حرم

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

حرم مقدس اسلامی مقامات بیت المقدس، مسجد الحرام، مسجد النبی، حائر حسینی، مرقد پیغمبر(ص) اور ائمۂ شیعہ کے ملحقہ احاطے اور حریم کو کہا جاتا ہے۔ حرم مکہ، حرم نبوی، مسجد کوفہ حائر حسینی کے بارے میں فقہاء کا مشہور قول یہ ہے کہ ان میں مسافر کے لئے پوری نماز ادا کرنا نہ صرف جائز بلکہ مستحب ہے۔

لغت میں

حرم کی اصطلاح کی جڑ "ح ر م" ہے جس کے معنی ممنوع ہونے کے ہیں۔ کبھی ایک شخص کو اہل و عیال اور مقام رہائش کو بھی حرم کہا جاتا ہے، جو انہیں دوسروں کی دست درازی سے محفوظ بناتا ہے۔[1] اسلامی متون [و اصطلاحات] میں عام طور پر مقدس مقامات کے ارد گرد کے احاطے کو حرم کہا جاتا ہے جہاں داخلے کے اپنے خاص آداب ہیں۔ مثلا "حرم"، "حرم اللہ" اور حرمِ مکی" وہ اصطلاحات ہیں جو عام طور پر خانۂ خدا کے حریم کے لئے استعمال کی جاتی ہیں؛ جس کا خانۂ کعبہ کے گرد ایک معینہ احاطے پر ہوتا ہے۔[2] بعض لوگوں کی رائے ہے کہ اس علاقے کو حرم کہا جاتا ہے کیونکہ یہ ایک محترم علاقہ ہے اور بعض دوسروں کی رائے یہ ہے کہ چونکہ یہاں بعض اعمال انجام دینا حرام اسی بنا پر اس کو حرم کہا جاتا ہے۔[3]

لفظ حرم کا استعمال

حرم الرسول(ص) یا حرم نبوی جیسی اصطلاحات کا اطلاق مدینہ میں حرم رسول اللہ(ص) پر ہوتا ہے۔ نیز عبارت "حرمین شریفین کا استعمال مکہ اور مدینہ یا عراق میں نجف اور کربلا یا فلسطین میں بیت المقدس اور الخلیل کے لئے بکثرت کیا جاتا ہے۔ دینی متون میں کبھی لفظ حرم کو محدود کرکے صرف مسجد الحرام یا مسجد النبى، کے لئے استعمال کی جاتی ہے یا پھر اس کو وسیع تر مفہوم میں سرزمین مکہ اور سرزمین مدینہ کے لئےاستعمال کیا جاتا ہے۔ نیز ائمۂ شیعہ کے مدفن پر لفظ "حرم" کا اطلاق بہت رائج ہے؛ جیسے حائر حسینی [یا حرم حسینی] کا اطلاق مرقد امام حسین(ع) اور مرقد امام رضا(ع) لئے آستان قدس رضوی یا حرم رضوی کا اطلاق۔[4]

حرمِ مكّى

حرم مکی، "حرم" کا اہم ترین اور ممتاز ترین مصداق ہے۔ جو شخص حرم سے منسوب ہو اس کو حِرْمى (اہل حرم) اور حرم میں داخل ہونے والے اور احرام باندھنے والے کو مُحرِم کہا جاتا ہے جبکہ حرم کے احاطے سے باہر کے علاقے کو حِلّ کا نام دیا گیا ہے۔[5] حرمِ مکہ کی حرمت و قداست کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ رسول اللہ(ص) کی حدیث کے مطابق یہ خطہ آسمانوں اور زمین کی خلقت سے ہی حرم ہے اور ایک دوسری حدیث کے مطابق دَحْوُالارض (زمین کا بچھاؤ) حرم مکی سے انجام پایا ہے۔[6]

حرم مکی کی مختصر تاریخ

بعض مفسرین نے رسول اللہ(ص) کی ایک حدیث کے حوالے سے کہتے ہیں کہ مکہ ابراہیم(ع) کے زمانے میں حرم قرار دیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ مکہ ابراہیم(ع) سے پہلے دوسرے شہروں اور قصبوں کی طرح ایک معمولی شہر تھا اور جب وہ مبعوث بہ رسالت ہوئے اور دعا کی کہ مکہ ایک محلِ امن ہو،[7] تو اس کو حرمت اور قداست عطا ہوئی۔ بعض کا کہنا ہے کہ ابراہیم(ع) کی دعا صرف اس شہر کے خشکسالی اور قحط اور زلزلے سے محفوظ ہونے کے لئے تھے اور اس سے پہلے بھی محترم و مقدس تھا۔[8] بعض مفسرین کا بیان ہے کہ ابراہیم(ع) کی دعا سے حرم کی حرمت کافی عرصے سے مہجور اور متروک ہونے کے بعد زندہ ہوئی اور اس کی حرمت کی رعایت کرنا واجب کردیا گیا ہے۔[9]

طلوع اسلام سے قبل عرب لوگ حرم کی حدود سے واقف ہوئے اور ان حدود میں جنگ اور خونریزی اور قاتلین کے قصاص سے اجتناب کرکے حضرت ابراہیم(ع) اور حضرت اسمعیل(ع) کی سنت پر عمل کرتے تھے اور اس حرم کی حرمت کا پاس رکھتے تھے اور اسی بنا پر وہ مکہ کو را بَكّة (یعنی وہ مقام جو ظالموں کی گردنوں کو توڑ دیتا ہے)، بَسّاسة (یعنی وہ مقام جو فاسقوں اور کافروں کو اپنے مار بھگاتا ہے) اور صِلاح (یعنی محلِّ امن) جیسے نام دیتے تھے۔[10] کچھ عرب حرم کی حدود میں پہنچ کر اپنا لباس اتار دیتے تھے اور کہتے تھے کہ وہ اس لباس میں گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں اور بعض یہودی احترام کے عنوان سے اپنے جوتے اتار دیتے تھے۔ عیسی(ع) کے حواریوں نے بھی حرم پہنچتے وقت اس کی تکریم کی خاطر کچھ راستہ پیدل طے کیا۔[11] حرم کا تقدس اسلام کے بعد بھی جاری رہا؛ جیسا کہ اصحاب رسول(ص) حرم میں گناہ کر ارتکاب، ایک دوسرے کو اذیت و آزار پہنچانے اور دوسروں کے لئے زحمت و تکلیف کے اسباب فراہم کرنے سے منع کرتے تھے اور حتی کہ حرم کی حرمت شکنی کے خوف سے اس میں قیام نہيں کرتے تھے۔[12]

حرم مکی قرآن کی روشنی میں

حرم کا لفظ قرآن کی کئی آیات میں دہرایا گیا ہے اور مفسرین کا کہنا ہے کہ یہ لفظ قرآن میں حرم مکی کے لئے استعمال ہوا ہے۔[13] بعض مفسرین کی رائے ہے کہ بعض آیات قرآنی میں مسجد الحرام، مقام ابراہیم، کعبہ اور مكہ حرم کا احاطہ ہے۔[14]

حرم مکی اللہ کا حرمِ امن

متعدد آیات میں،[15]۔[16] میں مکہ کی سرزمین یا حرم مكہ کو مقام امن قرار دیا گیا ہے۔ بعض آیات کریمہ میں ابراہیم(ع) کی دعا کا ذکر ہوا ہے جس میں انھوں نے مکہ کو حرم امن قرار دیئے جانے کی دعا کی ہے۔[17] سورہ بقرہ کی آیت 125[18] میں "آمن" "البیت" کا وصف ہے اور بعض مفسرین نے اس کو حرم مکہ جانا ہے۔

اس موضوع کے بارے میں ـ کہ حرم کی سلامتی اور امن سے مراد کیا ہے؟ ـ احادیث اور تفاسیر میں مختلف آراء پیش کی گئی ہیں۔ بعض مفسرین نے اس اس تعبیر (یعنی حرم امن) کو روایات و احادیث سے مستند اور حرم کے اندر اس حقیقت کا بیان قرار دیا ہے جو وہاں موجود ہے۔ بالفاظ دیگر امن و سلامتی سے مراد وہ تکوینی امن ہے۔ یعنی یہ حرم ناخوشگوار حادثات اور دنیاوی اور اخروی عذاب سے محفوظ و مامون ہے۔[19] بعض دیگر احادیث میں امن سے حرم میں موجودہ حیوانات کا محفوظ رہنا مراد ہے کہ دوسرے حیوانات کے ہاتھوں شکار ہونے اور حرم میں داخل ہونے والے افراد کی دست درازی سے محفوظ ہیں۔ نیز ان احادیث میں ہے کہ اہل حرم کا قتل و غارت سے امن و امان میں ہیں اور اور عذاب الہی سے محفوظ ہیں۔[20]

