غزوہ حنین

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
غزوہ حنین
سلسلۂ محارب:
رسول خدا(ص) کے غزوات
حنین.png
تاریخ
مقام مکہ
محل وقوع مکہ سے مشرق کی جانب 26 کلومیٹر کی جانب
نتیجہ مسلمانوں کی فتح اور مشرکین کا فرار
سبب فتح مکہ کے بعد قبیلہ ہوازن اور قبیلہ ثقیف کے اشراف نے رسول اللہ(ص) کے ممکنہ حملے کے پیش نظر، پیشگی جنگ شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔
ملک حجاز
فریقین
مسلمین ہوازن اور ثقیف کے دو مشرک قبائل
قائدین
حضرت محمد(ص) مالک بن عوف
نقصانات
نامعلوم تعداد میں مسلمین شہید بنو مالک اور دوسرے قبائل کے 70 سے زائد مشرکین ہلاک
اس جنگ میں مشرکین کی عورتوں اور بچوں سمیت 6000 سے زائد افراد گرفتار ہوئے؛ اور مسلمانوں کو ملنے والے غنائم 24000 اونٹوں، 40000 بھیڑ بکریوں اور اور 4000 اوقیہ (= 160000 درہم) چاندی مشتمل تھے۔


پیغمبر اکرمؐ کی مدنی زندگی
ہجرت نبوی 622ء بمطابق 1ھ
معراج 622ء بمطابق 1ھ
غزوہ بدر 624ء بمطابق 17 رمضان سنہ 2ھ
بنی‌قینقاع کی شکست 624ء بمطابق 15 شوال سنہ 2ھ
غزوہ احد 625ء بمطابق شوال سنہ 3ھ
بنو نضیر کی شکست 625ء بمطابق سنہ 4ھ
غزوہ احزاب 627ء بمطابق سنہ 5ھ
بنو قریظہ کی شکست 627ء بمطابق سنہ 5ھ
غزوہ بنی مصطلق 627ء بمطابق سنہ 5 یا 6ھ
صلح حدیبیہ 628ء بمطابق سنہ 6ھ
غزوہ خیبر 628ء بمطابق سنہ7ھ
پہلا سفرِ حجّ 629ء بمطابق 7ھ
جنگ مؤتہ 629ء بمطابق 8ھ
فتح مکہ 630ء بمطابق 8ھ
غزوہ حنین 630ء بمطابق 8ھ
غزوہ طائف 630ء بمطابق 8ھ
جزیرة العرب پر تسلط 631ء بمطابق 9ھ
غزوہ تبوک 632ء بمطابق 9ھ
حجۃ الوداع 632ء بمطابق 10ھ
واقعۂ غدیر خم 632ء بمطابق 10ھ
وفات 632ء بمطابق 11ھ

غزوہ حُنَین، رسول خدا(ص) کے غزوات میں سے ایک ہے جو سنہ 8 ہجری / 630 عیسوی میں فتح مکہ کے بعد واقع ہوا۔ اس جنگ میں مسلمان سپاہیوں کی قیادت رسول اللہ(ص) نے فرمائی۔ یہ جنگ طائف میں سکونت پذیر دو قبیلے، ہوازن اور ثقیف کے حملے کے خلاف لڑی گئی کیونکہ ان دو مشرک قبائل نے فتح مکہ کے بعد آپ(ص) کی طرف سے عسکری مہم کے خوف سے حفظ ما تقدم کے طور پر مسلمانوں پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ جنگ کے آغاز میں مشرکین کے شبخون اور جنگ میں تازہ مسلمانوس کی شرکت کی بنا پر، سپاہ اسلام متزلزل تھی یہاں تک کہ جنگ احد کی مانند یہاں بھی رسول خدا(ص) کی جان کو خطرہ لاحق ہوا؛ تاہم آخرکار مسلمانوں نے فتح حاصل کی اور بہت سا مال غنیمت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔

منطقۂ حنین کا نقشہ

غزوہ حنین کا وقت اور اس کے نام

اس جنگ کی تاریخ کے بارے میں مروی ہے کہ رسول خدا(ص) نے بروز جمعہ، بعد از 20 رمضان سنہ 8 ہجری کو مکہ فتح کرلیا؛ 15 دن تک مکہ میں رہے اور بروز شنبہ بتاریخ 6 شوال مکہ کے شمال مشرق میں واقع منطقۂ حنین کی جانب عزیمت فرمائی۔[1]۔[2]۔[3]

قرآن کریم نے اس جنگ کو یوم حنین کا عنوان دیا ہے[4]۔[5] اور اس کے دوسرے نام "وقعۃُ حنین"،[6] "غزوۃ حنین"،[7] "غزوۃ ہوازِن"[8]۔[9] اور "وقعۃ ہوازن"[10] ہیں۔

جنگ کا سبب

اس جنگ کا سبب یہ تھا کہ فتح مکہ کے بعد قبیلہ ہوازن اور قبیلہ ثقیف کے اشراف نے اپنے خلاف رسول خدا(ص) کے ممکنہ اقدام کے پیش نظر حفظ ماتقدم کے طور پر پیشگی جنگ آغاز کرنے کا منصوبہ بنایا۔[11]۔[12] ایک روایت یہ بھی ہے کہ فتح مکہ کی غرض سے رسول اللہ(ص) کی عزيمت کی خبر پاکر ہوازن اور ثقیف کے قبائل نے اس خیال سے جنگی تیاریوں کا آغاز کیا تھا کہ شاید آپ(ص) ان قبائل پر حملہ آور ہونا چاہتے ہیں اور فتح مکہ کے بعد حنین میں جمع ہوکر جنگی پڑاؤ کا اہتمام کیا اور آپ(ص) کے ساتھ جنگ کا فیصلہ کیا۔[13]

غزوہ حنین کے واقعات

جنگ سے قبل مشرکین کے اقدامات

"نصر"، "جُشَم"، "سعد بن بَکر" نیز بنو ہلال کے ایک گروہ سمیت ہوازن کے اکثر ذیلی قبائل مالک بن عوف نصری کی سرکردگی میں اکٹھے ہوئے لیکن "کعب"، "کلاب" اور "بنو نمیر" سمیت ہوازن کے نامی گرامی قبائل اس اجتماع میں حاضر نہيں تھے۔ ادھر ثقیف کے تمام قبائل قارب بن اسود اور ذوالخمار سبیع بن حارث اور اس کے بھائی احمر بن حارث (جن کا تعلق بنو مالک سے تھا) کی سرکردگی میں ان سے جاملے۔[14]۔[15]۔[16]

جب مالک بن عوف نے پیغمبر خدا(ص) سے لڑنے کی غرض سے روانہ ہونے کا ارادہ کیا، تو وہ اپنا مال و متاع اور عورتیں اور بچے بھی ساتھ لے گیا تاکہ اس کے زیر قیادت افراد جانفشانی سے لڑیں۔ جب وہ اوطاس نامی سخت اور ہموار زمین میں پہنچا تو دُرَید بن صِمَّہ نامی جشمی مرد ـ جو تجربہ کار اور صاحب رائے شخص تھا ـ نے کہا: اگر یہ جنگ سربلندی کا سبب ہوتی تو کعب اور کلاب کے شجاع اور دلیر افراد اس میں شرکت کے لئے آتے۔ درید نے مالک بن عوف کو نصیحت کی کہ صرف مردوں کو لے کر جنگ میں شرکت کرے کیونکہ اگر اس صورت میں جنگ کو جیت جاؤگے تو دوسرے لوگ بھی تم سے آ ملیں گے اور اگر ہار جاؤگے تو عورتوں اور بچوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا؛ مگر مالک بن عوف نے تکبر اور غرور کی وجہ سے، اس شخص کی بات کو توجہ نہیں دی اور اس کی تذلیل کردی۔[17]

اوطاس میں انہیں ہر طرف سے کمک پہنچنے لگی۔[18] رسول خدا(ص) کو یہ خبر ملی تو آپ(ص) نے عبداللہ بن ابی حَدْرَد اَسْلَمی کو روانہ کیا کہ بھیس بدل کر دشمن کے پڑاؤ میں داخل ہو اور وہاں سے معلومات حاصل کرے۔[19]

