مسجد عمران بن شاہین

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مسجد عمران بن شاہین
مسجد عمران بن شاهین.jpg
ابتدائی معلومات
بانی: عمران بن شاہین
استعمال: مسجد
محل وقوع: نجف
مشخصات
معماری

مسجد عمران بن شاہین نجف کی قدیم ترین مساجد میں سے ایک ہے، جو امام علیؑ کے صحن روضہ کے شمالی سمت میں واقع ہے۔ یہ مسجد اس راہداری میں واقع ہے جو امام علی علیہ السلام کے باب الطوسی کی طرف جاتی ہے نیز چوتھی ہجری قمری میں عمران بن شاہین کے حکم سے بنائی گئی تھی۔ اس بارے میں مختلف آراء کا اظہار کیا گیا ہے کہ آیا یہ عمارت اصل میں ایک مسجد کے لیے بنائی گئی تھی یا یہ ایک دالان تھی اور بعد میں مسجد بن گئی۔ کتاب العروۃ الوثقی کے مصنف سید یزدی کی مزار اسی مسجد میں ہے۔

تاریخچہ

اس مسجد کی تعمیر چوتھی صدی ہجری کی ہے[1] جو جنوب عراق کے حاکم عمران بن شاہین کے ہاتھوں بنی ہے۔[2] عمران، حکومت عضدالدولہ بویہی کے خلاف باغیوں میں سے ایک تھا جسے شکست ہوئی اور اس نے عہد کیا کہ اگر حاکم نے اسے معاف کر دیا تو ایک دالان نجف میں دوسرا کربلا میں تعمیر کرے گا۔[3] لہذا نجف میں اس نے جو دالان بنایا تھا وہ حرم کے شمالی سمت کی طرف واقع تھا اور چونکہ حرم اس وقت چھوٹا تھا یہ صحن کے باہر واقع ہو گیا۔ شاہ عباس صفوی کے دور میں صحن کو وسیع کیا گیا اور اس میں سے کچھ حصہ حرم میں شامل کر لیا گیا۔ 1468 ہجری قمری کو عراق میں وقت کی حکومت نے ایک اور حصہ تباہ کر دیا اور کَشی روڈ کے ساتھ مسجد کا صرف ایک حصہ باقی رہ گیا۔[4]

حرم امام علیؑ میں مسجد عمران بن شاہین کی موقعیت

معماری

مسجد عمران کا موجودہ رقبہ تقریبا 215 مربع میٹر ہے۔ اس مسجد کے چار محراب ایک دوسرے کے مخالف اور آگے ہیں جو مسجد کے فرش سے چھت تک پھیلا ہوا ہے۔ یہاں ایک چھوٹا سا گنبد بھی ہے جس کے بارہ روشندان مسجد کی چھت پر ہیں اور مسجد کے چار محرابوں میں سے ہر ایک کے نیچے ایک کمرے جیسی جگہ بنائی گئی ہے۔[5]

مسجد عمران بن شاہین کی تعمیر نو کا منصوبہ ذی القعدہ کے آغاز میں سنہ 1328 ہجری قمری میں شروع ہوا، اس دوران دیواروں اور چھت کے لیے کنکریٹ ڈال کر اور بیم لگا کر مسجد کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کیا گیا۔[6]

مسجد کے بارہ میں اقوال

شیخ جعفر آل محبوبہ مسجد عمران کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ عمارت اصل میں مسجد نہیں تھی بلکہ حرم کے دالان کی نیت سے بنائی گئی تھی۔ لہذا یہ امام علی کے حرم کے دالانوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اس میں تدفین جائز ہے۔ آل محبوبہ کے مطابق اس حویلی کو امام علیؑ کے حرم سے الگ کرنے کے بعد اس پر مسجد کے احکام جاری کئے گئے۔ ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ اس بات کا بہت کم امکان ہے کہ یہ عمارت اور اس پر لکھی قرآنی آیات عمران بن شاہین کے باقی ماندہ آثار میں سے ہوں۔[7]

سید عبدالمطلب الخرسان اپنی کتاب ’’مساجد و معالم‘‘ میں آل محبوبہ کے خلاف نظریات رکھتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ عمران ابن شاہین کے دالان کی ختم ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے کیونکہ تاریخ میں دالان کی مکمل تباہی اور اس کی تعمیر نو کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ عمارت کی تعمیر نو کے دوران لکھی گئی قرآنی آیات کا مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے، صرف اس عمارت کی دیواریں اور چھتیں باقی رہ جاتی ہیں جو اس کے قدیم ہونے کا ثبوت رکھتی ہیں۔[8]

مسجد عمران بن شاہین کا داخلی منظر جو صحن حرم امام علیؑ کے سامنے ہے اور جس کے داہنے طرف سید یزدی کی قبر ہے۔

