زیارت جامعۂ کبیرہ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

زیارت جامعۂ کبیرہ ائمہ معصومین(ع) کا اہم ترین اور کامل ترین زیارت نامہ ہے جس کے ذریعے ان سب کی دور یا نزدیک سے زیارت کی جاسکتی ہے۔

یہ زیارت نامہ شیعیان اہل بیت(ع) کی درخواست پر امام ہادی(ع) کی طرف سے صادر ہوا ہے۔ اس زیارت نامہ کے مضامین درحقیقت ائمہ(ع) کے بارے میں شیعہ عقائد، ائمہ(ع) کی منزلت اور ان کی نسبت ان کے پیروکاروں کے فرائض پر مشتمل ہے۔ یہ زیارت نامہ فصیح ترین اور دلنشین ترین عبارات کے ضمن میں امام شناسی کا ایک اعلی درسی نصاب فراہم کرتا ہے۔

وجۂ تسمیہ

جو زیارت نامہ کسی خاص امام کے لئے مختص نہ ہو اسے زيارت جامعہ کہا جاتا ہے اور چونکہ اس کا متن زیادہ مفصل ہے اس بنا پر یہ زیارت جامعہ کبیرہ کے نام سے مشہور ہوا ہے۔

زیارت جامعۂ کبیرہ ایک ایسی زیارت ہے جسے آپ کسی بھی امام کی دور یا نزدیک سے زیارت کرنے کیلئے پڑھ سکتے ہیں۔

زیارت جامعہ کی سند

اس زیارت نامے کو شیخ طوسی نے کتاب تہذیب [1] اور شیخ صدوق نے من لایحضرہ الفقیہ[2] میں نقل کیا ہے۔

علامہ مجلسی کہتے ہیں: یہ دور اور نزدیک سے پڑھی جانے والی کامل ترین زیارت ہے۔[3]

علامہ محمد باقر مجلسی کے والد علامہ محمد تقی مجلسی بھی من لایحضرہ الفقیہ کی شرح میں لکھتے ہیں:یہ بہترین اور کامل ترین زیارت ہے اور میں ہمیشہ اسی کی روشنی میں مقامات مقدسہ میں ائمۂ اطہار(ع) کی زیارت کا فیض حاصل کرتا تھا۔

اس زیارت کا متن امام ہادی علیہ السلام سے منقول ہے۔ جسے ابن بابویہ نے محمد بن اسمعیل برمکی کے واسطے سے موسی بن عبداللہ نخعی سے اور انھوں نے امام ہادی(ع) سے نقل کیا ہے۔[4]

جوینی خراسانی نے اس کو فَرائِدُ السِّمْطَین میں[5] حاکم نیشابوری سے ابن بابویہ کے واسطے سے نقل کیا ہے۔

اس کے باوجود یہ زیارت نامہ سند کے اعتبار سے تقسیم حدیث کی بنیاد پر [حدیث] صحیح کے زمرے میں نہیں آتی کیونکہ اس کے سلسلۂ سند موسی بن عبداللہ نخعی ہے جو مہمل اور غیر معروف گردانا گیا ہے۔[6]

البتہ ابتدائی ہجری صدیوں کے دوران ـ جب قرائن کی مدد سے حدیث کو حدیث صحیح اور غیر صحیح میں تقسیم کیا جاتا تھا،[7] یہ زیارت نامہ صحیح سمجھا جاتا تھا۔ ابن بابویہ نے اس زیارت نامے پر اعتماد کیا ہے اور یہ بجائے خود مرجِّحات سند میں سے اور اس کی سند کو تقویت پہنچانے والے قرائن میں سے ایک ہے۔[8] علاوہ ازیں شیعہ امامیہ نے اس طرح سے اس کو مقبول سمجھا ہے کہ اگر کوئی بصیر اور نقاد شخص چاہے تو اس پر ایسے اجماع کا دعوی کرسکتا ہے جو قول معصوم(ع) کا کاشف ہے۔

