سورہ نوح

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
معارج سورۂ نوح جن
سوره نوح.jpg
ترتیب کتابت: 71
پارہ : 29
نزول
ترتیب نزول: 71
مکی/ مدنی: مکی
اعداد و شمار
آیات: 28
الفاظ: 271
حروف: 972

سورہ نوح قرآن کا اکہترواں سورہ ہے۔ یہ مکی سورہ ہے اور قرآن کے ۲۹ ویں پارے میں ہے۔ حضرت نوحؑ کی داستان پر مشتمل ہونے کی وجہ سے اس سورہ کا نام نوح رکھا گیا ہے۔ یہ سورہ حق اور باطل کے حامیوں میں جاری ہمیشگی مقابلے اور اہل حق کے حتمی پروگرام کی تصویر کشی کرتا ہے۔ یہ سورہ مفصلات یعنی قرآن کی نسبتا چھوٹے سورروں میں سے ہے۔ اس سورت کی دو آیات مشہور ہیں یعنی آیت تاخیر اجل کہ جس کا نشان (۴) ہے اور دوسری آیت نمبر (۲۸) کہ جس میں اپنی ذات اور مومنین کیلئے مغفرت طلبی(۲۸) کا ذکر ہے۔ اس سورت کی تلاوت کی فضیلت میں منقول ہوا ہے کہ جو شخص سورہ نوح کی تلاوت کرے گا تو اس کا شمار ان مومنین میں ہو گا کہ حضرت نوحؑ کی دعا جن کے شامل حال ہوتی ہے۔

تعارف

وجہ تسمیہ

  • اس سورت کو سورہ نوح کا نام دینے کی وجہ یہ ہے کہ اس میں آغاز سے اختتام تک حضرت نوح علیہ السلام کی داستان بیان کی گئی ہے۔[1]

ترتیب و مقام نزول

  • یہ سورت ترتیب مصحف اور ترتیب نزول دونوں اعتبار سے قرآن کی اکہترویں سورت ہے اور مکی سورتوں میں شمار ہوتی ہے۔[2]

آیات کی تعداد اور دیگر خصوصیات

  • سورہ نوح ۲۸ آیات،[نوٹ 1] 227 کلمات اور 965 حروف پر مشتمل ہے۔ اس سورہ کو ممتحنات کے زمرے میں بھی شمار کیا جاتا ہے [3] کہ جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان سورتوں کا مضمون سورہ ممتحنہ سے مشابہت رکھتا ہے۔ [4] [نوٹ 2]

مضامین

تفصیلی مضمون: حضرت نوحؑ

داستان نوح اور آپؑ کی قوم کے حالات کی طرف قرآن کی متعدد سورتوں [نوٹ 3] میں اشارہ کیا گیا ہے؛ تاہم سورہ نوحؑ میں آپ کی زندگی کے ایک خاص حصے کا بیان ہے کہ جس کا کسی دوسرے مقام پر اس اسلوب سے ذکر نہیں ہے۔ [5] اس سورت میں توحید کی جانب آپ کی مسلسل دعوت اور اپنی ہٹ دھرم قوم کو آپؑ کی جانب سے تبلیغ و دعوت کی کیفیت کا بیان ہے۔ [6] اس سورت میں حضرت نوحؑ کی داستان کی مناسبت سے کچھ اور مطالب بھی مذکور ہیں؛ جن میں سے کچھ یہ ہیں:

  • حضرت نوحؑ کے نصائح و مواعظ
  • تقویٰ اور خدا و پیغمبرؐ کی اطاعت پر زور
  • خدا کی نعمتوں اور توحید کے آثار و علامات کا بیان
  • عقائد، فقہ ، اخلاق اور معاشرت کے اصولوں کا ذکر
  • حضرت نوحؑ کی سبق آموز دعائیں اور دعا کرنے کا طریقہ [7]
سورہ نوح کے مضامین[8]
 
 
انسانوں کی ہدایت کے لئے حضرت نوح کی مسلسل کوشش
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
دوسرا گفتار: آیات 21-28
ہلاکت قوم حضرت نوح
 