بعض مفسرین حرم کے امن کو تشریعی سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حرم کا مقام امن ہونا اللہ کے فرمان کی علامت ہے کہ حرم کے تقدس کا پاس رکھا جائے اور حرم سے متعلق شرعی احکام کی تعمیل کی جائے؛ کیونکہ یہاں جنگیں بھی ہوتی رہی ہیں، سیلاب بھی آئے ہیں اور زلزلے بھی جبکہ یہ حوادث امن میں خلل اندازی کرتے ہیں۔ البتہ ان مفسرین کا کہنا ہے کہ مذکورہ آیات میں سے کچھ سابقہ شرائع ـ منجملہ شریعت ابراہیمی ـ میں حرم رہنے اور آنے والے افراد کے اعمال کو محدود کرنے کے سلسلے میں آنے والے احکام، کے تناظر میں نازل ہوئی ہیں [اور ان میں ان محدودیتوں کو بیان کیا گیا ہے]۔[21] بعض احادیث میں حرم کے امن سے تشریعی امن اور متعلقہ شرعی احکام کے بعض مصادیق، مقصود ہیں جیسے حیوانات کے شکار اور ان کا امن برباد کرنے کی حرمت اور حرم کی حدود سے باہر جرم مرتکب ہونے والے شخص پر شرعی حدود جاری کرنے یا حکم قصاص جاری کرنے کی حرمت۔[22] بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ سورہ آل عمران کی آیت 97[23] قبل از اسلام حرم میں پناہ لینے والوں کے محفوظ ہونے سے متعلق ہے اور حکم اسلام میں منسوخ ہوا ہے۔[24] سورہ قصص کی آیت 57[25] کے مطابق خداوند متعال نے تمام سرزمینوں کے پھل مکہ میں فراہم مہیا فرما دیئے ہیں۔[26]

حرم مکی احادیث کی روشنی میں

احادیث میں حرم سے متعلق شرعی احکام کے ساتھ ساتھ اس کی خصوصیات اور اس میں حاضری دینے کے آداب بھی بیان ہوئے ہیں۔ احادیث کے مطابق حرم کی حدود ساتوں آسمانوں کی بلندیوں اور ساتوں زمینوں کی گہرائیوں تک ہیں اور یہ حرم قیام قیامت تک حرم ہی رہے گا۔[27] حرم کی حرمت شکنی خداوند متعال اور تمام انبیاء کی نفرین اور بد دعا کا سبب بنتی ہے۔[28] رسول اللہ(ص) نے ایک حدیث کے ضمن ميں اس حاجی کی جنت کی ضمانت دی ہے جو حرم میں مرجائے۔[29]

حرم مکی کی حدود

منطقۂ حرم کی حدود قدیم الایام سے مقرر شدہ تھیں اسی بنا پر اس بارے میں بہت کم حدیثیں نقل ہوئی ہیں۔ ایک حدیث کے مطابق حرم کی کا طول و عرض ایک "برید" (یعنی چار فرسخ[30]) ہے اور مسجد الحرام مرکز میں واقع ہوئی ہے۔[31] تاریخی نقول کے مطابق سب سے پہلے حضرت ابراہیم(ع) نے اللہ کے حکم اور جبرائیل کی راہنمائی سے حدود حرم کے تعین کے لئے علائم نصب کئے۔[32] جن علامات سے متعین کیا جاتا ہے انہیں حدیث اور تاریخ کے متون میں حرم کی حدود کو اَعلام، اَنصاب، مَنار، مَعالم، اَزلام اور اَمْیالِ حرم کہا گیا ہے۔[33]

حضرت ابراہیم(ع) کے بعد حضرت اسماعیل(ع) نے حرم کے علائم کی تعمیر نو کا اہتمام کیا اور عصر جاہلیت میں عدنان‌بن اُدَد اور قُصَی بن كِلاب یہ کام سر انجام دیا۔ قریش نے بھی رسول اللہ(ص) کی بعثت کے آغاز میں ان علائم کی تعمیر نو کا انتظام کیا۔ فتح مکہ کے بعد سنہ 8 ہجری میں تمیم بن اسد خزاعى اور اسود بن خلف قرشى زُهرى نے آنحضرت(ص) کے حکم پر حرم کے علائم کی تعمیر نو کی۔ بعد کے ادوار میں بھی بعض افراد نے بعض خلفاء ـ منجملہ عمر بن خطاب (سنہ 17 ہجری)، عثمان بن عفان (سنہ 26 ہجری)، معاویہ بن ابی سفیان (حکومت:سنہ 41 تا 60 ہجری)، عبدالملک بن مروان (حکومت سنہ 65 تا 86 ہجری)، اور مہدی عباسی (حکومت 158 تا 169 ہجری) ـ نے حدود حرم کے علائم کی تعمیر نو اور تکمیل کا اہتمام کیا۔[34] مہدی عباسی کے بعد کے ادوار میں ان علائم کی تعمیر نو ترک کی گئی جو پہاڑیوں پر لگے ہوئے تھے اور صرف ان علائم اور نشانات کی تعمیر نو ہوتی رہی جو مدینہ، یمن، عراق، طائف، جعرانہ اور جدہ سے مکہ آنے والے راستوں میں نصب ہوئے تھے۔[35]

بعد کے ادوار میں بھی بعض افراد نے حرم کے نشانات کی تعمیر نو یا تعمیر کا اہتمام کیا جیسے: راضى عباسى سنہ 325 میں؛ ایوبی بادشاہ، مظفربن ابی بكر نے سنہ 616 میں، حاکم یمن مظفر یوسف بن عمر، سنہ 683 ہجری؛ مصر کے چرکسی حکمران قایتباى محمودى، سنہ 874 ہجری میں؛ عثمانی بادشاہ، سلطان احمد خان اول، غالبا سنہ 1023 میں؛ امیر مکہ شریف‌زید بن محسن، سنہ 1073 ہجری؛ اور عثمانی بادشاہ، سلطان عبدالمجید سنہ 1262 ہجری۔[36]

حرم کے نشانات و علائم کی تعمیر نو کا کام آل سعود کے دور میں بھی جاری رہا۔ سعودی سلطنت کے بانی عبدالعزیز بن عبدالرحمن بن فیصل آل سعود نے سنہ 1443 ہجری میں جدہ کے راستے میں دو نئے نشانات نصب کئے۔ اس کے بیٹے سعود نے سنہ 1376 ہجری میں شمیسی کے علاقے میں دو اور سنہ 1377 ہجری میں طائف کے علاقے میں دو علائم اور سنہ 1393 میں عرفہ کے راستے میں بعض علائم نصب کئے یا پرانے علائم کی تعمیر نو کی۔ نیز خالد بن عبدالعزیز نے دو علائم طائف کے راستے میں اور دو علائم جدہ کی پرانی سڑک پر تعمیر کئے؛ نیز فہد بن عبدالعزیز نے سنہ 1404 میں وادی تنعیم میں دو نئے علائم تعمیر کئے۔[37] 1380، 1384 اور 1400 میں ماہرین کی کئی ٹیموں نے حرم کے بعض علائم کا جائزہ لیا۔[38]

حرم مکی کے فقہی احکام

فقہ میں حرمِ مکی کے لئے خاص قسم کے احکام مقرر ہوئے ہیں جنہیں بعض فقہاء نے خصائص الحرم کہا ہے اور بعض فقہاء نے حرم میں ممنوعہ اعمال سے متعلق فقہی احکام کو "محظورات الحرم" کا نام دیا ہے؛[39] تا ہم بعض فقہاء نے ان احکام کو ایک ہی باب میں بیان نہیں کیا بلکہ انہیں نماز، حج، حدود اور كفارات کے ضمن میں بیان کیا ہے۔

