دستور المدینہ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

دُستورُ المَدینَۃ، صحیفۃ النبی یا میثاق مدینہ مسلمانوں کے مابین نیز مسلمانوں اور یہودیوں کے باہمی روابط کے بارے میں ایک میثاق تھا۔ یہ میثاق پیغمبر اکرمؐ کے اہم اقدامات سے ایک تھا جو مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کے پہلے سال ہی طے پایا۔ اس معاہدے کے مطابق جنگ یا صلح کا اعلان کرنے اور مدینہ میں ہونے والے اختلافات کو حل و فصل کرنے کا اختیار صرف اور صرف پیغمبر اکرمؐ کو ہے۔ اس میثاق میں مسلمانوں کو دشمنوں کے مقابلے میں متحد ہونے کی بڑی تاکید ہوئی ہے۔

میثاق مدینہ کا متن پہلی مرتبہ کتاب سیرہ ابن ہشام میں ابن اسحاق سے منقول ہوا ہے۔ میثاق مدینہ کی صحیح تاریخ کا کوئی علم نہیں لیکن اس کے باوجود اکثر تاریخی مصادر میں اس کی تدوین کی تاریخ پانچواں یا آٹھواں مہینہ قرار دیا ہے یعنی ہجرت کے پہلے سال میں۔ بعض محققین نے دستور المدینہ (میثاق مدینہ) کی تدوین کو جنگ بدر کے بعد یعنی دوسری ہجری کو قرار دیا ہے۔

اہمیت

دُستورُ المدینہ[1] جو صحیفۃ النبی،[2] صحیفۃ المدینہ،[3] پیمان مدینہ،[4] یا مدینہ کا آئین[5] جیسے مختلف ناموں سے جانا جاتا ہے، پیغمبر اکرمؐ کے اہم اقدامات میں سے ایک ہے[6]جس میں ایک طرف مسلمان اور غیرمسلمان کے باہمی رابطے کو نظم دیا گیا ہے تو دوسری طرف خود مسلمانوں کے باہمی رابطے کے لیے بھی قوانین بنائے گئے ہیں؛[7] اسی لیے میثاق مدینہ، اسلامی نئی ریاست کے داخلی اور بیرونی اصول کا دستور العمل سمجھا جاتا ہے۔[8] اسلامی تعلیمات کے تحت باہمی اختلافات حل کرنے کے لیے یہ میثاق ایک پیشرفتہ معاہدہ جانا جاتا ہے جو معاشرے میں پایدار صلح کا باعث بنا ہے۔[9]

بعض معاصر محققین اور مورخین نے میثاق مدینہ کو پیغمبر اکرمؐ کی طرف سے صادر ہونے والی اہم سند قرار دیا ہے[10] اور ان کا کہنا ہے کہ یہ مدینہ میں تاریخ اسلام کے ابتدائی دنوں کے روابط کی شناخت کے لیے اہم ماخذ ہے۔[11]اس میثاق کے تحت پیغمبر اکرمؐ مدینہ میں جنگ یا صلح کا اعلان کرنے اور اسی طرح سے اختلافات کو حل و فصل کرنے کا واحد ذریعہ بن گیے۔[12]اس میثاق نے مسلمانوں کو متحد کرنے کے علاوہ یہودیوں کو قریش اور دیگر اسلام دشمنوں کی مدد کرنے سے بھی روک دیا۔[13]

مضمون

اس میثاق میں مسلمانوں کے باہمی روابط نیز مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیانی روابط کے بارے میں موجود بعض موارد مندرجہ ذیل ہیں:[14]

