سامری

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

سامری وہ شخص ہے جس نے حضرت موسیؑ کی غیر موجودگی میں بچھڑے کو بنایا اور بنی اسرائیل کو اس کی پرستش کرنے کی ترغیب دی۔ قرآن کی تین آیتوں میں اس کا نام ذکر ہوا ہے اور تینوں موارد میں بچھڑا بنانے کے بارے میں ذکر ہوا ہے۔ سامری بنی‌اسرائیل میں سے تھا اور اس کے حسب و نسب اور نام کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔

شخصیت‌‌ شناسی

سامری ان لوگوں میں سے ہے جو بنی‌اسرائیل کے ساتھ مصر سے خارج ہوئے، ظاہری طور پر ان لوگوں میں سے تھا جو حضرت موسیؑ پر ایمان لائے تھے اور بنی اسرائیل کے سرکردوں میں شمار ہوتا تھا۔ [1] بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ سامری ایک سخی شخص تھا۔ [2] اس کے حسب و نسب اور نام کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ [3] بعض نے اس کا نام موسی بن ظفر لکھا ہے [4] جو حضرت یعقوب کے بیٹے یشاکر کی نسل سے تھا۔ [5]

سامری ان افراد میں سے ایک ہے جس کا نام قرآن مجید میں تین مرتبہ ذکر ہوا ہے۔ [6] اور تینوں مرتبہ بچھڑا بنانے اور بنی اسرائیل کا اس کی پرستش کرنے کے بارے میں ذکر ہوا ہے۔

بچھڑے کی ‌پرستش

وہ قالیچہ جس پر بنی اسرائیل کے واقعات کی عکاسی ہوئی ہے جس میں بچھڑے کی پوجا کرنے کے واقعے کی طرف بھی اشارہ ہوا ہے۔

حضرت موسیؑ وعدہ الہی کے تحت 30 دنوں کے لیے وعدے کی جگہ چلے گئے اور یہ مدت مزید دس دنوں کے لیے تمدید ہوئی: «موسی کے ساتھ 30 راتوں کا وعدہ کیا اور اس پر مزید دس راتیں اور اضافہ کیا یہاں تک کہ ان کے پروردگار کا وعدہ چالیس راتیں پوری ہوئیں۔ »[7] موسی کی واپسی میں تاخیر ہوئی اور دس راتوں کا اضافہ ہونے کے بارے میں بنی اسرائیل کو خبر نہیں تھی اس وجہ سے ان پر یہ وقت سخت گزرا۔ سامری نے قوم کے سونے جواہرات سے ایک بیچھڑا بنایا[8] اور قوم کو اس کی پوجا کرنے کی دعوت بھی کی۔[9]

سامری اور مختلف روایات

جب حضرت موسی کو سامری کے بیچھڑے اور یہودیوں کا اس کی پرستش کے بارے میں معلوم ہوا تو اس کی وجہ دریافت کیا اور سامری نے یوں جواب دیا: «بَصُرْتُ بِما لَمْ یبْصُرُوا بِہِ فَقَبَضْتُ قَبْضَةً مِنْ أَثَرِ الرَّسُولِ فَنَبَذْتُہا وَ كَذلِكَ سَوَّلَتْ لی نَفْسی
میں نے ایسی چیز دیکھا ہے چو ان لوگوں نے نہیں دیکھا ہے میں نے رسول کے آثار میں سے بعض کو حاصل کیا ہے۔ پھر انہیں دور کیا ہے، اور یوں میری نفس نے اس کام کو میری نظروں میں جلوہ دیا۔ »[10] اس آیت میں موجود ابہامات کے باوجود؛ مختلف اقوال اور نقل ذکر ہوئے ہیں اور بہت سارے بحث کو اپنے اندر لیا ہوا ہے بعض نے سامری کا جبرئیل کے پاوں تلے سے مٹی لینے کا کہا ہے۔ [11] بعض محققین اور مفسروں نے ان روایات میں خدشے کا اظہار کیا ہے۔ [12]

سزا

امام صادقؑ کی ایک حدیث کے مطابق حضرت موسی سامری کو اس کے کئے کی سزا کے طور پر قتل کرنا چاہا لیکن سامری کی سخاوت کی وجہ سے اللہ تعالی نے اسے قتل کرنے سے روکا۔ [13]

سامری کی عاقبت کے بارے میں قرآن مجید نے صرف موسیؑ کی بات نقل کرنے پر اکتفا کیا ہے: «فَاذْهَبْ فَإِنَّ لَكَ فِی الْحَیاةِ أَنْ تَقُولَ لامِساسَ وَ إِنَّ لَكَ مَوْعِداً لَنْ تُخْلَفَہُ
چلے جاؤ، دنیوی زندگی میں یہی کہتے رہو گے: میرے نزدیک مت ہوجاؤ۔ اور تیرے لیے ایسا وعدہ سے جس سے کبھی نجات نہیں ملے گی۔ »[14] اس آیت کا پہلا حصہ سامری کے لیے دنیوی عذاب اور دوسرا حصہ اخروی عذاب کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

