سورہ ہود

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
یونس سورۂ ہود یوسف
سوره هود.jpg
ترتیب کتابت: 11
پارہ : 11 اور 12
نزول
ترتیب نزول: 52
مکی/ مدنی: مکی
اعداد و شمار
آیات: 123
الفاظ: 1948
حروف: 7820

سورہ ہود قرآن کی 52ویں اور مکی سورتوں میں سے ہے جو 11ویں اور 12ویں پارے میں واقع ہے۔ اس سورت میں موجود حضرت ہود کی داستان کی وجہ سے اس کا نام ہود رکھا گیا ہے۔ انبیاء کی داستانیں، فساد اور انحراف سے مقابلہ، حق کے سیدھے راستے پر چلنا، وحی، قرآن، اعجاز اور تحدی قرآن، کی حقیقت، علم خدا اور انسان کی تکامل کی خاطر اس کی آزمائش اور امتحان نیز انتخاب احسن اس سورت کے مضامین میں سے ہیں۔

آت نمبر 13 تحدی قرآن، آیت نمبر 86 بقیت اللہ اور آیت نمبر 114 تکفیر گناہ کے بارے میں ہے اور اس سورت کی مشہور آیات میں سے ہیں۔ اس کی فضیلت اور تلاوت کے بارے میں آیا ہے کہ جو شخص سورہ ہود کی تلاوت کرے اسے حضرت نوح پر ایمان لانے والوں یا ان کی تکذیب کرنے والوں نیز حضرت ہود، حضرت صالح، حضرت شعیب، حضرت لوط، حضرت ابراہیم اور حضرت موسی کے پیروکاروں اور مخالفین کی تعداد کے برابر ثواب دیا جائے گا۔

اجمالی تعارف

اسی نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور اسی نے تمہیں اس میں آباد کیا(سورہ ہود: 61)۔

وجہ تسمیہ

سورہ ہود کی آیت نمبر 50 سے 60 تک میں قوم عاد کے پیغمبر حضرت ہود کی داستان تفصیل سے بیان ہوئی ہے اور حضرت ہود کا نام اس سورت میں 5 دفعہ آیا ہے اسی مناسبت سے اس سورت کا نام "سورہ ہود" رکھا گیا ہے۔[1]

ترتیب اور محل نزول

سورہ ہود مکی سورتوں میں سے ہے اور ترتیب نزول کے لحاظ سے باون ویں جبکہ مصحف کی موجودہ ترتیب کے لحاظ سے گیارہویں سورت ہے اور پارہ نمبر 11 اور 12 میں موجود ہے۔[2]

آیات کی تعداد اور دوسری خصوصیات

سورہ ہود 123 آیات[نوٹ 1]، 1948 الفاظ اور 7820 حروف پر مشتمل ہے۔ حجم کے اعتبار سے اس کا شمار سور مئون میں ہوتا ہے اور ایک پارے کے دو تہائی حصے کے برابر ہے۔[3] سورہ ہود حروف مقطعہ سے شروع ہونے والی پانچویں سورت ہے۔[4]

مفاہیم

سورہ ہود کی ابتداءی چار آیتوں کو قرآن مجید کی تمام تعلیمات پر مشتمل قرار دیا گیا ہے جن سے اس سورت میں تفصیل کے ساتھ بحث کی گئی ہے۔[5] سورہ ہود میں انذار اور تبشیر کی صورت میں خدا کی سنتوں اور گذشتہ اقوام من جملہ قوم نوح، قوم عاد اور قوم ثمود وغیرہ کی داستان اور خدا کے فرامین پر عمل پیرا ­نہ ہونے پر ان کے انجام کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔[6] اس کے علاوہ اس سورت میں توحید، نبوت، معاد اور خدا کی طرف سے مؤمنین اور نیکوکاروں کو دئے گئے وعدوں کی توصیف جیسے اہم موضوعات کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔[7]

اس صورت کے اہم مضامین و مفاہیم درج ذیل ہیں[8]:

  • قصص الانبیاء (نوح، ہود، صالح، لوط، شعیب، ابراہیم، و موسی علیہم السلام)؛
  • فساد، برائیوں اور انحرافات کے خلاف جدوجہد اور حق کے راستے پر استقامت کے ساتھ گامزن رہنا؛
  • وحی اور قرآن کی حقانیت نیز قرآن کریم کی شان و شوکت، معجز نمائی اور تحدی کا اثبات؛
  • خدا کا تمام امور پر علم رکھنا، انسان کی تکامل کے لئے اس کی آزمائش اور امتحان اور انتخاب احسن۔[9]
سورہ ہود کے مضامین[10]
 
 
 
 
 
 
پیغمبر کی توحیدی دعوت کے مقابلے میں اسلام دشمن عناصر کی ناکامی
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
نتیجہ؛ آیہ ۱۲۰-۱۲۳
پیغمبر کو حوصلہ دینا اور مخالفوں کو تنبیہ کرنا
 
تیسری فصل؛ آیہ ۱۰۰-۱۱۹
پیغمبر کے دشمنوں کی ناکامی سے سبق لینا
 
فصل دوم؛ آیہ ۲۵-۹۹
تاریخ میں انبیاء کے دشمنوں کی ناکامی
 
پہلی فصل؛ آیہ ۱-۲۴
پیغمبر اسلام کے دشمنوں کی ناکامی
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
پہلا مطلب؛ آیہ ۱۲۰
انبیاء کے واقعات کا بیان پیغمبر کو روحی تقویت دینا ہے
 
درس اول؛ آیہ ۱۰۰-۱۰۲
کافروں پر دنیوی سزا ان کے ظلم کی وجہ سے ہے
 
نمونہ اول؛ آیہ ۲۵-۵۰
حضرت نوح کے مخالفوں کی ناکامی
 
پہلا مطلب؛ آیہ ۱-۴
پیغمبر کی توحیدی دعوت کا مضمون
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
دوسرا مطلب؛ آیہ ۱۲۱-۱۲۲
پیغمبر کے مخالف اپنے انجام کا انتظار کریں
 
دوسرا درس؛ آیہ ۱۰۳-۱۰۸
کافروں پر اخروی عذاب بہت جلد آنے والا ہے
 
نمونہ دوم؛ آیہ ۵۱-۶۰
حضرت ہود کے مخالفوں کی ناکامی
 
دوسرا مطلب؛ آیہ ۵-۱۴
پیغمبر کے مقابلے میں کافروں کے اقدامات
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
تیسرا مطلب؛ آیہ ۱۲۳
جس اللہ کے ہاتھ میں سب کچھ ہے اس پر توکل کرو
 
تیسرا درس؛ آیہ ۱۰۹-۱۱۱
کافروں کا راستہ غلط ہونے اور ان کو سزا ملنے میں شک نہ کرو
 
تیسرا نمونہ؛ آیہ ۶۱-۶۸
حضرت صالح کے مخالفوں کی ناکامی
 
تیسرا مطلب؛ آیہ ۱۵-۲۴
پیغمبر کے مخالفوں کو انتباہ
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
درس چہارم؛ آیہ ۱۱۲-۱۱۵
اللہ کے دین کی طرف دعوت میں ثابت قدم رہو
 
چوتھا نمونہ؛ آیہ ۶۹-۸۳
حضرت لوط کے مخالفوں کی ناکامی
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
پانچواں درس؛ آیہ ۱۱۶-۱۱۹
برائیوں کی ترویج معاشرے کی ہلاکت کا باعث ہے
 
پانچواں نمونہ؛ آیہ ۸۴-۹۵
حضرت شعیب کے مخالفوں کی ناکامی
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
چھٹا نمونہ؛ آیہ ۹۶-۹۹
حضرت موسی کے مخالفوں کی ناکامی

تاریخی واقعات اور داستانیں

سورہ ہود گذشتہ انبیاء اور ان کے اقوام من جملہ قوم نوح، قوملوط، قوم ہود اور قوم صالح وغیرہ کے متعدد تاریخی واقعات اور داستانوں پر مشتمل ہے۔

  • داستان حضرت نوح: نبوت، اپنی قوم کے ساتھ ہونے والی گفتگو، کشتی کی تعمیر، طوفان نوح، نوح کے بیٹے کا غرق ہونا، طوفان کا تھمنا اور کوہ جودی پر کشتی کا توقف کرنا آیات 25 - 48۔
  • داستان قوم عاد: حضرت ہود کی نبوت، قوم سے گفتگو، قوم عاد کا عذاب آیات 50-60۔
  • داستان قوم ثمود: حضرت صالح کی نبوت، قوم سے گفتگو، ناقہ صالح کا معجزہ، ناقہ صالح کا قتل، قوم ثمود کا عذاب آییات 61-68۔
  • داستان قوم حضرت لوط: احضرت براہیم پر فرشتوں کا نازل ہونا، حضرت ابراہیم کا خوف محصوص کرنا اور انہیں حضرت اسحاق بشارت، حضرت ابراہیم کا قوم لوط کے بارے میں فرشتوں سے گفتگو، حضرت لوط پر فرشتوں کا نزول، فرشتوں کے بارے میں قوم لوط کی درخواست ارو حضرت لوط کا جواب، حضرت لوظ کا اپنی قوم کو ترک کرنا، زوجہ لوط کا قوم لوط کے درمیان چھوڑ جانا، قوم لوط پر پتھر کی بارش، آیات 69-83۔
  • داستان حضرت شعیب: نبوت، اپنی قوم سے گفتگو، مدین پر عذاب نازل ہونا، آیات 84-95۔
  • داستان حضرت موسی: فرعون کو توحید کی دعوت، آیات 96-99۔

بعض آیتوں کی شأن نزول

خدا کا لوگوں کے باطن سے آگاہ ہونا

سورہ ہود کی پانچویں آیت أَلَا إِنَّهُمْ يَثْنُونَ صُدُورَهُمْ لِيَسْتَخْفُوا مِنْهُ ۚ أَلَا حِينَ يَسْتَغْشُونَ ثِيَابَهُمْ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ...؛(ترجمہ: آگاہ ہو جاؤ یہ (منافق) لوگ اپنے سینوں کو دوہرا کر رہے ہیں تاکہ اس (اللہ یا رسول) سے چھپ جائیں مگر یاد رکھو جب یہ لوگ اپنے (سارے) کپڑے اپنے اوپر اوڑھ لیتے ہیں تو (تب بھی) وہ (اللہ) وہ بھی جانتا ہے جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور وہ بھی جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں...۔) کی شان نزول کے بارے میں آیا ہے کہ یہ آیت اخنس بن شریق کے بارے میں نازل ہوئی یہ شخص نہایت شیرین سخن اور خوش اخلاق آدمی تھا اور جب پیغمبر اکرمؐ سے ان کی ملاقات ہوئی تو ظاہرا آپؐ کے ساتھ ان کا رویہ نہایت دوستانہ تھا لیکن وہ دل سے اس ملاقات پر خوش نہیں تھا اور آپؐ کے ساتھ دشمنی رکھتا تھا۔[11]

حسنات کے ذریعے گناہوں کا پاک ہونا

سورہ ہود کی 114ویں آیت وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِّنَ اللَّيْلِ ۚ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ...؛ (ترجمہ: (اے نبی) دن کے دونوں کناروں (صبح و شام) اور رات کے کچھ حصوں میں نماز قائم کریں بے شک نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں۔) کے بارے میں آیا ہے کہ ایک دن ایک شخص پیغمبر اکرمؐ کی خدمت میں آیا اور کہا: شہر کے کنارے شیطان کے وسوسے میں آکر ایک عورت کے ساتھ تجاوز کرنے کی وجہ سے گناہ میں مبتلا ہو گیا ہوں؛ لیکن جماع کی حد تک نہیں پہنچا؛ اب آپ کے پاس آیا ہوں تاکہ مجھ پر حد شرعی جاری فرمائے۔ پیغمبر اکرمؐ نے جواب نہیں دیا اور وہ شخص واپس چلا گیا یہاں تک کہ مذکورہ آیت نازل ہوئی اس وقت اسے بلایا گیا اور ان سے فرمایا وضو کرو اور ہمارے ساتھ نماز پڑھو! یہ تمارے گناہ کا کفارہ ہے۔ اس موقع پر ایک اور شخص نے سوال کیا آیا یہ حکم صرف اس شخص کے ساتھ مختص ہے؟ اس پر پیغمبر اکرمؐ نے فرمایا نہیں یہ حکم تمام مسلمانوں کے لئے ہے۔[12]

