حدیث قرطاس

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

حدیث قرطاس یا حدیث قلم و کاغذ، رسول خدا کےآخری ایام کے اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے جس میں آپ نے اپنے بعد مسلمانوں کو گمراہی سے محفوظ رکھنے کا نسخہ لکھنے کیلئے صحابہ سے قلم اور دوات مانگی جسے حضرت عمر نے یہ کہہ کر رد کیا کہ "یہ شخص بیماری کی وجہ سے ہذیان کہہ رہا ہے"۔ یوں رسول اللہ امت کو گمراہی سے محفوظ رکھنے کے حوالے سے اپنی وصیت نہ لکھ سکے۔

اس واقعے میں خلیفہ دوم کی جانب سے رسول اللہؐ کے حکم کی تعمیل نہ کرنا، خاص کر آپ کی طرف ہذیان کی نسبت دینے کو قرآن کریم اور اسلامی تعلیمات کی منافی سمجھتے ہوئے بعض مسلمان مصنفین نے خلیفہ دوم کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اس واقعے کو شیعہ سنی تاریخی اور حدیثی منابع میں مصیبت عظمی سے یاد کیا گیا ہے۔

اہل تشیع کے مطابق اس موقع پر پیغمبر اکرمؐ اپنے بعد حضرت علیؑ کی جانشینی سے متعلق کچھ لکھنا چاہتے تھے۔

واقعے کی تفصیل

تاریخی اور حدیثی کتابوں کے مطابق یہ 25 صفر سنہ 11 ہجری کا واقعہ ہے کہ پیغمبر اکرمؐ اپنی زندگی کے آخری ایام میں بستر بیماری پر تھے اور اصحاب آپ کے اردگرد جمع تھے اس وقت آپؐ نے حاضرین سے فرمایا: مجھے قلم اور دوات دو تا کہ میں تمہیں ایک ایسی چیز لکھ دوں، جس کے بعد تم کبھی گمراہ نہیں ہو نگے۔[نوٹ 1] آپ کا یہ مطالبہ حاضرین میں سے ایک شخص نے یہ کہہ کر رد کیا: پیغمبرؐ بے ہوشی کے عالم میں ہیں اور بیماری کی شدت کی وجہ سے آپؐ ہذیان گوئی کر رہے ہیں، ہمارے لئے خدا کی کتاب کافی ہے۔[نوٹ 2] اس شخص کی باتوں سے صحابہ کے درمیان نزاع شروع ہو گئی۔ پیغمبر نے جب یہ صورت حال دیکھی تو فرمایا میرے پاس سے اٹھ کر چلے جاؤ۔ اکثر مآخذ کے مطابق پیغمبرؐ کی مخالفت کرنے والا شخص عمر ابن خطاب تھا۔[1] لیکن بعض مآخذ میں اس کی طرف اشارہ نہیں کیا گیا. [2]

شیعہ علماء کے مطابق، پیغمبر اکرمؐ اس موقع پر اپنے بعد حضرت علیؑ کی جانشینی سے متعلق تاکید کرنا چاہتے تھے۔ وہاں موجود بعض حاضرین کو بھی اس بات کا خدشہ تھا اس بنا پر وہ آپؐ کو اس کام سے روکنا چاہتا تھا۔ [3] عمر ابن خطاب اور ابن عباس کے درمیان ہونے والی ایک گفتگو میں خود عمر اس بات کا اظہار یوں کرتا ہے: پیغمبر اکرمؐ بیماری کی حالت میں اپنے بعد علیؑ کی جانشینی اور خلافت کے بارے میں کچھ لکھنا چاہتے تھے لیکن میں نے اسلام سے دلسوزی اور اس کی تحفظ کی خاصر پیغمبر اکرمؐ کو اس کام سے منع کیا۔[4]

