مندرجات کا رخ کریں

اصحاب صفہ

ویکی شیعہ سے

اَصْحاب صُفّہ پیغمبر اکرمؐ کے صحابہ کا ایک گروہ تھا جو مدینہ ہجرت کے بعد مسجد نبوی کے شمالی حصے میں آباد ہوئے اور قبائل میں اپنے گھر، جائیداد اور مقام کو کھونے یا ترک کرنے کی وجہ سے انہوں نے غربت اور تنگدستی کو قبول کیا اور عبادت، تعلیم اور جہاد کی طرف متوجہ ہوئے۔ پیغمبر اکرمؐ نے انہیں اپنی پناہ میں لے لیا۔ بعض مفسرین نے ان کے بارے میں بعض قرآنی آیات کے نزول کی بات کی ہے۔

مسجد نبوی کے جوار میں سکونت

یہ گروہ مسجد نبوی کے شمالی حصے میں[1] مسجد کے باہر مسجد سے ملے ہوئے ایک بڑے چھت والی جگہ میں رہتے تھے، جسے صُفّہ یعنی ایک چبوترہ یا برآمدہ کہا جاتا تھا[2] اور رفتہ رفتہ اصحاب صفہ، اہل صفہ، اور بسا اوقات اصحاب الظلہ سے مشہور ہوئے۔[3] اصحاب صفہ دنیا کے ظاہر کو چھوڑ کر آخرت کی طرف رجوع کرنے کے لیے نمونہ بن گئے۔

اصحابِ صفہ رسول اللہ کی حمایت میں

رسول اللہؐ اصحاب صفہ کی حمایت کرتے تھے اور ان کے ساتھ دوستی اور صحبت کرتے تھے[4] اور انہیں "اضیاف الاسلام" کہہ کر[5] مسلمانوں کو ان کی تعظیم کی ترغیب دیتے تھے اور ساتھ ہی ساتھ ان کے فضائل و مراتب کو بھی پہچاننے کی تشویق کرتے تھے۔[6]

معاشی صورتحال

روایات میں اصحاب صفہ کی غربت اور تنگدستی کا بہت ذکر ہوا ہے؛ جہاں تک ان کا تعلق ہے، وہ اپنی انتہائی غربت کی وجہ سے ایک کھجور پر قناعت کرتے تھے اور کبھی کپڑے نہ ملنے کی وجہ سے ریت میں خود کو چھپاتے تھے۔ اگرچہ پیغمبر اکرمؐ کی کوششوں سے ان کی مالی پریشانیاں بتدریج کم ہوتی گئیں اور جو لوگ صفہ چھوڑنے کے خواہشمند تھے انہیں زیادہ مناسب جگہ پر سکونت کا موقع ملا تھا، لیکن ان میں سے ایک گروہ جو دنیا کو بالکل ترک کرچکا تھا، اس موقع کی دستیابی کے باوجود عبادت اور درس و تدریس کا سلسلہ جاری رکھا ہوا تھا۔

اسی وجہ سے اصحاب صفہ کی اصل شکل بدل گئی اور غریب مہاجرین کے ایک گروہ کے طور پر پہچانے گئے، اور یہ لقب اپنی مخصوص شکل تبدیل ہو کر ایک عمومی لقب کی صورت اختیار کر گیا، اور وہ لوگ اسے استعمال کرتے تھے جو غربت اور گھر نہ ہونے کی وجہ سے صفہ میں رہ رہے تھے۔[7]

اہل صفہ کی تعداد

اصحاب صفہ کے عنوان کی شکل اور معنی میں تبدیلی، ان کی تعداد کے بارے میں تاریخی روایات میں اختلاف کا باعث بنی اور ہر راوی نے مدینہ میں موجودگی کے دوران اس گروہ کو دیکھ کر اس وقت کے حالات کے مطابق ان کی تعداد کے بارے میں رائے دی ہے اور بعض اوقات ان کی تعداد 400 تک پہنچائی ہے۔[8] ابوذر غفاری، حذیفہ عبسی، واثلہ لیثی، ابی مویہبہ، عمار یاسر، بلال حبشی، خباب بن ارت، سلمان فارسی، اور صہیب بن سنان رومی کو اصحاب صفہ کے طور پر درج کیا گیا ہے۔[9]

