غزوه بنی مصطلق

ویکی شیعہ سے
(غزوہ بنی مصطلق سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
غزوہ بنی مصطلق
سلسلۂ محارب:
رسول خدا(ص) کے غزوات
بنوالمصطلق.png

تاریخ
مقام مریسیع کے پانی کے کنارے
محل وقوع مریسیع کا تالاب، مکہ سے 120 کلومیٹر اور مدینہ سے 300 کلومیٹر دور۔
نتیجہ مسلمانوں کی فتح؛ دیگر حصول یابیوں میں 2000 اونٹ 5000 بھیڑ بکریاں بطور غنیمت، شامل ہیں۔
سبب بنو مصطلق کا مدینہ پر حملے کا منصوبہ
ملک حجاز
فریقین
سپاہ اسلام قبیلۂ بنو مصطلق اور حلیف قبائل
قائدین
حضرت محمد(ص) حارث بن ابی ضِرار
نقصانات
ایک مسلمان شہید اکثر بھاگ گئے، 10 مارے گئے اور باقی گرفتار
سورہ نور کی آیت 11، سورہ حجرات کی آیات 6 اور 7 کے علاوہ پورا سورہ منافقون اسی جنگ کے دوران نازل ہوا۔ اس جنگ میں منافقین کا سرخیل رسوائے عام و خاص ہوا اور اس کے بعد مسلمانوں کے لئے کوئی مسئلہ کھڑا نہیں کرسکا۔


پیغمبر اکرمؐ کی مدنی زندگی
ہجرت نبوی 622ء بمطابق 1ھ
معراج 622ء بمطابق 1ھ
غزوہ بدر 624ء بمطابق 17 رمضان سنہ 2ھ
بنی‌قینقاع کی شکست 624ء بمطابق 15 شوال سنہ 2ھ
غزوہ احد 625ء بمطابق شوال سنہ 3ھ
بنو نضیر کی شکست 625ء بمطابق سنہ 4ھ
غزوہ احزاب 627ء بمطابق سنہ 5ھ
بنو قریظہ کی شکست 627ء بمطابق سنہ 5ھ
غزوہ بنی مصطلق 627ء بمطابق سنہ 5 یا 6ھ
صلح حدیبیہ 628ء بمطابق سنہ 6ھ
غزوہ خیبر 628ء بمطابق سنہ7ھ
پہلا سفرِ حجّ 629ء بمطابق 7ھ
جنگ مؤتہ 629ء بمطابق 8ھ
فتح مکہ 630ء بمطابق 8ھ
غزوہ حنین 630ء بمطابق 8ھ
غزوہ طائف 630ء بمطابق 8ھ
جزیرة العرب پر تسلط 631ء بمطابق 9ھ
غزوہ تبوک 632ء بمطابق 9ھ
حجۃ الوداع 632ء بمطابق 10ھ
واقعۂ غدیر خم 632ء بمطابق 10ھ
وفات 632ء بمطابق 11ھ

غزوہ بنی مُصْطَلِق، یا غزوۂ مُرَیسیع رسول خدا(ص) کے غزوات میں شامل ہے۔ یہ جنگ بغاوت اور جنگ پر اصرار کرنے والے قبیلے "بنو مصطلق" کے خلاف لڑی گئی جو مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع علاقے "فُرع"، کے علاقے میں رہائش پذیر تھا۔ بنو مصطلق خزاعہ کا ذیلی قبیلہ تھا جو مکہ کے قریب آ بسا اور ظہور اسلام کے بعد دوسرے مشرکین کے راستے پر گامزن ہوکر مسلمانوں کے خلاف بر سر پیکار ہوا۔ بنو مصطلق کے نام سے شہرت پانے والے غزوے میں مسلمانوں نے انہیں شکست دی اور ان کا فتنہ کچل ڈالا۔

نازل ہونے والی آیات

اس جنگ کا ایک اہم نکتہ یہ تھا کہ بعض منافقین نے اس کے دوران انتشار پھیلانے اور حالات بگاڑنے کی کوشش کی اور ان کے جواب میں جنگ کے بعد رسول اللہ(ص) پر سورہ منافقون کی تمام آیات نیز سورہ حجرات کی چھٹی اور سورہ نور کی گیارہویں آیت اسی جنگ کے موقع پر نازل ہوئی ہیں۔

قبیلۂ بنی مُصْطَلِق

بنو مصطلق ایک عرب قبیلہ تھا جو حجاز کے صحراؤں میں سکونت پذیر تھا اور دوسرے عرب قبائل کی مانند مال مویشی پالنے اور زراعت و تجارت میں مصروف تھے۔ یہ قبیلہ غزوہ احد میں قریش کا حلیف تھا اور انھوں نے اس جنگ میں مشرکین کی مدد کی تھی۔۔[1] اس قبیلے کا سلسلۂ نسب جَذیمہ بن سعد بن عمرو بن رَبیعہ تک پہنچتا ہے۔[2] ابن دُرَید،[3] کہا جاتا ہے کہ جذیمہ کو اس لئے مصطلق کا نام دیا گیا کہ وہ نہایت خوش آواز تھا اور اس کی آواز دور دور تک سنائی دیتی تھی۔ مصطلق "صلق" سے مشتق ہوا ہے اور صلق کے معنی صوتی قوت کے ہیں۔ یہ قبیلہ قُدَید کے علاقے میں واقع "مریسیع" کے پانی کے تالاب کے کنارے سکونت پذیر ہوا تھا۔[4] اور چونکہ یہ قبیلہ بنو حارث اور "ہون" کے قبائل کا حلیف تھا، قبیلے کے افراد احابیش کے نام سے مشہور تھے۔[5] یہ قبیلہ خزاعہ کے ذیلی قبائل میں سے تھا اور مدینہ سے 300 کلومیٹر کے فاصلے پر سکونت پذیر تھے۔ ابن ہشام لکھتا ہے: یہ قبیلہ "فُرع" کے علاقے میں رہا‏ئش پذير تھا اور قبیلہ "بنی مُدلِج" کا بھی حلیف تھا۔ اس کو جب سے رسول خدا(ص) کی مدینہ آمد اور وہاں اسلامی حکومت کی تشکیل کی خبر ملی تھی، دوسرے عرب اشراف کی مانند اپنے قبیلے پر اپنی حکمرانی کی نسبت فکرمند تھا اور آپ(ص) کے ساتھ دشمنی کے درپے تھا۔[6]

جنگ کے اسباب

غزوہ بنی مصطلق یا غزوہ مریسیع شعبان سنہ 5 ہجری[7] یا سنہ 6 ہجری[8] میں انجام پایا۔

پیغمبر خدا(ص) کو خبر ملی کہ حارث ابن ابی ضرار نے اپنے قبیلے اور حلیف قبائل کے جنگجو افراد کو اکٹھا کرکے مدینہ پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ رسول خدا(ص) نے بریدہ اسلمی کو معلومات اکٹھی کرنے کی غرض سے اس قبیلے کی طرف روانہ کیا۔ اسلمی نے موصولہ اطلاعات کی تصدیق کردی۔ چنانچہ آپ(ص) 30 سواروں سمیت مسلمانوں کے ایک لشکر کے ہمراہ مورخہ 2 شعبان کو بنی مصطلق کی طرف روانہ ہوئے۔[9]۔[10]۔[11]

غزوۂ بنی مصطلق

جنگ کے شرکاء

واقدی لکھتا ہیں: اس جنگ میں علی علیہ السلام سواروں میں شامل تھے اور مہاجرین میں سے دیگر افراد میں ابوبکر، عمر، زبیر، عبدالرحمن بن عوف، طلحہ بن عبیداللہ اور مقداد بن عمرو اور انصار میں سے سعد بن معاذ، اسید بن حضیر، ابو عبس بن جبر، قتادہ بن نعمان، عویم بن ساعدہ، معن بن عدی، سعد بن زید الاشہلی، حارث بن حزمہ، معاذ بن جبل، ابو قتادہ، ابی بن کعب، حباب بن منذر، زیاد بن لبید، فروہ بن عمرو اور معاذ بن رفاعہ بن رافع شامل تھے۔[12]

واقدی اپنی عمدہ تالیف المغازی میں لکھتا ہے : "وخرج مع رسول الله صلي الله عليه وسلم بشر كثير من المنافقين لم يخرجوا في غزاة قطّ مثلها، ليس بهم رغبة في الجهاد إلاّ أن يصيبوا من عرض الدّنيا وقرب عليهم السفر"۔
ترجمہ: اور [اس بار] رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کے ساتھ منافقین کی ایک بڑی جماعت بھی خارج ہوئی حالانکہ اس سے پہلے کبھی بھی اتنے افراد نے آپ(ص) کا ساتھ نہیں دیا تھا۔ وہ جہاد کی طرف کسی قسم کی رغبت نہیں رکھتے تھے بلکہ وہ ایک مختصر سے سفر کے نتیجے میں مالی فوائد تک پہنچنے کی آرزو رکھتے تھے.[13] اس جنگ میں ازواج رسول میں سے ام سلمیٰ اور عائشہ رسول خدا(ص) کے ہمراہ تھیں۔[14]۔[15]

جنگ کی روداد

رسول اللہ(ص) نے مسلمانوں کو اکٹھا کیا اور انہیں بنو مصطلق کے زعیم کے فتنے سے آگاہ کیا۔ سپاہ اسلام 2 شعبان کو ـ جس میں تیس سوار: 10 مہاجر اور 20 انصار شامل تھے ـ بنو مصطلق کی جانب روانہ ہوئی۔[16] جیسا کہ ذکر ہوا ہے، اس جنگ میں منافقین کی ایک بڑی تعداد مال غنیمت کی لالچ میں مسلمانوں کے ساتھ لشکر میں شامل ہوئی تھی۔[17]۔[18]

اس جنگ میں مہاجرین کا پرچم عمار بن یاسر کے پاس اور انصار کا پرچم سعد بن عبادہ کے پاس تھا۔[19]۔[20] بعض ماخذوں میں ہے کہ مہاجرین کا پرچم ابو بکر کے سپرد تھا۔[21]

پیغمبر(ص) نے جنگ کے لئے عزیمت کے وقت ابو ذر غفاری[22] یا زید بن حارثہ کو مدینہ میں جانشین مقرر کیا۔[23]۔[24]

عزیمت کے دوران "بقعاء" نامی علاقے میں دشمن کا ایک جاسوس مجاہدین کے ہاتھوں گرفتار ہوا جس نے کہا کہ حارث ایک بڑی سپاہ تشکیل دے چکا ہے اور تمہارے ساتھ جنگ کے لئے تیار ہے۔ جاسوس کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دی گئی لیکن اس نے کہا: "میں اپنی قوم کا تابع ہوں" اور قبول اسلام سے انکار کیا چنانچہ اس کو ہلاک کیا گیا۔ جاسوس کے مارے جانے کی خبر بنو مصطلق تک پہنچی تو مصطلقیوں اور ان کے پیروکاروں کے درمیان شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور اسی خبر کے نتیجے میں حارث بن ابی ضرار کے بہت سے حلیفوں نے اس کو تنہا چھوڑ کر گوشۂ عافیت تلاش کرنا شروع کیا۔[25]

ابن ہشام لکھتا ہے: بالآخر "مریسیع" کے تالاب کے کنارے دو لشکروں کا آمنا سامنا ہوگیا۔ رسول اللہ نے انہیں اسلام کی دعوت دی۔ لیکن انھوں نے جواب میں مسلمانوں کو اپنے تیروں کا نشانہ بنایا جس کے بعد دو بدو لڑائی شروع ہوئی۔ دشمن کی صفیں بہت جلد شکست و ریخت سے دوچار ہوئیں؛ بنو مصطلق میں سے 10 مارے گئے اور باقی قید کرلئے گئے جبکہ مسلمانوں میں سے ایک مہاجر غلطی سے ایک انصاری کے ہاتھوں شہید ہوا۔ اور انصاری کو اس کی دیت ادا کرنا پڑی۔[26] غزوہ بنی مصطلق میں مسلمانوں کا شعار ""يا منصور أَمِت أَمِت"۔ یعنی اے نصرت پانے والو مار دو مار دو۔[27]۔[28]

واقدی اور ہیثمی نے لکھا ہے کہ مسلمانوں کا لشکر مریسیع کے تالاب کے کنارے اترا، رسول اکرم(ص) کے حکم پر قریبی چشمے سے کافی مقدار میں پانی ذخیرہ کیا گیا اور آپ(ص) نے اپنے سپاہ کو دو جنگی دستوں میں تقسیم کیا اور دشمن کی طرف روانہ ہوئے۔ دشمن مسلمانوں کی ہیبت سے مرعوب ہوکر صحراؤں میں منتشر ہوئے اور صرف بنو مصطلق کے افراد باقی رہے۔ جنگ کا آغاز ہوا اور فریقین نے ایک دوسرے پر بھاری حملے کئے۔ اس جنگ میں بھی علی بن ابی طالب علیہ السلام کی دلیری اور پامردی سب کے لئے نمونۂ عمل تھی اور آپ(ع) کے بعد جنہوں نے شجاعت کے جوہر دکھائے ان میں عمار بن یاسر، مقداد بن عمرو اور زبیر بن عوام قابل ذکر تھے۔ جنگ بہت جلد انجام کو پہنچی اور دشمن کے 10 افراد مارے گئے، اسلام کا پرچم فتح کے اظہار کے عنوان سے لہرایا گیا۔ دشمن کے 200 افراد ـ جن میں مرد، عورتیں اور بچے شامل تھے ـ قیدی بنے اور بہت سے اموال بطور مال غنیمت مسلمانوں کے ہاتھ لگے۔[29]۔[30]

انجام و نتائج

رسول اللہ(ص) کے فرمان پر جنگ کا آغاز ہوا تو بنو مصطلق کے حامی قبائل فوری طور پر فرار کر گئے اور بنو مصطلق بھی بھاگ گئے اور ان کے بہت سے مردوں، عورتوں اور بچوں کو قید کرلیا گیا اور ان کے اموال بطور مال غنیمت مسلمانوں کے ہاتھ لگے۔[31] جنگ کے بعد آپ(ص) نے قیدیوں کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا۔[32] طبری نے لکھا ہے کہ بنو مصطلق کے تمام افراد گرفتار ہوئے۔[33] ابن سعد کی روایت کے مطابق بہت سے حیوانات بطور غنیمت مسلمانوں کے حصے میں آئے۔ جن میں 2000 اونٹ اور 5000 بھیڑ بکریاں شامل تھیں۔ تقسیم غنیمت کے بعد ہر قیدی کے لئے 6 اونٹوں کا فدیہ مقرر کیا گیا اور زیادہ تر قیدی فدیہ دے کر آزاد ہوئے۔[34] ابن ہشام لکھتا ہے کہ جویریہ رسول اللہ(ص) کے حبالۂ نکاح میں آئیں تو مسلمانوں نے ان قیدیوں کو رہا کردیا جو غنیمت کے عنوان سے ان کے حصے میں آئے تھے۔[35] یہ جنگ 28 دن تک جاری رہی.[36] رسول خدا(ص) نے تمام بھیڑ بکریوں سے خمس نکال لیا۔[37]

با برکت ازدواجی رشتہ

جُوَیریہ، بنت حارث بن ابی ضرار ـ جو سمجھدار اور خوش زبان خاتون تھیں اور بنو مصطلق کے قیدیوں میں شامل تھیں ـ تقسیم اموال کے وقت ثابت بن قیس یا ان کے چچا زاد بھائی کے حصے میں آئیں۔ جویریہ نے اپنی آزادی کے لئے آپ(ص) سے مدد طلب کی۔ رسول خدا(ص) نے سہم مکاتبہ (= غلام یا کنیز کی آزادی کی قیمت) ادا کرکے انہیں اپنے حبالۂ نکاح میں لایا۔[38] جس کے نتیجے میں مسلمانوں نے خواتین اور بچوں سمیت بنو مصطلق کے تمام قیدیوں کو رہا کردیا۔[39]

عائشہ نے یہ دیکھ کر کہا: "فأعتق مأة اهل بيت بتزويج رسول الله صلي الله عليه وسلّم ايّاها، فلا أعلم امرأة أعظم بركة علي قومها منها"۔
ترجمہ: چنانچہ رسول اللہ(ص) کے ساتھ ان [جویریہ] کے نکاح کے نتیجے میں ان کے قبیلے کے 100 خاندانوں کو رہائی ملی، پس میں نہیں جانتی ایسی کسی عورت کو جو اپنی قوم کے لئے ان سے زيادہ بابرکت ہو۔[40]

غزوہ بنی مصطلق کے دوران ہی رسول اللہ(ص) کی زوجہ عائشہ بنت ابی بکر پر افک اور تہمت کا واقعہ رونما ہوا جس کو خداوند متعال نے قرآن کے سورہ نور کی آیت 11 کے ذریعے تردید کردیا۔[41]۔[42]

منافق کی فتنہ انگیزی

دو مسلمانوں کا جھگڑا

جعفر سبحانی لکھتے ہیں: غزوہ بنی مصطلق کے دوران ـ پہلی بار ـ مہاجرین اور انصار کے درمیان اختلاف نمودار ہوا اور اگر رسول خدا(ص) کی تدبیر نہ ہوتی تو مسلمانوں کا اتحاد چند نااہل اور نادان افراد کے ہوس کا شکار ہوجاتا۔

واقعہ یوں تھا کہ ایک مہاجر مرد بنام "جہجاہ بن مسعود" اور ایک انصاری بنام "سنان جہنی" کے درمیان کنویں سے پانی اٹھاتے وقت جھگڑا ہوا؛ ایک نے مہاجرین کو اور دوسرے نے انصار کو مدد کے لئے بلایا۔ دونوں فریقوں کے مسلمان جمع ہوئے لیکن تنازعہ آگے نہ بڑھا اور یہیں ختم ہوا۔ رسول خدا(ص) نے بھی فرمایا: "دعوها فإنها منتنة" (یعنی اس آواز کو اپنے حال پر چھوڑو کیونکہ مدد طلب کرنے کی یہ صدا بہت نفرت انگیز اور بدبودار ہے)؛ یہ زمانۂ جاہلیت کی دعوتوں جیسی ہے اور ان دو افراد کے دلوں سے ابھی تک جاہلیت کے مذموم اثرات نہیں مٹ سکے ہیں۔ یہ دو افراد اسلام کے عظیم مکتب سے بےخبر ہیں جس نے مسلمانوں کو اتحاد کی دعوت دی ہے اور اسلام کی نظر میں تفرقے اور انتشار کی ہر صدا بےوقعت ہے۔[43]۔[44]

عبداللہ بن ابی کا منافقانہ اقدام

رسول خدا(ص) نے اختلاف کا سدباب کیا لیکن "عبداللہ بن ابی" ـ جو مدینہ میں منافقین کا سرغنہ اور اسلام سے شدید بغض و عناد رکھتا تھا ـ نے کہا: "ہم مدنیوں نے مکہ کے مہاجروں کو اپنی سرزمین میں بسایا، انہیں دشمن کے شر سے محفوظ رکھا اور اب ہمارا حال اس کہاوت کا مصداق ہے کہ "اپنا کتا پالو تاکہ وہ تجھ ہی کو کاٹ لے"، خدا کی قسم! اگر ہم لوگ مدینے واپس ہوئے تو جو ہم میں غلبہ وعزت والا ہے [یعنی اہل مدینہ]، وہ ذلت و خواری والے [یعنی مہاجرین] کو باہر نکال دے گا۔ [منافقین کے سرخیل کا یہ جملہ سورہ منافقون میں بھی مذکور ہے[45]] منافقین کے سرخیل کا یہ جملہ اس کے ارد گرد بیٹھے ان عربوں پر مؤثر پڑا جن کے دلوں ميں ابھی تک عصبیت کی جڑیں موجود تھیں اور قریب تھا کہ مسلمانوں کے اتحاد کو نقصان پہنچے۔

خوش قسمتی سے "زید بن ارقم" نامی غیور نوجوان ـ جو اس مجلس میں موجود تھا ـ نے اس کے شیطانی کلام کا جواب دیا اور کہا: خدا کی قسم! ذلیل اور خوار تم ہو؛ وہ شخص جو اپنے اقرباء کے درمیان بے وقعت ہے وہ تم ہو؛ جبکہ محمد(ص) مسلمانوں کے لئے عزیز ہیں اور ان کے دل آپ(ص) کی مودت سے مالا مال ہیں۔

زید بعد ازاں رسول اللہ(ص) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عبداللہ بن ابی کی فتنہ انگیزی کی خبر سنائی اور اصرار کیا کہ اس کا مقصد مسلمانوں کے درمیان فتنہ پھیلانے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ عمر بن خطاب نے کہا: یا رسول اللہ(ص)! آپ اجازت دیں تو میں عبداللہ کا سر قلم کردوں!! تو آپ(ص) نے جواب دیا کہ نہیں! لوگ کہیں گے کہ محمد اپنے اصحاب کو قتل کرتے ہیں!۔۔ عبداللہ کو خبر ہوئی تو فوری طور پر آنحضرت(ص) کے پاس پہنچا اور زید بن ارقم کی دی ہوئی اطلاعات کی تردید کی۔ کچھ خیر اندیشوں نے عبداللہ کی طرفداری کی اور کہا کہ ممکن ہے کہ زید بن ارقم نے غلطی کی ہو۔

مسئلہ بہر حال ختم نہ ہوا اور رسول خدا(ص) نے مدینہ واپسی کا فرمان جاری کیا۔ اسید بن حضیر نے آپ(ص) سے اچانک روانگی کی وجہ پوچھی تو آپ(ص) نے فرمایا: کیا تم عبداللہ کے موقف اور فتنہ انگیزی سے بےخبر ہو؟ اسید نے لاعلمی کا اظہار کیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ(ص)! صاحب قدرت آپ ہیں، آپ اس کو باہر نکال سکتے ہیں، عزیز اور گرامی آپ ہیں اور خوار و ذلیل وہ ہے؛ آپ کی ہجرت مکہ سے قبل اوسی اور خزرجی اس کی بادشاہی پر متفق ہوگئے تھے اور اس کے لئے تاج بنانے کی غرض سے سونا چاندی جمع کررہے تھے۔ لیکن اسلام کا ستارہ طلوع ہوا تو اس کی بادشاہی میں خلل پڑا اور لوگ اس کے حلقے سے منتشر ہوئے وہ آپ کو ان کے منتشر ہونے کا سبب سمجھتا ہے۔

بہرحال فرمان رحیل آچکا تھا اور مسلمان تیزرفتاری مدینہ کی طرف جارہے تھے، شب و روز سفر میں تھے اور فرائض کی ادائیگی کے سوا یہ سفر جاری تھا۔ دوسرے روز شدید گرمی اور مجاہدین کی تھکاوٹ کی شدت کے دوران اترنے کا فرمان آیا۔ مسلمان جہاں اترے وہیں سوگئے اور تمام تلخ یادیں ان کے دلوں سے مٹ گئیں اور رسول خدا(ص) کی اس تدبیر کے نتیجے میں اختلاف کی آگ ٹھنڈی ہوکر رہ گئی۔[46]۔[47]

عبداللہ بن ابی کا فرزند اور سبق آموز واقعہ

عبداللہ کا بیٹا اسلام کا با ایمان اور پاک دل نوجوان، اسلامی احکامات کی رو سے اپنے منافق باپ پر سب سے زيادہ مہربان تھا۔ اس کو اپنے باپ کی ریشہ دوانیوں کی خبر ملی اور سوچنے لگا کہ رسول خدا(ص) اس کے قتل کا حکم دیں گے۔ چنانچہ آپ(ص) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اگر حکم یہی ہے کہ میرے باپ کو قتل کیا جائے تو میں خود اس حکم کو نافذ کروں گا اور آپ یہ کام کسی اور کے سپرد نہ کریں؛ کیونکہ اگر کوئی اور اس کو قتل کرے تو مجھے خوف ہے کہ عربی حمیت اور باپ سے جذباتی تعلق کی وجہ سے میرا صبر و تحمل چھن جائے اور اپنے باپ کے قاتل کو مارکر اپنا ہاتھ ایک مسلمان کے خون سے آلودہ کروں اور اپنے انجام کو برباد کردوں۔

نوجوان کی یہ گفتگو اعلی ترین ایمانی تجلیات میں سے ایک ہے؛ جس نے باپ کی معافی کی درخواست نہیں کی کیونکہ اس کو یقین تھا کہ رسول خدا(ص) جو بھی کرتے ہیں اللہ کے فرمان کے مطابق کرتے ہیں۔ باپ سے محبت اور عربی اخلاقیات کا تقاضا یہ تھا کہ باپ کے قاتل کو ہلاک کردے اور اسلامی معاشرے کے امن و سکون کا تقاضا تھا کہ اس کو موت کی سزا دی جائے اور اس نے ایسے راستے کا انتخاب کیا جس پر گامزن ہوکر اسلامی مفادات بھی محفوظ ہوسکتے تھے اور دوسرے مسلمانوں کی جانب سے اس کے جذبات بھی مجروح ہونے سے بچ سکتے تھے چنانچہ اس نے خود ہی فرمان کے نفاذ کے لئے آمادگی ظاہر کی۔

تاہم اللہ کے مہربان پیغمبر(ص) نے فرمایا: عبداللہ بن ابی کو اس قسم کی کوئی سزا دینے کا منصوبہ نہیں ہے ہم اس کے ساتھ روا داری سے پیش آئیں گے۔

رسول خدا(ص) کا یہ کلام مسلمانوں کے لئے باعث حیرت تھا؛ چنانچہ لعنت ملامت کی ایک لہر عبداللہ بن ابی کی طرف اٹھی؛ وہ رائے عامہ میں اس قدر خوار و ذلیل ہوا کہ اس کے بعد کسی نے اس کو لائق توجہ نہیں سمجھا۔ کبھی بھی اس نے اظہار وجود نہیں کیا اور ہر واقعے میں لوگوں کی نفرت و اعتراض کا نشانہ بنا رہا۔ اگر غزوہ بنی مصطلق کے ایام میں اس کو موت کی سزا دی جاتی تو لوگوں کی ایک جماعت اس کی حمایت کے لئے اٹھتی لیکن آپ(ص) کی کیاست کی وجہ سے اس کو وہ دن بھی دیکھنے پڑے کہ اگر آپ(ص) کسی کو بھی اس کے قتل کا حکم دیتے تو اس پر فوری طور پر عمل ہوتا۔[48]۔[49]

سورہ منافقون کا نزول

جیسا کہ بیان ہوا، منافقین کا ماجرا جنگ کے بعد پیش آیا۔ اس واقعے میں عبداللہ بن ابی نے مہاجرین و انصار]] کے درمیان انتشار پھیلانے کی کوشش کی اور رسول اللہ(ص) کو غضبناک کیا۔ گویا کہ بعد میں اس نے ظاہری طور پر اپنی کہی ہوئی باتوں کا انکار کیا جس کی وجہ سے معاف کیا گیا تاہم رسول اللہ(ص) پر اللہ کی جانب سے قرآن کریم کی تریسٹھویں سورت نازل ہوئی۔[50]

فاسق کی رسوائی

بنو مصطلق نے دلی طور پر اسلام کو قبول کیا اور جب وہ قیدی بنے تو مسلمانوں نے ان کے ساتھ حسن سلوک روا رکھا اور ان کے تمام قیدی مختلف حوالوں سے رہا کئے گئے اور سب اپنے قبیلے کی طرف کوچ کرگئے۔ یہاں تک کہ رسول خدا(ص) نے زکوۃ کی وصولی کے لئے ولید بن عقبہ کو نمائندہ بنا کر ان کے پاس روانہ کیا۔ بنو مصطلق کے زعماء گھوڑوں پر سوار ہوکر اس کے استقبال کے لئے آئے تو وہ فوری طور پر پلٹ کر مدینہ پہنچا اور جھوٹی داستان تراش کر کہا کہ "وہ مجھے مارنا چاہتے تھے اور انھوں نے زکوۃ دینے سے انکار کیا ہے"۔

مسلمانوں کو یہ بنو مصطلق سے ایسی توقع نہیں تھی اور سب حیرت زدہ اور پریشان تھے کہ اسی اثناء میں ان کا ایک وفد مدینہ آیا اور انھوں نے رسول خدا(ص) کو اپنا ماجرا کہہ سنایا اور کہا کہ "ہم احترام اور استقبال کے لئے نکلے تھے اور اپنی زکوۃ ادا کرنے کے لئے تیار تھے لیکن وہ اچانک منہ موڑ کر آپ کی طرف چلا آیا اور ہم نے سنا ہے کہ اس نے آپ کو غلط خبر دی ہے"۔اس موقع پر خداوند متعال کی جانب سے بھی بنو مصطلق کی تائید اور فاسق کی تکذیب ہوئی:

"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَأٍ فَتَبَيَّنُوا أَن تُصِيبُوا قَوْماً بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ (6) وَاعْلَمُوا أَنَّ فِيكُمْ رَسُولَ اللَّهِ لَوْ يُطِيعُكُمْ فِي كَثِيرٍ مِّنَ الْأَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ حَبَّبَ إِلَيْكُمُ الْإِيمَانَ وَزَيَّنَهُ فِي قُلُوبِكُمْ وَكَرَّهَ إِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ أُوْلَئِكَ هُمُ الرَّاشِدُونَ" (7)۔
ترجمہ: اے ایمان لانے والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کر لیا کرو کہ کہیں کسی جماعت کو تم ناواقفیت سے ضرر نہ پہنچادو، پھر تمہیں اپنے کیے پرپشیمان ہونا پڑے (6) اور تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ تم میں اللہ کا رسول موجود ہے۔ اگر یہ بہت سی باتوں میں تمہارا کہنا مانے تو تم زحمت میں پڑجاؤ مگر اللہ نے محبوب بنایا ہے تمہارے لئے ایمان کو اور اسے تمہارے دلوں میں آراستہ کیا ہے اور کفر اور فسق اور نافرمانی سے تمہیں ناگواری پیدا کی ہے، یہی لوگ وہ ہیں جو راہِ راست پر قائم ہیں (7)۔[51]

حوالہ جات

  1. رسولی محلاتی، زندگانی حضرت محمد صلی اللہ علیه و آله، ص481۔
  2. ابوعبید، النسب، ص291۔
  3. ابن درید، الاشتقاق، ج2، ص476۔
  4. حموی، معجم البلدان، ج5، ص118۔
  5. ابن ہشام، السیرة النبویۃ، قسم1، ص373۔
  6. واقدی، المغازي، ج1، ص 404۔
  7. واقدی، وہی ماخذ۔
  8. ابن ہشام، السیرة النبویۃ، قسم2، ص289۔
  9. واقدي، وہی ماخذ۔
  10. العسكري، أحاديث أم المؤمنين عائشۃ،، ج2، ص 180۔
  11. ہيثمي، مجمع الزوائد، ج6، ص142۔
  12. واقدی، المغازي، ج1، ص 405۔
  13. واقدی، وہی ماخذ، ص405-406۔
  14. واقدی، وہی ماخذ، ص407۔
  15. ابن سعد، طبقات الكبری، ج2، ص49۔
  16. واقدی، المغازي، ج1، ص 405۔
  17. واقدی، وہی ماخذ۔
  18. ابن سعد، طبقات الكبری، ج2 ص48۔
  19. ابن سعد، وہی ماخذ۔
  20. واقدی، المغازی، ج1، ص407۔
  21. ابن سعد، طبقات، ج2، ص49۔
  22. ابن ہشام، السیرة النبویۃ، ج1، ص177۔
  23. ابن سعد، طبقات الكبری، ج2، ص49۔
  24. البلاذري، انساب الاشراف، ج1، ص423۔
  25. واقدی، المغازی، ج1، 406۔
  26. ابن ہشام، السیرة النبويۃ، ج3، ص177۔
  27. شیخ مفید، الارشاد، ج1، ص118۔
  28. ابن اثیر، أسدالغابۃ،ج2،ص:307۔
  29. واقدی المغازي، ج1، ص 411۔
  30. هيثمي، مجمع الزوائد، ج6، ص 142۔
  31. واقدی، المغازی، ج1، ص404 اور بعد کے صفحات۔
  32. واقدی، وہی ماخذ، ص410۔
  33. طبری، تاریخ الطبری، ج2، ص405۔
  34. ابن سعد؛ طبقات الكبری، ج2، ص49۔
  35. ابن ہشام، السیرة النبویۃ، ج1، ص178۔
  36. واقدی، المغازی، ج1، ص404۔
  37. واقدی، وہی ماخذ، ص410۔
  38. ابن اسحاق، السیروالمغازی، ص263۔
  39. واقدی، المغازی، ج1، ص411۔
  40. واقدی، وہی ماخذ۔
  41. ابن شہر آشوب، مناقب آل ابي طالب، ج1، ص 173۔
  42. ابن ہشام، وہی ماخذ، ج2، ص297۔
  43. سبحانی، فروغ ابدیت، ج2، ص112۔
  44. رجوع کریں: سہیلی، الروض الأنف في تفسير السيرة النبويۃ لابن ہشام، ج4، ص14-15۔
  45. سورہ منافقون، آیت 8۔
  46. سبحانی، فروغ ابدیت، ج2، ص115۔
  47. رجوع کریں: سہیلی، الروض الأنف في تفسير السيرة النبويۃ لابن ہشام، ج4، ص15-16۔
  48. سبحانی، فروغ ابدیت، ج2، ص116-117۔
  49. رجوع کریں: سہیلی، الروض الأنف في تفسير السيرة النبويۃ لابن ہشام، ج4، ص16-17۔
  50. ابن ہشام، السیرة النبویۃ، قسم2، ص291ـ292۔
  51. سوره حجرات، آیات 6-7۔


مآخذ

  • قرآن کریم، اردو ترجمہ: سید علی نقی نقوی (لکھنوی)۔
  • ابن اسحاق، کتاب السیروالمغازی، چاپ سہیل زکار، دمشق، 1398 ہجری قمری / 1978، چاپ افست قم، 1368 ہجری شمسی۔
  • ابن دُرَید، أبو بكر محمد بن الحسن الأزدي، کتاب الاشتقاق، تحقيق وشرح: عبد السلام محمد ہارون، بغداد، 1399 ہجری قمری /1979 عیسوی۔
  • ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، چاپ مصطفی سقا، ابراہیم ابیاری و عبدالحفیظ شلبی، بیروت، بی‌تا۔
  • ابوعبید، قاسم بن سلام، کتاب النسب، چاپ مریم محمد خیرالدرع، بیروت، 1410 ہجری قمری /1989 عیسوی۔
  • واقدی، محمد بن عمر، کتاب المغازی، چاپ مارسدن جونز، لندن، 1966 عیسوی۔
  • حموي، ياقوت بن عبد الله الرومي البغدادي، معجم البلدان، دار إحياء الثراث العربي بيروت - لبنان ـ 1399 ہجری قمری / 1979 عیسوی۔
  • ابن اثیر، عزالدین علی بن محمد، أسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، بیروت،‌ دار الفکر، 1409 ہجری قمری / 1989 عیسوی۔
  • رسولى محلاتى، سيد ہاشم، زندگانی حضرت محمد، مؤسسہ تحقيقات و نشر معارف اہل البيت (ع)، 1374 ہجری شمسی۔
  • سہيلي، عبد الرحمن بن عبد الله الخثعمي، الروض الأنف في تفسير السيرۃ النبويۃ لابن ہشام، المحقق: مجدي بن منصور بن سيد الشورى، دار الكتب العلميہ، بیروت ـ لبنان۔ 1967 عیسوی۔
  • شیخ مفید، محمد بن محمد بن نعمان، الارشاد فی معرفۃ حجج الله علی العباد، کنگرہ شیخ مفید، قم 1413 ہجری قمری۔
  • عسكري، السيد مرتضى، أحاديث أم المؤمنين عائشۃ، التوحيد للنشر۔ المطبعۃ مطبعہ صدر ۔ الطبعہ الخامسہ 1414 ہجری قمری / 1994 عیسوی۔
  • ابن شہر اشوب، محمد بن على السروى المازندرانى، مناقب آل أبى طالب، تصحيح وشرح: لجنۃ من أساتذة النجف الاشرف، المكتبۃ والمطبعۃ الحيدريۃ في النجف، 1376 ہجری قمری /‍ 1956 عیسوی۔
  • ابن ہشام، عبد الملک، السیرۃ النبویۃ، تحقیق مؤسسۃ الہدی، دارالتقوی، القاہرۃ، الطبعۃ الاولی، 2004 عیسوی۔
  • ہيثمي، نور الدين علي بن أبي بكر، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، دار الكتب العلميۃ بيروت - لبنان 1408 ہجری قمری / 1988 عیسوی۔
  • واقدی، محمد بن عمر؛ کتاب المغازی، تحقیق مارسدن جونس، مؤسسہ الاعلمی، الطبعہ الاولی، بیروت، 1989 عیسوی۔
  • ابن سعد، محمد بن سعد بن مَنِیع؛ طبقات الكبری، تحقیق محمد عبدالقادر عطا، بیروت، دار الكتب العلمیہ، الطبعہ الاولی، 1410 ہجری قمری۔
  • بلاذري، أحمد بن يحيی بن جابر، جمل من أنساب الأشراف، المحقق: سہيل زكار - رياض زركلي، دار الفكر للطباعہ والنشر ۔ بيروت ۔ لبنان، الطبعہ الاولی ـ 1417 الطبعۃ الاولی / 1996 عیسوی۔
  • سبحانی تبریزی، جعفر، فروغ ابدیت، قم: بوستان کتاب قم، چاپ بیست و یکم، 1385ہجری شمسی۔
  • طبری، تاریخ الطبری، تحقیق ابو صہیب الکرمی، بیت الافکار الدولیہ، بیروت، الطبعہ الاولی، بی‌تا۔

بیرونی ربط

پچھلا غزوہ:
دومۃ الجندل
رسول اللہ(ص) کے غزوات
بنی مصطلق
اگلا غزوہ:
خندق