مسجد غدیر خم

ويکی شيعه سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
غدیر خم کا علاقہ

مسجد غدیر خم مکہ اور مدینہ کے راستے میں غدیر خم پر واقع مسجد کا نام ہے۔ تاریخی روایات کے مطابق یہ مسجد اس جگہ بنائی گئی جہاں پیغمبر اسلام نے کھڑے ہو کر خطبۂ غدیر ارشاد فرمایا اور لوگوں کے سامنے امام علی کی ولایت اور جانشینی کا اعلان کیا۔

یہ مسجد جُحْفہ سے پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع تھی لیکن اب اس کا کوئی اثر موجود نہیں ہے۔ شہید اول (متوفا۷۸۶ق) کے مطابق انکے زمانے میں اس مسجد کی دیواریں موجود اور نمایاں تھیں۔ اہل بیت کی روایات میں اس مسجد کا ذکر مذکور ہے اور اس مسجد میں نماز پڑھنے کا حکم ذکر ہوا ہے۔

تاریخی حیثیت اور جغرافیائی حدود

تاریخی مآخذوں میں اس مسجد کی تعمیر کے متعلق دقیق معلومات مذکور نہیں ہیں۔ صرف اس حد تک ملتا ہے کہ یہ مسجد واقعۂ غدیر خم کے کچھ عرصہ بعد تعمیر ہوئی لیکن یہ مدت بھی معلوم نہیں ہے۔

بعض مؤرخین نے اس مسجد کے متعلق اجمالی طور پر بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسجد اس جگہ بنائی گئی جہاں رسول اکرم نے حجۃ الوداع سے واہسی کے موقعہ پر قیام کیا، نماز پڑھی اور حضرت علی کو اپنا جانشین بنانے کا اعلان کیا۔[1] بعض نے اس مسجد کچھ تفصیل بیان کی ہے؛ جیسا کہ کتاب «معجم ما استعجم» میں اس مسجد کا محل وقوع غدیر اور پانی کے چشمے کے درمیان آیا ہے۔ [2] نیز یاقوت حموی «معجم البلدان» نے کہا ہے: «خم وہ مقام ہے جہاں ایک چشمہ موجود ہے نیز غدیر اور چشمے کے درمیان ایک مسجد پیغمبر واقع ہے۔[3]

کہا گیا کہ عثمانی خلافت [4] کے دوران سیلاب کی وجہ سے یہ مسجد خراب ہو گئی۔[5] جبکہ شہید اول نے اپنی دو کتابوں میں اس مسجد کا ذکر کرتے ہوئے کہا: اس کی دیواریں آج بھی باقی ہیں،یہ ایک مشہور مسجد ہے اور اکثر حاجیوں کا ادھر سے گزرتا تھا۔[6]

محسن امین کتاب مفتاح الجنات میں اسکے متعلق مذکور ہے: یہ مسجد عامر اور مشہور ہے اور ہندوستان کے شیعہ بادشاہوں نے شیخ مرتضی انصاری کے زمانے میں اس کی نئے سرے سے تعمیر کروائی۔[7]

فضیلت

شیعہ کی احادیثی کتب میں مسجد غدیر کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ الکافی میں ایک علیحدہ باب میں مسجد غدیر خم اور اس سے مربوط روایات ذکر ہوئی ہیں۔جیسا کہ عبدالرحمن بن حجاج نے حضرت موسی بن جعفر سے اس مسجد میں نماز پڑھنے کے بارے میں سوال کیا تو امام نے جواب دیتے ہوئے کہا: اس مسجد میں نماز پڑھو کیونکہ اس میں نماز پڑھنا بہت فضیلت رکھتا ہے اور میرے والد ہمیشہ اس کی تاکید کرتے تھے۔»[8]