شُبَّر[9] نے اس زیارت نامے کو نہج البلاغہ اور صحیفۂ سجادیہ کے مترادف قرار دیا ہے جس کی فصاحت و بلاغت اس رتبے پر ہے کہ یہ بات قابل قبول نہیں ہوسکتی کہ یہ زیارت نامہ غیر معصوم سے نقل ہوچکا ہوگا۔ شیخ احمد احسائی[10] نے بھی زیارت جامعہ کبیرہ کی سند کا جائزہ لینے کے بعد لکھا ہے: یہ زیارت لفظ اور معنی کے لحاظ سے اس رتبے پر ہے کہ ایک آگاہ انسان بخوبی ادراک کرتا ہے کہ یہ کلام معصوم(ع) ہے چنانچہ اس کی سند کے بارے میں تحقیق کی ضرورت ہی نہیں ہے۔

محدث نوری کی رائے ہے[11] کہ ابن بابویہ نے اپنی روایت میں متن کو ملخص کیا ہے اور ان حصوں کو حذف کیا ہے جو ان کے عقائد پر منطبق نہ تھے۔

جامعۂ کبیرہ کے مضامین و محتویات

زیارت جامعہ در حقیقت عقیدہ امامت کے مختلف پہلؤوں کی ایک اعلی و بلیغ توصیف ہے کیونکہ شیعہ کی نظر میں دین کا استمرار و تسلسل اسی عقیدے سے تمسک سے مشروط ہے۔ چونکہ اس زیارت کے مضامین و محتویات، ائمۂ(ع) کے مقامات و مراتب کے تناظر میں وارد ہوئے ہیں چنانچہ امام ہادی(ع) نے فرمایا ہے کہ زیارت جامعہ پڑھنے سے پہلے زائر 100 مرتبہ تکبیر کہے تاکہ ائمۂ(ع) کے سلسلے میں غلو سے دوچار نہ ہو۔[12]

اس زیارت میں اہل بیت کی توصیف رسول اللہ(ص) کے برحق جانشینوں کے عنوان سے ہوئی ہے اور نہایت فصیح زبان میں تمام شیعہ عقائد کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ نیز ائمہ(ع) کے رسول اللہ(ص) کے ساتھ ارتباط و اتصال، ائمۂ(ع) کی علمی، اخلاقی اور سیاسی منزلتوں اور مقامات، ان کے اسوہ اور نمونۂ عمل ہونے، امامت اور توحید کے درمیان تعلق اور امام شناسی کے ساتھ خدا شناسی کے ربط کی طرف اشارے ہوئے ہیں۔ زیارت جامعہ کے دوسرے موضوعات و مباحث میں [[اہل بیت علیہم السلام کی عصمت، ان کی خلقت کے تسلسل، تولی اور تبری]] نیز رجعت و تسلیم شامل ہیں۔ اس زیارت میں ائمۂ(ع) کے فضائل فصیح زبان میں قرآن اور سنت سے پیوند کی روشنی میں بہترین انداز سے بیان ہوئے ہیں۔

زیارت جامعہ کبیرہ سے اقتباسات

زیارت کے ابتدائی حصے میں "السَّلامُ عَلَیکُمْ یا أَهْلَ بَیتِ النُّبُوَّةِ وَمَوْضِعَ الرِّسَالَةِ"۔ کی وضاحت کرتے ہوئے امام ہادی(ع) نے فرمایا ہے:

  • خداوند متعال نے اہل بیت(ع) کو اپنی کرامت سے مخصوص کردیا ہے اور انہیں رسالت کا مقام و موضع، فرشتوں کی رفت و آمد کا مقام اور نزول وحی کی منزل قرار دیا ہے۔
  • اللہ کے اس کام کا سرچشمہ اس کی صفات کمالیہ ہیں جو اس نے اہل بیت(ع) کو عطا کی ہیں اور ان کے واسطے سے انھوں نے وہ چوٹیاں سر کی کہ جن کی بلندیوں پر انھوں نے علم و حلم و کرامت اور رحمت کو اپنی ذات میں اکٹھا کرلیا ہے۔
  • اہل بیت(ع) رسالت الہیہ کی بنیاد ہیں کیونکہ خداوند متعال نے ماضی بعید سے انہیں نہ صرف مسلمانوں کی رہبری کے علاوہ، بلکہ بنی نوع انسان کی امامت کا عہدہ سنبھالنے کے لئے منتخب کیا ہے۔

