حفصہ بنت عمر بن خطاب

ویکی شیعہ سے
(حفصہ بنت عمر سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ازواج رسول خدا
امهات المؤمنین.png
خدیجہ بنت خویلد (ازدواج: ۲۵ عام الفیل)

سودہ بنت زمعہ (ازدواج: قبل از ہجرت)
عائشہ بنت ابوبکر (ازدواج: ۱ یا ۲ یا ۴ہجری)
حفصہ بنت عمر (ازدواج: ۳ہجری)
زینب بنت خزیمہ (ازدواج: ۳ہجری)
ام سلمہ بنت ابوامیہ (ازدواج: ۴ہجری)
زینب بنت جحش (ازدواج: ۵ہجری)
جویریہ بنت حارث (ازدواج: ۵ یا ۶ہجری)
رملہ بنت ابوسفیان (ازدواج: ۶ یا ۷ہجری)
ماریہ بنت شمعون (ازدواج: ۷ہجری)
صفیہ بنت حیی (ازدواج: ۷ہجری)

میمونہ بنت حارث (ازدواج: ۷ہجری)

حَفْصہ بنت عُمَر بْن خَطّاببعثت-سنہ ۴۵ قمری)، پیغمبر اکرم(ص) کے ازواج میں سے تھیں اور بعض احادیث کے مطابق وہ اور عایشہ پیغمبر اکرم(ص) کیلئے مایہ آزار و اذیت ہوا کرتی تھیں۔ سورہ تحریم کی پہلی اور چوتھی آیت اسی موضوع کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

حفصہ کی زندگی کے اہم واقعات میں سے ایک امام علی(ع) کے خلاف عائشہ کے ساتھ مل کر جنگ جمل میں شرکت کرنے کا ارادہ تھا جس پر اس کے بھائی نے اسے منع کیا۔ حفصہ نے پیغمبر اکرم (ص) سے حج، نماز، نکاح اور روزہ سے متعلق احادیث نقل کی ہے۔

زندگینامہ

حفصہ، حضرت عمر اور زینب (عثمان بن مظعون کی بہن) کی بیٹی ہے[1] بعثت سے 5 سال پہلے خانہ کعبہ کی تجدید بنا کے سال پیدا ہوئیں۔[2]

حفصہ نے ہجرت سے پہلے خُنَیس بن حُذافہ سہمی سے شادی کی تھی[3] اور ہجرت کے موقع پر "خنیس" کے ساتھ مدینہ کی طرف کوچ کیا۔ [4] خنیس نے بیمار ہونے کے بادجود جنگ بدر میں شرکت کی [5] اورجنگ کے کچھ عرصہ بعد وفات پائی۔ [6]

پیغمبر اکرم(ص) سے شادی

حفصہ نے اپنے شوہر کے انتقال کے بعد جنگ احد سے دو [7] یا تین ماہ قبل [8] پیغمبر اکرم(ص) سے شادی کی۔[9] بعض تاریخی منابع میں آیا ہے کہ پیغمبر اکرم(ص) سے شادی سے پہلے ابوبکر اور عثمان بن عفان نے بھی ان سے شادی کی پیشکش کی تھی لیکن ان باتوں کے صحیح ہونے میں شک و تردید پایا جاتا ہے۔[10] رسول اکرم(ص) نے ان کا حق مہر ۴۰۰ درہم تعیین فرمایا۔ [11]

پیغمبر اکرم(ص) کے حکم سے "شفا بنت عبداللّہ عَدویہ" جو زمانہ جاہلیت میں لکھنا پڑھنا جانتی تھیں، نے حفصہ کو لکھنا پڑھنا سکھایا۔[12]

پیغمبر اکرم(ص) کو اذیت پہنچانا

جومع حدیثی میں منقول بعض احادیث کے مطابق حفصہ اور عائشہ پیغمبر اکرم(ص) کیلئے مایہ آزار و اذیت ہوا کرتی تھیں۔ صحیح مسلم میں خلیفہ دوم سے منقول ہے:

