سورہ محمد

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
احقاف سورۂ محمد فتح
سوره محمد.jpg
ترتیب کتابت: 47
پارہ : 26
نزول
ترتیب نزول: 95
مکی/ مدنی: مکی
اعداد و شمار
آیات: 38
الفاظ: 542
حروف: 2424

سورہ محمد [سُوْرَةُ مُحَمَّد] کو اس نام سے موسوم کیا گیا کیونکہ اس کی دوسری آیت میں رسول اللہ(ص) کا نام مبارک مذکور ہے۔ یہ سورت حجم و کمیت کے لحاظ سے سور مثانی کے زمرے میں آتی ہے اور اس کے مباحث و مفاہیم میں سے ایک کا تعلق حبط یا احباط کی بحث سے ہے جس نے آیات 9 سے 32 تک کا احاطہ کیا ہوا ہے۔

سورہ محمد، نام اور کوائف

"وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَآمَنُوا بِمَا نُزِّلَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَهُوَ الْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ كَفَّرَ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَأَصْلَحَ بَالَهُمْ"
ترجمہ: اور جنہوں نے ایمان اختیار کیا اور نیک اعمال کیے اور اس پر جو محمد پر اتارا گیا، ایمان لائے اور وہ سراسرحق ہے ان کے پروردگار کی طرف سے تو اس نے ان کی غلطیوں سے درگزر کیا اور ان کی حالت کو درست کیا۔
  • اس سورہ کو سورہ محمد کو اس نام مبارک سے موسوم کیا گیا ہے کیونکہ اس کی دوسری آیت میں رسول اللہ(ص) کا نام مبارک مذکور ہے۔
  • اس کا دوسرا نام سورہ قتال ہے کیونکہ اس سورت کی بہت سی آیات کا تعلق جنگ اور قتال سے ہے؛ اس کا تیسرا نام الَّذِينَ كَفَرُوا ہے کیونکہ اس کا آغاز اسی عبارت سے ہوا ہے۔
  • اس کی آیات کی تعداد قراءِ کوفہ کے قول کے مطابق 38، قراءِ بصرہ کے نزدیک 40 اور دیگر قراء کی رائے کے مطابق 39 ہے گوکہ اول الذکر قول مشہور اور معمول ہے؛
  • اس سورت کے الفاظ کی تعداد 542 اور حروف کی تعداد 2424 ہے۔
  • ترتیب مصحف کے لحاظ سے قرآن کریم کی سینتالیسویں اور ترتیب نزول کے لحاظ سے پچانوےویں سورت ہے۔
  • یہ سورت مکی ہے۔
  • حجم و کمیت کے لحاظ سے سور مثانی کے زمرے میں آتی ہے اور ایک حزب سے کچھ چھوٹی ہے۔

مفاہیم

  • اس سورت میں آنے والے مباحث میں ایک حبط یا احباط کی بحث ہے جو آیت 9 سے 32 تک پھیلی ہوئی ہے۔ حبط کے معنی یہ ہیں کہ ناروا اعمال نیک اعمال کو نیست و نابود کردیتے ہیں۔ یہ موضوع نہایت اہم کلامی موضوع ہے۔
  • اس سورت میں جنگی قیدیوں کے بارے میں چار فقہی اور عسکری احکام بھی شامل ہیں۔
  • راہ خدا کی تسدید کرنے والے کفار کے اعمال کا بےوقعت اور تباہ و برباد ہونا۔
  • مکہ سے ہجرت کے سلسلے میں رسول اللہ(ص) کو خداوند متعال کی طرف سے تسلی کا دیا جانا اور خدا کا یہ وعدہ کہ آپ(ص) سربلندی کے ساتھ فاتحانہ انداز سے اس شہر میں لوٹ کر آئیں گے۔
  • انفاق اور خیرات دینے کی ترغیب دلانا اور بخل اور کنجوسی سے سے پرہیز کرنے کی دعوت دینا۔[1]
سورہ محمد کے مضامین[2]
 
 
 
 
 
 
 
دین خدا کے دشمنوں سے جہاد کے اہداف
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
خاتمہ؛ آیہ ۳۳-۳۸
اللہ کی راہ میں مؤمنوں کو جہاد کی تشویق
 
