ابوبکر مخزومی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ابوبکر مخزومی
ذاتی کوائف
نام: ابوبکر مخزومی
لقب: راہب قریش
نسب: بنی مخزوم
وفات: 93 یا 94 یا سنہ 95 ہجری
مذہب: اہل سنت
صحابی: تابعی
حدیثی معلومات
مشایخ: ابو ہریرهعمار بن یاسرعایشہام سلمہ
وثاقت: ثقہ (اہل سنت کے یزدیک)
شہرت: فقہائے مدینہ، امام حسین علیہ السلام سے ملاقات و گفتگو


ابوبکر مخزومی (متوفی 93۔95 ھ) راہب قریش کے نام سے مشہور، مدینہ کے سات تابعین و فقہاء میں سے تھے۔ انہوں نے مکہ میں امام حسینؑ سے ملاقات کی اور آپ سے کوفہ نہ جانے کی درخواست کی۔ انہوں نے امام عالی مقام کے ساتھ اپنی قرابت کو اس خیرخواہی کی علت ذکر کیا کیونکہ ہم دونوں قبیلہ قریش سے ہیں۔

ولادت و وفات

ابو بکر مخزومی مدینہ کے سات فقہاء [نوٹ 1] اور قریش کے بزرگان میں سے تھے۔ عمر بن خطاب کی خلافت میں ان کی ولادت ہوئی اور انہوں نے سنہ 93 یا 94 یا سنہ 95 ہجری میں وفات پائی۔[1]

نام، نسب و شہرت

ان کے نام و کنیت کے سلسلہ میں اختلاف نظر پایا جاتا ہے۔ تہذیب التہذیب کے مطابق بعض نے ان کا نام محمد اور کنیت ابو بکر جبکہ بعض نے ان کا نام ابو بکر اور کنیت ابو عبد الرحمن ذکر کی ہے۔ ابن حجر عسقلانی کہتے ہیں: ان کا نام اور کنیت دونوں ابو بکر ہے۔[2]

منابع میں ان کے والد کا نام عبد الرحمن بن حارث بن ہشام تھا۔[3] اگرچہ بعض منابع میں انہیں ابوبکر بن حارث بن ہشام کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔[4] حارث بن ہشام قبیلہ بنی‌ مخزوم سے تھا اور جنگ بدر میں اپنے بھائی ابوجہل کے ساتھ مشرکین کے ساتھ تھے اس جنگ میں ابوجہل مارا گیا اور حارث جان بچا کر فرار کرنے میں کامیاب ہوا۔[5] اسی طرح جنگ احد میں بھی وہ مشرکین کے ساتھ تھے اور فتح مکہ کے موقع پر اسلام لے آیا۔[6]

قبیلہ بنی‌ مخزوم کی طرف منسوب ہونے کی وجہ سے ابوبکر مخزومی کے نام سے مشہور ہوئی۔ اسی طرح ابن حجر عسقلانی کے مطابق چونکہ وہ بہت زیادہ نماز پڑھتے تھے اس بنا پر لوگ اسے راہب قریش کے نام سے یاد کرتے تھے۔[7]

امام حسین (ع) سے ملاقات

ابو بکر مخزومی کا شمار ان لوگوں میں سے ہے جنہوں نے مکہ میں امام حسین علیہ السلام سے ملاقات کی اور خیر خواہی کے عنوان سے امام سے کوفہ نہ جانے کی درخواست کی۔ انہوں نے امام عالی مقام کے ساتھ اپنی قرابت کو اس خیر خواہی اور نصیحت کی علت بتاتے ہوئے امام علیؑ اور امام حسنؑ کے ساتھ اہل کوفہ کی بے وفائی کا تذکرہ کیا۔ امام حسین نے اس خیر خواہی پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ مسعودی نے امام حسین کے ساتھ ان کی گفتگو کے الفاظ کو نقل کیا ہے۔[8]

