سورہ علق

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
تین سورۂ علق قدر
سوره علق.jpg
ترتیب کتابت: 96
پارہ : 30
نزول
ترتیب نزول: 1
مکی/ مدنی: مکی
اعداد و شمار
آیات: 19
الفاظ: 72
حروف: 288

سورہ عَلَق یا إِقرا پیغمبر اکرمؐ پر نازل ہونے والی پہلی سورت ہے (اکثر مفسروں کے مطابق)۔ قرآن مجید کے موجودہ مصحف میں 96ویں سورت ہے جس کا شمار مکی سورتوں میں ہوتا ہے اور 30ویں پارے میں واقع ہے۔ اس کے نام کو اس سورت کی دوسری آیت سے اخذ کیا ہے جس میں انسانی خلقت کو جمے ہوئے خون (علق) کی طرف نسبت دیا ہے۔ سورہ علق میں انسان کی خلقت اور تکامل نیز اللہ تعالی کی نعمتوں کا ذکر ہوا ہے اور کہا گیا ہے کہ اس کے باوجود انسان اپنے پروردگار کے سامنے ناشکری اور تکبر کرتا ہے۔ اس سورت میں اس شخص کے لیے دردناک عذاب کا ذکر کیا ہے جو لوگوں کو ہدایت اور نیک اعمال سے روکتا ہے۔

سورہ علق واجب سجدے والی چار سورتوں میں سے ایک ہے اور اس کی آخری آیت میں سجدہ واجب ہے؛ یعنی جب اس آیت کو پڑھے یا سنے تو سجدہ کرنا ضروری ہے۔ سورہ علق کی فضیلت کے بارے میں مروی ہے کہ جو کوئی دن یا رات میں "سورہ اقراء باسم ربک" پڑھے اور اسی دن یا رات کو مر جائے تو وہ شہادت کی موت مرا گا، اللہ تعالی اسے شہدا کے ساتھ محشور کرے گا، شہدا کی صف میں جگہ ملے گی اور قیامت میں اس شخص کی مانند ہوگا جس نے رسول اکرمؐ کے رکاب میں تلوار سے جہاد کیا ہے۔

تعارف

اقرأ بسم ربک الذی خلق سوره علق.jpg
  • نام

اس سورت کو سوره علق اور سورہ اقرأ (یا إقرأ بسم ربک) کا نام دیا گیا ہے۔[1] "علق" سے مراد جما ہوا خون ہے، اور دوسری آیت میں اس کا ذکر ہوا ہے جبکہ «إقرأ» یعنی «پڑھو»؛ اس سورت کی ابتدا میں آیا ہے۔[2] اس سورت کو «قلم» بھی کہا گیا ہے۔[3]

  • ترتیب و محل نزول

سورہ علق مکی سورتوں میں سے ہے اور اکثر مفسروں کے مطابق ترتیب نزول میں قرآن مجید کی پہلی سورت ہے جو پیغمبر اکرمؐ پر نازل ہوئی ہے۔[4] سورہ علق قرآن مجید کے موجودہ مصحف کے مطابق 96ویں سورت[5] اور قرآن کے آخری پارے میں واقع ہے۔

  • آیات کی تعداد اور دوسری خصوصیات

سورہ علق میں 19 آیات،72 کلمات اور 288 حروف ہیں۔[6]حجم اور کمیت کے اعتبار سے اس کا شمار مُفَصَّلات (چھوڑی آیات والی) اور چھوٹی سورتوں میں ہوتا ہے۔[7]

  • واجب سجدے والی سورت

سورہ علق قرآن کی واجب سجدے والی (عَزائِم) چار سورتوں میں سے ایک ہے اور اس کے آخری آیت میں واجب سجدہ ہے؛[8] یعنی اس آیت کی تلاوت کرے یا سنے تو فورا سجدہ کرنا چاہیے۔ [9]ان سورتوں کے بعض مخصوص احکام ہیں؛ مثال کے طور پر نماز میں سورہ حمد کے بعد ان سورتوں کی تلاوت نہیں کرسکتے ہیں نیز حیض اور جنابت کی حالت میں بھی ان سورتوں کی تلاوت ممنوع ہے۔[10]

مضمون

سورہ علق کی آیات میں مندرجہ ذیل مطالب بیان ہوئی ہیں:

  • سورہ کی ابتدا میں پیغمبر اکرمؐ کو پڑھنے اور تلاوت کرنے کا حکم ہوتا ہے۔
  • انسانی خلقت کی تمام تر عظمت کے باوجود اسے بےقدر و قیمت خون کے ایک لوتھڑے سے تعبیر کیا گیا ہے۔
  • اللہ تعالی کے لطف و کرم کے زیر سایہ انسان کے تکامل اور اس کا علم اور قلم سے آشنائی کے بارے میں بات ہوتی ہے۔
  • سرکشی کرنے والے ناشکر انسانوں کا تذکرہ ہوا ہے۔
  • لوگوں کو ہدایت پانے اور نیک اعمال کی انجام دہی سے روکنے والوں کے لیے سخت عذاب کا کہا گیا ہے۔
  • سورت کے آخر میں اللہ تعالی کو سجدہ کرنے اور ان کے قریب ہونے کا حکم ہوتا ہے۔[11]
سورہ علق کے مضامین[12]
 
 
اللہ کی طرف دعوت دینے میں پیغمبر کی ذمہ داریاں
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
دوسری ذمہ داری" آیہ ۹-۱۶
اللہ کی بندگی اور سرکش لوگوں کی مخالفت
 
پہلی ذمہ داری؛ آیہ ۱-۵
اللہ تعالی کا تعارف
 
 
 
 
 
 
 
 
پہلا نکتہ؛ آیہ ۶-۸
اللہ کی نافرمانی کرنا
 
پہلا نکتہ؛ آیہ ۱-۲
اللہ نے انسان کو جمے ہوئے خون سے خلق کیا
 
 
 
 
 
 
 
 
دوسرا نکتہ؛ آیہ ۹-۱۴
سرکش لوگوں کا پیغمبر کی توحیدی دعوت کی مخالفت
 
دوسرا نکتہ؛ آیہ ۳-۵
انسان کی ضرورت کے مطابق اللہ نے اسے سکھایا
 
 
 
تیسرا نکتہ؛ آیہ ۱۵-۱۸
اللہ کی مخالفت کا نتیجہ، خواری اور ذلت
 
 
 
چوتھا نکتہ؛ آیہ ۱۹
سرکشوں کے مقابلے میں پیغمبر کی ذمہ داری


علمی تحریک سے اسلام کا آغاز

سورہ علق کی ابتداء «إقرأ: پڑھو» سے ہوتا ہے۔ پیغمبر اکرمؐ پر ہونے والے وحیانی تجربے کا آغاز اس جملے سے ہونا اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ پیغمبر اکرمؐ کی نبوت کا آغاز ایک علمی حرکت[13] اور ایک ثقافتی حکم سے ہوتا ہے۔[14]دوسرا نکتہ یہ ہے کہ علوم قرآن کے ماہر علماء نے «اقْرَ‌أْ بِاسْمِ رَ‌بِّک الَّذِی خَلَقَ» سے استناد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بسم الله الرحمن الرحیم قرآنی سورتوں کا جزء ہے کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ یہ آیت اصل میں یوں تھی: «اقرأ القرآن باسم ربک: یعنی قرآن کو اپنے پروردگار کے نام سے پڑھو؛ پھر «القرآن» کا لفظ حذف ہوا ہے۔[15]

شأن نزول

جناب عایشہؓ سے منقول ہے کہ جب پیغمبر اکرمؐ غار حرا میں گئے تھے تو ان میں سے ایک مرتبہ جبرئیل امینؑ آپ پر نازل ہوئے اور کہا:(اے رسولؐ) اپنے پروردگار کے نام سے پڑھیے جس نے (سب کائنات کو) پیدا کیا۔ آپ نے کہا: میں پڑھنے والوں میں سے نہیں ہوں۔ جبرئیلؑ نے آپؐ سے معانقہ کیا اور پھر سے کہا: پڑھو! پیغمبر اکرمؐ نے وہی جواب دہرایا۔ جبرئیل نے پھر سے معانقہ کیا اور پھر وہی جواب ملا، اور تیسری بار کہا: «اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّک الَّذِی خَلَقَ...(پانچویں آیت تک)»۔ یہ کہہ کر پیغمبر اکرمؐ کی نظروں سے غائب ہوگیا۔ پہلی وحی آنے کے بعد رسول اللہؐ خدیجہؑ کے پاس آئے جبکہ آپ تھکے ہوئے تھے۔ وہاں آکر آپؐ نے فرمایا: «زملونی و دثرونی»: مجھ کو کچھ اوڑھاؤ تاکہ کچھ آرام کروں۔[16]

فضیلت اور خواص

سورہ علق کی فضیلت کے بارے میں امام صادقؑ مروی ہے کہ جو کوئی دن یا رات میں سورہ اقراء باسم ربک پڑھے اور اسی دن یا رات کو مرجائے تو وہ شہید کی موت مرے گا اور اللہ تعالی اسے شہید محشور کرے گا اور شہدا کی صف میں کھڑا کرے گا، اور قیامت میں اس شخص کی مانند ہوگا جس نے رسول اکرمؐ کے رکاب میں تلوار سے جہاد کیا ہے۔[17]اسی طرح رسول اللہؐ سے منقول ہے کہ جس نے سورہ اقراء کی تلاوت کی گویا اس نے تمام مفصلات سورتوں کی تلاوت کی۔[18]پانی میں غرق ہونے سے نجات، سفر میں حادثات سے محفوظ رہنا، مال کا چوری اور دیگر حادثات سے محفوظ رکھنا اس سورت کے خواص میں سے بعض ہیں جو اس سورت کے لئے ذکر ہوئے ہیں۔[19]

متعلقہ مضامین

متن سورہ

سوره علق
ترجمہ
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ

اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ﴿1﴾ خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ ﴿2﴾ اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ ﴿3﴾ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ﴿4﴾ عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ ﴿5﴾ كَلَّا إِنَّ الْإِنسَانَ لَيَطْغَى ﴿6﴾ أَن رَّآهُ اسْتَغْنَى ﴿7﴾ إِنَّ إِلَى رَبِّكَ الرُّجْعَى ﴿8﴾ أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهَى ﴿9﴾ عَبْدًا إِذَا صَلَّى ﴿10﴾ أَرَأَيْتَ إِن كَانَ عَلَى الْهُدَى ﴿11﴾ أَوْ أَمَرَ بِالتَّقْوَى ﴿12﴾ أَرَأَيْتَ إِن كَذَّبَ وَتَوَلَّى ﴿13﴾ أَلَمْ يَعْلَمْ بِأَنَّ اللَّهَ يَرَى ﴿14﴾ كَلَّا لَئِن لَّمْ يَنتَهِ لَنَسْفَعًا بِالنَّاصِيَةِ ﴿15﴾ نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ ﴿16﴾ فَلْيَدْعُ نَادِيَه ﴿17﴾ سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ ﴿18﴾ كَلَّا لَا تُطِعْهُ وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ ﴿19﴾(سجدة واجبة)

(شروع کرتا ہوں) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

(اے رسول(ص)) اپنے پروردگار کے نام سے پڑھیے جس نے (سب کائنات کو) پیدا کیا۔ (1) (بالخصوص) انسان کو جمے ہوئے خون کے ایک لوتھڑے سے پیدا کیا۔ (2) پڑھئیے! اور آپ کا پروردگار بڑا کریم ہے۔ (3) جس نے قَلم کے ذریعہ سے علم سکھایا۔ (4) اور انسان کو وہ کچھ پڑھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔ (5) ہرگز نہیں! انسان (اس وقت) سرکشی کرنے لگتا ہے۔ (6) جب وہ سمجھتا ہے کہ وہ (غنی) بےنیاز ہے۔ (7) بےشک آپ(ص) کے پروردگار کی طرف ہی (سب کی) بازگشت ہے۔ (8) کیا آپ(ص) نے اس شخص کو دیکھا ہے جو منع کرتا ہے۔ (9) ایک بندہ (خاص) کو جب وہ نماز پڑھتا ہے۔ (10) بھلا دیکھئے تو! اگر وہ (بندۂ خاص) ہدایت پر ہے؟ (11) یا وہ پرہیزگاری کا حکم دیتا ہے؟ (12) کیا آپ نے غور کیا ہے کہ اگر یہ شخص (حق کو) جھٹلاتا ہے اور (اس سے) رُوگردانی کرتا ہے توانجام کیا ہوگا؟ (13) کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ (سب کچھ) دیکھ رہا ہے؟ (14) ہرگز نہیں اگر وہ (اس سے) باز نہ آیا تو ہم اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر کھینچیں گے۔ (15) وہ پیشانی جو جھوٹی ہے اور گنہگار؟ (16) پس وہ بلائے اپنے ہم نشینوں کو۔ (17) ہم بھی دوزخ کے ہرکاروں (فرشتوں) کو بلائیں گے۔ (18) ہرگز نہیں! اس کی بات نہ مانیے اورسجدہ کیجئے اور (اپنے پروردگار کا) قرب حاصل کیجئے۔ (19)(واجب سجدہ)


پچھلی سورت:
سورہ تین
قرآن کریم اگلی سورت:
سورہ قدر
سورہ 96

١.فاتحہ ٢.بقرہ ٣.آل‌عمران ٤.نساء ٥.مائدہ ٦.انعام ٧.اعراف ٨.انفال ٩.توبہ ١٠.یونس ١١.ہود ١٢.یوسف ١٣.رعد ١٤.ابراہیم ١٥.حجر ١٦.نحل ١٧.اسراء ١٨.کہف ١٩.مریم ٢٠.طہ ٢١.انبیاء ٢٢.حج ٢٣.مؤمنون ٢٤.نور ٢٥.فرقان ٢٦.شعراء ٢٧.نمل ٢٨.قصص ٢٩.عنکبوت ٣٠.روم ٣١.لقمان ٣٢.سجدہ ٣٣.احزاب ٣٤.سبأ ٣٥.فاطر ٣٦.یس ٣٧.صافات ٣٨.ص ٣٩.زمر ٤٠.غافر ٤١.فصلت ٤٢.شوری ٤٣.زخرف ٤٤.دخان ٤٥.جاثیہ ٤٦.احقاف ٤٧.محمد ٤٨.فتح ٤٩.حجرات ٥٠.ق ٥١.ذاریات ٥٢.طور ٥٣.نجم ٥٤.قمر ٥٥.رحمن ٥٦.واقعہ ٥٧.حدید ٥٨.مجادلہ ٥٩.حشر ٦٠.ممتحنہ ٦١.صف ٦٢.جمعہ ٦٣.منافقون ٦٤.تغابن ٦٥.طلاق ٦٦.تحریم ٦٧.ملک ٦٨.قلم ٦٩.حاقہ ٧٠.معارج ٧١.نوح ٧٢.جن ٧٣.مزمل ٧٤.مدثر ٧٥.قیامہ ٧٦.انسان ٧٧.مرسلات ٧٨.نبأ ٧٩.نازعات ٨٠.عبس ٨١.تکویر ٨٢.انفطار ٨٣.مطففین ٨٤.انشقاق ٨٥.بروج ٨٦.طارق ٨٧.اعلی ٨٨.غاشیہ ٨٩.فجر ٩٠.بلد ٩١.شمس ٩٢.لیل ٩٣.ضحی ٩٤.شرح ٩٥.تین ٩٦.علق ٩٧.قدر ٩٨.بینہ ٩٩.زلزلہ ١٠٠.عادیات ١٠١.قارعہ ١٠٢.تکاثر ١٠٣.عصر ١٠٤.ہمزہ ١٠٥.فیل ١٠٦.قریش ١٠٧.ماعون ١٠٨.کوثر ١٠٩.کافرون ١١٠.نصر ١١١.مسد ١١٢.اخلاص ١١٣.فلق ١١٤.ناس


حوالہ جات

  1. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۸۱ش، ج ۲۷، ص۱۵۱.
  2. دانش نامہ قرآن و قرآن‌پژوہی، ج۲، ص۱۲۶۶.
  3. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۸۱ش، ج ۲۷، ص۱۵۱.
  4. مکارم شیرازی، شأن نزول آیات قرآن، ۱۳۸۵ش، ص۵۰۱. نمونہ کے طور پر مراجعہ کریں: طبری، ترجمہ تفسیر طبری، ۱۳۵۶ش، ج ۷، ص۲۰۳۳؛ طباطبایی، المیزان، بیروت، ج۲۰، ص۳۲۲؛ طوسی، التبیان فی تفسیر القرآن، بیروت، ج۱۰، ص۳۷۸؛ ابو‌الفتوح رازی، روض الجنان و روح الجنان فی تفسیر القرآن، ۱۳۷۵ش، ج۲۰، ص۳۳۴.
  5. معرفت، آموزش علوم قرآن، ۱۳۷۱ش، ج۲، ص۱۶۶.
  6. روح بخش، دانش نامہ سورہ ہای ‌قرآنی، ج۲، ص۱۹۸.
  7. دانش نامہ قرآن و قرآن‌پژوہی، ج۲، ص۱۲۶۶.
  8. دانش نامہ قرآن و قرآن‌پژوہی، ج۲، ص۱۲۶۶.
  9. بنی ہاشمی، توضیح المسائل مراجع، ج۱، ص۶۱۵-۶۱۷
  10. قرائتی، تفسیر نور، ۱۳۸۸ش، ج۱۰، ص۵۳۲.
  11. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۸۱ش، ج ۲۷، ص۱۵۰.
  12. خامہ‌گر، محمد، ساختار سورہ‌ہای قرآن کریم، تہیہ مؤسسہ فرہنگی قرآن و عترت نورالثقلین، قم، نشر نشرا، چ۱، ۱۳۹۲ش.
  13. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۸۱ش، ج ۲۷، ص۱۵۸-۱۵۹.
  14. قرائتی، تفسیر نور، ۱۳۸۸ش، ج۱۰، ص۵۳۴.
  15. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۸۱ش، ج۲۷، ص۱۵۵.
  16. ابو‌الفتوح رازی، روض الجنان و روح الجنان فی تفسیر القرآن، ۱۳۷۵ش، ج۲۰، ص۳۳۵. ابوالفتوح نے اس روایت کو اہل سنت کے مصادر سے نقل کیا ہے۔
  17. طبرسی، جوامع الجامع، ۱۳۷۸ش، ج ۴، ص۵۱۲.
  18. ابو‌الفتوح رازی، روض الجنان و روح الجنان فی تفسیر القرآن، ۱۳۷۵ش، ج۲۰، ص۳۳۳.
  19. مراجعہ کریں: بحرانی، البرہان فی تفسیر القرآن، مؤسسہ البعثہ، ج ۵، ص۶۹۵.


مآخذ

  • قرآن کریم، ترجمہ محمد حسین نجفی (سرگودھا)۔
  • ابو‌الفتوح رازی، حسین بن علی، روض الجنان و روح الجنان فی تفسیر القرآن، مصحح: یاحقی، محمدجعفر و ناصح، محمدمہدی، آستان قدس رضوی، بنیاد پژوہش‌ہای اسلامی، مشہد مقدس، ۱۳۷۵شمسی ہجری۔
  • بنی‌ہاشمی خمینی، سید محمد حسن، توضیح المسائل مراجع، دفتر نشر اسلامی،چاپ سوم، ۱۳۷۸شمسی ہجری۔
  • بحرانی، ہاشم بن سلیمان، البرہان فی تفسیر القرآن، محقق :بنیاد بعثت، واحد تحقیقات اسلامی، موسسہ البعثہ، قسم الدراسات الاسلامیہ، قم، بی‌تا.
  • خامہ‌گر، محمد، ساختار سورہ‌ہای قرآن کریم، تہیہ کنندہ: مؤسسہ فرہنگی قرآن و عترت نورالثقلین، نشرا، قم، ۱۳۹۲شمسی ہجری۔
  • خرمشاہی، بہاء الدین، دانش نامہ قرآن و قرآن پژوہی، ج2، بہ کوشش تہران: دوستان-ناہید، 1377ہجری شمسی۔
  • روح بخش، علی، دانشنامہ‌ سورہ‌ہای ‌قرآنی، ورع، قم، بی‎تا.
  • طباطبایی، محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، موسسہ الاعلمی للمطبوعات، بیروت، لبنان.
  • طبرسی، فضل بن حسن، تفسیر جوامع الجامع، مصحح:گرجی، ابوالقاسم، سازمان مطالعہ و تدوین کتب علوم انسانی دانشگاہ‌ہا (سمت)، قم، ۱۳۷۸شمسی ہجری۔
  • طبری، محمد بن جریر، ترجمہ تفسیر طبری، مصحح: یغمایی، حبیب، توس، تہران، ۱۳۵۶شمسی ہجری۔
  • طوسی، محمد بن حسن، التبیان فی تفسیر القرآن، مصحح: احمد حبیب، عاملی، با مقدمہ: آقابزرگ تہرانی،‌دار احیاء التراث العربی، بیروت، لبنان، بی‎تا.
  • قرائتی، محسن، تفسیر نور، مرکز فرہنگی درسہایی از قرآن، تہران، ۱۳۸۸شمسی ہجری۔
  • معرفت، محمدہادی، آموزش علوم قرآن، [بی‌جا]، مرکز چاپ و نشر سازمان تبلیغات اسلامی، چ۱، ۱۳۷۱شمسی ہجری۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ،‌دار الکتب الاسلامیہ، تہران، ۱۳۸۱شمسی ہجری۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، شأن نزول آیات قرآن، قم، مدرسہ الامام علی بن ابی طالب، چاپ اول، ۱۳۸۵شمسی ہجری۔

بیرونی روابط