قنبر

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
قنبر
معلومات شخصیت
مکمل نام قنبر
کنیت ابو شعناء
دینی مشخصات
جنگوں میں شرکت جنگ صفین
وجہ شہرت اصحاب امیر المومنین (ع)


قنبر، حضرت علی (ع) کے غلام اور آپ کے خاص اصحاب میں سے ہیں۔ جنگ صفین میں امام علی (ع) کی فوج کے ایک دستے کے پرچم دار تھے۔ وہ حجاج بن یوسف ثقفی کے ہاتھوں شہید ہوئے۔

نسب

ان کے سلسلہ نسب اور باپ دادا کے سلسلہ میں معلومات دسترس میں نہیں ہیں۔ انہوں نے کچھ عرصہ شہر بیہق (سبزوار کے قریب) میں زندگی گذاری ہے۔[1] ان کی کنیت ابو شعناء نقل ہوئی ہے۔[2] ابو شعناء یعنی الجھے بالوں والا بوڑھا دانشور۔[3]

مقام و منزلت

قنبر امام علی (ع) کے خاص صحابی، غلام اور دربان تھے۔[4] اسی طرح سے وہ امام حسن مجتبی (ع) کے دربان بھی تھے۔[5] شیخ طوسی نے انہیں امام علی (ع) کے اصحاب میں شمار کیا ہے۔[6]

امام جعفر صادق (ع) کے نقل ہوا ہے کہ قنبر حضرت علی (ع) سے بہت الفت رکھتے تھے۔[7] جب بھی حضرت رات میں گھر سے باہر نکلتے تھے قنبر ان کی محافظت کرتے تھے بغیر اس کے کہ حضرت متوجہ ہوں۔[8] اسی طرح سے حضرت بھی ان خیال رکھتے تھے۔ ایک روز حضرت نے دو لباس، اس میں سے ایک کی قیمت 3 درہم اور دوسرے کی قیمت 2 درہم تھی، خریدے اور مہنگا والا قنبر کو عطا کر دیا۔[9]

امام علی (ع) کے دور میں

تاریخی مصادر میں قنبر کے بارے میں پراکندہ و منتشر اطلاعات و معلومات ذکر ہوئی ہیں:

  • ابن قتیبہ و ذہبی کے قول کے مطابق، وہ عثمان کے خلاف ہونے والی بغاوت میں امام حسن (ع) کے ساتھ ان کے دفاع میں زخمی ہوئے۔[10]
  • جنگ صفین میں حضرت علی (ع) نے انہیں عمرو بن عاص کے غلام کے مقابلہ میں جو اپنے ساتھ بلند پرچم لیکر آیا تھا، ایک علم عطا کیا تا کہ وہ بلند کریں۔[11][12] اس جنگ میں قنبر نے معاویہ کے غلام حرب کو قتل کیا۔[13]
  • نقل ہوا ہے کہ ایک دن حضرت علی (ع) نے اپنی زرہ ایک یہودی مرد کو پہنے ہوئے دیکھی تو اس کی شکایت کرنے قاضی شریح کے پاس گئے۔ قاضی شریح نے آپ سے گواہ طلب کئے تو آپ نے امام حسن (ع) اور قنبر کو پیش کیا۔[14]
  • یہ بھی نقل ہوا ہے کہ ایک روز امام علی (ع) نے قنبر کو حکم دیا کہ وہ ایک شخص پر حد جاری کریں۔ قنبر نے اسے جزبات میں تین کوڑے سے زیادہ مار دیئے تو حضرت نے اس شخص کو حکم دیا کہ وہ قنبر کو تین کوڑے مارے۔[15]
  • زاذان کہتے ہیں: جیسے ہی سلمان فارسی کا انتقال ہوا۔ میں گھر سے بایر آیا تو دیکھا کہ حضرت علی (ع) اور قنبر گھوڑے سے اتر رہے ہیں۔[16]
  • اشعث بن قیس کسی کام سے حضرت علی (ع) کے پاس آیا تو قنبر نے اسے گھر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی تو اس نے قنبر کے منھ پر ایک گھونسا مارا جس سے ان کی ناک سے خون بہنے لگا۔[17]
  • جب ایک شخص نے قنبر سے بد تمیزی کی اور انہوں نے اس سے انتقام لینا چاہا تو امام امیرالمومنین (ع) نے انہیں صبر کی تلقین کرکے ان کا غصہ تھنڈا کیا۔ یہ تلقین شیعہ کتابوں میں اس طرح سے وار ہوئی ہے:مَہْلًا یا قَنْبَرُ دَعْ شَاتِمَک مُہَانًا... قنبر! صبر کرو اور جس نے تمہاری اہانت کی ہے اس کی توہین نہ کرو۔[18]
  • قنبر نے بیت المال سے سونے و چاندی کے ظروف سے بھرے کچھ کیسوں کو چھپا دیا تا کہ حضرت اسے تقسیم نہ کر سکیں جب بیت المال کی تقسیم کے بعد قنبر نے حضرت کو ان کے بارے میں بتایا تو آپ نے ان سے اس کی وجہ دریافت کی تو قنبر نے کہا: اے امیر المومنین آپ نے سب تقسیم کر دیا اور کچھ بھی اپنے لئے نہیں بچایا۔ میں انہیں آپ کے لئے بچا لیا ہے۔ حضرت نے ان سب کو بیت المال کی طرف پلٹا کر لوگوں میں تقسیم کر دیا۔[19]