مشہور آیات

آیت نمبر 13، آیت تَحَدّی، آیت نمبر 86 آیت بقیت اللہ اور آیت نمبر 114 آیت تکفیر گناہ سورہ ہود کی مشہور آیات میں سے ہیں۔

آیت تَحَدّی

تفصیلی مضمون: آیات تحدی

أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ ۖ قُلْ فَأْتُوا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهِ مُفْتَرَيَاتٍ وَادْعُوا مَنِ اسْتَطَعْتُم مِّن دُونِ اللَّـهِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ
(ترجمہ: یا وہ یہ کہتے ہیں کہ اس شخص (آپ) نے یہ (قرآن) خود گھڑ لیا ہے؟ آپ فرمائیے اگر تم اس دعویٰ میں سچے ہو تو تم بھی اس جیسی گھڑی ہوئی دس سورتیں لے آؤ۔ اور بے شک اللہ کے سوا جس کو (اپنی مدد کیلئے) بلانا چاہتے ہو بلا لو۔)

اس آیت کو ان کفار کا جواب قرار دیتے ہیں جو قرآن کو خدا کی طرف جھوٹی نسبت قرار دیتے تھے۔ خدا نے ان کو مقابلے کی دعوت دیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اگر تم قرآن کو جھوٹ سمجھتے ہو تو تم بھی اس طرح کی دس سورتیں بنا کر لے آؤ اور انہیں خدا کی طرف نسبت دے دو۔[13]

آیت بقیۃ اللہ

آیت بقیۃ اللہ خط معلی میں
تفصیلی مضمون: بقیۃ اللہ

بَقِيَّتُ اللَّـهِ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ۚ وَمَا أَنَا عَلَيْكُم بِحَفِيظٍ
(ترجمہ: اللہ کا بقیہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم ایماندار ہو؟ اور میں تم پر نگران و نگہبان نہیں ہوں۔)

اس آیت میں حلال سود کو رہنے والا اور ایسا ذخیرہ قرار دیا گیا ہے جسے خدا اپنے بندوں کیلئے محفوظ رکھتا ہے۔ اسے بیقیۃ اللہ کہنے کی علت کے بارے میں کہا گیا ہے کہ شاید یہ نام خدا کے اس فرمان کی وجہ دیا گیا ہے جس میں حلال سود لینے کا حکم دیا گیا ہے یا یہ خدا کی نعمتوں کے دائمی ہونے اور ان میں پائے جانے والے برکت کی وجہ سے ہو یا خدا کی طرف سے دیئے جانے والے ابدی اجر و ثواب کی وجہ سے یہ نام دیا گیا ہے۔[14]

شیعہ جوامع حدیثی میں اس آیت میں موجود لفظ "بقیۃ اللّہ" کو ائمہ معصومینؑ سے تفسیر کی گئی ہیں۔ علامہ مجلسی ابن شہر آشوب کی کتاب مناقب سے نقل کرتے ہیں کہ آیت بقیۃ اللّہ ائمہ معصومینؑ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔[15] بحارالانوار میں امام باقرؑ سے منقول ایک حدیث میں آپؑ نے ان لوگوں سے مخاطب ہو کر جنہوں نے آپ پر شہر کا دروازہ بند کیا، اپنے آپ کو بقیۃ الله کے عنوان سے تعارف فرمایا۔ [16] طبرسی امام علیؑ سے نقل کرتے ہیں کہ بقیۃ اللّہ سے مراد امام مہدیؑ ہیں جو انشا اللہ ظہور فرمائیں گے[17] اسی طرح شیعہ احادیث میں آیا ہے کہ جب امام مہدیؑ ظہور فرمائیں گے تو آپ آیت "بقیت اللّه خیرلکم... کی تلاوت فرمائیں گے۔[18]

سیئات کا حسنات میں تبدیل ہونا (114)

تفصیلی مضمون: تکفیر گناہ

وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِّنَ اللَّيْلِ ۚ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ...
(ترجمہ: (اے نبی) دن کے دونوں کناروں (صبح و شام) اور رات کے کچھ حصوں میں نماز قائم کریں بے شک نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں۔)

نماز اور صبر کا حکم جو سورہ ہود کی آیت نمبر 114 اور 115 میں آیا ہے، کو بہترین عبادات اور اخلاقیات کا حکم قرار دیا جاتا ہے جو ایمان اور اسلام کی بیناد اور روح ہے۔[19] مفسرین أَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِّنَ اللَّيْلِ کے جملے کو تمام نمازوں کی وجوب کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں۔[20]

طبرسی ابن عباس سے نقل کرتے ہوئے نماز پنجگانہ کو ان گناہوں سے پاک ہونے کا عامل قرار دیتے ہیں جو ان نمازوں کے درمیان انسان سے سرزد ہوتے ہیں۔[21]

صاحب تفسیر الکاشف، محمدجواد مغنیہ جناب طبرسی کے مذکورہ باتوں نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں: یہ تفسیر عقل و فطرت کے خلاف ہے کیونکہ شریعت، عقل اور قانون کی رو سے احکام اور تکالیف کے درمیان کوئی رابطہ ­نہیں ہے۔ دوسرے لفظوں میں کسی حکم چاہے واجب ہو یا حرام، کی تعمیل کرنا کسی دوسرے حکم کی تعمیل یا نافرمانی کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں رکھتا۔ پس مذکروہ جملے کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ نماز کا بہت زیادہ ثواب ہے اور جب قیامت کے دن کسی شخص کی نیکیوں اور برے اعمال کا موازنہ کیا جاتا ہے تو اس کے نیک اعمال کا پلڑا بھاری ہو جاتا ہے اس شرط کے ساتھ کہ اس کے اس کا گناہ، گناہ کبیرہ نہ ہو اور لوگوں میں سے کسی کا حق اس کے گردن پر نہ ہو۔[22]

آیات الاحکام

سورہ ہود کی آیت نمبر 114 جس میں واجب نمازوں کے اوقات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، اس سورت کے آیات الاحکام میں شمار کیا جاتا ہے۔[23] اس آیت میں لفظ "طرفی النہار" کو نماز صبح اور نماز مغرب جبکہ لفظ "زلفا من اللیل" کو نماز عشاء کی طرف اشاره جانا گیا ہے؛ اس بنا پر مذکورہ آیت میں نماز پنجگانہ میں سے تین نمازوں کے اوقات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔[24]

فضیلت اور خواص

تفصیلی مضمون: فضائل سور

سورہ ہود کی تلاوت کے بارے میں پیغمبر اسلامؐ سے نقل ہوا ہے کہ جو شخص سورہ ہود کی تلاوت کرے اسے حضرت نوح پر ایمان لانے والوں یا ان کی تکذیب کرنے والوں نیز حضرت ہود، حضرت صالح، حضرت شعیب، حضرت لوط، حضرت ابراہیم اور حضرت موسی کے پیروکاروں اور مخالفین کی تعداد کے برابر ثواب دیا جائے گا۔[25] اور اس کا شمار قیامت کے دن سعادتمندوں میں ہوگا۔ امام باقرؑ سے بھی نقل ہوا ہے کہ جو شخص ہر جمعے کو سورہ ہود کی تلاوت کرے، قیامت کے دن وہ پیغمبروں کے ساتھ محشور ہوگا اور اس کے گناہوں کو اس کے سامنے نہیں لایا جائے گا۔[26]

تفسیر برہان میں اس سورت کی تلاوت کے لئے بعض خواص کا تذکرہ ہوا ہے من جملہ ان میں جسمانی طاقت کا اضافہ اور حاجتوں کی برآوری ہے۔[27]