جنگ سے قبل رسول اللہ(ص) کے اقدامات

ابن اسحق امام باقر(ع) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ(ص) نے ہوازن سے لڑنے کے لئے نکلنے کا فیصلہ کیا تو آپ(ص) نے صفوان بن امیہ سے ـ (جو ابھی تک مشرک تھا) ـ کے پاس کچھ آدمی روانہ کئے اور اس سے کچھ ہتھیار اور زرہیں بطور عاریۂ مضمونہ (= اس ضمانت کے ساتھ کہ امانت کو عینا لوٹائیں گے) کے لئے کہا۔ صفوان نے قبول کیا اور 100 زرہیں مسلمانوں کو بطور عاریہ دے دیں۔[20]۔[21]

رسول خدا(ص) نے فتح مکہ میں شریک 10000 مجاہدین اور مکہ کے 2000 نو مسلموں کو لے کر ہوازن کی جنگ کے لئے مکہ سے عزیمت فرمائی۔[22]۔[23]

بعض مکی صرف یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ اس جنگ میں کامیابی کس کو حاصل ہوتی ہے تا کہ کچھ غنیمت حاصل کرے؛ اور حتی کہ ان کے لئے یہ بات کچھ زیادہ ناپسندیدہ نہیں تھی کہ رسول خدا(ص) اور مسلمین اس جنگ میں شکست کھا لیں۔[24]

رسول خدا(ص) اور مسلمین اور قریشی مرد ـ جن میں سے بعض ابھی تک مشرک تھے ـ بروز سہ شنبہ (= منگل وار) بتاریخ 10 شوال سنہ 8 ہجری ـ حنین پہنچے۔[25]۔[26]

فریقین کی صف آرائی

مالک بن عوف نے تین افراد کو مسلمانوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لئے بھجوایا۔ یہ افراد سپاہ اسلام کو نزدیک سے دیکھا تو مرعوب ہوکر لوٹے۔ اس کے باوجود مالک بن عوف نے رات کے وقت مسلمانوں پر شبخون مارنے کے لئے اپنے افراد کو حنین میں تعینات کیا۔ رسول خدا(ص) نے بھی صبح سویرے اپنی سپاہ کی صفوں کو منظم کیا اور پرچمداروں کو پرچم عطا کئے۔[27]۔[28]

مسلمانوں کے علمدار

مہاجرین کا پرچم علی(ع) کو، خزرج کا پرچم حباب بن منذر (ایک اور روایت کے مطابق سعد بن عبادہ) کو، اور اوس کا پرچم اسید بن حضیر کو عطا ہوا۔ قبیلۂ خزرج اور قبیلۂ اوس اور دوسرے عرب قبائل کے ذیلی قبائل کو بھی الگ الگ پرچم دیئے گئے۔[29]۔[30]

غزہ کے واقعات

جنگ کا آغاز

مسجد جعرانہ جو حنین میں تقسیم غنائم کے مقام پر تعمیر کی گئی ہے

رسول خدا(ص) نے جنگی لباس زیب تن کرکے اپنی سپاہ کی صفوں کا معائنہ کیا اور مجاہدین کو جنگ اور صبر و استقامت کی تلقین فرمائی اور انہیں فتح کی نوید سنائی؛ اور بعدازاں صبح کی تاریکی میں مسلمانوں کے ہمراہ درہ حنین سے نیچے اترے۔[31]۔[32]

ہوازن اور ثقیف کے مشرکین ـ جو درے کے شگافوں اور اطراف میں گھات لگائے بیٹھے تھے ـ اچانک مسلمانوں پر حملہ آور ہوئے۔ بنو سُلَیم کے گھڑ سوار، ان کے بعد مکی اور دوسرے لوگ منتشر ہوکر فرار ہوگئے؛ بھاگنے والے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتے تھے۔[33]