سامری پر کیسے عذاب ہوا اس بارے میں بھی اقوال مختلف ہیں:

  • معاشرے سے دوری

سامری کے لیے دنیوی عذاب معاشرے سے کٹ جانا تھا۔ حضرت موسیؑ نے سامری کو بنی‌اسرائیل سے نکال دیا؛ اور کسی کو بھی یہ حق نہیں تھا کہ اس سے رابطہ رکھے اور اس کو بھی کسی فرد سے رابطہ رکھنے کا حق نہیں تھا اور اس کے ساتھ ہر قسم کے معاملات اور روابط ممنوع تھے۔ [15]

  • بیماری

بعض مفسروں کا کہنا ہے کہ سامری کا جرم ثابت ہونے کے بعد موسیؑ نے بدعا کی اور اللہ تعالی نے اسے ایسی بیماری میں مبتلا کیا کہ جبتک وہ زندہ رہا کوئی اس کے قریب نہیں جاسکتا تھا۔[16]

حوالہ جات

  1. طبری، جامع البیان فی تفسیر القرآن، ۱۴۱۲، ج۱۶، ص۱۵۲
  2. طبرسی، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، ۱۳۷۲ش، ج۷، ص۴۷
  3. مجلسی، بحار الأنوار، ۱۴۰۳ق، ج۱۳، ص۲۴۴
  4. ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، ۱۴۱۹ق، ج۵، ص۲۷۵
  5. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۴ش، ج۱۳، ص۲۹۲
  6. سورہ طہ، آیات ۸۵، ۸۷، ۹۵
  7. سورہ اعراف، آیہ ۱۴۲.
  8. قرشی، قاموس قرآن، ۱۳۷۱ش، ج۶، ص۳۱۵.
  9. مغنیہ، التفسیر المنیر، بنیاد بعثت، ج۱۶، ص۲۶۰.
  10. سورہ طہ، آیہ ۹۶
  11. سیوطی، الدر المنثور فی تفسیر المأثور، ۱۴۰۴ق، ج۴، ص۳۰۵
  12. طباطبائی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۱۴، ص۲۰۱؛ فضل اللہ، تفسیر من وحی القرآن، ۱۴۱۹ق، ج۱۵، ص۱۵۰
  13. طبرسی، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، ۱۳۷۲ش، ج۷، ص۴۷
  14. سورہ طہ، آیہ ۹۷
  15. فضل اللہ، تفسیر من وحی القرآن، ۱۴۱۹ق، ج۱۵، ص۱۵۲
  16. منقول از: مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۴ش، ج۱۳، ص۲۸۷


مآخذ

  • ابن کثیر دمشقی، اسماعیل بن عمرو، تفسیر القرآن العظیم، تحقیق: شمس الدین، محمد حسین، بیروت،‌دار الکتب العلمیۃ، منشورات محمدعلی بیضون، چاپ اول، ۱۴۱۹ق.
  • سیوطی، جلال‌الدین، الدر المنثور فی تفسیر المأثور، قم، کتابخانہ آیۃ اللہ مرعشی نجفی، ۱۴۰۴ق.
  • طباطبائی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، قم، دفتر انتشارات اسلامی، چاپ پنجم، ۱۴۱۷ق.
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، مقدمہ: بلاغی، محمد جواد، تہران، ناصر خسرو، چاپ سوم، ۱۳۷۲ش.
  • طبری، ابو جعفر محمد بن جریر، جامع البیان فی تفسیر القرآن، بیروت،‌دار المعرفۃ، چاپ اول، ۱۴۱۲ق.
  • فضل اللہ، سید محمدحسین، تفسیر من وحی القرآن، بیروت،‌دار الملاک للطباعۃ و النشر، چاپ دوم، ۱۴۱۹ق.
  • قرشی، سید علی اکبر، قاموس قرآن، تہران،‌دار الکتب الإسلامیۃ، چاپ ششم، ۱۳۷۱ش.
  • مجلسی، محمدباقر، بحار الانوار، بیروت،‌دار إحیاء التراث العربی، چاپ دوم، ۱۴۰۳ق.
  • مغنیہ، محمدجواد، التفسیر المبین فی العقیدۃ و الشریعۃ و المنہج، قم، بنیاد بعثت، بی‌تا.
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران،‌دار الکتب الإسلامیۃ، چاپ اول، ۱۳۷۴ش.