلالی، زندگی و آثار شیخ آقا بزرگ تہرانی، برگردان سید محمد علی احمدی ابہری، تہران، کتاب خانہ، موزه و مرکز اسناد مجلس شورای اسلامی، ۱۳۸۲ ش
  • حکیمی، محمد رضا، شیخ آقا بزرگ تہرانی، تہران، دفتر نشر اسلامی، بی‌ تا
  • روغنی، شہره، کتاب شناسی گزیده توصیفی تاریخ و تمدن ملل اسلامی، تہران، سازمان مطالعہ و تدوین کتب علوم انسانی دانشگاه‌ہا (سمت)، چاپ اول، ۱۳۸۲ ش
  • شعبانی، احمد، مرجع شناسی اسلامی، تہران، دبیرخانہ ہیأت امنای کتاب خانہ ہای عمومی کشور، چاپ دوم، ۱۳۸۲ ش
  • طباطبایی البہبہانی، محمد (منصور)، الشریعہ الی استدراک الذریعہ، الجزء الاول، تہران، کتاب خانہ، موزه و مرکز اسناد مجلس شورای اسلامی، الطبعه الاولی، ۱۳۸۳ش/۱۴۲۵ق/۲۰۰۴ ع
  • صفری، علی اکبر، «دانشن امہ آثار شیعہ، تداوم حیات الذریعہ» در زندگی نامہ و خدمات علمی و فرہنگی مرحوم آیت الله شیخ آقا بزرگ تہرانی، تہران، انجمن آثار و مفاخر فرہنگی، ۱۳۸۷ ش
  • طہرانی، آقا بزرگ: الذریعہ الی تصانیف الشیع، همہ مجلدات
  • فکرت محمد آصف، مصنفات شیعہ؛ برگردان و تلخیص الذریعہ الی تصانیف الشیعہ تألیف شیخ آقا بزرگ تہرانی؛ ج۱، مشهد، بنیاد پژوہش‌های اسلامی آستان قدس رضوی، چاپ اول، ۱۳۷۲ ش
  • محمد علی، عبد الرحیم، شیخ الباحثین أغا بزرگ الطہرانی حیاتہ و آثاره، الطبعہ الاولی، مطبعہ النعمان، النجف الاشرف، ۱۹۷۰ع/۱۳۹۰ ه‍. ق
  • مختاری، رضا، ستیغ پژوهش در پژوہش ستیغ، در شیخ آقا بزرگ طہرانی، نامهہ ها، مقالات و آثاری از شیخ آقا بزرگ، و مباحث و مطالبی درباره وی، بہ کوشش علی اکبر صفری، قم، موسسہ کتابشناسی شیعہ، ۱۳۹۰ ش
  • مدرس، محمد علی، ریحانہ الادب فی تراجم المعروفین بالکنیہ او اللقب یا کنی و القاب، ج۱، تبریز، چاپخانہ شفق، چاپ سوم، بی‌ تا
  • مرسلوند، حسن، زندگی نامہ رجال و مشاہیر ایران، ج۲، تہران، الهام، ۱۳۶۹ ش
  • مشار، خان بابا، فہرست کتاب‌ ہای چاپی عربی ایران؛ از آغاز چاپ تا کنون، سایر کشورہا؛ بیشتر از سال ۱۳۴۰ ه‍. بہ بعد، تہران، بی‌ تا، ۱۳۴۴ ش
  • منزوی، علی نقی، الذریعہ و آقا بزرگ تہرانی، آینده، سال ششم، شماره‌های ۳و۴ (خرداد و تیر)، ۱۳۵۹ ش
  • منزوی، علی نقی، "الذریعہ و آقا بزرگ تہرانی"، آینده، سال ششم، شماره‌های ۷ و۸ (مہر و آبان)، ۱۳۵۹ ش
  • منزوی، علی نقی، فہرس اعلام الذریعہ الی تصانیف الشیعہ/ الفہ جمع اولادالموُلف واصہاره و احفاده، ۳ج، تہران، دانشگاه تہران، موسسہ انتشارات و چاپ، ۱۳۷۷ ش
  • موسوی، کاظم بجنوردی، دایره المعارف بزرگ اسلامی، ج۱، تہران، مرکز دایرة المعارف بزرگ اسلامی، چاپ دوم، ۱۳۷۴ ش