تیسرا ہدف؛ آیہ ۱۶-۳۲
منافقوں کی حقیقت اور اقدامات کو برملا کرنا
 
دوسرا ہدف؛ آیہ ۷-۱۵
مؤمنوں کا اللہ کی حمایت اور اجر سے مستفید ہونا
 
پہلا ہدف؛ آیہ ۱-۶
دین خدا کے دشمنوں سے مقابلے کے اقدامات
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
پہلا مطلب؛ آیہ ۳۳-۳۵
جہاد میں سستی کا نتیجہ
 
پہلا اقدام؛ آیہ ۱۶-۱۹
پیغمبر اور ان کی تعلیمات کی توہین کرنا
 
پہلا اجر؛ آیہ ۷-۱۱
مؤمنوں کی کامیابی اور دشمنوں کی ہلاکت
 
پہلا مطلب؛ آیہ ۱-۳
دین کے دشمنوں کا راستہ باطل ہونا اور مؤمنوں کی حقانیت
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
دوسرا مطلب؛ آیہ ۳۶-۳۸
دنیا سے محبت، جہاد میں سستی کا عامل
 
دوسرا اقدام؛ آیہ ۲۰-۲۴
جہاد کا حکم ماننے میں کوتاہی
 
دوسرا اجر؛ آیہ ۱۲
مؤمنوں کو بہشت کی دائمی نعمتیں ملنا
 
دوسرا مطلب؛ آیہ ۴-۶
دین کے دشمنوں سے مؤمنوں کے جہاد کی ضرورت
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
تیسرا اقدام؛ آیہ ۲۵-۲۸
دشمنوں سے خفیہ تعاون
 
تیسرا اجر؛ آیہ ۱۳-۱۴
دشمنوں کے مقابلے میں مؤمنوں کو اللہ کی نصرت
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
نتیجہ؛ آیہ ۲۹-۳۲
منافقوں کی حقیقت برملا کرنے میں اللہ کا طریقہ
 
چوتھا اجر؛ آیہ ۱۵
بہشت کی مختلف نعمتوں سے مؤمنوں کا مستفید ہونا
 
 
 
 


