ابان بن عثمان احمری

ویکی شیعہ سے
(ابان بن عثمان سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
انفرادی مشخصات
مکمل نام ابان بن عثمان احمر
دینی مشخصات
وجہ شہرت امام صادق اور امام کاظم کے صحابی


ابان بن عثمان احمری بجلی (متوفی 2 ھ ق) امام جعفر صادق علیہ السلام و امام موسی کاظم علیہ السلام کے اصحاب اور اصحاب اجماع میں سے ہیں، انہوں نے امام صادق (ع) سے بلا واسطہ روایات نقل کی ہیں۔ ابان شعراء، انساب اور ایام عرب سے مربوط اخبار و روایات سے بھی آشنائی رکھتے تھے اور انہوں نے سیرہ پیغمبر (ص) پر ایک کتاب بھی تحریر کی ہے۔ بعض افراد کے اس دعوی کے باوجود کہ وہ فاسد المذہب تھے، شیعہ علماء رجال نے ان کے ثقہ و قابل اعتبار ہونے کی تائید کی ہے۔

تعارف

اصحاب اجماع

امام باقرؑ کے اصحاب
۱. زُرارَۃ بن اَعین
۲. مَعروفِ بنِ خَرَّبوذ
۳. بُرَید بن معاویہ
۴. ابوبصیر اَسَدی یا (ابوبصیر مرادی)
۵. فُضَیل بن یسار
۶. محمد بن مُسلِم

امام صادقؑ کے اصحاب
۱. جَمیل بن دَرّاج
۲. عبداللہ بن مُسکان
۳. عبداللہ بن بُکَیر
۴. حَمّاد بن عثمان
۵. حماد بن عیسی
۶. اَبان بن عثمان

امام کاظمؑ اور امام رضاؑ کے اصحاب
۱. یونس بن عبد الرحمن
۲. صَفوان بن یحیی
۳. اِبن اَبی عُمَیر
۴. عبداللہ بن مُغَیرِہ
۵. حسن بن محبوب یا (حسن بن علی بن فَضّال، فَضالَۃ بن ایوب و عثمان بن عیسی)
۶. احمد بن ابی نصر بزنطی

ابان بن عثمان احمری بجلی کوفی الاصل تھے اور کوفہ و بصرہ میں زندگی بسر کرتے تھے۔ اہل بصرہ میں سے معمر بن مثنی اور محمد بن سلام نے ان سے شعرائ، انساب اور ایام عرب کے سلسلہ میں اخبار اور مطالب نقل کئے ہیں۔[1] رجال کشی کی ایک روایت کے مطابق وہ اہل بصرہ، تجبیلہ قبیلہ کے غلام اور کوفہ میں رہائش پذیر تھے۔[2]

منابع رجال اور احادیث کی اسناد میں انہیں ابان بن احمر،[3] ابان احمر، ابان احمری،[4] ابان بن عثمان احمر،[5] و ابان بن عثمان[6] جیسے ناموں سے بھی یاد کیا گیا ہے۔[7] ان کی کنیت ابو عبد اللہ ذکر ہوئی ہے۔[8]

وثاقت

ابان امام جعفر صادق علیہ السلام اور امام موسی کاظم علیہ السلام کے اصحاب میں سے تھے۔[9] البتہ شیخ طوسی نے ان کا ذکر صرف امام صادق (ع) کے اصحاب میں کیا ہے۔[10] ان کا شمار اصحاب اجماع اور موثق افراد میں کیا گیا ہے۔[11] آیت اللہ خوئی نے ان کے اصحاب اجماع میں ہونے علاوہ، کامل الزیارات اور شیخ صدوق کی سند میں ہونے کے سبب ان کی وثاقت کی ہے۔[12]

