مندرجات کا رخ کریں

مسجد نبوی

ویکی شیعہ سے
(مسجد النبی سے رجوع مکرر)
مسجد نبوی
ابتدائی معلومات
بانیپیغمبر اسلامؐ
استعمالمسجد• روضہ پیمبرؐ • مدفن حضرت فاطمہ(س) ایک قول کی بنا پر
محل وقوعمدینہ
دیگر اسامیجامع مدینہ • مسجد الرّسول • مسجد رسول اللہ • مسجد النبی • مسجد مدینہ
مشخصات
معماری


مسجد نبوی یا مسجد النبی، سعودی عرب کے شہر مدینہ میں موجود اس تاریخی مسجد کو کہا جاتا ہے جس میں پیغمبر اکرمؐ کا روضہ مبارکہ موجود ہے۔ یہ مسجد مسجد الحرام کے بعد مسلمانوں کے ہاں دوسرا مقدس مقام ہے۔ مسجد نبوی کی بنیاد خود پیغمبر اکرمؐ کے دست مبارک سے سنہ 1 ہجری میں رکھی گئی جس کے بعد مختلف ادوار میں اس کی تعمیر و توسیع کا کام جاری رہا۔ پیغمبر اکرمؐ اور حضرت علیؑ کا دولت سرا بھی اس مسجد کے ساتھ بنا ہوا تھا لیکن بعد میں جب مسجد نبوی کو توسعہ دیا گیا تو یہ مکانات بھی مسجد میں شامل ہو گئے۔ مسجد نبوی مسلمانوں خاص کر شیعیان حیدر کرار کے یہاں خاس اہمیت کی حامل ہے اور یہ مسجد ان کے زیارتی مقامات میں شامل ہے۔

اسامی

مسجد نبوی کو جامع مدینہ، مسجد الرّسول، مسجد رسول اللہ، مسجد النبی اور مسجد مدینہ بھی کہا جاتا ہے لیکن اس کا سب سے مشہور نام "مسجد نبوی" یا "مَسجدُالنَّبی" ہے۔ پیغمبر اکرمؐ جہاں اس مسجد میں نماز جماعت پڑھاتے تھے وہاں اس وقت کے سیاسی اور سماجی امور بھی اسی مسجد میں انجام دیتے تھے،[1] اسی وجہ سے قدیم زمانے سے ہی یہ مسجد، مسجد نبوی کے نام سے جانی جاتی تھی۔ اسی طرح کہا جاتا ہے کہ اس مسجد میں پیغمبر اکرمؐ کے دولت سرا کا شامل ہونا بھی اس کی نامگذاری میں مؤثر تھا۔[2] بعض احادیث میں پیغمبر اکرمؐ نے خود اس مسجد کو "مسجدی" (میری مسجد) سے تعبیر فرمایا ہے۔[3]

یہ مسجد سعودی عرب کے شہر مدینہ منورہ کے مرکز میں واقع ہے۔[4]

تاریخچہ

عصر نبوی

جس وقت پیغمبر اکرمؐ یثرب میں داخل ہوئے تو آپ کی سواری کو آزاد چھوڑ دیا گیا اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ جہاں آپ کی سواری رکے گی وہیں آپؐ کا محل سکونت ہوگا، یوں جہاں آپؐ کی سواری رکی اسی جگہ مسجد اور آپ کیلئے قیام گاہ تعمیر کی گئی اس کے بعد رفتہ رفتہ دوسرے مسلمانوں نے بھی مسجد کے اطراف میں اپنے لئے گھر بنانا شروع کیا اور ان تمام گھروں کے دروازے مسجد کے اندر کھلتے تھے۔[5] مسجد نبوی کو 1050 مربع میٹر مساحت پر لکڑی اور مٹی سے بنایا گیا۔ مسجد نبوی کے شمالی حصہ پر جہاں اصحاب صفہ قیام کرتے تھے، کھجور کی ٹہنیوں سے چھت بنائی گئی تھی۔[6] مسجدالاقصی سے قبلہ کی مسجدالحرام کی طرف منتقلی کی وجہ سے مسجد کے جنوب میں واقع دروازے کو بند کر کے اسے شمالی حصے میں منتقل کیا گیا جس کے ساتھ شمالی حصے میں موجود اصحاب صفہ کا مقام بھی مسجد کے جنوب میں منتقل کیا گیا۔[7] سنہ 7 ہجری کو مسلمانوں کی آبادی میں اضافہ کی وجہ سے مسجد نبوی کو توسیع دے کر اس کی مساحت کو 2475 مربع میٹر تک پہچایا گیا۔[8]

