مسجد قبا

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مسجد قبا
مسجد قبا در مدینه.jpg
شناختی معلومات
مکمل نام مسجد قبا
بانی/بانیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ
وجہ شہرت اسلام میں پہلی مسجد
مقام مدینہ
ملک جزیرۃ العرب
تعمیر سال اول قمری
تعمیر نو خلافت عثمان• جمال الدین اصفہانی در ۵۵۵ق • قرن ۸و ۹ قمری • حکومت عثمانی • حکومت سعودی
مسجد قبا کا فضائی منظر

مسجد قُبا اسلام میں پہلی مسجد ہے جس کی بنیاد حضرت محمد(ص) نے اپنے دست مبارک سے رکھی۔ قرآن کریم میں سورہ توبہ کی آیت نمبر ۱۰۸ اور ۱۰۹ میں اس مسجد کا تذکرہ ہوا ہے۔[1]

محل وقوع

مسجد قبا، قبا نامی گاوں میں مدینہ سے 6 کیلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس وقت اس مسجد اور گاوں دونوں کو مدینہ کے اندر شامل کیا گیا ہے۔ اس مسجد کو "قبا" نام رکھنے کی علت بھی یہی تھی کہ اسے "قبا" نامی گاوں میں بنائی گئی تھی اور اس گاوں کو اس نام سے پکارنے کی وجہ یہ تھی کی اس میں اسی نام سے ایک چشمہ موجود تھا۔[2]

مسجد قبا کا داخلی منظر

پیغمبر اکرم(ص) کا قبا میں داخلہ اور مسجد کی تعمیر

پیغمبر اکرم(ص) ہجرت کے موقع پر مدینے میں داخل ہونے سے پہلے "قبا" نامی گاوں کے مکینوں کے اصرار پر اس گاوں میں کچھ ایام کیلئے قیام فرمایا اور وہیں پر آپ نے اس مسجد کی تعمیر کا حکم صادر فرمایا۔ قبا میں آپ کی تشریف آوری پیر کے دن 12 یا 14 ربیع الاول بتایا گیا ہے۔[3] اس گاوں میں آپ کے قیام کے ایام کو مورخین نے ایک ہفتہ بتایا ہے جس کے دوران آپ(ص) نے مسلمانوں کے تعاون سے اس مسجد کی تعمیر فرمائی۔[4] بعض منابع کے مطابق اس مسجد کو عمار یاسر کی تجویز پر تعمیر کیا گیا تھا۔[5] جبکہ بعض دیگر منابع کے مطابق اس مسجد کی ساخت اور تعمیر "عمار یاسر" نے اہم کردار ادا کیا اس حوالے سے بتایا جاتا ہے کہ اسلام میں وہ پہلا شخص ہے جس نے مسجد تعمیر کی۔[6]

فضایل

  • رسول خدا(ص) فرماتے ہیں: جو بھی اپنے گھر میں وضو کرے اور مسجد قبا میں آئے اور وہاں نماز ادا کرے تو اسے ایک عمرہ کا ثواب دیا جاتا ہے۔[7]
  • مسجد قبا حضرت رسول خدا(ص) کے ہاں نہایت اہمیت کا حامل تھا، یہاں تک کہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ: حضور(ص) مدینہ میں سکونت اختیار فرمانے کی بعد ہر ہفتہ کے دن پیدل یا سوارہ نماز کی خاطر اس مسجد میں تشریف لاتے تھے۔[8]

تعمیر نو

[[ملف:

مسجد قبا کا ایک اور منظر

مسجد قبا کو عثمان بن عفان کی خلافت کے دور میں پہلی بار توسیع اور تعمیر کی گئی ۔

مسجد قبا میں دوسری تبدیلی عمر بن عبدالعزیز کے دور میں لایی گئی جس کے بعد کئی سال اسی حالت پر باقی رہی۔

سنہ ۵۵۵ق، میں جمال الدین اصفہانی جو موصل کا وزیر تھا، نے اس مسجد کی تعمیر نو کا حکم دیا جس پر اس مسجد کی دبارہ تعمیر عمل میں لائی گئی۔

اسی طرح آٹھویں اور نویں صدی ہجری قمری میں اس مسجد کے بعض حصوں کی تعمیر نو کی گئی ۔[9] اس کے بعد حکومت عثمانی خصوصا سعود بن عبد العزیز کے دور میں اسے اسے دوبارہ توسیع دے کر کئی برابر کی گئی۔

اس وقت اس مسجد کے کئی صحن ہیں جن میں سے ہر ایک پر مخصوص گنبد تعمیر کی گئی ہے۔[10]

قرآن میں مسجد قبا کا تذکرہ

اکثر مفسرین کے مطابق سورہ توبہ کی آیت نمبر 108 میں جس مسجد کا تذکزہ ہوا ہے اور اس میں نماز پڑھنے کو زیادہ سزاوار گردانا گیا ہے اس سے مراد یہی مسجد ہے۔[11]