متن اور ترجمہ

سورہ محمد
ترجمہ
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ

الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّهِ أَضَلَّ أَعْمَالَهُمْ ﴿1﴾ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَآمَنُوا بِمَا نُزِّلَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَهُوَ الْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ كَفَّرَ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَأَصْلَحَ بَالَهُمْ ﴿2﴾ ذَلِكَ بِأَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ وَأَنَّ الَّذِينَ آمَنُوا اتَّبَعُوا الْحَقَّ مِن رَّبِّهِمْ كَذَلِكَ يَضْرِبُ اللَّهُ لِلنَّاسِ أَمْثَالَهُمْ ﴿3﴾ فَإِذا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّى إِذَا أَثْخَنتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاء حَتَّى تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا ذَلِكَ وَلَوْ يَشَاء اللَّهُ لَانتَصَرَ مِنْهُمْ وَلَكِن لِّيَبْلُوَ بَعْضَكُم بِبَعْضٍ وَالَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَلَن يُضِلَّ أَعْمَالَهُمْ ﴿4﴾ سَيَهْدِيهِمْ وَيُصْلِحُ بَالَهُمْ ﴿5﴾ وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ ﴿6﴾ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ ﴿7﴾ وَالَّذِينَ كَفَرُوا فَتَعْسًا لَّهُمْ وَأَضَلَّ أَعْمَالَهُمْ ﴿8﴾ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَرِهُوا مَا أَنزَلَ اللَّهُ فَأَحْبَطَ أَعْمَالَهُمْ ﴿9﴾ أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ دَمَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ وَلِلْكَافِرِينَ أَمْثَالُهَا ﴿10﴾ ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ مَوْلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَأَنَّ الْكَافِرِينَ لَا مَوْلَى لَهُمْ ﴿11﴾ إِنَّ اللَّهَ يُدْخِلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ وَالَّذِينَ كَفَرُوا يَتَمَتَّعُونَ وَيَأْكُلُونَ كَمَا تَأْكُلُ الْأَنْعَامُ وَالنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ ﴿12﴾ وَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ هِيَ أَشَدُّ قُوَّةً مِّن قَرْيَتِكَ الَّتِي أَخْرَجَتْكَ أَهْلَكْنَاهُمْ فَلَا نَاصِرَ لَهُمْ ﴿13﴾ أَفَمَن كَانَ عَلَى بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّهِ كَمَن زُيِّنَ لَهُ سُوءُ عَمَلِهِ وَاتَّبَعُوا أَهْوَاءهُمْ ﴿14﴾ مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِي وُعِدَ الْمُتَّقُونَ فِيهَا أَنْهَارٌ مِّن مَّاء غَيْرِ آسِنٍ وَأَنْهَارٌ مِن لَّبَنٍ لَّمْ يَتَغَيَّرْ طَعْمُهُ وَأَنْهَارٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشَّارِبِينَ وَأَنْهَارٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّى وَلَهُمْ فِيهَا مِن كُلِّ الثَّمَرَاتِ وَمَغْفِرَةٌ مِّن رَّبِّهِمْ كَمَنْ هُوَ خَالِدٌ فِي النَّارِ وَسُقُوا مَاء حَمِيمًا فَقَطَّعَ أَمْعَاءهُمْ ﴿15﴾ وَمِنْهُم مَّن يَسْتَمِعُ إِلَيْكَ حَتَّى إِذَا خَرَجُوا مِنْ عِندِكَ قَالُوا لِلَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ مَاذَا قَالَ آنِفًا أُوْلَئِكَ الَّذِينَ طَبَعَ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَاتَّبَعُوا أَهْوَاءهُمْ ﴿16﴾ وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى وَآتَاهُمْ تَقْواهُمْ ﴿17﴾ فَهَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا السَّاعَةَ أَن تَأْتِيَهُم بَغْتَةً فَقَدْ جَاء أَشْرَاطُهَا فَأَنَّى لَهُمْ إِذَا جَاءتْهُمْ ذِكْرَاهُمْ ﴿18﴾ فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَمَثْوَاكُمْ ﴿19﴾ وَيَقُولُ الَّذِينَ آمَنُوا لَوْلَا نُزِّلَتْ سُورَةٌ فَإِذَا أُنزِلَتْ سُورَةٌ مُّحْكَمَةٌ وَذُكِرَ فِيهَا الْقِتَالُ رَأَيْتَ الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ نَظَرَ الْمَغْشِيِّ عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ فَأَوْلَى لَهُمْ ﴿20﴾ طَاعَةٌ وَقَوْلٌ مَّعْرُوفٌ فَإِذَا عَزَمَ الْأَمْرُ فَلَوْ صَدَقُوا اللَّهَ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ ﴿21﴾ فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِن تَوَلَّيْتُمْ أَن تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ ﴿22﴾ أُوْلَئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فَأَصَمَّهُمْ وَأَعْمَى أَبْصَارَهُمْ ﴿23﴾ أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَى قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا ﴿24﴾ إِنَّ الَّذِينَ ارْتَدُّوا عَلَى أَدْبَارِهِم مِّن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْهُدَى الشَّيْطَانُ سَوَّلَ لَهُمْ وَأَمْلَى لَهُمْ ﴿25﴾ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا لِلَّذِينَ كَرِهُوا مَا نَزَّلَ اللَّهُ سَنُطِيعُكُمْ فِي بَعْضِ الْأَمْرِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِسْرَارَهُمْ ﴿26﴾ فَكَيْفَ إِذَا تَوَفَّتْهُمْ الْمَلَائِكَةُ يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ وَأَدْبَارَهُمْ ﴿27﴾ ذَلِكَ بِأَنَّهُمُ اتَّبَعُوا مَا أَسْخَطَ اللَّهَ وَكَرِهُوا رِضْوَانَهُ فَأَحْبَطَ أَعْمَالَهُمْ ﴿28﴾ أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ أَن لَّن يُخْرِجَ اللَّهُ أَضْغَانَهُمْ ﴿29﴾ وَلَوْ نَشَاء لَأَرَيْنَاكَهُمْ فَلَعَرَفْتَهُم بِسِيمَاهُمْ وَلَتَعْرِفَنَّهُمْ فِي لَحْنِ الْقَوْلِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَعْمَالَكُمْ ﴿30﴾ وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتَّى نَعْلَمَ الْمُجَاهِدِينَ مِنكُمْ وَالصَّابِرِينَ وَنَبْلُوَ أَخْبَارَكُمْ ﴿31﴾ إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّهِ وَشَاقُّوا الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الهُدَى لَن يَضُرُّوا اللَّهَ شَيْئًا وَسَيُحْبِطُ أَعْمَالَهُمْ ﴿32﴾ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ ﴿33﴾ إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ مَاتُوا وَهُمْ كُفَّارٌ فَلَن يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ ﴿34﴾ فَلَا تَهِنُوا وَتَدْعُوا إِلَى السَّلْمِ وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ وَاللَّهُ مَعَكُمْ وَلَن يَتِرَكُمْ أَعْمَالَكُمْ ﴿35﴾ إِنَّمَا الحَيَاةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَإِن تُؤْمِنُوا وَتَتَّقُوا يُؤْتِكُمْ أُجُورَكُمْ وَلَا يَسْأَلْكُمْ أَمْوَالَكُمْ ﴿36﴾ إِن يَسْأَلْكُمُوهَا فَيُحْفِكُمْ تَبْخَلُوا وَيُخْرِجْ أَضْغَانَكُمْ ﴿37﴾ هَاأَنتُمْ هَؤُلَاء تُدْعَوْنَ لِتُنفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَمِنكُم مَّن يَبْخَلُ وَمَن يَبْخَلْ فَإِنَّمَا يَبْخَلُ عَن نَّفْسِهِ وَاللَّهُ الْغَنِيُّ وَأَنتُمُ الْفُقَرَاء وَإِن تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَكُمْ ﴿38﴾

