دعائے عرفۂ امام حسین (ع)

ويکی شيعه سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش
دعا و مناجات
مسجد جامع خرمشهر.jpg


دعائے عرفہ امام حسین(ع) ایک ایسی دعا ہے جسے شیعوں کے تیسرے امام، امام حسین(ع) کی طرف منسوب کیا جاتا ہے جسے امام(ع) نے میدان عرفات میں بیان فرمایا ہے۔ اہل تشیع نیز اپنے امام کی پیروی کرتے ہوئے حج کی موقع پر عرفہ کے دن میدان عرفات اور دنیا کے گوشہ و کنار میں مساجد اور امام بارگاہوں اور دیگر مقدس مقامات پر گروہی شکل میں پڑھتے ہیں۔ دعائے عرفہ عرفانی اور عقیدتی تعلیمات پر مشتمل ہے۔ شیعہ علماء اور محدثین نے اس دعا کے باعضمت اور عالی مضامین کو مد نظر رکھتے ہوئے اسے خود امام حسین(ع) کی طرف منسوب کرتے ہیں اور صرف آخری حصے کو امام کی طرف نسبت دینے کے حوالے سے شکل و تردید کا اظہار کرتے ہیں اور اس حصے کو بعض صوفی مشایخ کی طرف نسبت دیتے ہیں۔ اہل تشیع کے ہاں اس دعا کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کی مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوا ہے۔

معرفی

دعائے عرفہ امام حسین(ع) شیعوں کے ہاں بہت اہمیت کا حامل ہے جسے وہ اپنے امام کی پروری کرتے ہوئے عرفہ کے دن (9ذولحجۃ) و در میدان عرفات اور دیگر شہروں میں مساجد، امام بارگاہوں اور دیگر مقامات پر پڑھتے ہیں۔ یہ دعا بلند و بالا عرفانی اور عقیدتی مضامین پر مشتمل ہے اور کہا جاتا ہے کہ امام حسین(ع) نے اپنے اہل خانہ کے بعض افراد کے ساتھ میدان عرفات میں اپنے خیمے سے باہر اس دعا کو خدا کی بارگاہ میں ارشاد فرمایا ہے۔غالب اسدی کے دو فرزند بشر و بشیر نقل کرتے ہیں کہ: عرفہ کے دن غروب کے قریب میدان عرفات میں امام حسین(ع) کی خدمت اقدس میں تھے کہ آپ اپنے اہل خانہ اور بعض اپنے اصحاب کے ساتھ خیمے سے باہر تشریف لے گئے اور انتہائی خضوع اور خشوع کی حالت میں پہاڑ کے بائیں طرف خانہ کعبہ کی طرف منہ کرکے اپنے ہاتھوں کو چہرہ مبارک کے برابر بلند کرکے اس دعا کو ارشاد فرمایا۔[1] کفعمی کی روایت کے مطابق دعائے عرفہ ان جملات کے ساتھ اختتام پذیر ہوتا ہے:

لا اله الا انت وحدک لا شریک لک لک الملک و لک الحمد و انت علی کل شیء قدیر. یا رب، یارب یا رب

لیکن کتاب اقبال الاعمال میں سید بن طاؤس کے مطابق دعائے عرفہ مذکورہ جملات کے بعد ان جملات کے ساتھ ادامہ دیتا ہے:

الهی انا الفقیر فی غنای فکیف لا اکون فقیرا فی فقری اور آخر میں یوں ختم ہوتا ہے: و انت الرقیب الحاضر انک علی کل شیء قدیر و الحمدلله وحده۔

ایران، عراق،افغانستان اور پاکستان سمیت دیگر اسلامی ممالک میں اس دعا کو گروہی شکل میں پڑھتے ہیں جس میں شرکت کرنے والوں کی تعداد بطور خاص حج کے ایام میں میدان عرفات میں ہزاروں تک جا پہنچتی ہیں۔

سند

کفعمی نے کتاب البلدالامین میں اور سیدبن طاؤس نے کتاب مصباح الزائر میں اس دعا کو ذکر کیا ہے ان کے بعد علامہ مجلسی نے کتاب بحار الانوار میں اور شیخ عباس قمی نے مفاتیح الجنان میں اس دعا کو ذکر کیا ہے۔ اس دعا کے دو راوی بشر و بشیر کے بارے میں آیت الله خویی فرماتے ہیں: یہ دو بھائی غالب اسدی کوفی کے فرزند ہیں۔ بشر امام حسین(ع) اور امام سجاد(ع) کے اصحاب میں سے ہے لیکن بشیر صرف امام حسین(ع) کے راویوں میں سے ہے۔[2] اگر چہ بعض محدثین اس دعا کے سند کو قطعی نہیں سمجھتے لیکن اس مشہور قاعدے: دلالته تغنی عن السند کے مطابق چہ بسا کسی حدیث یا دعا کا مفہوم اور مضمون اس قدر بلند مرتبہ اور باعظمت ہے کہ اس کے سند سے ہم بے نیاز ہو جاتے ہیں۔ اور یہ دعا بھی انی دعاوں میں سے ہے کیونکہ اس دعا کا مضمون اور مفہوم عالی ترین عرفانی اور اعتقادی مضامین پر مشتمل ہے جو صرف کسی نبی یا امام کے بغیر کسی عام شخص سے صادر نہیں ہو سکتا ہے۔[3]

