حجۃ الوداع

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

"حِجَّۃُ الوداع" یا "حَجَّۃُ الوداع" پیغمبر اکرم(ص) کا آخری حج ہے جو آپ(ص) نے اپنی عمر شریف کے آخری برس میں سنہ 10 ہجری کو بجا لایا اور اس حج کے دوران مسلمانوں کو وداع کیا اسی بنا پر اس کو حجۃ الوداع کا نام دیا گیا۔ [1]اس حج کے دوران آپ(ص) نے مسلمانوں سے کہا: مناسک حج مجھ سے سیکھو شاید اس کے بعد مجھے اپنے درمیان نہ دیکھ سکو۔

اس سفر میں غدیر خم کے مقام پر پیغمبر اکرم(ص) نے خدا کے حکم پر امیرالمؤمنین(ع) کی امامت و ملایت کا عمومی طور پر اعلان کیا اور لوگوں سے بیعت لی۔

آیت تبلیغ

يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ إِنَّ اللّهَ لاَ يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ
ترجمہ: اے پیغمبر ! جو اللہ کی طرف سے آپ پر اتارا گیا ہے، اسے پہنچا دیجئے اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو اس کا کچھ پیغام پہنچایا ہی نہیں اور اللہ لوگوں سے آپ کی حفاظت کرے گا، بلاشبہ اللہ کافروں کو منزل تک نہیں پہنچایا کرتا۔

سورہ مائدہ آیت 67۔


اکمال دین اور اتمام نعمت

الْيَوْمَ يَئِسَ الَّذِينَ كَفَرُواْ مِن دِينِكُمْ فَلاَ تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلاَمَ دِيناً
ترجمہ: آج کافر لوگ تمہارے دین کی طرف سے نااُمیدہو گئے ہیں تو ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو۔ آج میں نے تمہارے دین کو کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لئے اسلام کو بحیثیت دین کے پسند کر لیا۔

سورہ مائدہ آیت 3۔

اس حج کا ایک نام حِجَّۃُالبَلاغ ہے کیونکہ آیت تبلیغ [2] اس سفر سے واپسی کے وقت رسول خدا(ص) پر نآزل ہوئی۔[3][4] اس حج کا ایک نام حِجَّۃُالاسلام ہے[5]۔[6] کیونکہ یہ پہلا اور آخری حج ہے جو رسول خدا(ص) اسلام کی حاکمیت کے دوران بجا لائے اور یہ حج مکمل طور پر اسلامی تعلیمات کے مطابق تھا۔ آپ(ص) ہجرت مدینہ کے بعد تین مرتبہ عمرہ کے لئے مکہ کے سفر پر گئے۔[7] تاہم زیادہ تر مؤرخین اور محدثین کا کہنا ہے کہ آپ(ص) ہجرت کے بعد صرف ایک مرتبہ حج بیت اللہ کے لئے مکہ میں حاضر ہوئے اور یہ حج آپ(ص) اپنے وصال سے چند ماہ قبل بجا لائے ہیں۔[8]۔[9]

سفر کا آغاز

اعلان حجّ

وَأَذِّن فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَأْتُوكَ رِجَالاً وَعَلَى كُلِّ ضَامِرٍ يَأْتِينَ مِن كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ ترجمہ: اور لوگوں میں حج کا اعلان کر دو تو وہ آئیں گے تمہاری آواز پر پیادہ پا اور ہر لاغر سواری پر کہ آئیں گی (وہ سواریاں) ہر دور دراز راستے سے۔

سورہ حج آیت 27۔

معاویہ بن عمار کی مفصل روایت کے مطابق امام جعفر صادق(ع) نے فرمایا:[10] رسول خدا(ص) 10 سال مدینہ میں مقیم رہے اور حج کے لئے نہیں گئے اور جب اعلان حج کی آیت: "وَأَذِّنْ فِى النّاسِ بِالْحَجِّ" (اور لوگوں میں حج کا اعلان کر دو)[11] نازل ہوئی تو آپ(ص) نے اعلان کیا کہ امسال حج کے لئے مکہ جائیں گے۔ مدینہ کے باشندے اور بادیہ نشین سب مدینہ میں جمع ہوئے تاکہ رسول اللہ(ص) کے ساتھ حج ادا کریں۔ سنہ 10 ہجری کے ماہ ذوالقعدة الحرام میں سے چار دن باقی تھے جب آپ(ص) مکہ روانہ ہوئے۔[12]

اہل سنت کی کتب میں ہے کہ آپ(ص) نے ذوالْحُلَیفہ کی میقات میں ایک رات گذاری اور مکہ کی طرف روانہ ہوئے[13]۔[14]۔[15] تاہم امام صادق(ع) کے مطابق آپ(ص) میقات پہنچے تو اسی دن محرِم ہوئے اور میقات میں ٹہرے بغیر مکہ روانہ ہوئے۔[16]