  1. یہ محمد پیغمبرؐ کی طرف سے ایک معاہدہ ہے جو مسلمانان قریش اور اہل یثرب اور ان لوگوں کے مابین ہے جو ان کے تابع ہوں اور ان کے ساتھ شامل ہوجائیں اور ان کے ہمراہ جنگ میں حصہ لیں۔[15]
  2. یہ مسلمان دوسرے لوگوں کے مقابلے میں ایک امت ہیں۔[16]
  3. مہاجرین قریش قبل از اسلام کی طرح خون بہا دینگے اور مسلمانوں میں نیکی اور انصاف کی رعایت کرتے ہوئے قیدیوں کو رہا کریں گے۔ قبیلہ بنی‌عوف، بنی‌حارث، بنی‌ساعدہ، بنی‌جشم، بنی‌نجار، بنی‌عمر بن عوف، بنی‌نبیت اور بنی‌اوس ماضی کی طرح خون بہا دینگے اور ہر گروہ مسلمانوں کی طرح قیدوں کو رہا کریں گے۔[16]
  4. اسلام کے پیروکاروں کو چاہیے کہ وہ خون بہا اور فدیہ کی کثیر رقم کو ادا کرنے میں کسی مسلمان کو اکیلا نہ چھوڑے۔[16]
  5. تمام متقی مومن ہر اس مسلمان کے مقابلے میں کھڑے ہوجائیں جو ظلم کرتا ہے، یا زبردستی کوئی چیز اس سے لینا چاہتا ہے، یا مومنین کی صفوں میں دشمنی اور تباہی پھیلانا چاہتا ہے، اگرچہ ان کی اولاد میں سے ایک ہی کیوں نہ ہو۔[16]
  6. اللہ کی پناہ سب کے لیے برابر ہے اور فقیر مسلمان کافروں کو پناہ دے سکتے ہیں لیکن کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ قریش اور ان کے ساتھیوں میں سے کسی کو پناہ دے۔ مومن، دشمن کے مقابلے میں ایک دوسرے کے مددگار ہیں۔[17]
  7. جب بھی دلیل سے ثابت ہوجائے کہ کسی نے بےگناہ مومن کو قتل کیا ہے تو اسے قصاص کیا جائے گا مگر یہ کہ وارث خون بہا لینے پر راضی ہوجائے؛ اور تمام مومنین قاتل کے مخالف ہوجائیں اور اس کے خلاف اقدام کریں۔[18]
  8. جب مسلمان دشمن سے نبرد آزما ہوں تو یہودی بھی مسلمانوں کے ساتھ جنگ کے اخراجات ادا کریں گے۔[18]
  9. بنی‌عوف کے یہودی اور ان کے رشتہ دار مسلمانوں کے ساتھ ہیں؛ یہودیوں کا اپنا دین اور مسلمانوں کا اپنا دین ہے؛ لیکن اگر کسی نے معاہدہ توڑ دیا اور گناہ کا راستہ انتخاب کیا تو اس کا نقصان وہ اور اس کے گھر والوں کو ہی ہوگا کسی اور کو نہیں۔[18] بنی‌نجار، بنی‌حارث، بنی‌ساعدہ، بنی‌جُشَم، بنی‌الأوس، بنی‌ثعلبہ اور بنی‌شطیبہ بھی بنی عوف قبیلے کی طرف ہیں۔ یہ واضح سی بات ہے کہ معاہدے پر ثابت قدم رہنا یا عہدشکنی کرنا دونوں برابر نہیں ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی محمدؐ کی اجازت کے بغیر مدینہ سے باہر نہیں جاسکتا ہے۔[19]
  10. جنگوں کے اخراجات مسلمانوں کے اخراجات مسلمانوں پر اور یہودیوں کے اخراجات ان پر ہی ہونگے؛ اور طرفین میں سے کوئی اگر اس معاہدے میں شریک کسی سے جنگ لڑے تو دوسرا اس کی مدد کرے۔ اور اسی طرح آپس میں صداقت، نیکی اور نیک طلبی بغیر کسی عہد و پیمان کے استوار ہونا چاہیے۔[17]
  11. یہ بات طے شدہ ہے کہ اس معاہدے سے کوئی ظالم یا عہدشکن، سزا سے محفوظ نہیں ہوگا۔ اور یہ بھی واضح ہے کہ ظالم اور عہد شکن کے علاوہ جو بھی مدینہ سے باہر چلا جائے یا جو مدینہ میں رہے سب امان میں ہیں۔ اللہ اور محمد رسول اللہ پرہیزگاروں اور عہد پر ثابت قدم رہنے والوں کے لیے پناہ گاہ ہیں۔[20]

