ازواج رسول

ویکی شیعہ سے
(ازواج رسول خدا سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ازواج رسول خدا
امهات المؤمنین.png
خدیجہ بنت خویلد (ازدواج: ۲۵ عام الفیل)

سودہ بنت زمعہ (ازدواج: قبل از ہجرت)
عائشہ بنت ابوبکر (ازدواج: ۱ یا ۲ یا ۴ہجری)
حفصہ بنت عمر (ازدواج: ۳ہجری)
زینب بنت خزیمہ (ازدواج: ۳ہجری)
ام سلمہ بنت ابوامیہ (ازدواج: ۴ہجری)
زینب بنت جحش (ازدواج: ۵ہجری)
جویریہ بنت حارث (ازدواج: ۵ یا ۶ہجری)
رملہ بنت ابوسفیان (ازدواج: ۶ یا ۷ہجری)
ماریہ بنت شمعون (ازدواج: ۷ہجری)
صفیہ بنت حیی (ازدواج: ۷ہجری)

میمونہ بنت حارث (ازدواج: ۷ہجری)


ازواج رسول خدا(ص) سے مراد وہ عورتیں یا کنیزیں ہیں جن سے پیغمبر(ص) نے ازدواج کیا تھا۔ مورخین کے درمیان ازواج پیغمبر(ص) کی تعداد میں اختلاف نظر پایا جاتا ہے۔ ان میں سے بعض جیسے ابن ہشام زوجات پیغمبر(ص) کی تعداد کو 13[1]، جبکہ مسعودی [2] اور ذہبی[3] نے انکی تعداد کو 15 اور حاکم [4] اور ابن سعد وغیرہ [5] نے ان کی تعداد کو اسے سے بھی زیادہ ذکر کیا ہے۔

ازواج پیغمبر کی تعداد

پیغمبر اکرم (ص) کے ازواج کی تعداد کے بارے میں مورخین کے درمیان موجود اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ بعض مورخین نے آپ کی بعض کنیزوں کو بهی زوجات میں شمار کی ہیں جیسے ماریہ قبطیہ۔

سورہ احزاب کی آیت نمبر 52 کے نزول اور مزید زوجات کے انتخاب کی حرمت سے پہلے تک آپ کی زوجات کی تعداد 11 تهیں: جن میں حضرت خدیجہ، سودہ، عائشہ، زینب بنت خزیمہ، حفصہ، ام سلمہ،‌ زینب بنت جحش، جویریہ، ام حبیبہ(رملہ)، صفیہ اور میمونہ شامل ہیں۔ پیغمبر اکرم (ص) کی رحلت کے وقت آپ کی زوجات میں سے ۹ نفر بقید حیات تھیں جبکہ حضرت‌ خدیجہ اور زینب بنت خزیمہ آپ کی زندگی میں ہی اس دنیا سے رحلت کر گئی تھیں ۔ [6] جب تک حضرت خدیجہ زندہ تهیں (آپ ہجرت سے تین سال قبل رحلت فرما گئی تھیں) [7] یعنی تقریبا 50 سال کی عمر تک آپ نے کسی اور عورت سے شادی نہیں کی۔ عایشہ کے علاوہ باقی تمام عورتیں جن سے پیغمبر اکرم(ص) نے شادی کی سب کے سب بیوہ تھیں۔[8]

امہات المؤمنین

اُم‌ُّ الْمُؤْمِنین‌ (مؤمنین کی ماں) ایک ایسا لقب ہے جو اسلامی معاشرے میں پیغمبر اکرم(ص) کی زوجات کیلئے بطور عام استعمال کیا جاتا ہے۔

یہ لقب‌ سورہ احزاب کی آیت نمبر 6 سے استخراج کیا گیا ہے جس میں مؤمنین پر پیغمبر اکرم کے حقوق کے ضمن میں یوں بیان فرماتا ہے:

وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ
پیغمبر(ص) کی زوجات ان (مؤمنین‌) کی مائیں ہیں۔