حج کے اعلان عام کے بعد مہاجرین اور انصار اور حتی کہ مکہ کے اطراف اور یمن کے عوام مکہ روانہ ہوئے تاکہ اعمال حج کو براہ راست رسول اللہ(ص) سے سیکھ لیں اور آپ(ص) کے پہلے باضابطہ حج میں آپ(ص) کے ساتھ رہیں۔ اور پھر آپ(ص) نے یہ اشارے بھی دیئے تھے کہ یہ آپ(ص) کا آخری حج ہے چنانچہ مسلمان دوہرے اشتیاق کے ساتھ حج کے لئے روانہ ہوئے تھے۔ ایک لاکھ بیس ہزار افراد (اور بعض روایات کے مطابق اس سے بھی زیادہ) مسلمانوں نے مراسمات حج میں شرکت کی؛ ستر ہزار افراد مدینہ سے حج میں شرکت کرنے کے لئے مکہ روانہ ہوئے تھے اور لبیک کہنے والے مدینہ سے مکہ تک متصل ہوچکے تھے۔ رسول اللہ(ص) مدینہ سے روانہ ہونے والے حجاج کے ہمراہ 10 دن کے بعد مکہ پہنچے۔

اميرالمؤمنين(ع) جو دعوت اسلام اور خمس و زکٰوۃ اور جزیہ وصول کرنے کے لئے نجران اور یمن گئے تھے یمن کے بارہ ہزار مسلمانوں کے لئے حج بجا لانے کے لئے مکہ پہنچے۔

امام علی(ع)، ـ جو ایک جماعت کے ساتھ یمن سے آئے تھے ـ مکہ میں رسول اللہ(ص) سے آملے۔[17]۔[18]

مناسک حج کی تعلیم

میقات میں آپ(ص) نے لوگوں کو آدابِ احرام سکھائے۔ آپ(ص) نے ابتداء میں غسل کیا اور حج قِران کے لئے احرام باندھا۔[19]۔[20] آپ(ص) کا احرام یمن کے بنے ہوئے سوتی کپڑے کے دو ان سلے ٹکڑوں پر مشتمل تھا جس میں وصال کے بعد آپ کو کفن دیا گیا،[21] اس کے بعد آپ(ص) نے نماز ظہر [[مسجد ذوالحلیفہ|مسجد شجرہ میں ادا کی[22] اور اس کے بعد اس اونٹ کی کوہان پر ایک نشان لگایا جو آپ(ص) قربانی کے لئے اپنے ساتھ مکہ لے جارہے تھے۔[23]۔[24]

بعد میں ان مقامات پر مسلمانوں نے کئی مساجد تعمیر کیں جہاں رسول اللہ(ص) نے نماز ادا کی تھی یا آرام کے لئے ٹہرے تھے۔[25]۔[26]

رسول اللہ(ص) نے مکہ کے قریب "ذی طُوٰى"، کے مقام پر ایک رات آرام کیا[27] اور چار ذوالحجۃ الحرام کی شام کو مکہ پہنچے۔[28]

اعمال حج

مفصل مضمون: اعمال حج

طواف اور نماز

طواف

ثُمَّ لْيَقْضُوا تَفَثَهُمْ وَلْيُوفُوا نُذُورَهُمْ وَلْيَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ
ترجمہ: پھر وہ اپنے جسم کی کثافت دور کریں اور اپنی نذریں پوری کریں اور اس قدیم گھر کا طواف کریں۔

سورہ حج، آیت 29۔

اگلے روز رسول اکرم(ص) باب بنی شیبہ سے مسجد الحرام میں داخل ہوئے[29]۔[30] اور کعبہ کی طرف چلے گئے اور حجر الأسود پر ہاتھ پھیرا (اور اصطلاحاً استلام حجر کا عمل انجام دیا) اور اس کے بعد کعبہ کا طواف کیا۔[31] پیغمبر اکرم(ص) نے اونٹ پر سوار ہوکر طواف کیا۔[32] اور طواف کے آخر میں حجر الأسود پر ہاتھ پھیرا[33] اور اس کا بوسہ لیا اور طویل مدت تک گریہ کیا،[34] اس کے بعد مقام ابراہیم کی پشت پر دو رکعت نماز طواف ادا کی۔[35]۔[36]

سعی

صفا اور مروہ

إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَآئِرِ اللّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ أَن يَطَّوَّفَ بِهِمَا وَمَن تَطَوَّعَ خَيْراً فَإِنَّ اللّهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ
ترجمہ: بلاشبہ صفا و مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں تو جو شخص خانہ کعبہ کا حج یا عمرہ بجا لائے اس پر کوئی گناہ نہیں ہوگا کہ وہ ان دونوں کا چکر لگا لے اور جو شوق و رغبت کے ساتھ کچھ نیکی کرے تو اللہ قدر دان ہے، جاننے والا۔