"عائشہ کے پاس جا کر کہا:‌اے ابوبکر کی بیٹی کیا تم اس مقام پر پہنچی ہو کہ رسول خدا کو اذیت دیتی ہو؟! اس نے کہا:‌اے خطاب کے بیٹے! تمہیں مجھ سے کیا کام؟ اپنی بیٹی کی مشکلات کی فکر کرو! اس وقت میں حفصہ کے پاس گیا اور کہا: کیوں پیغمبر خدا(ص) کو اذیت پہنچاتی ہو؟ خدا کی قسم تم خود خود جانتی ہو کہ رسول خدا(ص) تم سے محبت نہیں کرتے ہیں اگر میں نہ ہوتا تو تمہیں کب سے طلاق دی ہوتی۔" [13]

بعض منابع اس بات کی حکایت کرتی ہیں کہ پیغمبر اکرم(ص) نے انہیں طلاق دے دی تھی[14] لیکن بعد میں رجوع کیا تھا.[15]

بعض مؤرخین کے مطابق پیغمبر اکرم(ص) نے طلاق کا ارادہ کیا تھا لیکن جبرئیل نے آپ کو اس کام سے منع کیا۔[16] وہ احادیث جن میں حفصہ کی طلاق کی بات کی ہے ان میں رجوع کرنے کو جبرئیل کی سفارش پر انجام پانے کی تائید کی گئی ہے۔[17] یہ احادیث عموما اہل حدیث اور حنبلیوں کے منابع میں پائی جاتی ہے اس وجہ سے ان کے صحیح ہونے کے بارے میں شک و تردید پایا جاتا ہے۔[18]

سورہ تحریم کی پہلی اور چوتھی آیت میں ان کی طرف سے پیغمبر اکرم(ص) کو دی جانے والی اذیت و آزار کی طرف اشارہ ملتا ہے۔[19]

اس داستان کو اہل سنت کی اکثر منابع میں دیکھا جا سکتا ہے۔[20] یہاں تک کہ بخاری نے بھی اسے بیان کیا ہے۔[21] بخاری اس حوالے سے خلیفہ دوم سے ایک اور روایت کو نقل کرتے ہیں جس کے مطابق عائشہ اور حفضہ دونوں کے پیغمبر اکرم(ص) کے خلاف ہم پیمان ہونے کی بات کی ہے۔[22] قرطبی[23] ابن قیم کے مطابق [24]حتی سورہ تحریم کی آیت نمبر 10 [25] کو بخی عائشہ اور حفصہ کو ڈرانے کیلئے نازل ہوئی ہے۔

حفصہ اور عائشہ پیغمبر اکرم(ص) کی بیماری کے دوران جب اس بات کی طرف متوجہ ہوئے کہ پیغمبر اکرم(ص) حضرت علی(ع) کو اپنی جگہ مسجد میں نماز کیلئے بھیج رہے ہیں تو انہوں نے اپنے اپنے والد کے پاس جا کر انہیں پیغمبر اکرم(ص) کے ہاں لے آئیں۔[26]

عثمان کے دور خلافت میں

عثمان بن عفان کے دور خلافت میں حفصہ نے اپنی کنیز جس نے اس پر جادو کیا ہوا تھا کو قتل کرنے کا حکم صادر کیا تھا یہ چیز عثمان کی نارضایتی کا موجب بن گئی تھی۔[27]

کہا جاتا ہے کہ حفصہ نے مصحف (قرآن) کے کاتبین سے کہا تھا کہ جب سورہ بقرہ کی آیت 238 پر پہنچے تو اسے خبر دے دیں تاکہ آیت کو جس طرح وہ خود چاہتی تھی لکھی جائے۔[28]

اپنے والد عمر بن خطاب کی وفات کے بعد ان کی وصیت کے مطابق قرآن کے صحیفوں کو جسے ابوبکر کی خلافت کے دوران تدوین کیا گیا تھا، کو اپنے پاس محفوظ رکھا اور جب عثمان نے قرآن کی کتابت کو آخری شکل دینے اور تمام قرآنی صحیفوں کو یکساں کرنے لگے تو انہیں عثمان کے ہاتھوں تھما دیا اور جب قرآنی صحیفوں کی کتابت کا کام مکمل ہوا تو عثمان نے انہیں حفصہ کو واپس کر دیا۔[29]