حرم مکی کے بعض اہم ترین احکام کچھ یوں ہیں:

  1. تمام تر فقہاء کے نزدیک غیر مسلموں کا منطقۂ حرم میں رہائش اختیار کرنا جائز نہیں ہے اور ابو حنیفہ کے سوا تمام مسلم فقہاء کے نزدیک کسی غیر مسلم کا حرم میں داخلہ حرام ہے۔[40]
  2. ہر مسلم فرد سال کے کسی بھی مہینے اور کسی بھی دن حرم میں داخل ہونا چاہے تو اس پر واجب ہے کہ مقررہ مواقیت (میقاتوں) میں سے کسی میں پہنچ کر احرام باندھ لے؛ البتہ اس حکم سے وہ لوگ مستثنی ہیں جنہیں مسلسل حرم کی حدود سے سفر کرنا پڑتا ہے جیسے گاڑیوں کے ڈرائیور۔ گوکہ شافعیوں نے احرام کو مستحب گردانا ہے۔[41]
  3. حرم کی حدود میں حیوانات کو مارنے [اور ذبح کرنے] کی حرمت؛ سوائے (اونٹ، گائے بیل، بھیڑ بکری جیسے) پالتو حیوانات یا (بچھو، سانپ وغیرہ جیسے) موذی حیوانات کے۔[42]
  4. حرم کی حدود میں زمینی حیوانات کو شکار کرنا یا شکاریوں کی راہنمائی کرنا اور پودوں اور جڑی بوٹوں کو نقصان پہنچانا آیات قرآنی[43] اور احادیث[44] کی رو سے منع ہے۔ تاہم مختلف مذاہب کے فقہاء نے بعض اعمال کو مستثنی' کیا ہے جیسے کھجور کا میوہ، مختلف قسم کی ترکاریاں، اِذْخِر نامی گیاہ (مکہ کا بھوسہ) اور وہ جڑی بوٹیاں جنہیں انسان بوتا اور کاٹتا ہے۔[45]
  5. حرم کی حدود میں ناجائز ہونے کے باوجود شکار ہونے والے حیوان کا گوشت کھانے کی حرمت۔[46]
  6. حرم کی حدود میں جنگ اور خونریزی کی حرمت[47] نیز بعض فقہاء کی نظر میں حرم کی حدود میں اسلحہ ساتھ رکھنا منع ہے،[48] سوائے فتح مکہ کے موقع کے۔
  7. بعض شیعہ اور سنی فقہاء کے نزدیک حرم کی حدود سے مٹی یا ریت باہر نکالنے کا ممنوع ہونا۔[49] زیادہ تر شافعی فقہاء نے حِلّ سے پتھر اور مٹی کی حرم میں منتقلی کو مکروہ سمجھا ہے۔[50]
  8. حرم کی حدود سے گمشدہ اشیاء کی حرمت یا کراہت۔[51]
  9. حرم کی حدود سے باہر جرم کا ارتکاب کرکے حرم میں پناہ لینے والے افراد پر حدود اور قصاص کے احکام جاری کرنے کی ممنوعیت[52] اور بعض اسلامی مذاہب کے فقہاء کے مطابق اس پر بعض پابندیاں لگانا؛ بطور مثال اس کو کھانا نہ دینا، اس کے ساتھ لین دین نہ کرنا اس لئے کہ وہ مجبور ہوکر حرم کی حدود سے نکل جائے اور اللہ کی حدود حرم سے باہر اس پر جاری کی جاسکیں۔ تاہم حنفی اور شیعہ فقہاء کے نزدیک حرم سے باہر جرم کا ارتکار کرنے والا شخص حرم کی حدود میں اس طرح کے کسی تحفظ کا حقدار نہیں ہے۔[53]
  10. اگر قتل عمد یا قتل خطأ حرم کی حدود میں انجام پائے تو مکمل دیت بمع ایک تہائی اضافی دیت لی جائے گی۔[54]
  11. حرم کی حدود میں مشرکین کی تدفین کی حرمت۔ شافعی فقہاء کا کہنا ہے کہ اگر حرم کی حدود میں کوئی مشرک مدفون ہو تو اس کی لاش وہاں سے خارج کرنا بھی لازمی ہے۔[55]
  12. بعض فقہاء کی رائے کے مطابق، ایام حج کے دوران حرم مکی کے گھروں کی خرید و فروخت یا بطور اجارہ دینے اور لینے کی حرمت حرمت؛ یہ فقہاء اپنی اس رائے کے لئے سورہ حج کی آیت 25[56] اور احادیث[57] سے استناد کرتے ہیں۔

بعض محرمات کے ارتکاب کا کفارہ

زيادہ تر فقہاء نے احادیث حرم میں بعض محرمات کے ارتکاب کو کفارے کا موجب سمجھتے ہیں گوکہ وہ کفارے کی مقدار کے حوالے سے ان میں میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔[58] اہل سنت کے بعض علماء ان اعمال کے لئے تکلیفی حرمت[59] کے قائل ہوئے ہیں اور انھوں نے ثبوت کفارہ کو قبول نہیں کیا ہے۔[60] حرم میں موجودگی کے بموجب بعض شرعی ممانعتوں کے علاوہ بعض واجبات اور ممانعتیں حج اور عمرہ کے لئے احرام باندھنے والے افراد پر مقرر ہیں۔

سزا بھی دوہری، سزا بھی دوہری

احادیث شریفہ کے مطابق، حرم مکی کی خصوصی قداست کی وجہ سے یہاں گناہوں کا کیفر بھی اور کارہائے نیک کا ثواب بھی دو گنا ہے۔ حتی کہ حرم میں گناہ کرنے کی نیت اللہ کی جانب سے مؤاخذے کا سبب بنتی ہے۔ ادھر حرم کی حدود میں نیک اعمال انجام دینے اور عبادات بجا لانے (جیسے تلاوت قرآن، نماز بجا لانا، روزہ رکھنا) پر تاکید ہوئی ہے اور ایک حدیث کے مطابق یہاں ان اعمال و عبادات کا ثواب دوسرے مقامات کی نسبت ایک لاکھ گنا ہے۔[61] فقہاء نے احادیث کی روشنی میں، حرم میں ننگے پاؤں اور پیدل چل کر داخل ہونے، داخلے سے قبل اور حرم سے باہر نکل کر غسل اور وضو کرنے، منہ کو خوشبو کرنے اور مخصوص (مأثورہ) دعائیں پڑھنے جیسے اعمال کو مستحب سمجھا ہے۔[62] دفن مردگان در حرم نیز مستحب به شمار رفته است۔[63]

حرم مکی میں مجاورت

شیعہ، مالکی اور حنفی فقہاء کے مطابق مکہ میں مجاورت اور سکونت لوگوں کے ایمان کی کمزوری اور حرم کے احکام بجا لانے میں ان کی کاہلی اور قصور کی بنا پر مکروہ ہے؛ جبکہ حنبلی اور شافعی فقہاء کی رائے ہے کہ جن لوگوں کی طرف سے ممنوعہ اعمال کا احتمال نہ ہو ان کی مکہ میں سکونت مستحب ہے۔[64]

حرم مکی میں مکروہ اعمال

یہ اعمال ان اعمال میں سے ہیں جنہیں حرم مکی میں انجام دینا مکروہ ہے:

  1. مقروض سے قرض طلب کرنا مگر یہ کہ وہ شخص حرم کی حدود کے اندر مقروض ہوا ہو۔
  2. حرم میں لوگوں سے کچھ مانگنا۔
  3. شعر خوانی۔
  4. خادم (اور نوکر) کو زدوکوب کرنا۔[65]