(شروع کرتا ہوں) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

جن لوگوں نے کفر کیا اور (دوسرے لوگوں کو بھی) اللہ کے راستے سے روکا اس (اللہ) نے ان کے اعمال کو رائیگاں کر دیا۔ (1) اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال بھی کئے اور اس (قرآن) پر بھی ایمان لائے جو (حضرت) محمد (ص) پر نازل کیا گیا ہے جو کہ ان کے پروردگار کی طرف سے حق ہے تو اللہ نے ان کی برائیوں کا کفارہ ادا کر دیا (برائیاں دور کر دیں) اور انکی حالت کو درست کر دیا۔ (2) یہ اس لئے ہوا کہ جن لوگوں نے کفر کیا انہوں نے باطل کی پیروی کی اور جو ایمان لائے انہوں نے اپنے پروردگار کی طرف سے حق کی پیروی کی اسی طرح خدا لوگوں کے حالات و اوصاف بیان کرتا ہے۔ (3) پس جب کافروں سے تمہاری مڈبھیڑ ہوجائے تو ان کی گردنیں اڑاؤ۔ یہاں تک کہ جب خوب خون ریزی کر چکو (خوب قتل کر لو) تو پھر ان کو مضبوط باندھ لو اس کے بعد (تمہیں اختیار ہے)یا تو احسان کرو (رہا کردو)یا فدیہلے لو یہاں تک کہ جنگ میں اپنے ہتھیار ڈال دے (یہ حکم) اسی طرح ہے اور اگر خدا چاہتا تو خود ہی ان سے انتقاملے لیتا لیکن وہ تم لوگوں کے بعض کو بعض سے آزمانا چاہتا ہے اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہو گئے تو اللہ ان کے اعمال کو ہرگز ضائع نہیں کرے گا۔ (4) اور (منزلِ مقصود کی طرف) ان کی راہنمائی کرے گا اور ان کی حالت کو درست کرے گا۔ (5) اور ان کو بہشت میں داخل کرے گا جس کا وہ ان سے تعارف کرا چکا ہے۔ (6) اے ایمان والو! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا (اور تمہیں ثابت قدم رکھے گا)۔ (7) اور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا تو ان کیلئے ہلاکت ہے اور اللہ نے ان کے اعمال کو رائیگاں کر دیا۔ (8) یہ اس لئے ہے کہ انہوں نے اسے ناپسند کیا جو اللہ نے نازل کیا ہے۔ پس اس (اللہ) نے ان کے سب اعمال اکارت کر دئیے۔ (9) کیا یہ لوگ زمین میں چلتے پھرتے نہیں کہ دیکھتے کہ ان لوگوں کا انجام کیا ہوا جو ان سے پہلے تھے اللہ نے ان کو ہلاک کر دیا اور ان کافروں کیلئے بھی ایسے ہی انجام ہیں۔ (10) یہ اس لئے ہے کہ اللہ اہلِ ایمان کا سرپرست ہے اور جو کافر ہیں ان کا کوئی سرپرست اور کارساز نہیں ہے۔ (11) بےشک اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے ان بہشتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اور جن لوگوں نے کفر کیا وہ (دنیا میں) بہرہ مند ہو رہے ہیں (عیش کر رہے ہیں) اور اس طرح کھا رہے ہیں جس طرح چوپائے کھاتے ہیں اور (ان کا آخری) ٹھکانہ دوزخ ہے۔ (12) اور کتنی ہی ایسی بستیاں تھیں جو تمہاری اس بستی سے زیادہ طاقتور تھیں جس نے تمہیں نکالا ہے کہ ہم نے انہیں ہلاک کر دیا پس ان کا کوئی مددگار نہ تھا۔ (13) کیا وہ جو اپنے پروردگار کی طرف سے واضح دلیل پر ہے اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جس کی بدعملی اس کی نگاہ میں خوشنما بنا دی گئی ہے اور وہ اپنی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں؟ (14) وہ جنت جس کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا گیا ہے اس کی صفت یہ ہے کہ اس میں ایسے پانی کی نہریں ہیں جس میں تغیر نہیں ہوتا اور ایسے دودھ کی نہریں ہیں جس کا مزہ نہیں بدلتا اور ایسے شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کے لئے لذیذ ہے اور ایسے شہد کی نہریں ہیں جو صاف شفاف ہے اور ان کیلئے وہاں ہر قسم کے پھل ہیں اور ان کے پروردگار کی طرف سے بخشش ہے کیا ایسے (پرہیزگار) لوگ ان لوگوں جیسے ہو سکتے ہیں جو ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے اور ان کو ایسا گرم پانی پلایا جائے گا جو ان کی آنتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔ (15) اور ان میں سے ایسے لوگ بھی ہیں جو (بظاہر) تمہاری طرف کان لگا کر (بات سنتے ہیں) یہاں تک کہ جب آپ کے پاس سے باہر جاتے ہیں تو ان (خاص) لوگوں سے پوچھتے ہیں جن کو علم عطا کیا گیا ہے کہ انہوں (رسول(ص)) نے ابھی کیا کہاتھا؟ یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر خدا نے مہر لگا دی ہے اور اپنی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں۔ (16) اور جن لوگوں نے ہدایت طلب کی ہے اللہ ان کی ہدایت میں اور اضافہ کرتا ہے اور ان کو (ان کے حصے کی) پرہیزگاری عطا کرتا ہے۔ (17) سو یہ لوگ تو بس اب قیامت کا انتظار کر رہے ہیں کہ اچانک ان پر آجائے تو اس کے آثار و علا مات تو آہی چکے ہیں اور جب وہ آجائے گی تو پھر ان کو نصیحت حاصل کرنے کاموقع کہاں رہے گا؟ (18) (اے رسول(ص)) خوب جان لیں کہ اللہ کے سوا کوئی خدانہیں ہے اور خدا سے اپنے ذنب اور مؤمن مردوں اور مؤمن عورتوں کی مغفرت طلب کریں۔ اللہ تمہاری گردش (چلنے پھر نے) کی جگہ کو اور تمہارے ٹھکانے کو جانتا ہے۔ (19) اور جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ کہتے ہیں کہ (جہاد کے بارے میں) کوئی سورہ کیوں نازل نہیں کی جاتی؟ پس جب ایک محکم سورہ نازل کی جاتی ہے اور اس میں قتل و قتال کا ذکر ہوتا ہے تو آپ(ص) ان لوگوں کو دیکھئے گا کہ جن کے دلوں میں (نفاق کی) بیماری ہے وہ آپ(ص) کی طرف اس طرح دیکھتے ہیں جس طرح وہ شخص دیکھتا ہے جس پر موت کی غشی طاری ہو۔ (20) ان کے لئے بہتر تو یہ تھا کہ اطاعت کرتے اور اچھی بات کہتے اور جب (جہاد کا) قطعی فیصلہ ہو جاتا تو اگر یہ اللہ سے (اپنے عہد میں) سچے ثابت ہوتے تو ان کے لئے بہتر ہوتا۔ (21) پھرتم سے یہی توقع ہے کہ اگر تم حاکم بن جاؤ (تمہیں اقتدار مل جائے) تو تم زمین میں فساد برپا کرو۔اور اپنی قرابتوں کو قطع کرو۔ (22) یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے اور انہیں بہرا بنا دیا ہے اور ان کی آنکھوں کو اندھا کر دیا ہے۔ (23) کیا یہ لوگ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے؟ یا ان کے دلوں پر تالے لگے ہوئے ہیں۔ (24) جو لوگ پیٹھ پھیر کر (کفر کی طرف) پیچھے پلٹ گئے بعد اس کے کہ ان پر ہدایت واضح ہو گئی تھی۔ شیطان نے انہیں فریب دیا اورانہیں دور دور کی سجھائی۔ (25) یہ اس لئے ہے کہ انہوں نے ان لوگوں سے کہا جو اللہ کی نازل کردہ (کتاب) کو ناپسند کرتے ہیں کہ ہم بعض معاملات میں تمہاری بات مان لیں گے اللہ ان کی رازداری کو جانتا ہے۔ (26) اس وقت ان کا کیا حال ہوگا جب فرشتے ان کی روحیں قبض کریں گے اور ان کے چہروں اور پشتوں پر مارتے ہوں گے۔ (27) یہ سب اس وجہ سے ہوگا کہ انہوں نے اس چیز کی پیروی کی جو اللہ کی ناراضی کا با عث تھی اور اس کی خوشنودی کو ناپسند کیا پس اللہ نے ان کے اعمال کو اکارت کر دیا۔ (28) کیا وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے یہ خیال کرتے ہیں کہ اللہ کبھی ان کے (سینوں کے) کینوں کو ظاہر نہیں کرے گا۔ (29) اگر ہم چاہیں تو وہ لوگ آپ کو دکھا دیں اور آپ انہیں علامتوں سے پہچان لیں اور (خاص کر) آپ انہیں ان کے اندازِ گفتگو سے تو ضرور پہچان لیں گے اور اللہ تم سب کے اعمال کو جانتا ہے۔ (30) اور ہم ضرور تم لوگوں کو آزمائیںگے تاکہ ہم تم میں سے جہاد کرنے والوں اور ثابت قدم رہنے والوں کو معلوم (و ممیز) کریں اور تمہارے حالات کی جانچ کر لیں۔ (31) بےشک جن لوگوں نے کفر کیا اور (دوسرے لوگوں کو) اللہ کی راہ سے روکا اور پیغمبر کی مخالفت کی بعد اس کے کہ ان پر ہدایت واضح ہو چکی تھی وہ اللہ کو ہرگز کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے (ہاں البتہ) اللہ ان کے اعمال کو اکارت کر دے گا۔ (32) اے ایمان والو! اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول(ص) کی اور (ان کی مخالفت کر کے) اپنے اعمال کو برباد نہ کرو۔ (33) بےشک جن لوگوں نے کفر کیا اور (لوگوں کو) اللہ کے راستے سے روکا اور پھر وہ کفر ہی کی حالت میں مر گئے اللہ ان کو کبھی نہیں بخشے گا۔ (34) پس تم کمزور نہ پڑو (اور ہمت نہ ہارو) اور (دشمن کو) صلح کی دعوت نہ دو حالانکہ تم ہی غالب رہو گے اور اللہ تمہارے اعمال (کے ثوا ب) میں ہرگز کمی نہیں کرے گا۔ (35) یہ دنیا کی زندگی تو بس کھیل اور تماشا ہے اگر تم ایمان لاؤ اور تقویٰ اختیار کرو تو وہ (خدا) تمہیں تمہارے اجر عطا کرے گا اور تم سے تمہارے مال نہیں مانگے گا۔ (36) اور اگر وہ تم سے وہ (مال) مانگے اورپھر اصرار بھی کرے تو تم بخل کرو گے اور وہ تمہارے دلی کینوں (اور دلی ناگواریوں) کو ظاہر کر دے گا۔ (37) ہاں تم ہی ایسے لوگ ہو کہ تمہیں دعوت دی جاتی ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرو تو تم میں سے کچھ لوگ بُخل کرنے لگتے ہیں اور جو بُخل کرتا ہے وہ (دراصل) اپنے ہی نفس سے بُخل کرتا ہے اور اللہ بےنیاز ہے البتہ تم (اس کے) محتاج ہو اور اگر تم رُوگردانی کروگے تو وہ تمہاری جگہ دوسری قوم کولے آئے گا پھر وہ تم جیسے نہیں ہوں گے۔ (38)

پچھلی سورت:
سورہ احقاف
سورہ 47 اگلی سورت:
سورہ فتح
قرآن کریم

(1) سورہ فاتحہ (2) سورہ بقرہ (3) سورہ آل عمران (4) سورہ نساء (5) سورہ مائدہ (6) سورہ انعام (7) سورہ اعراف (8) سورہ انفال (9) سورہ توبہ (10) سورہ یونس (11) سورہ ہود (12) سورہ یوسف (13) سورہ رعد (14) سورہ ابراہیم (15) سورہ حجر (16) سورہ نحل (17) سورہ اسراء (18) سورہ کہف (19) سورہ مریم (20) سورہ طہ (21) سورہ انبیاء (22) سورہ حج (23) سورہ مؤمنون (24) سورہ نور (25) سورہ فرقان (26) سورہ شعراء (27) سورہ نمل (28) سورہ قصص (29) سورہ عنکبوت (30) سورہ روم (31) سورہ لقمان (32) سورہ سجدہ (33) سورہ احزاب (34) سورہ سباء (35) سورہ فاطر (36) سورہ یس (37) سورہ صافات (38) سورہ ص (39) سورہ زمر (40) سورہ غافر (41) سورہ فصلت (42) سورہ شوری (43) سورہ زخرف (44) سورہ دخان (45) سورہ جاثیہ (46) سورہ احقاف (47) سورہ محمد (48) سورہ فتح (49) سورہ حجرات (50) سورہ ق (51) سورہ ذاریات (52) سورہ طور (53) سورہ نجم (54) سورہ قمر (55) سورہ رحمن (56) سورہ واقعہ (57) سورہ حدید (58) سورہ مجادلہ (59) سورہ حشر (60) سورہ ممتحنہ (61) سورہ صف (62) سورہ جمعہ (63) سورہ منافقون (64) سورہ تغابن (65) سورہ طلاق (66) سورہ تحریم (67) سورہ ملک (68) سورہ قلم (69) سورہ حاقہ (70) سورہ معارج (71) سورہ نوح (72) سورہ جن (73) سورہ مزمل (74) سورہ مدثر (75) سورہ قیامہ (76) سورہ انسان (77) سورہ مرسلات (78) سورہ نباء (79) سورہ نازعات (80) سورہ عبس (81) سورہ تکویر (82) سورہ انفطار (83) سورہ مطففین (84) سورہ انشقاق (85) سورہ بروج (86) سورہ طارق (87) سورہ اعلی (88) سورہ غاشیہ (89) سورہ فجر (90) سورہ بلد (91) سورہ شمس (92) سورہ لیل (93) سورہ ضحی (94) سورہ شرح (95) سورہ تین (96) سورہ علق (97) سورہ قدر (98) سورہ بینہ (99) سورہ زلزال (100) سورہ عادیات (101) سورہ قارعہ (102) سورہ تکاثر (103) سورہ عصر (104) سورہ ہمزہ (105) سورہ فیل (106) سورہ قریش (107) سورہ ماعون (108) سورہ کوثر (109) سورہ کافرون (110) سورہ نصر (111) سورہ مسد (112) سورہ اخلاص (113) سورہ فلق (114) سورہ ناس


حوالہ جات

  1. دانشنامه قرآن و قرآن پژوهی، ج 2، ص 1251
  2. خامہ‌گر، محمد، ساختار سورہ‌ہای قرآن کریم، تہیہ مؤسسہ فرہنگی قرآن و عترت نورالثقلین، قم، نشر نشرا، چ۱، ۱۳۹۲ش.


مآخذ

  • قرآن کریم، ترجمہ محمد حسین نجفی (سرگودھا)۔