تحنث

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
غار حراء.jpg

تَحَنُّث، قبل از اسلام حجاز کے عوام کے درمیان رائج ایک سنت کا نام ہے جس کے تحت وہ سال کے کچھ دنوں کو معاشرے سے الگ ہوکر گوشہ نشین ہوجاتے تھے اور مراقبت نفس کا اہتمام کرتے تھے۔ مروی ہے کہ عبدالمطلب بن ہاشم نیز رسول اللہ(ص) ـ قبل از بعثت ـ ہر سال غار حراء میں خلوت گزینی اور عبادت کرتے تھے۔

تحنث لغت میں

حِنث کے معنی "قسم توڑ دینے" اور "گناہ عظیم" کے ہیں؛ لیکن جب اس کو "باب تفعُّل" میں تَحَنُّث کی صورت میں استعمال کیا جاتا ہے حنث (اور گناہ) کی نفی کے معنی میں آتا ہے چنانچہ تحنث کے معنی "گناہ سے دوری اختیار" کرنے کے ہیں۔[1] اسی بنا پر کچھ محدثین نے اس تحنث کو تعبّد کے معنی میں استعمال کیا ہے،[2] اور بعض نے تحنث کے بجائے تعبّد اور نُسک کی اصطلاحات استعمال کی ہیں۔[3]۔[4]

اصطلاح میں

تَحَنُّث اعتکاف کی طرح ایک روحانی کیفیت کا نام ہے جس کے دوران انسان کچھ عرصے کے لئے خلوت گزیدی اور گوشہ نشینی اختیار کرتا اور مراقبت نفس اور نیک اعمال کا اہتمام کرتا تھا؛ تا کہ خلوت اور تنہائی میں ایک طرف سے معاشرتی گناہوں سے دوری اختیار کرے اور دوسری طرف سے روحانی اور کیفیت اور مراقبے کے بدولت اپنے قلب و نفس کو خلوص اور جلا بخش دے۔[5]۔[6]

رسول اللہ(ص) کا تحنث

امام علی(ع) سے منقولہ حدیث کے مطابق رسول خدا(ص) بعثت سے قبل ہر سال غار حراء چلے جاتے تھے اور کچھ عرصہ وہاں قیام فرماتے تھے۔[7] آپ(ص) قریش کی سنت / روایت کے مطابق ہر سال حرا کے مجاور ہوجاتے تھے اور تحنث فرمایا کرتے تھے اور جو غرباء اور محتاج افراد آپ(ص) کی خدمت میں آتے تھے آپ(ص) انہیں کھانا کھلاتے تھے اور بعد ازاں کعبہ مشرف ہوتے تھے اور 7 مرتبہ یا اس سے بھی زیادہ اس کے گرد طواف کرتے تھے اور پھر گھر تشریف فرما ہوجاتے تھے؛ آپ(ص) کا یہ عمل بعثت تک جاری تھا۔[8]۔[9]۔[10]

عائشہ سے منقولہ روایت کے مطابق، رسول اللہ(ص) کے نزدیک تنہائی اور گوشہ نشینی سے زیادہ کوئی چیز محبوب تر نہ تھی۔ آنحضرت(ص) غار حراء میں خلوت گزینی کرتے تھے اور گئی راتیں تحنث میں گذار دیتے تھے اور بعدازاں خدیجہ کبری کے گھر میں لوٹ آتے تھے اور مزید کچھ عرصے کے لئے ضروری اشیاء اٹھا دیتے تھے۔ یہ سلسلہ آپ(ص) کی بعثت تک جاری رہا۔[11]۔[12]۔[13] کچھ محدثین نے دونوں احادیث کو جمع کرکے کہا ہے کہ آپ(ص) کئی شب تحنث اور اشیاء ضرورت کے ختم ہونے کے بعد مکہ لوٹ آتے تھے اور مزید مدت کے لئے ضروری اشیاء اٹھا کر حراء پلٹ جاتے تھے یہاں تک کہ ایک مہینہ مکمل ہوجاتا تھا۔[14]