متن اور ترجمہ

سورہ ہود
ترجمہ
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ

الَر كِتَابٌ أُحْكِمَتْ آيَاتُهُ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِن لَّدُنْ حَكِيمٍ خَبِيرٍ ﴿1﴾ أَلاَّ تَعْبُدُواْ إِلاَّ اللّهَ إِنَّنِي لَكُم مِّنْهُ نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ ﴿2﴾ وَأَنِ اسْتَغْفِرُواْ رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُواْ إِلَيْهِ يُمَتِّعْكُم مَّتَاعًا حَسَنًا إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى وَيُؤْتِ كُلَّ ذِي فَضْلٍ فَضْلَهُ وَإِن تَوَلَّوْاْ فَإِنِّيَ أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ كَبِيرٍ ﴿3﴾ إِلَى اللّهِ مَرْجِعُكُمْ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ﴿4﴾ أَلا إِنَّهُمْ يَثْنُونَ صُدُورَهُمْ لِيَسْتَخْفُواْ مِنْهُ أَلا حِينَ يَسْتَغْشُونَ ثِيَابَهُمْ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ ﴿5﴾ وَمَا مِن دَآبَّةٍ فِي الأَرْضِ إِلاَّ عَلَى اللّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ ﴿6﴾ وَهُوَ الَّذِي خَلَق السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَكَانَ عَرْشُهُ عَلَى الْمَاء لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلاً وَلَئِن قُلْتَ إِنَّكُم مَّبْعُوثُونَ مِن بَعْدِ الْمَوْتِ لَيَقُولَنَّ الَّذِينَ كَفَرُواْ إِنْ هَذَا إِلاَّ سِحْرٌ مُّبِينٌ ﴿7﴾ وَلَئِنْ أَخَّرْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ إِلَى أُمَّةٍ مَّعْدُودَةٍ لَّيَقُولُنَّ مَا يَحْبِسُهُ أَلاَ يَوْمَ يَأْتِيهِمْ لَيْسَ مَصْرُوفًا عَنْهُمْ وَحَاقَ بِهِم مَّا كَانُواْ بِهِ يَسْتَهْزِؤُونَ ﴿8﴾ وَلَئِنْ أَذَقْنَا الإِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنَاهَا مِنْهُ إِنَّهُ لَيَئُوسٌ كَفُورٌ ﴿9﴾ وَلَئِنْ أَذَقْنَاهُ نَعْمَاء بَعْدَ ضَرَّاء مَسَّتْهُ لَيَقُولَنَّ ذَهَبَ السَّيِّئَاتُ عَنِّي إِنَّهُ لَفَرِحٌ فَخُورٌ ﴿10﴾ إِلاَّ الَّذِينَ صَبَرُواْ وَعَمِلُواْ الصَّالِحَاتِ أُوْلَئِكَ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ كَبِيرٌ ﴿11﴾ فَلَعَلَّكَ تَارِكٌ بَعْضَ مَا يُوحَى إِلَيْكَ وَضَآئِقٌ بِهِ صَدْرُكَ أَن يَقُولُواْ لَوْلاَ أُنزِلَ عَلَيْهِ كَنزٌ أَوْ جَاء مَعَهُ مَلَكٌ إِنَّمَا أَنتَ نَذِيرٌ وَاللّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ ﴿12﴾ أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ قُلْ فَأْتُواْ بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهِ مُفْتَرَيَاتٍ وَادْعُواْ مَنِ اسْتَطَعْتُم مِّن دُونِ اللّهِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ﴿13﴾ فَإِن لَّمْ يَسْتَجِيبُواْ لَكُمْ فَاعْلَمُواْ أَنَّمَا أُنزِلِ بِعِلْمِ اللّهِ وَأَن لاَّ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ فَهَلْ أَنتُم مُّسْلِمُونَ ﴿14﴾ مَن كَانَ يُرِيدُ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا نُوَفِّ إِلَيْهِمْ أَعْمَالَهُمْ فِيهَا وَهُمْ فِيهَا لاَ يُبْخَسُونَ ﴿15﴾ أُوْلَئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الآخِرَةِ إِلاَّ النَّارُ وَحَبِطَ مَا صَنَعُواْ فِيهَا وَبَاطِلٌ مَّا كَانُواْ يَعْمَلُونَ ﴿16﴾ أَفَمَن كَانَ عَلَى بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّهِ وَيَتْلُوهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ وَمِن قَبْلِهِ كِتَابُ مُوسَى إَمَامًا وَرَحْمَةً أُوْلَئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِ وَمَن يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الأَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ فَلاَ تَكُ فِي مِرْيَةٍ مِّنْهُ إِنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّكَ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لاَ يُؤْمِنُونَ ﴿17﴾ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللّهِ كَذِبًا أُوْلَئِكَ يُعْرَضُونَ عَلَى رَبِّهِمْ وَيَقُولُ الأَشْهَادُ هَؤُلاء الَّذِينَ كَذَبُواْ عَلَى رَبِّهِمْ أَلاَ لَعْنَةُ اللّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ ﴿18﴾ الَّذِينَ يَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ اللّهِ وَيَبْغُونَهَا عِوَجًا وَهُم بِالآخِرَةِ هُمْ كَافِرُونَ ﴿19﴾ أُولَئِكَ لَمْ يَكُونُواْ مُعْجِزِينَ فِي الأَرْضِ وَمَا كَانَ لَهُم مِّن دُونِ اللّهِ مِنْ أَوْلِيَاء يُضَاعَفُ لَهُمُ الْعَذَابُ مَا كَانُواْ يَسْتَطِيعُونَ السَّمْعَ وَمَا كَانُواْ يُبْصِرُونَ ﴿20﴾ أُوْلَئِكَ الَّذِينَ خَسِرُواْ أَنفُسَهُمْ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُواْ يَفْتَرُونَ ﴿21﴾ لاَ جَرَمَ أَنَّهُمْ فِي الآخِرَةِ هُمُ الأَخْسَرُونَ ﴿22﴾ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّالِحَاتِ وَأَخْبَتُواْ إِلَى رَبِّهِمْ أُوْلَئِكَ أَصْحَابُ الجَنَّةِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ ﴿23﴾ مَثَلُ الْفَرِيقَيْنِ كَالأَعْمَى وَالأَصَمِّ وَالْبَصِيرِ وَالسَّمِيعِ هَلْ يَسْتَوِيَانِ مَثَلاً أَفَلاَ تَذَكَّرُونَ ﴿24﴾ وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَى قَوْمِهِ إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُّبِينٌ ﴿25﴾ أَن لاَّ تَعْبُدُواْ إِلاَّ اللّهَ إِنِّيَ أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ أَلِيمٍ ﴿26﴾ فَقَالَ الْمَلأُ الَّذِينَ كَفَرُواْ مِن قِوْمِهِ مَا نَرَاكَ إِلاَّ بَشَرًا مِّثْلَنَا وَمَا نَرَاكَ اتَّبَعَكَ إِلاَّ الَّذِينَ هُمْ أَرَاذِلُنَا بَادِيَ الرَّأْيِ وَمَا نَرَى لَكُمْ عَلَيْنَا مِن فَضْلٍ بَلْ نَظُنُّكُمْ كَاذِبِينَ ﴿27﴾ قَالَ يَا قَوْمِ أَرَأَيْتُمْ إِن كُنتُ عَلَى بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّيَ وَآتَانِي رَحْمَةً مِّنْ عِندِهِ فَعُمِّيَتْ عَلَيْكُمْ أَنُلْزِمُكُمُوهَا وَأَنتُمْ لَهَا كَارِهُونَ ﴿28﴾ وَيَا قَوْمِ لا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مَالاً إِنْ أَجْرِيَ إِلاَّ عَلَى اللّهِ وَمَآ أَنَاْ بِطَارِدِ الَّذِينَ آمَنُواْ إِنَّهُم مُّلاَقُو رَبِّهِمْ وَلَكِنِّيَ أَرَاكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُونَ ﴿29﴾ وَيَا قَوْمِ مَن يَنصُرُنِي مِنَ اللّهِ إِن طَرَدتُّهُمْ أَفَلاَ تَذَكَّرُونَ ﴿30﴾ وَلاَ أَقُولُ لَكُمْ عِندِي خَزَآئِنُ اللّهِ وَلاَ أَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلاَ أَقُولُ إِنِّي مَلَكٌ وَلاَ أَقُولُ لِلَّذِينَ تَزْدَرِي أَعْيُنُكُمْ لَن يُؤْتِيَهُمُ اللّهُ خَيْرًا اللّهُ أَعْلَمُ بِمَا فِي أَنفُسِهِمْ إِنِّي إِذًا لَّمِنَ الظَّالِمِينَ ﴿31﴾ قَالُواْ يَا نُوحُ قَدْ جَادَلْتَنَا فَأَكْثَرْتَ جِدَالَنَا فَأْتَنِا بِمَا تَعِدُنَا إِن كُنتَ مِنَ الصَّادِقِينَ ﴿32﴾ قَالَ إِنَّمَا يَأْتِيكُم بِهِ اللّهُ إِن شَاء وَمَا أَنتُم بِمُعْجِزِينَ ﴿33﴾ وَلاَ يَنفَعُكُمْ نُصْحِي إِنْ أَرَدتُّ أَنْ أَنصَحَ لَكُمْ إِن كَانَ اللّهُ يُرِيدُ أَن يُغْوِيَكُمْ هُوَ رَبُّكُمْ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ ﴿34﴾ أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ قُلْ إِنِ افْتَرَيْتُهُ فَعَلَيَّ إِجْرَامِي وَأَنَاْ بَرِيءٌ مِّمَّا تُجْرَمُونَ ﴿35﴾ وَأُوحِيَ إِلَى نُوحٍ أَنَّهُ لَن يُؤْمِنَ مِن قَوْمِكَ إِلاَّ مَن قَدْ آمَنَ فَلاَ تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُواْ يَفْعَلُونَ ﴿36﴾ وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا وَلاَ تُخَاطِبْنِي فِي الَّذِينَ ظَلَمُواْ إِنَّهُم مُّغْرَقُونَ ﴿37﴾ وَيَصْنَعُ الْفُلْكَ وَكُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ مَلأٌ مِّن قَوْمِهِ سَخِرُواْ مِنْهُ قَالَ إِن تَسْخَرُواْ مِنَّا فَإِنَّا نَسْخَرُ مِنكُمْ كَمَا تَسْخَرُونَ ﴿38﴾ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ مَن يَأْتِيهِ عَذَابٌ يُخْزِيهِ وَيَحِلُّ عَلَيْهِ عَذَابٌ مُّقِيمٌ ﴿39﴾ حَتَّى إِذَا جَاء أَمْرُنَا وَفَارَ التَّنُّورُ قُلْنَا احْمِلْ فِيهَا مِن كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَأَهْلَكَ إِلاَّ مَن سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ وَمَنْ آمَنَ وَمَا آمَنَ مَعَهُ إِلاَّ قَلِيلٌ ﴿40﴾ وَقَالَ ارْكَبُواْ فِيهَا بِسْمِ اللّهِ مَجْرَاهَا وَمُرْسَاهَا إِنَّ رَبِّي لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴿41﴾ وَهِيَ تَجْرِي بِهِمْ فِي مَوْجٍ كَالْجِبَالِ وَنَادَى نُوحٌ ابْنَهُ وَكَانَ فِي مَعْزِلٍ يَا بُنَيَّ ارْكَب مَّعَنَا وَلاَ تَكُن مَّعَ الْكَافِرِينَ ﴿42﴾ قَالَ سَآوِي إِلَى جَبَلٍ يَعْصِمُنِي مِنَ الْمَاء قَالَ لاَ عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ اللّهِ إِلاَّ مَن رَّحِمَ وَحَالَ بَيْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِينَ ﴿43﴾ وَقِيلَ يَا أَرْضُ ابْلَعِي مَاءكِ وَيَا سَمَاء أَقْلِعِي وَغِيضَ الْمَاء وَقُضِيَ الأَمْرُ وَاسْتَوَتْ عَلَى الْجُودِيِّ وَقِيلَ بُعْداً لِّلْقَوْمِ الظَّالِمِينَ ﴿44﴾ وَنَادَى نُوحٌ رَّبَّهُ فَقَالَ رَبِّ إِنَّ ابُنِي مِنْ أَهْلِي وَإِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَأَنتَ أَحْكَمُ الْحَاكِمِينَ ﴿45﴾ قَالَ يَا نُوحُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ فَلاَ تَسْأَلْنِ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنِّي أَعِظُكَ أَن تَكُونَ مِنَ الْجَاهِلِينَ ﴿46﴾ قَالَ رَبِّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَسْأَلَكَ مَا لَيْسَ لِي بِهِ عِلْمٌ وَإِلاَّ تَغْفِرْ لِي وَتَرْحَمْنِي أَكُن مِّنَ الْخَاسِرِينَ ﴿47﴾ قِيلَ يَا نُوحُ اهْبِطْ بِسَلاَمٍ مِّنَّا وَبَركَاتٍ عَلَيْكَ وَعَلَى أُمَمٍ مِّمَّن مَّعَكَ وَأُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ يَمَسُّهُم مِّنَّا عَذَابٌ أَلِيمٌ ﴿48﴾ تِلْكَ مِنْ أَنبَاء الْغَيْبِ نُوحِيهَا إِلَيْكَ مَا كُنتَ تَعْلَمُهَا أَنتَ وَلاَ قَوْمُكَ مِن قَبْلِ هَذَا فَاصْبِرْ إِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِينَ ﴿49﴾ وَإِلَى عَادٍ أَخَاهُمْ هُودًا قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُواْ اللّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَهٍ غَيْرُهُ إِنْ أَنتُمْ إِلاَّ مُفْتَرُونَ ﴿50﴾ يَا قَوْمِ لا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِنْ أَجْرِيَ إِلاَّ عَلَى الَّذِي فَطَرَنِي أَفَلاَ تَعْقِلُونَ ﴿51﴾ وَيَا قَوْمِ اسْتَغْفِرُواْ رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُواْ إِلَيْهِ يُرْسِلِ السَّمَاء عَلَيْكُم مِّدْرَارًا وَيَزِدْكُمْ قُوَّةً إِلَى قُوَّتِكُمْ وَلاَ تَتَوَلَّوْاْ مُجْرِمِينَ ﴿52﴾ قَالُواْ يَا هُودُ مَا جِئْتَنَا بِبَيِّنَةٍ وَمَا نَحْنُ بِتَارِكِي آلِهَتِنَا عَن قَوْلِكَ وَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِينَ ﴿53﴾ إِن نَّقُولُ إِلاَّ اعْتَرَاكَ بَعْضُ آلِهَتِنَا بِسُوَءٍ قَالَ إِنِّي أُشْهِدُ اللّهِ وَاشْهَدُواْ أَنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ ﴿54﴾ مِن دُونِهِ فَكِيدُونِي جَمِيعًا ثُمَّ لاَ تُنظِرُونِ ﴿55﴾ إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّهِ رَبِّي وَرَبِّكُم مَّا مِن دَآبَّةٍ إِلاَّ هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا إِنَّ رَبِّي عَلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ﴿56﴾ فَإِن تَوَلَّوْاْ فَقَدْ أَبْلَغْتُكُم مَّا أُرْسِلْتُ بِهِ إِلَيْكُمْ وَيَسْتَخْلِفُ رَبِّي قَوْمًا غَيْرَكُمْ وَلاَ تَضُرُّونَهُ شَيْئًا إِنَّ رَبِّي عَلَىَ كُلِّ شَيْءٍ حَفِيظٌ ﴿57﴾ وَلَمَّا جَاء أَمْرُنَا نَجَّيْنَا هُودًا وَالَّذِينَ آمَنُواْ مَعَهُ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَنَجَّيْنَاهُم مِّنْ عَذَابٍ غَلِيظٍ ﴿58﴾ وَتِلْكَ عَادٌ جَحَدُواْ بِآيَاتِ رَبِّهِمْ وَعَصَوْاْ رُسُلَهُ وَاتَّبَعُواْ أَمْرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ ﴿59﴾ وَأُتْبِعُواْ فِي هَذِهِ الدُّنْيَا لَعْنَةً وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ أَلا إِنَّ عَادًا كَفَرُواْ رَبَّهُمْ أَلاَ بُعْدًا لِّعَادٍ قَوْمِ هُودٍ ﴿60﴾ وَإِلَى ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَالِحًا قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُواْ اللّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَهٍ غَيْرُهُ هُوَ أَنشَأَكُم مِّنَ الأَرْضِ وَاسْتَعْمَرَكُمْ فِيهَا فَاسْتَغْفِرُوهُ ثُمَّ تُوبُواْ إِلَيْهِ إِنَّ رَبِّي قَرِيبٌ مُّجِيبٌ ﴿61﴾ قَالُواْ يَا صَالِحُ قَدْ كُنتَ فِينَا مَرْجُوًّا قَبْلَ هَذَا أَتَنْهَانَا أَن نَّعْبُدَ مَا يَعْبُدُ آبَاؤُنَا وَإِنَّنَا لَفِي شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُونَا إِلَيْهِ مُرِيبٍ ﴿62﴾ قَالَ يَا قَوْمِ أَرَأَيْتُمْ إِن كُنتُ عَلَى بَيِّنَةً مِّن رَّبِّي وَآتَانِي مِنْهُ رَحْمَةً فَمَن يَنصُرُنِي مِنَ اللّهِ إِنْ عَصَيْتُهُ فَمَا تَزِيدُونَنِي غَيْرَ تَخْسِيرٍ ﴿63﴾ وَيَا قَوْمِ هَذِهِ نَاقَةُ اللّهِ لَكُمْ آيَةً فَذَرُوهَا تَأْكُلْ فِي أَرْضِ اللّهِ وَلاَ تَمَسُّوهَا بِسُوءٍ فَيَأْخُذَكُمْ عَذَابٌ قَرِيبٌ ﴿64﴾ فَعَقَرُوهَا فَقَالَ تَمَتَّعُواْ فِي دَارِكُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ ذَلِكَ وَعْدٌ غَيْرُ مَكْذُوبٍ ﴿65﴾ فَلَمَّا جَاء أَمْرُنَا نَجَّيْنَا صَالِحًا وَالَّذِينَ آمَنُواْ مَعَهُ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَمِنْ خِزْيِ يَوْمِئِذٍ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْقَوِيُّ الْعَزِيزُ ﴿66﴾ وَأَخَذَ الَّذِينَ ظَلَمُواْ الصَّيْحَةُ فَأَصْبَحُواْ فِي دِيَارِهِمْ جَاثِمِينَ ﴿67﴾ كَأَن لَّمْ يَغْنَوْاْ فِيهَا أَلاَ إِنَّ ثَمُودَ كَفرُواْ رَبَّهُمْ أَلاَ بُعْدًا لِّثَمُودَ ﴿68﴾ وَلَقَدْ جَاءتْ رُسُلُنَا إِبْرَاهِيمَ بِالْبُشْرَى قَالُواْ سَلاَمًا قَالَ سَلاَمٌ فَمَا لَبِثَ أَن جَاء بِعِجْلٍ حَنِيذٍ ﴿69﴾ فَلَمَّا رَأَى أَيْدِيَهُمْ لاَ تَصِلُ إِلَيْهِ نَكِرَهُمْ وَأَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيفَةً قَالُواْ لاَ تَخَفْ إِنَّا أُرْسِلْنَا إِلَى قَوْمِ لُوطٍ ﴿70﴾ وَامْرَأَتُهُ قَآئِمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنَاهَا بِإِسْحَقَ وَمِن وَرَاء إِسْحَقَ يَعْقُوبَ ﴿71﴾ قَالَتْ يَا وَيْلَتَى أَأَلِدُ وَأَنَاْ عَجُوزٌ وَهَذَا بَعْلِي شَيْخًا إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عَجِيبٌ ﴿72﴾ قَالُواْ أَتَعْجَبِينَ مِنْ أَمْرِ اللّهِ رَحْمَتُ اللّهِ وَبَرَكَاتُهُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ إِنَّهُ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ ﴿73﴾ فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ الرَّوْعُ وَجَاءتْهُ الْبُشْرَى يُجَادِلُنَا فِي قَوْمِ لُوطٍ ﴿74﴾ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَحَلِيمٌ أَوَّاهٌ مُّنِيبٌ ﴿75﴾ يَا إِبْرَاهِيمُ أَعْرِضْ عَنْ هَذَا إِنَّهُ قَدْ جَاء أَمْرُ رَبِّكَ وَإِنَّهُمْ آتِيهِمْ عَذَابٌ غَيْرُ مَرْدُودٍ ﴿76﴾ وَلَمَّا جَاءتْ رُسُلُنَا لُوطًا سِيءَ بِهِمْ وَضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَقَالَ هَذَا يَوْمٌ عَصِيبٌ ﴿77﴾ وَجَاءهُ قَوْمُهُ يُهْرَعُونَ إِلَيْهِ وَمِن قَبْلُ كَانُواْ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ قَالَ يَا قَوْمِ هَؤُلاء بَنَاتِي هُنَّ أَطْهَرُ لَكُمْ فَاتَّقُواْ اللّهَ وَلاَ تُخْزُونِ فِي ضَيْفِي أَلَيْسَ مِنكُمْ رَجُلٌ رَّشِيدٌ ﴿78﴾ قَالُواْ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِي بَنَاتِكَ مِنْ حَقٍّ وَإِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِيدُ ﴿79﴾ قَالَ لَوْ أَنَّ لِي بِكُمْ قُوَّةً أَوْ آوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ ﴿80﴾ قَالُواْ يَا لُوطُ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَن يَصِلُواْ إِلَيْكَ فَأَسْرِ بِأَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ اللَّيْلِ وَلاَ يَلْتَفِتْ مِنكُمْ أَحَدٌ إِلاَّ امْرَأَتَكَ إِنَّهُ مُصِيبُهَا مَا أَصَابَهُمْ إِنَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُ أَلَيْسَ الصُّبْحُ بِقَرِيبٍ ﴿81﴾ فَلَمَّا جَاء أَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةً مِّن سِجِّيلٍ مَّنضُودٍ ﴿82﴾ مُّسَوَّمَةً عِندَ رَبِّكَ وَمَا هِيَ مِنَ الظَّالِمِينَ بِبَعِيدٍ ﴿83﴾ وَإِلَى مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًا قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُواْ اللّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَهٍ غَيْرُهُ وَلاَ تَنقُصُواْ الْمِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ إِنِّيَ أَرَاكُم بِخَيْرٍ وَإِنِّيَ أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ مُّحِيطٍ ﴿84﴾ وَيَا قَوْمِ أَوْفُواْ الْمِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ وَلاَ تَبْخَسُواْ النَّاسَ أَشْيَاءهُمْ وَلاَ تَعْثَوْاْ فِي الأَرْضِ مُفْسِدِينَ ﴿85﴾ بَقِيَّةُ اللّهِ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ وَمَا أَنَاْ عَلَيْكُم بِحَفِيظٍ ﴿86﴾ قَالُواْ يَا شُعَيْبُ أَصَلاَتُكَ تَأْمُرُكَ أَن نَّتْرُكَ مَا يَعْبُدُ آبَاؤُنَا أَوْ أَن نَّفْعَلَ فِي أَمْوَالِنَا مَا نَشَاء إِنَّكَ لَأَنتَ الْحَلِيمُ الرَّشِيدُ ﴿87﴾ قَالَ يَا قَوْمِ أَرَأَيْتُمْ إِن كُنتُ عَلَىَ بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّي وَرَزَقَنِي مِنْهُ رِزْقًا حَسَنًا وَمَا أُرِيدُ أَنْ أُخَالِفَكُمْ إِلَى مَا أَنْهَاكُمْ عَنْهُ إِنْ أُرِيدُ إِلاَّ الإِصْلاَحَ مَا اسْتَطَعْتُ وَمَا تَوْفِيقِي إِلاَّ بِاللّهِ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ ﴿88﴾ وَيَا قَوْمِ لاَ يَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِي أَن يُصِيبَكُم مِّثْلُ مَا أَصَابَ قَوْمَ نُوحٍ أَوْ قَوْمَ هُودٍ أَوْ قَوْمَ صَالِحٍ وَمَا قَوْمُ لُوطٍ مِّنكُم بِبَعِيدٍ ﴿89﴾ وَاسْتَغْفِرُواْ رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُواْ إِلَيْهِ إِنَّ رَبِّي رَحِيمٌ وَدُودٌ ﴿90﴾ قَالُواْ يَا شُعَيْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِيرًا مِّمَّا تَقُولُ وَإِنَّا لَنَرَاكَ فِينَا ضَعِيفًا وَلَوْلاَ رَهْطُكَ لَرَجَمْنَاكَ وَمَا أَنتَ عَلَيْنَا بِعَزِيزٍ ﴿91﴾ قَالَ يَا قَوْمِ أَرَهْطِي أَعَزُّ عَلَيْكُم مِّنَ اللّهِ وَاتَّخَذْتُمُوهُ وَرَاءكُمْ ظِهْرِيًّا إِنَّ رَبِّي بِمَا تَعْمَلُونَ مُحِيطٌ ﴿92﴾ وَيَا قَوْمِ اعْمَلُواْ عَلَى مَكَانَتِكُمْ إِنِّي عَامِلٌ سَوْفَ تَعْلَمُونَ مَن يَأْتِيهِ عَذَابٌ يُخْزِيهِ وَمَنْ هُوَ كَاذِبٌ وَارْتَقِبُواْ إِنِّي مَعَكُمْ رَقِيبٌ ﴿93﴾ وَلَمَّا جَاء أَمْرُنَا نَجَّيْنَا شُعَيْبًا وَالَّذِينَ آمَنُواْ مَعَهُ بِرَحْمَةٍ مَّنَّا وَأَخَذَتِ الَّذِينَ ظَلَمُواْ الصَّيْحَةُ فَأَصْبَحُواْ فِي دِيَارِهِمْ جَاثِمِينَ ﴿94﴾ كَأَن لَّمْ يَغْنَوْاْ فِيهَا أَلاَ بُعْدًا لِّمَدْيَنَ كَمَا بَعِدَتْ ثَمُودُ ﴿95﴾ وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَى بِآيَاتِنَا وَسُلْطَانٍ مُّبِينٍ ﴿96﴾ إِلَى فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهِ فَاتَّبَعُواْ أَمْرَ فِرْعَوْنَ وَمَا أَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِيدٍ ﴿97﴾ يَقْدُمُ قَوْمَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَوْرَدَهُمُ النَّارَ وَبِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُودُ ﴿98﴾ وَأُتْبِعُواْ فِي هَذِهِ لَعْنَةً وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ بِئْسَ الرِّفْدُ الْمَرْفُودُ ﴿99﴾ ذَلِكَ مِنْ أَنبَاء الْقُرَى نَقُصُّهُ عَلَيْكَ مِنْهَا قَآئِمٌ وَحَصِيدٌ ﴿100﴾ وَمَا ظَلَمْنَاهُمْ وَلَكِن ظَلَمُواْ أَنفُسَهُمْ فَمَا أَغْنَتْ عَنْهُمْ آلِهَتُهُمُ الَّتِي يَدْعُونَ مِن دُونِ اللّهِ مِن شَيْءٍ لِّمَّا جَاء أَمْرُ رَبِّكَ وَمَا زَادُوهُمْ غَيْرَ تَتْبِيبٍ ﴿101﴾ وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِيَ ظَالِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ ﴿102﴾ إِنَّ فِي ذَلِكَ لآيَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الآخِرَةِ ذَلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذَلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُودٌ ﴿103﴾ وَمَا نُؤَخِّرُهُ إِلاَّ لِأَجَلٍ مَّعْدُودٍ ﴿104﴾ يَوْمَ يَأْتِ لاَ تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلاَّ بِإِذْنِهِ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ ﴿105﴾ فَأَمَّا الَّذِينَ شَقُواْ فَفِي النَّارِ لَهُمْ فِيهَا زَفِيرٌ وَشَهِيقٌ ﴿106﴾ خَالِدِينَ فِيهَا مَا دَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالأَرْضُ إِلاَّ مَا شَاء رَبُّكَ إِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيدُ ﴿107﴾ وَأَمَّا الَّذِينَ سُعِدُواْ فَفِي الْجَنَّةِ خَالِدِينَ فِيهَا مَا دَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالأَرْضُ إِلاَّ مَا شَاء رَبُّكَ عَطَاء غَيْرَ مَجْذُوذٍ ﴿108﴾ فَلاَ تَكُ فِي مِرْيَةٍ مِّمَّا يَعْبُدُ هَؤُلاء مَا يَعْبُدُونَ إِلاَّ كَمَا يَعْبُدُ آبَاؤُهُم مِّن قَبْلُ وَإِنَّا لَمُوَفُّوهُمْ نَصِيبَهُمْ غَيْرَ مَنقُوصٍ ﴿109﴾ وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ فَاخْتُلِفَ فِيهِ وَلَوْلاَ كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِن رَّبِّكَ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ وَإِنَّهُمْ لَفِي شَكٍّ مِّنْهُ مُرِيبٍ ﴿110﴾ وَإِنَّ كُلاًّ لَّمَّا لَيُوَفِّيَنَّهُمْ رَبُّكَ أَعْمَالَهُمْ إِنَّهُ بِمَا يَعْمَلُونَ خَبِيرٌ ﴿111﴾ فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَمَن تَابَ مَعَكَ وَلاَ تَطْغَوْاْ إِنَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ ﴿112﴾ وَلاَ تَرْكَنُواْ إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُواْ فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ اللّهِ مِنْ أَوْلِيَاء ثُمَّ لاَ تُنصَرُونَ ﴿113﴾ وَأَقِمِ الصَّلاَةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِّنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ ﴿114﴾ وَاصْبِرْ فَإِنَّ اللّهَ لاَ يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ ﴿115﴾ فَلَوْلاَ كَانَ مِنَ الْقُرُونِ مِن قَبْلِكُمْ أُوْلُواْ بَقِيَّةٍ يَنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِي الأَرْضِ إِلاَّ قَلِيلاً مِّمَّنْ أَنجَيْنَا مِنْهُمْ وَاتَّبَعَ الَّذِينَ ظَلَمُواْ مَا أُتْرِفُواْ فِيهِ وَكَانُواْ مُجْرِمِينَ ﴿116﴾ وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِيُهْلِكَ الْقُرَى بِظُلْمٍ وَأَهْلُهَا مُصْلِحُونَ ﴿117﴾ وَلَوْ شَاء رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلاَ يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ ﴿118﴾ إِلاَّ مَن رَّحِمَ رَبُّكَ وَلِذَلِكَ خَلَقَهُمْ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لأَمْلأنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ﴿119﴾ وَكُلاًّ نَّقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنبَاء الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهِ فُؤَادَكَ وَجَاءكَ فِي هَذِهِ الْحَقُّ وَمَوْعِظَةٌ وَذِكْرَى لِلْمُؤْمِنِينَ ﴿120﴾ وَقُل لِّلَّذِينَ لاَ يُؤْمِنُونَ اعْمَلُواْ عَلَى مَكَانَتِكُمْ إِنَّا عَامِلُونَ ﴿121﴾ وَانتَظِرُوا إِنَّا مُنتَظِرُونَ ﴿122﴾ وَلِلّهِ غَيْبُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ الأَمْرُ كُلُّهُ فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ ﴿123﴾۔

