ناقہ صالح

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

ناقہ صالح (حضرت صالح کی اونٹنی)، حضرت صالح کا معجزہ تھا جسے قرآن میں ناقۃ اللہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ اونٹنی مشرکین کی درخواست پر معجزانہ طور پر پہاڑ کے دامن سے باہر آگئی تھی۔

احادیث کے مطابق خدا نے قوم ثمود کو اس ناقے کے ذریعے آزمایا۔ نہر کے پانی کو ایک دن اس اونٹنی سے مختص کیا اور ان سے عہد لیا کہ اس اونٹنی کے ساتھ کوئی برا سلوک نہیں کرے گا۔ یہ سلسلہ چلتا رہا یہاں تک کہ ایک مدت کے بعد ایک گروہ نے اسے مار ڈالا اور دوسروں نے ان کو منع نہیں کیا۔ نتیجے میں عذاب الہی نازل ہوا یوں اس دور کے سارے مشرکین کا خاتمہ ہوا۔

اللہ کی نشانی

یہ اونٹنی حضرت صالح کی نبوت کو ثابت کرنے کیلئے خدا کی طرف سے عطا کردہ ایک معجزہ تھا۔ قرآن میں مختلف مقامات پر اس کا ذکر کرتے ہوئے اسے "ناقَۃ اللہ" سے تعبیر کیا ہے۔[1] ناقۃ اللہ کی اضافت اس حیوان کی شرافت اور قداست کو بیان کرنے کیلئے ہے جس طرح مسجد کو "بیت الله" کہا جاتا ہے۔[2] اس اونٹنی کی اہمیت اس کی خاص خلقت کی وجہ سے ہے چونکہ یہ اونٹنی قوم ثمود کی امتحان کیلئے معجزانہ طور پر پہار کے دامن سے برآمد ہوئی تھی۔

قرآن اسے خدا کی نشانی اور واضح دلیل قرار دیتے ہیں: قَدْ جاءَتْکمْ بَینَةٌ مِنْ رَبِّکمْ ہذِہِ ناقَةُ اللَّہِ لَکمْ آیةً؛(ترجمہ تمہارے پاس پروردگار کی طرف سے دلیل آچکی ہے -یہ خدائی ناقہ ہے جو تمہارے لئے اس کی نشانی ہے۔)[3]

خلقت

قرآن میں اس حیوان کی خلقت کی طرف کوئی اشارہ نہیں ہوا صرف خدا کی نشانی ہونے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔[4] لیکن احادیث میں اس معجزے سے متعلق کچھ توضیحات دی گئی ہے۔ حضرت صالح سالوں سال خدا پرستی کی تبلیغ کے بعد اپنی قول سے مخاطب ہو کر فرماتے ہیں: "اگر چاہیں تم لوگ مجھ سے کسی چیز کی درخواست کرو تاکہ میں اپنے پروردگا سے طلب کروں اور وہ میری درخواست کو قبول کرے گا یا اگر تم لوگ چاہیں تو میں تم لوگوں سے کسی چیز کی درخواست کرونگا، اگر تمہارے خداؤں نے میری درخواست پوری کر دی تو میں تمہارے درمیان سے چلا جاؤنگا کیوںکہ اب میں تم سے تنگ آگیا ہوں اور تم بھی مجھ سے تنگ آگئے ہو۔[5]

