آمنہ بنت وہب سلام اللہ علیہا

ویکی شیعہ سے
(آمنہ بنت وہب سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
آمنہ بنت وہب
شناختی معلومات
مکمل نام آمنہ بنت وہب
کنیت امُّ مُحَمَّد
لقب طیار اور ذوالجناحین
میلاد/مولد 76 سال قبل از ہجرت/ 63 سال قبل از بعثت / 23 سال قبل از عام الفیل؛ بمقام مکہ
مسکن مکہ
نسب قریشیہ
نامور اقرباء عبداللہ بن عبدالمطلب (شریک حیات)، پیغمبر اکرم(ص) (فرزند)
تاریخ و مقام وفات سنہ 7 عامل الفیل، مکہ اور مدینہ کے درمیان بمقام ابواء
سبب وفات علالت
مدفن منطقۂ ابواء
دینی معلومات
اعتقادی کیفیت صاحب ایمان
کردار
پیغمبر اسلام(ص) کی والدہ

آمِنہ بنت وَہْب (سال وفات 46 قبل از ہجرت/576 ع‍)، رسول اللہ(ص) کی والدہ ماجدہ اور قریش کی محترم ترین خاتون ہیں جن کی ہجرت سے 54 یا 53 سال پہلے عبداللہ بن عبدالمطلب علیہ السلام سے شادی ہوئی۔ اس پیوند کے نتیجے میں انھوں نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ کو جنم دیا۔ رسول اللہ(ص) 6 یا 4 سال کے تھے کہ آمنہ مدینہ سے مکہ واپسی کے وقت ابواء کے مقام پر وفات پاگئیں۔

ولادت اور نسب

آمنہ بنت وہب بن عبد مناف بن زہرہ بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لؤی بن غالب بن فہر بن مالک بن النضر بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن إلیاس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان۔[1]

آمنہ بنت وہب کی صحیح تاریخ ولادت معلوم نہیں ہیں لیکن کہا گیا ہے کہ عبداللہ بن عبدالمطلب نے ان کا رشتہ مانگا تو ان کی عمر 24 سال تھی۔[2]

چنانچہ وہ تقریبا 64 سال قبل از بعثت پیدا ہوئی ہیں۔ آمنہ اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھیں اسی بنا پر مشہور ہے کہ نہ رسول اللہ(ص) کا کوئی ماموں تھا نہ کوئی خالہ[3] بعض مآخذ کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے چچا وہیب کی سرپرستی حاصل تھی[4]۔[5] ان کے بقول اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے والد کا انتقال ہوا تھا؛[6] لیکن یہ روایت یقینی نہیں ہے۔ انہیں قریشی خواتین میں سے سے برتر و افضل خاتون کے عنوان سے یاد کیا گیا ہے[7] مروی ہے کہ جب کئی عربوں کے ہاں بیٹی کی پیدائش باعث خجلت ہوتی تھی، آمنہ اپنی قوم اور خاندان میں خاص احترام و عظمت رکھتی تھیں۔[8]۔[9]۔[10] یا آپ(ص) نے فرمایا: "أنا ابن العَواتِكِ والفواطم:یعنی میں عاتکہ اور فاطمہ کے نام والی خواتین کا فرزند ہوں۔[11]

آمنہ مکہ میں پیدا ہوئیں۔[12] ان کے والد پدرش «وَہَب»، ان دنوں بنو زہرہ کے زعیم تھے اور ان کے جد امجد عبد مناف بن زہرہ تھے جو اپنے چچا زاد بھائی عبد مناف قصی تھے اور وہ دونوں احتراما منافَین کہلاتے ہیں۔ ان کے والد کی دادی "عاتکہ بن اوقص بن مرہ بن ہلال السلیمہ" ہیں جو سہ گانہ عواتک میں ہیں جن پر فخر فرمایا کرتے تھے کہ عواتک ثلاث کی اولاد میں سے ہیں۔ آپ(ص) فرمایا کرتے تھے کہ "أنا ابن العَواتِكِ مِن سُلَیم: یعنی میں بنی سلیم کی عاتکاؤں کا فرزند ہوں"۔۔[13]۔[14]۔[15] ان کی والدہ بَرّہ بنت عبدالعزی اور نانی ام حبیب بنت اسد بن عبدالعزی بن قصی اور ام حبیب کی والدہ برہ بنت عوف ہیں۔[16]