خلیفہ دوم اور سوم کا دور

سنہ 17 ہجری میں مسجد نبوی کے اطراف میں موجود مکانات کو بھی مسجد میں شامل کر قبلے کی طرف سے تقریبا 5 میٹر، مغرب کی جانب سے 10 میٹر اور شمال کی جانب سے 15 میٹر توسیع دی گئی۔[9] اسی طرح سنہ 29 ہجری میں خلیفہ سوم نے دوبارہ بعض مکانات کو ان کے مالکین کی مخالفت کے باوجود تخریب کر کے مسجد نبوی میں مزید 496 میٹر اضافہ کر دیا۔ اس دفعہ انہوں نے مسجد نبوی کی تعمیر میں تزیین شدہ پتھروں کا استعمال کیا گیا جبکہ مسجد کی چھت کو بھی ٹیک کی لکڑی سے مزین کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ مسجد کے اگلے حصے میں امام جماعت کے کھڑے ہونے کیلئے محراب بھی بنائی گئی۔[10]

بنی امیہ کا دور

عمر بن عبد العزیز جب مدینہ کے گورنر بنے تو انہوں نے سنہ 88 سے 91 ہجری تک مسجد کی تعمیر و توسیع کے حوالے سے بہت زیادہ کام کیا یہاں تک کہ ایک قول کی بنا پر کہا جاتا ہے کہ انہوں نے مسجد کو 7500 مربع میٹر تک وسعت دی۔[11] انہوں نے خلیفہ وقت ولید بن عبدالملک کے حکم سے روضہ پیغمبر اکرمؐ کے اردگرد دیوار بنائی اور حجرہ پیغمبر کو بھی مسجد میں شامل کر دیا۔ اسی طرح انہوں نے خلیفہ وقت کے حکم سے حضرت فاطمہ(س) کے گھر کو بھی جو اس وقت امام حسینؑ کی بیٹی اور حسن بن حسن بن علی کی زوجہ فاطمہ صغری کی ملکیت میں تھا، مسجد میں شامل کر دیا۔[12] بعض مورخین کا خیال ہے کہ ولید کے اس کام کا اصلی مقصد حسن بن حسن کی ملیکت سے حضرت زہرا(س) کے گھر کو چھیننا اور اسے مسجد نبوی سے دور کرنا تھا اسی وجہ سے لوگ سالوں سال تک اس حصے کو غصبی سمجھ کر اس میں نماز پڑھنے سے پرہیز کرتے تھے۔[13] اس عرصے کی خاص بات رومی ماہرین کے توسط سے مسجد کی عمارت کا استحکام اور تزیین تھی۔[14] ولید نے مسجد نبوی کی تعمیر میں قیصر روم سے مدد طلب کی تو اس نے ایک لاکھ مثقال سونے کا عطیہ دینے کے علاوہ ایک سو ماہرین کی ٹیم بھی بھیجی۔[14]

بنی عباس کا دور

مہدی عباسی نے سنہ 161 یا 162 ہجری کو مسجد نبوی میں 2450 میٹر کا اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ مسجد کی ستونوں اور دروازوں کی تعداد میں بھی اضافہ کیا۔ ان کے دور میں مسجد نبوی کے 20 دروازے تھے؛ شمالی حصے میں چار جبکہ مغرفی اور مشرقی حصے میں آٹھ آٹھ دروازے تھے۔ اس توسیعی منصوبے میں مسجد نبوی کے اطراف میں موجود بہت سراے مکانات جو مختلف صحابہ کرام کے نام سے مشہور تھے، مسجد میں شامل کئے گئے، من جملہ ان مکانات میں عبداللہ بن مسعود، شُرَحْبیل بن حَسنۃ اور مِسْور بن مَخْرمہ کے مکانات شامل تھے۔[15]