حرم نبوى

حرم نبوی دوسرا اہم مقام ہے جس کے لئے ـ احادیث اور فقہاء کے فتاوی' کے مطابق ـ مخصوص احکام وارد ہوئے ہیں۔ ایک حدیث کے مطابق رسول اللہ(ص) نے اہل مدینہ کی شفاعت اپنے ذمے لی ہے۔[66] حنفی مدینہ میں ایسے کسی حرم کے کی موجودگی کے قائل نہيں ہیں جس کے اپنے مخصوص احکام بھی ہوں۔[67] بعض معاصر شیعہ فقہاء بھی مدینہ کے حرم ہونے کے سلسلے میں ـ جس طرح کہ حرم مکی کی تعریف ہوئی ہے ـ میں قطعی حکم کے قائل نہیں ہیں اور اس حدیث مشہور کے بارے میں ـ "کہ حرم مکی ابراہیم(ع) سے منسوب ہے اور مدینہ کا حرم مجھ سے"،[68] ـ ان کا کہنا ہے کہ حدیث کا مقصود، اس شہر کی نسبتی حرمت کا پاس رکھنا یا قبر مطہر کی حرمت کی ضرورت، ہے۔ یہ فقہاء احتیاط کے طور پر مدینہ کے لئے بعض احکام کے قائل ہوئے ہیں۔[69]۔ مالک بن انس سمیت بعض مالکیوں اور شافعیوں نے مذکورہ احادیث کی رو سے مدینہ میں مہاجرین کی سکونت اور صحابہ کے قیام کے باعث، اس شہر کو حرم مکی سے برتر و بالاتر قرار دیا ہے؛[70] تاہم زيادہ تر فقہاء نے مرقد حضرت رسول(ص) کی قبر کو ـ جو دنیا کا برترین و بالاترین بقعہ سمجھا گیا ہے ـ مستثنی کرکے، حرم مکی کو برتر قرار دیا ہے۔[71]

حرم نبوى کی حدود

بعض احادیث میں حرم نبوی کی حدود چاروں طرف ایک برید (یا چار فرسخ) [72] قرار دی گئی ہیں۔[73] ایک حدیث میں ـ جو شیعہ اور سنی محدثین نے نقل کی ہے ـ کے مطابق حرم نبوی دو سیاہ چٹانوں کے درمیان (ما بَینَ لابَتَیها) واقع ہے جو مدینہ کے مشرق اور مغرب میں واقع ہیں۔[74] شیعہ فقہاء نے احادیث کی روشنی میں حرم نبوی کی حدود کو کوہ عَیر سے لے کر وعیر تک قرار دیا ہے،[75] تاہم اہل سنت کے بعض فقہاء نے اس حرم کی حدود کو کوہ عیر سے غار ثور تک اور عیر سے ثور تک کا فاصلہ 12 میل قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عیر میقات میں اور وعیر کوہ احد کے پیچھے واقع ہے۔[76] ظاہر ہے کہ کوہ ثور مکہ میں ہے چنانچہ مذکورہ احادیث کی تعلیل و توجیہ کرتے ہوئے احتمال دیا ہے کہ راویوں نے کوہ اُحد کو غلطی سے کوہ ثور ثبت کیا ہے اور بعض نے کہا ہے کہ کوہ احد کا پرانا نام کوہ ثور تھا!۔[77] یہ بھی ممکن ہے کہ رسول اللہ(ص) کی مراد مکہ میں کوہ عیر اور کوہ ثور جتنا فاصلہ ہو یا آپ(ص) نے مدینہ کو دو پہاڑوں کو مجازاً کوہ عیر اور کوہ ثور کا نام دیا ہو۔[78]

حرم نبوی کے احکام و آداب

حرم نبوی کے اہم ترین آداب و احکام کچھ یوں ہیں:

  1. حرم نبوی میں غسل کرکے داخل ہونا مستحب ہے۔
  2. مدینہ میں حرم نبوی کی مجاورت میں رہائش مستحب ہے۔
  3. مدینہ میں رہتے ہوئے ایام ہفتہ میں سے بعض ایام کا روزہ مستحب ہے۔
  4. پودی اور جڑی بوٹیوں کو نقصان پہنچانا اور درخت اور بطور خاص تازہ اگے ہوئے پودوں درختوں کو کاٹنا حرام ہے مگر یہ کہ چوپایوں کا چارہ مہیا کرنا مقصود ہو۔
  5. حیوانات کا شکار حرام ہے۔[79]

بعض متقدم سنی فقہاء نے حرم نبوی میں بعض محرمات کے ارتکاب پر سزائیں بھی مقرر کی ہیں۔[80]

حرم امام حسین(ع)

مفصل مضمون: حائر حسینی

امام حسین(ع) کا حرم شیعیان آل رسول(ص) کے لئے بہت زیادہ تقدس رکھتا ہے۔ فقہاء نے اس حرم کی حدود کے بارے میں ـ جس کے لئے مخصوص فقہی احکام بھی وارد ہوئے ہیں ـ مختلف قسم کی آراء دی ہیں؛ منجملہ یہ کہ: آپ(ع) اور آپ کے اصحاب و اہل خاندان کا مدفن، اور متعلقہ احاطہ، حرم ہے سوائے حرم حضرت ابوالفضل العباس(ع) کے،[81] جو اس احاطے سے باہر ہے؛ یا پورا شہر کربلا حرم ہے،[82] یا روضۂ مقدّس حضرت امام حسین(ع)[83] حدود حرم کا حصہ ہے۔

امیرالمؤمنین علیہ السلام نے فرمایا ہے: "مكة حرم الله والمدينة حرم رسول الله (صلى الله عليه وآله) والكوفة حرمي"۔ (ترجمہ: مکہ اللہ کا حرم ہے، مدینہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کا حرم اور کوفہ میرا حرم ہے)۔[84]


حرمین شریفین، مسجد کوفہ اور حائر حسینی کے احکام

شیعہ فقہاء کی مشہور رائے کے مطابق، حرم مکی، حرم نبوی، مسجد کوفہ اور حائر حسینی کے مخصوص احکام میں سے ایک یہ ہے کہ مسافر ہونے کے باوجود ان مقامات پر پوری نماز پڑھنا جائز، بلکہ مستحب ہے۔ گوکہ اس کے لئے نماز قصر پڑھنا بھی جائز ہے۔[85] فقہاء ان اقوال کو ان احادیث کو جمع کرنے کا حاصل سمجھتے ہیں جو مقامات اربعہ (چار مقامات) میں قصر یا تمام پڑھنے میں تخییر پر دلالت کرتی ہیں اور وہ احادیث جو تمام پڑھنے کو زیادہ پسندیدہ قرار دیتی ہیں۔[86]ان احادیث میں "حرمین شریفین" مکہ اور مدینہ اور "مسجدین" جیسی عبارات نقل ہوئی ہیں۔[87] اسی بنا پر بعض فقہاء مذکورہ حکم کو صرف مسجد الحرام اور مسجد النبی(ص) میں اس حکم کو نافذ العمل سمجھتے ہیں نہ کہ پورے حرم مکی یا حرم مدنی میں۔[88]

ابن‌بابویہ[89] ان مقامات میں نماز قصر پڑھنے کے وجوب کے قائل ہوئے ہیں اور ان مقامات کو کسی امتیازی خصوصیت کا حامل قرار نہیں دیا ہے،[90] لیکن دوسرے فقہاء نے ان احادیث کو تقیہ پر حمل کیا ہے،[91] اور دوسری دلائل سے استناد کرکے ابن‌بابویہ کی رائے سے اتفاق نہیں کیا ہے۔[92] بعض فقہاء نے بھی احتیاط کی رو سے ان چار آستانوں میں نماز قصر پڑھنے پر رائے دی ہے۔[93]

بعض متقدم فقہاء ـ منجملہ ابن‌جنید الاسكافى[94] اور علم‌الہدى،[95] ـ کی فقعی رائے کہ مسافر پر واجب ہے کہ ان چار مقامات مقدسہ اور حتی کہ تمام ائمۂ شیعہ کے مشاہد اور آستانوں میں پوری نماز ادا کریں۔[96] ابن ادریس حِلّی، حرم مکی اور حرم مدینہ کے نیز حائر حسینی کو اس حکم میں شامل کیا ہے۔ شیعہ فقہاء نے حتی اس موضوع پر بھی بحث کی ہے کہ کیا مسافر کے لئے پوری یا قصر نماز پڑھنے کا اختیار صرف مسجد کوفہ اور حائر حسینی تک محدود ہے یا پھر اس میں پورا شہر کوفہ اور پورا شہر کربلا بھی شامل ہوتے ہیں۔[97] حنفی ـ جو امامیہ کی طرح مسافر کے لئے نماز قصر کے قائل ہیں ـ حرم مکی میں میں پوری نماز کو محمد رسول اللہ(ص) کی پیروی سمجھتے ہوئے – حرم مکی میں اعمال نیک کی دوہرے ثواب کے بموجب ـ پوری نماز کو نماز قصر سے بہتر سمجھتے ہیں۔[98]

