قبلہ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
خانہ کعبہ
خانہ کعبہ کی نئی تصویر

قبلہ اسلامی، اصطلاح میں کعبہ کو کہا جاتا ہے جس کی طرف رخ کرکے مسلمان اپنی بعض عبادات کو انجام دیتے ہیں۔ ہجرت کے دوسرے سال تک مسلمانوں کا قبلہ مسجد الاقصی تھا۔ بعد میں سورہ بقرہ کی آیت نمبر 144 کے نازل ہونے کے ساتھ قبلہ کی جہت کو کعبہ کی طرف پلٹایا گیا۔ شیعہ اور سنی دونوں کے فقہ میں قبلہ سے متعلق بہت سارے احکام موجود ہیں۔ جن میں سے اہم ترین حکم نماز کے بارے میں ہے کہ نماز صرف قبلہ کی طرف رخ کرکے پڑھی جاتی ہے ورنہ نماز باطل ہے۔ اسکے علاوہ میت کے دفن کرنے اور حیوانات کے ذبح کرنے سے متعلق کجھ احکام بھی قبلہ سے مربوط ہیں۔

قبلہ کی تبدیلی

اصل مضمون: تحویل قبلہ

قبلہ لغت میں سمت اور جہت کو کہا جاتا ہے۔[1] لیکن اصطلاح میں کعبہ یا اس جہت کو قبلہ کہا جاتا ہے جس سمت میں کعبہ پایا جاتا ہے۔[2]

پیغمبر اکرم(ص)رسالت پر مبعوث ہونے کے بعد مکے کے 13 سالہ دور اور مدینے میں ہجرت کے ابتدائی سالوں میں بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے۔ لیکن کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھناآپ (ص) کی دلی آرزو تھی اور اس سلسلے میں آپ وحی کے منتظر تھے ۔خداوند عالم نے قبلہ سے متعلق آیت نازل کرکے آپ کی دلی تمنا کو پورا فرمایا اور قبلہ کو بیت المقدس سے کعبہ کی طرف تغییر دینے کا حکم فرمایا:" قد نَرَی تَقَلُّبَ وَجہکَ فِی السَّمَاء فَلَنُوَلِّینَّکَ قِبلَةً تَرضَاہا فَوَلِّ وَجہکَ شَطرَ المَسجِدِ الحَرَامِ وَحَیثُ مَا کُنتُم فَوَلُّوا وُجُوِہکُم شَطرَہ وَإِنَّ الَّذِینَ أُوْتُوا الکِتَابَ لَیعلَمُونَ أَنَّہ الحَقُّ مِن رَّبِّہم وَمَا اللّہ بِغَافِلٍ عَمَّا یعمَلُونَ"۔[3]

قبلہ کی تغییر سے متعلق آیت کے نزول اور زمان و مکان کے متعلق مفسرین میں اختلاف پایا جاتا ہے اور اس سلسلے میں ہجرت کے بعد 6 مہینے سے 19 مہینے تک ذکر کیا گیا ہے [4] آیت کے نازل ہونے اور قبلہ کی تغییر سے متعلق حکم کے جاری ہونے کی جگہ کو یا محلہ بنی سلمہ کی مسجد [5] جو مدینے کے شمال مغرب میں واقع ہے[6] جو مسجد القبلتین کے نام سے معروف ہے[7] یا مسجد قبیلہ «بنی سالم بن عوف» جس میں پیغمبر(ص) نے پہلی بار نماز جمعہ ادا کی، [8] یا خود مسجد نبوی [9] کو قرار دیا ہے۔

قبلہ کی رعایت

واجب

درج ذیل مقامات پر قبلہ کی رعایت واجب ہے:

  • واجب نمازیں :اکثر مراجع تقلید معتقد ہیں کہ زانو اور پاؤں کی انگلیوں کا قبلہ کی طرف ہونا ضروری نہیں ہے۔ مستحب نمازوں کو اگرچہ بہتر ہے قبلہ کی طرف رخ کرکے پڑھا جائے واجب نہیں ہے۔

