مندرجات کا رخ کریں

پیغمبر خدا کا حضرت خدیجہ سے نکاح

ویکی شیعہ سے

پیغمبرخدا (ص) کی حضرت خدیجہ (س) سے شادی، حضرت محمد(ص) اور حضرت خدیجہ (س) کا رشتہ ازدواج بعثت نبوی سے تقریباً پندرہ سال قبل وجود میں آیا۔ مشہور روایت کے مطابق نکاح کے وقت پیغمبر اکرم (ص) کی عمر پچیس سال اور حضرت خدیجہ (س) کی چالیس سال تھی۔

حضرت خدیجہ اور پیغمبر اکرم(ص) کی آشنائی ایک تجارتی سفر کے دوران ہوئی۔ پیغمبر اکرم(ص) نے حضرت خدیجہ (س) کے ایک تجارتی قافلے کے ساتھ تجارت کے لئے شام کا سفر کیا۔ سفر سے واپسی پر، جب حضرت خدیجہ کو آپؐ کی دیانت اور خوش‌ اخلاقی کا علم ہوا تو انہوں نے پیغمبر اکرم(ص) کی شخصیت سے متاثر ہوکر شادی کی خواہش ظاہر کی۔ بعض روایات میں کہا گیا ہے کہ یہ شادی اصل میں حضرت خدیجہ (س) کے مال و دولت کی لالچ میں انجام پائی تھی، لیکن محققین اس نظریہ کو پیغمبر اکرم (ص) کی سیرت اور حضرت خدیجہ (س) کی جانب سے براہِ راست شادی کی پیشکش کو مد نظر رکھتے ہوئے ناقابل قبول سمجھتے ہیں۔

حضرت خدیجہ سے پیغمبر اکرم (ص) کی تین اولاد قاسم، حضرت فاطمہ(س) اور عبد اللہ ہوئیں۔ بعض تاریخی روایات میں زینب، رقیہ اور ام کلثوم کو بھی پیغمبر اکرم (ص) کی بیٹیوں کے طور پر ذکر کیا گیا ہے، تاہم شیعہ علماء اس بات کے معتقد ہیں کہ حضرت خدیجہ (س) نے پیغمبر اکرم (ص) سے پہلے کسی سے نکاح نہیں کیا تھا، لہٰذا یہ تینوں بیٹیاں در اصل پیغمبر اکرم (ص) کی منہ بولی بیٹیاں تھیں۔

تاریخی منابع کے مطابق حضرت خدیجہ کا حق مہر بارہ اوقیہ (ہر اوقیہ 40 درہم کے برابر)، بیس جوان اونٹ یا پانچ سو درہم بتایا گیا ہے۔

پیغمبر اکرمؐ کی پہلی شادی

حضرت خدیجہ، پیغمبر اسلام (ص) کی پہلی زوجہ تھیں،[1] اور آپؐ نے ان کے ساتھ پچیس برس تک زندگی گزاریں۔[2] آپ دونوں کا نکاح بعثت نبوی سے تقریباً پندرہ سال یا اس سے کچھ عرصہ پہلے ہوا تھا۔[3] بعض روایات کے مطابق یہ نکاح 10 ربیع الاول، 25 عام الفیل کو ہوا اور خطبہ عقد حضرت ابوطالب(س) نے پڑھا تھا۔[4]

مہر

بلاذری (متوفی:279ھ) کی کتاب انساب الاشراف میں آیا ہے کہ پیغمبر اکرم(ص) نے حضرت خدیجہ (س) کا مہر 12 اوقیہ (ہر اوقیہ 40 درہم کے برابر) مقرر کیا۔[5] اس کے علاوہ دوسرے منابع میں حضرت خدیجہ (س) کا حق مہر بیس جوان اونٹ،[6] یا پانچ سو درہم[7] ذکر کیا گیا ہے۔ طبرسی (متوفی: 548ھ) کے مطابق یہی مقدار، پیغمبر اکرم (ص) کی تمام ازواج کے لئے حق مہر کے طور پر متعین تھی۔[8]

نکاح کی تجویز اور اس کے علل و اسباب

حضرت خدیجہ(س) اور پیغمبر اکرم(ص) کی آشنائی شام کے ایک تجارتی سفر کے دوران ہوئی۔ پیغمبر اکرم (ص) ، حضرت ابوطالب(س) کی تجویز اور حضرت خدیجہ (س) کی دعوت پر اُن کا مال، تجارت کے لئے شام لے گئے۔[9] خدیجہ کے غلام میسرہ نے سفر سے واپسی پر پیغمبر اکرم (ص) کی دیانت و نیک خصلت کی تعریف کی۔[10] حضرت خدیجہ (س) پیغمبر اکرم (ص) سے متاثر ہوکر آپ (ص) کے ساتھ نکاح کی خواہش ظاہر کی، جب پیغمبر اکرم (ص) نے اپنی رضایت کا اظہار کیا تو ابوطالب (س) اور حضرت حمزہ (س) نے حضرت خدیجہ (س) کے چچا عمرو بن اسد سے پیغمبر اکرم(ص) کے لئے خدیجہ کا رشتہ مانگا۔[11]

ایک روایت کے مطابق شام سے ان کے تجارتی قافلے کی واپسی پر جناب خدیجہ(س) نے خود براہِ راست پیغمبر اکرم (ص) کو شادی کی پیشکش کی اور کہا کہ آپ سے رشتہ داری، آپ کی امانت داری، حسن خلق اور صداقت کی بنا پر آپ (ص) سے عقد کرنا چاہتی ہوں۔[12] بعض روایات میں اس نکاح میں ایک خاتون کی وساطت کا بھی ذکر ملتا ہے۔[13] بعض روایات میں آیا ہے کہ حضرت خدیجہ(س) نے اپنے والد خُوَیلد کو اس نکاح پر راضی کرنے کے لئے شراب کا سہارا لیا تھا،[14] لیکن محققین نے اس روایت کو جعلی قرار دیا ہے کیونکہ اگر یہ واقعہ صحیح ہوتا تو نکاح کو اُسی وقت باطل قرار دینا چاہئے تھا۔[15] محققین کے مطابق یہ روایتیں بنی‌ فاطمہ کی دشمنی میں گھڑی گئی ہیں کیونکہ شیعہ ائمہ (ع) اسی مبارک شادی کے سبب، وجود میں آئے ہیں۔[16]

بعض مورخین جناب خدیجہ (س) کے مال و دولت کو اس شادی کی اصل بنیاد قرار دیتے ہیں حالانکہ محققین اس نظریہ کو سیرت نبوی اور خود جناب خدیجہ(س) کی طرف سے شادی کی پیشکش کے ساتھ ناسازگار قرار دیتے ہیں۔[17] تاریخ اسلام کے محقق عباس زریاب خویی (متوفی:1373ہجری شمسی) نیز اس بات کے معتقد ہیں کہ حضرت خدیجہ(س) جیسی خاتوں کا پیغمبر اکرم(ص) کی شخصیت سے متاثر ہونا پیغمبر اکرم(ص) کے اعلی سماجی مقام، اپ کی امانت داری اور صداقت جیسے اخلاقی فضائل میں آپ(ص) کی شہرت کا نتیجہ ہیں۔[18]

شادی کے وقت پیغمبر(ص) اور خدیجہ (س) کی عمر

مشہور مورخین کے مطابق شادی کے وقت پیغمبر اکرم(ص) کی عمر 25 سال[19] اور حضرت خدیجہ (س) کی عمر 40 سال[20] بیان ہوئی ہے۔ لیکن بعض تاریخی منابع میں جناب خدیجہ(س) کی عمر 21 سے 46 سال،[21] اور پیغمبر اکرم(ص) کی عمر 21 سے 37 سال[22] کے درمیان مذکور ہے۔ سید جعفر شہیدی (متوفی: 1386ہجری شمسی) کے مطابق حضرت خدیجہ (س) کے ساتھ پیغمبر اکرم (ص) کی متعدد اولاد ہونے کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کی عمر 40 سال سے کم ہونا چاہئے۔[23] اسی طرح سید جعفر مرتضی عاملی (متوفی: 1398ہجری شمسی) کے بقول اکثر مؤرخین نے نکاح کے وقت حضرت خدیجہ (ص) کی عمر 28 سال تحریر کیا ہے۔[24]

کیا خدیجہ(س) پیغمبر اکرم(ص) پہلے کسی سے نکاح کرچکی تھیں؟

رسول خدا(ص) کی تمام اولاد سوائے ابراہیم کے حضرت خدیجہ(س) سے ہوئی۔[25] بعض تاریخی روایات میں آپ دونوں کی 6 اولاد کا ذکر ملتا ہے: حضرت فاطمہ(س)، قاسم، عبداللہ، زینب، رقیہ اور ام‌ کلثوم۔[26] بعض منابع کے مطابق حضرت خدیجہ(س) پیغمبر اکرم(ص) سے شادی کرنے سے پہلے دو بار نکاح کرچکی تھیں[27] اور زینب، رقیہ اور اُمّ‌ کلثوم اُن کے سابق شوہروں سے تھیں، لیکن شیعہ علماء کا اجماع ہے کہ حضرت خدیجہ(س) پیغمبر اکرم(ص) کے ساتھ نکاح کے وقت دوشیزہ تھیں،[28] اور یہ تینوں لڑکیاں حضرت خدیجہ کی بہن کی بیٹیاں تھیں جو پیغمبر اکرم(ص) کی کفالت میں رہیں۔[29]

حوالہ جات

  1. ابن‌قتیبہ دینوری، المعارف، 1992م. ص132۔
  2. آیتی، تاریخ پیامبر اسلام محمد، 1391ش، ص57۔
  3. مرادی، «خدیجہ»، ج22، ذیل مدخل۔
  4. مقریزی، إمتاع الأسماع، 1420ھ، ج1، ص17۔
  5. بلاذری، أنساب الأشراف، دار المعارف، قاہرہ، 1394ھ، ج1، ص97۔
  6. آیتی، تاریخ پیامبر اسلام محمد، 1391ش، ص56۔
  7. استرابادی،‌ آثار احمدی، 1374ہجری شمسی۔ص72۔
  8. طبرسی، إعلام الوری، 1376ش، ج1، ص275۔
  9. ابن‌سعد، الطبقات الکبری، 1410ھ، ج1، ص103 و 104 و 105۔
  10. الحلبی، السیرۃ الحلبیہ، دار الكتب العلميۃ، ج1، ص193۔
  11. ابن‌سعد، الطبقات الکبری، 1410ھ، ج1، ص103 و 104 و 105؛ عاملی، الصحیح من سیرۃ النبی الاعظم، 1427ھ، ج2، ص189۔
  12. ابن‌ہشام، السیرۃ النبویۃ، قاہرہ، ج1، ص122۔
  13. حلبی، السیرۃ الحلبیہ، دار الكتب العلميۃ، ج 1، ص199؛ سبحانی، فروغ ابدیت، 1385ش، ج1، ص193۔
  14. حلبی، السیرۃ الحلبیۃ، 1427ھ، ج1، ص193.
  15. زریاب خویی، سیرہ حضرت رسول، 1388ش، ص96۔
  16. زریاب خویی، سیرہ حضرت رسول، 1388ش، ص96۔
  17. قدردان قراملکی، پاسخ بہ شبہات کلامی دفتر سوم: دربارہ پیامبر اعظم، ص33-34۔
  18. زریاب خویی، سیرہ حضرت رسول، 1388ش، ص95و 96۔
  19. یعقوبی، تاریخ یعقوبی، بیروت، ج2، ص20؛ بخاری، التاریخ الصغیر، 1406ھ، ج1، ص43؛ ابن‌ہشام، السیرۃ النبویۃ، قاہرہ، ج1، ص121؛ حلبی، السیرۃ الحلبیۃ، 1427ھ، ج1، ص193۔
  20. بلاذری، أنساب الأشراف، 1394ھ، ج1، ص98؛ ابن‌سعد، الطبقات الکبری، 1410ھ، ج1، ص105۔
  21. مقریزی، إمتاع الأسماع، 1420ھ، ج1، ص17؛ طہماز، السیدۃ خدیجۃ أم‌المؤمنین و سباقۃ الخلق إلی الإسلام، 1417ھ، ص37 و 38 و 39۔
  22. طہماز، السیدۃ خدیجۃ أم‌المؤمنین و سباقۃ الخلق إلی الإسلام، 1417ھ، ص36؛ ابن‌عبدالبر، الاستیعاب، 1412ھ، ج4، ص1818۔
  23. شہیدی، تاریخ تحلیلی اسلام، 1392ش، ص42۔
  24. عاملی، الصحیح من سیرۃ النبی الاعظم، 1427ھ، ج2، ص200۔
  25. ابن‌قتیبہ دینوری، المعارف، 1992م. ص132۔
  26. ابن‌سعد، الطبقات الکبری، 1410ھ، ج1، ص106؛ بخاری، التاریخ الصغیر، 1406ھ، ج1، ص43۔
  27. ابن‌قتیبہ دینوری، المعارف، 1992م، ص133؛ حلبی، السیرۃ الحلبیۃ، 1427ھ، ج1، ص193۔
  28. ابن‌شہرآشوب، مناقب آل أبی‌طالب(ع)، 1412ھ، ج1، ص206؛ عاملی، الصحیح من سیرۃ النبی الاعظم، 1427ھ، ج2، ص207 تا 213۔
  29. کوفی، الاستغاثہ، بی‌تا، ج1، ص68؛ عاملی، الصحیح من سیرۃ النبی الاعظم، 1427ھ، ج2، ص208۔

