غزوہ حمراء الاسد

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
غزوہ حمراء الاسد
سلسلۂ محارب:
رسول خدا(ص) کے غزوات
حمراء الاسد1.gif
تاریخ
مقام منطقۂ حمراءالاسد
محل وقوع مدینہ سے آٹھ یا دس میل (تقریبا 20 کلومیٹر) جنوب کی طرف
نتیجہ مسلمانان جنگ کے بغیر اور بلند حوصلوں کے ساتھ مدینہ چلے آئے اور مشرکین مرعوب ہوکر مکہ چلے گئے۔
سبب یہ غزوہ اللہ کے حکم سے انجام پایا اور اس مہم سے رسول اللہ(ص) کا ہدف یہ تھا کہ مشرکین کو مدینہ پر دوبارہ کسی حملے سے خوفزدہ کیا جائے اور دشمن کے سامنے مسلمانوں کی طاقت کا مظاہرہ کیا جائے۔
ملک حجاز
فریقین
سپاہ اسلام سپاہ مشرکین قریش
قائدین
حضرت محمد(ص) ابو سفیان
قریش کو رسول اللہ(ص) کی عزیمت کی اطلاع ملی تو انھوں نے مسلمانوں کے خوف سے فرار کو کرار پر ترجیح دی اور مسلمین نے 3 دن تک حمراء الاسد میں قیام کیا اور مدینہ واپس آئے۔ آل عمران کی چار آیتیں (172 تا 175) حمراء الاسد کی شان میں نازل ہوئی ہیں۔


پیغمبر اکرمؐ کی مدنی زندگی
ہجرت نبوی 622ء بمطابق 1ھ
معراج 622ء بمطابق 1ھ
غزوہ بدر 624ء بمطابق 17 رمضان سنہ 2ھ
بنی‌قینقاع کی شکست 624ء بمطابق 15 شوال سنہ 2ھ
غزوہ احد 625ء بمطابق شوال سنہ 3ھ
بنو نضیر کی شکست 625ء بمطابق سنہ 4ھ
غزوہ احزاب 627ء بمطابق سنہ 5ھ
بنو قریظہ کی شکست 627ء بمطابق سنہ 5ھ
غزوہ بنی مصطلق 627ء بمطابق سنہ 5 یا 6ھ
صلح حدیبیہ 628ء بمطابق سنہ 6ھ
غزوہ خیبر 628ء بمطابق سنہ7ھ
پہلا سفرِ حجّ 629ء بمطابق 7ھ
جنگ مؤتہ 629ء بمطابق 8ھ
فتح مکہ 630ء بمطابق 8ھ
غزوہ حنین 630ء بمطابق 8ھ
غزوہ طائف 630ء بمطابق 8ھ
جزیرة العرب پر تسلط 631ء بمطابق 9ھ
غزوہ تبوک 632ء بمطابق 9ھ
حجۃ الوداع 632ء بمطابق 10ھ
واقعۂ غدیر خم 632ء بمطابق 10ھ
وفات 632ء بمطابق 11ھ

غزوہ حَمراءُ الاَسَد [عربی میں: غزوة حمراء الأسد] رسول خدا(ص) کے غزوات میں سے ایک ہے جو سنہ 3 ہجری میں اور غزوہ احد کے صرف ایک دن بعد انجام پایا۔ اس جنگ سے رسول اللہ(ص) کا ہدف و مقصود مشرکین کو دوبارہ مدینہ پر حملہ کرنے سے باز رکھنا تھا۔

مسعودی نے حمراء الاسد کو اس لئے غزوات کے زمرے میں نہیں گردانا ہے کہ اس میں کوئی جنگ واقع نہیں ہوئی!

وقت اور مقام غزوہ

غزوہ حمراء الاسد یک شنبہ (= اتوار) 8 شوال سنہ 3 ہجری کو غزوہ احد کے صرف ایک دن بعد، مدینہ سے 8 یا 10 میل (تقریبا 20 کلومیٹر) جنوب کی طرف، بمقام حمراء الاسد انجام پایا۔[1]۔[2]

غزوات کے ابتدائی اقدامات

غزوہ احد کے ایک دن بعد، پیغمبر خدا(ص) نے نماز صبح کے بعد ـ جبکہ جنگ کے زخمی اپنے زخموں کے مداوا میں مصروف تھے ـ بلال حبشی سے فرمایا کہ ندا دیں کہ:

أن رَسُول اللَّهِ يأمركم بطلب عدوكم ولا يخرج معنا إلا مِن شهد القتال بالأمس۔
(رسول اللہ(ص) تمہیں حکم دیتے ہیں کہ دشمن کا تعاقب کرو اور ہمارے ساتھ کوئی بھی (مدینہ) سے باہر نہ نکلے سوائے ان کے جو کل ہمارے ساتھ جنگ میں شریک تھے۔[3]۔[4]

ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ(ص) نے صرف ان افراد کو اپنے ساتھ عزیمت کرنے کی اجازت دی جو غزوہ احد میں زخمی ہوئے تھے۔[5]

اول الذکر روایت کے مطابق غزوہ احد میں شرکت کرنے والے 700 مسلمانوں میں سے 70 جام شہادت نوش کرچکے تھے[6]۔[7] اور باقی ماندہ تمام مجاہدین غزوہ حمراء الاسد میں شریک تھے۔[8]

لیکن مؤخر الذکر روایت کے مطابق، اس غزوے میں [[رسول خدا(ص) کے ساتھیوں کی تعداد 60[9] یا 70 تھی،[10] یعنی تقریبا اتنے ہی افراد جو غزوہ احد میں زخمی ہوئے تھے۔[11] سورہ آل عمران کی آیت 172 میں ارشاد ہوا:

الَّذِينَ اسْتَجَابُواْ لِلّهِ وَالرَّسُولِ مِن بَعْدِ مَآ أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ لِلَّذِينَ أَحْسَنُواْ مِنْهُمْ وَاتَّقَواْ أَجْرٌ عَظِيمٌ۔
ترجمہ: [صاحبان ایمان ہیں وہ] جنہوں نے زخم کھانے کے بعد بھی اللہ اور رسول کی آواز پر لبیک کہی، ان میں سے جو نیک عمل بجا لانے والے اور پرہیزگار ہیں، ان کے لیے اجر عظیم ہے۔

رسول اللہ(ص) نے فرمایا:

ألا عصابة تشد لامر الله، تطلب عدوها؟ فانها أنكأ للعدو، وأبعد للسمع۔
ترجمہ: بےشک ایک گروہ الہ کے فرمان کی تعمیل پر استوار ہے اور اپنے دشمن کے تعاقب میں جاتا ہے، پس یہ عمل دشمن کے لئے نقصان دہ ہے اور اس کی شہرت زیادہ اور دو رس ہے۔

اور مذکورہ بالا آیت کریمہ اور حدیث شریف سے مؤخر الذکر قول کی تائید ہوتی ہے۔[12]۔[13]

شمس شامی نے ان دو اقوال کو جمع کرنے کی کوشش کی ہے۔[14] روایت ضعیفی نیز می‌گوید که پیامبر(ص) از میان حاضرانِ در احد و کسانی که در آنجا حضور نیافتند، لشکری به این غزوه برد.[15]

بہرحال احد کے زخمیوں نے رسول خدا(ص) کی اطاعت کرتے ہوئے ہتھیار اٹھائے۔ ان میں سے 40 افراد کا تعلق بنی سلمہ سے تعلق رکھتے تھے جو دوسروں سے کچھ زیاد زخم اٹھا چکے تھے اور آنحضرت(ص) سے آ ملے۔ عبداللہ بن سہل اور ان کے بھائی رافع ـ جن کے پاس کوئی سواری نہ تھی ـ گرتے پڑتے آپ(ص) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ جابر بن عبداللہ ـ جنگ احد میں شرکت نہ کرنے کے باوجود، رسول خدا(ص) کی اجازت سے لشکر میں شامل ہوئے۔[16]

رسول خدا(ص) نے جنگ احد والا پرچم علی(ع) (اور بقولے ابوبکر) کے سپرد کیا اور خود بھی بےشمار زخموں کے باوجود مسجد میں تشریف فرما ہوئے اور نماز بپا کی اور بعدازاں لباس رزم زیب تن کیا اور روانہ ہوئے۔[17]۔[18]۔[19]

غزوہ حمراء الاسد کا ہدف

یہ غزوہ اللہ کے حکم سے انجام پایا[20]۔[21]۔[22] اور رسول خدا(ص) کی اس مہم کا ہدف دشمنوں کو ایک بار پھر مدینہ پر حملہ کرنے سے خوفزدہ اور اور مسلمانوں کی قوت کا مظاہرہ، کرنا تھا اور یہ باور کرانا تھا کہ غزوہ احد مسلمانوں کو پہنچنے والے زخم اور نقصانات ان کے حوصلے اور دشمن کے مقابلے میں ان کا عزم و ارادہ پست نہیں کرسکے ہیں۔[23]۔[24]