اس آیت کے نزول‌ کے بعد مسلمانوں پر واجب ہے کہ اپنی روزمرہ زندگی میں پیغمبر اکرم(ص) کی زوجات کا احترام کریں اور ان کی حرمت کا خیال رکھیں۔ پیمغبر اکرم(ص) کی ازواج کے حوالے سے تشریح ہونے والے احکام میں سے ایک ان کے ساتھ شادی بیاہ کا حرام ہونا ہے یعنی کوئی بھی مسلمان پیغمبر کی رحلت کے بعد ان کی کسی زوجات سے شادی نہیں کر سکتا ہے۔

فرزندان

رسول خدا(ص) کی زوجات میں سے صرف حضرت خدیجہ اور ماریہ صاحب اولاد تھیں۔ حضرت خدیجہ سے چار بیٹیاں زینب، امّ‌ کلثوم،‌ رقیہ اور حضرت فاطمہ فاطمہ(س)اور دو بیٹے قاسم اور عبداللہ جبکہ ماریہ سے ابراہیم متولد ہوئے۔

ابراہیم کی پیدائش کے وقت آپ کی تمام بیٹیاں سوائے حضرت فاطمہ کے اس دنیا سے رخصت ہو گئی تھیں اور ابراہیم بھی بچپنے میں ہی رحلت کر گئے۔

متعدد شادیوں کی وجوہات

بعض مورخین کا خیال ہے کہ پیغمبر اکرم(ص) نے اپنی جنسی غریزے کی تسکین کیلئے متعدد شادیاں کی۔ یہ لوگ اسطرح کی باطل خیالات کے ذریعے آپ(ص) کی شخصیت کشی کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ لیکن مسلمان دانشوروں اور متکلمین نے اس طرح کے شبہات کو مختلف دلائل کے ذریعے جواب دیئے ہیں جو درج ذیل ہیں:

  1. آپ چاہتے تھے کہ عرب کے مشہور اور بزرگ قبائل سے ازدواجی رشتوں ناتوں کے ذریعے سیاسی اور سماجی حمایت حاصل کرنا چاہتے تھے عایشہ سے آپ کی شادی اسی نوعیت کی تھی۔
  2. زمانہ جاہلیت کے غلط افکار کو باطل اور بیہودہ قرار دے کر حکم الہی کا اجراء، جیسے زینب بنت جحش سے شادی کرنا۔
  3. مصیبت زدہ خواتین کی حوصلہ افزائی، جیسے بیوہ اور قیدی خواتین (عایشہ کے علاوہ آپ کی تمام بیویاں بیوہ تهیں)۔
  4. اسلام کی راہ میں سختیاں جھیلنے والی خواتین کی دل جوئی، جیسے ام حبیبہ سے ازدواج۔
  5. بیوہ، فقیر، یتیم اور بے سرپرست خواتین کی محافظت اور انکے احتیاجات زندگی کو پورا کرنا، جیسے ام سلمہ اور زینب بنت خزیمہ سے شادی۔
  6. اسلام کی عظمت، شان و شوکت اور اقتدرار کو دوسروں تک پہنچانے کی خاطر، جیسے صفیہ سے شادی۔
  7. کنیزوں اور قیدی خواتین کو آزاد اور رہا کرنے کی خاطر، جیسے جویریہ سے شادی۔[9]

درج بالا دلائل کے علاوہ آپ کی ازدواج میں یہ بھی ملحوظ خاطر رکھنے کی ضرورت ہے کہ:

اولا: آپ کے زمانے میں عرب معاشرے میں درجنوں بیویاں رکھنے کا رواج ہونے کے باوجود آپ(ص) پچاس سال تک صرف حضرت خدیجہ کے ساتھ زندگی گزارتے تھے اور آپ نے دوسری بیویوں سے شادی حضرت خدیجہ کی وفات کے بعد کی ہیں۔