مصنفین کی تالیفات میں اہل صفہ

ابو نعیم اصفہانی،[10] ہجویری[11] اور بعض دوسرے مصنفین نے جو اصحاب صفہ کو اولیاء اللہ مانتے ہیں، ان کے متعدد ناموں کا ذکر کیا ہے، جن میں بعض صحابہ کرام، جیسے ابوذر غفاری، سلمان فارسی، بلال بن رباح، واثلہ بن اسقع اور ابو ہریرہ کا نام بھی ذکر کیا ہے۔[12] اصحاب صفہ میں بعض لوگوں کا نام ذکر کرنا بعض اوقات مصنفین کے رجحانات سے دور نہیں تھے۔[13]

نیز ابو عبد الرحمٰن سلمی (متوفی 412ھ) نے تاریخ اہل الصفہ نامی کتاب میں ان کے فضائل و مناقب پر بحث کی ہے۔[14]

اہلِ صفہ کے بارے میں آیات

اہلِ صفہ کی اسلامی خصوصیات اور اقدار بعض مفسرین کے لیے ان کے بارے میں متعدد قرآنی آیات کے نزول کی بات کرنے[15] اور ان کی تفسیر میں ان کا حوالہ دینے کا باعث بنی ہیں۔[16]

اہل صفہ سے انتساب

چوتھی اور پانچویں صدی ہجری میں زاہد کی طرف مائل گروہوں خصوصاً صوفیاء اپنے آپ کو اصحاب صفہ سے منسوب کرتے تھے،[17] یہاں تک کہ وہ "صوفی" کے لقب کو بھی صُفہ سے ماخوذ سمجھتے تھے اور اس تعلق کو گہرا اور مضبوط ظاہر کرنے کی کوشش کرتے تھے؛ وہ بھی ایک ایسا اشتقاق جو زیادہ تر معنوی اعتبار سے تو درست نظر آتا ہے لیکن صَرفی اعتبار سے غلط ہے،[18] [یادداشت 1] جیسے کہ عرفان کے بزرگ ابوالقاسم قشیری (متوفی 465 ہجری) اور صوفی اور کتاب عوارف المعارف کے مصنف شہاب الدین ابو حفص عمر سہروردی (متوفی 632 ہجری) نے اس اشتقاق کو مفہوم اور معنائی قرار دیا ہے نہ کہ لغت کے اعتبار سے۔[19]

