سہل بن سعد ساعدی

ویکی شیعہ سے
(سہل ساعدی سے رجوع مکرر)
سہل بن سعد ساعدی
کوائف
مکمل نامسہل بن سعد بن مالک انصاری ساعدی
کنیتابو العباس • ابو یحیی
محل زندگیمدینہ
مہاجر/انصارانصار
نسببنی ساعدہ
مشہوررشتےدارسعد بن مالک انصاری ساعدی (والد)
وفات/شہادت88 یا 91 ھ، جنگ صفین
مدفنمدینہ
دینی خدمات
اسلام لانابعثت کے ابتدائی ایام میں
جنگتبوک
دیگر کارنامےراوی غدیر • پیامبر کی بیعت • اصحاب امام علی

سہل بن سعد ساعدی (متوفی 88 یا 91 ھ)، رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم و امام علی علیہ السلام کے اصحاب اور حدیث غدیر کے راویوں میں سے تھے۔ پیغمبر اکرم (ص) کی بیعت، جنگ تبوک میں شرکت اور دو قبلہ کی طرف نماز پڑھنا ان کے افتخارات میں شمار کیا جاتا ہے۔ انہوں نے شام میں اسرائے کربلا سے ملاقات اور شام میں ان کے لائے جانے کی کیفیت کے سلسلہ میں روایت کی ہے۔ وہ پیغمبر اکرم (ص) کے آخری صحابی تھے جنہوں نے مدینہ میں وفات پائی۔

پیغمبر اکرم (ص) کے دور میں

سہل بن سعد بن مالک بن خالد بن ثعلبۃ بن حارثۃ بن عمرو بن الخزرج بن ساعدۃ بن کعب بن الخزرج الأنصاری الساعدی، رسول خدا (ص) کے صحابی اور طایفہ بنی‌ ساعدہ سے ان کا تعلق تھا۔ پیغمبر اکرم(ص) کی رحلت کے وقت ان کی عمر ۱۵ سال تھی۔ کہا جاتا ہے کہ ان کا اصل نام حزن تھا اور پیغمبر اکرم (ص) نے اسے تبدیل کر کے سہل نام رکھا۔ [1] ان کی کنیت ابوالعباس اور ابو یحیی تھی۔ [2]

شیخ طوسی انہیں امام علی (ع) کا پیروکار مانتے ہیں۔[3]

پیغمبر اکرم(ص) کی دو بیعت، دو قبلہ کی طرف نماز پڑھنا اور پیغمبر اکرم (ص) کی زبانی ان کی تعریف و تمجید ان کے افتخارات میں سے ہے۔[4] ان کی بہنیں نائلہ اور عمرہ مدینہ میں پیغمبر اکرم(ص) کی بیعت کرنے والی عورتوں میں سے تھیں۔[5]

جنگ تبوک کے وقت اگرچہ ان کی عمر کم تھی لیکن انہوں نے اس جنگ میں شرکت کی اس بارے میں وہ خود کہتے تھے:

میں اپنے تمام دوستوں میں سب سے کم عمر تھا اور جنگ تبوک میں ان کی خدمت انجام دیتا تھا۔[6] البتہ بعض منابع میں مقریہم کا لفظ آیا ہے جس کے معنی قرآن پڑھنے والے کے ہیں،[7] ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان منابع میں غلطی سے ایسا لکھا گیا ہے ورنہ اصل کلمہ "شَفْرَتَہم" ہے جس کے معنی خدمتکار کے ہیں۔

نقل روایت

سہل نے پیغمبر اکرم (ص)، حضرت علی (ع)، حضرت فاطمہ (س) اور بعض صحابہ سے احادیث نقل کی ہیں۔ ابو ہریرہ، سعید بن مسیب، زہری، ابو حازم اور ان کے بیٹے عباس بن سہل نے بھی آپ سے روایت نقل کی ہے۔[8]

ان سے نقل ہوا ہے کہ وہ کہتے تھے: حضرت زہرا(س) سے اماموں کے بارے میں پوچھا تو حضرت نے جواب میں فرمایا: کہ پیغمبر(ص) نے حضرت علی (ع) اور ان کے گیارہ بیٹوں کو بعنوان امام ایک ایک کا نام لیا ہے۔[9]

وہ حدیث غدیر کے گواہ اور راویوں میں سے ہیں[10] اور پیغمبر اکرم(ص) کا مشہور جملہ جو حدیث رایت کے نام سے مشہور ہے جس میں آپ(ص) نے فرمایا: میں کل پرچم اس شخص کو دون گا جو خدا اور اس کے رسول کو دوست رکھنے والا ہوگا اور خدا اور اس کا رسول بھی اسے دوست رکھتے ہیں اور وہ فتح حاصل کئے بغیر واپس نہیں آئے گا، کو بھی سہل نے روایت کیا ہے۔[11]