پہلا گفتار: آیات 1-20
حضرت نوح کے اپنی قوم کی ہدایت اور نجات کے لیے اقدامات
 
 
 
 
 
 
 
 
پہلا مطلب؛ آیات 21-23
برے رہبروں کی اطاعت کرنا قوم نوح پر عذاب کی وجہ
 
پہلا اقدام: آیات 1-4
اپنا توحیدی پیغام لوگوں تک پہنچانا
 
 
 
 
 
 
 
 
دوسرا مطلب؛ آیات 24-27
حضرت نوح کا کافروں پر عذاب نازل کرنے کا مطالبہ
 
دوسرا اقدام: آیات 5-9
لوگوں کو مسلسل توحید کی دعوت
 
 
 
 
 
 
 
 
تیسرا مطلب؛ آیات 28
مومنوں کے لیے حضرت نوح کی دعا
 
تیسرا اقدام: آیات 10-12
لوگوں کو گناہ سے توبہ کرنے کی دعوت
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
چوتھا اقدام: آیات 13-20
مشرکوں سے احتجاج اور اللہ کی ربوبیت کا اثبات


تفسیری نکات

سورہ نوح کی بعض آیات کے ذیل میں چند تفسیری نکات ذکر کیے گئے ہیں:

حضرت نوحؑ کی دعوت کے تین اصول

سورہ نوح کی تیسری آیت أَنِ اعْبُدُوا اللَّـهَ وَاتَّقُوهُ وَأَطِيعُونِ(ترجمہ: کہ تم (صرف) اللہ کی عبادت کرو اور اس (کی مخالفت) سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔) حضرت نوحؑ کی دعوت کے تین اصولوں پر مشتمل ہے۔ علامہ طباطبائی کے نزدیک آیت کا پہلا حصہ قوم نوح کی خدا کے حوالے سے شناخت کو واضح کر رہا ہے کہ وہ لوگ خدا کی عبادت کی بجائے خدا کے شفیع ہونے کے عنوان سے بتوں کی عبادت کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ پہلا اصول حضرت نوحؑ کی دعوت کو توحید کی دعوت قرار دیتا ہے۔ [9] دوسرا اصول وَ اتَّقُوهُ سے ماخوذ ہے یعنی کبیرہ اور صغیرہ گناہوں سے اجتناب یعنی شرک اور اس سے نیچے کے گناہوں سے بچنا اور دوسری طرف سے نیک اعمال کو بجا لانا کہ جنہیں ترک کرنا شائستہ نہیں ہے۔ تیسرا اصول آیت کے تیسرے حصے وَ أَطِيعُونِ سے اخذ کیا گیا ہے کہ جسے حضرت نوحؑ کی اطاعت، آپؑ کی رسالت کی تصدیق اور آپؑ سے دینی تعلیمات حاصل کرنے کے معنی میں قرار دیا گیا ہے۔ [10]

رحمت و برکت کا حصول

سورہ نوح کی آیات 10 سے 12 تک فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُ‌وا رَ‌بَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارً‌ا يُرْ‌سِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُم مِّدْرَ‌ارً‌ا وَيُمْدِدْكُم بِأَمْوَالٍ وَ بَنِينَ وَ يَجْعَل لَّكُمْ جَنَّاتٍ وَ يَجْعَل لَّكُمْ أَنْهَارً‌ا(ترجمہ: (چنانچہ) میں نے (ان سے) کہا کہ اپنے پروردگار سے مغفرت طلب کرو وہ یقیناً بڑا بخشنے والا ہے۔ وہ تم پر آسمان سے موسلادھار بارش برسائے گا۔ اور مال و اولاد سے تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہارے لئے باغات پیدا کرے گا اور تمہارے لئے نہریں قرار دے گا۔) میں خدا کی رحمت و برکت کے حصول کا ایک ذریعہ استغفار کو قرار دیا گیا ہے۔ [11] ان آیات کے ذیل میں روایات وارد ہوئی ہیں جن میں خدا کی رحمت اور منفعت کے حصول کو طلب مغفرت سے مربوط قرار دیتی ہیں۔ [12]