امام ہادی(ع) "السلام علی ائمة الهدی ومصابیح الدجی"۔والے فقرے میں ذیل کے نکات پر تاکید فرماتے ہیں:

  • اہل بیت(ع) ہدایت کے پیشوا ہیں اور دوسرے لوگ ـ جو اہل بیت(ع) سے نہیں ہیں اور اس کے باوجود امامت کا عہدہ سنبھالتے ہیں ـ مکتب ہدایت کے مخالف ہیں ضلالت کے ائمہ اور گمراہی کے پیشوا ہیں۔ اسی بنا پر دین کے معارف و تعلیمات کو خاندان پیغمبر(ص) کے پیشواؤں کے سوا دوسروں سے نہیں لینا چاہئے اور ان کے راستے کے سوا کسی دوسرے راستے پر گامزن نہیں ہونا چاہئے۔
  • ائمۂ(ع) عقل کام کے مالک ہیں، دنیا میں لوگوں کی پناہگاہ اور انبیاء علیہم السلام کے وارث ہیں اور وہ انسانیت کی مَثَلِ اعلی ہیں اور دوسروں کو ان کی اقتدا کرنی چاہئے اور وہ بہترین کمالات کی طرف دی جانے والی دعوت کے حامل ہیں اور دوسروں کو ان کا پیرو ہونا چاہئے۔
  • اہل بیت(ع) خدا کی معرفت کا مقام و محلّ اور اللہ کی برکتوں کا مسکن ہیں۔ وہ اللہ کی حکمتوں کا معدن، سرّ حق (اسرار خداوندی) کے حافظ و نگہبان، علم کتاب کے حامل اور پیغمبر(ص) کے جانشین ہیں۔
  • حق کی طرف کے یہ داعی بعض ممتاز خصوصیات کے حامل و مالک ہیں جو راہ خدا مین ان کی منزلت کو واضح و آشکار کردیتی ہیں:
  1. وہ خدا کی طرف دعوت دیتے ہیں اور حضرت احدیت کی رضا و خوشنودی کی طرف جانے والے راستوں کے راہبر و راہنما ہیں۔
  2. ائمہ(ع) خداوند متعال کے اوامر کی تعمیل کے راستے میں ثابت قدم ہیں۔
  3. وہ خداوند متعال سے تام و کامل محبت کرتے ہیں۔
  4. وہ اللہ کی توحید میں مخلص ہیں۔
  5. امر و نہی سمیت اللہ کے شعائر ان ہی کے ذریعے آشکار ہوتے ہیں۔
  6. وہ کبھی بھی اپنے کلام و گفتار اور عمل و کردار میں اللہ سے سبقت نہیں لیتے اور قدم آگے نہیں بڑھاتے۔

زيارت کے تسلسل میں تشیع کے اہم ترین فکری عناصر کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

  • ایمان اس حقیقت پر کہ اللہ کے سوا کوئی لائق پرستش اور معبود نہیں ہے اور وہ ہر قسم کے شریک سے منزّہ ہے۔
  • ایمان اس حقیقت پر حضرت محمد(ص) اللہ کے خاص اور برگزیدہ بندے اور اس کے پسندیدہ رسول(ص) پیغمبر ہیں۔
  • ایمان اس حقیقت پر کہ ائمۂ شیعہ(ع) مقام عصمت و کرامت کے مالک ہیں۔

زیارت کے بعض فقروں میں ائمۂ اطہار(ع) کی روش کے عملی پہلؤوں کی طرف اشارہ ہوا ہے:

  1. عہد و میثاقِ الہی کو برقرار و استوار رکھنا اور اس ذات اقدس کی طاعت و بندگی کے پیمان کو مستحکم رکھنا۔
  2. لوگوں کو نصیحت کرنا اور صرف اللہ کی خوشنودی کی خاطر ان کے خیرخواہی کرنا۔
  3. لوگوں کو برہان و حکمت اور بہترین وعظ و نصیحت کے ذریعے راہ حق پر گامزن ہونے کی دعوت دینا۔
  4. راہ خدا میں مسلسل اور دائمی ایثار کرنا اور اس راہ میں جان سے گذرجانا اور ناہمواریوں میں صبرو استقامت کرنا۔
  5. نماز قائم کرنا، زکٰوۃ ادا کرنا اور عبادات اور دین اسلام کی حدود پر عملدرآمد کرنا۔
  6. اسلامی شریعت کو تحریف سے محفوظ رکھنا۔
  7. اللہ کی قضا و قدر کے سامنے سرتسلیم خم رکھنا۔
  8. راہ انبیاء(ع) کی وحدت پر تاکید کرنا اور انبیائے سلف کی تصدیق کرنا۔