رسول خدا(ص) اپنی سپاہ سے فرمارہے تھے کہ "میری طرف آؤ، میں محمد رسول خدا ابن عبداللہ ابن عبدالمطلب ہوں میں پیغمبر ہوں اور جھوٹا نہیں ہوں"۔[34]

رسول اللہ(ص) کے یار و یاور

تاریخی مآخذ میں رسول اللہ(ص) کے ساتھ پامردی سے لڑنے اور آپ(ص) کا دفاع کرنے والوں کی تعداد کے سلسلے میں اختلاف پایا جاتا ہے؛ بعض کا کہنا ہے وہ چار افراد تھے: علی(ع)، عباس بن عبد المطلب اور ابوسفیان بن حارث بن عبد المطلب ـ جو بنو ہاشم میں سے تھے اور ابن مسعود۔[35]۔[36]

دوسری روایت کے مطابق رسول اللہ(ص) کے گرد پروانہ وار لڑنے والوں میں 9 ہاشمی یعنی: علی بن أبی طالب، عباس بن عبد المطلب، حارث بن ابی طالب کے تین بیٹے ابو سفیان، نوفل اور ربیعہ، ابو لہب کے دو بیٹے عتبہ اور معتب، فضل بن عباس، عبداللہ بن زبیر بن حارث اور ایک غیر ہاشمی یعنی: ام ایمن کا بیٹا ایمن، شامل تھے۔[37]۔[38]

فرار ہونے والے افراد

بعض مآخذ میں فرار ہونے والوں کی تعداد 300 بتائی گئی ہے۔[39] طلقاء یعنی اہل مکہ کے بھاگنے والے افراد میں شامل ابو سفیان بن حرب اور کلدہ بن حنبل نیز شیبہ بن عثمان بن ابی طلحہ ـ جس کا باپ غزوہ احد میں مارا گیا تھا ـ نے اسلام اور مسلمانوں کی نسبت اپنی پرانی عداوت ایک بار پھر ظاہر کرکے دکھائی؛ حتی کہ مؤخر الذکر شیبہ بن عثمان نے رسول اللہ(ص) کے قتل کا ارادہ کیا لیکن ناکام رہا۔[40]

علی(ع) کی جانفشانی

اسلام کی دوسری جنگوں کی طرح اس جنگ میں بھی حضرت علی(ع) سب سے زیادہ بہادر اور طاقتور ثابت ہوئے۔[41] آپ(ع) نے حملہ کرکے دشمن کے پرچمدار کو ہلاک کر ڈالا جس کے بعد مشرکین نے راہ فرار اختیار کی اور منتشر ہوئے۔[42]۔[43] ایک روایت کے مطابق علی(ع) نے 40 مشرکوں کو ہلاک کردیا۔[44]۔[45]

مسلمانوں کا غرور، اور غیبی امداد

قرآن کریم نے بھی مسلمانوں کے غرور، پسپائی اور اللہ کی غیبی امداد کی طرف اشارہ فرمایا ہے:

لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّهُ فِي مَوَاطِنَ كَثِيرَةٍ وَيَوْمَ حُنَيْنٍ إِذْ أَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنكُمْ شَيْئاً وَضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّيْتُم مُّدْبِرِينَ (25) ثُمَّ أَنَزلَ اللّهُ سَكِينَتَهُ عَلَى رَسُولِهِ وَعَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَأَنزَلَ جُنُوداً لَّمْ تَرَوْهَا وَعذَّبَ الَّذِينَ كَفَرُواْ وَذَلِكَ جَزَاء الْكَافِرِينَ (26) (ترجمہ: اللہ نے تمہاری مدد کی ہے بہت سے مقامات پر اور حنین کے دن جب کہ تمہاری کثرت تعداد نے تمہیں غرور پیدا کر دیا تو اس نے تمہیں کچھ فائدہ نہ دیا اور تم پر زمین اپنی وسعت کے ساتھ تنگ ہو گئی، پھر تم پیٹھ پھرا کے پسپا ہوئے (25) پھر اللہ نے اپنی طرف کا سکون و اطمینان اتارا اپنے پیغمبر اور (سچے) ایمان والوں پر اور ایسی فوجیں اتاریں جنہیں تم نے دیکھا نہیں اور سزا دی انہیں جنہوں نے کفر کیا اور یہی سزا ہوتی ہے کافروں کی (26)) [ 9–25-26] [46]