بعض منابع نے ابان بن عثمان کی نسبت ناووسیہ فرقہ کی طرف دی ہے۔[13] آیت اللہ خوئی کا ماننا ہے کہ یہ نسبت قادسیہ جو تصحیف کے سبب ناووسیہ ہو گیا ہے اور انہوں نے اپنی اس بات کو ثابت کرنے کے لئے نجاشی اور شیخ طوسی کی شہادت پیش کی ہے جو ان کی روایت کے سلسلہ میں امام موسی کاظم علیہ السلام کی طرف سے نقل ہوئی ہے۔[14] رجال کی کتب میں ان کی نسبت فطحیہ و واقفیہ فرقوں کی طرف بھی دی گئی ہے۔ آیت اللہ خوئی اس نسبتوں کو بھی صحیح نہیں مانتے ہیں اور اس لئے کہ ان ماننا ہے کہ اصحاب اجماع ہونے کی وجہ سے یہ نسبتیں ان کے لئے سازگار نہیں ہیں۔ اور ان کے فطحی ہونے کی نسبت کو وہ سہوا علامہ حلی کی طرف سے مانتے ہیں جن کے زمانہ سے یہ نسبت رجال کی کتابوں میں درج ہوئی ہے۔[15]

روایت

ابان نے امام صادق[16] اور امام کاظم علیہما السلام[17] کے علاوہ ابو بصیر[18]، زرارہ بن اعین[19]، ابو عبیدہ حذا،[20] حارث بن مغیرہ،[21] شھاب بن عبد ربہ،[22] عمر بن یزید[23] اور لیث مرادی[24] جیسے راویوں سے روایات نقل کی ہیں۔ آیت اللہ خوئی نے اپنی کتاب معجم رجال الحدیث میں 100 افراد سے زیادہ کا ذکر کیا ہے جن سے ابان سے روایات نقل کی ہیں۔[25]

روات

انہوں نے 700 کے قریب روایات کی سند میں ابان بن عثمان کے نام کا ذکر کیا ہے۔[26] جس میں انہوں نے 130 روایات صرف عبد الرحمن بن ابی عبد اللہ سے نقل کی ہیں۔[27]

آیت اللہ خوئی نے اپنی کتاب معجم رجال الحدیث میں 50 سے زیادہ افراد کے اسمائ کا ذکر کیا ہے جنہوں نے ابان بن عثمان سے روایات نقل کی ہیں۔[28] جن میں فضالہ بن ایوب،[29] محمد بن ابی عمیر[30]، احمد بن محمد ابی نصر بزنطی، جعفر بن محمد بن حکیم،[31] عباس بن عامر،[32] نضر بن شبیب،[33] محمد بن زیاد ازدی اور حسن بن محبوب جیسے راوی شامل ہیں۔[34]

تالیفات

کتاب المبعث و المغازی و الوفاة و السیفة و الردة ابان بن عثمان

نجاشی اور شیخ طوسی نے ان کی ایک کتاب کا تذکرہ کیا ہے جس کے کئی حصے المبتدائ، المبعث، المغازی، الوفاۃ، السقیفۃ والردۃ ہیں۔ ان میں ہر ایک حصہ کو ایک مستقل کتاب کا نام دیا ہے۔[35] شیخ طوسی نے اس کتاب کے سلسلہ میں اپنے مختلف طرق کا ذکر کیا ہے۔[36] علی بن ابراہیم قمی نے اپنی تفسیر میں[37] اور شیخ طبرسی نے اپنی کتاب اعلام الوری میں اس کتاب سے کافی استفادہ کیا ہے۔

رسول جعفریان نے ان کی کتاب کے بکھرے ہوئے مطالب کو مختلف کتابوں سے استخراج کرکے ایک کتاب کی شکل دی ہے جسے دفتر تبلیغات اسلامی حوزہ علمیہ قم المبعث و المغازی والوفاۃ والسیفۃ والردۃ کے نام سے سن 1375 شمسی میں طبع کرکے شائع کیا ہے۔[38] رسول جعفریان کے بقول یہ کتاب سیرہ کے محتوی اور مطالب پر مشتمل ہے۔[39]

ابان بن عثمان ایک اصل کے بھی مصنف ہیں جس کی طرف شیخ طوسی نے اشارہ کیا ہے۔[40]