جنگ جمل شرکت نہ کرنا

اصل مضمون: جنگ جمل

حفصہ کی زندگی کے دیگر اہم واقعات میں سے ایک عائشہ کے ساتھ مل کر حضرت علی(ع) کے خلاف بغاوت اور جنگ جمل کا فتنہ ہے لیکن اس کے بھائی نے اسے اس جنگ میں براہ راست شرکت کرنے سے باز رکھا۔[30]

جب حضرت علی(ع) ذی قار کے مقام پر پہنچے تو عائشہ نے حفصہ کو ایک خط لکھا جس میں حضرت علی(ع) اور آپ کے سپاہیوں کے محاصرہ ہونے کی خبر دے دی تو حفصہ نے خوشی سے بنی تیم اور بنی عدی کے بچوں کو جمع کیا اور اپنی کنیزوں کے ہاتھوں ڈھول وغیرہ دے کر اشعار پڑھنے اور رقص کرنے کا حکم دیا۔ جب یہ خبر ام ّسلمہ تک پہنچی تو آپ بہت ناراض ہوئی اور ام کلثوم بنت حضرت علی (ع) کو اپنی نیابت میں بطور ناشناس اس شادی کی محفل میں بھیج کر حفصہ کو سرزنش کی جس پر حفصہ بہت شرمندہ ہوئیں اور اس کام سے ہاتھ اٹھا لیا۔[31]

اہل سنت کے ہاں ان کا مقام

اہل سنت منابع میں حفصہ نے پیغمبر اکرم(ص) سے حج، نماز، نکاح اور روزہ سے متعلق احادیث نقل کی ہیں[32] اور بعض لوگوں جیسے ان کے بھائی عبداللّہ بن عمر، عبداللہ بن صفوان جَمحی، اور عمرو بن رافع نے ان سے روایت کی ہیں.[33] بَقْی‌بن مَخْلَد، در مسند خود، شصت حدیث از حفصہ نقل کردہ است.[34]

اسی طرح اہل سنت فقہی منابع میں بھی حفصہ کے بعض فقہی اجتہادات کا تذکرہ ملتا ہے۔[35]

ابن ابی طاہر(ابن طیفور)[36] نے حفصہ سے منقول خطبوں میں سے دو مشہور خطبوں کو نقل کیا ہے[37]۔ ابن شہر آشوب[38] نے حفصہ سے حضرت فاطمہ(س) کی مدح و سرائی میں ایک شعر نقل کیا ہے.

وفات

حفصہ کی تاریخ وفات میں اختلاف‌ نظر پایا جاتا ہے۔[39] بعض نے سنہ ۲۷ ہجری قمری[40] بعض نے سنہ ۴۱ ہجری قمری[41] کہا ہے لیکن اکثر مؤرخین منجملہ ابن سعد[42] اور زبیر بن بکّار،[43] نے سنہ ۴۵ ہجری قمری کو ذکر کیا ہے۔ مروان بن حکم جو اس وقت مدینہ کا حاکم تھا نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔[44] ان کی میت کو جنۃ البقیع میں سپرد خاک کیا گیا۔ [45]

دمشق میں قبرستان باب الصغیر میں بھی ایک قبر ان سے منسوب ہے۔[46]

حوالہ جات

  1. ابن‌سعد، ج ۸،ص۸۱؛ بلاذری، ۱۴۱۷، ج ۲،ص۵۴؛ طبرانی، ج ۲۳،ص۱۸۶
  2. ابن‌سعد، ج ۸،ص۸۱؛ خرّاط،ص۱۲۱۵
  3. ابوعبیدہ،ص۵۹؛ زبیربن بکّار،ص۳۹؛ طبرانی، ج ۲۳،ص۱۸۶
  4. ابن‌سعد، ج ۸،ص۸۱
  5. بلاذری، ۱۴۱۷، ج۲، ص۵۴
  6. ابن‌سعد، ج ۳،ص۳۹۳، ج ۸،ص۸۱؛ قس ابن‌قتیبہ،ص۱۳۵، نے اس سے کچھ عرصہ بعد تک خنیس کے زندہ ہونے کی طرف اشارہ کیا ہے۔
  7. زبیربن‌بکّار،ص۳۹؛ ابن‌قتیبہ،ص۱۵۸؛ بلاذری، ۱۴۱۷، ج۲، ص۵۴
  8. ابن‌سعد، ج ۸،ص۸۳، ۲۱۷
  9. ابن‌سعد، ج ۸،ص۸۱۸۳؛ بلاذری، ۱۴۱۷، ج ۲،ص۵۴۵۵؛ احمدبن عبداللّہ طبری،ص۶۷۶۸؛ د. اسلام، چاپ دوم، ذیل مادّہ
  10. رجوع کنید بہ ابوعبیدہ،ص۶۰؛ ابن‌سعد،، ج ۸،ص۸۳، ۲۱۷؛ طبرانی، ج ۲۳،ص۱۸۶۱۸۷؛ ابن‌عبدالبرّ، قسم ۴،ص۱۸۱۱
  11. ابن‌ہشام، ج ۴،ص۲۹۴؛ قس زبیربن‌بکّار، ص۳۹،میں حفصہ کے مہر کی مختلف صورتیں بیان ہوئی ہے۔
  12. ابن‌سعد، ج ۸،ص۸۴؛ بلاذری، ۱۴۰۷،ص۶۶۱
  13. صحیح مسلم، ج ۲، ص۱۱۰۵، ح۱۴۷۹
  14. ابوعبیدہ،ص۷۷؛ ابن‌حنبل، ج ۳،ص۴۷۸؛ زبیر بن بکّار،ص۴۰؛ طبرانی، ج ۲۳،ص۱۸۷۱۸۸
  15. ابن‌سعد؛ ج ۸،ص۸۴ ابن‌حنبل،، ج ۳،ص۴۷۸
  16. بلاذری، ۱۴۱۷، ج ۲،ص۵۹؛ طبرانی، ج ۲۳،ص۱۸۸
  17. رجوع کنید بہ ابن‌سعد،ص۸۴۸۵؛ زبیربن بکّار؛ص۴۰ طبرانی، ج۲۳، ص۱۸۸
  18. برای بحثی دربارہ طلاق حفصہ رجوع کنید بہ.خرّاط،ص۴۳۵۷
  19. رجوع کنید بہ محمدبن جریر طبری، جامع، ذیل آیات؛ واحدی نیشابوری،ص۶۸۵۶۸۹؛ احمدبن عبداللّہ طبری،ص۱۴۰۱۴۴؛ ذہبی، ج ۲،ص۲۲۹
  20. حسینی فاطمی، نقد و بررسی دیدگاہ‌ہای موجود دربارہ افشای راز پیامبر(ص) در آیات ابتدایی سورہ تحریم
  21. صحیح البخاری، ج ۵، ص۴۹۶۴، ح۴۹۶۶، کتَاب الطَّلَاقِ، بَاب «لِمَ تُحَرِّمُ ما أَحَلَّ اللہ لک»،