سند اور مآخذ

میثاق مدینہ کا پورا متن پہلی بار ابن ہشام[21] نے ابن اسحاق (متوفی ۱۵۱ھ) سے سند حذف کر کے نقل کیا ہے پھر دوسرے مورخین جیسے سہیلی،[22] ابن سیدالناس[23] اور ابن کثیر[24] نے اسے نقل کیا ہے۔

ابوعبید اور ابن زَنْجُویہ نے بھی میثاق مدینہ کا پورا متن کو سند کے ساتھ ابن شہاب زُہری(متوفی 124ھ) سے نقل کیا ہے۔[25]

میثاق مدینہ کا متن جعلی ہونے کے احتمال کو رد کیا گیا ہے؛ کیونکہ روش کے اعتبار سے پیغمبر اکرمؐ کے دوسرے خطوط اور پیغامات سے مشابہ ہے۔[26]

تدوین کی تاریخ

میثاق مدینہ کی تدوین کی تاریخ کے بارے میں مختلف نظریات پائے جاتے ہیں؛ بہت سارے مصادر میں تدوین کی تاریخ پیغمبر اکرمؐ کی مدینہ آمد کے ابتدائی دن قرار دیا ہے۔ دیاربکری نے تدوین کی تاریخ پانچویں ہجرت جبکہ ابن ہشام نے ہجرت کا پانچواں یا آٹھواں مہینہ قرار دیا ہے۔

بہت سارے تاریخی مصادر جیسے؛ تاریخ طبری، المغازی اور انساب الاشراف کے مطابق پیغمبر اکرمؐ نے مدینہ میں داخل ہوتے ہی وہاں کے یہودیوں کے ساتھ ایک صلح نامہ لکھا اور ان سے معاہدہ کیا[27] بلاذری نے اس معاہدے کی تاریخ کو اللہ تعالی کی طرف سے جہاد کا حکم آنے اور پیغمبر اکرمؐ کی طرف سے کسی جنگ کا اقدام کرنے سے پہلے قرار دیا ہے۔[28]

دیاربکری اپنی کتاب تاریخ الخمیس میں یہودیوں کے ساتھ پیغمبر اکرمؐ کے معاہدے کی تاریخ کو ہجرت کا پانچواں مہینہ لکھا ہے۔[29] ابن ہشام نے میثاق مدینہ کے بارے میں مہاجرین اور انصار کے مابین عقد اخوت قائم ہونے سے پہلے کی تاریخ ذکر کیا ہے؛[30]لہذا چونکہ عقد اخوت پانچویں[31] یا آٹھویں مہینے میں واقع ہوا ہے[32]اس سے میثاق مدینہ کے تدوین کی احتمالی تاریخ کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

اس کے باوجود بعض معاصر محققین نے میثاق مدینہ کو جنگ بدر کے بعد سے مربوط جانا ہے کہ پیغمبر اکرمؐ اور ان کے ساتھیوں کو جنگ بدر میں کامیابی ملنے پر مدینہ میں معاشرتی ایک حیثیت ملی تھی؛ اور ایسے وقت میں دستور المدینہ کو تحریر کرنے کا مقصد مدینہ میں اس وقت کے یہودیوں کی آئے روز مسلمانوں کے خلاف انجام پانے ولی کوششوں کا مقابلہ کرنا تھا۔[33]