سہل امام حسین (ع) کے کلام میں

امام حسین(ع) نے واقعہ کربلا میں کوفیوں سے مخاطب ہو کر ایک خطبہ ارشاد فرمایا جو آپ کے مقابلے میں جنگ کرنے کیلئے صف آرا تھے، آپ نے اس خطبے میں سہل کو گواہ معرفی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

"اگر میرے اوپر یقین نہیں آرہا ہے تو اب بھی تمہارے درمیان بعض افراد موجود ہیں اگر اس حوالے سے ان سے پوچھا جائے تو وہ تمہیں بتا دینگے، جابر بن عبداللہ انصاری، ابو سعید خدری، سہل بن سعد ساعدی، زید بن ارقم اور انس بن مالک سے پوچھئے تاکہ وہ تمہیں بتا سکیں کہ پیغمبر اکرم (ص) نے یہ جملہ میرے اور میرے بھائی امام حسن مجتبی(ع) کے بارے میں فرماتے ہوئے انہوں نے سنا ہے۔[12]

شام میں اسرائے آل محمد سے ملاقات

امام حسین (ع) کی شہادت کے بعد جب اسرائے اہل بیت(ع) کو شام لے جایا گیا تو سہل نے اپنے آپ کو شام پہنچایا اور اسرائے اہل بیت(ع) کے کاروان سے ملاقات کی اور امام حسین (ع) کی بیٹی سے درخواست کی کہ آپ کو کوئی حاجت ہے تو مجھے بتائیں، امام کی بیٹی نے ان سے کہا کہ شہداء کے سروں کو اسرا سے دور رکھا جائے تاکہ لوگوں کی نظریں پیغمبر اکرم(ص) کی بیٹیوں پر نہ پڑیں۔[13] شام میں اسیران کربلا کے داخل ہونے کی کیفیت کے بارے میں موجود مشہور حدیث کو بھی سہل نے ہی نقل کیا ہے۔[14]

اہل بیت(ع) کی حمایت

سنہ ۷۴ ق کو حجاج بن یوسف نے سہل کو اپنے دربار میں طلب کر کے عثمان کی حمایت نہ کرنے کے جرم میں ان کا مؤاخذہ کیا۔ [15]حجاج نے رسول خدا(ع) کے بعض اصحاب جیسے سہل، جابر بن عبداللہ انصاری اور انس بن مالک کی تحقیر کی خاطر سیسہ کے ذریعے جلائے جانے کا حکم دیا۔ [16]

عزیزاللہ عطاردی مترجم الغارات کے بقول سہل امام علی(ع) اور آپ کے خاندان کے وفاداروں میں سے تھے اسی وجہ سے حجاج انہیں آزار و اذیت دیا کرتا تھا۔[17]

جس وقت سہل مدینہ میں زندگی بسر کر رہے تھے آل مروان کا ایک شخص یہاں حکومت کرتا تھا اس نے سہل کو اپنے دربار میں طلب کیا اور حضرت علی(ع) کی کنیت ابوتراب کے ساتھ امام کا مزاق اڑایا اور سہل کو امام کے حق میں گستاخی کرنے کا حکم دیا لیکن سہل نے اس سے انکار کیا اور کہا کہ امام علی(ع) کے نزدیک "ابو تراب" سے زیادہ کوئی کنیت عزیر نہیں تھی[18] اور یہ کہ پیغمبر اکرم(ع) امام کو اسی کنیت کے ساتھ خطاب کرتے تھے پھر امام علی(ع) کے اس کنیت کے ساتھ ملقب ہونے کے واقعے کو ذکر کیا۔[19]

وفات

سہل نے سنہ 88 یا 91 ھ میں وفات پائی، وفات کے وقت ان کی عمر 96 یا 99 سال تھی۔ [20] مؤرخین نے انہیں مدینہ میں وفات پانے والے پیغمبر اکرم(ص) کے آخری صحابی قرار دیا ہے۔[21] ان سے نقل ہوا ہے کہ انہوں نے کہا کہ اگر میں مرجاوں تو پهر کسی سے "قال رسول اللہ (ص)" نہیں سنا جائے گا۔[22]