اس حدیث کے منابع

یہ واقعہ اپنی تمام تر جزئیات لیکن مختلف عبارات کے ساتھ شیعہ سنی منابع میں نقل ہوا ہے۔ اہل سنت منابع میں سے صحیح بخاری،[5] صحیح مسلم،[6] مسند احمد،[7] سنن بیہقی[8] اور طبقات ابن سعد[9] میں اس واقعے کی تفصیل موجود ہے۔ اسی طرح شیعہ منابع میں الارشاد[10]، اوائل المقالات[11]، الغیبۃ نعمانی[12] اور المناقب ابن شہر آشوب[13] کا نام اس حوالے سے قابل ذکر ہیں۔

اس سے متعلق مخلف مؤقف

شیعہ نقطہ نظر

علمائے شیعہ اس واقعہ کو مصیبت عظمی سے تعبیر کرتے ہیں کیونکہ اس واقعے سے جہاں امت کو گمراہی سے محفوظ رکھنے کے سلسلے میں پیغمبر اکرمؐ کی وصیت پر عمل نہیں ہوا وہاں رسول اللہ کی شأن اقدس میں گستاخی ہوئی جو قرآن و سنت کی رو سے گناہ کبیرہ میں سے ہے۔[14] اہل سنت کے بعض منابع میں بھی آیا ہے کہ ابن عباس اس واقعے کو جس میں رسول اللہ کی امت کو گمراہی سے محفوظ رکھنے کے حوالے سے لکھی جانے والی وصیت کو مکمل نہیں ہونے دیا، عظیم مصیبت سے تعبیر کرتے ہوئے گریہ کرتے تھے۔[15]

علامہ شرف الدین عاملی کتاب المراجعات میں قرآنی آیات کے تناظر میں حضرت عمر کے اس کام پر چند اعتراض کرتے ہیں:[16]

  1. رسول خداؐ کے حکم کی نافرمانی اور مخالفت کی۔
  2. حضرت عمر اپنے آپ کو رسول اللہ سے زیادہ دانا تر سمجھتے تھے۔
  3. پیغمبر اکرمؐ کی طرف ہذیان گوئی کا الزام لگایا۔

شیعوں کے نزدیک حضرت عمر کا یہ رویہ قرآن کی بہت سی آیات کے مخالف تھا مثلا:

  • وَمَا آتَاکمُ الرَّ‌سُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاکمْ عَنْهُ فَانتَهُواآیت ۷سورہ حشر

جو کچھ رسول تمہیں دے اسے لے لو اور جس سے منع کرے اس سے رک جاؤ۔

  • مَا ضَلَّ صَاحِبُکمْ وَمَا غَوَیٰ ﴿۲﴾ وَمَا ینطِقُ عَنِ الْهَوَیٰ ﴿۳﴾ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْی یوحَیٰ ﴿۴﴾ عَلَّمَهُ شَدِیدُ الْقُوَیٰ ﴿۵﴾سورہ نجم
کہ تمہارا یہ ساتھی پیغمبرِ اسلامؐ نہ گمراہ ہوا ہے اور نہ بہکا ہے۔ (2) اور وہ (اپنی) خواہشِ نفس سے بات نہیں کرتا۔ (3) وہ تو بس وحی (بات کرتا) ہے جو ان کی طرف کی جاتی ہے۔ (4)

اہل سنت کا مؤقف

علمائے اہل سنت اس واقعے کی مختلف توجیہات پیش کرتے ہیں مثلا:

  • بعض اس روایت کو واقعے کو صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ذکر ہونے کے باوجود اسے ضعیف اور غیر معتبر سمجھتے ہیں۔[17]
  • بعض اس حدیث کا ایک اور معنا ذکر کرتے ہیں۔ مثلا: «ہجر» کا لفظ چھوڑنے اور ترک کرنے کے معنی میں ہیں اور اس سے خلیفہ دوم کی مراد یہ تھی کہ پیغمبر اکرمؐ ہمیں چھوڑ کر جا رہے ہیں۔[18]
  • یا حضرت عمر کی گفتگو استفہام انکاری ہے یعنی پیغمبر ہذیان نہیں کہتا ہے۔[19]
  • حضرت عمر کی طرف سے حسبنا کتاب اللہ کہنا حقیقت میں دینی تعلیمات پر ان کی تسلط اور دقت نظر کی دلیل ہے۔[20]
  • بعض مآخذوں کے مطابق پیغمبر اکرمؐ کو اس کام سے منع کرنے والا ایک شخص نہیں تھا بلکہ کئی افراد مراد ہیں۔[21]