رسول اللہ(ص) نے فرمایا: "لم يزل ينقلني الله من أصلاب الطاهرين إلى أرحام المطهرات حتى أخرجني في عالمكم هذا لم يدنسني بدنس الجاهلية۔": یعنی خداوند متعال نے مجھے مسلسل پاک مردوں کی صلبوں سے پاکیزہ خواتین کو کوکھوں میں منتقل کرتا رہا حتی کہ تمہاری اس دنیا میں وارد کیا اور اس نے مجھے جاہلیت کی پلیدیوں سے آلودہ نہیں ہونے دیا۔[17]۔[18]۔[19]۔[20]۔[21]۔[22]۔[23] رسول اللہ(ص) نے فرمایا: "لَمْ يَلْتَقِ أَبَوَايَ فِي سِفَاحٍ ، لَمْ يَزَلِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يُنَقِّلُنِي مِنْ أَصْلابٍ طَيِّبَةٍ إِلَى أَرْحَامٍ طَاهِرَةٍ ، صَافِيًا ، مُهَذَّبًا ، لا تَتَشَعَّبُ شُعْبَتَانِ إِلا كُنْتُ فِي خَيْرِهِمَا: یعنی خداوند متعال نے مجھے پاک صلبوں سے مطہر رَحِموں میں، خالص اور نفیس حالت میں، منتقل کیا؛ جب بھی کہیں یہ اصلاب و ارحام شاخوں میں تقسیم ہوئیں میں بہترین شاخ میں قرار پایا۔[24]

چنانچہ مذکورہ تفصیلات سے حضرت آمنہ کی طہارت اور پاکیزگی اور شرک و کفر سے عدم آلودگی ثابت ہے۔

عبداللہ کے ساتھ شادی

بعض ایک جیسی روایات کے مطابق روز پیدائش سے لے کر شادی کی شب تک عبداللہ بن عبدالمطلب کی پیشانی میں ایک خاص قسم کا نور [نور نبوت][25] جھلک رہا تھا جس کی وجہ سے ایک خثعمی عورت۔[26]۔[27]۔[28] اور ورقہ بن نوفل کی بہن[29]۔[30] کی بہن "فاطمہ خثعمیہ"[31]۔[32]، یا لیلی عدویہ[33] نے ان کی طرف رغبت دکھائی۔ وہ اس نور کو چاہتی تھیں جس کے بموجب انھوں نے عبداللہ کو شادی یا ہمبستری کی پیشکش کی۔[34]

عبداللہ نے رغبت دکھانے والی عورت کا جواب دیتے ہوئے فرمایا:

أمّـا الحرامُ فَـ الحِمامُ / المماتُ دونَهُ
والـحِلّ لا حِـلّ فـأستبينُهُ
فكيف بالأمر الذي تبغينَهُ
يحمي الكريمُ عِرضَهُ ودِينَهُ
تمہاری حرام خواہش بر لانے سے موت بہتر ہے ؛ حلال خواہش کا کوئی راستہ نہیں ہے جس پر میں غور کروں؛ پس میں کیونکر تمہاری اس خواہش سے اپنے آپ کو آلودہ کروں گا؛ [جبکہ] جوانمرد انسان اپنے دین و آبرو کا تحفظ کرتا ہے[35]۔[36]


عبداللہ بن عبدالمطلب کا یہ جواب ـ جس میں جاہلیت اور جرم و گناہ کے اس ماحول میں دین و ناموس کی حفاظت اور حلال و حرام کی پابندی کی جھلک صاف واضح ہے ـ خود ان کے ایمان راسخ اور اعتقاد خالص کا ثبوت ہے۔

آمنہ کے ساتھ شادی کے بعد یہ نور آمنہ کی طرف منتقل ہوا[37] اور عبداللہ کے چہرے سے غائب ہوا اسی بنا پر آمنہ کے ساتھ شادی اور زفاف کے بعد ان عورتوں نے دوبارہ آپ کی طرف رغبت کا اظہار نہیں کیا۔ تاریخی مآخذ میں ہے کہ یہودی عبداللہ کے دشمن تھے اور ان کے قتل کے منصوبے بنایا کرتے تھے جس کہ وجہ ان کے چہرے میں دکھائی دینے والا نور تھا۔[38]

ان دو بزرگواروں اور رسول اللہ الاعظم(ص) کے والدین ماجدین کی شادی کا جشن مسرت تین شب و روز تک جاری رہا۔ ان ایام کے دوران عبداللہ نے اپنے قبیلے کی رسم کے مطابق دلہن کے گھر میں قیام کیا۔[39]

جس گھر میں عبداللہ آمنہ کی بارات لے کر آئے اس میں پتھر کی سیڑھیاں بنی ہوئی تھیں اور یہ سیڑھیان شمال کی طرف کھلنے والے دروازے سے متصل تھیں جہاں سے گھر کے اگواڑے میں داخل ہوا جاسکتا تھا اور اس کی لمبائی 12 میٹر اور چوڑائی 6 میٹر تھی۔ دائیں جانب کی دیوار میں دروازہ لگا ہوا تھا جو ایک گنبد کی جانب کھلتا تھا۔ اس اگواڑے کے وسط میں (مغربی دیوار سے قریب تر،) لکڑی کا بنا ہوا کمرہ تھا جس کو دلہن کے کمرے کے عنوان سے مد نظر رکھا گیا تھا۔[40]