مسلمانوں کو مہم کے لئے عزیمت کا فرمان دیتے ہوئے رسول اللہ(ص) کا کلام بھی اسی حقیقت پر دلالت کرتا ہے:

"... فانها أنكأ للعدو وأبعد للسمع"۔
ترجمہ: پس بےشک یہ عمل دشمن کے لئے نقصان دہ ہے اور اس کی شہرت زیادہ اور دو رس ہے۔[25]۔[26]۔[27]

ایک روایت میں منقول ہے کہ رسول خدا(ص) کو خبر ملی کہ مشرکین روحاء میں ہیں اور مدینہ کی طرف پلٹ آنے پر غور کررہے ہیں چنانچہ آپ(ص) نے مسلمانوں کو ان کے تعاقب کے لئے بلایا۔[28]۔[29]

مشرکین کا تعاقب

غزوہ حمراء الاسد کا نقشہ
مدینہ کی نسبت حمراء الاسد اور روحا کا محل وقوع

پیغمبر(ص) نے بنو اسلم کے تین افراد کو اپنی سپاہ کے ہراول دستے کے طور پر دشمن کے تعاقب میں روانہ کیا۔ یہ افراد منطقۂ حمراء الاسد میں دشمن کے لشکر کے قریب پہنچے لیکن ان میں سے دو افراد کو مشرکین نے شہید کیا۔ مشرکین اس علاقے میں اپنے اجتماع کے دوران ایک بار مدینہ پر چڑھائی کے لئے صلاح مشورے کررہے تھے؛ تاہم صفوان بن امیہ نے انہیں مسلمانوں کے غیظ و غضب اور انتقام سے متنبہ کیا اور خبردار کیا کہ اس بار وہ شکست بھی کھا سکتے ہیں۔ چنانچہ مشرکین نے اپنا سفر جاری رکھا اور مدینہ سے 20 میل (= 40 کلومیٹر) دور "روحاء" کے علاقے میں پڑاؤ ڈالا۔[30]۔[31]

رسول خدا(ص) اور اصحاب حمراء الاسد پہنچے تو وہیں پڑاؤ ڈالا۔ سپاہ اسلام راتوں کو رسول خدا(ص) کے حکم پر بہت زیادہ آگ جلاتے تھے۔ مروی ہے کہ 500 مقامات پر آگ جلائی جاتی تھی اور یہ آگ دور دراز کے علاقوں سے نظر آتی تھی۔ اس لشکر کی شہرت بہت جلد تمام علاقوں تک پہنچی۔[32]۔[33]

نئے حملے سے مشرکین کا خوف

روحا میں قیام کے دوران ابو سفیان بدستور مدینہ پر نئے حملے کے بارے میں سوچ رہا تھا اور وہ قریش کو اس حملے کے لئے قائل کرنے کی کوشش کررہا تھا۔ ابو سفیان نے اپنے دو سواروں کے توسط سے ـ جو لشکر کے لئے اشیاء خورد و نوش فراہم کرنے کی غرض سے مدینہ جارہے تھے ـ رسول اللہ(ص) کو پیغام بھیجا کہ "باقی ماندہ مسلمانوں کو نیست و نابود کرنے کے لئے مدینہ لوٹ کر آئے گا۔ رسول اللہ(ص) اور مسلمانوں نے جواب دیا:

حَسْبُنَا اللّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ۔
ترجمہ: ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور بڑا اچھا کارساز۔[34]

اس اثناء میں مَعْبَد بن اَبی مَعبَد خُزاعی، ـ جو اپنے قبیلے کے دوسرے افراد کی مانند رسول اللہ(ص) کا حلیف اور حامی تھا ـ نے ابو سفیان سے ملاقات کی اور اپنے کلام اور اشعار سے قریش کے سرغنوں کو مدینہ پر حملہ کرنے سے باز رکھا۔ اس نے ابو سفیان سے کہا: "محمد(ص) ایسے افراد کو لے کر حمراء الاسد میں آئے ہیں جن کے چہرے غیظ و غضب کی شدت سے تمتما رہے ہیں اور میں نے اپنی زندگی میں اتنے غضبناک چہرے نہیں دیکھے ہیں"۔[35]۔[36] اور یوں جنگ سے تھکے ہارے اور اپنی کامیابی سے مسرور مشرکین مسلمانوں کے غضب سے خائف ہوکر تیزرفتاری سے مکہ کی جانب پلٹ گئے؛[37]۔[38] معبد خزاعی نے ایک قاصد کے توسط سے رسول اللہ(ص) کو پیغام دیا کہ مشرکین مکہ چلے گئے ہیں۔[39]۔[40]