آگ لگنا

سنہ 654 ہجری سلسلہ بنی عباس کے خاتمے سے تین سال پہلے مسجد نبوی میں آگ لگ گئی جس سے مسجد کو بہت نقصان ہوا۔ اس واقعے کے بعد مصر نے مسجد نبوی کی مرمت کیلئے اپنے معماروں کو بھیجا، اسی دوران محمد بن قلاوون نے مسجد نبوی کے مشرقی اور مغربی حصے پر چھت کا بندوبست بھی کیا۔ سنہ 705 اور 706ھ کے دوران مسجد نبوی کیلئے متعدد صحن بھی بنائے گئے۔[16]

سنہ 886ھ کو ایک بار پھر آسمانی بجلی کی وجہ سے مسجد نبوی میں آگ لگ گئی۔ اس دفعہ بھی مصر نے مرمت کی ذمہ داری سنبھالی اور مرمت کے ساتھ ساتھ کاروان سرا، مدرسہ اور کیچن بھی تعمیر کی۔ اس تعمیری منصوبے کے بعد مسجد کی مساحت 9010 مربع میٹر تک پہنچ گئی۔[17]

عثمانیوں کا دور

سلطان عبدالحمید اول نے 1265ھ سے تیره سال کے دوران مسجد نبوی کو مستحکم اور خوبصورت انداز میں تعمیر کرایا۔ بعض مورخین کا خیال ہے کہ اس دور کی تعمیر گذشتہ کی نسبت زیادہ مستحکم تھی۔[18]

آل سعود کا دور

1373ھ کو عبد العزیز آل سعود نے مسجد نبوی کی کل مساحت 16327 مربع میٹر تک پہنچائی۔ اس دفعہ مسجد نبوی کے شمالی، مغربی اور مشرقی حصے میں مجموعی طور پر 6025 میٹر کا اضافہ کیا گیا، اس کے علاوہ اطراف میں موجود مزید مکانات کو تخریب کر کے 16931 میٹر مسجد کے اطراف میں پارکینگ اور رفت و آمد کے لئے خالی کرایا گیا۔[19]

سنہ 1405ھ کو مسجد نبوی کی توسیع کے آخری مرحلے میں ملک فہد بن عبد العزیز نے مسجد کی مجموعی مساحت کو 82000 مربع میٹر تک پہنچائی۔ اس دور میں مسجد نبوی میں جہاں بیک وقت 137000 نمازیوں تک کی گنجائش پیدا کی گئی وہاں مسجد کی چھت کو بھی 90000 نمازیوں کیلئے نماز پڑھنے کے قابل بنا دیا گیا یوں مسجد نبوی میں مجموعی طور پر بیک وقت 257000 نمازیوں کی گنچائش پیدا ہوگئی۔[20] ملک فہد نے وضو کیلئے بھی متعدد مکانات تعمیر کرائے اور مختلف ستونوں کے اوپر روشنائی کی خاصر متعدد بڑے بڑے لامپ نصب کئے گئے۔ اس کے علاوہ مختلف صحنوں میں آٹومیٹک چھتریاں پر نصب کی گئی تاکہ بارش اور دھوپ سے محفوظ ره سکے۔ اسی طرح اس دور میں مسجد کے 6 مینارے تعمیر کئے گئے جن کی بلندی 104 میٹر تھی۔ اس وقت مسجد نبوی کے دس مینار ہیں۔[21]

اہمیت اور مقام و منزلت

دینی اور مذہبی اعتار سے

مسجد نبوی کی دیوار پر شیعہ ائمہ معصومین کا نام

مسجد نبوی مسجد الحرام کے بعد مسلمانوں کے یہاں سب سے مقدس مقام ہے جس کے مخصوص احکام بھی ہیں۔ اس مسجد میں کے اندر اور اس کے اطراف میں موجود مختلف مقامات نے اس کی اہمیت میں دو چنداں اضافہ کیا ہے جن میں پیغمبر اکرمؐ کا روضہ مبارکہ اور آپ کا دولت سرا نیز قبرستان بقیع جس میں صدر اسلام کی اہم شخصیات مدفون ہیں، شامل ہیں۔[22] حجاج کرام حج کی ادائیگی سے پہلے یا بعد میں مسجد نبوی کی زیارت کیلئے مدینہ جانے کو اپنی اس معنوی سفر کو پایہ تکمیل تک پہچنے کا سبب سمجھتے ہیں۔[23] مسجد نبوی شیعوں کے یہاں مختلف حوالے سے خاص اہمیت کا حامل ہے جن میں سے بعض کا ذکر کیا جاتا ہے: