طاق کسری

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
طاق کسری
طاق کسری در مدائن.jpeg
مشخصات
بانی: انو شیروان
تأسیس: 550ء(سلسلہ ساسانی)
محل وقوع: مداین-عراق
دیگر اسامی: ایوان مداین، ایوان کَسریٰ
مربوطہ وقایع: پیغمبر اکرمؐ کی ولادت کی رات اس کے 14 کنگورے ٹوٹ گئے۔
مساحت: 30 مٹر بلند
معماری

طاقِ کَسریٰ، ایوانِ کَسریٰ یا ایوانِ مَدائِن، ساسانی دور حکومت کی سب سے مشہور اور تاریخی عمارت ہے۔ پیغمبر اسلامؐ کی شب ولادت اس کے 14 کنگورے ٹوٹ گئے۔ مدائن کی فتح کے بعد مسلمانوں نے اسے مسجد کے طور پر استعمال کرنا شروع کیا۔ بعض تاریخی روایات کے مطابق امام علیؑ نے بھی یہاں نماز پڑھی ہے۔ طاق کسری عراق کے دار الخلافہ بغداد کے جنوب میں 37 کیلو میٹر کے فاصلے پر ایک چھوٹے شہر "سلمان باک" یا "سلمان پاک" میں واقع ہے جہاں سلمان فارسی کا مزار بھی ہے۔

تعارف

طاق کسری، ایوان کسری یا ایوان مدائن، ساسانی دور کے مشہور مقامات میں سے ہے جو بغداد کے جنوب میں دریائے دجلہ کے مشرقی کنارے پر شہر مدائن میں واقع ہے۔[1] اس کی تعمیر سنہ 550ء میں ہوئی اور بتایا جاتا ہے کہ ساسانی بادشاہ انو شیروان نے اسے تعمیر کروایا۔[2] یہ عمارت گچ اور اینٹوں سے بنائی گئی ہے[3] جسکی بلندی 30 میٹر ہے۔[4] موجودہ دور میں طاق کسری "سلمان پاک" یا "سلمان باک" نامی ایک چھوٹے شہر میں واقع ہے جہاں پر سلمان فارسی کا مزار بھی موجود ہے۔[5]

سنہ 146 ہجری قمری کو منصور عباسی کے حکم سے بغداد کی تعمیر کیلئے اس قلعے کے اطراف میں موجود بعض عمارتوں کی تخریب کی گئی۔[6] لیکن بعد میں یہاں سے سامان کی منتقلی پر زیادہ خرچہ آنے کی وجہ سے وہ اس کام سے منصرف ہوا۔[7] بعض منابع کے مطابق سنہ 1888ء میں سیلاب کی وجہ سے اس کے اطراف میں موجود بعض اور عمارتیں بھی تباہ ہوئیں۔[8] سنہ 1970 ء کی دہائی سے اس کے مزید حصوں کو خراب ہونے سے محفوظ رکھنے کا منصوبہ شروع ہوا اور سنہ 1980 ء سے اس قصر کے تخریب شدہ حصوں کو شیکاگو یونیورسٹی کی مدد سے دوبارہ تعمیر کیا گیا۔[9]

پیغمبر اسلام کی ولادت کی نشانیاں

اسلامی منابع کی رو سے پیغمبر اسلامؐ کی شب ولادت کو ایوان کسری کے 14 کنگورے ٹوٹ گئے۔[10] یہ واقعہ اور اس طرح کے دوسرے واقعات جیسے آتشکدہ فارس کا ہزار سال بعد خاموش ہونا، دریائے ساوہ کا خشک ہونا اور ساسانی بادشاہ اور ان کے خواب گزاروں کا عجیب و غریب خواب دیکھنا،[11] کو پیغمبر اسلام کی ولادت کی نشانیوں میں سے قرار دیا جاتا ہے جو اسی رات وقوع پذیر ہوئی ہیں۔[12]

خاقانی شروانی سمیت بعض دیگر فارسی شاعروں نے "ایوان مدائن" یا "طاق کسری" کی عضمت اور اس کے ٹوٹ جانے کو اپنی اشعار کا میں ذکر کیا ہے۔[13] خاقانی نے "ایوان مدائن" نامی ایک قصیدے میں اس عمارت کی تاریخی عظمت کو بیان کرتے ہوئے آخر کار اس کی تخریب اور ساسانی بادشاہوں کی نابودی کو مایہ عبرت قرار دیا ہے۔[14] بعض ان اشعار کو فارسی کے شاندار قصیدوں میں شمار کرتے ہیں۔[15] یہ قصیدہ 41 شعروں پر مشتمل ہے جس کا پہلا شعر یہ ہے:

هان ای دل عبرت‌بین از دیده نظر کن هان ایوان مدائن را آیینه عبرت دان[16]
اے عبرت لینے والا دل عبرت کی نگاه سے دیکھو اور ایوان مدائن کو عبرت کا آیینہ قرار دو


مسجد میں تبدیلی

سعد بن ابی‌ وقاص نے مدائن کی فتح کے بعد ایوان کسری کو مسجد قرار دیتے ہوئے یہاں نماز پڑھنا شروع کی۔[17]تاریخی منابع کے مطابق امام علی نے بھی یہاں نماز پڑھی ہے۔[18] سلمان فارسی کے علاوہ حُذَیْفَۃ بن یَمان کا مزار بھی ایوان کسری کے قریب واقع ہے۔[19]

مستحب اعمال

شیخ عباس قمی نے کتاب مفاتیح الجنان میں سلمان فارسی کی زیارت کے اعمال کے ضمن میں اس مقام پر دو رکعت نماز پڑھنے کی تاکید کرتے ہوئے امام علیؑ کے اس مقام پر نماز پڑھنے کو اس کی دلیل قرار دیا ہے۔[20]

متعلقہ صفحات

حوالہ جات

  1. حسینی اشکوری، چکیدہ مقالات اولین ہمایش بین‌المللی میراث مشترک ایران و عراق، ۱۳۹۳ش، ص۱۵۰۔
  2. پیرنیا، تاریخ ایران باستان، ۱۳۷۵ش، ج۴، ص۲۹۳۱۔
  3. عواد، الذخائر الشرقیہ، ۱۹۹۹م، ص۲۲۶۔
  4. مقدس، راہنمای اماکن زیارتی و سیاحتی در عراق، [۱۳۸۸ش]، ص۳۴۸۔
  5. قمی، اماکن زیارتی و سیاحتی عراق، ۱۳۷۷ش، ص۶۲؛ فقیہ بحر العلوم، زیارت گاہ‌ہای عراق، ۱۳۹۳ش، ج۱، ص۴۵۷۔
  6. طبری، تاریخ الطبری، [۱۳۸۴ق]، ج۷، ص۶۵۱؛ مرعشی، غرر السیر، ۱۴۱۷ق، ص۳۷۰۔
  7. طبری، تاریخ الطبری، ۱۳۸۴ق، ج۷، ص۶۵۱؛ مرعشی، غرر السیر، ۱۴۱۷ق، ص۳۷۰۔
  8. جوادی، «صد سال پیش در سرزمین شیر و خورشید»۔
  9. دیکھیں امین، «سیر تحول طاق کسری، کاخ ساسانی؛ از دیروز تا امروز»۔
  10. ابو نعیم اصفہانی، دلائل النبوۃ، ۱۴۱۲ق، ج۱، ص۱۳۹، ح۸۲؛ بیہقی، دلائل النبوہ، ۱۴۰۵ق، ج۱، ص۱۲۶۔
  11. ابو نعیم اصفہانی، دلائل النبوہ، ۱۴۱۲ق، ج۱، ص۱۳۹، ح۸۲؛ بیہقی، دلائل النبوہ، ۱۴۰۵ق، ج۱، ص۱۲۶و۱۲۷۔
  12. رسولی محلاتی، درس ہایی از تاریخ تحلیلی اسلام، ۱۳۷۱ش، ج۱، ص۱۴۵و۱۴۶۔
  13. اسکویی، «اشارات و تلمیحات مربوط بہ اعلام جغرافیایی عراق»، ج۱۶، ص۶۶و۶۷۔
  14. اسکویی، «اشارات و تلمیحات مربوط بہ اعلام جغرافیایی عراق»، ج۱۶، ص۶۷۔
  15. انوشہ، دانش نامہ ادب فارسی، ۱۳۸۲ش، ج۵، ص۹۹۔
  16. «شمارہ ۱۶۸ - ہنگام عبور از مداین و دیدن طاق کسری»۔
  17. ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ۱۳۸۵ق، ج۲، ص۵۱۴۔
  18. طبری، تاریخ الطبری، ۱۳۸۴ق، ج۷، ص۶۵۱؛ مرعشی، غرر السیر، ۱۴۱۷ق، ص۳۷۰؛ زمخشری، ربیع الأبرار ونصوص الأخبار، ۱۴۱۲ق، ج۱، ص۲۶۸۔
  19. قزوینی، المزار، ۱۴۲۶ق، ص۱۲۳و۱۲۴۔
  20. قمی، مفاتیح الجنان، ۱۳۸۸ق، ج۲، ص۷۵۹و۷۶۰۔