لَا تَقُمْ فِیہ أَبَدًا لَّمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَی التَّقْوَیٰ مِنْ أَوَّلِ یوْمٍ أَحَقُّ أَن تَقُومَ فِیہ فِیہ رِجَالٌ یحِبُّونَ أَن یتَطَہرُوا وَاللَّہ یحِبُّ الْمُطَّہرِینَ(ترجمہ: جس مسجد کی بنیاد روز اوّل سے تقوٰیٰ پر ہے وہ اس قابل ہے کہ آپ اس میں نماز ادا کریں -اس میں وہ مرد بھی ہیں جو طہارت کو دوست رکھتے ہیں اور خدا بھی پاکیزہ افراد سے محبت کرتا ہے۔)

مذکورہ آیت میں اس مسجد کی دو خصوصیات کا تذکرہ ہوتا ہے جن میں سے ایک اس میں نماز پڑهنا زیادہ مناسب ہونا جبکہ دوسری صفت یہاں پر موجود افراد کی ہیں جو پاکی اور طہارت کو دوست رکھنے والے ہیں۔

حوالہ جات

  1. لَمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلی التَّقْوَی مِنْ أَوَّلِ یوْمٍ أَحَقُّ أَن تَقُومَ فِیہ فِیہ رِجَالٌ یحُِبُّونَ أَن یتَطَہرُواْ وَ اللَّہ یحُِبُّ الْمُطَّہرِینَ* أَ فَمَنْ أَسَّسَ بُنْینَہ عَلی تَقْوَی مِنَ اللَّہ وَ رِضْوَانٍ خَیرٌْ أَم مَّنْ أَسَّسَ بُنْینَہ عَلی شَفَا جُرُفٍ ہارٍ فَانہارَ بِہ فی نَارِ جَہنَّمَ وَ اللَّہ لَا یہدِی الْقَوْمَ الظَّلِمِینَ(ترجمہ: جس مسجد کی بنیاد روز اوّل سے تقوٰیٰ پر ہے وہ اس قابل ہے کہ آپ اس میں نماز ادا کریں -اس میں وہ مرد بھی ہیں جو طہارت کو دوست رکھتے ہیں اور خدا بھی پاکیزہ افراد سے محبت کرتا ہے * کیا جس نے اپنی بنیاد خوف خدا اور رضائے الٰہی پر رکھی ہے وہ بہتر ہے یا جس نے اپنی بنیاد اس گرتے ہوئے کگارے کے کنارے پر رکھی ہو کہ وہ ساری عمارت کو لے کر جہّنم میں گر جائے اوراللہ ظالم قوم کی ہدایت نہیں کرتا ہے)
  2. عبدالغنی، المساجد الاثریہ فی المدینہ النبویہ،ص۲۵وبہرام نسب، استوانہ نور ص۱۰
  3. مسعودی، مروج الذہب، ج۱،ص۶۳۴
  4. قائدان، تاریخ و آثار اسلامی مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ،ص۲۲۶
  5. الصدیقی،حسن البناء فی فضل مسجد قبا،ص۳۴
  6. جعفریان، آثار اسلامی مکہ و مدینہ، ص۲۰۱.
  7. ابن کثیر،البدایہ والنہایہ،۳ص۲۱۰
  8. ابن سعد،طبقات،ج ۱ص۱۸۹
  9. محمدباقر نجفی، مدینہ شناس، ص۱۴تا ۱۶
  10. قائدان، تاریخ و آثار اسلامی مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ، ص۱۹۵
  11. ابوالفتح رازی، روح الجنان و روح الجنان،ج۶،ص۱۱۱، طباطبایی، ہمان،ص۶۱۸، سید قطب، فی ظلال القرآن، ص۳۰۵


منابع

  • ابن کثیر، ابوفدا اسماعیل بن عمر، البدایہ و النہایہ،بیروت،دارالفکر،۱۴۰۷.
  • بہرام نسب، محمدسہیل، استوانہ نور(نگاہی بہ مسجد قبا، نخستین بنیان تقوا)، مرکز پژوہش‌ہای اسلامی صدا و سیما، اول، ۱۳۸۳.
  • حافظ محمد بن محمود بن النجار، اخبار مدینہ الرسول، مکتبہ الثقافہ، الطبعہ الثالثہ،۱۴۰۱.
  • رازی، ابوالفتح، روح الجنان و روح الجنان، تہران، کتابفروشی اسلامیہ، بی‌تا.
  • سید قطب، فی ظلال القرآن، بیروت، داراحیاء التراث العربی، الطبعہ الخامسہ، ۱۳۸۴ہ.
  • طباطبایی، محمدحسین، المیزان، محمدباقر موسوی ہمدانی، بنیاد علمی و فکر علامہ طباطبایی، ۱۳۶۳.
  • قائدان، اصغر، تاریخ و آثار اسلامی مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ، مشعر، دوم، ۱۳۷۴.
  • محمدباقرنجفی، مدینہ شناسی، بی‌نا، بی‌تا، بی‌جا.
  • مسعودی، علی بن حسین، مروج الذہب و معادن الجوہر، ابوالقاسم پایندہ، تہران، انتشارات علمی و فرہنگی ہشتم، ۱۳۸۷.
  • المکی الصدیقی، محمدبن علی بن علان، حسن البناء فی فضل مسجد قبا، ریاض‌دار الشریف للنشر و التوزیع، الطبعہ الاولی،۱۴۱۸.