شہادت

بغداد میں قنبر سے منسوب مقبرہ

قنبر کو حجاج بن یوسف ثقفی کے حکم سے قتل کیا گیا۔ البتہ ان کے قتل کی کیفیت کے سلسلہ میں اختلاف ہے۔[20] ایک روایت میں ان کے قتل کی کیفیت اس طرح سے بیان ہوئی ہے:

جب انہیں حجاج کے پاس لے جایا گیا تو حجاج نے ان سے پوچھا: علی کے پاس کیا کرتے تھے؟ قنبر نے کہا: میں ان کے لئے وضو کا پانی فراہم کرتا تھا۔ حجاج نے کہا: وہ وضو کے وقت کیا پڑھتے تھے؟ قنبر نے کہا: جب وہ وضو سے فارغ ہوتے تھے تو سورہ انعام کی چوالیسویں اور پینتالیسویں آیت کی تلاوت فرماتے تھے۔ حجاج کہتا ہے: میرا خیال یہ ہے کہ وہ ان آیات کی تاویل ہمارے خلاف کرتے تھے۔ قنبر نے کہا: یاں۔ حجاج کہتا ہے کہ اگر میں تمہیں قتل کر دوں تو کیا کرو گے؟ قنبر نے کہا کہ اس صورت میں خوش نصیب اور تم بد نصیب ہو جاؤ گے۔ حجاج نے حکم دیا کہ انہیں قتل کر دیا جائے۔[21] حجاج نے ان کے بیٹے کو بھی قتل کر دیا۔[22]

ان کے مزار کے بارے حمص یا کوفہ کا نام ذکر ہوا ہے۔[23] بغداد میں بھی ایک زیارت گاہ قنبر سے منسوب ہے جس کا نام قنبر علی ہے۔ جو اسی نام کے بازار اور محلہ میں رصافہ (دریائے دجلہ کے مشرق میں) کے علاقہ میں واقع ہے۔[24]

نیشاپور میں بھی ایک بارگاہ قنبر اور ان کی اولاد سے منسوب ہے۔ علی بن زید بیہقی کی تایخ بیہق میں قنبر کے سلسلہ میں اس طرح سے ذکر ہوا ہے:

ان کی تربت نیشاپور میں مسجد ہانی کے مقام پر ہے ۔ ہانی جن سے یہ مسجد منسوب ہے وہ ان کے بیٹوں میں سے ہیں۔ ہانی بن قنبر اور ان کی اولاد میں سے علی بن جمعہ بن ہانی و سلیطیان ہیں جو نیشاپور میں مدفون ہیں۔[25]

اولاد

نیشاپور میں قنبر اور ان کی اولاد سے منسوب مقبرہ

ان کے بیٹوں میں سے بعض کا نام راویوں میں شمار ہوا ہے:

  • ابی جبیر بن قنبر:اپنے والد سے روایات کے راوی ہیں۔[26]
  • سالم بن قنبر[27]
  • ابو الفضل العباس بن الحسن بن خشیش قنبری۔[28]
  • نعیم بن سالم بن قنبر۔[29]
  • محمد بن علی قنبری نامی شاعر: ہمدان میں رہتے تھے۔[30]

دو مساجد: مسجد ہانی نیشاپور اور مسجد شادان سبزوار قنبر کے بیٹوں کے نام سے منسوب مذکور ہیں۔[31]

عوامی ثقافت میں

عوام الناس کی نظر میں قنبر کا شمار حضرت علی (ع) کے با وفا دوست کے طور پر ہوتا ہے۔ لہذا شیعہ ثقافت میں قنبر کا ذکر بہت زیادہ کیا جاتا ہے۔

