بعثت انا و الساعۃ کہاتین
| بُعِثْتُ أَنَا وَ اَلسَّاعَةُ کَهَاتَیْنِ | |
|---|---|
| حدیث کے کوائف | |
| موضوع | پیغمبر اکرمؐ کی بعثت اور قیامت کے درمیان رابطہ |
| صادر از | پیغمبر اکرمؐ |
| شیعہ مآخذ | امالی شیخ مفید، امالی شیخ طوسی، الامامۃ و التبصرۃ من الحیرۃ ، الخرائج |
| اہل سنت مآخذ | صحیح بخاری و.. |
| مشہور احادیث | |
| حدیث سلسلۃ الذہب • حدیث ثقلین • حدیث کساء • مقبولہ عمر بن حنظلۃ • حدیث قرب نوافل • حدیث معراج • حدیث ولایت • حدیث وصایت • حدیث جنود عقل و جہل • حدیث شجرہ | |
بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَۃُ كَہَاتَيْنِ، حدیث نبوی ہے جو اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ رسول اکرمؐ کی بعثت اور قیامت کے درمیان گہرا تعلق پایا جاتا ہے۔ شیخ مفید نے امام جعفر صادقؑ سے روایت کی ہے کہ رسول خداؐ منبر پر تشریف فرما ہوئے، چہرۂ مبارک پر پریشانی کے آثار نمایاں تھے، اور فرمایا: اے مسلمانانو! میری بعثت اور قیامت کا فاصلہ ان دو انگلیوں کی مانند ہے، یہ کہہ کر آپؐ نے اپنی شہادت کی دونوں انگلیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ملا لئے۔[1]
اس حدیث کے مفہوم کے بارے میں دو قسم کے نظریات بیان کئے گئے ہیں:
- قیامت سے متعلق: بعض شیعہ علما، جیسے فضل بن حسن طبرسی،[2] آیت اللہ صافی گلپایگانی[3] اور آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی[4] نے پیغمبر اکرمؐ کی بعثت کو اَشراط السَاعۃ (قیامت کے قریب آنے کی نشانیاں) قرار دی ہیں۔ جبکہ بعض کے نزدیک یہ حدیث قیامت کے یقینی[5] اور قریب الوقوع[6] ہونے کی نشاندہی کرتی ہے۔ آیت اللہ عبد اللہ جوادی آملی کے مطابق یہ حدیث اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ رسول اکرمؐ قیامت اور اس کے حالات سے مکمل طور پر باخبر اور آگاہ ہیں۔[7]
- پیغمبر اکرمؐ کا خاتم النبیین ہونے کی طرف اشارہ: بعض علما اس بات کے معتقد ہیں کہ یہ حدیث حضرت محمدؐ کے خاتم النبیین ہونے کے اوپر دلالت کرتی ہے، یعنی رسول اکرمؐ کے بعد قیامت تک کوئی اور نبی مبعوث نہیں ہوگا۔[8]
یہ روایت شیعہ اور اہل سنت دونوں مکاتب فکر کے منابع میں متعدد اسناد کے ساتھ نقل ہوئی ہے۔ شیخ مفید (متوفی 413ھ) نے اپنی کتاب الامالی میں اسے دو مختلف اسناد کے ساتھ روایت کی ہے۔[9] اسی طرح ابن بابویہ (متوفی 329ھ) نے اپنی کتاب الامامۃ والتبصرۃ من الحیرۃ[10] میں اور شیخ طوسی (متوفی 460ھ) نے کتاب الامالی میں اسی مضمون کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے: «بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَۃُ كَہَذِہِ مِنْ ہَذِہِ» یعنی میری بعثت اور قیامت کے درمیان فاصلہ اتنا ہی ہے جتنا ان دو انگلیوں کے درمیان۔[11] راوندی (متوفی 570 یا 580ھ) نے اسی مفہوم کو اس طرح نقل کیا ہے: «بُعِثْتُ وَالسَّاعَۃُ كَفَرَسَیْ رِہَانٍ» میری اور قیامت کی مثال دو دوڑنے والے گھوڑوں کی سی ہے جو ایک ساتھ دوڑ رہے ہوں۔[12] اہل سنت علما نے بھی اس حدیث کو مسند احمد،[13] صحیح بخاری[14]اور دیگر معتبر کتب میں روایت کی ہیں۔[15]