احادیث کے مطابق قوم ثمود نے حضرت صالح کی درخواست کو قبول کیا اور مقدمات فراہم کرنے کے بعد حضرت صالح نے ان کے تمام بتوں سے ایک ایک کر کے جواب طلب کیا لیکن کسی سے کوئی جواب نہیں ملا۔ اب حضرت صالح ارو ان کے خدا کی باری تھی۔ قوم ثمود کے 70 اشخاص حضرت صالح کے ساتھ کسی پہاڑی کے نزدیک چلے گئے۔ پھر انہوں نے حضرت صالح سے یوں درخواست کئے: "ابھی اور اسی وقت اس پہاڑ کے دامن سے ایک مادہ اونٹنی باہر آئے جو حمل کے دسویں مہینے میں ہو جس کا رنگ سرخ اور گھنے بالوں والی ہو۔" صالح نے کہا: "تم لوگوں نے جس چیز کی درخواست کی ہے وہ میرے لئے تو ناممکن ہے لیکن میرے پروردگار کیلئے یہ کام آسان ہے۔" یہ کہہ کر حضرت صالح نے خدا سے ان کے درخواست کو قبول کرنے کی درخواست کی۔ اتنے میں بلند آواز کے ساتھ پہاڑ پھٹ گیا پھر اندر سے ایک اونٹنی برامد ہوئی جو ہوبہو انہی خصوصیات کی حامل تھی جسے قوم ثمود نے بیان کئے تھے۔ اس کے باوجود قوم ثمود نے دوبارہ درخواست کیں کہ یہ اونٹنی بچہ جنے اتنے میں خدا کے حکم سے اونٹنی کا بچہ بھی ہوا۔ آخر کار قوم ثمود کے بعض نمائندوں نے ایمان لے آیا اور اس واقعے کی حقیقت سے لوگوں کو آگاہ کیا۔[6]

قوم ثمود کا امتحان

ناقہ صالح معجزہ الہی کے طور پر وجود میں آیا تھا۔ اس معجزہ الہی کا وجود مؤمنین کیلئے ایک محکم دلیل تھی۔ حضرت صالح اور ان پر ایمان لانے والے اس اونٹنی کے دودھ سے بھی استفادہ کرتے تھے۔[7] خداوند متعال نے اس اونٹنی کی حفاظت کرنے کا حکم دیا تھا اور صراحتا بیان فرمایا تھا کہ یہ اونٹنی آزمائش اور امتحان کیلئے بھیجی گئی ہے: ہم ان کے امتحان کے لئے ایک اونٹنی بھیجنے والے ہیں لہذا تم اس کا انتظار کرو اور صبر سے کام لو[8]

قرآنی آیات کی روشنی میں اس اونٹنی کے مقابلے میں قوم ثمود کی دو ذمہ داریاں تھیں:

  1. صالح نے کہا کہ یہ ایک اونٹنی ہے ایک دن کا پانی اس کے لئے ہے اورایک مقرر دن کا پانی تمہارے لئے ہے۔[9]
  2. یہ خدائی ناقہ ہے جو تمہارے لئے اس کی نشانی ہے -اسے آزاد چھوڑ دو کہ زمینِ خدا میں کھاتا پھرے اور خبردار اسے کوئی تکلیف نہ پہنچانا کہ تم کو عذاب الیم اپنی گرفت میں لے لے۔[10]

قوم ثمود کی نافرمانی اور خدا کا عذاب

ناقہ صالح خدا کا معجرہ ہونے کے باوجود قوم ثمود نے اس سے متعلق خدا کے فرامین پر عمل نہیں کیا اور اسے مار ڈالا اور حضرت صالح سے یوں کہا:اگر تم خدا کے رسول ہو تو جس عذاب کی دھمکی دے رہے تھے اسے لے آؤ۔[11] یوں وہ عذاب الہی میں مبتلا ہو گئے۔ قرآن کے مطابق جب انہوں نے عذاب کو یقینی دیکھا تو پیشمان ہو گئے۔[12] لیکن اس پشیمانی سے ان کو کوئی فائدہ نہیں ملا اور مومنوں کے علاوہ سب ہلاک ہو گئے۔[13]