حوالہ جات

  1. ابن اثیر، اسد الغابہ، ج۲، ص۳۲۰
  2. ابن اثیر، اسدالغابہ، ج۲، ص۳۲۰.
  3. طوسی، رجال، ص۶۶.
  4. مفید، الجمل، ص۱۰۶
  5. ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۸، ص۲۷۸.
  6. بغوی، معجم الصحابہ، ج۳، ص۹۲.
  7. واقدی، المغازی، ج۳، ص۱۰۰۷
  8. ابن اثیر، اسد الغابہ، ج۲، ص۳۲۰.
  9. خزاز قمی، كفايۃ الأثر، ص۱۹۵
  10. ابن طاووس، الطرائف، ج۱، ص۱۳۹.
  11. ابن طاووس، الطرائف، ج۱، ص۵۸.
  12. مفید، الارشاد، ج‌۲، ص۹۷؛ طبری، تاریخ، ج۵، ص۴۲۵.
  13. مجلسی، بحار الانوار، ج۴۵، ص۱۲۷.
  14. مجلسی، بحار الانوار، ج۴۵، ص۱۲۷-۱۲۸.
  15. طبری، تاریخ، ج۶، ص۱۹۵.
  16. یعقوبی، تاریخ الیعقوبی، ج۲، ص۲۷۲.
  17. ثقفی، الغارات، (قسمت: اعلام غارات)، ص۴۳۸.
  18. ابن بطریق، العمدۃ، ص۴۴۹؛ نیشابوری، صحیح مسلم، ج۷، ص۱۲۴.
  19. طبری، تاریخ، ج۲، ص۴۰۹.
  20. ابن عبد البر، الاستیعاب، ج۲، ص۶۶۵؛ ابن اثیر، الکامل، ج۴، ص۵۳۴؛ ابن اثیر، اسد الغابہ، ج۲، ص۳۲۰؛ ابن جوزی، المنتظم، ج۶، ص۳۰۲.
  21. ابن اثیر، اسد الغابہ، ج۲، ص۳۲۰؛ ابن عبد البر، الاستیعاب، ج۲، ص۶۶۵.
  22. ابن اثیر، اسد الغابہ، ج۲، ص۳۲۰.

مآخذ

  • ابن اثیر، علی بن محمد، الکامل فی التاریخ، بیروت، دار صادر، ۱۳۸۵ق.
  • ابن اثیر، علی بن محمد، أسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، بیروت، دار الفکر، ۱۴۰۹ق/۱۹۸۹م.
  • ابن جوزی،أبو الفرج عبد الرحمن بن علی، المنتظم فی تاریخ الأمم و الملوک، تحقیق: محمد عبد القادر عطا و مصطفی عبدالقادر عطا، بیروت، دار الکتب العلمیۃ، ۱۴۱۲ق/۱۹۹۲م.
  • ابن بطریق، یحیی بن حسن حلی، العمدۃ، قم، انتشارات جامعہ مدرسین، ۱۴۰۷ق.
  • ابن سعد، محمد بن سعد، الطبقات الکبری، تحقیق: محمد عبد القادر عطا، بیروت، دار الکتب العلمیۃ، ۱۴۱۰ق/۱۹۹۰م.
  • ابن عبد البر، أیوسف بن عبداللہ، الاستیعاب فی معرفۃ الأصحاب، تحقیق: علی محمد البجاوی، بیروت، دار الجیل، ۱۴۱۲ق/۱۹۹۲م.
  • ابن طاووس، سید علی بن موسی، الطرائف، قم، چاپخانہ خیام، ۱۴۰۰ق.
  • بغوی، ابو القاسم، معجم الصحابہ.
  • ثقفی، ابراہیم بن محمد، الغارات و شرح حال اعلام آن، ترجمہ: عزیز اللہ عطاردی، قم، مؤسسہ دار الکتاب، ۱۴۱۰ق.
  • خزاز قمی، علی بن محمد، کفایۃ الأثر، قم، انتشارات بیدار، ۱۴۰۱ق.
  • مفید، محمد بن محمد بن نعمان، الإرشاد، قم، انتشارات کنگرہ جہانی شیخ مفید، ۱۴۱۳ق.
  • طبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و الملوک، تحقیق: محمد أبوالفضل ابراہیم، دار التراث، بیروت، ۱۳۸۷ق/۱۹۶۷م.
  • طوسی، محمد بن حسن، رجال الطوسی، قم، انتشارات اسلامی جامعہ مدرسین، ۱۴۱۵ق.
  • مجلسی، محمد باقر، بحار الأنوار، بیروت، مؤسسۃ الوفاء، ۱۴۰۴ق.
  • نیشابوری، مسلم بن الحجاج، صحیح مسلم، بیروت، دارالفکر، بی‌تا.
  • واقدی، محمد بن عمر، المغازی، تحقیق: مارسدن جونس، بیروت، مؤسسۃ الأعلمی، ۱۴۰۹ق/۱۹۸۹م.
  • یعقوبی، احمد بن ابی یعقوب، تاریخ الیعقوبی، بیروت، دارصادر، بی‌تا.