حضورؐ کے لکھنے کا ارادہ ترک کرنے کی وجہ

بعض شیعہ علماء کے مطابق، پیغمبر اکرمؐ کا اپنی وصیت کو تکمیل کرنے سے باز رہنے کی علت اور دلیل وہی گفتگو تھی جو آپ کے سامنے ہوئی تھی، کیونکہ اب اس گفتگو کے بعد ظاہرا اس وصیت کی کوئی حیثیت نہیں تھی سوائے اس کے کہ حضور اکرمؐ کی وفات کے بعد امت میں اختلاف کا باعث بن جائے۔ اس صورتحال میں اگر پیغمبر اکرمؐ لکھ بھی دیتے تو لوگ یہی کہتے کہ یہ تو پیغمبر اکرمؐ نے بے ہوشی کے عالم میں لکھوایا تھا بنا براین اس وصیت پر عمل کرنا امت پر واجب نہیں۔[22]

حوالہ جات

  1. بخاری، صحیح البخاری، ۱۴۰۱ق، ج۱، ص۳۷، ج۴، ص۶۶، ج۵، ص۱۳۷-۱۳۸، ج۷، ص۹؛ مسلم، صحیح مسلم، دارالفکر، ج۵، ص۷۵-۷۶؛ ابن سعد، الطبقات الکبری، دارالصادر، ج۲، ص۲۴۲-۲۴۵.
  2. ابن حنبل، مسند الامام احمد بن حنبل، ۲۰۰۸م، ج۲، ص۴۵؛ بیہقی، السنن الکبری، دارالفکر، ج۹، ص۲۰۷.
  3. شرف الدین، المراجعات، المجمع العالمی لاہل البیت، ص۵۲۷.
  4. ابن ابی‌الحدید، شرح نہج البلاغہ، ۱۳۷۸ق، ج۱۲، ص ۲۰-۲۱.
  5. بخاری، صحیح البخاری، ۱۴۰۱ق، ج۱، ص۳۷، ج۴، ص۶۶، ج۵، ص۱۳۷-۱۳۸، ج۷، ص۹.
  6. مسلم، صحیح مسلم، دارالفکر، ج۵، ص۷۵-۷۶.
  7. ابن حنبل، مسند الامام احمد بن حنبل، ۲۰۰۸م، ج۲، ص۴۵.
  8. بیہقی، السنن الکبری، دارالفکر، ج۹، ص۲۰۷.
  9. ابن سعد، الطبقات الکبری، دارالصادر، ج۲، ص۲۴۲-۲۴۵.
  10. شیخ مفید، الإرشاد، ۱۳۷۲ش، ج۱، ص۱۸۴.
  11. شیخ مفید، اوائل المقالات، الموتمر العالمی، ص۴۰۶.
  12. نعمانی، الغیبۃ، ۱۳۹۹ق، ص۸۱-۸۲.
  13. ابن شہرآشوب، مناقب آل ابی‌طالب، علامہ، ج۱، ص۲۳۶.
  14. جوہري، مقتضب الأثر، ص1
  15. صحیح البخاری، ج۵، صص۱۳۷-۱۳۸؛ صحیح مسلم، ج۵، ص۷۶.
  16. شرف الدین، المراجعات، ص۲۴۴؛ ترجمہ فارسی: مناظرات، ص۴۳۵.
  17. ابن حنبل، مسند الامام احمد بن حنبل، ۱۴۲۱ق، ج۲، ص۱۰۵.
  18. قرطبی، المفہم لما اشکل من تخلیص کتاب مسلم، ۱۴۱۷ق، ج۴، ص۵۶۰.
  19. ابن حجر عسقلانی، فتح الباری، ۱۳۹۷ق، ج۸، ص۱۳۳.
  20. بیہقی، دلائل النبوة، ۱۴۰۸ق، ج۷، ص۱۸۳.
  21. ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، دار الکتب، ج۳، ص۳۲۰.