مسلمانوں کی مدینہ واپسی

واقدی[41] اور ابن ہشام کے مطابق،[42] رسول اللہ(ص) 5 روز بعد، طبری کے مطابق 3 روز بعد[43]۔خطا در حوالہ: Closing </ref> missing for <ref> tag دو روز بعد مدینہ واپس آئے۔ اس مدت میں مدینہ میں آپ(ص) کی جانشینی کا عہدہ عبداللہ بن امّ مکتوم کے پاس تھا۔[44] یہ غزوہ قریش، منافقین اور مدینہ کے یہودیوں کے لئے نفسیاتی شکست کا سبب بنا اور اس سے (غزوہ احد میں شکست کھانے کے بعد) مسلمانوں کے حوصلے بلند ہوئے۔[45] سورہ آل عمران کی آیات 172 تا 175 غزوہ حمراء الاسد کی شان میں نازل ہوئی ہیں۔[46]۔[47]۔[48]۔[49]

چونکہ حمراء الاسد میں کوئی جنگ نہیں ہوئی چنانچہ علی بن حسین مسعودی نے اس کو غزوات کے زمرے میں شمار نہیں کیا ہے۔[50] لیکن متعدد غزوات ایسے ہیں جن میں آمنا سامنا نہیں ہوا ہے اور بایں وجود وہ غزوات کے نام سے مشہور ہیں۔ غزوہ حمراء الاسد سے قبل ہونے والے اکثر غزوات میں کوئی جنگ نہیں ہوئی ہے۔ (غزوات کی فہرست اور توضیحات کے لئے رجوع کریں: غزوہ

حوالہ جات

  1. ابن هشام، السیرة النبویة، ج3، ص107ـ108۔
  2. ابن سعد، طبقات، ج2، ص49۔
  3. واقدی، المغازی، ج1، ص334۔
  4. ابن سعد، طبقات، ج2، ص39، 42ـ43۔
  5. قمی، تفسیرالقمی، ذیل آیات 172ـ174 سورہ آل عمران۔
  6. واقدی، المغازی، ج1، ص300۔
  7. ابن سعد، طبقات، ج2، ص39، 42ـ43۔
  8. ابن کثیر، البدایة والنهایة، ج2، جزء4، ص51ـ52۔
  9. مقدسی، البدء والتاریخ، ج4، ص205۔
  10. طبرسی، مجمع البیان، ذیل آیات 172ـ174 سورہ آل عمران۔
  11. عاملی، الصحیح من سیرة النبی، ج4، ص335۔
  12. طبرسی، مجمع البیان، ذیل آیات 172 تا 174، سورہ آل عمران۔
  13. عاملی، الصحیح من سیرة النبی، ج6، ص335۔
  14. شمس شامی، سبل الهدی و الرّشاد، ج4، ص447۔
  15. بلاذری، انساب الاشراف، ج1، ص403۔
  16. واقدی، المغازی، ج1، ص334ـ336۔
  17. واقدی، المغازی، ج1، ص336ـ337۔
  18. طبرسی، اعلام الوری، ج1، ص183ـ184۔
  19. ابن شهر آشوب، مناقب، ج1، ص167۔
  20. رجوع کریں: آیات 172 تا 174 سورہ آل عمران۔
  21. قمی، تفسیر القمی ان ہی آیات کے ذیل میں۔
  22. طبرسی، مجمع البیان، ان ہی آیات کے ذیل میں۔
  23. ابن هشام، السیرة النبویة، ج3، ص107۔
  24. ابن حزم، جوامع السیرة، ص175۔
  25. طبرسی، مجمع البیان، ذیل آیات 172 تا 174، سورہ آل عمران۔
  26. عاملی، الصحیح من سیرة النبی، ج6، ص335۔
  27. طبری، تفسیر جامع، ذیل سوره آیت 172، سورہ آل عمران۔
  28. رجوع کریں:طبرسی، مجمع البیان، ذیل آیات سوره آل عمران: 172ـ174۔
  29. شمس شامی، سبل الهدی والرّشاد، ج4، ص438ـ439، 441۔
  30. واقدی، المغازی، ج1، ص337ـ339۔
  31. ابن سعد، طبقات، ج2، ص49۔
  32. واقدی، المغازی، ج1، ص337ـ339۔
  33. ابن سعد، طبقات، ج2، ص49۔
  34. سورہ آل عمران آیت 173؛ یا واقعہ خداوند متعال نے یوں بیان فرمایا ہے:
    الَّذِينَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُواْ لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَاناً وَقَالُواْ حَسْبُنَا اللّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ۔
    ترجمہ: وہ کہ جن سے لوگوں نے کہا کہ لوگوں نے تمہارے مقابلہ کے لیے بڑا لشکر جمع کیا ہے، ان سے ڈرو تو اس سے ان کے ایمان میں اور اضافہ ہوا اور انہوں نے کہا کہ ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور بڑا اچھا کارساز۔
  35. واقدی، المغازی، ج1، ص338۔
  36. ابن هشام، السیره النبویه، ج3، ص108ـ 109۔
  37. واقدی، المغازی، ج1، ص339۔
  38. بلاذری، انساب الاشراف، ج1، ص403۔
  39. واقدی، المغازی، ج1، ص339ـ340۔
  40. ابن هشام، السیره النبویه، ج3، ص109ـ110۔
  41. واقدی، المغازی، ج1، ص334۔
  42. قس ابن هشام، السیرة النبویة، ج3، ص108۔
  43. طبری، تاریخ، ج2، ص535۔
  44. ابن سعد، طبقات، ج2، ص49۔
  45. عاملی، الصحیح من سیرة النبی، ج4، ص339ـ341۔
  46. رجوع کریں: واقدی، المغازی، ج1، ص340۔
  47. ابن هشام، السیرة النبویة، ج3، ص128۔
  48. طبری، جامع، ذیل همین آیات۔
  49. شمس شامی، سبل الهدی والرّشاد، ج4، ص444ـ445۔
  50. مسعودی، تنبیه الاشراف، ص245۔