  22. صحیح البخاری، ج ۴، ص۱۸۶۸، ح۴۶۳۰، کتَاب التفسیر، بَاب: وَإِذْ أَسَرَّ النبی إلی بَعْضِ أَزْوَاجِہ حَدِیثًا
  23. قرطبی، الجامع لأحکام القرآن، ج ۱۸، ص۲۰۲
  24. ابن قیم، إعلام الموقعین عن رب العالمین، ج ۱، ص۱۸۹؛ ابن قیم،الأمثال فی القرآن الکریم، ج ۱، ص۵۷،
  25. ضَرَبَ اللَّہ مَثَلاً لِلَّذینَ کفَرُوا امْرَأَۃ نُوحٍ وَامْرَأَۃ لُوطٍ کانَتا تَحْتَ عَبْدَینِ مِنْ عِبادِنا صالِحَینِ فَخانَتاہما فَلَمْ یغْنِیا عَنْہما مِنَ اللَّہ شَیئاً وَقیلَ ادْخُلاَ النَّارَ مَعَ الدَّاخِلینَ التحریم/۱۰
  26. رجوع کنید بہ مفید،ص۴۲۸
  27. مالک‌بن انس، ج ۲،ص۸۷؛ شافعی، ج ۱،ص۲۹۳؛ طبرانی، ج ۲۳،ص۱۸۷
  28. رجوع کنید بہ ابن‌ابی‌داوود،ص۹۶۹۷
  29. بخاری، ۱۴۰۱، ج ۵،ص۲۱۰۲۱۱؛ ابن ابی‌داوود،ص۱۵۱۶، ۲۶
  30. محمدبن‌جریر طبری، تاریخ، ج ۴،ص۴۵۱، ۴۵۴؛ ابن ابی‌الحدید، ج ۶،ص۲۲۵
  31. مفید،ص۲۷۶ ۲۷۷، ۴۳۱؛ ابن ابی‌الحدید، ج ۱۴،ص۱۳؛
  32. ابن‌حنبل، ج ۶،ص۲۸۳۲۸۸؛ طبرانی، ج ۲۳،ص۱۸۹۲۱۸؛ ابن‌کثیر، ج ۱۵،ص۳۶۱ ۳۸۵
  33. مِزّی، ج ۳۵،ص۱۵۴
  34. رجوع کنید بہ ذہبی، ج ۲،ص۲۳۰
  35. رجوع کنید بہ خرّاط،ص۸۵۹۲
  36. ص ۳۶۳۸
  37. نیز رجوع کنید بہ خرّاط،ص۹۴ ۱۰۸
  38. ج ۳،ص۴۰۳
  39. رجوع کنید بہ ابن‌عبدالبرّ، قسم ۴،ص۱۸۱۲؛ ابن‌حجر عسقلانی، ج ۷،ص۵۸۳
  40. الاستیعاب،ج‌۴،ص:۱۸۱۲
  41. الاستیعاب،ج‌۴،ص:۱۸۱۲
  42. ج ۸،ص۸۶
  43. ص ۴۰
  44. ابن‌سعد، ج ۸،ص۸۶؛ قس احمدبن عبداللّہ طبری،ص۶۹، کہ گفتہ برادر حفصہ، عبداللّہ‌بن عمر، بر او نماز گزارد.
  45. ابن‌سعد؛ ج ۸،ص۸۶زبیربن‌بکّار،ص۴۰؛ طبرانی، ج ۲۳،ص۱۸۹
  46. شام میں اہل بیت اور اصحاب ائمہ(ع) کی زیارت گاہیں مصنف:احمد خامہ‌یار