متعلقہ مضامین

مہاجرین

حوالہ جات

  1. ابن تیمیہ، مجموعہ الرسائل و المسائل، ج1، ص34۔
  2. ابن منظور، لسان، ج9، ص159۔
  3. مراجعہ کریں: ابن سعد، کتاب الطبقات الکبیر، ج1 (2)، ص48، جاہای مختلف۔
  4. مراجعہ کریں: احمدبن حنبل، مسند، ج2، ص515۔
  5. مراجعہ کریں: احمدبن حنبل، مسند، ج2، ص515۔
  6. سراج، اللمع، ص132-133۔
  7. مراجعہ کریں: ذہبی، تاریخ الاسلام، ص400؛ سیوطی، الدر المنثور، ج2، ص89۔
  8. مراجعہ کریں: راوندی، النوادر (نوادر الراوندی)، ص25؛ بیضاوی، انوار التنزیل، ج1، ص267۔
  9. مشکور و مدیر کاظم شانہ چی، فرہنگ فرق اسلامی،آستان قدس رضوی، موسسہ چاپ و انتشارات، ص62۔
  10. ابونعیم اصفہانی، حلیہ الاولیاء، ج1، ص143، 374، جاہای مختلف۔
  11. ابوالقاسم ہجویری، کشف المحجوب، ص97-99۔
  12. نیز مراجعہ کریں: احمد بن حنبل، مسند، ج3، ص490؛ ابن سعد، کتاب الطبقات الکبیر، ج1 (2)، ص14، 48، جاہای مختلف؛ ہجویری، کشف المحجوب، ص97، 98۔
  13. مثلاً مراجعہ کریں: ہجویری، کشف المحجوب، ص99۔
  14. مراجعہ کریں: ہجویری، کشف المحجوب، ص99؛ ابن تیمیہ، مجموعہ الرسائل و المسائل، ج1، ص36۔
  15. بقرہ:2، آیہ273، انعام:6، آیہ52، کہف:18، آیہ28۔
  16. مثلاً مراجعہ کریں: ابن سعد، کتاب الطبقات الکبیر، ج1 (2)، ص13؛ قمی، تفسیر، ج1، ص202؛ طبری، تفسیر، ج25، ص19؛ فخرالدین رازی، التفسیر الکبیر، ج7، ص84؛ سیوطی، الدر المنثور، ج2، ص88، ج7، ص352۔
  17. مراجعہ کریں: سراج، اللمع، ص27۔
  18. مراجعہ کریں: ابن جوزی، تلبیس ابلیس، ص162۔
  19. مراجعہ کریں: خاوری، ذہبیہ، ج1، ص33؛ نیز کلاباذی، التعرف لمذہب اہل التصوف، ص21۔

نوٹ

  1. "صُفہ" سے منسوب ہو تو اس کا صُفی بنتا ہے اور "صوفی" لفظ صوف سے منسوب ہے جس کا مطلب "اونی کپڑا پہنا ہوا" ہے۔ مشکور، و مدیرشانہ چی، فرہنگ فرق اسلامی ج1، ص63

مآخذ

  • قرآن کریم.
  • ابن تیمیہ، احمد، مجموعہ الرسائل و المسائل، بیروت، 1403ھ/1983ء۔
  • ابن جوزی، عبدالرحمان، تلبیس ابلیس، بہ کوشش محمد منیر دمشقی، قاہرہ، 1928ء۔
  • ابن سعد، محمد، کتاب الطبقات الکبیر، بہ کوشش زاخاو و دیگران، لیدن، 1904- 1905ء۔
  • ابو نعیم اصفہانی، احمد، حلیہ الاولیاء، قاہرہ، 1351ھ/1932ء۔
  • احمد بن حنبل، مسند، قاہرہ، 1313ھ۔
  • بیضاوی، عبداللہ، انوار التنزیل، بیروت، مؤسسہ شعبان.
  • خاوری، اسداللہ، ذہبیہ، تہران، 1362ہجری شمسی۔
  • ذہبی، محمد، تاریخ الاسلام، بخش سیرہ نبوی، بہ کوشش عمر عبدالسلام تدمری، بیروت، دارالکتاب العربی.
  • راوندی، فضل اللہ، النوادر (نوادر الراوندی)، نجف، 1370ھ/ 1951ء۔
  • سراج، عبداللہ، اللمع، لیدن، 1914ء۔
  • سیوطی، الدر المنثور، بیروت، 1403ھ۔
  • فخر الدین رازی، محمد، التفسیر الکبیر، قاہرہ، المطبعہ البہیہ.
  • قمی، علی، تفسیر، قم، 1387ھ/1968ء۔
  • کلاباذی، محمد، التعرف لمذہب اہل التصوف، بہ کوشش عبدالحلیم محمود و طہ عبدالباقی، قاہرہ، 1380ھ/1960ء۔
  • ہجویری، علی، کشف المحجوب، بہ کوشش ژوکوفسکی، سن پترزبورگ، 1344ھ/ 1926ء۔
  • مشکور، محمد جواد و مدیر شانہ چی، کاظم، فرہنگ فرق اسلامی، آستان قدس رضوی، موسسہ چاپ و انتشارات، بی جا، بی تا.