آزر

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
آزر
کوائف
نام: آزر
مشہور اقارب: حضرت ابراہیم
وجہ شہرت: والد ابراہیم
محل زندگی: کوفہ
مذہب: بت پرست

آزر کا لفظ قرآن کریم میں حضرت ابراہیم کے والد کیلئے استعمال ہوا ہے جو مشرک تھے۔ مفسرین اور شیعہ علما رسول اللہ سے مروی روایت کہ خدا نے مجھے نجس صلبوں میں قرار نہیں دیا، کی بنا پر معتقد ہیں کہ حضرت ابراہیم کے والد مشرک نہیں تھے جبکہ آزر مشرک تھا۔ لہذا وہ آپ کا چچا یا والدہ کی طرف سے جد تھا۔

حضرت امام صادق ؑ سے مروی روایت کے مطابق آزر نمرود کا منجم تھا اور اس نے پیش گوئی کی تھی کہ ایک ایسا بچہ دنیا میں آئے گا جو لوگوں کو ایک نئے دین کی طرف دعوت دے گا۔ نمرود نے اسی وجہ سے مردوں کو اپنی بیویوں سے جدا ہونے اور نئے مولود بچوں کے قتل کا حکم دیا تھا۔

تعارف

آزر کوفہ کی موجودہ آبادی کے پاس ایک دیہات کا رہنے والا تھا[1] اور اسے نمرود کا بھتیجا کہا گیا ہے۔[2] امام صادق(ع) سے مروی روایت کے مطابق آزر منجم نمرود تھا۔[3] اور اس نے حضرت ابراہیم کی پیدائش سے پہلے ایک بچے کے دنیا میں آنے کی پیش گوئی کی تھی کہ جو لوگوں کو ایک نئے دین کی طرف بلائے گا۔ اسی وجہ سے نمرود نے عورتوں سے مردوں کے جدا ہونے اور نو مولودوں کے قتل کا دستور دیا تھا۔[4]

آزر بت‌ پرست تھا[5] فارسی کے بعض اشعار میں اس کے بت پرست ہونے کا اشارہ موجود ہے۔[6]

باپ یا چچا

قرآن کریم کے بیان کے مطابق آزر حضرت ابراہیم کے والد ہیں۔[نوٹ 1] فخر الدین رازی سمیت مفسرین اسی بنا پر آزر کو ابراہیم کا باپ سمجھتے ہیں۔[7] اس کے باوجود تفسیر نمونہ میں آیا ہے کہ تمام مفسرین اور شیعہ دانشمند معتقد ہیں کہ آزر ابراہیم کے باپ نہیں تھے۔[8]

شیخ طوسی (متوفا سال ۴۶۰ق) آزر کو ابراہیم کا چچا یا ماں کی طرف سے جد کہتے ہیں اور ابواسحاق زجاج سے نقل کرتے ہیں کہ ماہرین نسب ابراہیم کے باپ کا نام تارخ ہونے میں کسی قسم کا اختلاف نہیں کرتے ہیں۔[9] نیز انہوں نے روایت پیغمبر سے استناد کرتے ہوئے کہا ہے کہ رسول خدا سے لے کر حضرت آدم تک کے اجداد میں کوئی مشرک نہیں تھا۔[10] جبکہ آزر بت‌ پرست تھا لہذا اس بنا پر ممکن نہیں ہے کہ آزر حضرت ابراہیم(ع) کا باپ پو۔[11]

فلسفی اور معاصر مفسر علامہ طباطبائی ایسے دلائل اور شواہد پیش کرتے ہیں کہ جن کی بنا پر وہ معتقد ہیں کہ عربی زبان میں «أب» ایسے شخص کو کہا جاتا ہے جس کے ذمے کسی شخص کے امور ہوں؛ اس لحاظ سے باپ، چچا، جد، سسر اور حتا کہ قبیلے کے بزرگ یا رئیس کو بھی اب کہا جاتا ہے۔[12] یہودیوں کی مقدس کتاب توریت میں حضرت ابراہیم کے باپ نام تارخ آیا ہے۔[13]