زیادہ تر احادیث دلالت کرتی کہ رسول خدا(ص) تنہا، تحنث کے لئے چلے جاتے تھے؛[15]۔[16]۔[17]۔[18] تاہم بعض روایات میں اشارہ ہوا ہے[19]۔[20]۔[21] کہ خدیجہ کبری آپ(ص) کے ساتھ ـ ظاہرا مقام تحنث تک ـ اشیاء ضرورت اور پانی پہنچانے چلی جاتی تھیں؛[22] بایں وجود امیرالمؤمنین(ع) کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ(ع) کے سوا کوئی بھی رسول خدا(ص) کے تحنث اور آپ(ص) پر نزول وحی کا شاہد نہ تھا۔[23]

بعض روایات کے مطابق، رسول اکرم(ص) کا تحنث بعثت سے دس سال قبل اور امیرالمؤمنین(ع) کی ولادت سے شروع ہوا۔ اس عرصے کے دوران رسول خدا(ص) غیبی نداء اور پتھروں اور درختوں کی صدائیں سنتے تھے اور پردہ آپ(ص) کی آنکھوں کے سامنے سے ہٹا دیئے جاتے تھے۔ یہ سلسلہ جاری رہا یہاں تک کہ وحی نازل ہوئی۔[24]

بعد از اسلام

رسول اللہ(ص) نے بعثت کے بعد تحنث کو ترک کردیا جو بعض راویوں کے بقول آپ(ص) جاہلی معاشرے اور ان کی عادات و رسوم سے دوری اختیار کرنے کے لئے انجام دیتے تھے،[25] اور ہجرت کے بعد ماہ مبارک رمضان کا ایک عشرہ مسجد مدینہ میں اعتکاف کرتے تھے۔[26]۔[27]۔[28]

تحنث کا پس منظر

بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ظہور اسلام سے قبل بھی تحنث کا عمل قریشیوں کے ہاں جانا پہچانا تھا۔ بعض تاریخی روایات کے مطابق قریش کے بعض افراد رمضان المبارک کا مہینہ حراء میں گذارتے تھے۔ وہ رمضان کے مہینے میں حراء کی طرف چلے جاتے تھے، ایک مہینہ وہاں قیام کرتے تھے اور ان کے طرف آنے والے محتاجوں کی مدد کرتے تھے۔ مہینے کے آخر میں مسجد الحرام میں لوٹ کر آتے تھے اور کعبہ کا سات مرتبہ طواف کرتے تھے اور بعدازاں اپنے گھروں کو لوٹتے تھے۔[29]۔[30]

بایں حال، غار حراء چھوٹی تھی اور تحنث عمومی طور پر رائج نہ تھا چنانچہ فطری طور پر قریش کے چند ہی افراد یہ عمل کرتے تھے اور ظن قوی یہ ہے کہ عمل صرف حنفاء تک محدود تھا۔[31]

البلاذری کا کہنا ہے کہ رسول اللہ(ص) کے جد امجد حضرت عبدالمطلب علیہ السلام قریش میں اس سنت کے بانی تھے؛[32] لیکن ابن ہشام نے تحنث کو حنفاء کی جاری و رائج سنت قرار دیا ہے۔ وہ اپنی کتاب میں[33] لکھتے ہیں کہ عربی میں "تحنّث" اور "تحنّف" کے معنی ایک ہی (= حنیفیت) ہیں اور تحنث کو تحنث کے حرف "ف" کے "ث" میں تبدیل ہونے سے بنایا گیا ہے۔[34]۔[35]

منقولہ روایات کے مطابق [[عبدالمطلب نے پہلی بار رمضان المبارک کے مہینے میں غار حراء میں تحنث کیا۔ جب بھی ماہ رمضان آن پہنچتا تھا وہ مساکین کو کھانا کھلاتے تھے بعدازاں ورقہ بن نوفل اور ابو امیہ مغیرہ نے ان کی پیروی کی اور وہ بھی رمضان کے آخر تک وہاں گوشہ نشینی اختیار کرتے تھے۔ ایک مہینے کی یہ خلوت گزینی ماہ رمضان کے احترام کے عنوان سے تھی یا پھر شاید اس کی جڑیں کسی قدیمی رسم میں پیوست تھیں۔[36]

