خدیجۂ کبری سلام اللہ علیہا

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
خدیجہ کبری سلام‌ اللہ علیہا
پیامبر(ص) و حضرت خدیجه در حال گرفتن اولین وضو- کتاب سیره النبی-.jpg
پیغمبرؐ و خدیجہ ؑ کا پہلا وضو، کتاب سیرت النبی کے مطابق، یہ پینٹنگ گیارہ ہجری میں سلطان مراد، حاکم سوم عثمانی اور سید سلیمان کسیم پاشا کے ذریعہ آمادہ کی گئی ہے۔
کوائف
نام: خدیجہ بنت خویلد
لقب: ام المؤمنین
مشہور اقارب: پیغمبر اکرمؐ اور حضرت فاطمہ(س)
وجہ شہرت: سب سے پہلے اسلام لانے والی شخصیت یا خاتون اور زوجۂ پیغمبر اکرمؐ
پیدائش: آغاز بعثت سے تین یا چار دہائی پہلے،
مقام پیدائش مکہ
محل زندگی: مکہ
وفات: دسویں بعثت (عام الحزن) ٦٥ سال کی عمر میں، مکہ
مدفن: مکہ کے کوہ حجون کے دامن میں قبرستان معلاۃ

خَدیجَہ بنت خُوَیلِد (متوفی سنہ 10 بعثت) خدیجۃ الکبری و ام المومنین کے نام سے مشہور، پیغمبر اکرمؐ کی اولین زوجہ اور حضرت زہرا ؑ کی مادر گرامی ہیں۔ آپ نے بعثت سے پہلے حضرت محمدؐ کے ساتھ شادی کی۔ آپ آنحضرت پر ایمان لانے والی پہلی خاتون ہیں۔

حضرت خدیجہ ؑ نے اپنی ساری دولت اسلام کی راہ میں خرچ کی۔ پیغمبر اکرمؐ نے حضرت خدیجہ ؑ کے احترام میں ان کی زندگی کے دوران دوسری زوجہ اختیار نہیں کی اور آپ کی وفات کے بعد بھی آپ کو اچھے الفاظ میں یاد فرماتے تھے۔

ایک قول کی بنا پر پیغمبر اکرمؐ کے حضرت خدیجہ ؑ سے دو بیٹے قاسم و عبداللہ، چار بیٹیاں زینب، رقیہ، ام کلثوم اور حضرت فاطمہ ؑ تھیں۔ اس بنا پر ابراہیم کے علاوہ پیغمبر اسلامؐ کی باقی اولاد حضرت خدیجہ ؑ سے ہی تھیں۔

حضرت خدیجہ ؑ نے ہجرت سے تین سال پہلے 65 سال کی عمر میں مکہ میں وفات پائی۔ پیغمبر اکرمؐ نے آپ کو قبرستان معلاۃ میں سپرد خاک فرمایا۔

سوانح حیات

حضرت خدیجہؑ خویلد بن اسد بن عبد العزی بن قصی القرشیہ الاسدیہ[1]اور فاطمہ بنت زائدہ[2] کی بیٹی تھیں۔ آپ آغاز بعثت پیغمبر اسلامؐ سے تیس یا چالیس سال پہلے مکہ میں پیدا ہوئیں اور اسی شہر میں اپنے والد کے گھر پر پرورش پائی۔[3]

تاریخی مآخذ میں اسلام سے پہلے حضرت خدینجہؑ کے بارے میں کوئی دقیق معلومات میسر نہیں ہیں۔ صرف اتنا ملتا ہے کہ آپ ایک مالدار خاتون تھیں، تجارت کرتی تھیں اور اپنے سرمایہ کو مضاربہ اور تجارت کے لئے لوگوں کو استخدام کرنے میں صرف کرتی تھیں۔[4]

تاریخی مآخذ میں آپ کے اجتماعی مقام و منزلت اور حسب و نسب کے اعتبار سے نیک نامی کی طرف اشارہ ہوا ہے؛ ابن سید الناس اس سلسلے میں کہتے ہیں: "آپ ایک شریف اور با درایت خاتون تھیں جنہیں خدا نے خیر اور کرامت عطا کی ہیں۔ نسب کے لحاظ سے عرب کے ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں لیکن عظیم شرافت اور دولت کی مالکہ تھیں۔[5]

بلاذری نے واقدی سے یوں نقل کیا ہے: خدیجہؑ بنت خویلد اعلی حسب و نسب اور دولت مند تاجر خاتون تھیں۔[6]

پیغمبر اکرمؐ سے شادی

پیغمبر اسلامؐ:
ما أبدلنی اللہ خیرا منہا، صدقتنی إذ کذبنی الناس وواستنی بمالہا اذ حرمنی الناس، ورزقنی اللہ الولد منہا ولم‌یرزقنی من غیرہا۔
(ترجمہ: خدا نے خدیجہ سے بہتر کوئی عورت مجھے نہیں دی۔ جب لوگ مجھے جھوٹا کہتے تھے، تو وہ میری سچائی کی گواہی دیتی اور جب لوگوں نے مجھ پر پابندیاں لگائیں تو اس نے اپنی دولت کے ذریعے میری مدد کی۔ اور خدا نے اس سے مجھے ایسی اولاد عطا کی جو دوسری زوجات سے عطا نہیں کی۔)