دیگر احکام و آداب

شیعہ فقہی منابع میں این مقامات اور حرم مکی و حرم مدینہ اور ائمۂ شیعہ کے حرم اور مشاہد مشرفہ کے لئے دیگر احکام و آداب بھی ذکر کئے ہی؛ جیسے:

  1. ان مقامات مقدسہ میں جُنُب اور حائض کا داخلہ حرام ہے۔[99]
  2. ان مقامات کو نجس کرنا حرام اور انہیں نجاست سے پاک کرنا، واجب ہے۔[100]
  3. ان مقامات میں داخلے سے قبل غسل کرنا مستحب ہے اور اموات کو تدفین کے لئے دوسری سرزمینوں میں منتقل کرنا مکروہ ہے مگر یہ کہ یہ منتقلی دوسری سرزمینوں سے ان مقامات کی جانب ہو۔[101]
  4. ان مقامات مقدسہ میں حدود و قصاص جاری کرنا ممنوع ہے۔[102]

پاورقی حاشیے

  1. ابن‌اثیر، لفظ "دعمص" کے ذيل میں، ابن‌منظور، لفظ "جبرتی" کے ذیل میں، ج 2، ص 143۔
  2. جوهرى؛ زبیدى، لفظ "حرم" کے ذیل میں۔
  3. كردى، ج 1، جزء1، ص 101، بروجردى، ج 8، ص 423۔
  4. منهاجى اسیوطى، ج 2، ص 474؛ بحرانى، ج7، صص317ـ318، ج11، ص455؛ بغدادى، ج2، ستون 541؛ آقا بزرگ طهرانى، ج6، ص194، ج8، ص224، ج21، ص299۔
  5. خلیل‌بن احمد؛ ابن‌اثیر؛ ابن‌منظور، ذیل واژه۔
  6. فاكهى، ج 2، ص 270؛ ابن‌بابویه، مَن لایحضُرُه الفقیه، ج 2، ص 241؛ حرّعاملى، ج 13، ص 241ـ 242؛۔
  7. سوره بقره، آیت 126: "وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَـَذَا بَلَداً آمِناً..."۔ (ترجمہ: اور وہ وقت جب ابراہیم علیہ السلام نے کہا اے میرے پرور دگار اس کو امن والا شہر بنا...)۔ سوره ابراهیم آیت 35: "وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ اجْعَلْ هَـذَا الْبَلَدَ آمِناً..."۔ (ترجمہ: اور جب کہا ابرہیم نے اے میرے پروردگار ! اس شہر کو محل امن قرار دے...)۔
  8. جریر طبرى، ج 1، ص 542؛ طوسى، التبیان، ج 1، ص 456؛ طبرسى، ج 1، ص 387۔
  9. جریر طبرى، ج 1، ص فاسى، ج 1، ص 139؛ اسدى مكى، ص 183542۔
  10. ابن‌هشام، قسم 1، ص 114؛ ماوردى، ص 246 ـ 248؛ طوسى، التبیان، ج 4، ص 32؛ ابن‌جوزى، ج 2، ص 321۔
  11. فاكهى، ج 2، ص 267؛ یاقوت حموى، ذیلِ "الأَنواط"؛ احمدبن عبدالله طبرى، ص 169؛ فاسى، ج 1، ص140۔
  12. فاكهى، ج 2، ص 259، 305140۔
  13. طوسى، التبیان، ج 8، ص 165؛ قرطبى، ج 13، ص 364؛ طباطبائى، ج 6، ص 271۔
  14. جصاص، ج 1، ص 88، ج 3، ص 253، 317؛ شریف ‌رضى، ص 180؛ طوسى، التبیان، ج 6، ص 446، ج 8، ص 165؛ زركشى، 1408، ج 2، ص 266؛ طباطبائى، ج 3، ص 31۔
  15. سوره قصص، آیت 57: "...أَوَلَمْ نُمَكِّن لَّهُمْ حَرَماً آمِناً..."۔ (ترجمہ: ...اور کیا ہم ہی نے ان کے لیے مہیا کیا ہے امن والا محترم مقام ...)۔
  16. سوره عنکبوت، آیت 67: "أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا جَعَلْنَا حَرَماً آمِناً..."۔ (ترجمہ: کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ایک امن والا محترم شہر قرار دیا...)۔
  17. سورہ بقرہ آیت126؛ سورہ ابراہیم آیت 35۔
  18. "وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِّلنَّاسِ وَأَمْناً"۔ (ترجمہ: اور جب ہم نے خانہ کعبہ کو تمام لوگوں کا مرکز اور مقام امن قرار دیا)]۔
  19. شریف ‌رضى، ص 182، 190؛ طبرسى، ج 2، ص 799؛ قرطبى، ج 4، ص 141ـ 142۔
  20. فاكهى، ج 2، ص 252؛ كلینى، ج 4، ص 226، 528ـ 530؛حرّعاملى، ج 13، ص 35۔
  21. جصاص، ج 1، ص 88ـ 89، ج 2، ص 27؛ شریف رضى، ص65، 192؛ قرطبى، ج 4، ص 140؛ طباطبائى، ج 6، ص 271، ج 12، ص 69۔
  22. ازرقى، ج 2، ص 138ـ139؛ كلینى، ج 4، ص 226ـ 227؛ ابن‌بابویه، 1404، ج 2، ص 262؛ حرّعاملى، ج 13، ص 75، 226۔
  23. "فِيهِ آيَاتٌ بَيِّـنَاتٌ مَّقَامُ إِبْرَاهِيمَ وَمَن دَخَلَهُ كَانَ آمِناً..."۔ (ترجمہ: اس میں کھلی ہوئی نشانیاں ہیں، خصوصیت سے مقام ابرہیم اور جو اس کے اندر پہنچ جائے وہ امن میں ہے...)۔
  24. جریر طبرى، ج4، ص11ـ12؛ شریف‌رضى، ص 187؛ قرطبى، ج2، ص111، ج 4، ص140ـ141۔
  25. "...أَوَلَمْ نُمَكِّن لَّهُمْ حَرَماً آمِناً يُجْبَى إِلَيْهِ ثَمَرَاتُ كُلِّ شَيْءٍ..."۔ (ترجمہ: کیا ہم ہی نے ان کے لیے مہیا کیا ہے ایسا امن والا محترم مقام جہاں ہر قسم کے پھل لائے جاتے ہیں...)۔
  26. طوسى، التبیان، ج 8، ص 165؛ قرطبى، ج 13، ص 300۔
  27. ازرقى، ج 2، ص 124؛ جصاص، ج 1، ص 89؛ ابن‌بابویه، 1404، ج 2، ص 245ـ 246۔
  28. ازرقى، ج 2، ص 125۔
  29. كلینى، ج 4، ص 256؛ سیوطى، ج 2، ص 258۔
  30. فرسخ یا فَرسَنگ مسافت ماپنے کی اکائی ہے جو 624 میٹر کے برابر ہے(فرهنگ معین) کتاب "الاصفہان" کے مؤلف میر سید علی جناب کے مطابق فرسنگ کی دو اقسام ہیں: (کتاب الاصفهان، ط 1303 ہجری شمسی، شمارہ 528، وزارت معارف و اوقاف و صنایع مستظرفه(جَمالِياتی صنعتیں)) 1۔ رائج فرسخ اور 2۔ شرعی فرسخ۔ رائج فرسخ کا تعین ناصر الدین شاہ قاجار کے دور میں "نجم الدولہ" نے کیا تھا جو 6000 عام ذرع کے برابر ہے اس حساب سے ہر فرسخ 6240 میٹر کے برابر ہے۔ اور شرعی فرسخ ـ جو زيادہ قدیم ہے، 516 عام ذرع کے برابر ہے اور چونکہ ہر عام ذرع 104 میٹر کے برابر ہے لہذا شرعی فرسخ 5366/4 میٹر کے برابر ہے اور آسانی کے لئے ہر شرعی فرسخ کو 5400 میٹر جانا جاتا تھا۔ مسافت شرعی کے حوالے سے موجودہ مراجع تقلید کے فتاوی کے لئے رجوع کریں: مسافت شرعی کی مقدار کیا ہے؟
  31. حرّعاملى، ج 12، ص555۔
  32. ازرقى، ج 2، ص 128؛ فاكهى، ج 2، ص 273، 275؛ كلینى، ج 4، ص 195ـ 197؛ احمدبن عبدالله طبرى، ص 652ـ 653۔
  33. طوسى، التبیان، ج 2، ص 173ـ 174؛ ابن‌اثیر، "علم"، "نور" کے ذیل میں؛ ابن‌منظور، نے "علم" کے ذیل میں؛ زبیدى، "نصب"، "حرم" کے ذیل میں۔
  34. ازرقى، ج 2، ص 128ـ130؛ فاكهى، ج 2، ص 273ـ 276؛ فاسى، ج 1، 106ـ107؛ ابن‌حجر عسقلانى، ج 1، ص 72، 367، ج 6، ص50؛ مطر، ص 19۔
  35. عبدالملك‌بن عبدالله‌بن دِهیش، ص 51ـ52۔
  36. فاسى، ج 1، ص 107؛ ابن‌فهد، ج 2، ص 386، ج 3، ص 117؛ عبدالملك‌بن عبدالله‌بن دهیش، ص 52ـ55۔
  37. كردى، ج 1، جزء2، ص100ـ101؛ عبدالملك بن عبدالله بن دهیش، ص 56ـ62۔
  38. عبدالملك‌بن عبدالله‌بن دهیش، ص 63۔
  39. ماوردى، ص 259؛كاسانى، ج 2، ص 446؛ابن‌ظهیره، ص 169؛نراقى، ج 13، ص 297۔
  40. طوسى، التبیان، ج 5، ص200؛زحیلى، ج 3، ص 329۔
  41. طوسى، المبسوط فى فقه‌الامامیة، ج 1، ص 355؛احمدبن عبدالله طبرى، ص 641؛خطیب شربینى، ج 1، ص 476؛زحیلى، ج 3، ص 327۔
  42. شریف‌رضى، ص 182؛علامه حلّى، تذكرةالفقهاء، ج 7، ص 272ـ273، 277ـ 278؛زحیلى، ج 3، ص 328ـ329۔
  43. سورہ مائدہ آیت 96: "...وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ..."۔ (ترجمہ: ...اور خشکی کا شکار تم پر حرام کیا گیا ہے...)۔
  44. حرّعاملى، ج 12، ص 552ـ557۔
  45. كاسانى، ج 2، ص 446، 450ـ452؛نووى، ج7، 494ـ495؛علامه حلّى، تذكرة الفقهاء، ج7، ص271، 282، 364ـ369، ج8، ص25؛زحیلى، ج3، ص328۔
  46. علامه حلّى، تذكرةالفقهاء، ج7، ص290؛دسوقى، ج 2، ص78۔
  47. ماوردى، ص 260؛طوسى، المبسوط، ج 2، ص 3۔
  48. نووى، ج 7، ص 471؛كاشف‌الغطاء، ج 2، ص 456۔
  49. كاسانى، ج 2، ص 453؛شهیداول، ج 1، ص 473۔
  50. فاسى، ج 1، ص 138۔
  51. علامه حلّى، تذكرةالفقهاء، ج 8، ص 442؛حرّعاملى، ج 13، ص 259ـ262؛زحیلى، ج 3، ص 329۔
  52. آل‌عمران: 97۔
  53. ازرقى، ج 2، ص 139؛علامه حلّى، 1414، ج 8، ص 441ـ 442؛ابن‌عابدین، ج 2، ص 256؛خویى، ص 184ـ185۔
  54. كلینى، ج 4، ص 139؛جصاص، ج2، ص 296؛طوسى، الخلاف، ج 5، ص223؛زحیلى، ج 3، ص 329۔
  55. شافعى، ج 4، ص 188؛علامه حلّى، تذکرةالفقها، ج 9، ص 337؛زحیلى، ج 3، ص 330۔
  56. "إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَيَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ الَّذِي جَعَلْنَاهُ لِلنَّاسِ سَوَاء الْعَاكِفُ فِيهِ وَالْبَادِ وَمَن يُرِدْ فِيهِ بِإِلْحَادٍ بِظُلْمٍ نُذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ"۔ (ترجمہ: بلاشبہ وہ جو کافر ہیں اور روکتے ہیں اللہ کے راستے اور اس مسجد حرام سے جسے ہم نے تمام لوگوں کے لئے قرار دیا ہے، برابر ہیں اس میں مجاور وہاں کے اور باہر سے آنے والے اور جو اس میں ظلم و تعدی کے ساتھ غلط روی کرنا چاہے ہم اسے دردناک عذاب کا مزہ چکھائیں گے)۔
  57. ابن‌قدامه، ج 4، ص 19ـ20؛حَطّاب، ج 7، ص 546؛ابن‌عابدین، ج 6، ص 711؛قس نووى، ج 9، ص 250؛مقدس اردبیلى، زبدةالبیان، ص 221۔
  58. نووى، ج 7، ص490ـ491، 496؛علامه حلّى، تذکرةالفقهاء، ج 7، ص 266ـ267، 367، 377ـ378، ج 8، ص 25، 62؛حرّعاملى، ج 13، ص 13ـ17۔
  59. تکلیفی حرمت وضعی حرمت کے مقاہلے میں آتی ہے اور وضعی حکم اور تکلیفی حکم کے درمیان کسی قسم کا مفہومی ربط نہیں پایا جاتا؛ مثال کے طور پر ـ وجوب ـ جو ایک تکلیفی حکم ہے، اور سببیت جو ایک وضعی حکم ہے، کے درمیان تضاد اور مباینت ہے۔(ایضاح الکفایة جلد 5 : صص311-312) اور تکلیفی حرمت کا تعلق حقوق اللہ سے ہے۔
  60. ابن‌رشد، ج 1، ص 612، 616، 622۔
  61. ازرقى، ج 2، ص 132؛فاكهى، ج 2، ص 266؛فاسى، ج 1، ص 131ـ 132۔
  62. علامه حلّى،تذکرةالفقهاء، ج 8، ص 79؛خطیب شربینى، ج 1، ص 479؛حرّعاملى، ج 13، ص 195ـ 198؛خلخالى، ج 5، ص 477ـ 478۔
  63. حرّعاملى، ج 13، ص 287۔
  64. علامه حلّى، تذکرةالفقهاء، ج 8، ص 442، 447؛ابن‌عابدین، ج 2، ص 187؛زحیلى، ج 3، ص 322ـ323۔
  65. ازرقى، ج 2، ص 137؛ابن‌بابویه، المقنع، ص 369ـ370؛حرّعاملى، ج 12، ص 564ـ565، ج 13، ص 265، 555۔
  66. ابن حنبل، ج 6، ص370؛مسلم‌بن حجاج، ج 4، ص 113۔
  67. ابن‌عابدین، ج 2، ص 256؛رفعت‌ باشا، ج 1، ص 447۔
  68. بخارى، ج 5، ص40؛مسلم‌بن حجاج، ج 4، ص 113۔
  69. حكیم، دلیل الناسك، ص 493؛خلخالى، ج 5، ص 513۔
  70. ابن‌عابدین، ج 2، ص 688۔
  71. طوسى،الخلاف، ج 2، ص 451ـ 452؛ابن‌عابدین، ج 2، ص 256؛زحیلى، ج 3، ص 323۔
  72. فرسخ کی تفصیل کے لئے حاشیہ نمبر 30 سے رجوع کریں۔
  73. طوسى، تهذیب، ج 6، ص 13؛نووى، ج 7، ص 489؛هیثمى، 1404، ج 2، ص 54۔
  74. كلینى، ج 4، ص 564؛نووى، ج 7، ص 487؛احمدبن عبدالله طبرى، ص670ـ671۔
  75. حلّى، ج 1، ص 651؛بحرانى، ج 11، ص 302؛نجفى، ج20، ص 75ـ76؛خلخالى، ج 5، ص 512۔
  76. ابن‌قدامه، ج 3، ص 376؛خطیب شربینى، ج 1، ص 529؛ بهوتى حنبلى، ج 2، ص 551۔نیز رجوع کریں: الترمذي، سنن الترمذي، ط دار الفكر للطباعة والنشر والتوزيع بيروت، 1983، باب ما جاء في من تولى غير مواليه أو ادعى إلى غير أبيه ج3 ص297۔: "االْمَدِينَةُ حَرَمٌ مَا بَيْنَ عَيْرٍ إِلَى ثَوْرٍ"۔ (ترجمہ: مدینہ حرم ہے عَیر سے لے کر ثور تک)۔
  77. نووى، ج 7، ص 486۔
  78. ابن‌قدامه، ج 3، ص 370۔
  79. ابن‌ادریس حلّى، ج 1، ص 651ـ652؛زركشى، 1410، ص 243ـ245، 261؛گلپایگانى، ص187، 210؛زحیلى، ج 3، ص 335ـ 336۔
  80. احمدبن عبدالله طبرى، ص 675ـ676۔
  81. مفید، ص 126؛ابن‌ادریس حلّى، ج 1، ص 342۔
  82. ابن سعید، ص 93۔
  83. بحرانى، ج 11، ص 463؛نراقى، ج 8، ص 316؛حكیم، مستمسك، ج 8، ص 188۔
  84. كلینى،الکافی، ج 4، ص 563۔
  85. طوسى، النهایة فى مجردالفقه و الفتاوى، ص 124؛علامه حلّى، مختلف‌الشیعة فى احكام الشریعة، ج 1، ص 333؛شهید ثانى، ج 1، ص787ـ 788؛ حسینى مرعشى، ج 1، ص 453۔
  86. كلینى، ج 4، ص 524؛ طوسى، 1376ش، ج 5، ص 470ـ475۔
  87. بحرانى، ج 11، ص 456ـ 459۔
  88. علامه حلّى، مختلف‌الشیعة فى احكام الشریعة، ج 3، ص 132؛شهیدثانى، ج 1، ص 787؛بروجردى، ج 8، ص 411ـ414۔
  89. ابن‌بابویہ، المقنع، ص 262۔
  90. نراقى، ج 8، ص 309۔
  91. بحرانى، ج 2، ص 441، 448، 452؛نراقى، ج 8، ص310؛بروجردى، ج 8، ص 406ـ 410۔
  92. مقدس اردبیلى، مجمع الفائدة و البرهان، ج 3، ص 424ـ425؛بحرانى، ج 11، ص 440ـ442؛نجفى، ج 14، ص 336۔
  93. موسوى عاملى، ج 4، ص 468؛میرزاى قمى، ج 1، ص 73؛نجفى، ج 14، ص 337؛بهجت، ص 599۔
  94. اسکافی،مجموعة فتاوى ابن‌الجنید ص 89ـ 90۔
  95. علم‌الهدى، رسائل الشریف المرتضى،ج 3، ص 47۔
  96. بحرانى، ج 11، ص 438، 465؛بروجردى، ج 8، ص420ـ421۔
  97. بروجردى، ج 8، ص 414ـ420؛روحانى، ج 6، ص 427ـ428۔
  98. كاسانى، ج 1، ص 91ـ92؛ابن‌قدامه، ج 2، ص 107۔
  99. موسوى عاملى، ج 1، ص 282؛قس نراقى، ج 2، ص 292۔
  100. طباطبائى یزدى، ج 1، ص 89ـ90۔
  101. موسوى عاملى، ج 2، ص 152؛طباطبائى یزدى، ج 1، ص 447۔
  102. ابن‌ادریس حلّى، ج 3، ص 363ـ364؛ قس خویى، ج 2، ص 184ـ185۔