مشہور آیات

سورہ نوح کی آیات ۴ اور ۲۸ جو موت کے وقت میں تاخیر اور اپنے اور مومنین کیلئے طلب مغفرت کے بارے میں ہیں؛ اس سورے کی مشہور و معروف آیات ہیں۔

آیت تاخیر اجل

يَغْفِرْ‌ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ وَيُؤَخِّرْ‌كُمْ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى ۚ إِنَّ أَجَلَ اللَّـهِ إِذَا جَاءَ لَا يُؤَخَّرُ‌ لَوْ كُنتُمْ تَعْلَمُونَ
(ترجمہ: تاکہ تمہارے گناہ معاف کر دے اور تمہاری (اجل) کو معین وقت تک موخر کر دے۔ بے شک خدا کی مقرر کردہ اجل جب آن پہنچے تو اسے موخر نہیں کیا جائے گا اگر تمہیں علم ہوتا۔)

اجل یا موت کے وقت میں تاخیر کلامی مباحث میں سے ہے کہ جس کے بارے میں سورہ نوح کی چوتھی آیت کے ذیل میں وضاحت کی گئی ہے۔ [13] اس آیت میں مشرکین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ حضرت نوحؑ کی دعوت کے تینوں اصولوں پر ایمان کی صورت میں تمہارے گناہ معاف ہوجائیں گے اور تمہاری موت کو مؤخر کر دیا جائے گا۔ [14]

اکثر شیعہ مفسرین اس آیت سے استناد کرتے ہوئے "اجل" کو اجل مسمى اور اجل معلّق دوسرے لفظوں میں اجل نزدیک اور دور یا اجل مشروط اور اجل مطلق میں تقسیم کرتے ہیں؛ اس بنا پر "اجل معلّق" میں بعض عوامل من جملہ استغفار کی وجہ سے تأخیر کا امکان ہے لیکن "اجل مسمی" جسے "اجل اللہ" بھی کہا جاتا ہے حتمی اور تأخیر ناپذیر ہے۔[15] علامہ طباطبائی اس آیت میں اجل معين تک موت میں تأخیر کو عبادت، تقوى اور پیغمبر اکرمؐ کی اطاعت کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ اسی طرح كفار کو بھی وعدہ دیا گیا ہے کہ اگر وہ خدا پر ايمان لے آئیں، تقوا اختیار کریں اور پیغمبر اکرم کی اطاعت کریں تو ان کی موت کو مؤخر کر دیا جائے گا۔[16]

موت اور اجل میں تأخیر واقع ہونے کا مسئلہ احادیث میں بھی مورد بحث واقع ہوا ہے۔ [17] امام صادقؑ سے منقول ایک حدیث میں آیا ہے: مَنْ یَمُوتُ بالذُنوب أَکْثَرُ مِمَّنْ یَمُوتُ بالآجال وَ مَنْ یَعیشُ بالإحْسان أَکْثَرُ ممَّن یَعیشُ بالأَعمار(ترجمہ: وہ لوگ جو گناہوں کی وجہ سے مرتے ہیں ان کی تعداد ان لوگوں کی تعداد سے کہیں زیادہ ہیں جو اپنی طبیعی موت مرتے ہیں اسی طرح ان لوگوں کی تعداد جو نیک اعمال کی وجہ سے طولانی عمر پاتے ہیں ان لوگوں کی تعداد سے زیادہ ہے جو طبیعی طور پر طولانی عمر پاتے ہیں۔)[18]

آیت طلب مغفرت (28)

سورہ نوح کی آیت نمبر 28 قرآن کی مشہور دعاؤوں میں سے ہے جس میں انسان اپنے والدین، مؤمنین اور خود اپنے لئے خدا سے طلب مغفرت کرتا ہے اور یہ آیت نماز کی قنوت میں بھی پڑھی جاتی ہے۔

رَّ‌بِّ اغْفِرْ‌ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِمَن دَخَلَ بَيْتِيَ مُؤْمِنًا وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَلَا تَزِدِ الظَّالِمِينَ إِلَّا تَبَارً‌ا
(ترجمہ: اے میرے پروردگار! مجھے اور میرے والدین کو بخش دے اور ہر اس شخص کو بخش دے جو مؤمن ہو کر میرے گھر میں داخل ہو اور سب مؤمنین و مؤمنات کی مغفرت فرما اور کافروں کی ہلاکت کے سوا اور کسی چیز میں اضافہ نہ کر۔)