سورہ بقرہ آیت 158۔

نماز کے بعد آپ(ص) نے زمزم کے کنویں سے پانی پیا اور کوہ صفا کی طرف گئے[37]۔[38] اور فرمایا کہ چونکہ خداوند متعال نے پہلے صفا کا ذکر کیا ہے[39] ہم صفا اور مروہ کے درمیان سعی کا آغاز صفا سے کرتے ہیں۔[40][41] کوہ صفا پر مستقر ہوئے تو کعبہ کے رکن یمانى کی طرف رخ کیا اور کافی دیر تک ذکر و ثنائے پروردگار میں مصروف رہے،[42] اور اس کے بعد صفا سے مروہ کی طرف روانہ ہوئے۔ کچھ راستہ رمل کرکے اور ﴿دلکی چال) چلے[43] مروہ پہنچے تو رکے اور دعا پڑھی۔[44] ظاہراً آپ(ص) نے یہ راستہ سوار ہوکر طے کیا ہے۔[45]۔[46]

مِنٰی و عرفات کی طرف روانگی

آٹھ ذوالحجہ کو غروب آفتاب کے وقت رسول اکرم(ص) مسلمانوں کے ساتھ مِنٰی کی طرف روانہ ہوئے اور رات وہیں بسر کی اور نو ذوالحجہ کی صبح عرفات کی طرف روانہ ہوئے۔ قافلہ عرفات کے قریب نَمِرَہ (وادى عُرَنہ) کے مقام پر پہنچا، اور وہیں رکا اور مسلمانوں نے خیمے نصب کئے اور رسول خدا(ص) نے اپنا تاریخی خطبہ یہیں دیا؛ رسول خدا(ص) کا قافلہ اس کے بعد عرفات پہنچا اور وہیں توقف کیا اور غروب آفتاب تک ذکر الہی اور دعا میں مصروف رہا۔[47]۔[48]۔[49]۔[50]۔[51]

ایک روایت کے مطابق امام صادق(ع)، عید غدیر، یعنى اٹھارہ ذوالحجہ، جمعہ کا دن تھا۔[52] اس روایت کے مطابق عرفات میں آپ(ص) کے وقوف کی تاریخ نو ذوالحجۃ الحرام تھی؛ لیکن سیوطی ک نے بنا بر این روایت، روز وقوف در عرفات چهارشنبه نهم ذیحجه بوده است؛ اما به گفته سیوطى، از مورخان اهل سنّت، از خلیفه دوم نقل شده که وقوف در عرفات در حجةالوداع مصادف با روز جمعه بوده است. [53] الزحیلی نے بھی لکھا ہے کہ صحیحین سے ثابت ہے کہ جس عرفہ کے روز نبی(ص) نے عرفات میں وقوف کیا، وہ روز جمعہ تھا۔[54]

مشعر (مزدلفہ) میں وقوف

عرفات و مشعر (مزدلفہ)

فَإِذَا أَفَضْتُم مِّنْ عَرَفَاتٍ فَاذْكُرُواْ اللّهَ عِندَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ وَاذْكُرُوهُ كَمَا هَدَاكُمْ وَإِن كُنتُم مِّن قَبْلِهِ لَمِنَ الضَّآلِّينَ
ترجمہ: جب عرفات سے روانہ ہو تو مشعر الحرام کے حدود میں اللہ کو یاد کرو اور اس کے ذکر میں مشغول ہو جس طرح وہ تمہیں راہ پرلایا، حالانکہ تم اس کے پہلے بہکے ہوؤں میں تھے۔

سورہ بقرہ، آیت 198۔

غروب آفتاب کے وقت رسول اکرم(ص) اونٹ پر سوار ہوئے اور مزدلفہ (مشعرالحرام) کی طرف روانہ ہوئے[55]۔[56]۔[57] اور مسلمانوں کو ہدایت کی کہ عرفات سے مشعرالحرام تک کا راستہ آہستگی سے طے کریں۔[58]۔[59] حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ|حضرت محمد(ص)]] نے مشعرالحرام کے مناسب مقام پر مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک ساتھ ادا کیں[60] اور تھوڑا سا آرام کیا۔ سحر کے وقت عبادت اور ذکر پروردگار میں مصروف ہوئے جو موسم حج کے لئے اللہ کے مؤکد احکام میں سے ہے۔[61]

کنکریاں پھینکنا

طلوع آفتاب کے ساتھ ہی آپ(ص) منٰی کی طرف روانہ ہوئے اور سیدھے بڑے شیطان گئے اور اس کی طرف سات کنکریاں پھینک دیں۔[62]۔[63]۔[64]

قربانی

رسول اللہ(ص) اس کے بعد قربانگاہ (مسلخ) تشریف لے گئے اور اس اونٹ کی قربانی دی جو آپ(ص) مدینہ سے ساتھ لائے تھے[65]، تیس سے زائد اونٹ حضرت علی(ع) کو دیئے کہ اپنی طرف سے قربان کردیں اور خود 60 سے زائد اونٹوں کی قربانی دی۔ ان دونوں نے اپنی قربانی کا تھوڑا سا گوشت خود تناول فرمایا اور باقی گوشت بطور صدقہ دیا۔[66]۔[67]۔[68]