شیخ مفید، الافصاح، ۱۴۱۴ق، ص۲۱۷۔

تمام تاریخی مآخذ حضرت خدیجہ کو پیغمبر اکرمؐ کی پہلی زوجہ مانتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود اس ازدواج کی تاریخ دقیق مشخص نہیں ہے۔ حضرت خدیجہ سے شادی کے وقت حضرت محمدؐ کی عمر 21 سے 37 سال کے درمیان ذکر کی گئی ہے۔[7] لیکن جو چیز تمام مورخین کے یہاں قابل اعتماد ہے وہ 25 سال ہے۔[8] چنانچہ مآخذ میں آیا ہے کہ جب حضرت خدیجہؑ حضرت محمدؐ کے نیک سلوک، اچھے گفتار، اعلی اخلاقی اقدار اور امانت داری سے متاثر ہوئیں تو انہوں نے پبغمبر اکرمؐ کو اپنی تجارتی سامان پر امین مقرر کر کے تجارت کے لئے شام روانہ کیا اور اس سفر سے واپسی پر جب اپنے میسرہ کی زبانی پیغمبر اکرمؐ کے منفرد خصوصیات سے آشنا ہوئیں تو انہوں نے حضرت محمدؐ سے شادی کی خواہش ظاہر کی۔[9] بعض مورخین اس بات کے معتقد ہیس کہ حضرت خدیجہ پیغمبر اکرمؐ کی صداقت، امانت، حسن خلق اور نیک سلوک سے متاثر ہو کر آپ سے شادی کی خواہش ظاہر کی۔[10] ابن اثیر نے بھی کتاب اسد الغابہ میں انہیں عوامل کو بیان کیا ہے۔[11] اہل سنت کے اکثر تاریخی مآخذ یہ دعوی کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرمؐ سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے سے پہلے حضرت خدیجہ (س) کے کئی شوہر اور اولاد تھیں؛[حوالہ درکار] بلاذری انساب الاشراف میں ابو ہالہ ہند بن نباش کو پیغمبر اکرمؐ سے پہلے حضرت خدیجہ کا شوہر قرار دیتے ہیں۔[12] اسی طرح "عتیق بن عابد بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم" کو بھی حضرت خدیجہ(س) کا شوہر قرار دیا گیا ہے۔[13]

ان سب کے باوجود بعض شیعہ علماء اس بات کے معتقد ہیں کہ حضرت خدیجہ(س) نے پیغمبر اکرمؐ کی زوجیت میں آنے سے پہلے کسی سے شادی نہیں کی ہیں۔ ابن شہر آشوب کے مطابق سید مرتضی اپنی کتاب شافی اور شیخ طوسی اپنی کتاب التلخیص میں پیغمبر اکرمؐ کے ساتھ شادی کے موقع پر حضرت خدیجہ کے باکرہ ہونے کی طرف اشارہ کئے ہیں۔[14] بعض محققین اس بات کے معتقد ہیں کہ سرزمین حجاز میں رائج قومی اور نژادی تعصبات کو مد نظر رکھتے ہوئے اس بات کو قبول نہیں کیا جات سکتا کہ حضرت خدیجہ جو قریش کے بزرگوں میں سے تھیں، کی شادی قبیلہ بنی تمیم اور قبیلہ بنی مخزوم کے دو اعرابی سے انجام پائی ہو[15] اور جن اولاد کی نسبت حضرت خدیجہ کی طرف دی جاتی ہیں حقیقت میں وہ ان کی بہن ہالہ کی تھیں جن کی وفات کے بعد ان کے بچے حضرت خدیجہ کی زیر سرپرستی پلی بڑی ہیں۔[16]

آنحضرت سے شادی کے وقت آپ کی عمر

پیغمبر اکرمؐ کے ساتھ شادی کے وقت حضرت خدیجہ ؑ کی عمر کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے اس بنا پر اس وقت آپ کی عمر 25 سے 46 سال تک بتائی گئی ہیں۔ اکثر مورخین نے پیغمبر اکرمؐ کے ساتھ شادی کے وقت آپ کی عمر 40 سال بتائی ہیں۔[17] لیکن اس سلسلے میں مزید روایات بھی ہیں۔[18] جبکہ بعض مصادر کے مطابق آپ کی عمر 25 سال تھی[19] اسی طرح 28 سال[20]، 30 سال [21]، 35 سال[22]، 44 سال[23]، 45 سال[24] اور 46 سال[25] بھی کہا گیا ہے۔

حضرت خدیجہ ؑ کی عمر پیغمبرؐ کے ساتھ شادی کے وقت کیا تھی اس بارے میں صحیح معلومات حاصل کرنا دشوار کام ہے۔ پیغمبرؐ اور خدیجہ ؑ کی مشترک زندگی کے کل ٢٥ سال تھے (١٥ سال، بعثت سے پہلے [26]اور ١٠ سال بعثت کے بعد)، اور تاریخی مصادر میں خدیجہ ؑ کی عمر وفات کے وقت جو بیان ہوئی ہے وہ ٦٥ سال یا ٥٠ سال ہے، اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ خدیجہ ؑ کی عمر شادی کے وقت ٤٠ سال یا ٢٥ سال تھی۔ اگر خدیجہ ؑ وفات کے وقت، ٥٠ سال کی تھیں، تو اس کا مطلب ہے کہ آپ ؑ شادی کے وقت ٢٥ سال کی تھیں، بعض محققین نے اسی نظر کو ترجیح دی ہے،[27]اور کیونکہ یہ قول مصادر میں شائع نہیں ہوا، اس لئے اس کو قبول کرنا کچھ دشوار ہے، اور اگر اس نکتے کو مد نظر رکھیں کہ پیغمبرؐ کا فرزند قاسم جو کہ خدیجہؑ سے تھا، جس کی وفات بعثت کے بعد ہوئی،[28]جس کا معنی یہ ہے کہ قاسم کی ولادت کے وقت خدیجہ ؑ کی عمر ٥٥ سال تھی جو کہ قابل قبول نہیں ہے۔

پیغمبر کے ساتھ ازدواج کے وقت حضرت خدیجہ کے کنوارے[29] ہونے کے بعض شیعہ علما کے نظریے کے زیادہ قوی ہونے کی وجہ یہ ہے کہ حضرت خدیجہ جیسی مقام و منزلت اور قریش جیسے اعلی خاندان سے تعلق رکھنے والی خاتون نے ٤٠ سال تک شادی نہ کرنا بہت بعید نظر آتا ہے۔ ان دلائل کی بنا پر بعض محققین نے شادی کے وقت خدیجہ ؑ کی عمر ٢٥ یا ٢٨ سال ذکر کی ہے۔[30]

خدیجہ ؑ کے فرزند

پیغمبرؐ اور خدیجہ کبری ؑ کی مشترک زندگی کا ثمرہ، چھ فرزند تھے۔ اس کے باوجود ابن کثیر نے ابن اسحاق اور ابن ہشام سے نقل قول کرتے ہوئے پیغمبرؐ اور خدیجہ ؑ کے ساتھ فرزندوں کے نام ذکر کئے ہیں اور بیان کرتے ہیں کہ ابراہیم کے علاوہ پیغمبرؐ کے سب فرزند خدیجہ ؑ سے ہیں۔[31]یونس بن بکیر سے نقل کرتے ہوئے، خدیجہ ؑ سے پیغمبرؐ چھ فرزندوں کے نام بیان کئے ہیں[32]ابن اثیر نے زبیر بن بکار سے نقل کیا ہے، کہ پیغمبرؐ کے فرزندوں طیب اور طاہر کے ملقب ہونے کی دلیل یہ ہے کہ ان کی ولادت پیغمبرؐ کی نبوت کے بعد ہوئی ہے۔[33]باقی تمام مصادروں نے بھی ابراہیم کے علاوہ پیغمبرؐ کے تمام فرزند، خدیجہ ؑ سے ہی لکھے ہیں.[34]بعض مصادر میں خدیجہ ؑ کے فرزندوں کی تعداد سات یا آٹھ لکھی گئی ہے، مثال کے طور پر، ابن اثیر جزری نے زبیر بن بکار سے نقل کرتے ہوئے، پیغمبرؐ کے آٹھ فرزندوں کے نام ذکر کئے ہیں جو سب خدیجہ ؑ سے تھے۔[35]

بعض نے کہا ہے کہ پیغمبرؐ اور خدیجہ ؑ کے فرزندوں کی تعداد میں اختلاف کی وجہ ان کے نام اور لقب کا آپس میں مل جانا ہے۔ اس نظر کے مطابق پیغمبرؐ اور خدیجہ ؑ کے فرزندوں کی تعداد ٦ نفر دو بیٹے جن کے نام قاسم اور عبداللہ ہے اور چار بیٹیاں جن کے نام زینب، رقیہ، ام کلثوم، اور فاطمہ ؑ ہیں۔[36]

فضائل و خصوصیات

حضرت خدیجہ ؑ کے فضائل و مناقب اور آپ کی اخلاقی خصوصیات اور ایمانی مراتب کو اگر کتاب کی صورت میں مرتب کیا جائے تو اس سلسلے میں منقولہ روایات و احادیث کو اکٹھا کرکے کافی ضخیم اور حجیم کتاب لکھی جاسکے گی۔ بے شک گھر والے ہی گھر والوں کی بہتر توصیف کر سکتے ہیں چنانچہ اس سلسلے میں آپ کے شریک حیات رسول اللہؐ اور اہل بیت ؑ کے فرامین و ارشادات سے رجوع کرنا چاہئے۔

خاتونِ علم و ایمان

خدیجہ ؑ حقیقتاً ایک عقلمند اور شریف خاتون تھیں۔ ابن جوزی رقمطراز ہے: "خدیجہ ـ یہ پاک طینت خاتون ـ جن کی خصوصیات میں فضیلت پسندی، فکری جدت، عشق و کمال اور ترقی جیسی خصوصیات شامل ہیں ـ نوجوانی کی عمر سے ہی حجاز اور عرب کی نامور اور صاحب فضیلت خاتون سمجھی جاتی تھیں"۔[37] آپ کی مادی قوت اور مال و دولت سے زيادہ اہم آپ کی بے انتہا معنوی اور روحانی ثروت تھی۔ آپ نے اپنا رشتہ مانگنے والے اشراف قریش کی درخواست مسترد کرکے رسول اللہؐ کو شریک حیات کے عنوان سے منتخب کیا اور یوں مادی و دنیاوی ثروت کی نعمت کو آخرت کی سعادت اور جنت کی ابدی نعمتوں سے مکمل کیا اور اپنی عقلمندی و دانائی اپنے زمانے کے لوگوں کو جتادی۔ آپ نے اس نعمت کے حصول کے لئے سب سے پہلے رسول اللہؐ کی تصدیق کی، اسلام قبول کیا اور اسلام کی پہلی نماز رسول اللہؐ کے ساتھ ادا کی۔

اسلام اور نماز میں سابق

تاریخ و سیرت کا جائزہ لے کر ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت خدیجہ ؑ کا سب سے پہلے قبول اسلام مسلّمات میں سے ہے؛ تمام مصادر اس سلسلے میں متفق القول ہیں کہ خدیجہ ؑ نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا؛[38] حتی کہ بعض مصادر نے اس سلسلے میں اجماع کا دعوی کیا ہے۔[39] ابن عبدالبر، کا کہنا ہے کہ علیؑ خدیجہ ؑ کے بعد اولین ہیں جو رسول اللہؐ پر ایمان لائے۔[40] نیز مصادر و ذرائع نے "السابقون الاولون" کے مصادیق بیان کرتے ہوئے حضرت خدیجہ ؑ اور علی ؑ کو اولین مسلمان قرار دیا ہے۔[41] نیز تاریخ و سیرت بتاتی ہے کہ خدیجہ ؑ اور علی ؑ عالم اسلام کے اولین نماز گزار ہیں۔[42]

ترقئ اسلام میں کردار

قبرستان جنت المعلی، تخریب سے پہلے، جناب خدیجہ کا مرقد
قبرستان ابو طالب، حجون کی موجودہ تصویر
حضرت خدیجہ ؑ اور پیغمبرؐ کے بیٹے قاسم کا مقبرہ۔انہدام سے پہلے

حضرت خدیجہ ؑ نے اسلام و رسول خداؐ کی نبوت و رسالت پر ایمان کو اپنے عمل سے ملا لیا اور اس حدیث شریف کا مصداق ٹھہریں جس میں کہا گیا ہے کہ "ایمان قلبی اعتقاد، زبانی اقرار اور اعضاء و جوارح کے ذریعے عمل کا نام ہے"۔[43] چنانچہ حضرت خدیجہ ؑ نے قرآن کے احکام پر عمل اور اسلام کے فروغ اور مسلمانوں کی امداد کے لئے اپنی دولت خرچ کرکے، رسول خداؐ کے مقدس اہداف کی راہ میں اپنی پوری دولت کو قربان کر گئیں اور اسلام کی ترقی و پیشرفت میں ناقابل انکار کردار ادا کیا۔ "سليمان الکتاني" کہتا ہے: سیدہ خدیجہ ؑ نے اپنی دولت نبی محمدؐ کو بخش دی مگر وہ یہ محسوس نہیں کر رہی تھیں کہ اپنی دولت آپؐ کو بخش رہی ہیں بلکہ محسوس کر رہی تھیں کہ اللہ تعالی جو ہدایت محمدؐ کی محبت اور دوستی کی وجہ سے، آپ کو عطا کر رہا ہے دنیا کے تمام خزانوں پر فوقیت رکھتی ہے۔[44] یا دیگر آپ محسوس کر رہی تھیں کہ اس واسطے سے محبت اور دوستی کا تحفہ آپؐ کو دے رہی ہیں اور اس کے عوض سعادت اور خوش بختی کی تمام چوٹیوں کو سر کررہی ہیں۔

حضرت خدیجہ ؑ کی مالی امداد کے بدولت رسول خداؐ تقریبا غنی اور بے نیاز ہوگئے۔ خداوند متعال آپؐ کو اپنی عطا کردہ نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے: وَوَجَدَكَ عَائِلاً فَأَغْنَى(ترجمہ: اور [خدا نے] آپ کو تہی دست پایا تو مالدار بنایا)۔[45] رسول خداؐ فرمایا کرتے تھے: ما نَفَعَنِي مالٌ قَطُّ ما نَفَعَني (أَو مِثلَ ما نَفَعَني) مالُ خَديجة(ترجمہ: کسی مال نے مجھے اتنا فائدہ نہیں پہنچایا جتنا فائدہ مجھے خدیجہ ؑ کی دولت نے پہنچایا۔[46] رسول خداؐ نے خدیجہ ؑ کی ثروت سے مقروضوں کے قرض ادا کئے؛ یتیموں، تہی دستوں اور بے نواؤں کے مسائل حل کئے؛ شعب ابی طالب ؑ کے واقعے کے دوران خدیجہ ؑ کی دولت بنو ہاشم [اور بنو المطلب] کی امداد میں صرف ہوئی۔ یہاں تک کہ منقول ہے:

أنفق أبو طالب وخديجة جميع مالهما"(ترجمہ: ابو طالب ؑ اور خدیجہ ؑ نے اپنا پورا مال [اسلام اور قلعہ بند افراد کی راہ میں] خرچ کیا۔[47] شعب ابی طالب ؑ میں محاصرے کے دوران حضرت خدیجہ ؑ کا بھتیجا حکیم بن حزام گندم اور کھجوروں سے لدے ہوئے اونٹ لایا کرتا تھا اور بے شمار خطرات اور زحمت و مشقت سے بنو ہاشم کو پہونچا دیتا تھا۔[48]

خاتون حجاز کی نمایاں خصوصیت آپ کی سخاوت اور کرامت و بخشندگی ہے۔ آپ نے اپنی عظیم ثروت مکمل طور پر رسول اللہؐ کو بخش دی تا کہ آپؐ اس کو محرومین کی نجات، بھوکوں کا پیٹ بھرنے، یتیموں کو پناہ دینے اور عدل و انصاف اور آزادی و حریت کو فروغ دینے میں صرف کریں؛ اور ان کی یہ بخشش اس قدر خالصانہ تھی کہ خداوند متعال نے اس کی تکریم فرمائی اور خدیجہ ؑ کی اس بخشش کو اپنے عظیم مواہب اور نعمتوں کے زمرے میں قرار دیا جو اس نے اپنے برگزیدہ بندے محمدؐ کو عطا کی ہیں۔[49] پیغمبرؐ بھی اس قابل احترام اور بزرگ خاتون کی سخاوت و ایثار کو عظمت کے ساتھ یاد کیا کرتے تھے۔[50]

حضرت خدیجہ ؑ پیغمبرؐ کی یار و مددگار تھیں جو اسلام قبول کرنے میں پیشرو تھیں اور جنہوں نے اپنی پوری دولت اسلام کے فروغ اور مظلومین کی دستگیری کے لئے آپؐ کو بخش دی اور اسلام کی ترویج اور رسول اللہؐ کے اہداف و مقاصد کے حصول میں بے مثل کردار ادا کیا اور صداقت و ایمانداری، استقامت، مقصد کی راہ میں ثابت قدمی، مظلومین کی حمایت اور راہ حق میں انفاق و خیرات اور عطا و بخشش کا عملی نمونہ تھیں۔ ان نمایاں ذاتی خصوصیات نے آپ کو طاہرہ، صدیقہ، سیدۃ نساء قریش، خیر النساء، ام المؤمنین وغیرہ جیسے القاب کی مستحق ٹھہریں۔

وفات

مصادر و ذرائع میں منقول ہے کہ سیدہ خدیجہ ؑ، سنہ 10 بعد از بعثت (یعنی 3 سال قبل از ہجرت مدینہ) ہے۔[51] زیادہ تر کتب میں ہے کہ وفات کے وقت آپ کی عمر 65 برس تھی۔[52] ابن عبدالبر، کا کہنا ہے کہ خدیجہ ؑ کی عمر بوقت وفات 64 سال چھ ماہ، تھی۔[53] بعض مصادر میں ہے کہ حضرت خدیجہؑ کا سال وفات ابو طالب ؑ کا سال وفات ہی ہے۔[54] ابن سعد کا کہنا ہے کہ حضرت خدیجہ ؑ ابو طالب ؑ کی رحلت کے 35 دن بعد رحلت کر گئی ہیں۔[55] وہ اور بعض دوسرے مؤرخین نے کہا ہے کہ آپ کی وفات کی صحیح تاریخ رمضان سنہ 10 بعد از بعثت ہے۔[56] اور رسول اللہؐ نے آپ کو اپنی ردا اور پھر جنتی ردا میں کفن دیا اور مکہ کے بالائی حصے میں واقع پہاڑی (کوہ حجون) کے دامن میں، مقبرہ معلی' (یا جنت المعلی') میں سپرد خاک کیا۔[57]

مزید معلومات

  • ابن جوزی، تذکرۃ الخواص، ج2.
  • ابن خلدون، تاريخ ‏ابن‏ خلدون، ج‏2.
  • ابن کثیر، السیرۃ النبویہ، ج1.
  • ابن ہشام، سیرۃ النبی، ترجمہ: سید ہاشم رسولی محلاتی، ج1.
  • ابن اثیر، الکامل، ج2.
  • ابن شہرآشوب، مناقب آل ابی طالب ، ج1.
  • ابوالحسن بکری، الانوارالساطعہ من الغرّاءالطاہرہ.
  • بیہقی، دلائل النبوۃ، ج2.
  • جعفر مرتضی عاملی، الصحیح من سیرۃ النبی الاعظمؐ، ج2.
  • ذہبی، تاريخ‏ الإسلام، ج‏1.
  • کلینی، اصول کافی، ج2.
  • مجلسی، بحارالانوار، ج100.
  • مسعودی، مروج‏ الذہب، ج‏2.
  • واقدی، مختصر تاریخ دمشق، ج2.

حوالہ جات

  1. ابن اثیر جزری، أسدالغابہ فی معرفۃ الصحابہ، ج۶، ص۷۸.
  2. الاستيعاب، ج‏۴، ص۱۷-۱۸
  3. ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۸، ص۱۱، شمارہ ۴۰۹۶.
  4. ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، ج۲، ص۲۹۳؛ ابن سید الناس، عیون الاثر، ج۱، ص۶۳.
  5. ابن سیدالناس، عیون الاثر، ج۱، ص۶۳.
  6. بلاذری، الانساب الاشراف، ج۱، ص۹۸.
  7. ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، ۱۴۰۷ق، ج‏۵، ص۲۹۳۔
  8. ابن شہرآشوب، المناقب آل ابی طالب، ۱۳۷۶ق، ج۱، ص۱۴۹؛ یعقوبی، تاریخ یعقوبی، بیروت، ج۲، ص۲۰؛ طبری، تاریخ الامم و الملوک، ، ۱۳۸۷ق، ج۲ ، ص۲۸۰۔
  9. ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، ۱۴۰۷ق، ج۲، ص۲۹۳۔
  10. ابن سیدالناس، عیون الاثر، ۱۴۱۴ق، ج۱، ص۶۳۔
  11. ابن اثیر جزری، اسد الغابہ، ۱۴۰۹ق، ج۱، ص۲۳۔
  12. بلاذری، الانساب الاشراف ، ۱۴۱۷ق، ج۱، ص۴۰۶؛ ابن حبیب، المنمّق، ۱۴۹۵ق، ص۲۴۷۔
  13. ابن حبیب، المحبّر، بیروت، ص۴۵۲۔
  14. ابن شہرآشوب، المناقب آل ابی طالب، قم، ج۱، ص۱۵۹: «روی أحمد البلاذری و أبوالقاسم الکوفی فی کتابیہما و المرتضی فی الشافی و أبو جعفر فی التلخیص: أن النبی (ص) تزوج بہا و کانت عذراء»۔
  15. عاملی، الصحیح، ۱۴۱۵ق، ج۲، ص۱۲۳۔
  16. عاملی، الصحیح، ۱۴۱۵ق، ج۲، ص۱۲۵۔
  17. ابن اثیر، الکامل، ج۲، ص۳۹؛ ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۸ ،ص۱۷۴؛ ابن اثیر جزری، اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ، ج۱، ص۲۳؛ بلاذری، انساب الاشراف، ج۱،ص۹۸ و ج۹ ،ص۴۵۹ ؛ طبری، تاریخ الامم و الملوک ، ج۲ ،ص۲۸۰۔
  18. مسعودی، مروج الذہب، ج۲، ص۲۸۷ :«و فی سنۃ ست و عشرین کان تزویجہ بخدیجۃ بنت خویلد، و ہی یومئذ بنت أربعین، و قیل فی سنہا غیر ہذا»۔
  19. بیہقی، دلائل النبوۃ، ج۲، ص۷۱؛ السیرۃ الحلبیہ، ج۱، ص۱۴۰؛ البدایۃ و النہایۃ، ج۲، ص۲۹۴: «‌وکان عمرہا إذ ذاک خمسا و ثلاثین و قیل خمسا و عشرین سنہ»؛ بلاذری انساب الاشراف، ج۱، ص۹۸۔
  20. بلاذری، انساب الاشراف، ج۱، ص۹۸: «وتزوّج رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم خدیجۃ و ہو ابن خمس و عشرین سنہ، وہی ابنۃ أربعین سنہ۔»
  21. جعفر مرتضی عاملی، الصحیح من سیرۃ النبی الاعظمؐ، ج۲، ص۱۱۵۔ بہ نقل از السیرۃ الحلبیہ، ج۱، ص۱۴۰؛ تہذیب تاریخ دمشق، ج۱، ص۳۰۳؛ تاریخ الخمیس، ج۱، ص۲۶۴۔
  22. ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، ج۲، ص۲۹۵ ؛ ابن کثیر، السیرۃ النبویۃ، ج۱، ص۲۶۵۔
  23. واقدی، مختصر تاریخ دمشق، ج۱، ص۳۰۳
  24. واقدی، مختصر تاریخ دمشق، ج۲، ص۲۷۵؛ تہذیب الاسماء، ج۲، ص۳۴۲۔
  25. بلاذری، انساب الاشراف، ج۱، ص۹۸: «یقال إنہ تزوّجہا و ہی ابنۃ ست و أربعین سنہ»۔
  26. ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، ج۲، ص۲۹۵؛ بیہقی، دلائل النبوۃ، ج۲، ص۷۲۔
  27. بیہقی، دلائل النبوۃ، ج۲، ص۷۱ ؛ جعفر مرتضی عاملی، الصحیح من سیرۃ النبی الاعظمؐ، ج۲، ص۱۱۴۔
  28. ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، ج۲، ص۲۹۴: «و قال غیرہ بلغ القاسم أن یرکب الدابۃ و النجیبۃ ثم مات بعد النبوۃ»۔
  29. ابن شہر آشوب، المناقب آل ابی طالب ، ج۱، ص۱۵۹: «روی أحمد البلاذری و أبو القاسم الکوفی فی کتابیہما و المرتضی فی الشافی و أبو جعفر فی التلخیص: أن النبیؐ تزوج بہا و کانت عذراء»۔
  30. جعفر مرتضی عاملی، الصحیح من سیرۃ النبی الاعظمؐ، ج۲، ص۱۱۴۔
  31. ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۸ ، ص۱۷۴؛ ابن کثیر، البدایۃ والنہایۃ، ج۲، ص۲۹۴.
  32. ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۸ ، ص۱۷۴؛ ابن کثیر، البدایۃ والنہایۃ، ج۲، ص۲۹۴.
  33. ابن اثیر، الکامل، ج۲، ص۳۰۷.
  34. ابن اثیر، الکامل، ج۲، ص۳۰۷؛ ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، ج۵، ص۳۰۶.
  35. ابن اثیر جزری، اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ، ج۶، ص۸۱.
  36. زرکلی، الاعلام، ج۲، ص۳۰۲: «فولدت لہ القاسم (وکان یکنی بہ) و عبداللہ (و ہو الطاہر و الطیب) و زینب و رقیہ و‌ام کلثوم و فاطمہ».
  37. ابن جوزی، تذکرۃ الخواص، ج2، ص 300۔
  38. ابن خلدون، تاريخ‏ ابن‏ خلدون، ج‏2، ص410؛ ابن کثیر، البدايۃ والنہايۃ، ج‏3، ص23؛ ابن عبدالبر، الاستیعاب، ج4، ص 1817۔
  39. ابن اثیر جزری، اسدالغابہ فی معرفۃ الصحابہ ، ج6، ص 78۔
  40. ابن عبدالبر، الاستیعاب، ج4، ص1817۔
  41. مقریزی، امتاع الاسماء، ج9، ص88 ۔
  42. ابن اثیر جزری، أسدالغابہ فی معرفۃ الصحابہ ،ج‏6، ص78؛ ابن عبدالبر، الاستیعاب، ج3، ص 1089۔
  43. کلینی، الکافی، ج2، ص 27۔"۔۔۔ والايمان ہو الاقرار باللسان وعقد في القلب وعمل بالاركان والايمان"۔
  44. علي محمد دخيل، خديجۃؑ، ص 32۔ "يقول الكاتب العربي المسلم سليمان الكتاني، ان السيدۃ خديجۃ وہبت ثروتہا للنبي محمدؐ لكنہا لم تشعر بأنہا وہبت ثروتہا لہ، بل انہا كانت تشعر بأن الہدايۃ التي حباہا اللہ اياہا عبر النبيؐ تفوق كل كنوز العالم"۔
  45. سورہ ضحی (93) آیت 8۔
  46. مجلسی، بحارالانوار، ج19، ص 63۔
  47. مجلسی، بحارالانوار، ج19، ص 16۔
  48. ابن ہشام، سیرۃ النبی، ترجمہ: رسولی محلاتی، ج1، ص 221۔
  49. مجلسی، بحارالانوار، ج35، ص 425؛ ابن شہرآشوب، مناقب آل ابی طالب، ج3، ص 320۔
  50. ابن عبدالبر، الاستيعاب، ج‏4، ص 1817۔
  51. مسعودی، مروج‏ الذہب، ج2، ص 282؛ ابن سیدالناس، عیون الاثر، ج1، ص 151؛ ابن عبدالبر، الاستیعاب، ج4، ص1817؛ طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج11، ص 493؛ ابن سعد، الطبقات الکبری، ج8 ، ص 14۔
  52. طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج11، ص493: «و توفيت قبل الہجرۃ بثلاث سنين، و ہي يومئذ ابنۃ خمس و ستين سنہ»۔
  53. ابن عبدالبر، الاستیعاب، ج4، ص 1818۔
  54. طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج11، ص 493؛ ابن سیدالناس، عیون الاثر، ج1، ص 151۔
  55. ابن سعد، الطبقات‏ الكبرى، ج‏1، ص96۔
  56. ابن سعد، الطبقات‏ الكبرى، ج 8 ، ص14۔
  57. ابوالحسن بکری، الانوار الساطعہ من الغرّاء الطاہرۃ، ص735۔


مآخذ

  • ابن اثيرجزرى، عزالدين أبوالحسن على بن محمد(م630)، أسدالغابہ فى معرفۃ الصحابہ، بيروت، دارالفكر، 1409/1989.
  • ابن الجوزی، أبوالفرج عبدالرحمن بن على بن محمد(م597)، المنتظم فى تاريخ الأمم و الملوك، تحقيق: محمد عبد القادر عطا و مصطفى عبد القادر عطا، بيروت، دارالكتب العلميہ، چاپ اول، 1412/1992.
  • ابن العمرانى، محمدبن على بن محمد(م580)، الإنباء فى تاريخ الخلفاء، تحقيق: قاسم السامرائى، قاہرہ، دارالآفاق العربيۃ، چاپ اول، 1421/2001.
  • ابن حبيب بن اميۃ الہاشمى البغدادي، ابوجعفرمحمد(م245)، المحبّر، تحقيق: ایلیزہ ليختن شيتر، بيروت، دارالآفاق الجديد، بى تا.
  • ابن حبيب بن اميۃ الہاشمى البغدادي، ابوجعفرمحمد(م245)، المنمّق فى اخبار قريش، تحقيق: خورشيد احمد فاروق، بيروت، عالم الكتب، چاپ اول، 1405/1985.
  • ابن حجر عسقلانی، احمدبن علی(م852)، الإصابۃ فى تمييز الصحابۃ، تحقيق: عادل احمد عبدالموجود و على محمد معوض، بيروت، دارالكتب العلميہ، چاپ اول، 1415/1995.
  • ابن سعد، محمد بن سعد بن منيع الہاشمي البصري(م230)، الطبقات الكبرى، تحقيق: محمد عبد القادر عطا، بيروت، دار الكتب العلميہ، چاپ اول، 1410/1990.
  • ابن سید الناس، ابوالفتح محمد(م 734)، عيون الأثر فى فنون المغازى و الشمائل و السير، تعليق: ابراہيم محمد رمضان، بيروت، دار القلم، چاپ اول، 1414/1993.
  • ابن عبدالبر، ابوعمر يوسف بن عبداللہ(م463)، الاستيعاب فى معرفۃ الأصحاب، تحقيق: على محمد البجاوى، بيروت، دار الجيل، چاپ اول، 1412/1992.
  • ابن کثیر، أبو الفداء اسماعيل بن عمر الدمشقى(م774)، البدايۃ و النہايۃ، بيروت، دار الفكر، 1407/ 1986.
  • بسوی، أبويوسف يعقوب بن سفيان(م277)، المعرفۃ و التاريخ، تحقيق: اكرم ضياء العمرى، بيروت، مؤسسۃ الرسالۃ، چاپ دوم، 1401/1981.
  • بلاذری، أحمدبن يحيى بن جابر(م279)، جمل من انساب الأشراف، تحقيق: سہيل زكار و رياض زركلى، بيروت، دار الفكر، چاپ اول، 1417/1996.
  • علي بن موسي ابن طاووس (سید بن طاووس)، جمال الأسبوع بكمال العمل المشروع۔
  • زرکلی، خیرالدین(م1396)، الأعلام؛ قاموس تراجم لأشہر الرجال والنساء من العرب والمستعربين والمستشرقين، بيروت، دارالعلم للملايين، چاپ دوم، 1989.
  • طبري، أبوجعفر محمدبن جرير(م310)، تاريخ الأمم و الملوك، تحقيق: محمدأبوالفضل ابراہيم، بيروت، دار التراث، چاپ دوم، 1387/1967.
  • علی اکبر دہخدا، لغت نامہ دہخدا (زیر نظر دکتر محمد معین و دکتر سید جعفر شہیدی)، مؤسسہ انتشارات وچاپ دانشگاہ تہران، چاپ دوم از دورہ جدید،1377، ج7.
  • کرمی فریدنی، علی، جلوہ ہایی از فروغ آسمان حجاز حضرت خدیجہؑ، قم، دلیل ما، چاپ اول، 1383.
  • المفید، الإفصاح، تحقیق: مؤسسۃ البعثۃ، بیروت: دار المفيد للطباعۃ والنشر والتوزيع، 1414-1993م.
  • مقریزی، تقى الدين أحمد بن على(م845)، إمتاع الأسماع بما للنبى من الأحوال و الأموال و الحفدہ و المتاع، تحقيق: محمد عبد الحميد النميسى، بيروت، دارالكتب العلميہ، چاپ اول، 1420/1999.