ائمہ بقیع

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ائمہ بقیع کے مزار تخریب سے پہلے

ائمہ بقیع سے مراد شیعوں کے وہ چہار امام ہیں جو جنت البقیع، مدینہ میں مدفون ہیں۔ وہ ائمہ یہ ہیں: امام حسن مجتبیؑ، امام سجادؑ، امام محمد باقرؑ اور امام جعفر صادقؑ۔ ان ائمہ کے قبور پر پہلے زمانے میں ضریح بنائی ہوئی تھی لیکن سنہ ۱۳۴۴ ہجری قمری میں وہابیوں کے ہاتھوں انہدام بقیع کے موقع پر انہیں بھی منہدم کر دیا گیا۔

بقیع میں مدفون ائمہ

قرستان بقیع میں شیعوں کے چار امام مدفون ہیں، اسی کی وجہ سے ان اماموں کو ائمہ بقیع کے نام سے بھی یاد کئے جاتے ہیں:

حسن بن علی بن ابی طالب (۳ -۵۰ھ) امام حسن مجتبی کے نام سے مشہور شیعوں کے دوسرے امام اور امام علیؑ اور حضرت فاطمہؑ کے بڑے صاحبزادے ہیں۔ آپؑ 37 سال کی عمر میں امامت پر فائز ہوئے اور سنہ41 ہجری میں معاویہ کے ساتھ صلح کیا۔ آپ کی مدت امامت چھ ماہ تین دن تھی۔ صلح کے بعد آپ مدینہ تشریف لے گئے اور وہاں دس سال زندگی فرمائی۔ سرانجام شہادت کے مرتبے پر فائز ہوئے اور جنت البقیع میں مدفون ہیں۔[1]

علی بن حسین بن علی بن ابی طالب (۳۸ -۹۴ھ)، امام سجاد یا زین العابدین کے نام سے مشہور شیعوں کے چوتھے امام ہیں۔ آپ کی مدت امامت ۳۴ سال تھی۔ آپ واقعہ کربلا میں وجود تھے اور اسرائے اہل بیت کے ساتھ کوفہ اور شام لے جائے گئے۔ شیعہ روایات کے مطابق امام سجادؑ ولید بن عبد الملک کے حکم سے زہر سے مسوم اور شہید ہوئے۔[2] آپ بھی بقیع میں امام حسن مجتبی کے ساتھ مدفون ہیں۔[3]

محمد بن علی بن حسین بن علی بن ابی طالب (۵۷-۱۱۴ھ)، امام باقرؑ کے نام سے مشہور شیعوں کے پانچویں امام ہیں۔ تقریبا ۱۹ سال تک امامت کے منصب پر فائز رہے اور سنہ ۱۱۴ قمری کو ہشام بن عبدالملک کے حکم سے مسموم اور شہید ہوئے۔[4] آپ بھی بقیع میں اپنے پدر بزرگوار امام سجادؑ اور امام حسن مجتبیؑ کے ساتھ مدفون ہیں۔[5]

جعفر بن محمد بن علی بن حسین (۸۳ - ۱۴۸ھ)، امام صادق کے نام سے مشہور شیعوں کے چھٹے امام ہیں۔ آپ کی مدت امامت ۳۴ سال ہے۔امام صادقؑ ۶۵ سال کی عمر میں شہید ہوئے اور امام باقرؑ اور دوسرے دو اماموں کے ساتھ بقیع میں مدفون ہیں۔ [6]

گنبد اور ضریح

تفصیلی مضمون: بقیع کے گنبد
بقیع میں ائمہ معصومین کی قبریں

چار ائمہ معصومین کے قبور کے ساتھ عباس بن عبدالمطلب، حضرت فاطمہ زہراؑ سے منسوب قبر یا فاطمہ بنت اسد کی قبر موجود ہے۔ بنی عباس نے عباس بن عبدالمطلب کے قبر کی حفاظت کیلئے اس پر ایک عمارت تعمیر کروائی۔ اس گنبد کو بھی بقیع میں موجود دیگر گنبدوں کے ساتھ تعمیر کروایا گیا۔ اس سے قبل یا اس کے بعد ازواج رسول خدا، آپ کی پھوپھیوں اور امام مالک وغیرہ کے قبور پر بھی گنبد بنایا گیا تھا۔ چھٹے صدی ہجری کے بعد سے یہاں پر مدفون شخصیات کے ماننے والوں میں سے ہر کسی نے اپنے بزرگوں کے قبول پر گنبد بنانا شروع کیا۔[7]