  22. شرف الدین، المراجعات، المجمع العالمی لاہل البیت، ص۵۲۷.
  1. پیغمبر اکرمؐ کا قلم دوات مانگنے کا واقعہ مختلف عبارتوں میں نقل ہوا ہے جن میں سے بعض مندرجہ ذیل ہیں:
    • ائتونی بدواة و کتف أکتب لکم کتابا لا تضلّوا بعده أبدا؛ دوات اور شانے کی ایک ہڈی لے آئیں تا کہ تمہیں ایسی چیز لکھ دوں کہ میرے بعد کبھی گمراہ نہیں ہوجاؤ گے۔(مفید، الارشاد، ۱۳۷۲ش، ج۱، ص۱۸۴؛ بخاری، صحیح البخاری، ۱۴۰۱ق، ج۴، ص۶۶؛ مسلم، صحیح مسلم، دارالفکر، ج۵، ص۷۶.)
    • هلُمّ اکتب لکم کتابا لا تضلون بعده؛ آئیں تمہیں ایسی تحریر لکھ دوں کہ اس کے بعد گمراہ نہیں ہوجاوگے۔(مسلم، صحیح مسلم، دارالفکر، ج۵، ص۷۶.)
    • ائتونی بدواة وصحیفة أکتب لکم کتابا لا تضلوا بعده أبدا؛ دوات اور ایک صحیفہ لے آو تاکہ ایک تحریر لکھ دوں اور تم اس کے بعد گمراہ نہیں ہوجاو گے۔(ابن سعد، الطبقات الکبری، دارالصادر، ج۲، ص۲۴۲.)
    • ائتونی بالکتف والدواة أکتب لکم کتابا لا تضلوا بعده أبدا۔(ابن سعد، الطبقات الکبری، دارالصادر، ج۲، ص۲۴۳.)
  2. خلیفہ دوم کا عکس العمل مختلف عبارتوں کے ساتھ نقل ہوا ہے:
    • إن نبی الله لیهجر؛ اللہ کے رسول ہذیان بول رہے ہیں۔(ابن سعد، الطبقات الکبری، دارالصادر، ج۲، ص۱۸۷.)
    • إن رسول الله یهجر؛ اللہ کے رسول ہذیان بول رہے ہیں۔(مسلم، صحیح مسلم، دارالفکر، ج۵، ص۷۶.)
    • ان الرجل لیهجر؛ یہ مرد ہذیان بول رہا ہے۔(اربلی، کشف الغمة، الشریف الرضی، ج۱، ص۴۰۲؛ ابن تیمیه، منهاج السنة، ۱۴۰۶ق، ج۶، ص۱۹.)
    • أهجر رسول الله؟؛ کیا رسول اللہ نے ہذیان بولا ہے؟(ابن تیمیه، منهاج السنة، ۱۴۰۶ق، ج۶، ص۲۴.)
    • ما شأنه؟ أهجر؟ استفهموه؛ انہیں کیا ہوا ہے؟ کیا ہذیان بولا ہے؟ ان سے پوچھو۔(مراجعہ کریں: بخاری، صحیح البخاری، ۱۴۲۲ق، ج۶، ص۹؛ نووی، صحیح مسلم بشرح النووی، ۱۴۰۷ق، ج۱۱، ص ۹۳.)
    • إنّ النّبی قد غلب علیه (غلبه) الوجع و عندکم القرآن حسبنا کتاب الله؛ رسول اللہ پر درد مسلط ہوا ہے، تمہارے پاس قرآن موجود ہے اور ہمارے لیے کتاب اللہ کافی ہے۔(مراجعہ کریں:بخاری، صحیح البخاری، ۱۴۲۲ق، ج۶، ص۹، ج۷، ص۱۲۰؛ نووی، صحیح مسلم بشرح النووی، ۱۴۰۷ق، ج۱۱، ص۹۰.)