مآخذ

  • قرآن کریم، اردو ترجمہ: سید علی نقی نقوی (لکھنوی۔
  • ابن‌حزم، جوامع السیرة، و خمس رسائل اخرى، چاپ احسان عباس و ناصرالدین‌اسد، [قاهره? 1950].
  • ابن‌سعد، طبقات، (بیروت).
  • ابن‌ شهر آشوب، مناقب آل ابى‌طالب، نجف، 1956.
  • ابن‌کثیر، البدایة والنهایة، ج 2، چاپ احمد ابوملحم و دیگران، بیروت، 1405/1985.
  • ابن‌هشام، السیرة النبویة، چاپ مصطفى سقا، ابراهیم ابیارى، و عبدالحفیظ شلبى، [قاهره 1355/ 1936]، چاپ افست بیروت، بى‌تا.
  • بکرى، عبداللّه‌ بن‌عبدالعزیز، معجم ما استعجم من اسماء البلاد و المواضع، چاپ مصطفى سقّا، بیروت، 1403/ 1983.
  • بلاذرى، احمد بن‌یحیى، انساب الاشراف، چاپ محمود فردوس‌عظم، دمشق، 1996ـ2000.
  • شمس شامى، محمد بن‌‌یوسف، سبل الهدى و الرّشاد فى سیرة خیرالعباد، ج 4، چاپ ابراهیم ترزى و عبدالکریم عزباوى، قاهره، 1411/ 1990.
  • الصالحي الشامي، محمد بن يوسف، سبل الهدى والرشاد في سيرة خير العباد، المحقق: مصطفى عبد الواحد - وآخرون، الناشر: المجلس الأعلى للشئون الإسلامية ـ قاهرة . 1418 / 1997
  • طبرسى، فضل بن‌حسن، اعلام الورى باعلام الهدى، قم، 1417.
  • طبرسى، فضل بن‌حسن، مجمع البیان فى تفسیرالقرآن، چاپ هاشم رسولى محلاتى و فضل‌اللّه یزدى طباطبائى، بیروت، 1408/1988.
  • طبرى، محمد بن‌جریر، تاریخ، (بیروت).
  • طبرى، محمد بن‌جریر، جامع.
  • عاملى، جعفر مرتضى، الصحيح من سيرة النبي الاعظم (ص)، الطبعة الرابعة 1995 م 1415 ه‍
  • قمى، علی بن‌ابراهیم، تفسیرالقمى، بیروت، 1412/1991.
  • مسعودى، تنبیه الاشراف.
  • مقدسى، مطهر بن‌طاهر، البدء والتاریخ، چاپ کلمان هوار، پاریس، 1899ـ1919، چاپ افست تهران، 1962.
  • واقدى، محمد بن‌عمر، کتاب المغازى، (Edited by Dr. Marsden Jones, Publshed by: Oxford University Press) ، لندن، 1966/ طبعة الثالثة: 1404/ 1984

بیرونی ربط

پچھلا غزوہ:
اُحُد
رسول اللہ(ص) کے غزوات
غزوہ حمراء الاسد
اگلا غزوہ:
بنی نضیر