اسی طرح علامہ طباطبائی اور مکارم شیرازی سمیت بعض مفسرین سورہ توبہ کی ۱۱۴ویں آیت [نوٹ 2] میں اپنے باپ کیلئے استغفار سے اجتناب اور اس کے مقابلے میں سورہ ابراہیم کی آیت نمبر۴۱ [نوٹ 3] میں اپنے باپ کیلئے گناہوں کی بخشش کی دعا کرنے سے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ ابراہیم کا باپ آزر کے علاوہ کوئی اور شخص تھا نیز مذکورہ آیت میں والدہ کی طرف سے جد کے معنا میں ہے۔[14]

طلب مغفرت

سورہ مریم کی آیت نمبر ۴۸ [نوٹ 4] کی بنا پر حضرت ابراہیم (ع) نے آزر کیلئے خدا سے مغفرت طلب کی ہے؛[15] جبکہ سورہ توبہ کی ۱۱۳ ویں آیت[نوٹ 5] میں نبی اور مسلمانوں کو مشرکوں کی مغفرت طلب کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ اس وجہ سے علامہ طباطبائی آزر کیلئے ابراہیم کے استغفار اور دعا کرنے کو اس دنیا میں ظاہری دعا سمجھتے ہیں نہ کہ ابراہیم نے حقیقی طور پر آخرت میں اس کی استغفار اور شفاعت کیلئے دعا کی ہے۔[16] مکارم شیرازی معتقد ہیں کہ آزر کے ایمان لانے سے مایوس ہو کر ابراہیم نے دیگر اس کی مغفرت کی دعا نہیں کی اور استغفار کی یہ دعا ابراہیم کی جوانی کے ایام سے متعلق ہے اور اس زمانے سے تعلق رکھتی ہے جب ابراہیم بابل میں بت پرستوں سے مقابلہ کر رہے تھے۔[17]

حوالہ جات

  1. طبری، جامع البیان، ۱۴۱۲ق، ج۷، ص۱۵۹.
  2. بلعمی، تاریخ نامہ طبری، ۱۳۷۸ش، ج۲، ص۸۸۲.
  3. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۸، ص۳۶۶ و ۳۶۷؛ قمی، تفسیر القمی، ۱۳۶۷ش، ج۱، ص۲۰۶ و ۲۰۷.
  4. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۸، ص۳۶۶ و ۳۶۷؛ قمی، تفسیر القمی، ۱۳۶۷ش، ج۱، ص۲۰۶ و ۲۰۷.
  5. شیخ طوسی، التبیان، بیروت، ج۴، ص۱۷۵؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۴ش، ج۵، ص۳۰۳-۳۰۷.
  6. دیکھیں: انصاری، مناجات‌ نامہ، ۱۳۸۲ش، ص۲۶.
  7. مصطفوی، التحقیق فی کلمات القرآن الکریم، ۱۳۶۰ش، ج۱، ص۷۶؛ فخر رازی، مفاتیح الغیب، ۱۴۲۰ق، ج۱۳، ص۳۱.
  8. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۴ش، ج۵، ص۳۰۳.
  9. شیخ طوسی، التبیان، بیروت، ج۴، ص۱۷۵-۱۷۶.
  10. شیخ طوسی، التبیان، بیروت، ج۴، ص۱۷۵.
  11. شیخ طوسی، التبیان، بیروت، ج۴، ص۱۷۵؛ دیکھیں: مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۴ش، ج۵، ص۳۰۳-۳۰۷.
  12. علامہ طباطبائی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۷، ص۱۶۴-۱۶۵.
  13. علامہ طباطبائی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۷، ص۱۶۲؛ تورات، سِفر آفرینش، ۱۱: ۲۶.
  14. علامہ طباطبائی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۷، ص۱۶۴-۱۶۵؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۴ش، ج۵، ص۳۰۴-۳۰۵.
  15. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۴ش، ج۵، ص۳۰۴.
  16. دیکھیں: طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۷، ص۱۶۲.
  17. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۴ش، ج۵، ص۳۰۴-۳۰۵.
  1. وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لِأَبِيهِ آزَرَ أَتَتَّخِذُ أَصْنَامًا آلِهَةً ۖ إِنِّي أَرَاكَ وَقَوْمَكَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ ترجمہ: اور ابراہیم اپنے باپ آزر سے کہا: کیا تم بتوں کو الہ قرار دیتے ہو؟ میں تمہیں اور تمہاری قوم کو کھلی ہوئی گمراہی میں دیکھتا ہوں۔ (سوره انعام، آیت ۷۴).
  2. وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ إِلَّا عَن مَّوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِّلَّـهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ ۚ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَأَوَّاهٌ حَلِيمٌاور ابراہیم نے جو اپنے باپ (چچا) کے لیے دعائے مغفرت کی تھی تو وہ ایک وعدہ کی بنا پر تھی جو وہ کر چکے تھے۔ مگر جب ان پر واضح ہوگیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو آپ اس سے بیزار ہوگئے بے شک جناب ابراہیم بڑے ہی دردمند اور غمخوار و بردبار انسان تھے۔
  3. رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ؛اے ہمارے پروردگار! مجھے اور میرے والدین کو اور سب ایمان لانے والوں کو بخش دے جس دن حساب قائم ہوگا (لیا جائے گا)۔
  4. قَالَ سَلَامٌ عَلَيْكَ ۖ سَأَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّي ۖ إِنَّہُ كَانَ بِي حَفِيًّا. ترجمہ: اس نے کہا: تم پر سلام ہو، میں تمہارے لئے اپنے رب سے استغفار طلب کروں گا کیونکہ وہ مجھ پر مہربان ہے
  5. مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَن يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَىٰ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَہُمْ أَنَّہُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ ترجمہ: نبی کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں یہ زیبا نہیں ہے کہ مشرکین کے لیے مغفرت طلب کریں اگرچہ وہ ان کے عزیز و اقارب ہی کیوں نہ ہوں۔ جبکہ ان پر واضح ہوگیا کہ وہ دوزخی ہیں۔