سعاد ماہر اپنی کتاب مشہد الامام علی میں کہتے ہیں: مسجد کی عمارت اور اس کی مماثلت کو مزار کے صحن اور بیرونی دیوار کی تعمیر کے طریقہ کار کے ساتھ اس کے تعمیراتی مواد اور یہاں تک کہ اینٹوں اور محرابوں کے لحاظ سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ اس مسجد کے ڈھانچے، حرم کے دالانوں کی تعمیر کے ساتھ بنائے گئے تھے لہذا کم از کم دسویں صدی ہجری میں اور صفوی کے دور میں اسے مسجد میں تبدیل کردیا گیا۔[9]

عمران بن شاہین کی زندگی، مسجد کی تعمیر کی تاریخ اور مختلف صدیوں میں اسے کیسے تبدیل کیا گیا اس کے بارے میں دیگر آراء اور نظریات موجود ہیں۔[10]

مسجد میں مدفون علماء

مسجد عمران بن شاہین جو آج حرم امام علیؑ کے صحن کے شمال میں واقع ہے اور حرم کا حصہ سمجھی جاتی ہے[11] وہاں سید محمد کاظم طباطبائی یزدی، سید عبدالحسین شرف الدین عاملی، سید محمد کاظم مقدس اور شیخ محمد باقر قمی جیسے علماء مدفون ہیں۔[12] [13]

حوالہ جات

  1. حکیم، المفصل فی تاریخ النجف الاشرف، ۱۳۸۵ش، ص۸۲۔
  2. قمی، اماکن زیارتی و سیاحتی عراق، ۱۳۷۷ش، ص۲۵۔
  3. ابن طاووس، فرحۃ الغری، ج۱، ص۱۴۷و۱۴۸۔
  4. مقدس، راہنمای اماکن زیارتی و سیاحتی در عراق، ۱۳۸۸ش، ص۱۱۵۔
  5. معرفی مسجد عمران بن شاہین، پایگاہ رسمی آستان قدس علوی۔
  6. معرفی مسجد عمران بن شاہین، پایگاہ رسمی آستان قدس علوی۔
  7. آل محبوبہ، ماضی النجف و حاضرہا، ۱۹۸۶م، ج۱، ص۱۰۲۔
  8. معرفی مسجد عمران بن شاہین، پایگاہ رسمی آستان قدس علوی بہ‌نقل از مساجد و معالم، ص۱۹و۲۰۔
  9. معرفی مسجد عمران بن شاہین، پایگاہ رسمی آستان قدس علوی بہ‌نقل از مشہد الامام علی، ص۱۵۱۔
  10. برای اطلاعات بیشتر ر۔ک فرطوسی، تاریخچہ آستان مطہر امام علی، ۱۳۹۳ش، ص۳۰۳-۳۱۶۔
  11. علوی، راہنمای مصور سفر زیارتی عراق، ۱۳۸۹ش، ص۱۱۹۔
  12. بابایی، سیمای نجف اشرف، ص۳۸۔
  13. مزار شماری از علما و صُلَحا در نجف، پایگاہ اطلاع‌رسانی حدیث شیعہ۔


مآخذ

  • حکیم، حسن عیسی، المفصل فی تاریخ النجف الاشرف، قم، المکتبۃ الحیدریۃ، ۱۳۸۵ش۔
  • قمی، محمد رضا، اماکن زیارتی و سیاحتی عراق، تہران، مشعر، ۱۳۷۷ش۔
  • ابن طاووس، سید عبدالکریم، فرحۃ الغری فی تعیین قبر امیرالمؤمنین، قم، رضی۔
  • مقدس، احسان، راہنمای اماکن زیارتی و سیاحتی در عراق، تہران، مشعر، ۱۳۸۸ش۔
  • آل محبوبہ، جعفر، ماضی النجف و حاضرہا، بیروت، دار الاضواء، ۱۹۸۶م۔
  • فرطوسی، صلاح مہدی، تاریخچہ آستان مطہر امام علی، ترجمہ: طہ‌نیا، حسین، تہران، مشعر، ۱۳۹۳ش۔
  • بابایی، سعید، سیمای نجف اشرف، تہران، سازمان حج و زیارت۔
  • علوی، احمد، راہنمای مصور سفر زیارتی عراق، قم، معروف، ۱۳۸۹ش۔
  • معرفی مسجد عمران بن شاہین، شبکۃ الامام علی علیہ‌السلام، پایگاہ آستان قدس علوی، تاریخ بازدید: ۱۹ آبان ۱۳۹۹ش۔
  • مزار شماری از علما و صُلَحا در نجف، پایگاہ اطلاع‌ رسانی حدیث شیعہ، تاریخ بازدید: ۳ دی ۱۳۹۹ش۔