مآخذ

  • ابن ابی الحدید، شرح نہج‌البلاغۃ، چاپ محمد ابوالفضل ابراہیم، قاہرہ ۱۳۸۵ ۱۳۸۷/ ۱۹۶۵۱۹۶۷، چاپ افست بیروت، (بی‌تا).
  • ابن‌ابی‌داوود، کتاب‌المصاحف، بیروت ۱۴۰۵ق/۱۹۸۵م.
  • ابن‌ابی‌طاہر، بلاغات‌النساء، چاپ یوسف بقاعی، بیروت ۱۴۲۰/۱۹۹۹.
  • ابن‌حجر عسقلانی، الاصابۃ فی تمییزالصحابۃ، چاپ علی‌محمد بجاوی، بیروت ۱۴۱۲/۱۹۹۲.
  • ابن‌حنبل، مسند الامام احمدبن حنبل، بیروت: دارصادر، (بی‌تا).
  • ابن‌سعد، الطبقات‌الكبرى، چاپ احسان عباس، بيروت ۱۴۰۵/ ۱۹۸۵.
  • ابن‌شہرآشوب، مناقب آل ابی‌طالب، چاپ یوسف بقاعی، قم ۱۳۸۵ش.
  • ابن‌عبدالبرّ، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، چاپ علی‌محمد بجاوی، قاہرہ (۱۳۸۰/ ۱۹۶۰).
  • ابن‌قتیبہ، المعارف، چاپ ثروت عکاشہ، قاہرہ ۱۹۶۰.
  • ابن قیم، محمد بن أبی بکر، إعلام الموقعین عن رب العالمین، تحقیق طہ عبد الرؤوف سعد،‌دار الجیل، بیروت، ۱۹۷۳.
  • ابن‌کثیر، جامع المسانید و السنن الہادی لاقوم سنن، چاپ عبدالمعطی امین قلعجی، بیروت ۱۴۱۵/۱۹۹۴.
  • ابن‌ہشام، السیرۃالنبویۃ، چاپ مصطفی سقا، ابراہیم ابیاری، و عبدالحفیظ شلبی، بیروت: داراحیاء التراث‌العربی، (بی‌تا).
  • معمربن مثنی ابوعبیدہ، تسمیۃ أزواج‌النبی‌صلی‌اللّہ‌علیہ‌و سلم و اولادہ، چاپ کمال یوسف حوت، بیروت ۱۴۱۰/۱۹۹۰.
  • محمدبن اسماعیل بخاری، صحیح البخاری، (چاپ محمد ذہنی‌افندی)، استانبول ۱۴۰۱/۱۹۸۱.
  • محمدبن اسماعیل بخاری، کتاب‌التاریخ‌الکبیر، (بیروت?۱۴۰۷/ ۱۹۸۶).
  • احمدبن یحیی بلاذری، فتوح‌البلدان، چاپ عبداللّہ انیس طبّاع و عمرانیس طبّاع، بیروت ۱۴۰۷/۱۹۸۷.
  • احمدبن یحیی بلاذری، کتاب جُمَل من انساب الاشراف، چاپ سہیل زکار و ریاض زرکلی، بیروت ۱۴۱۷/۱۹۹۶.
  • امینہ خرّاط، امّالمؤمنین حفصۃ بنت عمر: الصّوّامۃ القوّامۃ، دمشق ۱۴۲۱/۲۰۰۰.
  • ذہبی، محمدبن احمد، سير اعلام‌النبلاء، چاپ شعيب أرنؤوط و ديگران، بيروت ۱۴۰۱ـ۱۴۰۹/ ۱۹۸۱ـ۱۹۸۸.
  • محمود رامیار، تاریخ قرآن، تہران ۱۳۶۲ش.
  • بخاری، محمد بن إسماعیل(۲۵۶ق)، صحیح البخاری،، تحقیق د. مصطفی دیب البغا، دار ابن کثیر، الیمامۃ، بیروت، الطبعۃ الثالثۃ، ۱۴۰۷ش.
  • زبیربن بکّار، المنتخب من کتاب أزواج النبی صلی‌اللّہ‌علیہ‌وسلم، چاپ سکینہ شہابی، بیروت ۱۴۰۳/۱۹۸۳.
  • محمدبن ادریس شافعی، الاُمّ، بیروت ۱۴۰۳/۱۹۸۳.
  • صبحی صالح، مباحث فی علوم‌القرآن، بیروت ۱۹۶۸، چاپ افست قم ۱۳۶۳ش.
  • سلیمان‌بن احمد طبرانی، المعجم الکبیر، چاپ حمدی عبدالمجید سلفی، چاپ افست بیروت ۱۴۰۴؟۱۴۰.
  • احمدبن عبداللّہ طبری، السَّمط الثَّمین فی مناقب أمّہات المؤمنین، قاہرہ (۱۴۰۲/ ۱۹۸۳).
  • طبری، محمدبن جرير، تاريخ‌الطبرى: تاريخ‌الامم والملوك، چاپ محمد ابوالفضل ابراہيم، بيروت، ۱۳۸۲ـ۱۳۸۷/۱۹۶۲ـ ۱۹۶۷.
  • طبری، محمدبن‌جرير، جامع‌البيان‌عن‌تأويل آى‌القرآن، مصر۱۳۷۳/۱۹۵۴.
  • قرطبی، ابوعبد اللہ محمد بن أحمد(۶۷۱ق)، الجامع لأحکام القرآن،‌دار الشعب القاہرۃ.
  • مالک‌بن انس، المُوَطَّأ، چاپ محمدفؤاد عبدالباقی، (قاہرہ) ۱۳۷۰/۱۹۵۱.
  • یوسف‌بن عبدالرحمان مِزّی، تہذیب الکمال فی اسماء الرجال، چاپ بشار عواد معروف، بیروت ۱۴۲۲/۲۰۰۲.
  • محمدبن محمد مفید، الجمل و النُصرۃ لسیدالعترۃ فی حرب‌البصرۃ، چاپ علی میرشریفی، قم ۱۳۷۴ش.
  • مسلم نیشابوری، مسلم بن الحجاج(۲۶۱ہ)، صحیح مسلم، تحقیق محمد فؤاد عبد الباقی،‌دار إحیاء التراث العربی، بیروت.
  • علی‌بن احمد واحدی نیشابوری، اسباب نزول‌القرآن، روایۃ بدرالدین ابی‌نصر محمدبن عبداللّہ ارغیانی، چاپ ماہر یاسین فحل، ریاض ۱۴۲۶ق/۲۰۰۵م.