حضرت نوح کی طرف سے طلب مغفرت کرنا ان کی طرف سے ممکنہ ترک اولی کی انجام دہی کی وجہ سے قرار دیتے ہیں۔ دوسری طرف سے اولیاء خدا، خدا کی راہ میں ہر قسم کی سعی اور کوشش کے بعد بھی اپنے آپ کو مقصر ٹھہراتے ہوئے خدا کی درگاه میں طلب مغفرت کرتے ہیں تاکہ کہ وہ کہیں غرور اور تکبر کا شکار نہ ہوں۔[19] علامہ طباطبائی ولمن دخل بیتی سے حضرت نوح کی قوم اور ان کے مؤمن رشتہ دار اور و للمومنین و المومنات سے قیامت تک آنے والے تمام مؤمنین و مؤمنات مراد لتے ہیں۔ علامہ کے مطابق "تبارا" اس ہلاکت کی طرف اشارہ ہے جو آخرت میں عذات اور دنیا میں نابودی کا باعث ہے۔[20]

فضیلت اور خواص

تفصیلی مضمون: فضائل سور

سورہ نوح کی فضیلت اور تلاوت کے بارے میں پیغمبر اسلامؐ سے منقول ہے کہ جو شخص سورہ نوح کی تلاوت کرے، وہ ان مؤمنین میں شامل ہو گا جنہیں حضرت نوح کی دعا شامل کرتی ہے۔[21] امام صادقؑ سے بھی نقل ہوا ہے کہ جو شخص خدا پر ایمان رکھتا ہو اور خدا کی کتاب(قرآن) کی تلاوت کرتا ہو وہ سورہ نوح کی تلاوت کو ترک نہیں کرے گا۔ ہر شخص جو خدا سے ثواب کی امید اور خدا کی راہ میں صبر سے کام لیتے ہوئے اپنی واجب اور مستحب نمازوں میں سورہ نوح کی تلاوت کرے تو خدا اسے نیک اور صالح لوگوں کے گھروں میں سکونت دے گا۔[22] بعض احادیث میں اس سورت کی تلاوت کے لئے بعض خواص کا ذکر آیا ہے من جملہ ان میں قید سے رہائی، سفر میں سلامتی،[23] مالی اور اقتصادی حالت میں بہبودی[24] اور حاجت روائی قابل ذکر ہیں۔ [25]