احادیث میں بھی اس بات پر تصریح ہوئی ہے کہ روز حنین اللہ کے مامور فرشتے مسلمانوں کی امداد کے لئے اترے اور ان کے ساتھ مل کر دشمن کو شکست دینے میں کردار ادا کیا؛ نیز یہ بھی روایت ہے کہ رسول خدا(ص) نے مٹھی بھر خاک اٹھا کر دشمن کی طرف پھینک دی اور فرمایا: "وہ کامیاب نہ ہوں"، اور آپ(ص) کے اس اقدام بھی دشمن کی شکست میں اہم کردار ادا کیا۔[47]۔[48]

غزوہ کے بعد رونما ہونے والے واقعات

جنگ کے بعد مشرکین کا انجام

مشرکین مالک بن عوف کے ساتھ طائف چلے گئے۔ بعض دوسروں نے اوطاس میں پڑاؤ ڈالا اور بعض دیگر ـ منجملہ ثقیف سے تعلق رکھنے والے ابن وُغِیرَہ ـ نخلہ پہنچ گئے۔ رسول اللہ(ص) نے ایک گروہ کو نخلہ کی طرف بھاگنے والے مشرکین کی سرکوبی کے لئے[49] اور ابو عامر اشعری کو اوطاس میں پڑاؤ ڈالنے والے مشرکین کی سرکوبی کے لئے روانہ کیا۔ ابو عامر اس جنگ میں شہید ہوگئے اور ان کے چچا زاد بھائی ابو موسی اشعری نے مشرکین کے ساتھ جنگ جاری رکھی اور انہیں شکست سے دوچار کیا۔[50]

اس جنگ میں بعض مشرکین کو قید کرلیا گیا جن میں رسول خدا(ص) کی رضاعی بہن شَیما بنت حارث بن عبد العُزّی، بھی شامل تھیں۔ قیدیوں کو رسول اکرم(ص) کی خدمت میں لایا گیا تو آپ(ص) نے شیما کا بہت احترام کیا اور ان کی خواہش پر آپ(ص) نے انہیں ان کی قوم کے پاس پلٹا دیا۔[51] منقول ہے کہ رسول خدا(ص) کے ساتھ شیما کی بات چیت اور ہوازن کے قیدیوں کے سلسلے میں ان کی شفاعت ہی قیدیوں کی رہائی کا سبب ہوئی۔[52]

جنگ کے بعد مسلمین کے اقدامات

رسول خدا(ص) نے جنگ کے بعد اجازت دے دی کہ جس مسلمان نے ایک مشرک کو مارا ہو اس کے جنگی لباس اور ہتھیار (= سَلَب) کو بطور غنیمت اپنے لئے اٹھائے۔ [53] بعدازاں رسول خدا(ص) نے غنائم اور قیدیوں کو رسول خدا(ص) کے پاس اکٹھا کرلیا۔ رسول اللہ(ص) نے فرمایا کہ قیدیوں اور غنائم کو درہ حنین کے شمال مشرق میں واقع علاقے "جِعْرانہ" میں منتقل کرکے وہیں رکھا جائے۔[54] رسول اللہ(ص) اس جنگ کے بعد، بروز پنج شنبہ، بتاریخ ذوالقعدہ سنہ 8 ہجری کو جعرانہ تشریف فرمائے۔[55]

قیدیوں کی رہائی

جعرانہ میں ہوازن کا وفد رسول اللہ(ص) کی خدمت میں حاضر ہوا اور قیدیوں کے ساتھ آپ(ص) کے رضاعی رشتے کا واسطہ دے کر ان کی رہائی کی درخواست کی۔ رسول اللہ(ص) نے قیدیوں میں اپنے اور بنو عبد المطلب کا حصہ انہیں بخش دیا، مہاجرین اور انصار نے بھی اپنا حصہ بخش دیا اور انہیں رسول اکرم(ص) کے سپرد کیا۔ بعض افراد نے ابتداء میں اپنے حصے کے قیدی بخشنے سے انکار کیا لیکن بعد میں انہیں رہا کردیا۔[56]

تقسیم غنائم

رسول اللہ(ص) نے مال غنیمت تقسیم کرتے ہوئے ابتداء میں قریش کے اشراف اور عرب قبائل کو ان کا حصہ دیا تا کہ (مؤلفۃ قلوبہم) کے تحت انہیں اسلام کی طرف مائل کردیں۔ بعدازاں ابو سفیان جیسوں کو 100 اونٹ اور بعض کو 50 یا 40 اونٹ دیئے۔ بعد ازاں حکم دیا کہ مردم شماری کی جائے اور ہر فرد کو کچھ حصہ عطا کیا۔ انصار کے ایک گروہ نے طعن و اعتراض کا آغاز کیا۔ رسول خدا(ص) انصار سے خطاب کیا اور انہیں راضی کردیا اور ان کے حق میں دعا فرمائی۔[57]

مدینہ واپسی کا سفر

رسول خدا جعرانہ میں 13 راتوں تک قیام کے بعد چہار شنبہ کی شب بتاریخ 18 ذوالقعدہ، عمرہ بجا لایا اور پنج شنبہ کے روز مدینہ واپس آئے۔[58]

متعلقہ مضامین

حوالہ جات

  1. الواقدي، المغازي، ج3، ص889۔
  2. ابن سعد، الطبقات، ج2، ص137، 150۔
  3. البلاذری، انساب الاشراف، ج1، ص463۔
  4. سورہ توبہ، آیہ 25۔
  5. ابن حزم، جوامع السیرۃ، ص241۔
  6. اليعقوبي، التاريخ، ج2، ص62۔
  7. البلاذری، انساب الاشراف، ج1، ص463۔
  8. ابن سعد، الطبقات، ج2، ص149۔
  9. مسعودی، التنبیہ والاشراف، ص269۔
  10. ابن حزم، جوامع السیرۃ، ص241۔
  11. الواقدي، المغازي، ج3، ص885۔
  12. البلاذری، انساب الاشراف، ج1، ص438۔
  13. الطبري،، تاریخ الطبري،، ج3، ص70۔
  14. الواقدي، المغازي، ج3، ص885۔
  15. ابن هشام، السیرة النبویة، ج4، ص80۔
  16. مسعودی، التنبیه والاشراف، ص270۔
  17. ابن هشام، السیرة النبویة، ج4، ص80ـ82۔
  18. الواقدي، المغازي، ج3، ص886ـ887۔
  19. ابن هشام، السیرة النبویة، ج4، ص82ـ83۔
  20. الطبري،، تاریخ الطبري،، ج3، ص73۔
  21. قس الصالحي الشامي، سبل الهدی والرشاد، ج5، ص312۔
  22. ابن سعد، الطبقات، ج2، ص150۔
  23. یعقوبی، التاريخ، ج2، ص62۔
  24. الواقدي، المغازي، ج3، ص894ـ895۔
  25. الواقدي، وہی ماخذ، ص892۔
  26. ابن سعد، الطبقات، ج2، ص150۔
  27. الواقدي، المغازي، ج3، ص895-897۔
  28. ابن سعد، الطبقات، ج2، ص150-151۔
  29. الواقدي، وہی ماخذ، ص897۔
  30. ابن سعد، وہی ماخذ، ج2، ص151۔
  31. الواقدي، المغازي، ج3، ص897۔
  32. ابن سعد، الطبقات، ج2، ص151۔
  33. ابن هشام، السیرۃ النبویۃ، ج4، ص83۔
  34. ابن هشام، السیرۃ النبویۃ، ج4، ص85۔
  35. ابن ابي شيبة، المصنف، ج8، ص552ـ 553۔
  36. الصالحي الشامي، سبل الهدی والرشاد، ج5، ص329۔
  37. اليعقوبي، التاريخ، ج2، ص62۔
  38. الطبرسي، اعلام الوری، ج1، ص386۔
  39. النويري، نهایة الارب، ج17، ص328۔
  40. ابن هشام، السیرة النبویة، ج4، ص86ـ87۔
  41. الصالحي الشامي، سبل الهدی والرشاد، ج5، ص324۔
  42. یعقوبی، التاريخ، ج2، ص63۔
  43. ابن اثیر، الکامل، ج2، ص263۔
  44. الکلینی، الکافی، ج8، ص376۔
  45. الطبرسي، اعلام الوری، ج1، ص387۔
  46. سوره توبه، آیات 25-26۔
  47. الطبري،، تاریخ الطبري، ج3، ص78۔
  48. النويري، نهایة الارب، ج17، ص334۔
  49. الواقدي، المغازي، ج3، ص914۔
  50. البلاذري، انساب الاشراف، ج1، ص439ـ440۔
  51. واقدی، المغازي، ج3، ص913-914۔
  52. یعقوبی، التاريخ، ج2، ص63۔
  53. واقدی، محمد بن عمر، المغازي، ج3، ص908۔
  54. ابن هشام، السیرة النبویة، ج4، ص101۔
  55. ابن سعد، الطبقات، ج2، ص154۔
  56. ابن هشام، السیرة النبویة، ج4، ص130ـ133۔
  57. ابن سعد، الطبقات، ج2، ص152-156۔
  58. ابن سعد، الطبقات، ج2، ص154۔


منابع

  • ابن ابی شیبہ، المصنَّف فی الاحادیث و الآثار، چاپ سعید محمد لحّام، بیروت 1409ہ‍ /1989ع‍
  • ابن حزم الأندلسي، علي بن أحمد بن سعيد (384 - 456 ہ‍)، جوامع السيرۃ وخمس رسائل أخری، تحقيق: إحسان عباس وناصر الدين الأسد، دار المعارف ـ مصر۔ 1950ع‍
  • ابن سعد، الطبقات الکبری، بیروت، دار صادر، 1968ع‍
  • ابن ہشام، السیرۃالنبویۃ، چاپ مصطفی سقا، ابراہیم ابیاری، و عبدالحفیظ شلبی، بیروت، داراحیاء التراث العربی، بی‌تا۔
  • البلاذري، أحمد بن يحيی بن جابر، جمل من أنساب الأشراف، المحقق: سہيل زكار - رياض زركلي، دار الفكر للطباعۃ والنشر ۔ بيروت ۔ لبنان، الطبعۃ الاولی ـ 1417ہ‍ / 1996ع‍
  • الذہبی، محمد بن احمد، تاریخ الاسلام و وفیات المشاہیر و الاعلام، المغازی، چاپ عمر عبدالسلام تدمری، بیروت، 1407ہ‍ / 1987ع‍
  • الصالحي الشامي، محمد بن یوسف، سبل الہدی و الرشاد فی سیرۃ خیرالعباد، چاپ عادل احمد عبدالموجود و علی محمد معوض، بیروت، 1414ہ‍ /1993ع‍
  • طبرسی، فضل بن حسن، اعلام الوری باعلام الہدی، قم، 1417ہ‍
  • الطبري، محمد بن جریر، تاریخ الطبري، بیروت، بی‌نا۔
  • مسعودی، علی بن حسین، التنبیہ والاشراف، ترجمہ ابوالقاسم پایندہ، تہران، انتشارات علمی و فرہنگی، 1365۔
  • نویری، احمدبن عبدالوہاب، نہایۃالارب فی فنون الادب، قاہرہ، 1923ـ1990ع‍
  • الواقدي، محمد بن عمر، كتاب المغازی، چاپ مارسدن جونز، لندن 1966، چاپ افست قاہرہ، بی‌تا۔
  • اليعقوبي، أحمد بن أبي يعقوب بن جعفر، تاريخ اليعقوبي، مؤسسہ ونشر فرہنگ اہل بيت (ع) - قم / دار صادر بيروت 1379ہ‍ / 1960 ع‍

بیرونی روابط

پچھلا غزوہ:
فتح مکہ
رسول خدا(ص) کے غزوات
غزوہ حنین
اگلا غزوہ:
غزوہ طائف