ظہور اسلام سے کچھ عرصہ قبل تک قریش کے بعض افراد جو حنیف (جس کی جمع حنفاء ہے) کہلاتے تھے، بت پرستی اور مردار، خون اور بتوں کے لئے قربان کئے جانے والے جانوروں کا گوشت کھانے سمیت اپنی قوم کی بعض عادات سے پرہیز کرتے تھے۔ ان میں سے ایک زید بن عمرو بن نفیل تھا جو مشرکین پر تنقید کرتا تھا اور اپنے چچا خطاب بن نفیل کے تشدد اور آزار و اذیت سے بچنے کے لئے کوہ حراء کی پناہ میں چلا جاتا تھا۔[37]۔[38]۔[39]

بایں ہمہ، کہا جاتا ہے کہ رسول خدا(ص) کا تحنث نہ تو قریش کی رسم کی پیروی کے زمرے میں آتا تھا، نہ ہی حنفاء کی روش کی اتّباع کے زمرے میں۔

بعض مستشرقین کا خیال ہے کہ لفظ "تحنث" عبرانی لفظ "تِحِنُّت/ تِحِنُّث" سے ماخوذ ہے جس کے معنی فردی عبادت کے ہیں۔ وہ تحنث اور تحنف (حنیفیت) کے درمیان کسی ربط و تعلق کے منکر ہوئے ہیں اور قریش کے درمیان لفظ "تحنث" کے رواج یا قبل از اسلام اس سنت کی موجودگی میں شک و تردد کرچکے ہیں[40]۔[41] تاہم تاریخ (اسلام) کے معتبر ذرائع کے مطابق تحنّث کی سنت قریش کے درمیان رائج تھی[42] حتی کہ بعض مؤرخین کا کہنا ہے کہ قبل از اسلام "تحنث" کی مثال نہیں ملتی اور رسول خدا(ص) کا تحنث مکمل طور پر جدید اور غیر تقلیدی تھا۔[43] چنانچہ لفظ تحنث عبرانی رسومات یا اصطلاحات سے ماخوذ نہیں ہوسکتا۔

حوالہ جات

  1. زریاب، سیره رسول اللّه، ص102۔
  2. البخاري الجعفي، صحیح البخاری، ج1، ص3۔
  3. ابن اثیر، الکامل، ج2، ص48۔
  4. الذهبی، تاریخ الاسلام، ج1، ص129۔
  5. الأزهري، تهذیب اللغه، ج4، ص481۔
  6. زریاب، سیره رسول اللّه، ص102۔
  7. رجوع کنید به خطبه قاصِعه (خطبه شماره 234) نهج البلاغه، ص222۔
  8. ابن اسحاق، سیره ابن اسحاق، ص101۔
  9. ابن هشام، السيرة النبوية، ج1، ص251ـ252۔
  10. الطبری، تاریخ، ج2، ص300۔
  11. ابن سعد، طبقات، ج1، قسم 1، ص129۔
  12. طبری، تاریخ، ج2، ص298۔
  13. البخاري الجعفي، صحیح، ج1، ص3۔
  14. حلبی، السیره الحلبیه، ج1، ص236۔
  15. ابن سعد، طبقات، ج1، قسم 1، ص129۔
  16. طبری، تاریخ، ج2، ص298۔
  17. البخاري الجعفي، صحیح، ج1، ص3۔
  18. ابن حزم، جوامع السيرة، ص36۔
  19. ابن هشام، السيرة النبوية، ج1، ص252۔
  20. طبری، تاریخ، ج2، ص300۔
  21. المقریزی، امتاع الاسماع، ج1، ص12۔
  22. رامیار، تاریخ قرآن، ص36۔
  23. امام علی(ع)، نهج البلاغه، خطبه قاصِعه (خطبه شماره 234)، ص222۔
  24. مجلسی، بحار الانوار، ج39، ص327ـ 328۔
  25. الأزهري، تهذيب اللغة، ج4، ص481۔
  26. الكليني، الکافی، ج4، ص175۔
  27. البخاري الجعفي، صحیح، ج2، ص255ـ256۔
  28. رامیار، تاریخ قرآن، ص36ـ37۔
  29. البلاذري، انساب الاشراف، ج1، ص105۔
  30. ابن هشام، السيرة النبوية، ج1، ص251۔
  31. جعفریان، سیره رسول خدا، ص157۔
  32. البلاذري، انساب الاشراف، ج1، ص84۔
  33. ابن هشام، السيرة النبوية، ج1، ص251۔
  34. الجوهري، الصحاح، ج1، ص280۔
  35. ابن سيدة، المحكم، ج3، ص223۔
  36. رامیار، تاریخ قرآن، ص37۔
  37. ابن اسحاق، سیره ابن اسحاق، ص97۔
  38. ابن هشام، السيرة النبوية، ج1، ص237ـ240، 244ـ247۔
  39. زریاب، سیره رسول اللّه، ص79ـ81۔
  40. مزید معلومات کے لئے رجوع کریں: M. J. Kister, Studies in Jahiliyya and early Islam, pp228-231۔
  41. G. R. Hawting, Encyclopedia of Islam, s.v. "Tahannuth"۔
  42. رجوع کریں: M. J. Kister, Studies in Jahiliyya and early Islam, pp230-236۔
  43. ابن حزم، جوامع السيرة، ص36۔