زیارت کے ایک فقرے میں کہا گیا ہے: "‌فالراغب عنكم مارق واللازم لكم لاحق والمقصر في حقكم زاهق"۔ ترجمہ: پس جو آپ سے منحرف ہوجائے وہ سرکش اور خودسر ہے اور آپ کا دوست اور پیروکار آپ کے ساتھ ملحق ہونے والا اور اور اہل سعادت ہے اور آپ کے حق میں تقصیر کرنا والا شقی اور بدبخت اور مٹنے والا ہے۔ ‌اس فقرے میں اہل بیت(ع) کے دوستداروں اور اور ان کے دشمنوں کا انجام واضح کیا گیا ہے، ان کے دوستوں کو اہل سعادت اور ان کے دشمنوں کو اہل شقاوت قرار دیا گیا ہے۔

اور "فبلغ اللّه‏ بكم أشرف محل المكرمین وأعلی منازل المقربین وأرفع درجات المرسلین" میں یہ نکات بیان کئے گئے ہیں:

  1. ائمہ(ع) کی رجعت پر اور ان کی عالمی حکومت کے قیام پر ایمان لانے کی ضرورت ہے۔
  2. قبور ائمہ(ع) کی زیارت کی اہمیت.
  3. ائمہ(ع) کی رجعت پر ایمان رکھنے کی ضرورت۔
  4. ان کی حکومت کو مدد پہنچانے کے لئے مسلسل تیاری حتی کہ ان کی حاکمیت روئے زمان پر بپا ہوکر مستحکم ہوجائے۔
  5. ان کے دشمنون سے بیزاری و برائت (تبری) کی ضرورت۔
  6. مؤمنین کا اس بات پر خوش اور شادماں ہوجانا ان نعمتوں کی خاطر جو اللہ تعالی نے اہل بیت(ع) کے واسطے سے انہیں عطا فرمائی ہیں۔
  7. مسلمانوں کی صحیح وحدت قائم نہ ہوگی سوا اس کے وہ اہل بیت(ع) کے پرچم تلے اکٹھے ہوجائیں۔
  8. اہل بیت(ع) پر ایمان ایک جذباتی مسئلہ نہیں بلکہ بیداری، بصیرت، ادراک اور تحقیق کی بنیاد پر ہونا چاہئے۔

متن زیارت جامعہ

زیارت جامعہ کے متن کو دیکھنے کیلئے یہاں کلک کریں۔

زیارت جامعہ کی شرحیں

اس زیارت پر متعدد شرحیں لکھی گئی ہیں محمدتقی مجلسی (متوفی 1070ہ) ان پر دو بار شرح لکھی ہے:

زیارت جامعہ کی مشہور ترین شرح شیخ احمد بن زین الدین احسائی (متوفٰی 1241 یا 1243) کی شرح ہے جو چار مجلدات میں شائع ہوئی ہے۔ یہ زیارت جامعہ کی مفصل ترین اور علمی ترین شرح ہے جو شیخیہ کے مکتب سے مطابقت رکھتی ہے اور حدیث و کلام اور ادب و فلسفہ کے مباحث سے بھرپور ہے۔

الانوار اللّامعہ، زیارت جامعہ کی متاخر شرحوں میں سے ایک ہے جو سید عبداللّہ شُبّر، نے لکھی ہے اور مختصر و مفید ہے۔

دوسری شرحیں:

عربی شرحیں

  • الأنوار الساطعة فی شرح زیارة الجامعة، جواد کربلائی[14]
  • الأنوار اللامعة فی شرح الزیارة الجامعة، [[عبداللہ شبر|سیّد عبداللّه بن محمّدرضا شبّر کاظمی) (1188 ـ 1242ہ) تحقیق: فاضل فراتی و علاء کاظمی[15]
  • حقائق الأسرار، محمّدتقی آقا نجفی اصفہانی(م 1332ق )، تألیف: 1296ق[16]
  • سند الزیارۃ الجامعۃ، سیّد یاسین موسوی[17]
  • شرح الزیارۃ الجامعۃ الکبیرۃ، شیخ احمد احسائی (1166 ـ م 1243ہ)۔[18] یہ کتاب مکرر در مکرر ایران اور عراق میں زیور طبع سے آراستہ ہوئی ہے اور مؤلف کے خاص نظریات اور آراء پر مشتمل ہے؛ فرقۂ شیخیہ اسی سے منسوب ہے اور یہ فرقہ شیعہ علماء کے ہاں مقبول نہيں ہے۔
  • احادیث شرح الزیارۃ الجامعۃ، حسین المطوع[19]
  • شرح الزیارۃ الجامعۃ الکبیرۃ(تلویح الإشارة فی تلخیص شرح الزیارة) احمد احسائی (م 1243ہ) تلخیص: سیّد محمدحسین مرعشی شهرستانی (1255 ـ 1315 ہ)[20] مؤلف نے اس کتاب میں مفاہیم کا خلاصہ بیان کیا ہے اور مکرر عبارات کو حذف کیا ہے اور حاشیے میں کتاب کے مشابہت و اشتباہات کی تصحیح کی ہے اور اپنا تعارف رمزی نام "عبدالصمد حائری مازندرانی" سے کرایا ہے۔
  • الشموس الطالعۃ فی شرح الزیارۃ الجامعۃ، آقا ریحان اللہ بن سیّد جعفر کشفی بروجردی (1267 ـ 1328ہ)[21]
  • الشموس الطالعۃ في شرح الزیارۃ الجامعۃ، سید حسین ہمدانی درودآبادی (متوفٰی 1344ہ)[22] یہ کتاب زیارت جامعہ کی بہترین شرحوں میں سے ہے اور عمدہ تحقیق اور پر فائدہ مفاہیم و مضامین پر مشتمل ہے۔
  • الصوارم القاطعۃ والحجج اللاّمعۃ فی إثباۃ صحّۃ الزیارۃ الجامعۃ، عبدالکریم عقیلی[23]
  • فی رحاب الزیارۃ الجامعۃ الکبیرۃ، سیدعلی حسینی صدر[24]

