غزوہ قرقرة الکدر

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
غزوہ قرقرة الکدر
غزوه کدر.jpg
قَرقَرة الکُدر
تاریخ: محرم سنہ 3 ہجری قمری
مقام: کدر
نتیجہ: بہت سارا مال غنیمت کا حصول
فریقین:
مسلمان مشرکین
سپہ سالار:
حضرت محمدؐ


غزوه قَرْقَرَةُ الْکُدْر رسول اللہؐ کی غزوات میں سے ایک ہے جو تیسری ہجری یا ایک نقل کے مطابق دوسری ہجری کو کُدر کے علاقے میں واقع ہوئی۔ اس جنگ میں بنی سلیم اور بنی غَطفان قبیلے کے لوگ مدینہ پر حملہ کرنے کُدر کے علاقے میں جمع ہوئے لیکن اسلامی لشکر پہنچنے پر وہاں سے چلے گئے۔ اس غزوہ میں اسلامی فوج کے سپاہ سالار امام علیؑ تھے اور بہت سارا مال غنیمت بھی مسلمانوں کو مل گیا۔

وجہ تسمیہ

«کُدْر» کا علاقہ مدینہ سے 8 منزل (تقریبا 170 کلومیٹر) کے فاصلے پر واقع ہے۔[1] اس کا نام بعض نے قَرقَرۃالکُدْر اور بعض نے قرارۃالکدر کہا ہے۔[2]اس علاقے میں بنی سلیم قبیلے کا ایک کنواں تھا۔[3]چونکہ اس علاقے میں غطفان اور بنی سلیم قبیلہ کے لوگ مسلمانوں سے جنگ کرنے کے لیے جمع ہوئے تھے تو اس لیے اس غزوہ کا نام قرقرۃ الکدر پڑ گیا ہے۔[4] اس واقعے کو «غزوہ قرقرۃ بنی‌سلیم و غطفان» بھی کہا جاتا ہے۔[5]

واقعہ

سنہ 3 ہجری قمری کو قبیلہ بنی سلیم اور قبیلہ غطفان کے بعض لوگ مدینہ پر حملہ کرنے اکھٹے ہوئے اور یہ خبر پیغمبر اکرمؐ تک پہنچی[6]پیغمبر اکرمؐ نے ابن ابی‌مکتوم[7] یا ایک روایت کے مطابق محمد بن مسلمہ انصاری[8] یا سباع بن عرفطہ غفاری[9] کو مدینہ میں اپنا جانشین بنا لیا اور خود ایک لشکر لیکر ان کی جانب نکل پڑے[10] جس کا سپہ سالار امام علیؑ تھے[11] لیکن مسلمانوں کا لشکر پہنچنے سے پہلے بنی سلیم اور غطفان کے لوگ وہاں سے جا چکے تھے۔ رسول اللہ نے دشمن کی حالت سے آگاہ ہونے کے لیے اپنے افراد کو بلندیوں پر بھیجا اور بعض اونٹ چرانے والے اور بعض چرواہوں سے ان کی ملاقات ہوئی جن میں یسار نامی ایک جوان بھی تھا۔ اصحاب نے ان کو اونٹوں سمیت اپنے ساتھ لے آیا اور رسول اللہؐ کو پیش کیا۔ مسلمان مدینہ واپس لوٹے اور صرار کے مقام پر مال غنیمت تقسیم کیا۔ اور یسار چونکہ نماز پڑھتا تھا تو اس لیے اسے پیغمبر اکرمؐ کے حصے میں رکھ دیا۔ آپؐ نے پھر یسار کو آزاد کیا۔[12]

تاریخ

تاریخی مصادر نے غَزوہ قرقرۃ الکدر کو غزوہ سویق قرار دیا ہے۔[13]بعض مورخین نے شوال، سنہ دو ہجری کو اس واقعے کی تاریخ قرار دیا ہے[14] جبکہ بعض نے محرم تین ہجری کو قرار دیا ہے۔[15]رسول اللہ کا مدینہ سے نکل کر مدینہ واپس لوٹنے تک 15 دن لگے تھے۔[16]