مآخذ

  • ابن اثیر، "الکامل".
  • ابن اسحاق، "سیرة ابن اسحاق"، چاپ محمد حمیداللّه، قونیه، 1401 ه‍ ق/1981 ع‍
  • ابن حزم، "جوامع السیرة النبویة"، بیروت، 1982 ع‍
  • ابن سعد، "الطبقات الکبری".
  • ابن سیده، المحم و المحیط الاعظم فی اللغة، قاهره، 1377ـ1393 ه‍ ق/ 1958ـ1973 ع‍
  • ابن هشام، "السیرة النبویة"، چاپ مصطفی سقا، ابراهیم ابیاری، و عبدالحفیظ شلبی، بیروت، بی‌تا.
  • الأزهري، محمدبن احمد، "تهذیب اللغة"، ج4، چاپ عبدالکریم عزباوی، قاهره، بی‌تا.
  • البخاري الجعفي، محمد بن اسماعیل، "صحیح البخاری"، استانبول، 1401 ه‍ ق/1981 ع‍
  • البلاذري، احمد بن یحیی، "انساب الاشراف"، ج1، چاپ محمد حمیداللّه، مصر، 1959 ع‍
  • جعفریان، رسول، "سیرة رسول خدا(ص)؛ تاریخ سیاسی اسلام (1) "، تهران، سازمان چاپ و انتشارات، 1373 ه‍ ش
  • الجوهري، إسماعيل بن حماد، تاج اللغة وصحاح العربية، تحقيق: أحمد عبد الغفور عطار، دار العلم للملايين، بيروت لبنان الطبعة: الرابعة 1990 ع‍
  • حلبی، علی بن ابراهیم، "السیرة الحلبیة"، بیروت، [1320 ه‍ ق]، چاپ افست بی‌تا.
  • الذهبی، محمد بن احمد، تاریخ الاسلام وفیات المشاهیر والاعلام، ت عمر عبدالسلام تدمری، بیروت: دار الکتاب العربی، 1408 ه‍ / 1987 ع‍
  • رامیار، دکتر محمود، "تاریخ قرآن"، مؤسسه انتشارات امیر کبیر تهران، 1384 ه‍ ش.
  • زریاب خویی، عباس، "سیرة رسول اللّه"، تهران، 1370 ه‍ ش.
  • طبری، "تاریخ"، بیروت.
  • الكليني، "الکافی".
  • مجلسی، "بحار الانوار".
  • المقريزي، أحمد بن علي، إمتاع الأسماع بما للنبي صلى الله عليه وآله ۔۔۔، ت محمودمحمد شاکر، [قاهره]: لجنة التألیف و الترجمة و النشر، بی‌تا.
  • "نهج البلاغة"، امام علی بن ابی طالب(ع)، ترجمة جعفر شهیدی، تهران، 1371 ه‍ ش.

لاطینی مآخذ

  • Norman Calder, "Hinth, birr, tabarrur, tahannuth: an inquiry into the Arabic vocabulary of vows", BSO [ A ] S , lI , pt.2 (1988).
  • G. R. Hawting, Encyclopedia of Islam, 2nd ed., s.v. "Tahannuth".
  • M. J. Kister, Studies in Jahiliyya and early Islam: "al-tahannuth, an inquiry into the meaning of a term", London, 1980.

بیرونی روابط