اس کے بعد آپ(ص) نے عبداللہ بن حراثہ (یا حارثہ) سے اپنے سر مبارک کے بال منڈوائے[69]۔[70] اور آپ(ص) اپنے ذاتی فرائض انجام دینے اور اعمال حج کے بارے میں لوگوں کے سوالات کا جواب دینے کے بعد،[71] مکہ تشریف فرما ہوئے اور کعبہ کا طواف کیا اور نماز ظہر مسجد الحرام میں ادا کی،[72]۔[73] اور اس کے بعد منٰی کی طرف پلٹ گئے اور تیسرے دن تک (ایام تشریق کے دوران) وہیں قیام کیا اور رمىِ جمرہ کے بعد منٰی سے خارج ہوئے۔[74]

رسول اللہ(ص) نے صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنے کے بعد حج تمتع ـ جو عمرہ اور حج پر مشتمل ہے ـ کے احکام مسلمانوں کے سکھا دیئے۔ جبکہ اس وقت تک مسلمان احکام حج میں صرف حج اِفراد اور حجِ قِران سے واقف تھے اور ایام حج میں عمرہ کو ناجائز سمجھتے تھے، اسی بنا پر "بعض مسلمانوں" نے اس حکم کو "بمشکل" قبول کیا![75]۔[76]


اس سفر کی خصوصیات

خطبہ خیف

رسول اللہ(ص) نے فرمایا:
نصرالله عبد اسمع مقالتي فوعاها وحفظها وبلغها من لم يسمعها، فرب حامل فقه غير فقيه ورب حامل فقه إلي من هو أفقه منه
ترجمہ: خدا مدد کرے اس کی جو میری باتیں سن کر یاد رکھے اور ان لوگوں کو بھی سنائے جنہوں نے نہیں سنیں؛ کتنے ہیں وہ جو [فقہ]] کے حامل ہیں لیکن خود فقیہ نہیں ہیں؛ کتنے ہیں وہ جو فقہ کے حامل ہیں اور اس کو ایسے لوگوں کی طرف لے کر جاتے ہیں جو ان فقیہ تر ہیں۔

کلینی، الکافی، ج1 ص403 و 403۔

رسول اللہ(ص) نے مکہ میں داخلے سے آٹھ ذوالحجہ تک کسی گھر میں قیام نہیں کیا بلکہ مکہ کے باہر اَبْطَح (بَطحاء) کے مقام پر ایک خیمے میں قیام پذیر رہے۔[77]۔[78]

اس سفر میں رسول اللہ(ص) نے یمن کے بنے ہوئے کپڑوں کا پردہ بنا کر کعبہ پر لٹکایا۔[79]۔[80][81]۔[82]


خطبہ خیف

رسول اللہ(ص) نے فرمایا:
ثلاث لا يغل عليهن قلب امريء مسلم: إخلاص العمل لله والنصيحه لأئمة المسلمين واللزوم لجماعتهم
ترجمہ: تین چیزیں ہیں جو مسلمان شخص کا دل ان کی نسبت خیانت نہيں کرتا۔ 1۔ عمل کو اخلاص کے ساتھ اللہ کے لئے انجام دینا اور تمام امور میں توحید و یکتا پرستی کو مقدم رکھنا، 2۔ ائمۂ مسلمین کی خیرخواہی کرنا، ان سے تعلق استوار رکھنا، انہیں اپنے ساتھ شریک کرنا، واقعات کی صحیح خبر رسانی کرنا، مکمل راہنمائی لینا اور راہنمائی پر درست عمل کرنا، 3۔ مؤمنین کے ساتھ ہمہ جہت اتحاد کا تحفظ کرنا، ان کی جماعت سے جدا نہ ہونا۔

کلینی، الکافی، ج1 ص403 و 403۔

رسول اللہ(ص) نے اہلیان مکہ اور وہاں کے مجاورین کو ہدایت دی کہ مَطاف، حجرالأسود، مقام ابراہیم(ع)، نیز نماز جماعت کی صف اول کو 10 ذوالقعدہ سے [ایام حج کے اخر تک] حجاج کے لئے مختص کیا کریں۔[83]

رسول اللہ(ص) نے اپنے سابقین (مؤمنین) کی مانند حجاج کو اطعام کیا اور کھانا کھلایا۔[84]

مروی ہے کہ منٰی کے مقام پر واقع مسجد خیف میں بھی رسول اللہ(ص) میں بھی ایک مختصر سا خطبہ دیا۔[85]۔[86]۔[87]

مسجد خیف میں رسول اللہ(ص) کے اہم نکات:[88]

خدا مدد کرے اس کی جو :

  • میری باتیں سن کر یاد رکھیں،
  • میری باتیں ان تک پہنچائیں جنہوں نے میرا کلام نہیں سنا۔
  • کتنے زيادہ ہیں وہ فقیہ جو فقہ کے حامل ہیں مگر اور ان لوگوں کو بھی سنائے جنہوں نے نہیں سنیں؛ کتنے ہیں وہ جو [فقہ]] کے حامل ہیں لیکن خود فقیہ نہیں ہیں؛ اور
  • کتنے زیادہ ہیں وہ جو فقہ اور سمجھ بوجھ لے کر ان کو سناتے ہیں اور سکھانے کی کوشش کرتے ہیں جو ان سے کہیں زیادہ بڑے فقیہ ہیں!!