مآخذ

  • ابن اثیر، علی بن محمد، الکامل فی التاریخ، بیروت،‌ دار صادر، ۱۳۸۵ق/۱۹۶۵م۔
  • ابونعیم اصفہانی، احمد بن عبداللہ، دلائل النبوۃ، تحقیق محمد روّاس قلعہ‌جی و عبدالبرّ عباس، بیروت،‌ دار النفائس، ۱۴۱۲ق/۱۹۹۱م۔
  • اسکویی، نرگس، اشارات و تلمیحات مربوط بہ اعلام جغرافیایی عراق در ادبیات فارسی، در مجموعہ مقالات اولین ہمایش بین المللی مشترک ایران و عراق، تہیہ و تنظیم دبیرخانہ اولین ہمایش بین‌المللی میراث مشترک ایران و عراق، بہ کوشش سید صادق حسینی اشکوری، قم، مجمع ذخائر اسلامی و موسسہ آل البیت لإحیاء التراث، ۱۳۹۴ش/۱۴۳۶ق/۲۰۱۵م۔
  • امین، علی، «سیر تحول طاق کسری، کاخ ساسانی؛ از دیروز تا امروز»، در سایت طراحی شہری ایرانی، تاریخ درج مطلب: ۳ شہریور ۱۳۹۶ش، تاریخ بازدید: ۲۹ آذر ۱۳۹۶ش۔
  • بیہقی، احمد بن حسین، دلائل النبوۃ ومعرفۃ أحوال صاحب الشریعۃ، تحقیق و تعلیقہ عبدالمعطی قلعجی، بیروت،‌ دار الکتب العلمیۃ، ۱۴۰۵ق/۱۹۸۵م۔
  • پیرنیا، حسن، تاریخ ایران باستان، تہران، دنیای کتاب، ۱۳۷۵ش۔
  • جوادی، عباس، «صد سال پیش در سرزمین شیر و خورشید»، در سایت ویکی‌کتاب، تاریخ درج مطلب: ۲۹ اکتبر ۲۰۱۷م، تاریخ بازدید: ۲۹ آذر ۱۳۹۶ش۔
  • حسینی اشکوری، صادق، چکیدہ مقالات اولین ہمایش بین‌المللی میراث مشترک ایران و عراق، قم، مجمع ذخائر اسلامی، ۱۳۹۳ش۔
  • رسولی محلاتی، سید ہاشم، درسہایی از تاریخ تحلیلی اسلام، ج۱، قم، پاسدار اسلام، ۱۳۷۱ش۔
  • زمخشری، محمود بن عمر، ربیع الأبرار ونصوص الأخبار، تحقیق عبدالأمیر مہنا، بیروت، مؤسسۃ الأعلمی للمطبوعات، ۱۴۱۲ق/۱۹۹۲م۔
  • شریفی، «ایوان مدائن»، در دانشنامہ ادب فارسی، ج۵، بہ سرپرستی حسن انوشہ، تہران، وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی، ۱۳۸۲ش۔
  • «شمارہ ۱۶۸ - ہنگام عبور از مداین و دیدن طاق کسری»، در سایت گنجور، تاریخ بازدید: ۲۶ آذر ۱۳۹۶ش۔
  • عواد، کورکیس، الذخائر الشرقیۃ، جمع‌آوری جلیل العطیۃ، بیروت، دار الغرب الإسلامی، ۱۹۹۹م۔
  • فقیہ بحرالعلوم، محمدمہدی، و احمد خامہ‌یار، زیارتگاہ‌ہای عراق: معرفی زیارتگاہ‌ہای مشہور در کشور عراق، تہران، سازمان حج و زیارت، [۱۳۹۳ش]۔
  • قزوینی، سید مہدی، المزار، تحقیق جودت القزوینی، بیروت،‌ دار الرّافدین، ۱۴۲۶ق/۲۰۰۵م۔
  • قمی، شیخ عباس، مفاتیح الجنان، ترجمہ حسین انصاریان، قم،‌ دار العرفان، ۱۳۸۸ش۔
  • قمی، محمدرضا، اماکن زیارتی و سیاحتی عراق، قم، مشعر، ۱۳۷۷ش۔
  • مرعشی، حسین بن محمد، غرر السّیر، تحقیق سہیل زکار، بیروت، دار الفکر، ۱۴۱۷ق/۱۹۹۶م۔
  • مقدس، احسان، راہنمای اماکن زیارتی و سیاحتی در عراق، تہران، مشعر، [۱۳۸۸ش]۔