ابہام اور غلظ فہمی کا ازالہ

ابان بن عثمان کے نام کا ابان بن عثمان بن عفان کے ساتھ شباہت رکھنا اس بات کا سبب بن گیا کہ بعض افراد خلیفہ سوم کے فرزند کو ابان بن عثمان کی جگہ امامی مذہب سمجھ بیٹھیں۔ منجملہ ان افراد کے عبد العزیز دوری[41] اور فواد بن سزگین ہیں جنہوں نے عصر اول کے سیرت نگاروں کے بیان ابان بن عثمان بن عفان کا تذکرہ کیا ہے اور تحریر کیا ہے کہ ان سے منقول روایات تاریخ یعقوبی میں نقل ہوئی ہیں۔[42] جبکہ وہ شخص جس سے تاریخ یعقوبی میں نقل ہوا ہے وہ ابان بن عثمان احمر ہیں اور اس کی دلیل یہ ہے کہ یعقوبی نے تصریح کی ہے کہ انہوں نے امام صادق علیہ السلام سے روایات نقل کی ہیں۔[43]

واضح اور طبیعی امر ہے کہ خلیفہ سوم کے فرزند جو جنگ جمل میں عائشہ کے ہمراہ تھے، وہ عمر کی اس منزل میں نہیں ہوں گے کہ امام صادق علیہ السلام سے روایات نقل کر سکیں۔[44]

ابان کے سلسلہ میں کتاب

ابان بن عثمان کے حالات زندگی پر مشتمل ایک کتاب تالیف کی گئی ہے جس کے مولف سید محمد باقر شفتی بید آبادی ہیں۔[45]

حوالہ جات

  1. نجاشی، رجال، ص۱۳.
  2. کشی، رجال، ۳۵۲.
  3. کلینی، کافی، ج۲، ص۶۷۳؛ حر عاملی، وسائل الشیعہ، ج۱۲، ص۱۳۸.
  4. صدوق، من لایحضرہ الفقیہ، ج۴، ص۱۶۳.
  5. کشی، رجال، ص۹۳.
  6. خوئی، معجم رجال الحدیث، ج۱، ص۱۶۲.
  7. خوئی، معجم رجال الحدیث، ج۱، ص۱۵۷.
  8. طوسی، فہرست، ص۴۷؛ قہپایی، ج۱، ص۲۵.
  9. قہپایی، مجمع الرجال، ج۱، ص۲۵؛ خوئی، معجم رجال الحدیث، ج۱، ص۱۵۷.
  10. طوسی، رجال، ص۱۶۴.
  11. ابن داوود، رجال، ص۱۲.
  12. خوئی، معجم رجال الحدیث، ج۱، ص۱۶۱.
  13. نجاشی، رجال، ص۱۳؛ قہپایی، مجمع الرجال، ج۱، ص۲۵؛ حلی، رجال العلامة الحلی،، ص۲۲؛ ابن داود، رجال، ص۱۳.
  14. خوئی، معجم رجال الحدیث، ج۱، ص۱۶۱.
  15. خوئی، معجم رجال الحدیث، ج۱، ص۱۶۱.
  16. کشی، رجال، ص۱۰۷.
  17. خوئی، معجم رجال الحدیث، ج۱، ص۱۵۷.
  18. صدوق، من لا یحضرہ الفقیہ، ج۴، ص۱۶۳؛ کشی، ص۲۰۹.
  19. کشی، رجال، ص۱۰۴.
  20. کشی، رجال، ص۱۳۶.
  21. کشی، رجال، ص۱۷۷.
  22. کشی، رجال، ص۹۴.
  23. کشی، رجال، ص۱۸۵.
  24. کشی، رجال، ص۴۰.
  25. خوئی، معجم رجال الحدیث، ج۱، ص۱۶۲-۱۶۴.
  26. خوئی، معجم رجال الحدیث، ج۱، ص۱۶۲.
  27. خوئی، معجم رجال الحدیث، ج۱، ص۱۶۳.
  28. خوئی، معجم رجال الحدیث، ج۱، ص۱۶۴.
  29. کشی، رجال، ص۱۰۷.
  30. کشی، رجال، ص۱۳۶.
  31. کشی، رجال، ص۹۳،۲۰۹.
  32. کشی، رجال، ص۹۴، ۱۰۴، ۱۷۷، ۲۰۹.
  33. کشی، رجال، ص۱۸۵.
  34. خوئی، معجم رجال الحدیث، ج۱، ص۱۶۱.
  35. نجاشی، ص۱۳؛ طوسی، فہرست، ص۴۹.
  36. طوسی، فہرست، ص۴۹-۴۷.
  37. قمی، تفسیر القمی، ج۱، ص۳۲۸.
  38. انتشار کتاب ابان بن عثمان بہ کوشش رسوی جعفریان
  39. ابان بن عثمان، المبعث و المغازی، شناسنامہ کتاب.
  40. طوسی، فہرست، ص۴۹.
  41. دوری، علم التاریخ عند العرب، ص۲۴.
  42. ابان بن عثمان، المبعث و المغازی، مقدمہ جعفریان، ص۸، بہ نقل از تاریخ التراث العربی قسم التدوین التاریخی، ص۷۰.
  43. یعقوبی، تاریخ الیعقوبی، ج۲، ص۶.
  44. ابان بن عثمان، المبعث و المغازی، مقدمہ جعفریان، ص۸.
  45. کنسرسیوم محتوای ملی