حوالہ جات

  1. صالح، «دراسات: الصحیفۃ أو دستور المدینہ»؛ «نصوص سیاسیۃ: الصحیفۃ أو دستور المدینۃ».
  2. مراجعہ کریں: شاکر، «صحیفۃ النبی؛ نماد قانونگرایی در حکومت نبوی».
  3. مراجعہ کریں: «نداء عام: یوجہہ مکتب الدعایۃ للحج (عن صحیفۃ المدینۃ الغراء)»؛ الدغمی، «الأحکام الفقہیۃ المتعلقۃ بالدولۃ والمواطنۃ من خلال صحیفۃ المدینۃ المنورۃ».
  4. مراجعہ کریں: پایندہ، «پیمان مدینہ»؛ بختیاری، «پیمان‌نامہ مدینہ، نمونہ‌ای تاریخی در زمینہ حل اختلاف».
  5. مراجعہ کریں: شاکر، «صحیفۃ النبی؛ نماد قانونگرایی در حکومت نبوی»؛ واسعی، «پیشرفت مدنی در جامعہ عہد نبوی».
  6. احمدی میانجی، مکاتیب الرسول، ۱۴۱۹ق، ج۳، ص۵۲.
  7. بختیاری، «پیمان‌نامہ مدینہ، نمونہ‌ای تاریخی در زمینہ حل اختلاف»، ص۵۵.
  8. عاملی، الصحیح من سیرۃ النبی، ج۵، ص۱۲۷، ۱۳۶.
  9. بختیاری، «پیمان‌نامہ مدینہ، نمونہ‌ای تاریخی در زمینہ حل اختلاف»، ص۵۵-۵۶.
  10. الحسنی، سیرۃ المصطفی، ۱۹۷۵م، ص۲۸۰.
  11. علی، دولۃ الرسول(ص) فی المدینۃ، ۲۰۰۱م، ص۱۰۹؛ ملاح، حکومۃ الرسول(ص)، ۱۴۲۳ق، ص۵۷.
  12. ابن حمید، موسوعۃ نضرۃ النعیم، ۱۴۲۶ق، ج۱، ص۲۷۲.
  13. احمدی میانجی، مکاتیب الرسول، ۱۴۱۹ق، ج۳، ص۵۳.
  14. احمدی میانجی، مکاتیب الرسول، ۱۴۱۹ق، ج۳، ص۹؛ نیز مراجعہ کریں: حمیداللہ، نامہ‌ہا و پیمانہای سیاسی حضرت محمد، ۱۳۷۷ش، ص۱۰۶-۱۱۱.
  15. حمیداللہ، نامہ‌ہا و پیمانہای سیاسی حضرت محمد، ۱۳۷۷ش، ص۱۰۶-۱۰۷.
  16. 16.0 16.1 16.2 16.3 حمیداللہ، نامہ‌ہا و پیمانہای سیاسی حضرت محمد، ۱۳۷۷ش، ص۱۰۷.
  17. 17.0 17.1 حمیداللہ، نامہ‌ہا و پیمانہای سیاسی حضرت محمد، ۱۳۷۷ش، ص۱۰۹.
  18. 18.0 18.1 18.2 حمیداللہ، نامہ‌ہا و پیمانہای سیاسی حضرت محمد، ۱۳۷۷ش، ص۱۰۸.
  19. حمیداللہ، نامہ‌ہا و پیمانہای سیاسی حضرت محمد، ۱۳۷۷ش، ص۱۰۸-۱۰۹.
  20. حمیداللہ، نامہ‌ہا و پیمانہای سیاسی حضرت محمد، ۱۳۷۷ش، ص۱۱۰.
  21. بیات، «وثاقت پیمان نامہ مدینہ»، ص۸۸-۸۹؛ نیز دیکھیں: ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، بیروت، ج۲، ص۱۴۷-۱۵۰.
  22. سہیلی، الروض الانف، ۱۳۸۷-۱۳۹۰ق، ج۴، ص۲۴۰-۲۴۳.
  23. ابن سیدالناس، عیون‌الاثر فی فنون المغازی و الشمائل و السیر، ۱۴۱۳ق، ج۱، ص۳۱۸-۳۲۰.
  24. ابن کثیر، السیرۃ النبویۃ، ۱۳۸۳-۱۳۸۶ھ، ج۲، ص۳۲۰-۳۲۳.
  25. ابوعبید، کتاب الاموال، 1408ھ، ص۲۶۰-۲۶۴؛ ابن زنجویہ، کتاب الاموال، 1406ھ، ج۲، ص۴۶۶-۴۷۰.
  26. عمری، السیرۃ النبویۃ الصحیحۃ، 1411ھ، ج۱، ص۲۷۵؛ معروف الحسنی، سیرۃ المصطفی، 1975ء، ص۲۸۰.
  27. واقدی، المغازی، ۱۹۶۶م، ج۱، ص۱۷۶؛ بلاذری، انساب الاشراف، ۱۹۹۶-۲۰۰۰م، ج۱، ص۳۳۴؛ بلاذری، فتوح البلدان، ۱۴۱۳ق، ص۱۷؛ طبری، تاریخ الامم و الملوک، ۱۳۸۷ق، ج۲، ص۴۷۹..
  28. بلاذری، انساب الاشراف، ۱۹۹۶-۲۰۰۰م، ج۱، ص۳۳۴.
  29. دیاربکری، تاریخ الخمیس، ۱۲۸۳ق، ج۱، ص۳۵۳.
  30. ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، بیروت، ج۲، ص۱۵۰.
  31. ابن قتیبہ دینوری، المعارف، ۱۹۶۰م، ص۱۵۲.
  32. مقریزی، امتاع الاسماع، قاہرہ، ج۱، ص۴۹.
  33. دوری، النظم الاسلامیۃ، ۲۰۰۸م، ص۲۱-۲۲؛ علی، «تنظیمات الرسول الاداریۃ فی المدینۃ»، ص۵۳، ۶۲.