ثانیا: یہ شادیاں آپ(ص) کی مدینہ ہجرت کرنے کے بعد کی ہیں جہاں پر اکثر اوقات آپ کی زندگی یا اسلام کی دعوت دینے اور اسلامی حکومت کی تشکیل میں گزری ہے یا تو اسلام کے خلاف کفار اور مشرکین کی طرف سے مسلط کی گئی جنگوں میں گزری ہیں کیا ایسی شخصیت کیلئے عورتوں کے ساتھ خوشگزرانی کیلئے کوئی فرصت بھی ملی ہوگی۔

ثالثا: عایشہ کے علاوہ آپ(ص) کی دوسری تمام ازواج بیوہ تھیں اگر جنسی غریزے کیلئے ہوتا تو باکرہ اور جوان عورتوں سے شادی کرتا۔

حوالہ جات

  1. ابن‌ ہشام،‌ السیرۃ النبویۃ، ج ۴،‌ ص۲۹۳.
  2. مسعودی، مروج الذہب و معادن الجوہر، ج ۳، ص۲۳
  3. الذہبی، تاریخ الاسلام‌ و وفیات‌ المشاہیر و الاعلام، ج ۲، ص۵۹۲۵۹۹.
  4. حاکم نیشابوری، المستدرک علی الصحیحین، ج ۴، ص۳۴.
  5. ابن سعد، الطبقات الکبری، ج ۸، ص۵۲.
  6. مجلہ معرفت، کنکاشی دربارہ علل تعدد ہمسران پیامبر، شمارہ۱۰۸، ص۸۴
  7. مسعودی، مروج الذہب، ج۲، ص۲۸۲؛ ابن سیدالناس، عیون الاثر، ج۱، ص۱۵۱؛ ابن عبدالبر، الاستیعاب، ج۴، ص۱۸۱۷؛ طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج۱۱، ص۴۹۳؛ ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۸، ص۱۴.
  8. تاریخ طبری، ج۳، ص۱۶۴؛ ابن ہشام، السيرۃ النبويۃ(دارالمعرفۃ)، ج‏۲، ص۶۴۴
  9. المیزان، ج ۴، ص۱۹۵؛ علامہ طباطبایی، بررسی‌ہای اسلامی، ص۱۳۲ - ۱۳۹؛ مؤسسہ در راہ حق، نگرشی کوتاہ بہ زندگی پیامبر اسلام، ص۲۹؛ رسولی محلاتی، تاریخ انبیاء، ج ۳، ص۴۷۵.


مآخذ

  • ابن سعد، الطبقات الکبری، بیروت،‌دار صادر، ۱۳۷۷ ق.
  • ابن‌ ہشام،‌ السیرۃ النبویۃ، بیروت، داراحیاء التراث العربی بی‌تا و دار المعرفۃ، بی‌تا.
  • حاکم نیشابوری، المستدرک علی الصحیحین، بیروت، دارالکتب العلمیہ، ۱۴۱۱ ق.
  • ذہبی، تاریخ الاسلام‌ و وفیات‌ المشاہیر و الاعلام، چ سوم، بیروت، دارالکتاب العربی،‌ ۱۴۱۵‌ ق.
  • طبری، تاريخ الأمم و الملوك‏، دوم، بیروت، دار التراث‏، ۱۳۸۷ق.
  • عابدینی، احمد، شیوہ ہمسرداری پیغمبر(ص) بہ گزارش قرآن و سنّت،‌ دوم، تہران، ہستی نما، ۱۳۸۳،
  • کاظم نژاد،مہری و ابوالقاسم زادہ،مجید، کنکاشی دربارہ علل تعدد ہمسران پیغمبر، مجلہ معرفت، آذر ۱۳۸۵ - شمارہ ۱۰۸ (از صفحہ ۸۳ تا ۹۴)
  • مسعودی، مروج الذہب و معادن الجوہر، انتشارات الشریف الرضی، ۱۳۸۰