قنبر خوانی

ماضی میں ایران کے اکثر شہروں خاص طور پر ریاست خراسان میں حضرت علی (ع) کی شہادت کے موقع پر 21 رمضان کے شب و روز میں قنبر خوانی کے نام سے ایک رسم منائی جاتی تھی۔[32]

حوالہ جات

  1. بیہقی، دلائل النبوہ، ص۹۳، پانویس.
  2. ابن مسکویہ، تجارب الامم، ج۶، ص۸۸
  3. ابن مسکویہ، ترجمہ، تجارب الامم، ج۶، ص۸۸، پاورقی
  4. مسعودی، التنبیہ و الاشراف، ص۲۵۸
  5. مسعودی، تنبیہ والاشراف، ص۲۶۱
  6. طوسی، رجال، ص۷۹
  7. کلینی، کافی، ج۲، ص۵۹
  8. قمی، سفینہ البحار، ج۲، ص‌۱۶۷
  9. ثقفی کوفی، الغارات، ج۱، ص۱۰۶
  10. ذہبی، تاریخ الاسلام، ج۳، ص۴۵۹؛ ابن قتیبہ، الإمامہ و السیاسہ، ج۱، ص۶۲؛ مسعودی، مروج‌الذہب، ج۲، ص۳۴۵
  11. طبری، تاریخ، ج۴، ص۵۶۳
  12. ابن اثیر، الکامل، ج۳، ص۲۷۹
  13. ابن اعثم کوفی، الفتوح، ص۶۱۰
  14. ابن عماد حنبلی، شذرات الذہب، ج۱، ص۳۲۰؛ ثقفی کوفی،الغارات، ج۲، ص۷۲۲
  15. کلینی، کافی، ج۷، ص۲۶۰
  16. ابن شہرآشوب، المناقب، ج۲، ص۳۰۲؛ بحرانی، مدینۃ المعاجز، ج۲، ص۴۱۹
  17. ابن‌ابی‌الحدید، شرح نیج البلاغہ، ج۶، ص۱۱۷
  18. مجلسی، بحارالانوار، ج۶۴، ص۴۲۴؛ مفید، امالی، ص۱۱۱
  19. ثقفی کوفی، الغارات(ترجمہ)، ص۴۵
  20. کشی، رجال، ص۷۲؛ مجلسی، بحارالانوار، ج۴۲، ص۱۳۲؛ مفید، اختصاص، ص۷۲؛ مفید، ارشاد، ج۱، ص۳۲۸
  21. ثقفی کوفی، الغارات (ترجمہ) ص۵۳۵
  22. حموی، معجم البلدان، ج۲، ص۳۰۳
  23. حموی، معجم البلدان، ج۴، ص۳۰۳
  24. خامہ یار، قنبر غلام علی علیہ السلام، ص ٨١
  25. بیہقی، علی بن زید، تاریخ بیہق، ۱۳۶۱ش، ص۲۵.
  26. ابن حجر عسقلانی، الإصابہ، ج۸، ص۱۱۳
  27. حموی، معجم البدان، ج۱، ۳۱۰
  28. سمعانی، انساب، ج۱۰، ص۴۹۲
  29. حموی، معجم البلدان، ج۱، ص۳۱۰
  30. سمعانی، انساب، ج۱۰، ص۴۹۱
  31. بیہقی، علی بن زید، تاریخ بیہق، ۱۳۶۱ش، ص۲۵
  32. قنبر خوانی