مآخذ

  • ابن حمید، صالح بن عبداللہ، و عبدالرحمن بن محمد بن ملوح، موسوعت نضرۃ النعیم فی مکارم اخلاق الرسول الکریم، جدہ، دار الوسیلۃ، ۱۴۲۶ق/۲۰۰۶ء۔
  • ابن زنجویہ، حمید بن مخلد، کتاب الاموال، تحقیق شاکر ذیب فیاض، ریاض، ۱۴۰۶ق/۱۹۸۶ء۔
  • ابن سیدالناس، محمد بن محمد، عیون الاثر فی فنون المغازی و الشمائل و السیر، تحقیق محمد عید خطراوی و محیی الدین مستو، مدینہ، ۱۴۱۳ق/۱۹۹۲ء۔
  • ابن قتیبہ دینوری، عبداللہ بن مسلم، المعارف، تحقیق ثروت عُکاشہ، قاہرہ، ۱۹۶۰ء۔
  • ابن کثیر، اسماعیل بن عمر، السیرۃ النبویۃ، تحقیق مصطفی عبدالواحد، قاہرہ، ۱۳۸۳-۱۳۸۶ق/۱۹۶۴-۱۹۶۶م، چاپ افست بیروت، بی‌تا.
  • ابن ہشام، عبدالملک، السیرۃ النبویۃ لابن ہشام، تحقیق مصطفی سقا و ابراہیم ابیاری و عبدالحفیظ شلبی، ج۲، بیروت، دار احیاء التراث العربی، بی‌تا.
  • ابوعبید، قاسم بن سلام، کتاب الاموال، تحقیق محمد خلیل ہراس، بیروت، ۱۴۰۸ق/۱۹۸۸ء۔
  • احمدی میانجی، علی، مکاتیب الرسول(ص): مصححۃ و منقحۃ و مزیدۃ، ج۳، تہران، دار الحدیث، ۱۴۱۹ھ۔
  • بختیاری، شہلا، و زہرا نظرزادہ، «پیمان‌نامہ مدینہ: نمونہ‌ای تاریخی در زمینہ حل اختلاف»، در مجلہ تاریخ اسلام، ش۴۹، سال سیزدہم، بہار ۱۳۹۱شمسی ہجری۔
  • بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، تحقیق محمود فردوس عظم، دمشق، ۱۹۹۶-۲۰۰۰ء۔
  • بلاذری، احمد بن یحیی، فتوح البلدان، تحقیق دخویہ، لیدن، ۱۸۶۶م، افست فرانکفورت، ۱۴۱۳ق/۱۹۹۳ء۔
  • بیات، علی، و قدریہ تاج‌بخش، «وثاقت پیمان‌نامہ مدینہ»، در مجلہ پژوہش دینی، ش۱۵، پاییز ۱۳۸۶شمسی ہجری۔
  • پایندہ، ابوالقاسم، «پیمان مدینہ»، در مجلہ معارف اسلامی، ش۲۹، شہریور ۱۳۵۷شمسی ہجری۔
  • الحسنی، ہاشم معروف، سیرۃ المصطفی، قم، ۱۹۷۵ء۔
  • حمیداللہ، محمد، مجموعۃ الوثائق السیاسیۃ للعہد النبوی و الخلافۃ الراشدۃ، بیروت ۱۴۰۷ق/۱۹۸۷ء۔