حوالہ جات
- ↑ مفید، الأمالی، 1403ھ، ج1، ص187 و 211۔
- ↑ طبرسی، مجمع البیان، 1408ھ، ج9، ص154۔
- ↑ صافی گلپایگانی، منتخب الأثر، 1422ھ، ج2، ص33۔
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374ش، ج21، ص449۔
- ↑ «بحث تفسیر موضوعی پیرامون آیات معاد»، فاضل لنکرانی۔
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374ش، ج18، ص138؛ «بحث تفسیر موضوعی پیرامون آیات معاد»، فاضل لنکرانی۔
- ↑ جوادی آملی، اسرار عبادات، 1372ش، ص286۔
- ↑ حلبی، السیرۃ الحلبیۃ، 1427ھ، ج2، ص157؛ جوادی آملی، اسرار عبادات، 1372ش، ص286۔
- ↑ مفید، الأمالی، 1403ھ، ج1، ص187 و 211۔
- ↑ ابنبابویہ، الأمامۃ و التبصرۃ من الحیرۃ، 1412ھ، ص144۔
- ↑ طوسی، الأمالی، 1414ھ، ص337۔
- ↑ راوندی، النوادر، 1418ھ، ص67۔
- ↑ ابنحنبل، مسند الإمام أحمد بن حنبل، 1416ھ، ج19، ص271۔
- ↑ بخارى، صحیح البخاری، 1410ھ، ج8، ص229۔
- ↑ مسلم بن حجاج، صحیح مسلم، 1412ھ، ج2، ص592؛ ابن ماجہ، سنن ابن ماجہ، 1418ھ، ج1، ص74۔
مآخذ
- «بحث تفسیر موضوعی پیرامون آیات معاد»، تارنمای فاضل لنکرانی، تاریخ درج مطلب: 26 ستمبر 2012ء، تاریخ اخذ: 8 اکتوبر 2025ء۔
- ابنبابویہ، علی بن حسین، الأمامۃ و التبصرۃ من الحیرۃ، بیروت، مؤسسۃ آل البیت(ع) لإحیاء التراث، 1412ھ۔
- ابنحنبل، احمد بن محمد، مسند الإمام أحمد بن حنبل، بیروت، مؤسسۃ الرسالۃ، 1416ھ۔
- ابنماجہ، محمد بن یزید، سنن ابن ماجہ، تحقیق بشار عواد معروف، بیروت، دار الجیل، چاپ اول، 1418ھ۔
- بخارى، محمد بن اسماعیل، صحیح البخاری، تحقیق وزارۃ الأوقاف، المجلس الأعلى للشئون الإسلامیۃ، لجنۃ إحیاء کتب السنۃ، مصر، جمہوریۃ مصر العربیۃ، چاپ دوم، 1410ھ۔
- حلبی، علی بن ابراہیم، السیرۃ الحلبیۃ: انسان العیون فى سیرہ الامین المامون، بیروت، دار الکتب العلمیۃ، 1427ھ۔
- جوادی آملی، عبداللہ، اسرار عبادات، تہران، الزہراء، چاپ چہارم، 1372ہجری شمسی۔
- راوندی کاشانی، فضل اللہ بن على، النوادر، تہران، بنیاد فرہنگ اسلامی کوشانپور، 1418ھ۔
- صافی گلپایگانی، لطف اللہ، منتخب الأثر فی الإمام الثانی عشر علیہ السلام، قم، مکتبۃ آیۃ اللہ العظمى الصافی الگلپایگانی وحدۃ النشر العالمیۃ، 1422ھ۔
- طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، بیروت، دار المعرفۃ، 1408ھ۔
- طوسی، محمد بن حسن، الأمالی، قم، دار الثقافۃ، 1414ھ۔
- مسلم بن حجاج، صحیح مسلم، تصحیح محمد فؤاد عبدالباقى، مصر، دار الحدیث، چاپ اول، 1412ھ۔
- مفید، محمد بن محمد، الأمالی، قم، دفتر انتشارات اسلامی، 1403ھ۔
- مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، 1374ہجری شمسی۔