مآخذ

  • ابن أبی الحدید، شرح نہج البلاغہ، تحقیق: محمد أبوالفضل إبراہیم، ناشر: دارإحیاء الکتب العربیہ - عیسی البابی الحلبی وشرکاہ، مؤسسہ مطبوعاتی إسماعیلیان
  • ابن اعثم کوفی، الفتوح، ترجمہ محمد بن احمد مستوفی ہروی، تحقیق غلام رضا طباطبائی مجد، تہران، انتشارات و آموزش انقلاب اسلامی، ۱۳۷۲ش
  • ابن حجر عسقلانی، احمد بن علی، الإصابہ فی تمییز الصحابہ، تحقیق عادل احمد عبد الموجود و علی محمد معوض، بیروت، دار الکتب العلمیہ، ط الأولی، ۱۴۱۵ق/۱۹۹۵ء
  • ابن سعد، الطبقات الکبری، تحقیق محمد عبد القادر عطا، بیروت، دار الکتب العلمیہ، ط الأولی، ۱۴۱۰ق/۱۹۹۰ء
  • ابن شہر آشوب، المناقب، علامہ، قم۱۳۷۹ق
  • ابن قتیبہ دینوری، الإمامہ و السیاسہ المعروف بتاریخ الخلفاء، تحقیق علی شیری، بیروت، دار الأضواء، ط الأولی، ۱۴۱۰ق/۱۹۹۰ء
  • ابن مسکویہ، ابو علی رازی، تجارب الأمم، جلد ۱: مترجم ابو القاسم امامی، تہران، سروش، ۱۳۶۹ش جلد ۵ و۶: علی نقی منزوی، تہران، توس، ۱۳۷۶ش
  • بحرانی، سید ہاشم، مدینۃ معاجز الأئمہ الاثنی عشر و دلائل الحجج علی البشر، مؤسسہ المعارف الإسلامیۃ، قم
  • بختیاری، علی اکبر، سیرجان در آینہ زمان، کرمان، ۱۳۷۸ش
  • برقی، احمد بن محمد بن خالد، الرجال، تہران: دانشگاہ تہران، بی‌تا
  • بیہقی، احمد بن حسین، دلائل النبوہ و معرفۃ أحوال صاحب الشریعہ، تحقیق عبدالمعطی قلعجی، بیروت، دار الکتب العلمیہ، ط الأولی، ۱۴۰۵ق/۱۹۸۵ء
  • بیہقی، علی بن زید، تاریخ بیہق، تہران، فروغی، ۱۳۶۱ش
  • پناہی سمنانی، محمد-احمد، علی در ترانہ ہای عامہ، کتاب ماہ و ہنر، ۱۳۸۳ش
  • ثقفی کوفی، ابراہیم بن محمد، الغارات، تحقیق جلال الدین حسینی ارموی، تہران، انجمن آثار ملی، ۱۳۵۳ش
  • ثقفی کوفی، الغارات و شرح حال اعلام آن، ترجمہ عزیز اللہ عطاردی، انتشارات عطارد، ۱۳۷۳ش
  • حافظ شیرازی، دیوان، باہتمام سید محمد رضا جلالی نائینی و نذیر احمد، تہران، امیر کبیر، ۱۳۶۱ش
  • حموی، یاقوت، معجم البلدان، بیروت، دارصادر، ط الثانیہ، ۱۹۹۵ء
  • حنبلی دمشقی، ابن عماد، شذرات الذہب فی اخبار من ذہب، تحقیق الأرناؤوط، بیروت،‌دار ابن کثیر، ط الأولی، ۱۴۰۶ق/۱۹۸۶ء
  • ذہبی، محمد بن احمد، تاریخ الاسلام و وفیات المشاہیر و الأعلام، تحقیق عمر عبد السلام تدمری، بیروت، دار الکتاب العربی، ط الثانیۃ، ۱۴۱۳ق/۱۹۹۳ء
  • سمعانی، محمد بن منصور، الأنساب، تحقیق عبدالرحمن بن یحیی المعلمی الیمانی، حیدرآباد، مجلس دائرۃ المعارف العثمانیہ، ط الأولی، ۱۳۸۲ق/۱۹۶۲ء
  • شیخ طوسی، رجال الطوسی، ناشر: جامعہ مدرسین، قم، ۱۴۱۵ ق
  • شیخ مفید، الإختصاص، یک جلد، انتشارات کنگرہ جہانی شیخ مفید قم، ۱۴۱۳ق
  • شیخ مفید، الإرشاد فی معرفۃ حجج اللہ علی العباد، ناشر: کنگرہ شیخ مفید، قم، ۱۴۱۳ ق
  • قمی، عباس، سفینۃ البحار، کتابخانہ سنائی، تہران
  • کلینی، الکافی، دار الکتب الإسلامیۃ تہران، ۱۳۶۵ش
  • کشی، محمد بن عمر، رجال الکشی، ۱ جلد، انتشارات دانشگاہ مشہد، ۱۳۴۸ش
  • مجلسی، بحار الانوار، موسسہ وفاء، بیروت
  • مسعودی، علی بن حسین، التنبیہ و الإشراف، تصحیح عبد اللہ اسماعیل الصاوی، القاہرۃ، دار الصاوی، بی‌تا(افست قم: مؤسسۃ نشر المنابع الثقافۃ الاسلامیہ)
  • مسعودی، علی بن حسین، مروج الذہب و معادن الجوہر، تحقیق اسعد داغر، قم، دار الہجرۃ، چ دوم، ۱۴۰۹ق
  • خامہ یار، احمد، قنبر غلام علی علیہ السلام، مشعر، تہران، ١٣٩٣ش