کم لنک
فاقد تصویر
حوالہ جاتی اصول کی عدم رعایت
جانبدار
علاقائی تقاضوں سے غیر مماثل
غیر سلیس
تلخیص کے محتاج

محمد صلی اللہ علیہ و آلہ

ویکی شیعہ سے
(پیغمبر اكرم سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
بسم اللّه الرّحمن الرّحیم
محمد بن عبداللہ
مسجد النبی2.jpg
منصب اللہ کے آخری رسول
نام محمد بن عبداللہ
کنیت ابوالقاسم
ولادت 17 ربیع الاول، سال عام الفیل/570عیسوی۔
وفات 28 صفر، سال 11ھ/632عیسوی۔
مدفن مدینہ
رہائش مکہ، مدینہ
القاب امین، رسول اللہ، مصطفی، حبیب اللہ، صفی اللہ، نعمۃ اللہ، خیرة خلق اللہ، سید المرسلین، خاتم النبیین، رحمۃ للعالمین، نبی امّی
والد عبداللہ
والدہ آمنہ
ازواج خدیجہ، سوده، عایشہ، حفصہ، زینب بنت خزیمہ، ام حبیبہ، ام سلمہ، زینب بنت جحش، جویریہ، صفیہ، میمونہ۔
اولاد فاطمہؑ، قاسم، زینب، رقیہ، ام کلثوم، عبداللہ، ابراہیم۔
عمر 63 سال

محمد بن عبد اللہ بن عبد المطّلب بن ہاشم (عام الفیل،570ء–11ھ/632ء) اللہ کے آخری نبی، پیغمبر اسلامؐ اور اولو العزم انبیاء میں سے ہیں۔ آپ کا اہم ترین معجزہ قرآن ہے۔ آپ یکتا پرستی کے منادی اور اخلاق کے داعی ہیں۔

آپ عرب کے مشرک معاشرے میں پیدا ہوئے تھے تاہم بتوں کی پرستش اور معاشرے میں رائج اخلاقی برائیوں اور قباحتوں سے پرہیز کرتے تھے۔ یہاں تک کہ آپؐ چالیس سال کی عمر میں مبعوث برسالت ہوئے۔ آپ کا اہم ترین پیغام توحید اور یکتا پرستی تھا۔ مکارم اخلاق اور اچھائیوں کی تکمیل آپ کی بعثت کے اہداف میں سے تھے۔ مکہ کے مشرکین نے اگرچہ کئی سال تک آپ اور آپ کے پیروکاروں کو اذیت اور آزار کا نشانہ بنایا مگر آپ اور آپ کے پیروکار کبھی بھی اسلام سے دستبردار نہیں ہوئے۔ مکہ میں تیرہ سال تک تبلیغ کے بعد آپ نے مدینہ ہجرت فرمائی۔ مدینے کی طرف آپ کی ہجرت کو اسلامی تاریخ کا آغاز قرار دیا گیا۔ مشرکین مکہ کی طرف سے آپ کو مدینے میں متعدد جنگوں کا سامنا کرنا پڑا اور مجموعی طور پر ان جنگوں میں فتح نے مسلمانوں کے قدم چومے۔

رسول خداؐ کی کوششوں سے عربوں کا جاہلیت زدہ معاشرہ مختصر سے عرصے میں ایک توحیدی معاشرے میں بدل گیا اور تقریباً پورے جزیرہ نمائے عرب نے آپ کی حیات طیبہ کے دوران ہی اسلام قبول کیا۔ بعد کے ادوار میں بھی آج تک اسلام کا فروغ جاری ہے اور آج دین اسلام مسلسل فروغ پانے والا دین سمجھا جاتا ہے۔ جب آپ دنیا سے جا رہے تھے تو مسلمانوں کی ہدایت کیلئے اپنے بعد قرآن اور اہل بیتؑ کا دامن تھامے رکھنے کی وصیت فرمائی۔ واقعہ غدیر سمیت مختلف مواقع پر امام علی علیہ السلام کو اپنے جانشین کے طور پر لوگوں کے سامنے پیش کیا۔

فہرست

حیات طیبہ

حضرت محمدؐ کی حیات طیبہ کے بارے میں تاریخی متون میں واضح اور روشن روایات مذکور ہوئی ہیں اور دعوی کیا جا سکتا ہے کہ آپؐ کی حیات طیبہ کے واقعات دوسرے انبیاء کی نسبت زیادہ جامع اور باریک بینانہ طور پر نقل ہوئے ہیں۔ تاہم اس کے باوجود دوسری تاریخی شخصیات کی مانند، آپ کی زندگی کی تمام تفصیلات واضح نہیں ہیں اور کچھ ابہامات اور اختلافات پائے جاتے ہیں۔ لیکن ان اختلافات کے باوجود آپ کی حیات طیبہ کی روشن تصویر کشی ممکن ہے۔

نسب

مُـحـمّـد بـن عـبـد الله بن عبد المطّلب (شَيبة الحمد، عامر) بن هاشم (عَمرو العُلى) بن عبد مَناف (مُـغيره) بن قُصَىّ (زيد) بن كلاب (حكيم) بن مُرّة بن كَعب بن لُؤىّ بن غالب بن فِهر (قريش) بن مالك بن نَضر (قَيس) بن كنانة بن خُزَيمة بن مُدركة (عمرو) بن الياس بن مضر بن نِزار (خلدان) بن مَعَدّ بن عدنان عليهم السلام [1]

رسول خداؐ کی والدہ ماجدہ کا نام گرامی آمنہ بنت وہب بن عبد مناف بن زہرہ بن کلاب تھا۔ ابھی ان کے فرزند محمدؐ کی عمر 6 سال تین مہینے (ایک قول کے مطابق چار سال) تھی کہ وہ آپؐ کے ننیہال یعنی بنی عَدِیّ بن نّجّار سے ملانے مدینہ گئیں تو مکہ واپسی کے دوران 30 سال کی عمر میں ابواء کے مقام پر انتقال کر گئیں اور وہیں سپرد خاک کی گئیں۔[2]

علامہ مجلسی کہتے ہیں: شیعہ امامیہ کے یہاں ابو طالب نیز آمنہ بنت وہب اور عبداللہ بن عبدالمطلب اور رسول خدا کے حضرت آدم علیہ السلام تک اجداد کے ایمان پر اجماع پایا جاتا ہے۔[3]