اختتامی حصے کا سند

چونکہ اس دعا کے اختتامی حصے کو صرف سید بن طاؤس نے کتاب اقبال الاعمال میں لایا ہے اور خود سید بن طاؤس نے اپنی دوسری کتاب مصباح الزائر اور کفعمی اور علامہ مجلسی نے اس حصے کو ذکر نہیں کیا ہے، اسلئے علامہ مجلسی اس حصے کا امام حسین(ع) سے صادر ہونے کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہیں اور یہ احتمال دیتے ہیں کہ اس حصے کو کسی صوفی اور عارف نے اضافہ کیا ہو۔ "یعنی ممکن ہے یہ حصہ ابتدا میں بعض کتابوں میں موجو ہو اور سید بن طاؤس نے اس خیال سے کہ یہ اس دعا کا حصہ ہے ذکر کیا ہو یا یہ بھی ممکن ہے کہ کتاب اقبال الاعمال میں شروع میں یہ اضافی حصہ موجود نہ ہو اور بعد میں بعض صوفیوں اور عارفوں نے اس حصے کو اضافہ کیا ہو۔ ظاہرا احتمال دوم زیادہ مناسب لگتا ہے"۔[4]

حسینی طہرانی کتاب روح مجرد کے مصنف اور جلال الدین ہمایی نے بھی اس آخری حصے کو ابن عطاء اللہ اسکندرانی ساتویں صدی ہجری کے معروف عارف کی طرف نسبت دیتے ہیں اور اس بات کی معتقد ہیں کہ یہ حصہ عینا "الحکم العطائیہ" نامی کتاب کے قدیمی نسخے میں موجود ہے۔ [5] آیت اللہ شبیری زنجانی نیز اس حصے کو امام حسین(ع) کے کلمات کا جز نہیں سمجھتے ہیں۔[6] آیت اللہ زنجانی فرماتے ہیں: یہ اختتامی حصہ کتاب اقبال الاعمال کے قدیمی نسخے میں موجود نہیں ہے اور بعد میں اسے اس کتاب کے ساتھ ملحق کیا گیا ہے۔[7]

آیت اللہ جوادی آملی اس حصے کے مضمون اور مفہوم کو مد نظر رکھتے ہوئے اسے کسی غیر معصوم سے صادر ہونا محال سمجھتے ہیں اور آپ معتقد ہیں کہ روایات کی سند کے بارے میں جانچ پڑتال کرنے کا اصلی ہدف یہ یقین اور اطمینان حاصل کرنا ہے کہ یہ روایت امام معصوم سے صادر ہوا ہے یعنی ایک حدیث شناس کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ اس بات پر اطمینان حاصل کرے کہ یہ حدیث یا دعا امام معصوم سے صادر ہوا ہے۔ اب یہ اطمینان کبھی راوی کی اصالت، عدالت اور وثاقت سے حاصل ہوتا ہے اور کبھی خود اس حدیث یا دعا کے مضمون اور مفہوم فصاحت و بلاغت اور عظمت یا چہ بسا کسی اور طریقے سے ہمیں اس بات پر یقیق حاصل ہوتا ہے کہ یہ حدیث یا دعا حتما کسی معصوم سے صادر ہوا ہے۔ اس بنا پر کسی حدیث یا دعا کی سند کے بارے میں تحقیق اور بررسی خودی خود کوئی موضوعیت نہیں رکھتا بلکہ جو چیز اہم ہے وہ اس کا معصوم سے صادر ہونے کے بارے میں علم اور یقین حاصل ہونا ہے۔ [8]

دعا کا مضمون

دعائے عرفہ امام حسین(ع) بہت زیادہ مطالب اور باعظمت تعلیمات پر مشتمل ہے جن میں سے بعض درج ذیل ہیں:

  1. خداوند عالم کی شناخت ، صفات الہی کا بیان، پروردگار عالم کے ساتھ کئے ہوئے عہد و پیمان کی یادآوری، انبیاء کی شناخت اور ان کے ساتھ مستحکم رابطہ برقرار کرنا، آخرت پر توجہ دینا اور دل و جان سے اس کا اقرار کرنا۔
  2. آفاق عالم میں غور و فکر اور خدا کے بیکران نعمتوں کو یاد کرنا جنہیں خدا نے انسان کو عطا کی ہے اور ان نعمتوں پر خدا کا شکر بجا لانا۔
  3. خدا کی بارگاہ میں راز و نیاز اور اپنے گناہوں کا اقرار اور ان سے توبہ کرنا اور خدا سے ان گناہوں کی بخشش کے حوالے سے درخواست کرنا اور نیک اعمال اور پسندیدہ صفات کی طرف مائل ہونا۔
  4. محمد و آل محمد پر درود و صلوات بھجتے ہوئے اپنے حاجات کی برآوری کیلئے دعا کرنا اس کے بعد مغرت، ہدایت، رحمت و برکت اور رزق و روزی اور اخروی ثواب میں وسعت کی درخواست کرنا۔