متن سورہ

سوره نوح
ترجمہ
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ

إِنَّا أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَى قَوْمِهِ أَنْ أَنذِرْ قَوْمَكَ مِن قَبْلِ أَن يَأْتِيَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ﴿1﴾ قَالَ يَا قَوْمِ إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُّبِينٌ ﴿2﴾ أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاتَّقُوهُ وَأَطِيعُونِ ﴿3﴾ يَغْفِرْ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ وَيُؤَخِّرْكُمْ إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى إِنَّ أَجَلَ اللَّهِ إِذَا جَاء لَا يُؤَخَّرُ لَوْ كُنتُمْ تَعْلَمُونَ ﴿4﴾ قَالَ رَبِّ إِنِّي دَعَوْتُ قَوْمِي لَيْلًا وَنَهَارًا ﴿5﴾ فَلَمْ يَزِدْهُمْ دُعَائِي إِلَّا فِرَارًا ﴿6﴾ وَإِنِّي كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوا أَصَابِعَهُمْ فِي آذَانِهِمْ وَاسْتَغْشَوْا ثِيَابَهُمْ وَأَصَرُّوا وَاسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًا ﴿7﴾ ثُمَّ إِنِّي دَعَوْتُهُمْ جِهَارًا ﴿8﴾ ثُمَّ إِنِّي أَعْلَنتُ لَهُمْ وَأَسْرَرْتُ لَهُمْ إِسْرَارًا ﴿9﴾ فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا ﴿10﴾ يُرْسِلِ السَّمَاء عَلَيْكُم مِّدْرَارًا ﴿11﴾ وَيُمْدِدْكُمْ بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَل لَّكُمْ جَنَّاتٍ وَيَجْعَل لَّكُمْ أَنْهَارًا ﴿12﴾ مَّا لَكُمْ لَا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقَارًا ﴿13﴾ وَقَدْ خَلَقَكُمْ أَطْوَارًا ﴿14﴾ أَلَمْ تَرَوْا كَيْفَ خَلَقَ اللَّهُ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا ﴿15﴾ وَجَعَلَ الْقَمَرَ فِيهِنَّ نُورًا وَجَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا ﴿16﴾ وَاللَّهُ أَنبَتَكُم مِّنَ الْأَرْضِ نَبَاتًا ﴿17﴾ ثُمَّ يُعِيدُكُمْ فِيهَا وَيُخْرِجُكُمْ إِخْرَاجًا ﴿18﴾ وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ بِسَاطًا ﴿19﴾ لِتَسْلُكُوا مِنْهَا سُبُلًا فِجَاجًا ﴿20﴾ قَالَ نُوحٌ رَّبِّ إِنَّهُمْ عَصَوْنِي وَاتَّبَعُوا مَن لَّمْ يَزِدْهُ مَالُهُ وَوَلَدُهُ إِلَّا خَسَارًا ﴿21﴾ وَمَكَرُوا مَكْرًا كُبَّارًا ﴿22﴾ وَقَالُوا لَا تَذَرُنَّ آلِهَتَكُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَلَا سُوَاعًا وَلَا يَغُوثَ وَيَعُوقَ وَنَسْرًا ﴿23﴾ وَقَدْ أَضَلُّوا كَثِيرًا وَلَا تَزِدِ الظَّالِمِينَ إِلَّا ضَلَالًا ﴿24﴾ مِمَّا خَطِيئَاتِهِمْ أُغْرِقُوا فَأُدْخِلُوا نَارًا فَلَمْ يَجِدُوا لَهُم مِّن دُونِ اللَّهِ أَنصَارًا ﴿25﴾ وَقَالَ نُوحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا ﴿26﴾ إِنَّكَ إِن تَذَرْهُمْ يُضِلُّوا عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوا إِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا ﴿27﴾ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِمَن دَخَلَ بَيْتِيَ مُؤْمِنًا وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَلَا تَزِدِ الظَّالِمِينَ إِلَّا تَبَارًا ﴿28﴾