(شروع کرتا ہوں) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

الف، لام، را، یہ وہ کتاب ہے جس کی آیتیں محکم اور مضبوط بنائی گئی ہیں اور پھر تفصیل کے ساتھ کھول کھول کر بیان کی گئی ہیں یہ اس کی طرف سے ہے جو بڑا حکمت والا، بڑا باخبر ہے۔ (1) (اس کا خلاصہ یہ ہے کہ) اللہ کے سوا کسی کی عبادت (بندگی) نہ کرو بلاشبہ میں اس کی طرف سے تمہیں ڈرانے والا اور خوشخبری دینے والا ہوں۔ (2) اور یہ کہ اپنے پروردگار سے مغفرت طلب کرو پھر اس کی بارگاہ میں توبہ کرو (اس کی طرف رجوع کرو) وہ تمہیں مقررہ مدت (تک زندگی کے) اچھے فوائد سے بہرہ مند کرے گا۔ اور ہر صاحبِ فضل (زیادہ عمل کرنے والے) کو اس کے درجہ کے مطابق عطا فرمائے گا اور اگر تم نے روگردانی کی تو میں تمہارے بارے میں ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ (3) تم سب کو اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے اور وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔ (4) آگاہ ہو جاؤ یہ (منافق) لوگ اپنے سینوں کو دوہرا کر رہے ہیں تاکہ اس (اللہ یا رسول) سے چھپ جائیں مگر یاد رکھو جب یہ لوگ اپنے (سارے) کپڑے اپنے اوپر اوڑھ لیتے ہیں تو (تب بھی) وہ (اللہ) وہ بھی جانتا ہے جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور وہ بھی جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں (کیونکہ) بے شک وہ تو ان رازوں سے بھی خوف واقف ہے جو سینوں کے اندر ہیں۔ (5) اور زمین میں کوئی چلنے پھرنے والا جانور نہیں ہے مگر یہ کہ اس کا رزق خدا کے ذمے ہے اور وہ جانتا ہے کہ اس کا مستقل ٹھکانہ کہاں ہے اور اس کے سونپے جانے (کم رہنے) کی جگہ کہاں ہے؟ سب کچھ ایک واضح کتاب میں محفوظ ہے۔ (6) اور وہی وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا اور (اس سے پہلے) اس کا عرش پانی پر تھا (یہ سب کچھ کیوں پیدا کیا؟) تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سب سے بہتر عمل کرنے والا کون ہے؟ اور (اے رسول(ص)) اگر آپ ان سے کہیں کہ تم مرنے کے بعد (دوبارہ) اٹھائے جاؤگے تو کافر لوگ ضرور کہیں گے۔ یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔ (7) اور اگر ہم ان پر عذاب نازل کرنے میں ایک مقررہ مدت تک تاخیر بھی کر دیں تو وہ ضرور یہ کہیں گے کہ کون سی چیز نے اسے روک رکھا ہے؟ یاد رکھو جس دن ان پر وہ (عذاب) آئے گا تو پھر اسے پھیرا نہ جا سکے گا۔ اور انہیں وہ (عذاب) گھیر لے گا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔ (8) اور اگر ہم انسان کو اپنی طرف سے رحمت کا مزہ چکھائیں (کسی نعمت سے نوازیں) اور پھر اسے اس سے چھین لیں تو وہ بڑا مایوس اور بڑا ناشکرا ہو جاتا ہے۔ (9) اور اگر ہم کسی سختی و تکلیف کے پہنچنے کے بعد کسی نعمت و راحت کا مزہ چکھائیں تو (غافل ہوکر) کہہ اٹھتا ہے کہ میری تمام برائیاں چلی گئیں (دکھ درد دور ہوگئے)۔ بالیقین وہ (انسان) بڑا خوش ہونے والا، بڑا اترانے والا ہے۔ (10) مگر ہاں جو لوگ صبر کرتے ہیں اور نیک عمل کرتے ہیں (وہ ایسے نہیں ہیں بلکہ) یہی وہ ہیں جن کے لئے بخشش ہے اور بہت بڑا اجر ہے۔ (11) (اے پیغمبر(ص)) آپ کی طرف جو وحی کی جاتی ہے تو کیا آپ (کفار کی باتوں سے متاثر ہوکر) اس کا کچھ حصہ چھوڑ دیں گے اور کیا آپ کا سینہ تنگ ہو جائے گا کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ ان پر کوئی خزانہ کیوں نہیں اتارا گیا؟ یا ان کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہیں آیا؟ (آپ ہرگز ایسا نہیں کر سکتے اور نہ ہی کرنا چاہیئے کیونکہ) آپ تو بس (عذابِ الٰہی سے) ڈرانے والے ہیں اور اللہ ہی ہر چیز پر نگہبان ہے۔ (12) یا وہ یہ کہتے ہیں کہ اس شخص (آپ) نے یہ (قرآن) خود گھڑ لیا ہے؟ آپ فرمائیے اگر تم اس دعویٰ میں سچے ہو تو تم بھی اس جیسی گھڑی ہوئی دس سورتیں لے آؤ۔ اور بے شک اللہ کے سوا جس کو (اپنی مدد کیلئے) بلانا چاہتے ہو بلا لو۔ (13) (اے مسلمانو) اب اگر وہ (کفار) تمہاری دعوت پر لبیک نہ کہیں تو پھر سمجھ لو کہ جو کچھ (قرآن) نازل کیا گیا ہے وہ اللہ کے علم و قدرت سے اتارا گیا ہے اور یہ بھی (سمجھ لو) کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے (اے کفار بتاؤ) کیا اب اسلام لاؤگے۔ اور یہ حقیقت تسلیم کروگے؟ (14) اور جو صرف دنیا کی زندگی اور اس کی زیب و زینت چاہتے ہیں تو ہم انہیں ان کی سعی و عمل کی پوری پوری جزا دیتے ہیں۔ اور ان کے ساتھ کوئی کمی نہیں کی جاتی۔ (15) یہ وہ (بدنصیب) لوگ ہیں جن کیلئے آخرت (کی زندگی) میں دوزخ کی آگ کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اور انہوں نے اس (دنیا) میں جو کچھ کیا تھا وہ سب اکارت ہو جائے گا اور وہ جو کچھ کرتے تھے وہ سب باطل ہو جائے گا۔ (16) کیا جو شخص اپنے پروردگار کی طرف سے (اپنی صداقت کی) کھلی ہوئی دلیل رکھتا ہے اور جس کے پیچھے ایک گواہ بھی ہے جو اسی کا جزء ہے اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب (توراۃ) بھی رحمت و راہنمائی کے طور پر آچکی ہے (اور اس کی تصدیق بھی کر رہی ہے) یہ لوگ اس پر ایمان لائیں گے اور جو مختلف گروہوں میں سے اس کا انکار کرے گا اس کی وعدہ گاہ آتشِ دوزخ ہے خبردار تم! اس کے بارے میں شک میں نہ پڑنا وہ آپ کے پروردگار کی طرف سے برحق ہے مگر اکثر لوگ (حق پر) ایمان نہیں لاتے۔ (17) اور اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جو اللہ پر جھوٹا بہتان باندھے ایسے لوگ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں پیش کئے جائیں گے۔ اور گواہ گواہی دیں گے کہ یہ ہیں وہ لوگ جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹا بہتان باندھا۔ خبردار ان ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے۔ (18) جو اللہ کی راہ سے (اس کے بندوں کو) روکتے ہیں اور اسے ٹیڑھا کرنا چاہتے ہیں اور آخرت کا انکار کرتے ہیں۔ (19) یہ لوگ اللہ تعالیٰ کو عاجز کرنے والے نہیں تھے اور نہ خدا کے علاوہ ان کا کوئی مددگار اور کارساز تھا۔ ان کو دوگنا عذاب ہوگا۔ (کیونکہ) یہ نہ (حق بات) سن سکتے ہیں۔ اور نہ (حقیقت) دیکھ سکتے تھے۔ (20) یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو خسارے میں مبتلا کیا اور وہ (خلافِ حق) جو افترا پردازیاں کیا کرتے تھے وہ سب ان سے گم ہوگئیں۔ (21) بلاشبہ یہی لوگ آخرت میں سب سے زیادہ گھاٹا اٹھانے والے ہوں گے۔ (22) بے شک جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے اور عجز و نیاز کے ساتھ اپنے پروردگار کے حضور جھک گئے یہی لوگ جنتی ہیں جو ہمیشہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ (23) ان دونوں فریقوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک اندھا، بہرا ہو اور دوسرا آنکھ و کان والا۔ (بتاؤ) یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ کیا تم غور و فکر نہیں کرتے (اور نصیحت حاصل نہیں کرتے؟) (24) بے شک ہم نے نوح(ع) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا (انہوں نے کہا لوگو!) میں تمہیں کھلا ہوا (عذابِ الٰہی سے) ڈرانے والا ہوں۔ (25) اور یہ کہ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو (ورنہ) میں تمہارے بارے میں ایک ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ (26) اس پر ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے کہ (اے نوح) ہم تو تمہیں اس کے سوا کچھ نہیں دیکھتے کہ تم ہم جیسے ایک انسان ہو۔ اور ہم تو یہی دیکھ رہے ہیں کہ جن لوگوں نے آپ کی پیروی کی ہے وہ ہم میں سے بالکل رذیل لوگ ہیں اور انہوں نے بھی بے سوچے سمجھے سرسری رائے سے کی ہے اور ہم تم میں اپنے اوپر کوئی برتری نہیں دیکھتے بلکہ تم لوگوں کو جھوٹا خیال کرتے ہیں۔ (27) نوح(ع) نے کہا اے میری قوم! کیا تم نے (اس بات پر) غور کیا ہے کہ اگر میں اپنے پروردگار کی طرف سے روشن دلیل رکھتا ہوں؟ اور اس نے مجھے اپنی رحمت بھی عطا فرمائی ہے۔ جو تمہیں سجھائی نہیں دیتی۔ تو کہا ہم زبردستی اسے تمہارے اوپر مسلط کر سکتے ہیں۔ جبکہ تم اسے ناپسند کرتے ہو؟ (28) اے میری قوم! میں اس (تبلیغِ حق) پر تم سے کوئی مالی معاوضہ طلب نہیں کرتا۔ میرا معاوضہ اللہ کے ذمے ہے اور جو لوگ ایمان لائے ہیں (وہ تمہاری نگاہ میں جس قدر پست ہوں) میں ان کو اپنے پاس سے نکال نہیں سکتا۔ بے شک وہ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضری دینے والے ہیں البتہ میں دیکھتا ہوں کہ تم جہالت سے کام لینے والے لوگ ہو۔ (29) اے میری قوم! اگر میں ان کو اپنے پاس سے نکال دوں تو اللہ کے مقابلہ میں کون میری مدد کرے گا۔ کیا تم اتنا بھی غور نہیں کرتے (اور نصیحت قبول نہیں کرتے؟) (30) اور (دیکھو) میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں غیب کا علم رکھتا ہوں اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں کوئی فرشتہ ہوں اور نہ ہی میں یہ کہتا ہوں کہ جن لوگوں کو تم حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہو کہ اللہ انہیں کوئی بھلائی عطا نہیں کرے گا اللہ ہی بہتر جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے اگر میں ایسا کہوں تو ظالموں میں سے ہو جاؤں گا۔ (31) ان لوگوں نے کہا اے نوح! تم نے ہم سے بحث و تکرار کی ہے اور بہت کر لی (اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے) اگر تم سچے ہو تو وہ (عذاب) ہمارے پاس لاؤ جس کی تم ہمیں دھمکی دیتے ہو۔ (32) نوح(ع) نے کہا وہ (عذاب) تو اللہ ہی لائے گا جب چاہے گا اور تم اسے عاجز نہیں کر سکتے۔ (33) اگر اللہ تمہیں گمراہی میں چھوڑ دینا چاہے (اور اس طرح تمہیں ہلاک کرنا چاہے تو) میں جس قدر تمہیں نصیحت کرنا چاہوں میری نصیحت تمہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔ وہی تمہارا پروردگار ہے اور اسی کی طرف تمہیں لوٹ کر جانا ہے۔ (34) کیا وہ یہ کہتے ہیں کہ (آپ) نے (یہ قرآن) خود گھڑ لیا ہے۔ تو کہیئے! اگر میں نے یہ گھڑا ہے تو اس جرم کا وبال مجھ پر ہے اور جو جرم تم کر رہے ہو اس سے میں بری الذمہ ہوں۔ (35) اور نوح(ع) کی طرف وحی کی گئی کہ ان لوگوں کے سوا جو ایمان لا چکے ہیں تمہاری قوم میں سے اور کوئی ایمان نہیں لائے گا۔ پس تم اس پر غمگین نہ ہو جو کچھ یہ لوگ کر رہے ہیں۔ (36) اور ہماری نگرانی اور ہماری وحی کے مطابق ایک کشتی بناؤ۔ اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے کوئی بات (سفارش) نہ کرنا (کیونکہ) یقینا یہ سب لوگ غرق ہو جانے والے ہیں۔ (37) چنانچہ نوح(ع) کشتی بنانے لگے اور جب بھی ان کی قوم کے سردار ان کے پاس سے گزرتے تو وہ ان کا مذاق اڑاتے وہ (نوح) کہتے اگر (آج) تم ہمارا مذاق اڑاتے ہو تو (کل کلاں) ہم بھی تمہارا اسی طرح مذاق اڑائیں گے جس طرح تم اڑا رہے ہو۔ (38) عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ کس پر عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کر دے گا اور کس پر دائمی عذاب نازل ہوتا ہے۔ (39) یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آگیا۔ اور تنور نے جوش مارا (ابل پڑا) تو ہم نے (نوح(ع) سے) کہا کہ ہر قسم کے جوڑوں میں سے دو دو (نر و مادہ) کو اس (کشتی) میں سوار کر لو۔ اور اپنے گھر والوں کو بھی بجز ان کے جن کی (ہلاکت کی) بات پہلے طئے ہو چکی ہے نیز ان کو بھی (سوار کر لو) جو ایمان لا چکے ہیں اور بہت ہی تھوڑے لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے تھے۔ (40) نوح(ع) نے کہا (کشتی میں) سوار ہو جاؤ اللہ کے نام کے سہارے اس کا چلنا بھی ہے اور اس کا ٹھہرنا بھی بے شک میرا پروردگار بڑا بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔ (41) اور وہ (کشتی) انہیں ایسی موجوں (لہروں) میں سے لئے جا رہی تھی جو پہاڑوں جیسی تھیں اور نوح(ع) نے اپنے بیٹے کو آواز دی جوکہ الگ ایک گوشہ میں (کھڑا) تھا۔ اے میرے بیٹے! ہمارے ساتھ (کشتی میں) سوار ہو جا۔ اور کافروں کے ساتھ نہ ہو۔ (42) اس نے کہا میں ابھی کسی پہاڑ پر پناہ لے لوں گا جو مجھے پانی سے بچائے گا نوح(ع) نے کہا (بیٹا) آج اللہ کے امر (عذاب) سے کوئی بچانے والا نہیں ہے۔ سوائے اس کے جس پر وہ (اللہ) رحم فرمائے۔ اور پھر (اچانک) ان کے درمیان موج حائل ہوگئی پس وہ ڈوبنے والوں میں سے ہوگیا۔ (43) اور ارشاد ہوا اے زمین! اپنا پانی نگل لے اور اے آسمان تھم جا۔ اور پانی اتر گیا اور معاملہ طئے کر دیا گیا اور کشی کوہِ جودی پر ٹھہر گئی اور کہا گیا ہلاکت ہو ظلم کرنے والوں کے لئے۔ (44) اور نوح(ع) نے اپنے پروردگار کو پکارا اور کہا اے میرے پروردگار میرا بیٹا میرے اہل میں سے ہے اور یقینا تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب فیصلہ کرنے والوں سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔ (45) ارشاد ہوا۔ اے نوح وہ تیرے اہل میں سے نہیں ہے وہ تو مجسم عملِ بد ہے پس جس چیز کا تمہیں علم نہیں ہے اس کے بارے میں مجھ سے سوال نہ کر میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ جاہلوں میں سے نہ ہو جانا۔ (46) عرض کیا اے میرے پروردگار! میں اس بات سے تیری بارگاہ میں پناہ مانگتا ہوں کہ میں تجھ سے ایسی چیز کا سوال کروں جس کا مجھے علم نہیں ہے۔ اور اگر تو نے مجھے نہ بخشا اور مجھ پر رحم نہ کیا تو میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤں گا۔ (47) ارشاد ہوا۔ اے نوح(ع) اترو۔ ہماری طرف سے سلامتی اور برکتیں ہوں تم پر اور ان گروہوں پر جو تمہارے ساتھ ہیں (یا بالفاظ مناسب تمہارے ساتھ والوں سے پیدا ہونے والی نسلوں پر) اور تمہارے بعد کچھ ایسے گروہ بھی ہوں گے جنہیں ہم کچھ مدت کیلئے (دنیاوی) فائدہ اٹھانے کا موقع دیں گے پھر (انجامِ کار) انہیں ہماری طرف سے دردناک عذاب پہنچے گا۔ (48) (اے رسول) یہ (قصہ) ان غیب کی خبروں میں سے ہے جسے ہم وحی کے ذریعہ سے آپ تک پہنچا رہے ہیں اس سے پہلے نہ آپ کو ان کا (تفصیلی) علم تھا اور نہ آپ کی قوم کو۔ آپ صبر کریں۔ بے شک (اچھا) انجام پرہیزگاروں کے لئے ہے۔ (49) اور ہم نے قومِ عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا۔ انہوں نے کہا اے میری قوم! اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی الٰہ نہیں ہے تم محض افترا پردازی کر رہے ہو۔ (50) اے میری قوم! میں اس (تبلیغ) پر تم سے کوئی مالی معاوضہ نہیں مانگتا۔ میرا معاوضہ تو اس کے ذمے ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے تم کیوں عقل سے کام نہیں لیتے۔ (51) اور اے میری قوم! اپنے پروردگار سے مغفرت طلب کرو۔ اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرو (اس کی طرف رجوع کرو) وہ تم پر آسمان سے موسلادھار بارش برسائے گا۔ اور تمہاری (موجودہ) قوت میں مزید اضافہ کر دے گا۔ اور (میری دعوت سے) جرم کرتے ہوئے منہ نہ موڑو۔ (52) انہوں نے کہا اے ہود(ع) تم ہمارے پاس کوئی کھلی ہوئی دلیل لے کر نہیں آئے۔ اور ہم تمہارے کہنے سے اپنے خداؤں کو چھوڑنے والے نہیں ہیں۔ اور نہ ہی ہم آپ کی بات تسلیم کرنے والے ہیں۔ (53) ہم تو بس یہی کہتے ہیں کہ ہمارے خداؤں میں سے کسی خدا نے آپ کو کچھ (دماغی) نقصان پہنچا دیا ہے۔ انہوں (ہود) نے ان لوگوں کو کہا کہ میں اللہ کو گواہ ٹھہراتا ہوں۔ اور تم بھی گواہ رہو۔ کہ میں ان سے بیزار ہوں جن کو تم نے (حقیقی خدا کو چھوڑ کر) اس کا شریک بنا رکھا ہے۔ (54) تم سب مل کر میرے خلاف اپنی تدبیریں کرلو۔ اور مجھے (ذرا بھی) مہلت نہ دو۔ (55) میرا بھروسہ اللہ پر ہے جو میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی۔ کوئی بھی چلنے پھرنے والا ایسا جاندار نہیں جس کی چوٹی اس کے قبضۂ قدرت میں نہ ہو یقینا میرا پروردگار (عدل و انصاف کی) سیدھی راہ پر ہے۔ (56) اس پر بھی اگر تم روگردانی کرو تو جو (پیغام) دے کر مجھے تمہاری طرف بھیجا گیا تھا وہ میں نے تمہیں پہنچا دیا ہے (اور حجت تمام کر دی ہے) اب اگر تم نے یہ پیغام قبول نہ کیا تو میرا پروردگار تمہاری جگہ کسی اور قوم کو لائے گا۔ اور تم اس کو کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکو گے بے شک میرا پروردگار ہر چیز پر نگہبان و نگران ہے۔ (57) اور جب ہمارا حکم (عذاب) آگیا تو ہم نے اپنی خاص رحمت سے ہود(ع) کو اور ان لوگوں کو جو ان کے ساتھ ایمان لائے تھے نجات دے دی اور انہیں ایک سخت عذاب سے بچا لیا۔ (58) اور یہ ہے قومِ عاد جس نے جان بوجھ کر اپنے پروردگار کی آیتوں (نشانیوں) کا انکار کیا اور اس کے رسولوں کی نافرمانی کی اور ہر سرکش اور دشمن (حق) کی اطاعت کی۔ (59) (اس کی پاداش میں) اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی گئی اور آخرت میں بھی آگاہ ہو جاؤ کہ قومِ عاد نے اپنے پروردگار کا انکار کیا۔ سو ہلاکت و بربادی ہے ہود کی قومِ عاد کے لئے۔ (60) اور ہم نے قومِ ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح(ع) کو بھیجا انہوں نے کہا اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی الٰہ نہیں ہے اسی نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور اسی نے تمہیں اس میں آباد کیا لہٰذا اس سے مغفرت طلب کرو۔ اور اس کی جناب میں توبہ کرو بے شک میرا پروردگار قریب بھی ہے اور مجیب (دعاؤں کا قبول کرنے والا) بھی۔ (61) انہوں نے کہا اے صالح! اس سے پہلے تو تو ہمارے اندر ایک ایسا شخص تھا جس سے (بڑی) امیدیں وابستہ تھیں کیا تم ہمیں اس سے روکتے ہو کہ ہم ان (معبودوں) کی پرستش نہ کریں جن کی ہمارے باپ دادا پرستش کیا کرتے تھے؟ اور ہمیں تو اس بات میں بڑا ہی شک ہے جس کی طرف تم ہمیں دعوت دیتے ہو۔ (62) صالح(ع) نے کہا اے میری قوم! کیا تم نے کبھی اس بات پر غور کیا ہے کہ اگر میں اپنے پروردگار کی طرف سے ایک روشن دلیل پر ہوں اور اس نے مجھے اپنی خاص رحمت بھی عطا فرمائی ہے تو اگر میں اس کی نافرمانی کروں تو اس کے مقابلہ میں کون میری مدد کرے گا؟ تم تو میرے خسارے میں اضافہ کے سوا اور کچھ نہیں کر سکتے۔ (63) اور اے میری قوم! یہ اللہ کی خاص اونٹنی ہے جو تمہارے لئے ایک خاص نشانی (معجزہ) ہے پس اسے آزاد چھوڑ دو۔ تاکہ اللہ کی زمین سے کھائے اور خبردار اسے کسی قسم کی اذیت نہ پہنچانا۔ ورنہ بہت جلد عذاب تمہیں آپکڑے گا۔ (64) پس ان لوگوں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں (اسے مار ڈالا) تب صالح(ع) نے کہا کہ اب تین دن تک اپنے گھروں میں فائدہ اٹھا لو (کھا پی لو) یہ وہ وعدہ ہے جو جھوٹا نہیں ہے۔ (65) پس جب ہمارا حکم (عذاب) آگیا تو ہم نے اپنی رحمت سے صالح اور اس کے ساتھ ایمان لانے والوں کو نجات دے دی اور اس دن کی رسوائی سے بچا لیا بے شک پروردگار بڑا طاقتور، بڑا زبردست ہے۔ (66) اور وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا تھا ان کو ایک زوردار کڑک نے آپکڑا وہ اس طرح اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔ (67) کہ گویا وہ کبھی ان گھروں میں بسے ہی نہ تھے آگاہ ہو جاؤ قومِ ثمود(ع) نے اپنے پروردگار کا انکار کیا آگاہ ہو کہ ہلاکت و بربادی ہے قوم ثمود کے لئے۔ (68) بے شک ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) ابراہیم(ع) کے پاس خوشخبری لے کر آئے اور کہا تم پر سلام انہوں نے (جواب میں) کہا تم پر بھی سلام پھر دیر نہیں لگائی کہ ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔ (69) مگر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس (کھانے) کی طرف نہیں بڑھ رہے تو انہیں اجنبی خیال کیا اور دل ہی دل میں ان سے خوف محسوس کیا۔ انہوں نے کہا آپ ڈریں نہیں۔ ہم تو (اللہ کی طرف سے) قومِ لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ (70) اور ان کی بیوی (سارہ) پاس کھڑی ہوئی تھیں وہ ہنس پڑیں بس ہم نے انہیں اسحاق کی خوشخبری دی اور اسحاق کے بعد یعقوب(ع) کی۔ (71) (اس پر) وہ کہنے لگیں۔ ہائے میری مصیبت! کیا اب میرے ہاں اولاد ہوگی جبکہ میں بوڑھی ہوگئی ہوں۔ اور یہ میرے شوہر بھی بوڑھے ہو چکے ہیں یہ تو بڑی عجیب بات ہے ۔ (72) انہوں (فرشتوں) نے کہا کیا تم اللہ کے کام پر تعجب کرتی ہو؟ اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں تم پر اے (ابراہیم(ع) کے) گھر والو بے شک وہ بڑا ستائش کیا ہوا ہے، بڑی شان والا ہے۔ (73) جب ابراہیم (ع) کا خوف دور ہوگیا اور انہیں خوشخبری مل گئی تو قومِ لوط(ع) کے بارے میں ہم سے جھگڑنے لگے۔ (74) بے شک ابراہیم(ع) بڑے بردبار، بڑے نرم دل اور ہر حال میں ہماری طرف رجوع کرنے والے تھے۔ (75) (ہم نے کہا) اے ابراہیم(ع) اس بات کو چھوڑ دیں تمہارے پروردگار کا حکم (عذاب) آچکا ہے یقینا ان لوگوں پر وہ عذاب آکے رہے گا۔ جو پلٹایا نہیں جا سکتا۔ (76) اور جب ہمارے فرستادے لوط(ع) کے پاس آئے تو وہ ان کی وجہ سے مغموم ہوئے اور تنگدل ہوگئے اور کہا بڑا سخت دن ہے۔ (77) ان کی قوم کے لوگ (نوخیز مہمانوں کی آمد کی خبر سن کر) دوڑتے ہوئے ان کے پاس آئے وہ پہلے سے ہی ایسی بدکاریوں کے عادی ہو رہے تھے لوط(ع) نے کہا اے میری قوم! یہ میری بیٹیاں موجود ہیں یہ تمہارے لئے مناسب اور پاکیزہ ہیں سو اللہ سے ڈرو۔ اور میرے مہمانوں کے معاملہ میں مجھے رسوا نہ کرو۔ کیا تم میں کوئی بھلامانس نہیں ہے۔ (78) ان لوگوں نے کہا تمہیں معلوم ہے کہ ہمیں تمہاری بیٹیوں سے کوئی سروکار نہیں ہے اور تم اچھی طرح جانتے ہو کہ ہم کیا چاہتے ہیں؟ (79) لوط نے کہا کاش مجھے تمہارے مقابلہ کی طاقت ہوتی یا یہ کہ میں کسی مضبوط پایہ کا سہارا لے سکتا۔ (80) تب انہوں (مہمانوں) نے کہا اے لوط(ع) ہم آپ کے پروردگار کے بھیجے ہوئے (فرشتے) ہیں یہ لوگ ہرگز آپ تک نہیں پہنچ سکیں گے تم رات کے کسی حصہ میں اپنے اہل و عیال کو لے کر نکل جاؤ۔ سوائے اپنی بیوی کے اور خبردار تم میں سے کوئی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے۔ کیونکہ اس (بیوی) پر وہی عذاب نازل ہونے والا ہے جو ان لوگوں پر نازل ہونے والا ہے اور ان (کے عذاب) کا مقرر وقت صبح ہے کیا صبح (بالکل) قریب نہیں ہے؟ (81) پھر جب ہمارا حکم (عذاب) آپہنچا۔ تو ہم نے اس سرزمین کو تہہ و بالا کر دیا اور اس پر سنگِ گِل یعنی پکی ہوئی مٹی کے پتھر مسلسل برسائے۔ (82) جن میں سے ہر کنکر تمہارے پروردگار کے ہاں سے نشان زدہ تھا اور یہ (پتھر) ظالموں سے کچھ دور نہیں ہیں۔ (83) اور ہم نے اہلِ مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا انہوں نے کہا اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی الٰہ نہیں ہے اور ناپ تول میں کمی نہ کرو۔ میں تمہیں اچھے حال میں دیکھ رہا ہوں۔ مجھے اندیشہ ہے کہ (کفرانِ نعمت اور غلط کاری سے) عذاب کا ایسا دن نہ آجائے جو سب کو گھیر لے۔ (84) اور اے میری قوم! عدل و انصاف کے ساتھ ناپ تول پورا کیا کرو۔ اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دو۔ اور زمین میں شر و فساد نہ پھیلاتے پھرو۔ (85) اللہ کا بقیہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم ایماندار ہو؟ اور میں تم پر نگران و نگہبان نہیں ہوں۔ (86) ان لوگوں نے کہا اے شعیب(ع)! کیا تمہاری نماز تمہیں حکم دیتی ہے کہ ہم ان (معبودوں) کو چھوڑ دیں جن کی ہمارے باپ دادا پرستش کیا کرتے تھے یا اپنے اپنے اموال میں اپنی مرضی کے مطابق تصرف نہ کریں؟ بس تم ہی عاقل و بردبار اور نیکوکار آدمی ہو؟ (87) آپ(ع) نے کہا میری قوم! مجھے غور کرکے بتاؤ اگر میں اپنے پروردگار کی طرف سے (اپنی صداقت کی) روشن دلیل رکھتا ہوں اور پھر اس نے اپنی بارگاہ سے مجھے اچھی روزی بھی دی ہو (تو پھر کس طرح تبلیغِ حق نہ کروں؟) اور میں یہ بھی نہیں چاہتا کہ جن چیزوں سے تمہیں روکتا ہوں۔ خود ان کے خلاف چلوں۔ میں تو صرف اصلاح (احوال) چاہتا ہوں جہاں تک میرے بس میں ہے۔ اور میری توفیق تو صرف اللہ کی طرف سے ہے اسی پر میرا بھروسہ ہے اور اسی کی طرف (اپنے تمام معاملات میں) رجوع کرتا ہوں۔ (88) اور اے میری قوم! میری مخالفت تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم ایسے کام کرو کہ جن کی پاداش میں تم پر بھی وہی آفت آپڑے جو نوح(ع) یا ہود(ع) یا صالح(ع) کی قوم پر آئی تھی۔ اور قومِ لوط(ع) تو تم سے کچھ دور نہیں ہے۔ (89) اور اپنے پروردگار سے مغفرت طلب کرو اور پھر اس کی جناب میں توبہ کرو (اس کی طرف رجوع کرو) بے شک میرا پروردگار بڑا رحم کرنے والا، بڑا محبت کرنے والا ہے۔ (90) ان لوگوں نے کہا اے شعیب! تم جو کچھ کہتے ہو اس میں سے اکثر باتیں تو ہماری سمجھ میں نہیں آتیں اور ہم تمہیں اپنے درمیان ایک کمزور آدمی دیکھتے ہیں اور اگر تمہارا قبیلہ نہ ہوتا تو ہم تمہیں سنگسار کر دیتے۔ اور تم ہم پر غالب نہیں ہو۔ (91) آپ نے کہا! اے میری قوم! کیا میرا قبیلہ تمہارے نزدیک اللہ سے زیادہ معزز ہے؟ (اللہ سے زیادہ طاقتور ہے) جسے تم نے پسِ پشت ڈال دیا ہے (یاد رکھو) تم جو کچھ کر رہے ہو میرا پروردگار اس کا (علمی) احاطہ کئے ہوئے ہے۔ (92) اور اے میری قوم! تم اپنی جگہ (اور اپنے طریقہ) پر عمل کئے جاؤ میں اپنی جگہ (اور اپنے طریقہ) پر عمل کر رہا ہوں عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ کس پر وہ عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کر دے گا؟ اور کون جھوٹا ہے؟ اور تم انتظار کرو۔ میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔ (93) اور جب ہمارا حکم (عذاب) آیا تو ہم نے اپنی خاص رحمت سے شیعب کو اور ان کو جو آپ کے ساتھ ایمان لائے تھے نجات دے دی اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کو ایک خوفناک کڑک نے آپکڑا۔ پس وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔ (94) گویا وہ ان میں کبھی آباد ہوئے ہی نہ تھے۔ آگاہ ہو۔ ہلاکت و بربادی ہے مدین کیلئے جس طرح ہلاکت تھی قومِ ثمود کے لیے۔ (95) اور یقیناً ہم نے موسیٰ کو واضح نشانیوں (معجزات) اور واضح سند (عصا) کے ساتھ بھیجا۔ (96) فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف مگر انہوں نے فرعون کے حکم کی پیروی کی حالانکہ فرعون کا حکم درست نہ تھا (بلکہ بالکل غلط تھا)۔ (97) قیامت کے دن وہ اپنی قوم کے آگے آگے ہوگا۔ اور اس طرح انہیں آتشِ دوزخ میں پہنچا دے گا کیا ہی اترنے کی بری ہے وہ جگہ جہاں وہ اتارے جائیں گے۔ (98) اس دنیا میں لعنت ان کے پیچھے لگا دی گئی اور قیامت کے دن (دوزخ) کیا ہی برا عطیہ ہے جو انہیں عطا کیا جائے گا۔ (99) اے رسول(ص) یہ ان بستیوں کی چند خبریں ہیں جو ہم آپ کے سامنے بیان کر رہے ہیں۔ ان (بستیوں) میں سے کچھ تو اب تک قائم ہیں اور بعض کی فصل کٹ چکی ہے (بالکل اجڑ گئی ہیں)۔ (100) اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ خود انہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا۔ اور جب آپ کے پروردگار کا حکم (عذاب) آگیا تو انہیں ان کے ان خداؤں نے کچھ بھی فائدہ نہ پہنچایا جنہیں وہ اللہ کو چھوڑ کر پکارا کرتے تھے اور انہوں نے ان کی ہلاکت میں اضافہ کے سوا اور کچھ نہ کیا۔ (101) اور آپ کا پروردگار جب ظالم بستیوں کو پکڑتا ہے (یعنی ان کے باشندوں کو ان کے ظلم و تعدی کی وجہ سے پکڑتا ہے) تو اس کی پکڑ ایسی ہوتی ہے بے شک اس کی پکڑ بڑی دردناک (اور) سخت ہوتی ہے۔ (102) بے شک اس بات میں (عبرت کی) نشانی ہے اس شخص کے لئے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہے وہ ایسا دن ہے جس میں سب لوگ اکھٹے کئے جائیں گے اور وہ (سب کے) پیش ہونے کا دن ہے۔ (103) اور ہم اسے صرف ایک مدت (کے پورا ہونے) تک مؤخر کر رہے ہیں۔ (104) تو اس (خدا) کی اجازت کے بغیر کوئی متنفس بات نہیں کر سکے گا (اس دن) کچھ لوگ بدبخت ہوں گے اور کچھ نیک بخت۔ (105) جب وہ دن آئے گا تو جو بدبخت ہیں وہ آتشِ دوزخ میں ہوں گے ان کیلئے وہاں چیخنا چلانا ہوگا۔ (106) وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے جب تک آسمان و زمین قائم ہیں۔ اِلا یہ کہ آپ کا پروردگار (کچھ اور) چاہے بے شک آپ کا پروردگار (قادرِ مختار ہے) جو چاہتا ہے کر گزرتا ہے۔ (107) اور جو نیک بخت ہیں وہ بہشت میں ہوں گے وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے جب تک آسمان و زمین قائم ہیں۔ اِلا یہ کہ آپ کا پروردگار (کچھ اور) چاہے (یہ وہ) عطیہ ہے جو کبھی منقطع نہ ہوگا۔ (108) (اے رسول(ص)) جن کی یہ (مشرک لوگ) عبادت کرتے ہیں آپ ان کے (باطل پرست ہونے) میں کسی شک میں نہ رہیں یہ اسی طرح (کورکورانہ) عبادت کر رہے ہیں جس طرح ان سے پہلے ان کے باپ دادا کرتے تھے اور ہم ان کو ان (کے نتائجِ اعمال) کا پورا پورا حصہ دیں گے جس میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔ (109) اور بے شک ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا کی تو اس میں اختلاف کیا گیا اور اگر آپ کے پروردگار کی طرف سے ایک بات پہلے سے طئے نہ کر دی گئی ہوتی (کہ سزا دینے میں جلدی نہیں کرنی) تو کبھی کا ان کے درمیان فیصلہ کر دیا جاتا اور وہ اس (عذاب) کے بارے میں تردد انگیز شک میں مبتلا ہیں۔ (110) اور یقیناً آپ کا پروردگار ان سب کو ان کے اعمال کا (بدلہ) پورا پورا دے گا بے شک جو کچھ یہ لوگ کر رہے ہیں خدا اس سے پوری طرح باخبر ہے۔ (111) پس (اے رسول(ص)) جس طرح آپ کو حکم دیا گیا ہے آپ خود اور وہ لوگ بھی جنہوں نے (کفر و عصیان سے) توبہ کر لی ہے اور آپ کے ساتھ ہیں (راہِ راست پر) ثابت قدم رہیں اور حد سے نہ بڑھیں (یقین کرو کہ) تم جو کچھ کرتے ہو وہ (اللہ) اسے دیکھ رہا ہے۔ (112) اور خبردار! ظالموں کی طرف مائل نہ ہونا ورنہ (ان کی طرح) تمہیں بھی آتشِ دوزخ چھوئے گی اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی سرپرست نہ ہوگا اور نہ ہی تمہاری کوئی مدد کی جائے گی۔ (113) (اے نبی) دن کے دونوں کناروں (صبح و شام) اور رات کے کچھ حصوں میں نماز قائم کریں بے شک نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں یہ نصیحت ہے ان لوگوں کیلئے جو نصیحت حاصل کرتے ہیں۔ (114) اور آپ صبر کیجئے! بے شک اللہ نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ (115) ان قوموں اور نسلوں میں جو تم سے پہلے گزر چکی ہیں معدودے چند افراد کے سوا جن کو ہم نے نجات دی تھی ایسے سمجھدار اور نیکوکار لوگ کیوں نہ ہوئے جو لوگوں کو زمین میں فساد پھیلانے سے روکتے اور ظالم لوگ تو اسی عیش و عشرت کے پیچھے پڑے رہے جو ان کو دی گئی تھی اور یہ سب لوگ مجرم تھے۔ (116) اور آپ کا پروردگار ایسا نہیں ہے کہ وہ ظلم کرکے (ناحق) بستیوں کو ہلاک کر دے جبکہ ان کے باشندے نیکوکار اور اصلاح کرنے والے ہوں۔ (117) اگر آپ کا پروردگار (زبردستی) چاہتا تو سب لوگوں کو ایک ہی امت (گروہ) بنا دیتا مگر اپنی حکمتِ کاملہ سے اس نے ایسا نہیں کیا لہٰذا یہ لوگ ہمیشہ آپس میں اختلاف کرتے رہیں گے۔ (118) سوائے اس کے جس پر آپ کا پروردگار رحم فرمائے اور اسی (رحمت) کے لئے تو ان کو پیدا کیا ہے۔ اور آپ کے پروردگار کی بات پوری ہوگئی کہ میں جہنم کو تمام جنوں اور انسانوں سے بھر دوں گا۔ (119) اور (اے رسول) پیغمبروں کے قصوں میں سے یہ سب قصے جو ہم آپ کو سناتے ہیں (یہ اس لئے ہے کہ) ہم آپ کے دل کو مضبوط کر دیں اور پھر ان (قصوں) کے اندر تمہارے پاس حق آگیا۔ اور اہلِ ایمان کیلئے پند و موعظہ اور نصیحت و یاددہانی ہے۔ (120) اور (اے پیغمبر(ص)) جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان سے کہہ دیجیے! تم اپنی جگہ اور اپنے طور پر کام کرو (اور ہم) اپنی جگہ اور اپنے طور پر کام کر رہے ہیں۔ (121) تم بھی (نتیجہ کا) انتظار کرو ہم بھی انتظار کرتے ہیں۔ (122) اور آسمانوں اور زمین کا علمِ غیب اللہ ہی سے مخصوص ہے اور اسی کی طرف تمام معاملات کی بازگشت ہے تو آپ(ص) اسی کی عبادت کریں اور اسی پر بھروسہ کریں اور آپ کا پروردگار اس سے غافل نہیں ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔ (123)