تین چیزیں ایسی ہیں:

  • عمل کو اخلاص کے ساتھ اللہ کے لئے انجام دینا اور تمام امور میں توحید و یکتا پرستی کو مقدم رکھنا،
  • ائمۂ مسلمین کی خیرخواہی کرنا، ان سے تعلق استوار رکھنا، انہیں اپنے ساتھ شریک کرنا، انہیں واقعات کی صحیح خبر رسانی کرنا، مکمل راہنمائی لینا اور راہنمائی پر درست عمل کرنا،
  • مؤمنین کے ساتھ ہمہ جہت اتحاد کا تحفظ کرنا، ان کی جماعت سے جدا نہ ہونا۔

رسول اللہ(ص) نے مکہ سے مدینہ پلٹتے وقت غدیر خم کے مقام پر ولایت امیرالمؤمنین(ع) کا اعلان کیا جس کے بعد اصحاب نے امیرالمؤمنین(ع) کے ہاتھ پر مسلمانوں کے ولی اور حاکم و سرپرست کے عنوان سے بیعت کی۔

حج سے واپسی

13 ذوالحجہ سنہ 10 ہجری کو اعمال و مراسمات حج مکمل ہونے کے بعد رسول اکرم(ص) ظہر سے قبل منٰی سے مکہ واپس پلٹ گئے اور ابطح کے مقام پر خیمہ لگایا[89]۔[90] اور مسلمانوں کو مناسک و اعمال حج بجا لانے کے بعد اپنے گھر بار اور وطن کی طرف واپسی میں عجلت کریں[91]۔[92]۔[93] اور خود بھی 14 ذوالحجہ کو فجر سے قبل مکہ سے مدینہ کی طرف روانہ ہوئے۔[94]

غدیر خم کے مقام اعلان ولایت

رسول خدا(ص) کا سفر حج میں اٹھائیس سے تیس دن تک کا عرصہ لگا۔ آیت اکمال دین[95] ان آیات میں سے ایک ہے جو قطعی طور پر حجۃالوداع کے دوران نازل ہوئی ہیں۔[96]

اٹھارہ ذوالحجہ کو جُحْفہ کے قریب غدیر خُم کے مقام پر پہنچے؛ وہاں رسول اکرم(ص) نے اللہ کے فرمان پر[97] امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کو اپنے جانشین کے طور پر مقرر کیا۔[98]۔[99]

براء بن عازب کہتے ہیں: میں حجۃ الوداع کے سفر میں رسول خدا(ص) کی خدمت میں حاضر تھا؛ جب ہم [[غدیر خم کے مقام پر پہنچے؛ آپ(ص) کے حکم پر اس علاقے کو صاف کیا گیا اور پھر علی(ع) کو اپنی دائیں جانب قرار دیا اور ان کا ہاتھ پکڑ کر لوگوں سے کہا: کیا میں تمہارا صاحب اختیار نہیں ہوں؟ سب نے جواب دیا؛ کیوں نہیں! ہمارا پورا آختیار آپ کے ہاتھ میں ہے۔ اور آپ(ص) نے امام علی(ع) کا ہاتھ اوپر کو اٹھا کر فرمایا: میں جس کا مولا ہوں یہ علی(ع) اس کے مولا ہیں۔ خداوندا! علی کے دوست کو دوست رکھ اور ان کے دشمن کو دشمن رکھ ... پس عمر بن خطاب نے امام علی(ع) سے کہا: اے علی! یہ منصب آپ کو مبارک ہو کیونکہ تم میرے اور تمام مؤمنین کے مولا ہوئے۔[100]۔[101]۔[102]۔[103] بحرانی نے اہل سنت کے 89 مآخذ اور اہل تشیع کے 43 مآخذ سے ایسی ہی حدیث نقل کی ہے۔ [104]

بعدازاں قافلہ مدینہ کی جانب روانہ ہوا اور احتمالا 24 ذوالحجہ کو مدینہ پہنچا۔[105] ذوالحجہ کے آخری ایام میں آپ(ص) مدینہ میں تھے۔[106]

تعداد حاجیان

عده حاجیان در این سفر، به اختلاف، از 000، 120 تا 000، 150 نفر ذکر شده است که بسیارى از آنان پیاده به این سفر آمده بودند [107]۔ [108]۔ [109]۔ [110]۔ [111]۔ اما گمان نمی‌رود که بیش از پنجاه هزار نفر در آن حضور داشته‌اند. [112]