(شروع کرتا ہوں) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

بےشک ہم نے نوحؑ کو ان کی قوم کی طرف بھیجا کہ اپنی قوم کو ڈراؤ۔ اس سے پہلے کہ ان پر دردناک عذاب آجائے۔ (1) (چنانچہ) انہوں نے کہا کہ اے میری قوم! میں تمہیں ایک کھلا ہوا ڈرانے والا ہوں۔ (2) کہ تم (صرف) اللہ کی عبادت کرو اور اس (کی مخالفت) سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ (3) وہ (خدا) تمہارے (پہلے) گناہ بخش دے گا اور تمہیں ایک مقررہ مدت تک مہلت دے گا (باقی رکھے گا) بےشک جب اللہ کا مقررہ وقت آجاتا ہے تو پھر اسے مؤخر نہیں کیا جا سکتا کاش کہ تم (اس حقیقت کو) سمجھتے۔ (4) آپؑ (نوحؑ) نے کہا اے مرے پروردگار میں نے اپنی قوم کو رات دن دعوت دی۔ (5) مگر میری دعوت نے ان کے فرار (گریز) میں اور بھی اضافہ کیا۔ (6) اور میں نے جب بھی انہیں دعوت دی کہ (وہ اس لائق ہوں کہ) تو انہیں بخش دے تو انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونس لیں اور اپنے کپڑے اپنے اوپر لپیٹ لئے اور (اپنی روش پر) اڑے رہے اور بڑا تکبر کرتے رہے۔ (7) پھر بھی میں نے ان کو بآوازِ بلند دعوت دی۔ (8) پھر میں نے انہیں (ہر طرح دعوت دی) کھلم کھلا بھی اور چپکے چپکے بھی۔ (9) (چنانچہ) میں نے (ان سے) کہا کہ اپنے پروردگار سے مغفرت طلب کرو وہ یقیناً بڑا بخشنے والا ہے۔ (10) وہ تم پر آسمان سے موسلادھار بارش برسائے گا۔ (11) اور مال و اولاد سے تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہارے لئے باغات پیدا کرے گا اور تمہارے لئے نہریں قرار دے گا۔ (12) تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کی عظمت کی پروانہیں کرتے؟ (13) حالانکہ اس نے تمہیں طرح طرح سے خلق کیا ہے۔ (14) کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ نے کس طرح سات آسمان تہہ بر تہہ بنا ئے؟ (15) اور ان میں چاند کو نور اور سورج کو چراغ بنایا۔ (16) اور تمہیں خاص طرح زمین سے اگایا ہے۔ (17) پھر تمہیں اس میں لوٹائے گا اور پھر اسی سے (دوبارہ) نکالے گا۔ (18) اور اللہ نے ہی تمہارے لئے زمین کو بچھونا بنایا ہے۔ (19) تاکہ تم اس کے کشادہ راستوں میں چلو پھرو۔ (20) نوحؑ نے(بارگاہِ خداوندی میں) عرض کیا اے میرے پروردگار ان لوگوں نے میری نافرمانی کی ہے اور ان (بڑے) لوگوں کی پیروی کی ہے جن کے مال و اولاد نے ان کے خسارے میں اضافہ کیا ہے (اور کوئی فائدہ نہیں پہنچایا)۔ (21) اور انہوں نے (میرے خلاف) بڑا مکر و فریب کیا ہے۔ (22) اور انہوں نے(عام لوگوں سے) کہا کہ (نوحؑ کے کہنے پر) اپنے خداؤں کو ہرگز نہ چھوڑو۔ اور نہ ہی وَد اور سُواع کو چھوڑو اور نہ ہی یغوث و یعوق اور نسر کو چھوڑو۔ (23) اور انہوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر دیا ہے (یا اللہ) تو بھی ان کی گمراہی کے سوا اور کسی چیز میں اضافہ نہ کر۔ (24) (چنانچہ) وہ اپنی خطاؤں کی وجہ سے غرق کر دئیے گئے پھر آگ میں ڈال دئیے گئے پھر انہوں نے اللہ (کے عذاب) سے بچانے والے کوئی مددگار نہ پا ئے۔ (25) اور نوحؑ نے کہا اے میرے پروردگار! تو ان کافروں میں سے کوئی بھی رُوئے زمین پر بسنے والا نہ چھوڑ۔ (26) اگر تو انہیں چھوڑے گا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کرینگے اور بدکار اور سخت کافر کے سوا کسی اور کو جنم نہیں دیں گے۔ (27) اے میرے پروردگار! مجھے اور میرے والدین کو بخش دے اور ہر اس شخص کو بخش دے جو مؤمن ہو کر میرے گھر میں داخل ہو اور سب مؤمنین و مؤمنات کی مغفرت فرما اور کافروں کی ہلاکت کے سوا اور کسی چیز میں اضافہ نہ کر۔ (28)