مآخذ

  • ‌ انصاری، خواجہ عبداللہ،‌ مناجات‌نامہ، تصحیح و مقابلہ محمد حماصیان، کرمان، انتشارات خدمات فرہنگی کرمان، ۱۳۸۲ش.
  • بلعمی، محمد بن محمد، تاریخنامہ طبری، تحقیق: محمد روشن، تہران، سروش، چاپ دوم، ۱۳۷۸ش.
  • ‌ سعدی، دیوان اشعار، پایگاہ اینترنتی گنجور.
  • شیخ طوسی، محمد بن حسن، الأمالی، قم،‌ دار الثقافۃ، چاپ اول، ۱۴۱۴ق.
  • شیخ طوسی، محمد بن حسن، التبیان فی تفسیر القرآن، با مقدمہ شیخ آغابزرگ تہرانی و تحقیق احمد قصیرعاملی، بیروت،‌ دار احیاء التراث الاسلامی، بی‌تا.
  • طباطبایی، سیدمحمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، قم، دفتر نشر اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، چاپ پنجم، ۱۴۱۷ق.
  • طبری، محمد بن جریر، جامع البیان فی تفسیر القرآن، بیروت،‌ دار المعرفۃ، چاپ اول، ۱۴۱۲ق.
  • طریحی، فخرالدین، مجمع البحرین، تحقیق: سید احمد حسینی، تہران، کتابفروشی مرتضوی، چاپ سوم، ۱۳۷۵ش.
  • فخر رازى، ابوعبداللہ محمد بن عمر، مفاتیح الغیب، بیروت، دار إحیاء التراث العربی، چاپ سوم، ۱۴۲۰ق.
  • قمی، علی بن ابراہیم، تفسیر القمی، تحقیق سید طیب موسوی جزایری، قم،‌ دار الکتاب، چاپ چہارم، ۱۳۶۷ش.
  • کلینی، محمد بن یعقوب بن اسحاق، الکافی، تحقیق علی اکبر غفاری و محمد آخوندی، تہران،‌ دار الکتب الاسلامیۃ، چاپ چہارم، ۱۴۰۷ق.
  • مصطفوی، حسن، التحقیق فی کلمات القرآن الکریم، تہران، بنگاہ ترجمہ و نشر کتاب، ۱۳۶۰ش.
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران،‌ دارالکتب الاسلامیۃ، چاپ اول، ۱۳۷۴ش.