فارسی شرحیں

  • ادب فنای مقرّبان، آیت اللہ جوادی آملی[25] یہ مجموعہ انتشارات اسراء نے اب تک آٹھ مرتبہ شائع کیا ہے۔
  • شرح زیارت جامعہ کبیره، فخرالمحققین شیرازی
  • اسرار الزیارۃ وبرہان الإنابۃ فی شرح زیارۃ الجامعۃ، محمّد تقی آقا نجفی اصفہانی (م 1332ہ)، مطبوعہ 1296ہ؛ این کتاب ان ہی عربی شرح حقائق الأسرار کا ترجمہ ہے جو اسی کتاب کے حاشیے پر شائع کیا گیا ہے۔[26]
  • أنوار الولایة الساطعة فی شرح زیارة الجامعة سیّد محمّد بن رضی الدین حسینی وحیدی شبستری (1335 ـ 1421ہ) ترجمه و تحقیق: شیخ هاشم صالحی[27]
  • الانوار التالعة فی شرح الزیارة الجامعة شیخ علی اصغر منوری تبریزی(م 1424 ہ)[28]
  • با اختران تابناک ولایت سیّد عبداللّه شبّر (1188 ـ 1242ہ) ترجمه: عباسعلی سلطانی گلشیخی[29]
  • خزان العلم و اهل بیت الوحی سیّد حسین آیت اللهی جهرمی جهرم،[30]
  • سیمای ائمه: شرح زیارت جامعه، علی نظامی همدانی، تقریر: خانم حصاری همدانی[31]
  • شرح زیارت جامعۂ کبیرہ محمّدتقی مجلسی اصفہانی (1003 ـ 1070ہ) مقدّمہ و حالات زندگی از: مہدی فقیہ ایمانی اصفہانی[32] یہ کتاب اللوامع صاحبقرانی سے مآخوذ ہے جو درحقیقت من لا یحضرہ الفقیہ کی شرح ہے۔ انھوں نے (من لا یحضرہ الفقیہ]] کی عربی شرح) روضۃ المتقین میں بھی اس زیارت پر شرح لکھی ہے۔
  • شرح زیارت جامعۂ کبیرہ سیّد ضیاءالدین استرآبادی[33]
  • شرح زیارت جامعۂ کبیرہ سیّد محمّدتقی نقوی قایینی[34]
  • شرح زیارت جامعۂ کبیرہ محمّد ہادی فخرالمحقّقین شیرازی (1340 ـ 1420ہ)مقدّمه و تحقیق: سیّد محمّدجواد طبسی حائری[35][36]
  • شرح زیارت جامعۂ کبیرہ (= پرتو ولایت) سیّد محمد وحیدی شبستری (1335 ـ 1421ہ) تحقیق: هاشم صالحی[37] اس کتاب کا عربی میں ترجمہ ہوا ہے۔
  • شرح و تفسیر زیارت جامعۂ کبیرہ، رحیم توکل[38]
  • شمس طالعہ در شرح زیارت جامعہ، محمّد طبیب زاده احمدآبادی اصفہانی[39]
  • علی علیہ السلام و زیارت جامعۂ کبیرہ، عبدالعلی گویا(1340 ـ 1415ہ)[40]
  • فوائد نافعۂ شریفہ در شرح زیارت جامعہ، محمّد توتونچی تبریزی (م 1395ہ)[41]
  • مقامات اولیا: شرحی بر زیارت جامعه کبیرہ، سیّد مجتبی حسینی[42]
  • نجوم لامعہ در شرح زیارت جامعہ، ابوتراب ہدایی (1274 ـ 1373ہجری شمسی)[43]

عربی قلمی نسخے

  • الأعلام اللامعۃ فی شرح الزیارۃ الجامعۃ، سیّد محمد طباطبایی بروجردی (متوفٰی 1160ہ) سید بحرالعلوم کے دادا)۔ اس کا قلمی نسخہ نمبر 194 شہر خوانسار کے "کتب خانہ فاضل خوانساری" میں موجود ہے۔ اس کی کتابت "شیخ موسی خوانساری" نے کی ہے۔[44]۔[45]
  • الانوار الساطعۃ فی شرح الزیارۃ الجامعۃ، علامہ شیخ محمدرضا غراوی نجفی (1304 ـ 1385ہ)[46]
  • أنیس الطلاّ ب، محمّد جعفر بن آقا محمّدعلی بن وحید بہبہانی پایان تألیف: 1245ہ۔ اس کتاب کا ایک حصہ زیارت جامعہ کی شرح پر مشتمل ہے۔[47]
  • الزیارۃ الجامعۃ الکبیرۃ، کی بعض عبارات کی شرح، معین الدین بن محمّد صادق خادم الحسینی؛ اس کا قلمی نسخہ نمبر 749د جامعۂ تہران کے شعبۂ الٰہیات کے کتب خانے میں موجود ہے۔[48]
  • شرح الزیارۃ الجامعۃ الکبیرۃ، بہاءالدین سیّد محمد نایینی مختاری (متوفی 1130 یا 1140ہ) (شیخ حر عاملی کے ہم عصر)۔ اس کتاب کا قلمی نسخہ نمبر 3918 قم کے کتب خانہ آیت اللہ گلپایگانی میں موجود ہے۔[49]۔[50]
  • شرح الزیارۃ الجامعۃ الکبیرۃ محمّد قاسم بن محمدکاظم رازی پایان تألیف: 19 جمادی الثانی سنہ 1133 بنام شاہ سلطان حسین صفوی؛ اس کتاب کا قلمی نسخہ نمبر 3943 جامعۂ تہران (تہران یونیورسٹی) کے کتب خانے میں موجود ہے۔[51]
  • شرح الزیارۃ الجامعۃ الکبیرۃ علی نقی حائری طباطبایی (آل صاحب ریاض) ٰ 1289ہ)؛ بہت وسیع شرح تھی لیکن نامکمل رہ گئی ہے۔[52]
  • شرح الزیارۃ الجامعۃ الکبیرۃ، حاج میرزا علی غروی علیاری تبریزی (1319 ـ 1417ہ)[53]۔[54]
  • شرح الزیارۃ الجامعۃ الکبیرۃ، سیّد محمدعلی موحد ابطحی اصفہانی (1347 ـ 1423ہ)[55]۔[56]
  • شرح الزیارۃ الجامعۃ الکبیرۃ، مؤلف: نامعلوم۔ اس کتاب کا قلمی نسخہ نمبر 4373 مجلس شورائے اسلام کے کتب خانے میں ہے اور اس کے اوراق 46 ہیں۔[57]
  • کاشف الأسرار، میرزا ہدایۃ الہ گلپایگانی۔