پچھلی سورت: سورہ معارج سورہ نوح اگلی سورت:سورہ جن

1.فاتحہ 2.بقرہ 3.آل‌عمران 4.نساء 5.مائدہ 6.انعام 7.اعراف 8.انفال 9.توبہ 10.یونس 11.ہود 12.یوسف 13.رعد 14.ابراہیم 15.حجر 16.نحل 17.اسراء 18.کہف 19.مریم 20.طہ 21.انبیاء 22.حج 23.مؤمنون 24.نور 25.فرقان 26.شعراء 27.نمل 28.قصص 29.عنکبوت 30.روم 31.لقمان 32.سجدہ 33.احزاب 34.سبأ 35.فاطر 36.یس 37.صافات 38.ص 39.زمر 40.غافر 41.فصلت 42.شوری 43.زخرف 44.دخان 45.جاثیہ 46.احقاف 47.محمد 48.فتح 49.حجرات 50.ق 51.ذاریات 52.طور 53.نجم 54.قمر 55.رحمن 56.واقعہ 57.حدید 58.مجادلہ 59.حشر 60.ممتحنہ 61.صف 62.جمعہ 63.منافقون 64.تغابن 65.طلاق 66.تحریم 67.ملک 68.قلم 69.حاقہ 70.معارج 71.نوح 72.جن 73.مزمل 74.مدثر 75.قیامہ 76.انسان 77.مرسلات 78.نبأ 79.نازعات 80.عبس 81.تکویر 82.انفطار 83.مطففین 84.انشقاق 85.بروج 86.طارق 87.اعلی 88.غاشیہ 89.فجر 90.بلد 91.شمس 92.لیل 93.ضحی 94.شرح 95.تین 96.علق 97.قدر 98.بینہ 99.زلزلہ 100.عادیات 101.قارعہ 102.تکاثر 103.عصر 104.ہمزہ 105.فیل 106.قریش 107.ماعون 108.کوثر 109.کافرون 110.نصر 111.مسد 112.اخلاص 113.فلق 114.ناس


متعلقہ صفحات

حوالہ جات

  1. خرمشاهی، «سوره نوح»، ص۱۲۵۸.
  2. صفوی، «سوره نوح»، ص۸۳۰.
  3. رامیار، تاریخ قرآن، ۱۳۶۲ش، ص۳۶۰و۵۹۶.
  4. فرهنگ‌نامه علوم قرآن، ج۱، ص۲۶۱۲.
  5. مکارم شیرازی، تفسیر نمونه، ۱۳۷۱ش، ج۲۵، ص۵۳.
  6. مکارم شیرازی، تفسیر نمونه، ۱۳۷۱ش، ج۲۵، ص۵۳.
  7. خرمشاهی، «سوره نوح»، ص۱۲۵۹-۱۲۵۸.
  8. خامہ‌گر، محمد، ساختار سورہ‌ہای قرآن کریم، تہیہ مؤسسہ فرہنگی قرآن و عترت نورالثقلین، قم، نشر نشرا، چ1، 1392شمسی۔
  9. طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ،ج ۲۰، ص۲۶.
  10. طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ،ج ۲۰، ص۲۶-۲۷؛ مکارم، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج ۲۵، ص ۵۸.
  11. طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج۲۰، ص۳۰.
  12. حویزی، نورالثقلین، ۱۴۱۵ق، ج۵، ص۴۲۳.
  13. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۱۰، ص۵۴۲.
  14. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج ۲۵، ص ۵۹.
  15. مراجعہ کریں: طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۱۰، ص۵۴۲؛ طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج ۲۰، ص۲۸؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج ۲۵، ص ۵۹؛ شاہ عبدالعظيمى، تفسير اثنى عشرى، ۱۳۶۳ش، ج‏۱۳، ص ۳۲۵؛ طوسى، التبيان في تفسير القرآن، ج‏۱۰، ۱۳۳؛ كاشانى، منہج الصادقين فى إلزام المخالفين، ج‏۱۰، ص۱۷؛ بروجردى، تفسير جامع، ۱۳۶۶ش، ج‏۷، ص ۲۴۹.
  16. طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ،ج ۲۰، ص۲۸.
  17. طبری آملی، دلائل الامامۃ، ۱۴۱۳ق، ص۲۲۷؛ طوسی، الامالی، ۱۴۱۴ق، ص۳۰۵.
  18. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۵، ص ۱۴۰.
  19. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۲۵، ص۹۰.
  20. طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج۲۰، ص۳۷.
  21. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۱۰، ص۵۴۰
  22. صدوق، ثواب الاعمال، ۱۳۸۲ش، ص۱۲۰.
  23. نوری، مستدرک الوسائل، ۱۴۰۸ق، ج۸، ص۲۴۶.
  24. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۵، ص۳۱۶.
  25. بحرانی، تفسیرالبرہان، ۱۴۱۵ق، ج۵، ص۴۹۵.
  1. یہ سورت کوفی قرا کے مطابق ۲۸، بصری اور شامی قرا کے نزدیک ۲۹ اور کچھ دیگر قرا کے نزدیک ۳۰ آیات پر مشتمل ہے۔البتہ پہلا نظریہ مشہور ہے۔(خرمشاهی، «سوره نوح»، ص۱۲۵۸.)
  2. ممتحنات قرآن کی سولہ سورتیں ہیں کہ کہاجاتا ہے سیوطی نے انہیں ممتحنات کا نام دیا ہے۔(رامیار، تاریخ قرآن، ۱۳۶۲ش، ص۵۹۶) یہ سورتیں درج ذیل ہیں: فتح، حشر، سجده، طلاق، قلم، حجرات، تبارک، تغابن، منافقون، جمعه، صف، جن، نوح، مجادلہ، ممتحنہ اور تحریم (رامیار، تاریخ قرآن، ۱۳۶۲ش، ص۳۶۰.)
  3. شعرا، مؤمنون، اعراف، انبیا اور بالخصوص سوره هود کی (آیات ۲۵ تا ۴۹) میں حضرت نوحؑ کی داستان کا ذکر ہے

مآخذ

  • قرآن کریم، ترجمہ محمد حسین نجفی (سرگودھا)۔
  • بحرانی، سید ہاشم، البرہان، تہران، بنیاد بعثت، ۱۴۱۶ق۔
  • بروجردی، محمدابراہیم، تفسیر جامع، تہران، کتابخانہ صدر، ۱۳۶۶ش۔
  • حویزی، عبدعلی بن جمعہ، تفسیر نور الثقلین، قم، اسماعیلیان، ۱۴۱۵ق۔
  • خرمشاہی، قوام الدین، «سورہ حج»، در دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، تہران، دوستان-ناہید، ۱۳۷۷ش۔
  • رامیار، محمود، تاریخ قرآن، تہران، انتشارات علمی و فرہنگی، ۱۳۶۲ش۔
  • شاہ‌عبدالعظیمی، حسین، تفسیر اثنی عشری، تہران، میقات، ۱۳۶۳ش۔
  • صدوق، محمد بن علی، ثواب الاعمال و عقاب الاعمال، تحقیق: صادق حسن زادہ، تہران، ارمغان طوبی، ۱۳۸۲ش۔
  • صفوی، سلمان، «سورہ نوح»، در دانشنامہ معاصر قرآن کریم، قم، انتشارات سلمان آزادہ، ۱۳۹۶ش۔
  • طباطبایی، محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، موسسہ الاعلمی للمطبوعات، ۱۳۹۰ق۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، تہران، ناصر خسرو، ۱۳۷۲ش۔
  • طبرى آملى صغير، محمد بن جرير بن رستم‏، دلائل الإمامۃ، قم، بعثت، ۱۴۱۳ق۔
  • طوسی، محمد بن حسن، الامالی، قم، دارالثقافہ، ۱۴۱۴ق۔
  • طوسی، محمد بن حسن، التبیان فی تفسیر القرآن، مصحح: عاملی، احمد حبیب، بیروت،‌دار إحیاء التراث العربی۔
  • فرہنگ‌نامہ علوم قرآن، قم، دفتر تبلیغات اسلامی حوزہ علمیہ قم۔
  • کاشانی، فتح‌اللہ بن شکراللہ، منہج الصادقین فی إلزام المخالفین، تہران، کتابفروشی اسلامیہ۔
  • کلینی، محمد بن‌یعقوب، الکافی، محقق: علی‌اکبر غفاری و محمد آخوندی، تہران،‌دار الکتب الإسلامیۃ، ۱۴۰۷ق۔
  • مجلسی، محمّد باقر بن محمّد تقی، بحارالانوار، بیروت، دار احیا التراث العربی، ۱۴۰۳ق۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران،‌دار الکتب الإسلامیۃ،‌ ۱۳۷۱ش۔
  • نوری، میرزا حسین، مستدرک الوسائل، قم، مؤسسۃ آل البیت لاحیاء التراث، ۱۴۰۸ق۔

بیرونی روابط

سورہ نوح کی تلاوت