عبداللہ کی ناگہانی وفات

آمنہ اور عبداللہ کی مشترکہ زندگی زیادہ عرصہ جاری نہ رہ سکی اور شادی کے چند روز بعد عبداللہ تجارتی سفر پر نکلے اور واپسی کے دوران یثرب میں بیمار پڑھ گئے اور دنیا سے رخصت ہوئے۔ ان کی وفات کی خبر سن کر آمنہ نے کچھ اشعار اپنے شریک حیات کے سوگ میں کہے ہیں:

آمنہ کا مرثیہ

عفا جانب البطحاء من آل هاشم ٭ وجاور لحدا خارجا في الغماغم
دعته المنايا دعوة فأجابها ٭ وما تركت في الناس مثل ابن هاشم
عشية راحوا يحملون سريره ٭ تعاوره أصحابه في التزاحم
فإن تك غالته المنون و ريبها ٭ فقد كان معطاء کثير التراحم

القسطلانی، المواهب اللدنیۃ بالمنح المحمدیۃ، ج1، ص75۔
اشعار کا ترجمہ

سرزمین بطحاء کے پہلو میں فخر آل ہاشم کے موت کے منہ میں چلا گیا
اور لحد کے ہمجوار ہوا جبکہ عظمت اور سخاوت میں سربرآورہ ہوچکے تھے
موت نے [ناگہانی طور پر] اس کو دعوت دی اور اس نے قبول کرلی
لیکن اس [موت] نے ہاشم کے فرزند کا کوئی جانشین [یا بدیل و مثیل] نہیں چھوڑا
بوقت شب ان کا جنازہ اٹھایا گیا
اور دوست انہیں ایک ہجوم میں لے کر جارہے تھے
حوادث زمانہ نے ایسے انسان کو موت کے منہ میں دھکیل دیا
بو سخی الطبع اور مہربانی سے سرشار قلب کا مالک تھا

عائشۃ عبدالرحمن، آمنہ مادر پیغمبر، ص123

بعض روایات کے مطابق عبداللہ بن عبدالمطلب رسول اللہ(ص) کی ولادت کے کچھ ہی عرصہ بعد دنیا سے رخصت ہوئے۔[41] بعض کا کچھ کہنا ہے کہ قربان سے بچنے کے بعد ان کی ناگہانی موت کی حکمت یہ تھی کہ عبداللہ آمنہ کے ساتھ شادی کریں اور اس رشتے سے پیغمبر اکرم(ص) دنیا میں تشریف فرما ہوں۔[42]

رسول اللہ(ص) کی ولادت

مفصل مضمون: حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ

قریش کی کاہنہ سودا بنت زہرہ کلابیہ نے ایک روز بنو زہرہ سے کہا: تمہارے درمیان ایک انذار کرنے والی (= ڈرانے والی یا متنبہ کرنے والی) یا ایک پیغمبر کو جنم دینے والی خاتون ہے۔ اپنی لڑکیاں مجھے دکھاؤ۔ انھوں نے ایسا ہی کیا۔ کاہنہ ان سے ملی اور ان کے ساتھ گفتگو کی۔ اس نے آمنہ کے بارے میں کہا: "یہ یا تو خود پیغمبر ہے یا ایک پیغمبر کی ماں بننے والی ہے۔[43]۔[44]

آمنہ محمد(ص) کے حمل کے ایام کے بارے میں کہتی ہیں: مجھے معلوم نہ ہوسکا کہ حاملہ ہوں، اور دوسری حاملہ خواتین کی طرح بھاری پن محسوس نہیں کرتی تھی۔ کوئی خواب اور جاگتے کی حالت میں میرے پاس آیا اور کہا: کیا تم سوچ سکتی ہو کہ حاملہ ہو؟ میں نے لاعلمی کا اظہار کیا تو اس نے کہا: تم اس امت کے سید و سرور پر حاملہ ہو۔[45] دوسری روایت میں ہے کہ آمنہ نے کہا: حمل کے وقت گویا کسی نے مجھ سے مخاطب ہوکر کہا: تو اس امت کے سید و سرور پر حاملہ ہو جو اس کو جنم دوگی تو کہہ دو۔ أُعیذُهُ بِالواحِدِ * مِن شَرِّ كُلِّ حاسِدٍ * وَكُلِّ خَلقٍ مارِدٍ * یَأخُذُ بِالمَراصِدِ * فِي طُرُقِ المَوارِدِ * مِن قائِمٍ وَقاعِدٍ: میں اس کو تمام حاسدوں کے شر سے خدائے یکتا کے سپرد کرتی ہیں، اور تمام سرکش انسانوں کے شر سے جو کمین گاہوں میں بیٹھے ہیں، اور ان راستوں میں جو ان کے داخلے کی راہیں ہیں خواہ وہ کھڑے ہوں خواہ بیٹھے ہوں۔[46] اور اس پر محمد کا نام رکھو۔[47]

آمنہ بنت وہب سلام اللہ علیہا کے بطن مطہر سے بروز 17 ربیع الاول عام الفیل رسول اکرم(ص) متولد ہوئے۔ اہل سنت کا قول مشہور یہ ہے کہ رسول اللہ(ص) کا یوم ولادت 12 ربیع الاول ہے۔[48] اس فرزند ارجمند کی ولادت نے بنو ہاشم کے لئے مسرت کے موجبات فراہم کئے؛ یہاں تک کہ ابو لہب کو اس کی کنیز ثویبہ اسلمیہ نے آپ(ص) کی ولادت کی خوشخبری سنائی تو اس نے کنیز کو آزاد کردیا۔[49] حضرت عبدالمطلب(ع) نے اس فرزند کا نام محمد رکھا او رجب قریشیوں نے سبب پوچھا تو فرمایا: چاہتا ہوں کہ آسمانوں میں اور زمین پر اس کی تعریفیں کی جاتی رہیں۔[50]

دایہ کی تلاش

آمنہ محمد(ص) کی ولادت کے بعد آپ(ص) کے لئے دایہ کی تلاش میں تھیں لیکن آپ(ص) یتیم تھے اور خود بھی مال و دولت کے مالک نہیں تھیں لہذا کوئی عورت بھی آپ(ص) کی دایگی قبول کرنے کے لئے تیار نہ تھی۔ دایہ بننے والی خواتین ـ جو مکہ آئی تھیں ـ شام تک قریشیوں کے بچے لے چکی تھیں اور آخر کار حلیمہ سعدیہ نے ـ جن کو اس وقت تک کوئی بچہ نہیں ملا تھا اور وہ بھی صبح کے وقت محمد(ص) کی دایہ بننے سے انکار کرچکی تھیں ـ آپ(ص) کو قبول کرلیا۔ عبدالمطلب نے ان کا نام سن کر "حلم" و "سعد" کے الفاظ دہرا کر خوشی سے اپنا فرزند ان کے سپرد کردیا۔[51]

حلیمہ کو شام تک کوئی بچہ نہ ملا تو شوہر سے کہنے لگیں کہ بنو سعد کی عورتیں رضاعی بچے لے کر جارہی ہیں اور میں نامراد اپنے قبیلے میں پلٹ رہی ہوں؛ وہ روئیں اور شوہر نے ان سے کہا: مت رؤو جاؤ اسی بجے کے پاس اور اسی کو گود لے لو امید ہے کہ خداوند متعال اسی خیر کثیر قرار دے گا؛ بے شک ان کے دادا صاحب خیر و احسان ہیں۔ چنانچہ وہ عبدالمطلب کی طرف لوٹیں اور انہیں صبح کا ماجرا یاد دلایا۔ عبدالمطلب اٹھے اور انہیں آمنہ کے گھر لے گئے اور انہیں اس واقعے کی خبر دی اور انہیں ان کا نام اور ان کی قوم کا نام بتایا۔ آمنہ نے کہا: یہ وہی خاتون ہے جس کو اپنا فرزند سپرد کرنے کا مجھے حکم ملا ہے۔ چنانچہ عبدالمطلب اٹھے اور انہیں گھر کے اندر لے آئے اور حلیمہ سے کہا: اے حلیمہ! تمہیں بشارت ہو کہ اس نومولود کی وجہ سے سعادت اور خوشبختی پاؤگی۔، اور یوں حلیمہ محمد(ص) کو اپنے ساتھ صحرا لے گئی۔[52]

حلیمہ سعدیہ نے محمد کو دو سال تک دودھ پلانے کے بعد آپ(ص) کو مکہ میں اپنی والدہ کے پاس لے آئیں؛ تاہم چونکہ اس طفل سعید کی وجہ سے انہیں برکتیں ملی تھیں اور مکہ میں پھیلنے والی وبا سے ان کا قبیلہ محفوظ رہا تھا چنانچہ انھوں نے آمنہ سے درخواست کی کہ انہیں اجازت دیں کہ محمد(ص) کو مزید کچھ عرصہ صحرا لے جائیں اور اپنے پاس رکھ لیں؛ چنانچہ آمنہ نے ان کی درخواست قبول کرلی۔[53] آخر کار حلیمہ نے سنہ 6 عام الفیل میں محمد(ص) کو ـ ولادت کے 5 سال اور دو روز اپنے پاس رکھنے کے بعد ـ والدہ کے پاس لوٹا دیا۔[54]

مدینہ کا سفر اور وفات

آمنہ کی قبر ابواء میں

آمنہ، سنہ 7 عام الفیل میں اپنے فرزند کو والد عبداللہ بن عبدالمطلب کی قبر کی زیارت کی غرض سے مدینہ میں عبداللہ کے ننھیال کے ہاں لے گئیں جن کا تعلق قبیلہ بنو نجار سے تھا۔ وہ مدینہ سے لوٹتے ہوئے بیمار ہوئیں اور ابواء کے مقام پر وفات پا گئیں اور وہیں مدفون ہوئیں۔ ام ایمن محمد(ص) کو مکہ لے آئیں اور پانچ دن کے سفر کے بعد مکہ پہنچیں۔[55]

استغفار نبی(ص) کا ماجرا

کچھ قلم فرساؤں نے لکھا ہے کہ رسول اکرم(ص) نے غزوہ تبوک سے واپسی کے بعد عمرہ بجا لانے کا ارادہ کیا چنانچہ آپ(ص) مدینہ سے مکہ کی طرف عازم ہوئے۔ پس جب آپ(ص) اپنی والدہ کی قبر پر پہنچے تو خداوند متعال سے التجا کی کہ آپ(ص) کو اپنی والدہ کے لئے دعائے مغفرت کا حکم دے؛ لیکن آپ(ص) کی التجا قبول نہیں ہوئی اور یہ آیت نازل ہوئی:

"وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ إِلاَّ عَن مَّوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِلّهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لأوَّاهٌ حَلِيمٌ (ترجمہ: اور ابراہیم کا دعائے مغفرت کرنا اپنے باپ کے لیے نہ تھا مگر ایک وعدہ کی رو سے جو انہوں نے کیا تھا اس سے مگر جب ثابت ہو گیا ان پر کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو انہوں نے اس سے اظہار برات کر دیا، بلاشبہ ابراہیم غم خوار انسان تھے، تحمل سے کام لینے والے) [ سورہ توبہ–114] "۔[56]

نیز ابن مسعود سے مروی ہے کہ وہ کہتے ہیں: ایک دن رسول اللہ(ص) مسلمین کی قبروں کی زیارت پر گئے اور ہم بھی آپ(ص) کے ہمراہ گئے۔ آپ(ص) ایک قبر کے سامنے بیٹھ گئے اور روئے اور دعا کرتے رہے۔ ہم بھی روئے اور آپ(ص) کے ساتھ دست بدعا ہوئے۔ آپ(ص) نے ہم سے پوچھا کہ "تم کس لئے رو رہے ہو؟" ہم نے عرض کیا کہ آپ روئے تو ہمیں بھی رونا آیا۔ آپ(ص) نے فرمایا: "یہ میری والدہ آمنہ کی قبر ہے جس کے سامنے میں بیٹھا ہوا ہوں۔ خداوند متعال نے مجھے والدہ کی قبر کی زیارت کی اجازت دے دی لیکن مجھے ان کے لئے استغفار کی اجازت نہیں ملی اور یہ آیت نازل ہوئی:

"مَا کانَ لِلنَّبِی وَالَّذِينَ آمَنُواْ أَن يسْتَغْفِرُواْ لِلْمُشْرِکينَ وَلَوْ کانُواْ أُوْلِی قُرْبَی مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ (ترجمہ: پیغمبر کو اور انہیں جو ایمان لائے ہیں، یہ حق نہیں کہ وہ دعائے مغفرت کریں مشرکوں کے لیے، خواہ وہ [ان کے] اقارب و عزیز کیوں نہ ہوں بعد اس کے کہ ان پر ثابت ہو گیا وہ دوزخ والے ہیں) [ سورہ توبہ–113] "۔[57]

شیعہ اعتقاد کے مطابق یہ روایات صحیح نہیں ہیں کیونکہ شیعہ امامیہ کے درمیان ابو طالب، آمنہ بنت وہب اور عبداللہ بن عبدالمطلب اور تمام اجداد رسول(ص) ـ تا حضرت آدم(ع) کے ایمان پر اجماع پایا جاتا ہے۔[58] یہ روایات تمام شیعہ اور بہت سے سنی مآخذ میں پائی جاتی ہیں۔

امام صادق(ع) فرماتے ہیں کہ آنحضرت(ص) نے فرمایا: "'جبرائیل مجھ پر نازل ہوئے اور کہا اے محمد! خداوند عزّ و جلّ خداوند متعال نے آپ پر درود بھیجتا ہے اور فرماتا ہے': بےشک میں نے آگ کو حرام کردیا ہر صلب پر جس نے آپ کو اتارا ہے اور ہر رَحِم (= کوکھ) پر جس نے آپ کو حمل کیا ہے، اور ہر دامن پر جس نے آپ کو پالا ہے اور آپ کی کفالت کی ہے: وہ صلب، عبداللہ کی صلب ہے اور جس کوکھ نے آپ(ص) کو حمل کیا وہ آمنہ بنت وہب کی کوکھ ہے اور جس دامن نے آپ(ص) کی پرورش کی ابوطالب کا دامن یا بروایت فضال فاطمہ بنت اسد کا دامن ہے۔[59]۔[60]

شیخ صدوق نے امام صادق(ع) سے نقل کیا ہے کہ پیغمبر اسلام(ص) نے امام علی(ع) سے مخاطب ہوکر فرمایا: "عبدالمطلب نے کبھی بھی قمار بازی (= جوا بازی) نہیں کی اور بتوں کی پوجا نہیں کی اور ۔۔۔۔ اور وہ کہا کرتے تھے کہ میں اپنے باپ ابراہیم خلیل(ع) کے دین پر ہوں"۔[61]

نیز شیخ صدوق کہتے ہیں: ہمارا اعتقاد یہ ہے کہ رسول خدا(ص) کے آباء و اجداد آدم(ع) تک، نیز ابوطالب اور رسول اکرم(ص) کی والدہ آمنہ سب مسلمان اور صاحب ایمان تھے۔[62]

علاوہ ازیں شیعہ علماء نے مذکورہ بالا روایات پر جرح کی ہے؛ مثال کے طور علامہ عبدالحسین امینی کہتے ہیں: "(جنگ تبوک رسول اللہ(ص) کی حیات طیبہ کے آخری سالوں میں انجام پائی تو] کیا آپ(ص) اس زمانے تک ـ اتنی ساری آیات کریمہ نازل ہونے کے باوجود جن کا ہم نے تذکرہ کیا[63] یہ تک نہیں جانتے تھے آپ(ص) اور آپ(ص) پر ایمان لانے والے بت پرستوں کے لئے استغفار اور اللہ اور ان کے درمیان وساطت نہیں کرسکتے؟! پس آپ(ص) کیونکر اللہ سے التجا کرتے ہیں کہ آپ(ص) اپنی والدہ کے لئے استغفار و وساطت کا اذن عطا فرمائے؟! کیا آپ(ص) تصور کرتے تھے کہ آپ(ص) کی والدہ دوسرے انسانوں سے الگ تھلگ کوئی اور مخلوق ہیں؟! کیا جاعلین اور واضعین نے یہ روایت گھڑ کر رسول خدا(ص) کی عظمت و عزت کو گھٹانا اور آپ(ص) کی والدہ طیبہ و طاہرہ کے پاک دامن کو بت پرستی کی آلائش سے آلودہ کرکے دکھانا چاہا ہے؟[64] وہ مزید لکھتے ہیں: بعض افراد نے استغفار کو میت پر نماز بجا لانے سے تفسیر کیا ہے[65] اور اس صورت میں وہ استغفار مذکورہ بالا روایات سے ناسازگار ہونگی؛[66] کیونکہ آپ(ص) کے والدین اس دنیا میں نہ تھے اور یہ حکم ان مشرکین کے لئے تھا جو بعد از اسلام سے انتقال کرجاتے ہیں۔