جو شخص کھڑے ہوکر نماز نہیں پڑھ سکتا نماز کی حالت میں دائیں پہلو کے بل اس طرح لیٹنا چاہئے کہ اس کا منہ قبلہ کے طرف ہو۔ اگر ممکن نہیں تو بائیں پہلو کے بل اس طرح لیٹ جائے کہ بدن کے سامنے کا حصہ قبلہ کی طرف ہو اگر ایسا کرنا بھی ممکن نہ ہو تو پیٹھ کے بل اس طرح سو جائے کہ پاؤں قبلہ کی طرف ہو۔

  • قضا نماز
  • نماز احتیاط
  • سجدۂ سہو نماز میں بعض چیزوں کے چھٹ جانے کی وجہ کئے جانے والے دو سجدے۔
  • تشہد
  • احتضار: مسلمان جان دینے کی حالت میں ہو تو اسے پیٹھ کے بل اس طرح لٹانا چاہیے کہ اسکے پاؤں قبلہ کی طرف ہوں۔
  • نماز میت: نماز میت پڑھنے کے وقت منہ قبلہ کی طرف ہونا واجب ہے اور یہ بھی واجب ہے کہ میت کو اسکے سامنے پیٹھ کے بل اس طرح رکھا جائے کہ اس کا سر نماز گزار کے داہنے ہاتھ اور اسکے پاؤں نماز گزار کے بائیں ہاتھ کی طرف ہوں۔
  • دفن میت: میت کو قبر میں دائیں پہلو اس طرح رکھنا واجب ہے کہ اسکے بدن کا اگلا حصہ قبلہ کی طرف ہو۔
  • حیوانات کا ذِبح یا نَحر:حیوانوں کو ذِبح یا نحر(اونٹ) کرنے کیلئے شرعا واجب ہے اس حیوان کے بدن کا اگلا حصہ قبلہ کی طرف ہو۔

مستحب

درج ذیل مقامات پر قبلہ کی رعایت کرنا مستحب ہے:

  • دعا کے دوران
  • قرآن کی تلاوت کے دروان
  • ذکر کے دروان
  • تعقیبات نماز کے دوران
  • سجدہ شکر کے دوران
  • قرآن کے واجب سجدہ کے دوران
  • سونے یا بیٹھنے کے دوران

حرام

  • پیشاب یا پاخانہ کرتے وقت رو بقبلہ یا پشت بقبلہ ہونا حرام ہے.

اسی طرح احتیاط مستحب ہے کہ بچے کو بھی اس کام کیلئے رو بقبلہ یا پشت بقبلہ نہ بٹھایا جائے لیکن اگر بچہ خود بیٹھ جائے تو اسے روکنا ضروری نہیں ہے.

مکروہ

  • شلوار پہنے کے دوران۔
  • جِماع (ہمبستری) کے دوران
  • ہر وہ حالت جو قبلہ سے منافات رکھتا ہو.

تشخیص قبلہ کے شرعی طریقے

  1. خود شخص کو اطمینان حاصل ہوجائے کہ قبلہ فلان طرف ہے۔
  2. دو عادل شخص گواہی دیں جنہوں نے خود قبلہ کو تشخیص دیا ہو۔
  3. اس شخص کا کہنا جو علمی طریقے سے قبلہ کی تشخیص کر سکتا ہو اور اس کے کہنے پر اطمینان حاصل ہو۔
  4. اگر مذکورہ بالا طریقے کارگر ثابت نہ ہو تو اپنے ظن و گمان پر عمل کرسکتا ہے. بہ طور اگر امکان ہو تو ایسے راستے کو انتخاب کرے جس میں زیادہ دقیق اور اطمینان آور ہو۔

اگر کسی صورت میں قبلہ کو تشخیص نہ دی جا سکے تو ضروری ہے کہ چاروں سمت نماز پڑھی جائے۔ خود کعبہ کے اندر جس طرف بھی منہ کرکے نماز پڑھی جائے صحیح ہے.

خلائی سفر میں قبلہ کا حکم

بعض اس بات کے معتقد ہیں کہ خلائی سفر کے دوران زمین کی طرف رخ کرکے کھڑے ہوں تو گوبا قبلہ کی سمت کھڑے ہو گئے ہیں۔ لیکن اگر زمین کی سمت کا تعیین نہ کرسکے تو چاروں سمت نماز پڑھنا واجب ہے۔[10].

قبلہ کی تشخیص کا سائنسی طریقۂ کار

قدیم زمانے سے قبلہ کی تشخیص کی خاطر مختلف طریقوں کو بروئے کار لایا جاتا رہا ہے جن میں سے اکثر ستاروں بطور خاص قطبی ستارے کی موقعیت کے ذریعے قبلہ کو تشخیص دیا جاتا تھا۔.[11]

قطبی ستارہ

قطبی ستارہ آسمان کے شمالی حصے میں نظر آنے والا روشن ترین ستارہ ہے۔ یہ ستارہ قطب شمالی پر نظر آتا ہے۔ جس سے قطب شمال کی کسی حد تک درست نشاندہی ہوتی ہے۔

قطب‌ نما

قطب‌نما کی اختراع کے بعد اس ابزار نے قبلہ کی تشخیص میں استعمال ہونے والے پرانے طریقوں کی جگہ لے لی ہے۔ لیکن آج کل مختلف عمارتوں میں استعمال ہونے والے لوہے اور برقی آتات کے مقناطیسی میدانوں کی وجہ سے اس آلے میں پہلے کی دقت نہیں رہی ہے۔

سوئی والی گھڑی کا استعمال

دن کے وقت گھڑی کو افقی طور پر رکھ کر گھنٹہ ظاہر کرنے والی سوئی کو سورج کی طرف قرار دینے پر اس سوئی اور 12 بجے کی علامت کے درمیانی زاویہ جنوب کی سمت کو ظاہر کرتا ہے۔ اس طرح سمت جنوب معین ہو جاتا ہے جس سے قبلہ کی تشخیص میں مدد ملتی ہے۔ .[12]

شاخص کے ذریعے

قبلہ کی تشخیص میں بروئے کار لانے والے طریقوں میں سے ایک دقیق روش شاخص ہے۔ شاخص لکڑی یا ہر اس چیز کو کہا جاتا ہے جو زمین پر عمودی شکل میں رکھی گئی ہو۔ سال میں صرف دو ایام میں مکہ مکرمہ میں ظہر کی اذان کے وقت سورج کا سایہ بالکل کعبہ کی سمت میں ہوتا ہے۔ اور ایام، ایران کے معیاری وقت کے مطابق 7 خرداد ایک بج کر ارتالیس منٹ اور 25 تیر ایک بج کر ستاون منٹ ہے۔ خطا در حوالہ: Closing </ref> missing for <ref> tag

یہ دو تاریخیں بعض سالوں میں کبھی ایک دن پہلے آتی ہیں۔ اگرچہ قبلہ کی تشخیص کیلئے ایک دو دن آگے یا پیچھے ہونے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا ہے صرف ایک یا دو منٹ کا فاصلہ پڑ سکتا ہے۔

جدید سافٹ ویئرز کے ذریعے

بعض سافٹ ویئرز بطور خاص سمارٹ موبائل کیلئے بنائے گئے سافٹ ویئرز دن اور رات کے کسی بھی حصے میں جب بھی سورج یا چاند کی روشنی قابل مشاہدہ ہو مختلف شہروں کے قبلہ کی سمت کو تشخیص دیتا ہے۔ [13]

گوگل میپ

انٹرنیٹ اور سیٹلائٹ سسٹم میں ترقی کے باعث آسانی سے قبلہ کی سمت کا تعین کیا جا سکتا ہے۔ [14]

حوالہ جات

  1. الصحاح، ج ۵، ص ۱۷۹۵؛ لسان العرب، ج ۱۱، ص ۵۳۷-۵۴۵، «قبل»
  2. مفردات، ص ۳۹۲، «قبل»؛ جواہر الکلام، ج ۷، ص ۳۲۰.
  3. بقرہ/۱۴۴
  4. جامع البیان، ج ۲، ص ۲۸؛ مجمع البیان، ج ۱، ص ۴۱۴. وفاء الوفاء، ج ۱، ص ۲۷۸؛ المیزان، ج ۱، ص ۳۳۳.
  5. . الطبقات، ج ۱، ص ۱۸۶؛ تاریخ یعقوبی، ج ۲، ص ۴۲؛ الکشاف، ج ۱، ص ۲۰۲.
  6. تاریخ و آثار اسلامی، ص ۲۶۸.
  7. الدرة الثمینہ، ص ۱۱۵؛ عیون الاثر، ج ۱، ص ۳۰۸.
  8. تفسیر قمی، ج ۱، ص ۶۳؛ الاعلام الوری، ج ۱، ص ۱۵۴.
  9. الطبقات، ج ۱، ص ۱۸۶؛ وفاء الوفاء، ج ۱، ص ۲۷۸.
  10. سایت اسلام کوئست
  11. روشہای مختلف جہت یابی
  12. سایت کویرہا
  13. تقویم ابراہیمی برای اندروید
  14. (سٹلائٹ کے ذریعے قبلہ کی تشخیص)

مآخذ

  • قرآن کریم
  • آثار اسلامی مکہ و مدینہ:رسول جعفریان، قم، مشعر، ۱۳۸۶ش
  • تاریخ و آثار اسلامی مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ:اصغر قائدان، تہران، مشعر، ۱۳۸۶ش
  • جامع البیان:الطبری (م.۳۱۰ق.)، بہ کوشش صدقی جمیل، بیروت،‌دار الفکر، ۱۴۱۵ق
  • مجمع البیان:الطبرسی (م.۵۴۸ق.)، بیروت،‌دار المعرفہ، ۱۴۰۶ق
  • وفاء الوفاء:السمہودی (م.۹۱۱ق.)، خالد عبدالغنی کی کوشش سے، بیروت،‌دار الکتب العلمیہ، ۲۰۰۶م.
  • اسباب النزول:الواحدی (م.۴۶۸ق.)، قاہرہ، الحلبی و شرکاہ، ۱۳۸۸ق
  • تاریخ الیعقوبی:احمد بن یعقوب (م.۲۹۲ق.)، بیروت،‌دار صادر، ۱۴۱۵ق
  • التبیان:الطوسی (م.۴۶۰ق.)، العاملی کی کوشش سے، بیروت،‌دار احیاء التراث العربی
  • تفسیر القمی:القمی (م.۳۰۷ق.)، الجزائری کی کوشش سے، قم،‌دار الکتاب، ۱۴۰۴ق
  • إعلام الوری:الطبرسی (م.۵۴۸ق.)، قم، آل البیت:، ۱۴۱۷ق
  • التفسیر الکبیر:الفخر الرازی (م.۶۰۶ق.)، قم، دفتر تبلیغات، ۱۴۱۳ق
  • جامع البیان:الطبری (م.۳۱۰ق.)، صدقی جمیل کی کوشش، بیروت،‌دار الفکر، ۱۴۱۵ق
  • روض الجنان:ابوالفتوح رازی (م.۵۵۴ق.)، یاحقی و ناصح کی کوشش سے، مشہد، آستان قدس رضوی، ۱۳۷۵ش
  • الطبقات الکبری:ابن سعد (م.۲۳۰ق.)، محمد عبدالقادر کی کوشش سے، بیروت،‌دار الکتب العلمیہ، ۱۴۱۸ق
  • الکافی:الکلینی (م.۳۲۹ق.)،غفاری کی کوشش سے، تہران،‌دار الکتب الاسلامیہ، ۱۳۷۵ش
  • لسان العرب:ابن منظور (م.۷۱۱ق.)، قم، ادب الحوزہ، ۱۴۰۵ق
  • مجمع البیان:الطبرسی (م.۵۴۸ق.)، علماء کے ایک گروہ کی کوشش سے، بیروت، اعلمی، ۱۴۱۵ق
  • مفردات:الراغب (م.۴۲۵ق.)، نشر الکتاب، ۱۴۰۴ق
  • المیزان:الطباطبایی (م.۱۴۰۲ق.)، بیروت، اعلمی، ۱۳۹۳ق
  • وفاء الوفاء:السمہودی (م.۹۱۱ق.)، محمد عبدالحمید کی کوشش سے، بیروت،‌دار الکتب العلمیہ، ۲۰۰۶م.
  • سایت سازمان حج
  • سایت سازمان حج