جاہلیت

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
قال اللہ تبارك وتعالی:

" يَظُنُّونَ بِاللّهِ غَيْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِيَّةِ يَقُولُونَ هَل لَّنَا مِنَ الأَمْرِ مِن شَيْءٍ قُلْ إِنَّ الأَمْرَ كُلَّهُ لِلَّهِ

ترجمہ: وہ اللہ کے ساتھ ناحق زمانہ جاہلیت کی سی بد گمانی کر رہے تھے، کہہ رہے تھے کہ کیا ہمیں بھی کچھ اختیار حاصل ہے؟ کہہ دیجئے کہ اختیار پورا اللہ کو ہے۔ [ آل عمران–154]

قال اللہ تبارك وتعالی:

" أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللّهِ حُكْماً لِّقَوْمٍ يُوقِنُونَ

ترجمہ: تو کیا یہ جاہلیت کے فیصلے کے طلبگار ہیں؟ حالانکہ اللہ سے بڑھ کر اچھا کس کا فیصلہ ہوگا ان لوگوں کے لیے جو یقین رکھتے ہوں۔۔ [ مائدہ–50]

قال اللہ تبارك وتعالی:

" وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى وَأَقِمْنَ الصَّلَاةَ وَآتِينَ الزَّكَاةَ وَأَطِعْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيراً

ترجمہ: اور استقلال کے ساتھ اپنے گھروں کے اندر رہا کرو اور زمانہ جاہلیت کی طرح بن ٹھن کے جلوہ دکھاتی نہ پھرو اور نماز ادا کرتی رہو اور زکوٰة ادا کرتی رہو اور اللہ اور اس کے پیغمبر کی فرماں بردار رہو۔ اللہ کا بس یہ ارادہ ہے کہ تم لوگوں سے ہر گناہ کو دور رکھے اے اس گھر والو! اللہ تمہیں پاک رکھے جو پاک رکھنے کا حق ہے۔ [ احزاب–33]

قال اللہ تبارك وتعالی:

" إِذْ جَعَلَ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْحَمِيَّةَ حَمِيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ فَأَنزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَى رَسُولِهِ وَعَلَى الْمُؤْمِنِينَ۔۔۔

ترجمہ: جب ان لوگوں نے جو کافر ہیں اپنے دلوں میں حمیت کا جذبہ پیدا کیا، وہ جاہلیت والی حمیت تو اللہ نے اپنا سکون اتارا اپنے پیغمبر پر اور ایمان والوں پر۔ [ فتح–26]

جاہلیت [عربی میں: الجاهلیّة] ایک قرآن و حدیث سے ماخوذہ اصطلاح ہے، ایک قسم کی کرداری، اخلاقی اور اعتقادی و نظریاتی خصوصیات کے بارے میں، قبل از اسلام کے ایک دور اور سرزمین جزیرہ نمائے عرب میں۔ لفظ "جہل" اور اس کے مشتقات قبل از اسلام کی جاہلی شاعری میں بھی مذکور ملتا ہے۔ جاہلی شاعری میں جہل افراد اور سماج کے کردار اور رویوں کے تناظر میں بروئے کار لایا گیا ہے، چنانچہ یہ لفظ بمقابلۂ علم و دانش استعمال نہیں کیا گیا ہے؛ کردار اور رویوں میں ایک قسم کی خودسری، ایک قسم کا تکبر آمیز کردار، جس نے ہر انسانی، الہی، یا حق و ناحق قوت کے سامنے سرتسلیم خم کرنے سے انکار کیا ہے۔

احادیث سے، بحیثیت مجموعی، ظاہر ہوتا ہے کہ رسول اللہ(ص) اور ائمہ(ع) نے جاہلی افکار اور اعمال کی اصلاح اور جاہلیت کے ازالے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔ کبھی اس کی بنیاد اور اساس، یعنی جاہلی تعصب (حمیّت)، کی مخالفت کرتے اور کبھی اس کے مظاہر اور مصادیق کی تشریح کرتے ہوئے ان پر تنقید کرتے تھے۔

بعض احادیث میں امامت کی نسبت ایک فرد کی عدم معرفت، جاہلیت کے مترادف قرار دی گئی ہے اور تاکید ہوئی ہے کہ ایسا فرد جاہلیت کے دور کے لوگوں کی طرح دنیا سے رخصت ہوتے ہیں، کیونکہ اپنے زمانے کے امام کی طاعت کے تحت، اور کسی امر حق کے پیرو نہیں ہیں۔ یہ مضمون دعاؤں میں بھی مذکور ہے۔

لغت میں

لفظ "الجاہلیّۃ"، ماخوذ از مادۂ "ج ہ ل"، اسم فاعل "الجاہل" اور لاحقۂ "يّۃ" سے مرکب ہے جو بظاہر اسم معنی یا اسم جمع پر دلالت کرتا ہے۔[1][2][3]

قرآن میں

لفظ "جاہلیۃ" قرآن کی مدنی سورتوں میں 4 مرتبہ "ظنَّ الجاہلیۃ"،[4] "حُکمَ الجاہلیۃ"،[5] "تَبَّرُجَ الجاہلیۃ"،[6] اور "حَمِیۃَ الجاہلیۃ"[7] جیسی عبارات میں استعمال ہوا ہے اور چاروں مرتبہ ملامت اور مذمت کے لب و لہجے میں آیا ہے۔ یہ ملامت آمیز لب و لہجہ بعض ان آیات میں بھی دہرایا گیا ہے جہاں "جہل" کے دوسرے مشتقات استعمال ہوئے ہیں؛ جیسے "تَجْہَلونَ"،[8] جاہلونَ،[9] اور جاہلین۔[10][11] مجموعی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ قرآن مجید نے جزیرہ نمائے عرب میں، تاریخ عرب کے ایک خاص دور کو توجہ دیتے ہوئے اس کی اخلاقی خصوصیات اور رویوں پر کڑی نکتہ چینی کی ہے۔ درحقیقت قرآن نے اس دور کو ـ لوگوں کے اخلاق اور کردار میں جاہلیت کی خصوصیات نمایاں ہونے کے سبب ، جاہلیت کا دور قرار دیا ہے اور بعد میں یہ نام اس زمانے کے لئے "عَلَم" ہوچکا ہے۔

سورہ آل عمران کی آیت 154

سور آل عمران کی آیت 154 ("يَظُنُّونَ بِاللّهِ غَيْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِيَّةِ (ترجمہ: وہ اللہ کے ساتھ ناحق زمانہ جاہلیت کی سی بد گمانی کر رہے ہیں) [ آل عمران–154] ") میں، بعض لوگوں کی مذمت کی گئی ہے، کیونکہ وہ خدا کے بارے میں بدگمانی کرتے تھے۔ طبری[12] اس [جاہلی بدگمانی کرنے والی] جماعت کو منافقین سمجھتے ہیں کیونکہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے کام میں شک کرتے تھے۔ طَبْرِسی[13] کہتے ہیں کہ "ظنّ الجاهلیّۃ" سے مراد، منافقین کا یہ گمان ہے کہ خدا رسول اکرم(ص) اور آپ(ص) کے اصحاب کی مدد نہیں کرے گا۔ اس رائے کی بنیاد پر انھوں نے اس عبارت کے لئے دو معانی ذکر کئے ہیں: 1۔ اللہ کے بارے میں منافقین کا تصور عصر جاہلیت کا سا تصور ہے؛ 2۔ ان کا گمان عصر جاہلیت کے لوگوں (کفار اور اللہ کے وعدوں کے عملی جامہ پہننے کے منکرین) جیسا ہے۔[14] لیکن علامہ طباطبائی کی رائے کے مطابق، "ظنّ الجاہِلیَّۃ"، ان لوگوں کا گمان ہے جن کا تصور تھا کہ چونکہ وہ اسلام قبول کرچکے ہیں لہذا اب انہیں جنگوں میں کامیاب اور فاتح ہونا چاہئے، اور خدا پر واجب ہے کہ وہ ـ غیر مشروط طور پر ـ اپنے دین اور اس کے پیروکاروں کی مدد و نصرت کرے۔ یہ ناحق اور جاہلی گمان تھا، کیونکہ جاہلی عرب رب النوعوں (اور دیوتاؤں) کے قائل تھے اسی بنا پر [ظہور اسلام کے بعد بھی بعض لوگوں] کا گمان تھا کہ رسول اللہ(ص) ایک رب النوع ہیں اور غلبے اور غنیمت کا کام ان کے سپرد ہوا ہے! چنانچہ وہ کبھی بھی مغلوب اور مقتول نہیں ہونگے!۔[15]

سورہ مائدہ کی آیت 50

سورہ مائدہ کی آیت ("أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ (ترجمہ: تو کیا یہ جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں) [ مائدہ–50] ")، میں عبارت "حُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ" سے مراد جاہلیت کے زمانے کے لوگوں کے فیصلوں اور احکام کی نوعیت ہے؛ جس کے لئے دو وجوہ [صورتیں] بیان کی گئی ہیں:

  1. پہلی وجہ میں، اس آیت کا سبب نزول یہ کہ بنی قُرَیظہ اور بنی نَضیر نے اپنے درمیان کسی جھگڑے میں رسول اللہ(ص) کو حَکَم اور قاضی قرار دیا اور آپ(ص) نے عدل کے عین مطابق فیصلہ سنایا تو بنو نضیر ناراض ہوئے اور رسول اللہ(ص) کا فیصلہ قبول نہیں کیا، چنانچہ یہ آیت نازل ہوئی۔
  2. دوسری صورت کے تحت، وہ چاہتے تھے کہ رسول اللہ(ص) عصر جاہلیت کی طرح، دو قبائل کے مقتولین کے درمیان فرق کے قائل ہوجائیں۔ اس آیت کریمہ میں یہودیوں کو طعنہ دیا گیا ہے کہ باوجود اس کے، کہ ان کے پاس اپنی کتاب تھی، اور علم بھی تھا، لیکن وہ ایسے فیصلے کے درپے تھے جس کی نوعیت عصر جاہلیت کی سی تھی اور اس کا سرچشمہ کوئی وحی اور کتاب نہ تھی بلکہ اس کی جڑیں جہل اور ہوس پرستانہ خواہشات میں پیوست تھیں۔[16][17] چنانچہ، آیت میں ہو وہ شخص شامل ہوگا جو غیراللہ کا فیصلہ طلب کرتے ہیں۔[18][19] علامہ طباطبائی[20] بھی امام صادق(ع) سے منقولہ حدیث[21][22] نیز آیت کریمہ میں توبیخی اور انکاری استفہام[23] سے نتیجہ لیا ہے کہ حکم یا فیصلہ دو حالتوں سے خارج نہیں ہے: یا تو وہ خدا کا حکم یا پھر ـ اگر خدا کا حکم نہیں ہے تو ـ جاہلیت کا حکم ہے۔

سورہ احزاب کی آیت 33

احزاب کی آیت 33 ("وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُوْلٰى (ترجمہ: اور استقلال کے ساتھ اپنے گھروں کے اندر رہا کرو اور زمانہ جاہلیت کی طرح بن ٹھن کے جلوہ دکھاتی نہ پھرو) [ احزاب–33] ") میں ازوج نبی اور مؤمنہ عورتوں کو جاہلی عورتوں کی روش پر "تبرج" سے باز رکھا گیا ہے۔ اس آیت میں "تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ" سے جاہلی عورتوں کی طرح، چلنے میں تکبر برتنا یا مردوں کے آگے اپنی زینتیں آشکار کرنا، مراد ہے۔[24][25][26][27] آیت کریمہ میں "الجاهلیّۃ الاولی" سے مراد کے بارے میں، اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ بعض لوگوں نے اس کا اطلاق زمانے کے ایک مرحلے پر کیا ہے اور اس کے مصداق کے تعین میں، مختلف فواصل ذکر کئے ہیں؛ جیسے "آدم اور نوح کے درمیان کا زمانہ، ادریس، اور حضرت عیسی کے درمیانی زمانہ، نیز حضرت عیسی اور رسول اکرم(ص) کا درمیانی زمانہ۔[28][29][30] طبری کی رائے کے مطابق[31] "الجاہلیّۃ الاولی"، سے مراد، قبل از اسلام کی جاہلیت ہے یعنی حضرت آدم سے حضرت عیسی تک کا زمانہ۔ اور پھر قبل از اسلام کی جاہلیت کو اس لئے "جاہلیت اُولٰی" کہا گیا کہ ظہور اسلام کے بعد بھی ایک قسم کا جاہلی اخلاق مسلمانوں کے درمیان پایا جاتا تھا؛ جیسا کہ بعد احادیث میں اس نکتے کی طرف اشارہ ہوا ہے۔[32] زمخشری[33] نے احتمال ظاہر کیا ہے کہ [شاید] "جاہلیت اُولٰی" سے مراد اسلام سے قبل کے زمانے میں رائج کفر ہو اور جس کا تقابل "جاہلیت الکبرٰی" سے ہے اور جاہلیت الکبرٰی سے مراد اسلام کے بعد کا رواج یافتہ فسق و فجور ہے، لیکن ان کے اس احتمال کے تقابل میں فخر رازی کا قول ہے[34] کہ جاہلیت اُولٰی یہاں جاہلیت اُخرٰی کے مقابلے میں نہیں ہے بلکہ اس سے مراد "قدیم جاہلیت" ہے۔

سورہ فتح آیت 26

سورہ فتح کی آیت 26 ("إِذْ جَعَلَ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْحَمِيَّةَ حَمِيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ (ترجمہ: جب کافروں نے اپنے دلوں میں حمیت (اور عصبیت) ـ وہ بھی جاہلی حمیت ـ کا جذبہ پیدا کیا) [ فتح–26] ") میں، "حَمِيَّةَ الْجَاہِلِيَّۃِ" سے مراد، جاہلی عربوں کا تعصب تھا جو وہ اپنے خداؤں کی نسبت رکھتے تھے اور اسی تعصب کی بنا پر وہ ان کے بغیر کسی کی پرستش سے پرہیز کرتے تھے؛ یعنی، ایک قسم کی بغاوت اور سرکشی، جو ہر قسم کی تسلیم اور پابندی کا سبب بن رہی تھی۔ بعض مفسرین نے کہا کہ "حَمِيَّةَ الْجَاہِلِيَّۃِ" سے مراد، رسول اللہ(ص) کی رسالت سے اس زمانے کے لوگوں کا انکار، تھا۔[35][36] فخر رازی کے قول کے مطابق، حمیت خود ایک قابل مذمت صفت ہے اور اس میں جاہلیت کا اضافہ ہوا ہے جس نے اس کی قباحت کو بڑھاوا دیا ہے۔[37]

دیگر جاہلی آداب و رسوم

قرآن کریم میں جاہلی عربوں کے بعض آداب، رسوم اور عقائد و نظریات پر تنقید ہوئی ہے۔ عصر جاہلیت کے بعض نمایاں مظاہر اور خصوصیات ـ جن کی طرف قرآن کریم نے اشارہ کیا ہے ـ کچھ یوں ہیں: شرک، والدین کے ساتھ نیکی نہ کرنا، غربت اور فقر کے خوف سے اولاد کو قتل کرنا[38] زنا،[39] کنیزوں کو زنا پر مجبور کرنا،[40] بیٹیوں کو زندہ در گور کرنا، [41] شراب نوشی،[42][43] ربا خواری،[44] عورت کی تذلیل و تحقیر،[45] جوا (مَیسِر)، اَزلام،[46] اور بَحیرَہ۔[47] جیسے حیوانات کو مقدس جاننا۔[48][49]

احادیث میں

احادیث میں، جاہلیت کے مظاہر اور مصادیق کے بارے میں بہت سے مسائل بیان کئے گئے ہیں۔ ان احادیث میں لفظ جاہلیت کے اطلاقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ لفظ صدر اول میں، قبل از بعثت کے زمانے میں رائج اخلاقیات، کردار اور دینی آداب بیان کرنے کے لئے استعمال ہوتا رہا ہے۔ حضرت علی(ع) نے نہج البلاغہ[50] میں فرماتے ہیں: سے ظاہر ہوتا ہے کہ عصر جاہلیت میں نہ صرف عربوں کے کھانے اور پینے کی اشیاء نا پسندیدہ تھیں بلکہ دینی اعتقادات بھی غیر صحیح، خاندانی اور سماجی روابط بھی نامناسب تھے اور مجموعی طور پر ان کی فردی اور معاشرتی حیات بدنظم تھی۔ جاہلیت کے اس قسم کے اوصاف، حبشہ جانے والے مہاجرین کے سرپرست جناب جعفر طیار نے وہاں کے بادشاہ نجاشی کے آگے بیان کئے ہیں۔[51] مسجد نبوی میں حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کا معروف خطبہ۔[52]

بعض روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اصحاب رسول(ص) کبھی جاہلی دور کی تہذیب و ثقافت، اور اس دور میں اپنی زندگی کی طرف توجہ دیتے اور اپنی یادوں کا تذکرہ کرتے تھے۔[53][54] بعض اوقات رسول اللہ(ص) ان کی باتیں سنتے اور تبسم فرمایا کرتے تھے۔[55] ایک موقع پر پیغمبر اکرم(ص) نے فرمایا: "عصر جاہلیت کے واقعات اور اشعار سے آگہی ایک علم ہے کہ نہ تو اس کا جاننا مفید ہے اور نہ ہی نہ جاننا مضر، ہے[56] اصحاب کے لئے اہم مسائل ـ جن کے بارے میں وہ رسول اللہ(ص) سے مسلسل سوال کرتے رہتے تھے ـ میں سے ایک مسئلہ ان اعمال سے متعلق تھا جو وہ عصر جاہلیت میں انجام دیتے تھے؛ اور آپ(ص) جواب دیتے تھے کہ "اگر تمہارا اسلام اور ایمان صحیح ہو تو عصر جاہلیت کے اعمال کی بنیاد پر تمہاری کوئی بازپرس نہ ہوگی؛ بصورت دیگر عصر جاہلیت کے اعمال کے لئے بھی اور ظہور اسلام کے بعد کے اعمال کے لئے بھی، تمہاری بازپرس ہوگی[57][58][59] کبھی کبھار صحابہ، رسول خدا(ص) سے عصر جاہلیت کے عہد و پیمان اور نذر و عہد کے بارے میں سوال پوچھتے تھے اور کبھی آپ(ص) اُس عہد و پیمان کی وفا پر تاکید کرتے تھے۔[60][61][62]

اہل بیت(ع) کے ہاتھوں جاہلی افکار کی اصلاح

احادیث کے مجموعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام اور ائمہ(ع) تمام مواقع سے جاہلی افکار اور اعمال کی اصلاح اور معاشرے سے جاہلیت کے ازالے کے لئے استفادہ کرتے تھے۔ کبھی ان اعمال و افکار کی جڑوں ـ یعنی جاہلی تعصب (حمیت) ـ کی مخالفت کرتے تھے اور کبھی جاہیلت کے مظاہر اور مصادیق کی تشریح کرتے اور ان پر تنقید کرتے تھے۔

حدیث کے مطابق، رسول اکرم(ص) اسلام کو ان لوگوں کے خوار ہونے کا سبب گردانتے ہیں جو عصر جاہلیت میں صاحب جاہ و عزت تھے اور ان لوگوں کے صاحب عزت ہونے کا سبب، جو عصر جاہلیت میں خوار تھے؛ اور اس بات پر زور دیتے ہیں کہ خداوند متعال نے اسلام کو جاہلی نخوت اور قبیلے اور نسب پر جاہلی تفاخر کے ختم ہوجانے کا سبب قرار دیتے ہیں۔[63][64] ایک دوسری حدیث میں رسول اکرم(ص) نے فرمایا: "جس کے دل میں ذرہ برابر جاہلی تعصب ہو خداوند متعال اس کو بروز قیامت، جاہلی عربوں کے سے محشور فرمائے گا[65][66] بعض مواقع پر آپ(ص) نے اپنے بعض اصحاب پر، بعض جاہلی رویوں کی وجہ سے، ملامت کی ہے۔[67][68][69] پیغمبر خدا(ص) جاہلیت کے خلاف جدوجہد میں اس قدر سنجیدہ اور پرعزم تھے کہ آپ(ص) نے جاہلیت کے دور میں ناچ گانے کے لئے مقررہ دو دنوں کے بجائے دو عیدوں ـ عید الفطر اور عید الضحی ـ کا اعلان کیا۔[70] یا مثلا ایک شخص کا نام جاہلیت کے دور میں عزیز تھا اور اس سے نخوت اور غرور کا اظہار ہوتا تھا، تو آپ(ص) نے اس کا نام بدل کر عبدالرحمن رکھا۔[71] امام علی(ع) نے بھی لوگوں کو جاہلی حمیت اور عصبیت کے جال میں پھنسنے سے پرہیز دلاتے ہیں اور شیطان کو اس کا مظہر قرار دیتے ہیں۔[72] بعض احادیث میں مسلمانوں کے بعض اعمال اور رویوں کو جاہلی ثقافت کا مصداق، قرار دیا گیا ہے۔ امام سجاد(ع) سے منقولہ ایک حدیث کے مطابق، مذموم جاہلی عصبیت سے مراد یہ ہے کہ ایک ایک شخص، اپنی جماعت یا قوم کے شریر افراد کو اس قوم کے نیک افراد سے بہتر سمجھے اور ان ظالمانہ کاموں میں ان کا ساتھ دے۔[73] نیز احادیث میں ہے کہ شراب نوشی کے مرتکب شخص کی نماز 40 دن تک قبول نہیں ہوتی اور اگر وہ ان 40 دنوں میں دنیا سے چل بسا، تو جاہلی موت مرا ہے۔[74][75][76] وصیت کے بغیر مرنا،[77] عقیقے کا خون نومولود کے سر پر ملنا،[78] اور مصیبت زدہ افراد کے ہاں کھانا کھانا[79] جاہلیت کے دوسرے مصادیق اور مذموم ہیں۔

مفہومِ جاہلیت کے ساتھ عقیدۂ امامت کا تعلق

قال رسول اللہ(ص):

"مَنْ ماتَ وَلَمْ يَعْرِفْ إمامَ زَمانِهِ ماتَ مَيْتَةً جاهِلِيَّةً

ترجمہ: جو مرے اور اپنے زمانے کے امام کو نہ پہچانے، وہ جاہلیت کی موت مرا ہے۔

کلینی، اصول کافی(ترجمه مصطفوی)، ج1، ص131[80]

احادیث میں جن مسائل کو بہت زیادہ توجہ دی گئی ہے، ان میں سے ایک، مفہومِ جاہلیت کے ساتھ [عقیدۂ] امامت کا ربط و تعلق ہے۔ ان احادیث میں امامت کی نسبت ایک فرد کی عدم معرفت، اور امام کی عدم شناخت، جاہلیت کے ہم معنی قرار دی گئی ہے اور تاکید ہوئی ہے کہ ایسا شخص دوران جاہلیت کے لوگوں کی موت مرے گا کیونکہ اپنے زمانے کے امامت کی طاعت کے تحت نہیں ہے اور کسی بھی امر حق کے تابع نہیں ہے۔[81][82][83][84] یہ مضمون دعاؤں میں بھی آیات ہے؛ جیسا کہ حضرت قائم کی دعائے غیبت میں، دعا کنندہ اللہ سے التجا کرتا ہے کہ اسے جاہلیت کی موت پر نہ اٹھائے۔[85] شیعہ احادیث میں تاکید ہوئی ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کی دشمنی جاہلی موت کا سبب ہے[86] اور ظہور کے وقت امام زمانہ(عج) کی سیرت آغازِ اسلام میں رسول خدا(ص) کی سیرت کی مانند ہوگی اور آپ(ع) بھی جاہلیت کے خلاف جدوجہد کریں گے۔[87]

مستشرقین کی نظر ميں

حالیہ صدیوں میں اسلام شناسی، بالخصوص عرب شناسی، سیرت نبوی اور قرآن کے سلسلے میں مستشرقین کی تحقیقات کے رواج کے ساتھ، جاہلیت کا مفہوم پہلے سے زیادہ روشن اور نمایاں ہوگیا۔

گولڈزیہر کی نظر میں

ہنگری کے مستشرق ایگناز گولڈزیہر (Ignaz Goldziher)،[88] نے جاہلی ثقافت اور شاعری میں تحقیق کرتے ہوئے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ جہل یہاں حلم (بمعنی عقل) کے مقابلے میں ہے نہ کہ علم کے مقابلے میں۔ چنانچہ عصر جاہلیت کے معنی جہالت اور نادانی کا دور نہیں ہے بلکہ بربریت اور سرکشی ـ یعنی تشدد، استبدادیت، خود پرستی اور ہرزہ سرائی وغیرہ ـ کا دور ہے۔[89] قابل ذکر ہے کہ جہل اور حلم کے تقابل کی جڑیں عرب کے شعری ورثے[90][91][92] اور اسلامی روایات و احادیث[93][94] میں پیوست ہیں۔ نیز ان ہی مآخذ میں "جہل" اپنے ثانوی اطلاق میں، علم کے مقابلے میں بھی استعمال ہوا ہے۔[95] باوجود اس کے، کہ گولڈزیہر کے نظریئے پر سوالات اٹھائے گئے،[96] اور ان کے بعد آنے والے قرآن کے بعض مترجمین نے (جاہلیت سمیت) جہل کے بعض مشتقات کی طرف توجہ نہیں دی۔[97] گولڈزیہر کی تحقیقات، اسلام سے قبل کے عربوں کی تہذیب و ثقافت کے سلسلے میں ہونے والی تحقیقات کے ساتھ مل کر، بعد کے محققین کی تحقیقات کا سرمایہ ثابت ہوئیں۔

ایزوتسو کی نظر میں

جاپانی اسلام شناس، توشہیکو ایزوتسو [Toshihiko Izutsu] نے قرآن میں اخلاقی اور دینی مفاہیم " Ethico-religious concepts in the Qurʾān" میں[98] آیات قرآن اور حدیث و تاریخ میں ان کے شواہد کی بنیاد پر اپنی تحقیق میں گولڈزیہر کے نظریئے کو ارتقاء دیا اور نتیجہ اخذ کیا کہ قرآنی اطلاق میں، جہل اور اس کے سیاق میں جاہلیت کو ـ پیغمبر(ص) کے دشمنوں کی عقیدہ توحید کے ساتھ دشمنی اور اس کے بابت ان کے جارحانہ رویئے کے تناظر میں ـ دیکھا جاسکتا ہے؛ کیونکہ یہ عقیدہ ان کے لئے ناقابل برداشت تھا اور انہیں کمزور کررہا تھا۔ علاوہ ازیں، ایزوتسو، نے اپنی کتاب کی ایک فصل "خدا اور انسان، قرآن کی روشنی میں"، کے ضمن میں، جاہلیت کے مفہوم کو "رب اور عبد کے مفاہیم کے درمیان کے ربط و تعلق" سے مختص کیا۔ ایزوتسو کے بقول، جاہلی عرب، اللہ کو معبود مطلق نہیں سمجھتے تھے بلکہ وہ ارباب (=پروردگاروں) کے قائل تھے اور اللہ کے لئے ربوبیت مطلقہ کے مفہوم کے مستقرّ ہونے کی وجہ سے خدا اور انسان کے درمیان رابطے کے تصور میں بنیادی تبدیلی آئی؛ بایں معنی کہ: انسان کو اللہ کے سامنے محض عبد (اور بغیر کسی قید و شرط کے، فرمانبردار) ہونا چاہئے اور عبادت، طاعت، قنوت، خشوع اور تضرع جیسے مفاہیم اسی دائرے میں با معنی ہوجاتے ہیں۔

ایزوتسو کے مطابق، اہم ترین صورت، جو عبودیت کے مفہوم کو بیان کرتی ہے، اسلام ـ بایں معنی کہ: انسان خدا کی مشیت کے آگے تسلیم محض ہونا چاہئے ـ ہے۔ اس معنی میں "اسلام" ایک ایسا نقطہ ہے جس میں، فرد کی زندگی دو حصوں میں تقسیم ہوتی ہے۔ ان دو حصوں کا مزاج مختلف ہے اور انہیں "جاہلی" اور "اسلامی" کا نام دیا جاسکتا ہے۔ مسلم (= مسلمان) ہونے کے معنی درحقیقت یہ ہیں کہ انسان اپنی انسانی قوت پر مغرور ہونے اور تکبر و خودپسندی میں مبتلا ہونے، سے ہاتھ کھینچ لے اور عبد کے طور پر، خدا کے سامنے سر تسلیم خم کرے؛ اور اس کے برعکس، جاہل ہونے کے معنی انسانی قوت پر مغرور اور استقلالِ مطلق ہونے کے ہیں۔ ایزوتسو، قرآنی آیات سے استناد کرتے ہوئے، تکبر اور خودپرستی کو عصر جاہلیت کی تمام خصلتوں کا سرچشمہ قرار دیتا ہے اور کہتا ہے کہ اسلام نے ـ سورہ فتح کی آیت 26 میں بیان ہونے والے جاہلی اوصاف اور تصورات ـ کو بھاری نقصان پہنچایا؛ چنانچہ، توحید اور اللہ کی ربوبیتِ مطلقہ کے اعتقاد ـ جو شرک کی نفی استوار تھا ـ کی بنیاد پر، نمایاں ہونے والے اقدار کی روشنی میں، دو متنازعہ اصولوں ـ یعنی جاہلیت اور اسلام کے درمیان ایک تنازعہ شروع ہوا، جس کی مثال اُس سے قبل کی تاریخ میں نہین ملتی۔[99]

بلاشر کی نظر میں

فرانسیسی مستشرق، ریجس بلاشر (Régis Blachère)، اپنی کتاب "تاریخِ ادبیاتِ عرب = L'histoire de l'alphabet arabe" میں، سابقہ دستیابیوں کی بنیاد پر، بدو عربوں کی نفسیاتی کیفیات کی صورت بندی کرتے ہوئے، جاہلی عربوں کی فردی اور سماجی خصوصیات کو یوں بیان بیا کرتا ہے: "بچپن ہی سے تشدد کا خوگر ہونا، جس کو تنگدستی اور محرومیوں نے تُندخُو، مغرور، آتِش مزاج، جلدی غضبناک ہونے والا، ضدی اور ہٹ دھرم، بنایا تھا؛ شرف اور ناموس کا حسّ ـ جو اس کی پوری توجہ کا ارتکاز نیک نامی پر تھا؛ جاہ طلبی، انتقام جوئی (ثار) ـ جو اس کے فردی، سماجی اور دینی پہلؤوں سے مرتبط تھی؛ رجز خوانی ـ جو مذکورہ اوصاف کا بیرونی اور فنکارانہ جھلک تھی اور اس کے اظہار کا موقع عام طور پر جنگوں میں فراہم ہوجاتا تھا ـ؛ اور جوابازی اور شراب نوشی، بدو عرب کی خود نمائی اور تموّل کی نمائش، اور دولت خرچ کرنے میں لاپروائی کے اظہار کی ضرورت، کو ظاہر کرتی تھی۔[100]

ایزوتسو ان خصوصیات کو بیان، اور گولڈزیہر کے نظریئے کی تائید، کرتے ہوئے کہتا ہے: ان تمام نفسیاتی جلؤوں سے ایک مجموعہ تشکیل پاتا تھا اس کو اسلام نے جاہلیت کا نام دیا۔

ولیم واٹ اور روزینتھل کی نظر میں

ولیم واٹ (William Montgomery Watt) اپنی کتاب "محمد(ص) مکہ میں (Muhammad at Mecca)" جاہلی عربوں کے فکری اور اعتقادی حالات و کیفیات کا جائزہ لیتے ہوئے ان تمام خصوصیات کو "قبائلی انسان پرستی" (Tribal Humanism) کا نام دیتے ہیں۔[101]

فرانز روزینتھل نے (Franz Rosenthal) اپنی کتاب "قرون وسطی کے اسلام میں علم کا مفہوم (The Concept of Knowledge in Medieval Islam)" میں لفظ "جاہلیت" کو لغت کے لحاظ سے زیر بحث لاتے ہوئے قرآنی آیات اور یہودی مآخذ میں جاہلیت کا تقابلی جائے لیا ہے۔[102]

جاہلیت بعد از اسلام

قرآن اور حدیث سے ماخوذہ شواہد اور محققین کی تحقیقات کے مطابق، جاہلیت قبل از اسلام کی تاریخ میں محدود نہ رہی بلکہ اس کے بہت زیادہ مظاہر و مصادیق، بعد از اسلام بھی موجود تھے، یہاں تک کہ اسلام کی پہلی صدیوں کو ـ اسلام کے جدید اقدار کے خلاف جاہلی ثقافت کی ہمہ جہت جنگ ـ کی صدیاں قرار دیا جاسکتا ہے۔[103]

ابن تیمیہ کی نظر میں

ابن تیمیہ (متوفی سنہ 728ھ ق) اپنی کتاب اقتضاء الصراط المستقیم مخالفۃَ اصحاب الجحیم، میں، اسلامی دور میں جاہلیت کو، جاہلیتِ مطلق کے بالمقابل، جاہلیتِ مُقَیَّد، قرار دیتا ہے اور[104] اور اپنے زمانے میں "عیدوں میں مسلمانوں کے کفار سے تشابہ" کو اس کے مصادیق میں سے گردانتا ہے۔[105]

محمد بن عبدالوہاب کی نظر میں

حالیہ صدیوں میں، وہابی فرقے کے بانی، محمد بن عبدالوہاب (متوفی سنہ 1206ھ ق) اور اس کے پیروکارو ـ جو بہت شدت سے ابن تیمیہ کے افکار سے متاثر تھے ـ عصر جدید کی جاہلیت کو زیر بحث لائے ہیں۔ محمد بن عبدالوہاب کا خیال تھا کہ پوری دنیا ـ یا کم از کم جزیرہ نمائے عرب ـ کے لوگ، اس لئے کہ ان کے عقائد و اعمال وحی کے مطابق نہیں ہیں ـ سب جاہلیت کے دور سے گذر رہے ہیں۔[106] بیسویں صدی عیسوی کے آغاز میں بھی محمد عبدہ (متوفی سنہ 1323ھ ق/1905ع‍) اور محمد رشید رضا (متوفی سنہ 1314ھ ش/ 1935ع‍) جیسے اصلاح پسندوں نے تفسیرالمنار[107] میں اس موضوع کی طرف اشارہ کیا۔ ان کے خیال میں، عصر حاضر میں بعض مسلمان، دین اور اخلاق کے لحاظ سے، ان لوگوں سے زيادہ جاہلانہ رویوں پر کاربند ہیں جن کے لئے عصر نزول میں آیات قرآنی نازل ہوئی تھیں۔

مودودی کی نظر میں

حالیہ عشروں میں، عام طور پر عالم اسلام کو نئی دنیا کا سامنا کرنے کے زیر اثر، ایک مستقل مفہوم کے طور پر، بعض علماء اور دینی مؤلفین اور قلم کاروں کی کاوشوں میں، "جدید جاہلیت" کی فکر کی تجدید ہوئی۔ پاکستانی دینی راہنما اور سیاستدان، سید ابوالاعلی مودودی (متوفی سنہ 1358ھ ش / 1979ع‍) نے پہلی بار سنہ 1339ع‍ میں "تجدد" (Modernism) کو جدید جاہلیت کا لقب دیا اور ان کا موقف، ـ اسلامی تہذیب و اخلاق کے ساتھ ناسازگار ـ تمام حکومتی نظامات اور سیاسی و سماجی نظریات کا احاطہ کئے ہوئے تھا۔[108][109] وہ شیوعیت (کمیونزم) کو بھی اور دنیائے مغرب کو بھی، اس مفہوم کا مصداق سمجھتے تھے۔[110][111] مودودی کے نظریات، ان کی اہم کاوشوں کے عربی تراجم کے ساتھ، 1950 کے عشرے میں، عالم عرب میں رائج ہوئے۔ ان کے شاگرد ابوالحسن علی حسنی نَدْوی (متوفی سنہ 1999ع‍)، نے سنہ 1950 میں ایک کتاب بعنوان ماذا خَسر العالَم بِانحِطاطِ المُسلمین لکھی اور اس میں مودودی کے نظریۂ جدید جاہلیت کی تشریح کی۔[112] اسلامی ممالک میں اس کتاب کا وسیع خیر مقدم ہوا اور باربار شائع ہوئی اور مختلف زبانوں میں اس کے تراجم ہوئے۔[113][114] ندوی[115] نے دنیا کو ایک تیزرفتار ریل گاڑی سے تشبیہ دی ہے جسے مغربی جاہلیت پوری تیز رفتاری سے منزل مقصود کی طرف لے جارہا ہے اور مسلمین، دوسری اقوام عالم کی طرح، اس کے مجبور اور بےاختیار مسافر ہیں۔

سید قطب کی نظر میں

مصر میں عالم دین اور سیاستدان، سید قطب (متوفی سنہ 1966ع‍‌) نے جدید جاہلیت کے مفہوم کو پہلے سے زیادہ، وسعت دی۔ وہ مودودی اور ندوی کے نظریات سے متاثر تھے۔[116][117][118] انھوں نے امریکہ سفر کرنے کے بعد اپنی کتاب فی ظلال القرآن میں[119] اس باب میں بعض باتیں لکھیں۔ انھوں نے بعد میں معاصر جاہلیت کے بارے میں اپنے نظریات اپنی مستقل کتاب مَعالِمُ فی الطریق میں شائع کیا۔ انھوں نے اس کتاب میں انھوں نے جاہلیت اور اسلام کا تقابلی جائزہ لیا ہے اور جدید جاہلی معاشروں کے انحرافات اور کجرویوں پر روشنی ڈالتے ہوئے مسلمانوں کو جاہلی تفکرات اور اقدار کی طرف آنے اور اسلامی معاشرہ تعمیر کرنے کی دعوت دی ہے۔[120] سید قطب کے خیال میں،[121] آج کے انسان کے تمام تر تصورات، عقائد اور تہذیبیں جاہلی ہیں (جبکہ ان میں سے بہت سے افکار و عقائد اسلامی سمجھے جاتے ہیں) اور ان کے خیال میں جدید جاہلیت بالکل اسی جاہلیت کی مانند ہے جس کا اسلام کو اپنے ابتدائی ایام میں سامنا تھا یا شاید اس سے کہیں زیادہ بری۔ ان کے خیال میں[122] جاہلیت یہ ہے کہ انسان، انسان کی بندگی کرے، اور اسلام کے معنی یہ ہیں کہ انسان خدا کی بندگی کرے؛ چنانچہ، ان دو کے درمیان مصالحت ممکن نہیں ہے اور ایک اسلامی معاشرے کے قیام کے لئے، جاہلیت سے اسلام کی طرف منتقل ہونا چاہئے۔[123][124]

محمد قطب کی نظر میں

سید قطب کے بھائی، محمد قطب (متوفی سنہ 1965ع‍)، نے بھی اسی موضوع پر کتاب جاہلیة القَرن العِشرین لکھی۔ ان کا [125] خیال ہے کہ جاہلیت ایک قسم کی نفسیانی کیفیت بھی ہے، جس میں ایک فرد خدا کی طرف کی ہر قسم کی ہدایت سے سرتابی کرتا ہے، اور ایک قسم کی کارکردگی بھی ہے جو اللہ کے احکام کے مطابق کسی بھی فیصلے کو برداشت نہیں کرتی۔ جاہلیت ہوٰی و ہوس ہی ہے جو کسی خاص زمانے تک محدود نہیں ہے اور تمام زمانوں اور مکانوں کا احاطہ کئے ہوئے ہے؛[126] عرب جاہلیت سادہ اور سطحی تھی لیکن جدید علم و سائنس، تحقیق، نظریہ پردازی وغیرہ پر مبنی اور اسی شیئے کے مترادف ہے جس کو آج کے زمانے میں ترقی اور تہذیب کہا جاتا ہے۔ محمد قطب، بیسویں صدی کی جاہلیت کو مغربی تاریخ کے تمام اعصار کی جاہلیتوں کا عصارہ اور نچوڑ سمجھتے ہیں[127] اور اپنی کتاب کے زيادہ تر حصے میں، جاہلیت کے مظاہر کو ـ سیاسی، معاشی، سماجی، اخلاقی اور فنکارانہ پہلؤوں میں ـ مورد تنقید قرار دیتے ہیں۔ وہ آخر کار[128] موجودہ زمانے میں "کمیونزم اور سرمایہ داری" جیسے عناوین سے رائج جاہلیت کے حکمرانوں سے چھٹکارا حاصل کرنے اور ایک بار پھر اسلام کی طرف رجوع کرنے کو، اس جاہلیت کے ازالے کی راہ قرار دیتے ہیں۔

ڈاکٹر شریعتی کی نظر میں

بعض معاصر مسلم ایرانی مفکرین کی تالیفات میں بھی جدید جاہلیت اور اس کے موجودہ مصادیق کی طرف اشارے ملتے ہیں اور جدید جاہلیت کے سلسلے میں ان کے خیالات و نظریات سے آگہی کے لئے ان کی کتب بازگشت [129] اور مخاطب ہائے آشنا[130] سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔

حوالہ جات

  1. Rosenthal, The concept of knowledge in medieval Islam, p.35.
  2. encyl. Islam 2, s. v. 'D jahiliyya.
  3. نیز رجوع کریں: Nöldeke, Geschichte des Quraʾāns, Vol. 1, p. 242, Footnote No. 10.
  4. آل عمران، آیت 154۔
  5. مائدہ، آیت 50۔
  6. احزاب، آیت 33۔
  7. فتح، آیت 26۔
  8. نمل، آیت 55۔
  9. فرقان، آیت 63۔
  10. بقرہ، آیت 67۔
  11. اعراف، آیت 199۔
  12. جامع البيان، ذیل آیه۔
  13. مجمع البیان، ذیل آیه۔
  14. نیز رجوع کریں: نَحّاس، معانی القرآن الکریم، ج1، ص499۔
  15. طباطبائی، المیزان، ذیل آیه۔
  16. رجوع کریں: زمخشری، الکشاف، ذیل آیه۔
  17. فخررازی، تفسیر کبیر، ذیل آیه۔
  18. زمخشری الکشاف، ذیل آیه۔
  19. طبری، جامع البيان، ذیل آیه۔
  20. طباطبائی، المیزان، ذیل آیه۔
  21. رجوع کریں: کلینی، الکافی، ج7، ص407۔
  22. طوسی، التهذیب، ج6، ص218۔
  23. استفہام توبیخی: جو کچھ اداتِ استفہام کے بعد آیا ہے وہ واقع ہوچکا ہے جبکہ اسے واقع نہیں ہونا چاہئے تھا، اس میں مخاطَب کی توبیخ کی جاتی ہے۔ بعض مفسرین کے مطابق توبیخی استفہام اور تفریعی استفہام مترادف اور ہم معنی ہیں جیسے "أَلَّا تَتَّبِعَنِ أَفَعَصَيْتَ أَمْرِي(ترجمہ: تو تم میرے پیچھے نہ چلے آئے تو کیا تم نے میرے حکم کی نافرمانی کی)؛ اور استفہام انکاری: اس قسم کے استفہام میں سوال کرنے والے کا مقصود اس شیئے کی نفی کرنا ہے جو ادات استفہام کے بعد واقع ہے؛ لہذا کبھی کبھار یہ "اِلّا" کے ساتھ آتا ہے؛ جیسے: "... فَهَلْ يُهْلَكُ إِلَّا الْقَوْمُ الْفَاسِقُونَ (ترجمہ: تو ہلاکت میں کیا فاسق لوگوں کے علاوہ کوئی اور پڑیں گے؟) [ احقاف–35] ۔
  24. رجوع کریں: طبری، جامع البيان، ذیل آیه ۔
  25. طوسی، التبیان، ذیل آیه۔
  26. زمخشری، الکشاف، ذیل آیه۔
  27. طبرسی، مجمع البیان، ذیل آیه۔
  28. رجوع کریں: طبری، جامع البيان، ذیل آیه۔
  29. طوسی، التبیان، ذیل آیه۔
  30. طبرسی، مجمع البیان، ذیل آیه۔
  31. طبری، جامع البيان، ذیل آیه۔
  32. بعنوان مثال رجوع کریں: طبری، جامع البيان، ذیل آیه۔
  33. زمخشری، الکشاف، ذیل آیه۔
  34. فخررازی، تفسیر کبیر، ذیل آیه۔
  35. رجوع کریں: طوسی، التبیان، ذیل آیه۔
  36. طبرسی ، ذیل آیه۔
  37. فخر رازی، تفسیر کبیر، ذیل آیه۔
  38. انعام، آیت 151۔
  39. اسراء، آیت 32۔
  40. نور، آیت 33۔
  41. تکویر، آیت 8۔
  42. بقرہ، آیت 219۔
  43. مائدہ، آیت 90ـ91۔
  44. بقرہ، آیت 275ـ276۔
  45. نحل، آیت 58 ـ59۔
  46. مائدہ، آیت 90: ۔
  47. بَحِیرَةٍ: لغت میں پھٹے ہوئے کان والی اور اصطلاح میں وہ اونٹنی جو پانچ بچے جنم دیتی تھی اور پانچواں بچہ نرینہ ہوتا تھا اور عرب اس کا کان پھاڑ دیتے تھے اور اس پر بوجھ لادنے، سوار ہونے اور اس کا گوشت کھانے کو حرام قرار دیتے تھے اور کسی بھی چراگاہ میں چرنے سے نہیں روکتے تھے۔
    سَآئِبَةٍ: لغت میں آزاد شدہ اور اصطلاح میں وہ اونٹنی جس کا مالک نذر کرتا تھا کہ اگر سفر سے صحیح سالم واپس آئے تو نذر کا پاس رکھتے ہوئے اسے آزاد کرے گا۔
    وَصِیلَةٍ: لغت میں واصلہ، پہنچی ہوئے اور پیوستہ اور اصطلاح میں بکری اور دنبے کی اس بچی کو کہا جاتا تھا جو ایک نرینہ بچے کے ساتھ جڑواں ہوتی تھی، اور اسے بتوں کے خادمین کے سپرد کیا جاتا تھا۔
    حَامٍ: لغت میں حافظ اور حامی کو کہا جاتا ہے اور اصطلاح میں اس اونٹ کو کہا جاتا تھا جو دس نسلوں میں سے ایک سے وجود میں آتا تھا اور اس صورت میں بَحِیرَة و سَآئِبَة کی طرح آزادانہ چرتا تھا اور اس پر بوجھ نہیں لادا جاتا تھا، اس سے سواری نہیں لی جاتی تھی اور اس کا گوشت نہیں کھایا جاتا تھا۔ البتہ بَحِیرَة، سَآئِبَة اور وَصِیلَةٍ کے بارے میں دوسری بہت سی باتیں کی گئی ہیں جن کا سرچشمہ قبل از اسلام رائج جاہلیت تھی۔
  48. مائدہ، آیت 103۔
  49. نیز جاہلیت میں رائج امور ـ جنہیں قرآن نے حرام کردیا ـ کے لئے سورہ مائدہ کی تیسری آیت سے رجوع کریں۔
  50. نہج البلاغہ خطبه 2، 26، 95۔
  51. ابن حنبل، مسند، ج5، ص291۔
  52. ابو طاهر، بلاغات النساء، ص13۔
  53. ابن حنبل، مسند، ج5، ص105۔
  54. ابن عبدربّه، العقدالفرید، ج5، ص113۔
  55. رجوع کریں: ابن حنبل، وہی ماخذ۔
  56. رجوع کریں: کلینی، الکافی، ج1، ص32۔
  57. رجوع کریں: ابن حنبل، مسند، ج1، ص379، 409۔
  58. مسلم بن حجاج، صحیح مسلم، ج1، ص77ـ 78۔
  59. برقی، المحاسن، ج1، ص250۔
  60. رجوع کریں:ابن حنبل، مسند، ج2، ص207۔
  61. بخاری، صحیح بخاری، ج2، ص260۔
  62. بخاری، الادب المفرد، ص125۔
  63. رجوع کریں: کلینی، الکافی، ج5، ص340، نیز ج8، ص246۔
  64. ابن حنبل، مسند، ج2، ص361۔
  65. رجوع کریں: کلینی، ج2، ص308۔
  66. ابن بابویه، الامالی، ص704۔
  67. رجوع کریں: بخاری، صحیح بخاری، ج1، ص13۔
  68. مسلم بن حجاج، صحیح، ج5، ص93۔
  69. طبری، جامع البيان، ذیل احزاب: 33۔
  70. رجوع کریں: ابن حنبل، مسند، ج3، ص103، 235، 250۔
  71. رجوع کریں: ابن حنبل، مسند، ج4، ص178، نیز رجوع کریں: ج5، ص84۔
  72. رجوع کریں: نهج البلاغه، خطبه قاصعه، ص288ـ289۔
  73. رجوع کریں: کلینی، الکافی، ج2، ص308ـ309۔
  74. رجوع کریں: الکافی، ج6، ص400ـ401۔
  75. طوسی، التهذیب، ج9، ص106ـ107۔
  76. هیثمی، ج5، ص72۔
  77. رجوع کریں: فتال نیشابوری، ج2، ص482۔
  78. رجوع کریں: ابن بابویه، عیون الاخبارالرضا، ج1، ص29۔
  79. رجوع کریں: ابن بابویه، من لایحضره الفقیه، ج1، ص182۔
  80. مزید مآخذ کے لئے رجوع کریں: مجلسی، بحارالانوار، ج23، ص77؛ صحیح بخاری،ج5،ص13؛ مسلم بن حجاج، صحیح مسلم، ج6،ص 21و22؛ یہ حدیث ابن حنبل نے تین مرتبہ، مسند کی دوسری جلد کے صفحہ 83، تیسری جلد کے صفحہ 446 اور چوتھی جلد کے صفحہ 96 پر نقل کی ہے اور اہل سنت کے تقریبا مآخذ میں نقل ہوئی ہے۔
  81. برقی، ج1، ص154۔
  82. ابن بابویه، عیون الاخبارالرضا، ج1، ص63۔
  83. کلینی، الکافی، ج1، ص376۔
  84. مازندرانی، شرح اصول الکافی، ج6، ص354۔
  85. رجوع کریں: ابن بابویه، کمال الدین و تمام النعمة، ج2، ص512۔
  86. رجوع کریں: ابن بابویه، علل الشرائع، ج1، ص144، 157۔
  87. رجوع کریں: طوسی، التهذیب، ج6، ص154۔
  88. Muslim Studies ، ج 1، ص201ـ 208۔
  89. نیز رجوع کریں: بلاشر، ج1، ص30۔
  90. رجوع کریں: اَصمَعی، الاصمعیات، ص97۔
  91. آلوسی، تفسیر روح البیان، ج1، ص103۔
  92. نیز رجوع کریں: حوفی، الحیاة العربیة من الشعر الجاهلی، ص348ـ350۔
  93. رجوع کریں: ابن هشام، السیرة النبوية، ج3، ص93ـ94۔
  94. کلینی، الکافی، ج1، ص112۔
  95. Izutsu، Izutsu, Ethico-religious concepts in the Qurʾān, p. 28.
  96. Rosenthal، the concept of knowledge in medieval Islam, p. 32-33.
  97. encyl. Islam 2, s. v. 'D jahiliyya
  98. Izutsu, Ethico-religious concepts in the Qurʾān, p. 28-35۔
  99. Izutsu, Ethico-religious concepts in the Qurʾān, p. 198-204۔
  100. Blachère, L'histoire de l'alphabet arabe, vol. 1, p. 23-28.
  101. Watt, Muhammad at Mecca, pp. 24-25۔
  102. Franz Rosenthal, the concept of knowledge in medieval Islam, P. 32-35۔
  103. رجوع کریں: امین، فجرالاسلام، ص78ـ83۔
  104. رجوع کریں: ابن تیمیه، اقتضاء الصراط المستقیم۔۔۔، ص69ـ79۔
  105. وہی ماخذ، ص1۔
  106. Encyclopaedia_of_the_Qur_an_vol_1, "Age of Ignorance", p. 39۔
  107. رشید رضا، تفسیر المنار، ج6، ص422ـ423۔
  108. مودودی، تفهیم القران، ذیل مائدہ، آیت 50۔
  109. احزاب، آیت 33۔
  110. اس موضوع پر مودودی کے نظریات کا خلاصہ ملاحظہ ہو: The Oxford encyclopedia of the modern Islamic world, s.v. "Jahil'iah".
  111. Encyclopaedia_of_the_Qur_an_vol_1, "Age of Ignorance", p. 34-40.
  112. Sivan, Radical Islam: medieval theology and modern politics, p. 23.
  113. رجوع کریں: ندوی، ماذا خسر العالم بانحطاط المسلمین، ص3ـ4۔
  114. Sivan, Ibid.
  115. ندوی، ماذا خسر العالم۔۔۔، ص259۔
  116. رجوع کریں: ندوی، ماذا خسر العالم پر سید قطب کا مقدمہ، ص12ـ16۔
  117. سید قطب، فی ظلال القرآن، ص63، پاورقی نمبر 1۔
  118. نیز رجوع کریں: Sivan, Ibid.
  119. سید قطب، فی ظلال القرآن، ج2، ص724ـ730۔
  120. بطور مثال رجوع کریں: معالم فی الطریق، ص22ـ23، 117، 142، 146، 151۔
  121. سید قطب، معالم فی الطریق، ص21۔
  122. سید قطب، معالم فی الطریق، ص200ـ201۔
  123. اس سلسلے میں سید قطب کے نظریات و آراء سے مزید آگہی کے لئے رجوع کریں:Haddad, "Sayyid Qutb: ideologue of Islamic revival, pp. 85-87.
  124. Sivan, Radical Islam: medieval theology …, pp. 23-27.
  125. محمد قطب، جاهلیة القرن العشرین، ص11۔
  126. محمد قطب، وہی ماخذ، ص12ـ13۔
  127. محمد قطب، وہی ماخذ، ص46۔
  128. محمد قطب، وہی ماخذ، ص347۔
  129. شریعتی، بازگشت، ص391۔
  130. شریعتی، با مخاطب های آشنا، ص70-71


مآخذ

  • قرآن کریم.
  • ایزوتسو، توشیهیکو، خدا و انسان در قرآن، ترجمه احمد آرام، شرکت سهامی انتشار، تهران: 1381ھ ش۔
  • محمود شکری آلوسی، بلوغ الارب فی معرفة احوال العرب، چاپ محمد بهجة اثری، بیروت، 1314ھ ق۔
  • ابن ابی طاهر، بلاغات النساء، قم : مکتبه بصیرتی، بی‌تا.
  • ابن بابویه، الامالی، قم 1417ھ ق۔
  • وہی مصنف، علل الشرایع، نجف 1386/ 1966ع‍، چاپ افست قم، بی‌تا.
  • وہی مصنف، عیون الاخبارالرضا، چاپ حسین اعلمی، بیروت 1404ھ ق۔/ 1984ع‍
  • وہی مصنف، کتاب من لایحضره الفقیه، چاپ علی اکبر غفاری، قم 1414ھ ق۔
  • وہی مصنف، کمال الدین و تمام النعمة، چاپ علی اکبر غفاری، قم 1363ھ ش۔
  • ابن تیمیه، اقتضاء الصراط المستقیم مخالفة اصحاب الجحیم، بی‌جا، بی‌تا.
  • ابن حنبل، مسندالامام احمدبن حنبل، بیروت: دارصادر، بی‌تا.
  • ابن عبدربّه، العقدالفرید، چاپ علی شیری، بیروت 1408ـ1411ھ ق۔ /1988ـ1990ع‍
  • ابن هشام، السیرة النبویة، چاپ طه عبدالرووف سعد، بیروت 1411ھ ق۔
  • عبدالملک بن قریب اصمعی، الاصمعیات، چاپ احمد محمد شاکر و عبدالسلام محمدهارون، قاهره، 1375ھ ‍ق۔/1955ع‍
  • احمد امین، فجرالاسلام : یبحث عن الحیاة العقلیة فی صدرالاسلام الی آخرالدولة الامویة، قاهره 1370ھ ق/1950ع‍
  • محمدبن اسماعیل بخاری، الادب المفرد، بیروت 1406ھ ق۔/1986ع‍
  • همو، صحیح البخاری، استانبول 1401ھ ق۔/1981ع‍
  • احمدبن محمد برقی، کتاب المحاسن، چاپ جلال الدین محدث ارموی، قم، 1331ھ ش۔
  • احمد محمد حوفی، الحیاة العربیة من الشعر الجاهلی، قاهره، 1972ع‍
  • محمد رشیدرضا، تفسیرالقرآن الحکیم الشهیر بتفسیر المنار، (تقریرات درس) شیخ محمد عبده، ج6، مصر 1375ھ ق۔
  • زمخشری، محمود بن عمر بن محمد، تفسیر الکشاف۔
  • علی شریعتی، بازگشت، تهران، 1357ھ ش۔
  • وہی مصنف، با مخاطب‌های آشنا، تهران 1377ھ ش۔
  • طباطبائی، سید محمد حسین، المیزان فی تفسیر القرآن۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان في تفسیر القرآن۔
  • طبری، محمد بن جریر، جامع البيان عن تأويل أي القرآن۔
  • محمدبن حسن طوسی، التبیان فی تفسیرالقرآن، چاپ احمد حبیب قصیر عاملی، بیروت، بی‌تا.
  • همو، تهذیب الاحکام، چاپ حسن موسوی خرسان، تهران 1390ھ ق۔
  • نهج البلاغة، چاپ صبحی صالح، بیروت (1387)، چاپ افست قم، بی‌تا.
  • محمدبن حسن فتال نیشابوری، روضة الواعظین، نجف 1386/1966ع‍ چاپ افست قم 1368ھ ش۔
  • محمدبن عمر فخررازی، التفسیرالکبیر، او، مفاتیح الغیب، بیروت 1421ھ ق۔ /2000ع‍
  • سید قطب، فی ظلال القرآن، بیروت 1386ھ ق۔/1967ع‍
  • وہی مصنف، معالم فی الطریق، (قاهره) 1384ھ ق۔/1964ع‍
  • محمد قطب، جاهلیة القرن العشرین، (قاهره) 1384ھ ق۔/1964ع‍
  • کلینی، الکافی۔
  • محمد صالح بن احمد مازندرانی، شرح اصول الکافی، مع تعالیق ابوالحسن شعرانی، چاپ علی عاشور، بیروت 1421ھ ق۔/ 2000ع‍
  • مسلم بن حجاج، الجامع الصحیح، بیروت : دارالفکر، بی‌تا.
  • ابوالاعلی مودودی، تفهیم القران، لاهور 1949ـ1972ع‍
  • احمدبن محمد نحاس، معانی القرآن الکریم، چاپ محمدعلی صابونی، مکه 1408-1410ھ ق۔
  • ابوالحسن علی ندوی، ماذا خسر العالم بانحطاط المسلمین، قاهره 1408ھ ق۔/1988ع‍
  • علی بن ابوبکر هیثمی، مجمع الزوائد و منبع الفوائد، بیروت 1408ھ ق۔/1988ع‍

لاطینی مآخذ

  • Régis Blachère, L'histoire de l'alphabet arabe, Paris 1952-1966.
  • Encyl. Islam EI 2 , s.v. "Dja ¦hiliyya".
  • Encyclopaedia of the Qurʾān, ed. Jane Dammen Mcauliffe, Leiden: Brill, 2001- s.v. "Age of ignorance" (by William E. Shepard).
  • Ignaz Garabe oldziher, Muslim Studies , ed. S.M. Stern, translated from the German by C. R. Barber and S. M. Stern, London 1967-1971.
  • Yvonne Yazbeck Haddad, "Sayyid Qutb: ideologue of Islamic revival", in Voices of resurgent Islam , ed. John L. Esposito, New York 1983.
  • Toshihiko Izutsu, Ethico-religious concepts in the Qurʾān, Montreal 1966.
  • idem, God and man in the Koran: semantics of the koranic weltanschaung , Tokyo 1964.
  • Theodor Nöldeke, Geschichte des Quraʾāns, Leipzig 1909, repr. Hildesheim 1981.
  • The Oxford encyclopedia of the modern Islamic world , ed. John L. Esposito, New York 1995, s.v. "Ja ¦hil ¦ yah, (by Eleanor Abdella Doumato).
  • Franz Rosenthal, Knowledge triumphant: the concept of knowledge in medieval Islam , Leiden 1970.
  • Emmanuel Sivan, Radical Islam: medieval theology and modern politics , New Haven 1985.
  • William Montgomery Watt, Muhammad at Mecca , Karachi 1979.

بیرونی روابط