متعلقہ مآخذ

پاورقی حاشیے

  1. محمد محمدحسن شرّاب، فرهنگ اعلام جغرافیایى، تاریخى در حدیث و سیره نبوى۔
  2. "یا أَیهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مآ أُنْزِلَ إِلَیک مِنْ رَبِّک..." سورہ مائدہ آیت 67۔
  3. ابن‌هشام، ج 4، ص 253۔
  4. مسعودى، ص 275ـ276۔
  5. رجوع کریں: ابن‌سعد، ج 2، ص 172۔
  6. کلینى، الکافی، ج 4، ص 248۔
  7. رجوع کریں: واقدى، كتاب‌المغازى، ج 3، ص 1088
  8. رجوع کریں: واقدی، ج 3، ص 1088ـ1089۔
  9. کلینى، ج 4، ص 244
  10. رجوع کریں: کلینى، ج 4، ص 245ـ248۔
  11. سورہ حج آیت 27۔
  12. نیز رجوع کریں: طوسى، تهذیب‌الاحكام، ج5،ص454؛ واقدى، ج3، ص1089؛ ‌ابن ‌سعد کا کہنا ہے کہ ذوالقعدہ میں پانچ دن باقی تھے: طبقات، ج2، ص:173۔
  13. بخارى، ج2، ص147۔
  14. ابوداوود، سنن، ج2، ص375۔
  15. بیهقى، سنن، ج 7، ص 83۔
  16. کلینى، الکافی، ج 4، ص 248ـ249۔
  17. مسلم‌بن حجاج، ج1 ص888۔
  18. کلینى، ج 4، ص 246۔
  19. کلینى، ج 4، ص 245۔
  20. مجلسى، بحار الانوار، ج17، ص111۔
  21. کلینى، ج 4، ص 339۔
  22. کلینى، ج4، ص248ـ249
  23. واقدى، ج 3، ص1090۔
  24. فیروزآبادى، سفرالسعادة، ص70۔
  25. رجوع کریں: مرجانى، ص280ـ290۔۔
  26. سمهودى، ج3، ص1001ـ1020۔
  27. مسلم‌بن حجاج، الصحیح، ج 1، ص 919۔
  28. کلینى، ج 4، ص 245
  29. واقدى، ج3، ص1097۔
  30. کلینى، ج4، ص250۔
  31. کلینى، ج4، ص 245
  32. واثقى، حجةالوداع كما رواها اهل‌البیت، ص 106ـ110۔
  33. کلینى، ج4، ص 245
  34. ابن‌ماجہ، سنن، ج 2، ص 982۔
  35. مسلم‌بن حجاج، ج 1، ص 887۔
  36. کلینى، ج 4، ص 245، 249ـ 250۔
  37. کلینى، ج4، ص250۔
  38. ابو منصور حسن بن زين الدين عاملي (ابن شهید ثانى)، ج3، ص260۔
  39. رجوع کریں: سورہ بقرہ آیت 158۔
  40. مسلم‌بن حجاج، ج 1، ص 888۔
  41. کلینى، ج4، ص245۔
  42. کلینى، ج 4، ص 246۔
  43. رجوع کریں: مسلم‌بن حجاج، ج 1، ص 888۔
  44. کلینى، ج 4، ص 246۔
  45. رجوع کریں: واقدى، ج3، ص1099۔
  46. واثقى، ص133ـ 135۔
  47. مسلم‌بن حجاج، ج 1، ص 889ـ890۔
  48. نیز رجوع کریں: کلینى، ج 4، ص 246ـ 247۔
  49. نعمان‌بن محمد قاضی‌نعمان، دعائم‌الاسلام و ذكرالحلال و الحرام و القضایا و الاحكام، ج 1، ص 319۔
  50. خطبے کی اہمیت اور مضامین سے آگہی کے لئے رجوع کریں: مسلم‌بن حجاج، صحیح مسلم، ج 1، ص 889ـ890۔
  51. واثقى، حجةالوداع كما رواها اهل‌البیت، ص 176ـ191۔