منابع

  • ابان بن عثمان، المبعث و المغازی و الوفاة و السقیفة و الردة، بہ کوشش و مقدمہ: رسول جعفریان، دفتر تبلیغات اسلامی حوزہ علمیہ قم، قم، ۱۳۷۵ش/۱۴۱۷ق.
  • حر عاملی، محمد بن حسن، وسائل الشیعة، مصحح: مؤسسة آل البیت علیہم السلام، مؤسسة آل البیت علیہم السلام، قم، ۱۴۰۹ق.
  • حلی، حسن بن علی بن داود، رجال ابن داوود، دانشگاہ تہران، تہران، ۱۳۴۲ش.
  • خوئی، سید ابوالقاسم، معجم رجال الحدیث، مرکز نشر آثار شیعہ، قم، ۱۴۱۰ق/۱۳۶۹ش.
  • دوری، عبدالعزیز، بحث فی تشأة علم التاریخ عندالعرب، مکتبہ العبیکان، ریاض، ۱۴۲۰-۲۰۰۰م.
  • صدوق، محمد بن علی، من لا یحضرہ الفقیہ، مصحح: غفاری، علی اکبر، دفتر انتشارات اسلامی، قم، ۱۴۱۳ق.
  • طوسی، محمد بن حسن، رجال الطوسی، جامعہ مدرسین، قم، ۱۴۱۵ق.
  • طوسی، محمد بن حسن، فہرست کتب الشیعة و أصولہم و أسماء المصنّفین و أصحاب الأصول، مصحح: طباطبائی، عبدالعزیز، مکتبة المحقق الطباطبائی، قم، ۱۴۲۰ق.
  • علامہ حلی، حسن بن یوسف، رجال العلامة الحلی، مصحح: بحرالعلوم، محمدصادق، دارالذخائر، نجف، ۱۴۱۱ق.
  • قہپائی، عنایہ اللہ، مجمع الرجال، تصحیح و تعلیق: سید ضیاءالدین اصفہانی، مؤسسہ مطبوعاتی اسماعیلیان، قم.
  • کشی، محمد بن عمر، رجال الکشی- إختیار معرفة الرجال، محقق و مصحح: طوسی، محمد بن حسن/مصطفوی، حسن، مؤسسہ نشر دانشگاہ مشہد، مشہد، ۱۴۰۹ق.
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، مصحح: غفاری علی اکبر و آخوندی، محمد، دارالکتب الإسلامیة، تہران، ۱۴۰۷ق.
  • نجاشی، احمد بن علی، رجال النجاشی، مؤسسة النشر الاسلامی التابعہ لجامعة المدرسین، قم، ۱۳۶۵ش.