حوالہ جات

  1. حموی، معجم البلدان، ۱۹۹۵م، ج۴، ص۴۴۱.
  2. بلاذری، انساب الاشراف، ۱۹۵۹م، ج۱، ص۳۱۰.
  3. حموی، معجم البلدان، ۱۹۹۵م، ج۴، ص۴۴۱.
  4. ابن سعد، الطبقات الکبری، ۱۴۱۰ق، ج۲، ص۲۳.
  5. مقریزی، امتاع الاسماع، ۱۴۲۰ق، ج۱، ص۱۲۴.
  6. ابن سعد،الطبقات الکبری، ۱۴۱۰ق، ج۲، ص۲۳؛ بلاذری، انساب الاشراف، ۱۹۵۹م، ج۱، ص۳۱۰.
  7. بلاذری، انساب الاشراف، ۱۹۵۹م، ج۱، ص۳۱۰؛ ابن سعد، الطبقات الکبری، ۱۴۱۰ق، ج۲، ص۲۳.
  8. ابن عبدالبر، الاستیعاب، ۱۴۱۲ق، ج۳، ص۱۳۷۷.
  9. ابن هشام، السیرة النبویه، دار المعرفه، ج۲، ص۴۳.
  10. ابن سعد، الطبقات الکبری، ۱۴۱۰ق، ج۲، ص۲۳.
  11. ابن سعد، الطبقات الکبری، ۱۴۱۰ق، ج۲، ص۲۳.
  12. واقدی، المغازی، ۱۴۰۹ق، ج۱، ص۱۸۳.
  13. بلاذری، انساب الاشراف، ۱۹۵۹م، ج۱، ص۳۷۴؛ واقدی، المغازی، ۱۴۰۹ق، ج۱، ص۱۸۱-۱۸۲.
  14. ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، دار المعرفہ، ج۲، ص۴۳.
  15. بلاذری، انساب الاشراف، ۱۹۵۹م، ج۱، ص۳۱۰؛ واقدی، المغازی، ۱۴۰۹ق، ج۱، ص۱۸۲؛ ابن سعد، الطبقات الکبری، ۱۴۱۰ق، ج۲، ص۲۳.
  16. ابن سعد، الطبقات الکبری، ۱۴۱۰ق، ج۲، ص۲۳.


مآخذ

  • ابن عبدالبر، یوسف بن عبداللہ، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، تحقیق: علی محمد بجاوی، بیروت، دار الجیل، ۱۴۱۲ق/۱۹۹۲ء۔
  • ابن سعد، محمد بن سعد، الطبقات الکبری، تحقیق: محمد عبدالقادر عطا، بیروت، دار الکتب العلمیہ، ۱۴۱۰ق/۱۹۹۰ء۔
  • ابن ہشام، عبدالملک، السیرۃ النبویہ، تصحیح: مصطفی سقا و ابراہیم ابیاری و عبد الحفظ شبلی، بیروت، دار المعرفۃ، بی‌تا.
  • بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف(ج۱)، تحقیق: محمد حمیداللہ، مصر ، دار المعارف، ۱۹۵۹ء۔
  • حموی، یاقوت بن عبداللہ، معجم البلدان، بیروت، دار صادر، ۱۹۹۵ء۔
  • مقریزی، احمد بن علی، امتاع الاسماع، تحقیق: محمد عبدالحمید نمیسی، بیروت، دار الکتب العلمیہ، ۱۴۲۰ق/۱۹۹۹ء۔
  • واقدی، محمد بن عمر، المغازی، تحقیق: مارسدون جونس، المغازی، بیروت، مؤسسۃ الاعلمی، ۱۴۰۹ق/۱۹۸۹ء۔