مآخذ

  • قرآن۔
  • آقابزرگ طهرانى۔
  • ابن‌اثیر، النهایة فى غریب‌الحدیث والاثر، چاپ محمود محمد طناحى و طاهر احمد زاوى، بیروت 1383/1963، چاپ افست قم 1364ش۔
  • ابن‌ادریس حلّى، كتاب السرائرالحاوى لتحریر الفتاوى، قم 1410ـ1411۔
  • ابن‌بابویه، كتاب مَن لایحضُرُه الفقیه، چاپ علی‌اكبر غفارى، قم 1404۔
  • ابن‌بابویه، المقنع، قم 1415۔
  • ابن‌جنید اسكافى، مجموعة فتاوى ابن‌الجنید، تألیف على پناه اشتهاردى، قم 1416۔
  • ابن‌جوزى، المنتظم فى تاریخ الملوك و الامم، چاپ محمد عبدالقادر عطا و مصطفى عبدالقادر عطا، بیروت 1412/1992۔
  • ابن‌حجر عسقلانى، الاصابة فى تمییزالصحابة، چاپ علی‌محمد بجاوى، بیروت 1412/1992۔
  • ابن‌حنبل، مسند احمدبن حنبل، استانبول 1402/1982۔
  • ابن‌رشد، بدایةالمجتهد و نهایة المقتصد، چاپ طه عبدالرؤوف سعد، بیروت 1409/1989۔
  • ابن‌سعید، الجامع‌للشرائع، قم 1405۔
  • ابن‌ظهیره، الجامع‌اللطیف فى فضل مكة و اهلها و بناءالبیت الشریف، مكه 1392/1972۔
  • ابن‌عابدین، ردّالمحتار على الدرّالمختار، چاپ سنگى مصر 1271ـ1272، چاپ افست بیروت 1407/1987۔
  • ابن‌فهد، اتحاف الورى باخبار ام‌القرى، چاپ فهیم محمد شلتوت، مكه (1983ـ? 1984)۔
  • ابن‌قدامه، المغنى، بیروت: دارالكتاب العربى، بی‌تا۔
  • ابن‌منظور۔
  • ابن‌هشام، السیرةالنبویة ، چاپ مصطفى سقا، ابراهیم ابیارى، و عبدالحفیظ شلبى، (بیروت): دارابن كثیر، بی‌تا۔
  • محمدبن عبدالله ازرقى، اخبار مكة و ما جاء فیها من‌الآثار، چاپ رشدى صالح ملحس، بیروت 1403/ 1983، چاپ افست قم 1369ش۔
  • احمدبن محمد اسدى مكى، اخبار الكرام باخبار المسجد الحرام، چاپ حافظ غلام مصطفى، بنارس 1396/1976۔
  • یوسف‌بن احمد بحرانى، الحدائق الناضرة فى احكام العترةالطاهرة، قم 1363ـ1367ش۔
  • محمدبن اسماعیل بخارى، صحیح‌البخارى، (چاپ محمد ذهنی‌افندى)، استانبول 1401/1981۔
  • مرتضى بروجردى، مستندالعروة الوثقى، تقریرات درس آیت‌الله خویى، ج 8، (قم) 1367ش۔
  • اسماعیل بغدادى، هدیةالعارفین، ج 2، در حاجی‌خلیفه، ج 6۔
  • محمدتقى بهجت، جامع‌المسائل، قم 1378ش۔
  • منصوربن یونس بهوتى حنبلى، كشّاف القناع عن متن الاقناع، چاپ محمدحسن شافعى، بیروت 1418/1997۔
  • عبدالرحمان جبرتى، تاریخ عجائب الآثار فى التراجم و الاخبار، بیروت: دارالجیل، بی‌تا۔
  • احمدبن على جصاص، احكام‌القرآن، چاپ عبدالسلام محمدعلى شاهین، بیروت 1415/ 1994۔
  • اسماعیل‌بن حماد جوهرى، الصحاح : تاج‌اللغة و صحاح العربیة، چاپ احمد عبدالغفور عطار، بیروت، بی‌تا، چاپ افست تهران 1368 ش؛
  • حرّعاملى۔
  • اسماعیل حسینى مرعشى، اِجماعیات فقه‌الشیعة و اَحْوَطُ الاَقوال من احكام الشریعة، ج 1، (قم) 1419۔
  • محمدبن محمد حَطّاب، مواهب‌الجلیل لشرح مختصر خلیل، چاپ زكریا عمیرات، بیروت 1416/1995۔
  • محسن حكیم، دلیل الناسك، چاپ محمد قاضى طباطبایى، بی‌جا : مؤسسةالمنار، بی‌تا۔
  • محسن حكیم، مستمسك العروة الوثقى، چاپ افست قم 1404۔
  • محمدبن احمد خطیب شربینى، مغنى المحتاج الى معرفة معانى الفاظ‌المنهاج، مع تعلیقات جوبلی‌بن ابراهیم شافعى، بیروت: دارالفكر، بی‌تا۔
  • رضاخلخالى، معتمد العروة الوثقى، محاضرات آیت‌الله خویى، قم 1405ـ1410۔
  • خلیل‌بن احمد، كتاب‌العین، چاپ مهدى مخزومى و ابراهیم سامرائى، قم 1405۔
  • ابوالقاسم خویی ، مبانى تكملةالمنهاج، قم 1396۔
  • محمدبن احمد دسوقى، حاشیة الدسوقى على الشرح‌الكبیر، (بیروت): داراحیاء الكتب العربیة، بی‌تا۔
  • ابراهیم رفعت‌باشا، مرآةالحرمین، او، الرحلات الحجازیة و الحج و مشاعره الدینیة، بیروت: دارالمعرفة، بی‌تا۔
  • محمدصادق روحانى، فقه‌الصادق، قم 1412ـ1414۔
  • محمدبن محمد زبیدى، تاج‌العروس من جواهرالقاموس، چاپ علی‌شیرى، بیروت 1414/ 1994۔
  • وهبه مصطفى زحیلى، الفقه‌الاسلامى و ادلّته، دمشق 1404/ 1984۔
  • محمدبن بهادر زركشى، اعلام‌الساجد باحكام المساجد، چاپ ابوالوفا مصطفى مراغى، قاهره 1410/1989۔
  • محمدبن بهادر زركشى، البرهان فى علوم‌القرآن، چاپ محمدابوالفضل ابراهیم، بیروت 1408/ 1988۔
  • سیوطى۔