مآخذ

  • آیتی، محمدابراہیم، تاریخ پیامبر اسلام محمد، تجدید نظر و اضافات ابوالقاسم گرجی، تہران، انتشارات دانشگاہ تہران، 1391ہجری شمسی۔
  • ابن‌سعد، محمد بن سعد، الطبقات الکبری، بیروت، دار الکتب العلمیۃ، 1410ھ۔
  • ابن‌شہرآشوب، محمد بن علی، مناقب آل أبی طالب(ع)، بیروت، دار الأضواء، 1412ھ۔
  • ابن‌عبدالبر، یوسف بن عبداللہ، الاستیعاب فی معرفہ الاصحاب، بیروت، دارالجلیل، 1412ھ۔
  • ابن‌قتیبہ دینوری، عبداللہ بن مسلم، المعارف، تصحیح و تنظیم: عکاشہ ثروت، قاہرہ، الہیئۃ المصریۃ العامۃ للکتاب، 1992ء۔
  • ابن‌ہشام، السیرۃ النبویۃ، قاہرہ، مکتبۃ محمد علی صبیح و أولادہ، بی‌تا۔
  • استرابادی،‌ احمد بن حسن، آثار احمدی، تاریخ زندگانی پیامبر اسلام و ائمہ اطہار، بہ کوشش میرطاہر محدث، تہران، نشر میراث مکتوب، انتشارات قبلہ، 1374ہجری شمسی۔
  • بخاری، محمد بن اسماعیل، التاریخ الصغیر، بیروت، دار المعرفۃ، 1406ھ۔
  • بلاذری، احمد بن یحیی، أنساب الأشراف، قاہرہ، دار المعارف، 1394ھ۔
  • حلبی، علی بن ابراہیم، السیرۃ الحلبیۃ، بیروت، دار الکتب العلمیۃ، 1427ھ۔
  • زریاب خویی، عباس، سیرہ حضرت رسول، تہران، سروش، 1388ہجری شمسی۔
  • شہیدی، سید جعفر، تاریخ تحلیلی اسلام، تہران، علمی فرہنگی، 1392ہجری شمسی۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، إعلام الوری بأعلام الہدی، قم، مؤسسۃ آل‌البیت (علیہم السلام) لإحیاء التراث، 1376ہجری شمسی۔
  • طہماز، عبدالحمید محمود، السیدۃ خدیجۃ أم المؤمنین وسباقۃ الخلق إلی الإسلام، دمشھ، دار القلم، 1417ھ۔
  • عاملی، سید جعفر مرتضی، الصحیح من سیرۃ النبی الاعظم، بیروت، مرکز الاسلامی للدراسات، 1427ھ۔
  • قدردان قراملکی، محمدحسن، پاسخ بہ شبہات کلامی دفتر سوم: دربارہ پیامبر اعظم، تہران، پژوہشگاہ فرہنگ و اندیشہ اسلامی، 1393ہجری شمسی۔
  • کوفی، علی بن احمد، الاستغاثہ فی بدع الثلاثہ، بی‌نا، بی‌تا۔
  • محمودپور، محمد، «خدیجہ»، دانشنامہ جہان اسلام، ج15، تہران، بنیاد دائرہ المعارف اسلامی، 1393ہجری شمسی۔
  • مرادی، عبدالحمید، «خدیجہ»، دائرۃ المعارف بزرگ اسلامی، ج22، تہران، مرکز دائرۃ المعارف بزرگ اسلامی، بی‌تا۔
  • مقریزی، احمد بن علی، إمتاع الأسماع بما للنبی من الأحوال و الأموال و الحفدۃ و المتاع، بیروت، دار الکتب العلمیۃ، 1420ھ۔
  • یعقوبی، احمد بن ابی‌یعقوب، تاریخ یعقوبی، بیروت، دار صادر، بی‌تا۔