غلطی ایک شخص کی، عذاب پوری قوم پر
قرآن کی ایک آیت میں ناقہ صالح کے مار دینے کو ایک شخص کی طرف نسبت دی گئی ہے: تو ان لوگوں نے اپنے ساتھی کو آواز دی اور اس نے اونٹنی کو پکڑ کر اس کی کونچیں کاٹ دیں۔[14] نیز بعض احادیث سے بھی یہی چیز سمجھ میں آتی ہے۔[15] لیکن دوسری آیات میں ناقہ اس کام کی نسبت پوری قوم کی طرف دی گئی ہے جس کے نتیجے میں غذاب بھی پوری قوم پر نازل ہوگئی ہے: فَعَقَرُواْ النَّاقَةَ وَ عَتَوْاْ عَنْ أَمْرِ رَبِّہِمْ؛(ترجمہ پھر یہ کہہ کر ناقہ کے پاؤں کاٹ دئیے اور حکم خدا سے سرتابی کی)[16]

اس طرح کی متفاوت تعبیریں اس بات کی طرف متوجہ کرنے کیلئے ہوتی ہیں کہ اگرچہ اس کام کو بعض افراد نے انجام دئے ہیں لیکن چونکہ دوسرے لوگ اس کام پر راضی تھے گویا انہوں نے بھی اس کام کی تائید کی ہیں۔[17] امام علیؑ سے منقول ایک حدیث میں آیا ہے: ناقہ صالح کو ایک آدمی نے مار ڈالا لیکن عذاب پوری قوم پر آئی کیونکہ ان سب نے اس کام کو پسند کیا اور اس پر راضی ہو گئے تھے۔[18]

حوالہ جات

  1. سورہ اعراف، آیہ ۷۳؛ سورہ ہود، آیہ ۶۴.
  2. حسینی شیرازی، تقریب القرآن إلی الأذہان، ۱۴۲۴ق، ج ۲، ص۲۰۰.
  3. سورہ اعراف، آیہ ۷۳.
  4. سورہ اعراف، آیہ ۷۳.
  5. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج ۸، ص۱۸۵.
  6. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج ۸، ص۱۸۵.
  7. ابن عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، ۱۴۱۵ق،‌ج ۱۰، ص۴۵۸.
  8. سورہ قمر،‌ آیہ ۲۷.
  9. سورہ شعراء، آیہ ۱۵۵.
  10. سورہ اعراف، آیہ ۷۳.
  11. سورہ اعراف، آیہ ۷۷.
  12. سورہ شعراء، آیہ ۱۵۷.
  13. سورہ اعراف، آیہ ۷۸.
  14. سورہ قمر،‌آیہ ۲۹.
  15. حسکانی، شواہد التنزیل لقواعد التفضیل، ۱۴۱۱ق، ج۲، ص۴۳۵.
  16. سورہ اعراف، آیہ ۷۷.
  17. فضل اللہ، تفسیر من وحی القرآن، ۱۴۱۹ق، ج۲۴، ص۲۸۷.
  18. سید رضی، نہج البلاغة، ۱۴۱۴ق، خطبہ ۲۰۱، ص۳۱۹.


منابع

  • ابن عساکر، ابوالقاسم علی بن حسن، تاریخ مدینة دمشق، بیروت،‌دار الفکر، ۱۴۱۵ق.
  • حسکانی، عبید اللہ بن احمد، شواہد التنزیل لقواعد التفضیل، تحقیق: محمودی، محمد باقر، انتشارات وزارت ارشاد اسلامی، تہران، چاپ اول، ۱۴۱۱ق.
  • حسینی شیرازی، سید محمد، تقریب القرآن إلی الأذہان، بیروت،‌دار العلوم، چاپ اول، ۱۴۲۴ق.
  • سید رضی، محمد بن حسین، نہج البلاغة، محقق: صبحی صالح، قم، ہجرت، چاپ اول، ۱۴۱۴ق.
  • ‌ فضل اللہ، سید محمدحسین، تفسیر من وحی القرآن، بیروت،‌دار الملاک للطباعة و النشر، چاپ دوم، ۱۴۱۹ق.
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، محقق و مصحح: غفاری، علی اکبر، آخوندی، محمد، تہران،‌دار الکتب الإسلامیة، چاپ چہارم، ۱۴۰۷ق.