روایت

ابوبکر مخزومی کا شمار اہل سنت روات حدیث میں ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنے والد، ابو ہریره، عمار بن یاسر، نوفل بن معاویہ، عایشہ، ام سلمہ، ام معقل اسدی، عبد الرحمن بن مطیع، ابی‌ مسعود انصاری وغیرہ سے روایت نقل کی ہیں۔ اسی طرح زہری، عمر بن عبد العزیز و حکم بن عتیبہ جیسے راویوں نے ان سے روایت نقل کی ہیں۔ ان کی روایات اہل سنت حدیثی مصادر میں نقل ہوئی ہیں اور بعض اہل سنت علمائے رجال نے انہیں ثقہ قرار دیا ہے۔ ابن حجر کی گزارش کے مطابق، ابن حبان نے ان کا شمار ثقہ افراد میں کیا ہے۔[9] لیکن شیعہ منابع میں فقط ان کی امام حسین علیہ السلام سے گفتگو نقل ہوئی ہے۔[10]

حوالہ جات

  1. ابن حجر، تہذیب التہذیب ج۱۲، ص۲۸.
  2. ابن حجر، تہذیب التہذیب، ۱۴۰۴ق-۱۹۸۴م، ج۱۲، ص۲۸.
  3. ابن اثیر، اسد الغابہ، ۱۴۰۹ق، ج۳، ص۳۲۷؛‌ ابن حجر، تہذیب التہذیب، ۱۴۰۴ق-۱۹۸۴م، ج۱۲، ص۲۸.
  4. مسعودی، مروج الذہب، ۱۴۰۹ق، ج۳، ص۵۶.
  5. ابن عبد البر، الاستیعاب، ۱۴۱۲ق، ج۱، ص۳۰۱.
  6. ابن عبد البر، الاستیعاب، ۱۴۱۲ق، ج۱، ص۳۰۲.
  7. ابن حجر، تہذیب التہذیب، ۱۴۰۴ق-۱۹۸۴م، ج۱۲، ص۲۸.
  8. مسعودی، مروج الذہب، ۱۴۰۹ق، ج۳، ص۵۶.
  9. ابن حجر، تہذیب التهذیب، ۱۴۰۴ق-۱۹۸۴م، ج۱۲، ص۲۸.
  10. مسعودی، مروج الذهب، ۱۴۰۹ق، ج۳، ص۵۶؛ قرشی، زندگانی حضرت امام حسین علیہ السلام، ج۳، ۱۴۲۲ق، ص۳۴-۳۵.
  1. پہلی صدی ہجری میں تابعین کی پہلی و دوسری نسل میں شیعہ مکتب کے ساتھ غیر شیعہ فقہا بھی مدینہ میں موجود تھے جن میں سے سات برجستہ ترین افراد فقہائے مدینہ کے نام سے مشہور ہوئے۔(پاکتچی، «اسلام»: اندیشه‌های فقهی در سده نخست هجری، ج۸، ص۴۳۹.

مآخذ

  • ابن اثیر، علی بن محمد، اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ، بیروت، دار الفکر، ۱۹۸۹م/۱۴۰۹ق۔
  • ابن حجر عسقلانی، تہذیب التہذیب، بیروت، دارالفکر للطباعہ و النشر و التوزیع، ۱۴۰۴ق/۱۹۸۴م۔
  • ابن عبد البر، یوسف بن عبداللہ، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، تحقیق علی محمد بجاوی، بیروت، دار الجیل، ۱۴۱۲ق/۱۹۹۲م۔
  • پاکتچی، احمد، مدخل اسلام در دایرۃ المعارف بزرگ اسلامی، تہران، مرکز دایرۃ المعارف بزرگ اسلامی۔
  • مسعودی، علی بن حسین، مروج الذہب و معادن الجوہر، تحقیق: اسعد داغر، قم، دارالہجرۃ، ۱۴۰۹ق۔