حوالہ جات

  1. ابن ہشام، السیرة النبویۃ، ج1، ص64-65۔
  2. الیعقوبی، تاریخ الیعقوبی، ج2، ص9-10۔
  3. الطبرسی، اعلام الوری، ج1، ص285۔
  4. ابن سعد، الطبقات الکبری، ج1، ص76۔
  5. دائرة المعارف بزرگ اسلامي، ج2، ص217۔
  6. الحسنی، سيرة المصطفی، ص40۔
  7. الطبري، تاريخ طبري، ج2، ص243۔
  8. ابن کثیر، البدايۃ والنہايۃ، ج1، ص307۔
  9. ابن کثیر، السیرة النبویۃ، ج3، ص622-626۔
  10. الصالحي الشامي، سبل الہدى والرشاد، ج5، ص336 اور بعد کے صفحات
  11. الصالحي الشامي، سبل الہدى والرشاد، ج1، ص323 اور بعد کے صفحات۔
  12. عائشۃ عبدالرحمن، آمنہ مادر پیغمبر، ص74۔
  13. عائشۃ عبدالرحمن، آمنہ مادر پیغمبر، ص80-81۔
  14. ابن کثیر، السیرة النبویۃ، ج3، ص622-626۔
  15. الصالحي الشامي، سبل الہدى والرشاد، ج1، ص323؛ ج5، ص336 اور بعد کے صفحات۔
  16. عائشۃ عبدالرحمن، آمنہ مادر پیغمبر، ص81۔
  17. النیسابوری، غرائب القران ورغائب الفرقان، ج4، ص259۔
  18. النيسابوري، تفسير غرائب القران ورغائب الفرقان، ج4، ص259 ۔
  19. الطبرسي، تفسير مجمع البيان، ج4، ص90۔
  20. فخر رازی، تفسیر مفاتیح الغیب، ج13، ص41۔
  21. الآلوسي، تفسير روح المعاني، ج7، ص194-195۔
  22. الشيخ المفيد، أوائل المقالات، ص45-46۔
  23. الشيخ المفيد، تصحيح إعتقادات الإماميۃ، ص139۔
  24. ابو نعیم الاصبہانی، دلائل النبوة، ج1، ص57۔
  25. الصدوق، الامالي، ص336۔
  26. ابن سعد، الطبقات، ج1، ص76-77۔
  27. ابن عساکر، تاريخ دمشق، ج3، ص405۔
  28. ابن شہر آشوب، مناقب آل ابي طالب، ج1، ص26۔
  29. الطبری، تاريخ طبري، ج2، ص6۔
  30. المجلسی، بحار الانوار، ج15، ص114۔
  31. البکری، الانوار، ص76۔
  32. المقریزی، امتاع الاسماع، ج4، ص39۔
  33. البیہقی، دلائل النبوة، ج1، ص105۔
  34. الصدوق، الامالي، ص336۔
  35. السہیلی، الروض الأنف في تفسير السيرة النبويہ لابن ہشام، ج1، ص275 و دیگر کتب و مآخذ۔
  36. ابن کثیر، البدایہ والنہایہ، ج2، ص308۔
  37. الصدوق، الامالي، ص336۔
  38. البکری، الانوار، ص62۔
  39. النویری، نہایۃ الارب، ج 16، ص57۔
  40. عائشۃ عبدالرحمن، آمنہ مادر پیغمبر [أم الرسول محمد آمنۃ بنت وہب]، ص103 بحوالۂ: الرحلۃ الحجازیۃ محمد لبیب البتنونی۔
  41. آیتی، تاریخ پیغمبر اسلام، ص41۔
  42. عائشۃ عبدالرحمن، آمنہ مادر پیغمبر، ص128۔
  43. عائشۃ عبدالرحمن، آمنہ مادر پیغمبر، ص114 بحوالہ از " السہيلي، عبد الرحمن بن عبد الله، الروض الأنف في تفسير السيرة النبويۃ لابن ہشام، ج1، ص4۔
  44. الصالحي الشامي، سبل الہدى والرشاد، ج1، ص325۔
  45. النویری، نہایۃ الارب، ج 16، ص64۔
  46. الراوندي، الخرائج والجرائح، ج1، ص70 و دیگر شیعہ اور سنی مآخذ۔
  47. ابن ہشام، السیرة النبویۃ، ج1، ص158۔
  48. آیتی، تاریخ پیغمبر اسلام، ص43۔
  49. عائشة عبدالرحمن، آمنه مادر پیامبر، ص150۔
  50. عائشۃ عبدالرحمن، آمنہ مادر پیغمبر، ص153۔
  51. ابن ہشام، السیرة النبویۃ، ص164-162۔
  52. البکری، الانوار، ص198۔
  53. ابن ہشام، السیرة النبویۃ، ص164-162۔
  54. ابن عبد البر، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، ج1، ص29۔
  55. ابن عبدالبر، الاستیعاب فی معرفۃ الأصحاب، ج1، ص30۔
  56. السیوطی، الدر المنثور فی التفسیر بالماثور، ج3، ص283۔
  57. سیوطی، الدر المنثور فی التفسیر بالماثور، ج3، ص284۔
  58. آیتی، تاریخ پیغمبر اسلام، ص 42۔
  59. صدوق، علل الشرائع، ج1، ص177۔
  60. کلینی، الکافی، ج1، ص446۔
  61. صدوق، خصال، ج‏1، ص455۔
  62. صدوق، الاعتقادات، ص110۔
  63. رجوع کریں: الغدیر عربی متن/طبع 5: ج8/ص10-12۔
  64. امینی، الغدیر، ج8، ص18۔
  65. نک:طبری، جامع البیان، ج11، ص33۔
  66. نک:امینی، الغدیر، ج8، ص19-20۔