فارسی کے قلمی نسخے

  • الإلہامات الرضویۃ، سیّد محمد بن محمود حسینی لواسانی تہرانی (متوفٰی 1355ہ)[58]
  • القاطعۃ فی شرح [الـ]زیارۃ الجامعۃ، سیّد حسن رضوی قمی (متوفٰی 1358ہ)، جس کا قلمی نسخہ ـ بقلم مؤلف، 146 اوراق اور 292 بشمارہ 240/39 قم کے کتب خانہ آیت اللہ گلپایگانی میں موجود ہے۔
  • شرح زیارت جامعہ کبیرہ علاّ مہ میرزا محمّدعلی چہاردہی رشتی نجفی متوفٰی 1334ہ)[59]
  • شرح زیارت جامعہ کبیرہ، شیخ عباس حائری تہرانی (1298 ـ 1360ہ)[60]
  • شمس طالعہ در شرح زیارت جامعہ، علامہ سیّد عبداللّہ موسوی بلادی بوشہری(1290 ـ 1372ہ)[61]

مزید مطالعہ کرنے کے لئے

متعلقہ مآخذ

حوالہ جات

  1. طوسی، تهذیب، جلد 6، ص 102 ـ 96۔
  2. من لایحضره الفقیه: ج2، ص610۔
  3. مجلسی، زادالمعاد، ص 301۔
  4. ابن بابویه، ج2، ص 610۔
  5. فرائد السمطین، ج2، ص179ـ186۔
  6. رجوع کنید به احسائی، ج1، ص30۔
  7. رجوع کریں: به مدیر شانه چی، ص146۔
  8. رجوع کریں: احسائی، ج1، ص31۔
  9. شُبَّر، ص 33۔
  10. احسائی، ج1، ص30۔
  11. مستدرک الوسائل، ج11، ص170ـ171۔
  12. محمدتقی مجلسی، 1377 ہجری شمسی، ج8، ص666۔
  13. بحار الانوار، ج99، ص134ـ 144۔
  14. قم، مؤسسه دارالحدیث، 1377ہجری شمسی، 5 ج، دوم، وزیری۔
  15. قم، مکتبة الأمین، 1422ہ، 208صفحات، وزیری۔
  16. اصفهان، 1296ہ۔ 35۔
  17. دمشق، حوزة أهل البیت(ع)، 1419ہ، 60صفحات، رقعی۔
  18. بیروت، دارالمفید، 1420ہ، 4 ج، وزیری۔
  19. کویت، 4 ج (قطور)۔
  20. بیروت، مؤسسة البلاغ، 1424ہ، 170صفحات، وزیری۔
  21. تهران، 1354ہ۔ ر. ک: الذیعة، ج 14، ص 222۔
  22. تهران، مرکز نشر کتاب، 1378ہ، 544 صفحات، رقعی۔
  23. قم، مؤسسة بضعة المصطفی، 1421ہ، 180صفحات، وزیری۔
  24. قم، دارالغدیر، 1382ہجری شمسی، وزیری، صفحات 700۔
  25. ادب فنای مقرّبان، هشت جلد۔
  26. رجوع کریں: الذریعه، ج2، ص35 و ج7، ص29۔
  27. قم، وفایی، 1376ہجری شمسی، 300صفحات، وزیری۔
  28. قم، مؤمنین، 1380ہجری شمسی، وزیری، 521 ص۔
  29. مشهد: بنیاد پژوهش‌های اسلامی، 1372 ہجری شمسی، 244صفحات، وزیری۔
  30. مجتمع شهید مصلی نژاد، 1377ہجری شمسی، 108 صفحات، رقعی۔
  31. قم: فرایض، 1378ہجری شمسی، 3 جلد، 536+368+368صفحات، وزیری۔
  32. اصفهان: حسینیه عمادزاده، 1373ہجری شمسی، 190صفحات (40 صفحات، حالات زندگی اور مقدمہ + 150 صفحات) وزیری۔