  • الدغمی، محمد راکان، «الأحکام الفقہیۃ المتعلقۃ بالدولۃ و المواطنۃ من خلال صحیفۃ المدینۃ المنورۃ»، در مجلہ دراسات، ش۳۰، سال ۲۰۰۳ء۔
  • دوری، عبدالعزیز، النظم الإسلامیۃ، بیروت، ۲۰۰۸ء۔
  • دیاربکری، حسین بن محمد، تاریخ الخمیس فی احوال انفس نفیس، قاہرہ، ۱۲۸۳ق/۱۸۶۶م، افست بیروت، بی‌تا.
  • سہیلی، عبدالرحمان بن عبداللہ، الروض الانف فی شرح السیرۃ النبویۃ لابن ہشام، تحقیق عبدالرحمان وکیل، قاہرہ، ۱۳۸۷-۱۳۹۰ق/۱۹۶۷-۱۹۷۰ء۔
  • شاکر، محمدکاظم و محمدحسین لطفی، «صحیفۃ النبی(ص)؛ نماد قانونگرایی در حکومت نبوی»، در مجلہ کتاب قیم، ش۱، بہار ۱۳۹۰شمسی ہجری۔
  • صالح، علی، «دراسات: الصحیفۃ أو دستور المدینۃ: التأسیس للعلاقۃ مع الأخر»، در مجلہ منہاج، ش۵۳، بہار ۱۴۳۰شمسی ہجری۔
  • طبری، محمد بن جریر، تاریخ الامم و الملوک، تحقیق: محمد ابوالفضل ابراہیم، بیروت، دار التراث، ۱۹۶۷م/۱۳۸۷ھ۔
  • عاملی، جعفر مرتضی، الصحیح من سیرۃ النبی الاعظم(ص)، قم، ۱۳۸۵شمسی ہجری۔
  • علی، صالح احمد، «تنظیمات الرسول الاداریۃ فی المدینۃ»، در مجلہ المجمع العلمی العراقی، ج۱۷، ۱۳۸۸ق/۱۹۶۹ء۔
  • علی، صالح احمد، دولۃ الرسول(ص) فی المدینۃ: دراسۃ فی تکونہا و تنظیمہا، بیروت، ۲۰۰۱ء۔
  • عمری، اکرم، السیرۃ النبویۃ الصحیحۃ، دوحہ، ۱۴۱۱ق/۱۹۹۱ء۔
  • مقریزی، احمد بن علی، امتاع الاسماع، ج۱، تحقیق محمود محمد شاکر، قاہرہ، لجنۃ التألیف و الترجمۃ و النشر، بی‌تا.
  • ملاح، ہاشم یحیی، حکومۃ الرسول(ص)، بغداد، ۱۴۲۳ق/۲۰۰۲ء۔
  • «نداء عام: یوجہہ مکتب الدعایۃ للحج (عن صحیفۃ المدینۃ الغراء)»، در مجلہ البصائر، ش۱۴۴، ۲۴ شوال ۱۳۵۷ھ۔
  • «نصوص سیاسیۃ: الصحیفۃ أو دستور المدینۃ»، در مجلہ قضایا اسلامیۃ معاصرۃ، ش۲، ۱۴۱۸ھ۔
  • واسعی، سید علیرضا، «پیشرفت مدنی در جامعہ عہد نبوی»، در مجلہ پژوہشنامہ تاریخ اسلام، ش۱۲، زمستان ۱۳۹۲شمسی ہجری۔
  • واقدی، محمد بن عمر، المغازی، تحقیق مارسدن جونز، لندن، ۱۹۶۶ء۔