  • محمدبن ادریس شافعى، الاُمّ، چاپ محمد زهرى نجار، بیروت، بی‌تا۔
  • محمدبن حسین شریف رضى، حقائق التأویل فى متشابه التنزیل، چاپ محمدرضا آل كاشف‌الغطاء، بیروت، بی‌تا، چاپ افست قم، بی‌تا۔
  • محمدبن مكى شهید اول، الدروس الشرعیة فى فقه‌الامامیة، قم 1412ـ1414۔
  • زین‌الدین‌بن على شهید ثانی، الروضة البهیة في شرح اللمعة الدمشقیة، چاپ محمد كلانتر، بیروت 1403/ 1983۔
  • طباطبائى۔
  • محمد كاظم ‌بن عبدالعظیم طباطبائى یزدى، العروة الوثقى، بیروت 1409ہجری۔
  • امین الاسلام طبرسی، مجمع البیان، طبرسى۔
  • احمدبن عبدالله طبرى، القرى لقاصد ام‌القرى، چاپ مصطفى سقا، بیروت، بی‌تا۔
  • محمدبن جریر طبرى، الجامع۔
  • محمدبن حسن طوسى، التبیان فى تفسیرالقرآن، چاپ احمد حبیب قصیر عاملى، بیروت، بی‌تا۔
  • محمدبن حسن طوسى، تهذیب الاحكام، چاپ علی‌اكبر غفارى، تهران 1376ش۔
  • محمدبن حسن طوسى، كتاب الخلاف، قم 1407ـ1417۔
  • محمدبن حسن طوسى، المبسوط فى فقه‌الامامیة، ج 1ـ2، چاپ محمدتقى كشفى، تهران 1387ہجری شمسی۔
  • محمدبن حسن طوسى، النهایة فى مجردالفقه و الفتاوى، بیروت 1400/ 1980۔
  • عبدالملك‌بن عبدالله‌بن دهیش، الحرم‌المكى الشریف و الاعلام المحیطة به، مكه 1415/ 1995۔
  • حسن‌بن یوسف علامه حلّى، تحریرالاحكام الشرعیة على مذهب الامامیة، چاپ ابراهیم بهادرى، قم 1420ـ1422۔
  • حسن‌بن یوسف علامه حلّى، تذكرةالفقهاء، قم 1414۔
  • حسن‌بن یوسف علامه حلّى، مختلف‌الشیعة فى احكام الشریعة، قم 1412ـ1420۔
  • علی‌بن حسین علم‌الهدى، رسائل الشریف المرتضى، چاپ مهدى رجائى، رساله :30 جمل‌العلم و العمل، قم 1405ـ1410۔
  • محمدبن احمد فاسى، شِفاءالغَرام باخبار البلد الحرام، چاپ ایمن فؤاد سید و مصطفى محمد ذهبى، مكه 1999۔
  • محمدبن اسحاق فاكهى، اخبار مكة فى قدیم الدهر و حدیثه، چاپ عبدالملك‌بن عبدالله‌بن دهیش، بیروت 1419/ 1998۔
  • محمدبن احمد قرطبى، الجامع لاحكام القرآن، بیروت: دارالفكر، بی‌تا۔
  • ابوبكربن مسعود كاسانى، بدائع‌الصنائع فى ترتیب الشرائع، چاپ محمد عدنان‌بن یاسین درویش، بیروت 1419/1998۔
  • جعفربن خضر كاشف‌الغطاء، كشف‌الغطاء عن مبهمات الشریعة الغراء، اصفهان: انتشارات مهدوى، بی‌تا۔
  • محمدطاهر كردى، التاریخ‌القویم لمكة و بیت‌الله الكریم، بیروت 1420/2000۔
  • عبدالحسین كلیدار، بغیةالنبلاء فى تاریخ كربلاء، چاپ عادل كلیدار، بغداد 1966۔
  • كلینى۔
  • محمدرضا گلپایگانى، مناسك‌الحج، قم 1413 ہجری شمسی۔
  • علی‌بن محمد ماوردى، الاحكام السلطانیة و الولایات الدینیة، بغداد 1409/ 1989۔
  • علامہ محمد باقر مجلسی۔
  • مسلم‌بن حجاج قشیری، صحیح مسلم، چاپ محمد فؤاد عبدالباقى، استانبول 1401/ 1981۔
  • فوزیه حسین مطر، تاریخ عمارةالحرم المكى الشریف الى نهایة العصر العباسى الاول، جده 1402/1982۔
  • محمدبن محمدمفید، المُقْنِعَة، قم 1410۔
  • احمدبن محمد مقدس اردبیلى، زبدةالبیان فى احكام القرآن، چاپ محمدباقر بهبودى، تهران، بی‌تا۔
  • احمدبن محمد مقدس اردبیلى، مجمع‌الفائدة و البرهان فى شرح ارشادالاذهان، چاپ مجتبى عراقى، على پناه اشتهاردى، و حسین یزدى اصفهانى، ج 3، قم 1362ش۔
  • محمدبن احمد منهاجى اسیوطى، جواهرالعقود و معین القضاة و المُوَقِعین و الشهود، چاپ مسعد عبدالحمید محمد سعدنى، بیروت 1417/ 1996۔
  • محمدبن على موسوى عاملى، مدارك الاحكام فى شرح شرائع الاسلام، قم 1410 ہجری شمسی۔
  • ابوالقاسم‌بن محمدحسن میرزاى قمى، جامع‌الشتات، چاپ مرتضى رضوى، تهران 1371ش۔
  • محمدحسن‌بن باقر نجفى، جواهرالكلام فى شرح شرائع الاسلام، بیروت 1981۔
  • احمدبن محمدمهدى نراقى، مستند الشیعة فى احكام الشریعة، قم، ج 2، 1415، ج 8، 1416، ج 13، 1417۔
  • یحیی‌بن شرف نووى، المجموع: شرح المُهَذّب، بیروت: دارالفكر، بی‌تا۔
  • علی‌بن ابوبكر هیثمى، كشف‌الاستار عن زوائد البزار علی‌الكتب الستة، ج 2، چاپ حبیب الرحمان اعظمى، بیروت 1404/ 1984۔
  • علی‌بن ابوبكر هیثمى، مجمع الزوائد و منبع الفوائد، بیروت 1408/1988۔
  • یاقوت حموى۔
  • یعقوبى، تاریخ۔

بیرونی ربط

مضمون کا ماخذ: دانشنامۂ جہان اسلام