حدیث جابر

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

حدیث جابر، وہ حدیث نبوی ہے کہ جسے شیعہ امامت کے اثبات اور اماموں کی شناخت کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ اس حدیث کے راوی جابر بن عبداللہ انصاری ہیں۔ حضور(ص) نے اس حدیث میں شیعوں کے بارہ اماموں کے نام اور اسی طرح پانچویں امام کے لقب کو بیان فرمایا ہے۔

حدیث کا متن

آیت اطاعت[1] کے نازل ہونے کے بعد جابر بن عبداللہ انصاری نے حضور(ص) سے پوچھا: "یا رسول اللہ، ہم نے خدا اور اس کے رسول کو پہچان لیا ہے، کیا ضروری ہے کہ اولی الامر کی شناخت بھی حاصل کریں." حضور(ص) نے اس کے جواب میں فرمایا: "وہ میرے جانشین اور میرے بعد مسلمانوں کے امام ہیں کہ ان میں سے پہلے علی بن ابی طالب(ع) ہیں اور ان کے بعد ترتیب سے حسن، حسین، علی بن حسین، محمد بن علی جو کہ تورات میں باقر سے مشہور ہے اور تم بڑھاپے میں ان کو دیکھو گے اور جس وقت بھی انہیں دیکھنا، میرا سلام پہنچانا۔ محمد بن علی کے بعد ترتیب سے جعفر بن محمد، موسی بن جعفر، علی بن موسی، محمد بن علی، علی بن محمد، حسن بن علی اور ان کے بعد ان کا فرزند میرا ہم نام اور ہم کنیت ہے۔ وہ ہے جو لوگوں کی نظروں سے غائب ہو گا اور اس کی غیبت بہت طولانی ہو گی یہاں تک کہ فقط جن افراد کا ایمان سچا ہو گا وہی اپنے عقیدے پر باقی رہیں گے۔ [2]

راوی اور محتوا

اس حدیث کو جابر بن عبداللہ انصاری نے رسول خدا(ص) سے نقل کیا ہے، اسی لئے حدیث جابر سے پہچانی جاتی ہے. حدیث جابر میں شیعہ کے بارہ اماموں کی امامت اور ان کے ناموں کو بیان کیا گیا ہے. حضور(ص) نے نام لیتے وقت شیعوں کے پانچویں امام کے لئے، اس کے لقب (باقر) کی طرف اشارہ کیا ہے اور جابر سے کہا ہے کہ جب امام باقر(ع) سے ملاقات کرو، تو میرا سلام اسے پہنچانا. اسی طرح اس حدیث میں شیعوں کے بارہویں امام کی غیبت اور اس کے طولانی ہونے کی طرف اشارہ کیا ہے اور غائب امام کو بادل کے پیچھے غائب سورج سے تشبیہ دی ہے. [3]

حدیث کے منابع

یہ حدیث شیعہ کے بعض منابع جیسے کفایۃ الاثر،[4] کمال الدین[5] اور بحار الانوار [6] اور اسی طرح اہل سنت کے بعض منابع جیسے ینابیع المودہ [7] میں ذکر ہوئی ہے اور بعض شیعہ مفسرین نے اسے آیت اطاعت کے ذیل میں بیان کیا ہے. [8]

متعلقہ مضامین

حدیث لوح

حوالہ جات

  1. يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ أَطِيعُواْ اللّهَ وَأَطِيعُواْ الرَّسُولَ وَأُوْلِي الأَمْرِ مِنكُمْ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللّهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلاً ﴿۵۹ نساء﴾؛ اے ایمان والو، اللہ کی فرمانبرداری کرو اور رسول کی فرمانبرداری کرو اور ان لوگوں کی جو تم میں سے حاکم ہوں، پھر اگر آپس میں کسی چیز میں جھگڑا کرو تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف لاؤ اگر تم اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہو، یہی بات اچھی ہے اور انجام کے لحاظ سے بہت بہتر ہے.
  2. طبرسی، اعلام الوری، ۱۴۱۷ق، ج۲، ص۱۸۲؛ قندوزی، ینابیع الموده، ۱۴۲۲ق، ج۳، ص۳۹۸-۳۹۹.
  3. طبرسی، اعلام الوری، ۱۴۱۷ق، ج۲، ص۱۸۱-۱۸۲.
  4. خزاز رازی، کفایۃ الاثر، ۱۴۰۱ق، ص۵۴-۵۵.
  5. صدوق، کمال الدین، ۱۳۹۵ق، ج۱‌، ص۲۵۴-۲۵۳.
  6. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۳۶، ص۲۵۱.
  7. قندوزی، ینابیع الموده، ۱۴۲۲ق، ج۳، ص۳۹۸-۳۹۹.
  8. بحرانی، البرہان، ۱۴۱۶ق، ج۲، ص۱۰۳-۱۰۴؛ فیض کاشانی، الاصفی، ۱۴۱۸ق، ج۱، ص۲۱۷؛ طیب، اطیب البیان، ۱۳۷۸ش، ج۴، ص۱۱۶؛ شریف لاہیجی، تفسیر لاہیجی، ۱۳۷۳ش، ج۱، ص۴۹۶؛ قمی مشہدی، کنزالدقائق، ۱۴۱۵ق، ج۳، ص۴۳۸؛ عروسی حویزی، نورالثقلین، ۱۴۲۲ق، ج۱، ص۴۹۹.


کتابیات

  • بحرانی، سیدہاشم، البرہان فی تفسیرالقرآن، تحقیق: قسم الدراسات الاسلامیہ مؤسسۃ البعثہ، بنیاد بعثت، تہران، ۱۴۱۶ق.
  • خزاز رازی، علی بن محمد، کفایۃ الاثر فی النص علی الائمۃ الاثنی عشر، تصحیح: عبداللطیف حسینی کوہکمری، قم، بیدار، ۱۴۰۱ق.
  • شریف لاہیجی، محمد بن علی، تفسیر شریف لاہیجی، تحقیق: محدث ارموی، تہران، دفتر نشر داد، ۱۳۷۳ش.
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، کمال الدین و تمام النعمہ، تصحیح: علی اکبر غفاری، تہران، اسلامیہ، ۱۳۹۵ق.
  • طبرسی، فضل بن حسن، اعلام الوری باعلام الہدی، قم، آل البیت، ۱۴۱۷ق.
  • طیب، سید عبدالحسین، اطیب البیان فی تفسیر القرآن، تہران، انتشارات اسلام، ۱۳۷۸ش.
  • عروسی حویزی، عبدعلی بن جمعہ، تحقیق: سید ہاشم رسولی محلاتی، تفسیر نورالثقلین، قم، انتشارات اسماعیلیان، ۱۴۱۵ق.
  • فیض کاشانی، محسن، الاصفی فی تفسیرالقرآن، تحقیق: محمدحسین درایتی و محمدرضا نعمتی، قم، مرکز انتشارات دفتر تبلیغات اسلامی، ۱۴۱۸ق.
  • قمی مشہدی، کنزالدقائق و بحر الغرائب، تحقیق: حسین درگاهی، تہران، سازمان چاپ و انتشارات وزارت ارشاد اسلامی، ۱۳۶۸ش.
  • قندوزی، سلیمان بن ابراہیم، ینابیع الموده لذو القربی، قم، اسوه، ۱۴۲۲ق.
  • مجلسی، محمدباقر، بحارالانوار، بیروت، داراحیاءالتراث العربی، ۱۴۰۳ق.