اندلس کے مشہور مسلمان سیاح ابن جبیر کے مطابق امام حسنؑ اور عباس بن عبد المطلب کے قبر پر بنایا گیا گنبد بہت بلند تھا۔[8] ابن بطوطہ نے بھی ابن جبیر کے بعد ( شاید ان کی کتاب سے نقل کرتے ہوئے) چھٹے صدی ہجری میں بقیع کی توصیف میں عباس اور امام حسنؑ کے مبقروں کو بلند و بالا گنبدوں کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ [9] صَفَدی نے بھی شیعوں کے چار امام اور پیغمبر اکرمؐ کے چچا عباس کی قبر پر گنبد کی طرف اشارہ کیا ہے۔ [10]

سنہ ۱۲۹۳ش میں فرہاد میرزا قاجار اور ۱۳۰۳ش میں محمدحسین خان فراہانی کے سفر ناموں میں بقیع میں موجود ائمہ کے قبور کی حالت کے بارے میں انہدام سے پہلے تک بہت ساری معلومات مذکور ہیں جن میں وہاں مدفون ائمہ کے قبور پر گنبد ہونے کا تذکرہ موجود ہے۔[11]

انہدام بقیع

تفصیلی مضمون: انہدام بقیع

بقیع میں موجود عمارتوں اور گنبدوں کو پہلی بار سنہ ۱۲۲۱ ہجری قمری میں وہابیوں نے منہدم کر دیا تھا جسے عبدالحمید دوم سلطان عثمانی نے دوبارہ مرمت کروایا لیکن 8 شوال سنہ ۱۳۴۴ ہجری قمری کو مدینہ کے حاکم امیرمحمد نے اپنے باپ عبدالعزیز آل سعود کے حکم سے ان گنبدوں کو دوبارہ ویران کر دیا۔[12]

حوالہ جات

  1. جعفریان، حیات فکری و سیاسی امامان شیعہ، ۱۳۸۱ش، ص۱۶۸-۱۶۹۔
  2. شبراوی، الاتحاف بحب الاشراف، ۱۴۲۳ق، ص۱۴۳۔
  3. مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۱۳۸۔
  4. مصباح کفعمی، ۶۹۱.
  5. فرق الشیعۃ ۶۱، اصول کافی ۲/۳۷۲، ارشاد مفید ۲/۱۵۸، دلائل الامامۃ ص۲۱۶، اعلام الوری ۲۵۹، کشف الغمۃ ۲/۳۲۷، تذکرۃ الخواص ۳۰۶، مصباح کفعمی ۶۹۱،
  6. المفید، ۱۳۸۰ش. صص۵۲۶-۵۲۷.
  7. جعفریان، ص۳۳۰.
  8. ابن جبیر، رحلة ابن جبیر، دار و مکتبۃ الہلال، ص۱۵۵.
  9. سفرنامہ ابن بطوطہ، ج۱،ص۱۲۸.
  10. الوافی بالوفیات، ج ۴،ص۱۰۳، ج ۱۱،ص۱۲۷.
  11. سفرنامہ فرہاد میرزا معتمدالدولہ، ص۱۷۰، ۱۷۳، ۱۹۰.؛ سفرنامہ میرزا محمدحسین حسینی فراہانی، ص۲۲۸-۲۳۴.
  12. نجمی، تاریخ حرم ائمہ، ۱۳۸۶، ص۵۱۔


مآخذ

  • ابن بطوطہ، سفرنامہ ابن بطوطہ، ترجمہ محمدعلی موحد، تہران، تہران، علمی و فرہنگی، 1982ء۔
  • ابن جبیر، محمد بن احمد، رحلۃ ابن جبیر، بیروت، دار و مکتبۃ الہلال، بی‌تا۔
  • جعفریان، رسول، آثار اسلامی مکہ و مدینہ، تہران، نشر مشعر، 2007ء۔
  • جعفریان، رسول، حیات فکری و سیاسی امامان شیعہ، قم، انتشارات انصاریان، 2002ء۔
  • شبروای، جمال الدین، الإتحاف بحب الأشراف، قم، دارالکتاب، ۱۴۲۳ھ۔
  • صفدی، خلیل بن ایبک، کتاب الوافی بالوفیات، بیروت، ویسبادن، ۱۴۰۸ّھ۔
  • فراہانی، محمدحسین بن مہدی، سفرنامۃ میرزا محمدحسین حسینی فراہانی، تہران، چاپ مسعود گلزاری، 1983ء۔
  • میرزا قاجار، فرہاد، سفرنامۃ فرہاد میرزا معتمدالدولہ، تہران، چاپ اسماعیل نواب صفا، 1987ء۔
  • مفید، محمد بن محمد، الارشاد فی معرفۃ حجج اللہ علی العباد، قم، کنگرہ شیخ مفید، ۱۴۱۳ھ۔
  • نجمی، محمدصادق، تاریخ حرم ائمہ بقیع و آثار دیگر در مدینہ منورہ، تہران، نشر مشعر، 2007ء۔