ترجمہ اور شروح

دعائے عرفہ امام حسین(ع) غنی اور عارفانہ مفہوم کی وجہ سے دنیا کے تمام دانشمندوں اور مختلف مکاتب فکر کے لوگوں کی توجہ کا مرکز قرار پایا ہے اس بنا پر اس کے بارے میں مقالات اور کتابیں لکھی گئی اور مختلف زبانوں میں اس کا ترجمہ اور شرح لکھی گئی ہے جن میں سے بعض یہ یہں:

  1. مظہر الغرائب، تألیف سید خلف بن عبدالمطلب جو شیح بہایی کے ہمعصر تھے جنہوں نے اپنے دوست کے اصرار پر میدان عرفات میں وقوف کے دوران اس دعا کی تشریح کی ہے۔
  2. شرح دعائے عرفہ، تألیف شیخ محمدعلی ابن شیخ ابی طالب زاہدی.[9]
  3. هدایة المستبصرین، تألیف میرزا احمدبن سلطان علی صدر الافاضل۔
  4. شرح دعائے عرفہ، تألیف سید ماجد بن ابراہیم حسینی کاشانی.[10]
  5. ترجمہه دعائے عرفہ، تألیف شیخ ابوالحسن شعرانی.
  6. نیایش حسین در عرفات، تألیف آیت اللہ شیخ لطف اللہ صافی گلپایگانی.
  7. نیایش حسین(ع) در صحرای عرفات، تألیف علامہ محمد تقی جعفری.
  8. شرح دعائے عرفہ امام حسین(ع)، تألیف محمدباقر مدرس بستان آباد.

متعلقہ صفحات

حوالہ جات

  1. قمی، مفاتیح الجنان، ص ۳۶۳
  2. خویی، معجم رجال الحدیث، ج۳، ص ۳۲۰ و ۳۳۰
  3. جعفری، نیایش امام حسین در عرفات، ص۲۹.
  4. مجلسی، بحارالانوار، ج ۹۵ ص ۲۲۷
  5. حسینی طہرانی، اللہ شناسی، ج ۱، ص۲۷۲ و جلال الدین ہمایی، مولوی نامہ، ج ۲، ص ۱۸
  6. دعائے عرفہ کا اختتامی حصہ امام حسین(ع) کے کلمات میں سے نہیں ہے
  7. شبیری زنجانی، جرعہ ای از دریا، ج۳، ص۲۵۶، پاورقی شماره ۲.
  8. مجلہ میقات حج شمارہ ۴۲ مقالہ نیم نگاہی بہ شرح فرازہایی از دعای عرفہ، ص ۱۸۴
  9. شیخ آقا بزرگ تہرانی، الذریعہ الی تصانیف الشیعہ، ج۱۳، ص۲۵۸
  10. محمدباقر مدرس بستان آباد، شرح دعای عرفہ امام حسین، ص۴

مآخذ

  • جعفری، محمد تقی، نیایش امام حسین در صحرای عرفات، مؤسسہ نشر کرامت، چاپ سوم، ۱۳۷۸ش.
  • حسینی طہرانی، سید محمدحسین، اللہ شناسی، انتشارات علامہ طباطبایی، چاپ دوم، ۱۴۱۸ ق.
  • خویی، سید ابو القاسم، معجم رجال الحدیث،‌دار الزہراء للطباعہ و النشر، بیروت، الطبعہ الرابعہ، ۱۴۰۹ق.
  • شبیری زنجانی، سیدموسی، جرعہ ای از دریا، ج۳، قم: مؤسسہ کتاب شناسی شیعہ، ۱۳۹۳ش.
  • قمی، شیخ عباس، مفاتیح الجنان، نشر مشعر، چاپ اول، ۱۳۸۷ ش.
  • کفعمی، محمد، البلد الامین و الدرع الحصین، موسسہ الاعلمی للمطبوعات، بیروت، الطبعہ الاولی ۱۴۱۸ق.
  • مجلسی، محمدباقر، بحار الانوار الجامعہ لدرر اخبار الائمہ الاطہار،‌دار احیاء التراث العربی، بیروت، الطبعہ الثالثہ، ۱۴۰۳ ق.
  • محمدبن طاووس، اقبال الاعمال، موسسہ الاعلمی للمطبوعات، بیروت، الطبعہ الاولی، ۱۴۱۷ ق.