مآخذ

  • ابن ابی‌الحدید، شرح نہج البلاغہ، محقق محمد ابوالفضل ابراہیم،‌ بیروت، دار احیاء الکتب العربیۃ، ۱۳۷۸ھ۔
  • ابن اثیر، علی بن ابی‌کرم، الکامل فی التاریخ، بیروت، دار الکتب.
  • ابن تیمیہ، احمد بن عبدالحلیم، منہاج السنۃ النبویۃ، محقق محمد رشاد سالم، ریاض، جامعۃ الامام محمد بن سعود الاسلامیۃ، ۱۴۰۶ھ۔
  • ابن حجر عسقلانی، احمد بن علی، فتح الباری شرح صحیح البخاری، محمد فؤاد عبدالباقی، بیروت، ۱۳۹۷ھ۔
  • ابن حنبل، أحمد بن محمد، مسند الإمام أحمد بن حنبل، تحقیق: شعيب الأرنؤوط - عادل مرشد، و دیگران، مؤسسہ الرسالۃ، ۱۴۲۱ق/۲۰۰۱ء۔
  • ابن حنبل، احمد بن محمد، مسند الامام احمد بن حنبل، تحقیق: محمد عبدالقادر عطا، بیروت، دار الکتب العلمیۃ، ۲۰۰۸ء۔
  • ابن سعد، الطبقات الکبری، بیروت، دار صادر، بی‌تا.
  • ابن شہر آشوب، محمد بن علی، مناقب آل ابی‌طالب، قم، علامہ، بی‌تا.
  • اربلی، علی بن عیسی، کشف الغمۃ، قم، الشریف الرضی، بی‌تا.
  • بخاری، محمد بن اسماعیل، صحیح البخاری، بیروت، دارالطوق النجاۃ، ۱۴۲۲ھ۔
  • بخاری، محمد بن اسماعیل، صحیح البخاری، بیروت، دارالفکر، ۱۴۰۱ھ۔
  • بیہقی، احمد بن حسین، السنن الکبری، بیروت، دارالفکر، بی‌تا.
  • بيہقي، أحمد بن حسين، دلائل النبوۃ، تحقیق: عبد المعطي قلعجي، بيروت، دار الكتب العلميۃ - دار الريان للتراث، ۱۴۰۸ق/۱۹۸۸ء۔
  • جوہری، احمد بن محمد، مقتضب الاثر فی نص الائمۃ اثنی عشر، محقق لطف اللہ صافی، قم، مکتبۃ الطباطبائی، بی‌تا.
  • شرف الدین العاملی، عبدالحسین، المراجعات، قم، المجمع العالمی لاہل البیت، بی تا.
  • شیخ مفید، محمد بن محمد، اوائل المقالات، محقق ابراہیم انصاری زنجانی، قم، الموتمر العالمی لالفیۃ الشیخ المفید، بی‌تا.
  • شیخ مفید، محمد بن محمد، الارشادفی معرفۃ حجج اللہ علی العباد،‌قم، الموتمر العالمی لالفیۃ الشیخ المفید، ۱۳۷۲ش.
  • قرطبی، احمد بن عمر، المفہم لما اشکل من تخلیص کتاب مسلم، تحقیق:‌محیی الدین دیب میستو و دیگران، دمشق، دار ابن کثیر، ۱۴۱۷ق/۱۹۹۶ء۔
  • نعمانی، محمد بن ابراہیم، الغیبۃ، تہران، مکتبۃ الصدوق، ۱۳۹۹ھ۔
  • نووی، یحیی بن شرف، صحیح مسلم بشرح النووی، بیروت، دارالکتاب العربی، ۱۴۰۷ھ۔
  • نیسابوری، مسلم بن حجاج، الجامع الصحیح (صحیح مسلم)، بیروت، دارالفکر، بی‌تا.