مآخذ

  • قرآن کریم، اردو ترجمہ: سید علی نقی نقوی (لکھنوی)۔
  • آیتی، محمدابراہیم، تاریخ پیغمبر اسلام، تجدید نظر و اضافات از: ابوالقاسم گرجی، انتشارات دانشگاه تہران، تہران، 1378 ه‍ ش
  • ابن اثیر، علی بن محمد، الکامل فی التاریخ، دار صار، بیروت.
  • ابن عبدالبر، یوسف بن عبدالله، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، تحقیق علی محمد بجاوی، دارالجیل، بیروت.
  • ابن کثیر، ابو الفداء اسماعیل، السيرة النبويۃ لابن کثیر، مصطفی عبدالواحد، دارالمعرفۃ، بیروت لبنان ۔ 1396 ه‍ / 1987 ع‍
  • ابن ہشام، أبو محمد عبد الملك، السیرة النبویۃ، محقق: ابراہیم ابیاری، مصطفی سقاء، عبدالحفیظ شبلی، دارالمعرفۃ، بیروت.
  • الآلوسي، السید محمود البغدادی، روح المعاني فی تفسير القرآن العظیم و...، المحقق: شکری الآلوسی، دار إحیاء التراث العربی، بیروت لبنان
  • الأمینی، عبد الحسین، الغدیر، ترجمہ اکبر ثبوت، چاپ پنجم، بنیاد بعثت، تہران، 1391 .
  • الرازی، محمد فخرالدین بن ضیاء الدین عمر (544-604 ه‍)، تفسیر مفاتیح الغیب (المعروف بـ التفسیر الکبیر)، دارالفکر بیروت 1401 ه‍ / 1981 ع‍
  • الراوندي، قطب الدین ابوالحسین سعید بن عبد الله بن حسین بن ہبة الله الکاشانی (متوفای 573 ه‍)، الخرائج والجرائح، تحقيق: مؤسسۃ الامام المہدي عليہ السلام قم المقدسۃ 1408 ه‍
  • السہيلي، عبد الرحمن بن عبد الله الخثعمي، الروض الأنف في تفسير السيرة النبويۃ لابن ہشام، المحقق: مجدي بن منصور، دار الكتب العلميۃ، بیروت ـ لبنان 1967 ه‍
  • القسطلاني، أحمد بن محمد (851 - 923 ه‍)، المواہب اللدنيۃ بالمنح المحمديۃ، المحقق : مأمون بن محي الدين الجنان، بیروت: دار الكتب العلميۃ، الطبعۃ : الأولى ، 1416 ه‍ / 1996 ع‍.
  • السیوطی، عبدالرحمن بن ابی بکر، الدر المنثور فی التفسیر بالماثور، کتابخانہ آیت الله مرعشی نجفی، قم.
  • الصالحي الشامي، محمد بن يوسف، سبل الہدى والرشاد في سيرة خير العباد، ت عادل احمد عبد الموجود ـ علي محمد معوض، دار الكتب العلميۃ بيروت - لبنان الطبعۃ الأولى 1414 ه‍ / 1993 ع‍
  • الطبرسي، الفضل بن الحسن، مجمع البيان في تفسير القران، تحقیق: السيد محسن الامين العاملي، منشورات مؤسسۃ الاعلمي للمطبوعات بيروت - لبنان 1415 ه‍‍ / 1995 ع‍
  • الطبری، محمد بن جریر، جامع البیان فی تفسیر القرآن (تفسیر طبری)، دارالمعرفۃ، بیروت.
  • بنت الشاطئ، عائشۃ عبدالرحمن، آمنہ مادر پیغمبر (ص)، ترجمہ: سید محمدتقی سجادی، چاپ سوم، موسسہ انتشارات نبوی، تہران، 1379 ه‍ ش
  • النيسابوري، نظام الدين القمي، تفسير غرائب القرآن ورغائب الفرقان، بيروت محقق: شیخ زكریا بيروت، دار الكتب العلميۃ
  • نویری، احمد بن عبدالوہاب، نہایۃ الارب فی فنون الادب، دارالکتب و الوثایق القومیہ، قاہره.

أبو نعيم الأصبہاني، احمد بن عبد الله بن احمد بن اسحق بن مہران المہرانی، دلائل النبوة، المحقق: محمد رواس قلعہ جي و عبد البر عباس، دار النفائس، بیروت، 1406 ه‍ / 1986 ع‍

  • الصدوق (المتوفی 381 ه‍)، الامالي: قم، البعثہ، 1417 ه‍
  • المقريزي (المتوفی 845 ه‍)، امتاع الاسماع، تحقیق: محمد عبدالحميد، بيروت، دار الكتب العلميہ، 1420 ه‍
  • ابن سعد (المتوفی 230 ه‍)، الطبقات الكبري، تحقیق: محمد عبدالقادر، بيروت، دار الكتب العلميہ، 1418 ه‍
  • ابن عساكر (المتوفی 571 ه‍)، تاريخ مدينۃ دمشق،، تحقیق: علي شيري، بيروت، دار الفكر، 1415 ه‍
  • ابن شہر آشوب (المتوفی 588 ه‍)، مناقب آل‌ ابي‌طالب، تحقیق: گروہي از اساتيد، نجف، المكتبۃ الحيدريہ، 1376 ه‍
  • المجلسي (المتوفی 1110 ه‍)، بحار الانوار: بيروت، دار احياء التراث العربي، 1403 ه‍
  • البكَری، احمد بن عبدالله، الأنوار ومفتاح السرور والافكَار فی ذكَر الرسول، انتشارات: شریف رضی قم.
  • البكري، عبدالله (المتوفی 526 ه‍)، الانوار في مولد النبي محمد صلي الله عليہ و آلہ، تحقیق: فضال، رضي، قم، 1411 ه‍
  • البيہقي (المتوفی 458 ه‍)، دلائل النبوة، تحقیق: عبدالمعطي، بيروت، دار الكتب العلميۃ، 1405 ه‍
  • الطبري (المتوفی 310 ه‍)، تاريخ طبري (تاريخ الامم و الملوك)، تحقیق: گروهي از علما، بيروت، اعلمي، 1403 ه‍

بیرونی روابط

  • مضمون کے مآخذ میں سے ایک: دایرة المعارف بزرگ اسلامی آمنہ بنت وہب