  52. رجوع کریں: ابن بابویه، كتاب الخصال، 1362ہجری شمسی، ج 2، ص 394۔
  53. سیوطی درالمنثور، ج3، ص19
  54. وهبة الزحيلي، الفقه الاسلامی وادلّته ، ج3، ص213۔
  55. مسلم‌بن حجاج، ج 1، ص 890ـ 891۔
  56. کلینى، ج 4، ص 247۔
  57. بیهقى، السنن الكبرى، ج7، ص260۔
  58. کلینى، ج4، ص247۔
  59. طوسى، ج5، ص187۔
  60. طوسى، ج5، ص188۔
  61. واثقى، ص 211ـ216
  62. مسلم‌بن حجاج، ج1، ص891ـ892۔
  63. قاضى نعمان، ج1، ص 322ـ323۔
  64. نورى، ج10، ص67۔
  65. کلینى، ج4، ص248۔
  66. مسلم‌بن حجاج، ج 1، ص 892۔
  67. کلینى، ج4، ص247۔
  68. طوسى، ج5، ص227۔
  69. کلینى، ج 4، ص250۔
  70. طوسى، ج5، ص 458۔
  71. رجوع کریں: قاضى نعمان، ج 1، ص330۔
  72. مسلم‌بن حجاج، ج 1، ص 892۔
  73. کلینى، ج 4، ص 248۔
  74. کلینى، ج 4، ص 248۔
  75. مسلم‌بن حجاج، ج 1، ص 888ـ889۔
  76. کلینى، ج 4، ص 246۔
  77. واقدى ،ج3، ص1099۔
  78. کلینى، ج 4، ص 246۔
  79. واقدى، ج 3، ص1100۔
  80. ازرقى، ج1، ص253۔
  81. مسعودى، ص276۔
  82. فاسى، شِفاء الغَرام بأخبار البلد الحرام، ج 1، ص230۔
  83. متقى، ج3، جزء5، ص22۔
  84. ابن فهد، اتحاف الورى باخبار ام‌القرى، ج 1، ص 567۔
  85. کلینى، ج 1، ص403ـ404۔
  86. ابن‌ماجه، ج1، ص84ـ85۔۔
  87. یعقوبى، ج 2، ص 102۔۔
  88. کلینی، الكافی ج1 ص403-404۔
  89. واقدى، ج 3، ص 1099ـ1100۔
  90. کلینى، ج 1، ص403ـ404۔
  91. دارقطنى، ج 1، جزء2، ص 300۔
  92. حاکم نیشابورى، ج 1، ص 477۔
  93. متقى هندیو کنزالعمال، ج3، جزء5، ص11۔
  94. ابن‌ابی‌شیبه، ج 4، ص 496۔
  95. رجوع کریں سورہ مائدہ آیت 3 (آیت اکمال دین و اتمام نعمت)۔
  96. عیاشى؛ بحرانى؛ طباطبائى، ذیل آیه
  97. رجوع کریں: سورہ مائدہ آیت 67 (آیت تبلیغ)۔
  98. رجوع کریں: ابن‌مغازلى، ص 16ـ18۔
  99. امینى، ج 1، ص 508ـ541۔
  100. ابن کثیر، البداية والنهاية، ج5، ص208 و ج7، ص 346۔
  101. ذخائر العقبى، محب الدین طبرى ط قاهره، 1356، ص67۔
  102. ابن صباغ، فصول المهمة، ج2 ص23۔
  103. نسائى، خصائص، ط نجف، سال 1369 هجرى ص31۔
  104. بحرانى، کتاب غاية المرام، ص 79۔
  105. واثقى، ص 335۔
  106. رجوع کریں: ابن‌هشام، السیرہ، ج 4، ص 253۔
  107. رجوع کنید به ابن‌بابویه، 1414، ج 2، ص 295۔
  108. طوسى، ج 5، ص 11۔
  109. سبط ابن‌جوزى، ص 37، پانویس 1۔
  110. کردى، ج 1، جزء2، ص 229۔
  111. امینى، ج 1، ص 32۔
  112. واثقى، ص 337ـ342