پچھلی سورت: سورہ یونس سورہ ہود اگلی سورت:سورہ یوسف

1.فاتحہ 2.بقرہ 3.آل‌عمران 4.نساء 5.مائدہ 6.انعام 7.اعراف 8.انفال 9.توبہ 10.یونس 11.ہود 12.یوسف 13.رعد 14.ابراہیم 15.حجر 16.نحل 17.اسراء 18.کہف 19.مریم 20.طہ 21.انبیاء 22.حج 23.مؤمنون 24.نور 25.فرقان 26.شعراء 27.نمل 28.قصص 29.عنکبوت 30.روم 31.لقمان 32.سجدہ 33.احزاب 34.سبأ 35.فاطر 36.یس 37.صافات 38.ص 39.زمر 40.غافر 41.فصلت 42.شوری 43.زخرف 44.دخان 45.جاثیہ 46.احقاف 47.محمد 48.فتح 49.حجرات 50.ق 51.ذاریات 52.طور 53.نجم 54.قمر 55.رحمن 56.واقعہ 57.حدید 58.مجادلہ 59.حشر 60.ممتحنہ 61.صف 62.جمعہ 63.منافقون 64.تغابن 65.طلاق 66.تحریم 67.ملک 68.قلم 69.حاقہ 70.معارج 71.نوح 72.جن 73.مزمل 74.مدثر 75.قیامہ 76.انسان 77.مرسلات 78.نبأ 79.نازعات 80.عبس 81.تکویر 82.انفطار 83.مطففین 84.انشقاق 85.بروج 86.طارق 87.اعلی 88.غاشیہ 89.فجر 90.بلد 91.شمس 92.لیل 93.ضحی 94.شرح 95.تین 96.علق 97.قدر 98.بینہ 99.زلزلہ 100.عادیات 101.قارعہ 102.تکاثر 103.عصر 104.ہمزہ 105.فیل 106.قریش 107.ماعون 108.کوثر 109.کافرون 110.نصر 111.مسد 112.اخلاص 113.فلق 114.ناس


حوالہ جات

  1. صفوی، «سورہ ہود» ص۸۳۵.
  2. معرفت، آموزش علوم قرآن، ۱۳۷۱ش، ج۲، ص۱۶۶.
  3. خرمشاہی،‌ «سورہ ہود»، ص۱۲۳۹.
  4. صفوی، «سورہ ہود» ص۸۳۵.
  5. طباطبایی، المیزان،‌ ۱۳۹۰ق، ج۱۰، ص۱۳۴.
  6. طباطبایی، المیزان،‌ ۱۳۹۰ق، ج۱۰، ص۱۳۴.
  7. طباطبایی، المیزان،‌ ۱۳۹۰ق، ج۱۰، ص۱۳۴.
  8. دانشنامه قرآن و قرآن پژوهی، ج2، ص1239۔
  9. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۹، ص۳.
  10. خامہ‌گر، محمد، ساختار سورہ‌ہای قرآن کریم، تہیہ مؤسسہ فرہنگی قرآن و عترت نورالثقلین، قم، نشر نشرا، چ۱، ۱۳۹۲ش.
  11. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۵، ص۲۱۶؛ واحدی، اسباب نزول القرآن، ۱۴۱۱ق، ص۲۷۱.
  12. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۵، ص۳۰۷؛ واحدی، اسباب نزول القرآن، ۱۴۱۱ق، ص۲۷۲.
  13. طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق،‌ ج۱۰، ص۱۶۲.
  14. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۹، ص۲۰۳.
  15. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳‌ق، ج۲۴، ص۲۱۱
  16. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳‌ق، ج۲۴، ص۲۱۲
  17. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۱، ص۲۵۲.
  18. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳‌ق، ج۲۴، ص۲۱۲.
  19. طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج۱۱، ص۵۸؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۹، ص۲۶۵.
  20. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۵، ص۳۰۶؛ طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج۱۱، ص۵۸؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونه، ۱۳۷۱ش، ج۹، ص۲۶۵.
  21. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۵، ص۳۰۶.
  22. مغنیہ، الکاشف، ۱۴۲۴ق، ج۴، ص۲۷۵-۲۷۶.
  23. اردبیلی، زبدہ البیان، تہران، ص۵۸.
  24. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۹، ص۲۶۵.
  25. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۵، ص۲۳۹.
  26. صدوق، ثواب الاعمال، ۱۴۰۶ق، ص۱۰۶.
  27. بحرانی، تفسیرالبرہان، ۱۴۱۵ق، ج۳، ص۷۱.
  1. اس سورت کی آیات کی تعداد کوفی قراء کے مطابق 123 اور مدنی قراء کے مطابق 122 جبکہ بصری قراء کے مطابق 121 ہے تاہم اول الذکر قول صحیح اور مشہور ہے۔ (خرمشاہی،‌ «سورہ ہود»، ص۱۲۳۹)

مآخذ

  • قرآن کریم، ترجمہ محمد حسین نجفی (سرگودھا)۔
  • اردبیلی، احمد بن محمد، زبدۃ البیان فی احکام القرآن، مصحح محمدباقر بہبودی، تہران، مکتبہ المرتضویہ۔
  • بحرانی، سیدہاشم، البرہان فی تفسیر القرآن، قم، بنياد بعثت‏، ۱۴۱۵ق۔
  • خرمشاہی، قوام الدین، «سورہ ہود»، تہران، دوستان-ناہید، ۱۳۷۷ش۔
  • صدوق، محمد بن‌ علی، ثواب الاعمال و عقاب الاعمال، قم، دار الشریف رضی، ۱۴۰۶ق۔
  • صفوی، سلمان، «سورہ حج»، در دانشنامہ معاصر قرآن کریم، قم، انتشارات سلمان آزادہ، ۱۳۹۶ش۔
  • طباطبایی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، موسسہ الاعلمی للمطبوعات، ۱۳۹۰ق۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، تحقیق و مقدمہ محمد جواد بلاغی، انتشارات ناصر خسرو، تہران، ۱۳۷۲ش۔
  • معرفت، محمدہادی، آموزش علوم قرآن، تہران، مرکز چاپ و نشر سازمان تبلیغات اسلامی، ۱۳۷۱ش۔
  • مجلسی، محمدباقر، بحارالانوار، بیروت، دار احیا التراث العربی، ۱۴۰۳‌ق۔
  • مغنیہ، محمدجواد، تفسیر الکاشف، قم، دارالکتاب الاسلامیہ، ۱۴۲۴ق۔
  • مكارم شيرازى، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دار الكتب الإسلاميۃ، ۱۳۷۱ش۔
  • واحدی، علی بن احمد، اسباب نزول القرآن‏، بیروت، دار الکتب العلمیہ، ۱۴۱۱ق۔

بیرونی روابط