شیعہ فقہا اور محدثین نے ان روایات کی بنا پر اس مسجد میں نماز پڑھنے اور ذکر و اذکار کرنے کو بیان کیا ہے۔ کاشف الغطا (متوفا ۱۲۲۸ق) اس کے بارے میں کہتے ہیں: امام صادق(ع) نے فرمایا: مسجد غدیر میں نماز پڑھنا مستحب ہے کیونکہ پیامبر اکرم(ص) نے اسی جگہ امیر المؤمنین کی جانشینی کا اعلان کیا اور حق کو واضح کیا اس کے بائیں جانب مسجد ہے۔جب امام صادق(ع) نے بائیں جانب نگاہ کی تو فرمایا: یہ جگہ رسول اللہ کے قدم رکھنے کی جگہ ہے»[9]

شیخ طوسی، ابن حمزہ، ابن ادریس، علامہ حلّی، حر عاملی، شیخ یوسف بحرانی اور صاحب جواہر ان فقہا میں سے ہیں جو اس مسجد میں دو رکعت نماز پڑھنے کو مستحب سمجھتے ہیں۔[10]

متعلقہ مضامین

حوالہ جات

  1. سمہودی، وفاء الوفا، دار الکتب العلمیہ،، ج۳، ص۱۷۱.
  2. بکری، معجم ما استعجم، عالم الکتب، ج۲، ص۳۶۸.
  3. حموی، معجم البلدان، دار صادر، ج۲، ص۳۸۹.
  4. قائدان، تاریخ و آثار اسلامی مکہ و مدینہ، ص۱۶۶.
  5. سمہودی، وفاء الوفا، دار الکتب العلمیہ،، ج۳، ص۱۷۱.
  6. شہید اول، ذکری الشیعۃ، ۱۳۷۷ش، ج۳، ص۱۱۸-۱۱۷؛ شہید اول، الدروس، ۱۴۱۷ق، ج۲، ص۱۹.
  7. امین، مفتاح الجنات، ۱۴۲۰ق، ج۲، ص۳۳.
  8. کلینی، الکافی، ۱۳۸۸ق، ج۴، ص۵۶۶.
  9. کاشف الغطاء، کشف الغطاء، دفتر تبلیغات اسلامی حوزہ علمیہ، ج۳، ص۷۴–۷۳.
  10. طبسی، «مقالہ مسجد غدیر»، میقات حج، ۱۴۰-۱۳۸.


مآخذ

  • امین، محسن، مفتاح الجنات فی الأدعیۃ و الأعمال و الصلوات و الزیارات، مؤسسہ الاعلمی للمطبوعات، بیروت، ۱۴۲۰ق.
  • بکری، عبداللہ بن عبد العزیز، معجم ما استعجم من أسماء البلاد و المواضع، تحقیق: سقاء، مصطفی، عالم الکتب، بیروت.
  • حموی، یاقوت بن عبداللہ، معجم البلدان،‌ دار صادر، بیروت.
  • سمہودی‌، علی بن عبداللہ، وفاء الوفاء بأخبار‌ دار المصطفی، تحقیق: محفوظ، خالد عبدالغنی،‌ دار الکتب العلمیہ، بیروت.
  • شہید اول، محمد بن مکی ، الدروس الشرعیۃ فی فقہ الإمامیۃ‌، دفتر انتشارات اسلامی، قم‌، ۱۴۱۷ق.
  • شہید اول، محمد بن مکی، ذکری الشیعۃ فی أحکام الشریعۃ، مؤسسۃ آل البیت(ع) لإحیاء التراث، قم، ۱۳۷۷ش.
  • طبسی، محمد جعفر، مقالہ مسجد غدیر، مجلہ میقات حج، شمارہ ۱۲، تابستان ۱۳۷۴ش.
  • کاشف الغطاء، جعفر بن خضر، کشف الغطاء عن مبہمات الشریعۃ الغراء، دفتر تبلیغات اسلامی حوزہ علمیہ، قم
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تعلیقات: علی‌اکبر غفاری،‌ دار الکتب الاسلامیۃ، تہران، ۱۳۸۸ق.