مآخذ

  • قرآن كریم۔ ترجمہ: سید علی نقی نقوی (لکھنوی)
  • ابن ابی‌شیبه، المصنَّف فى الاحادیث و الآثار، بیروت 1414ہجری۔
  • ابن‌بابویه، كتاب الخصال، چاپ علی‌اكبر غفارى، قم 1362ہجری شمسی۔
  • همو، كتاب مَن لایحضُرُه‌الفقیه، چاپ علی‌اكبر غفارى، قم 1414ہجری۔
  • ابن‌سعد، الطبقات الکبری (بیروت)۔
  • ابو منصور حسن بن زين الدين عاملي (ابن شهید ثانى)، منتقى الجمان فى الاحادیث الصحاح و الحسان، چاپ علی‌اكبر غفارى، قم 1362ـ1365ہجری۔
  • ابن‌فهد، اتحاف‌الورى باخبار ام‌القرى، چاپ فهیم محمد شلتوت، مكه ]1983ـ 1984عیسوی۔
  • ابن‌ماجه، سنن ابن‌ماجة، استانبول 1401ہجری/1981عیسوی۔
  • ابن‌مغازلى، مناقب الامام علی‌بن‌ابی‌طالب علیه‌السلام، چاپ محمدباقر بهبودى، بیروت 1403ہجری/1983عیسوی۔
  • ابن‌هشام،السیرةالنبویة، چاپ مصطفی‌سقا، ابراهیم ابیارى، و عبدالحفیظ شلبى، قاهره 1355ہجری/1936عیسوی۔
  • سلیمان‌بن‌اشعث ابوداوود، سنن‌ابی‌داود، استانبول1401ہجری/1981عیسوی۔
  • محمدبن عبداللّه‌ازرقى، اخبار مكة و ماجاء فیهامن‌الآثار، چاپ رشدى صالح‌ملحس، بیروت 1403 ہجری/1983، چاپ افست قم 1369ہجری شمسی۔
  • عبدالحسین‌امینى، الغدیر فى الكتاب و السنة والادب، قم1416 ـ 1422ہجری/1995ـ2002عیسوی۔
  • هاشم‌بن‌سلیمان بحرانى،البرهان فى تفسیرالقرآن، چاپ محمودبن‌جعفر موسوی‌زرندى، تهران 1334ش، چاپ‌افست قم، بی‌تا۔
  • محمدبن‌اسماعیل‌بخارى، صحیح ‌البخارى ،]چاپ محمد ذهنی‌افندى، استانبول1401ہجری/1981عیسوی۔
  • احمدبن‌حسین بیهقى، السنن الكبرى، بیروت 1424ہجری/ 2003عیسوی۔
  • محمدبن عبداللّه حاكم نیشابورى، المستدرك علی‌الصحیحین، و بذیله التلخیص للحافظ الذهبى، بیروت: دارالمعرفة، بی‌تا۔
  • علی‌بن‌عمر دارقطنى، سنن‌الدارقطنى، چاپ عبداللّه هاشم یمانی‌مدنى، مدینه1386ہجری/1966عیسوی۔
  • سبط ابن‌جوزى، تذكرة الخواص، بیروت 1401ہجری/1981عیسوی۔
  • علی‌بن عبداللّه سمهودى، وفاءالوفا بأخبار دارالمصطفى، چاپ محمد محیی‌الدین عبدالحمید، بیروت 1404ہجری/ 1984عیسوی۔
  • سیوطى، تفسیر درالمنثور۔
  • طباطبائى، تفسیر المیزان۔
  • محمدبن حسن طوسى، تهذیب‌الاحكام، چاپ حسن موسوى خرسان، بیروت 1401ہجری/ 1981عیسوی۔
  • محمدبن مسعود عیاشى، التفسیر، قم 1421ہجری۔
  • محمدبن احمد فاسى، شِفاء الغَرام بأخبار البلدالحرام، چاپ ایمن فؤاد سید و مصطفى محمد ذهبى، مكه 1999عیسوی۔
  • محمد بن ‌یعقوب فیروزآبادى، سفرالسعادة، بیروت1398ہجری/1978عیسوی۔
  • نعمان‌بن محمد قاضی‌نعمان، دعائم‌الاسلام و ذكرالحلال و الحرام و القضایا و الاحكام، چاپ آصف‌بن علی‌اصغر فیضى، قاهره، 1963ـ 1965عیسوی چاپ افست، قم،بی‌تا۔
  • محمدطاهر كردى،التاریخ‌القویم لمكة و بیت‌اللّه الكریم، بیروت 1420ہجری/2000عیسوی۔
  • كلینى، الکافی۔
  • علی‌بن حسام‌الدین متقى، كنز العمال فى سنن الاقوال و الافعال، چاپ محمود عمر دمیاطى، بیروت 1419ہجری/ 1998عیسوی۔
  • محمدباقربن محمدتقى مجلسى، مرآةالعقول فى شرح اخبار آل‌الرسول، ج 17، چاپ محسن حسینى امینى، تهران 1365ہجری۔
  • عبداللّه‌بن عبدالملك مرجانى، بهجة النفوس و الاسرار فى تاریخ دارالهجرة المختار، چاپ محمد شوقى مكى، ریاض 1425ہجری۔
  • مسعودى، تنبیه۔
  • مسلم‌بن حجاج، صحیح مسلم، چاپ محمدفؤاد عبدالباقى، استانبول 1401 ہجری/1981عیسوی۔
  • حسین‌بن محمدتقى نورى، مستدرك الوسائل و مستنبط‌المسائل، قم 1407ـ1408ہجری۔
  • حسین واثقى، حجةالوداع كما رواها اهل‌البیت، قم 1425ہجری۔
  • محمدبن عمر واقدى، كتاب‌المغازى، چاپ مارسدن جونز، لندن 1966عیسوی۔
  • یعقوبى، تاریخ۔
  • ذخائر العقبى في مناقب ذوي القربى, محب الدين أحمد بن عبد الله الطبري (المتوفى: 694هـ)
  • وهبة الزحيلي، الفقه الإسلامي وأدلته۔
  • البداية والنهاية، ابن كثير إسماعيل بن عمر الدمشقي المتوفی سنة 774هـ۔
  • أبو عبد الرحمن أحمد بن شعيب النسائي‌، السنن: الخصائص۔
  • ابن صباغ مالکی ، شیخ نورالدین علی بن محمد، فصول المهمة۔ ط نجف، سال 1369 هجرى۔
  • بَحرانی، سيد هاشم بن سلیمان، غایه المرام و حجه الخصام فی تعیین الامام من طریق الخاص و العام۔


بیرونی روابط