  33. تهران: مکتب قرآن، 1372 ش / 1413 ہ، 341صفحات، وزیری۔
  34. تهران: نشر صادق(ع)، 1378ہجری شمسی، 530صفحات، وزیری۔
  35. مشهد، فدک، 1368 ش / 1410ہ، 2 ج (552 + 550ص )، وزیری۔
  36. یہ زیارت جامعہ پر لکھی جانی والی فارسی شرحوں میں سے ایک بہترین شرح ہے اور تاریخ و حدیث اور تفسیر و لغت اور ادب کے حوالے سے متعدد فوائد پر مشتمل ہے۔
  37. قم: وفایی، 1378ہجری شمسی، 302صفحات، وزیری۔
  38. تهران، کلینی، 1372ش / 1414ہ، 158صفحات، رقعی۔
  39. تهران، 1376ہ، 2 ج، سوم۔
  40. تهران، زراره، 1378ہجری شمسی، 310صفحات، وزیری۔
  41. تبریز، 1341ہجری شمسی۔
  42. تهران، نیستان، 1379ہجری شمسی، 333 صفحات، وزیری۔
  43. مشهد، چاپ خانه خراسان، 1366ہجری شمسی، 324صفحات، رقعی۔
  44. الذریعه، ج2، ص239۔
  45. فهرست کتاب خانه، ج1، ص142۔
  46. المنتخب من اعلام الفکر والادب / 496۔
  47. الذریعة، ج2، ص459۔
  48. فهرست کتاب خانه الهیات، ج1، ص308۔
  49. الذریعة، ج13، ص306۔
  50. فهرست کتاب خانه، ج1، ص139۔
  51. فهرست کتاب خانه، ج12، ص2933۔
  52. الذریعة، ج13، ص306۔
  53. رجوع کریں: السلسلات فی الإجازات، ج2، ص578۔
  54. مجلّه آینه پژوهش، ش43، ص111۔
  55. المسلسلات فی الإجازات، ج2، ص583۔
  56. مجلّه آینه پژوهش، ش76، ص132۔
  57. فهرست کتاب خانه مجلس، ج12، ص83۔
  58. رجوع کریں: الذریعة، ج2، ص302۔
  59. رجوع کریں: الذریعه، ج13، ص306۔
  60. رجوع کریں: نقباء البشر، ج4، ص990؛ گنجینه دانشمندان، ج4، ص426۔
  61. رجوع کریں: الذریعة، ج14، ص223۔


مآخذ

  • ابن بابویه، محمدعلی، من لایحضره الفقیه، مصحح: غفاری، علی اکبر، جامعه مدرسین، قم، 1413ہ۔
  • طوسی، محمد بن حسین، تهذیب الاحکام، مصحح: خرسان، حسن الموسوی، دارالکتب الاسلامیه، تهران، 1407ہ۔
  • مجلسی، محمد باقر، بحارالانوار، داراحیاء تراث عربی، بیروت، 1403ہ۔
  • جوینی، ابراهیم بن محمد، فرائد السمطین، محقق:محمودی، محمد باقر، موسسه المحمودی، بیروت.
  • مجلسی، محمدباقر، زادالمعاد، بیروت، چاپ علاءالدین اعلمی، 1423ہ، 2003عیسوی.
  • نوری، حسین بن محمد تقی، مستدرک الوسائل و مستنبط المسائل، موسسه آل البیت علیهم السلام لاحیاء التراث، بیروت، 1411ہ، 1991عیسوی.

بیرونی روابط

متن و ترجمه زیارت جامعه کبیره