بدعت

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

اخلاق
مکارم اخلاق.jpg


اخلاقی آیات
آیات افکآیت اخوتآیت استرجاعآیت اطعامآیت نبأ


اخلاقی احادیث
حدیث قرب نوافلحدیث مکارم اخلاقحدیث معراج


اخلاقی فضائل
تواضعقناعتسخاوتکظم غیظاخلاصحلممزید


اخلاقی رذائل
تکبرحرصحسددروغغیبتچغل خوریبخلعاق والدینحدیث نفسعجبسمعہریامزرید


اخلاقی اصطلاحات
جہاد نفسنفس لوامہنفس امارہنفس مطمئنہمحاسبہمراقبہمشارطہگناہدرس اخلاقمزید


علمائے اخلاق
ملامہدی نراقیملا احمد نراقیسید علی قاضیسید رضا بہاءالدینیدستغیبمحمدتقی بہجت


اخلاقی مصادر

قرآننہج البلاغہمصباح الشریعۃمکارم الاخلاقالمحجۃ البیضاءمجموعہ ورامجامع السعاداتمعراج السعادہالمراقباتمزید

بدعت، دین سے کسی چیز کو کم کرنے یا اس میں کوئی چیز اضافہ کرنے کو کہا جاتا ہے۔ جبکہ سُنّت ان تعلیمات کو کہا جاتا ہے جو قرآن اور اہل بیتؑ کی روایات میں ذکر ہوئی ہیں۔ لہذا بدعت سنت کے متضاد ہے۔ تمام شیعہ اور سنی فقہا بدعت کو حرام سمجھتے ہیں۔ روایات میں بدعت کو کفر اور شرک کے مصادیق میں سے شمار کیا ہے۔

بدعت کے بارے میں اسلامی مذاہب کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے اور ہر مذہب دوسرے مذہب پر بدعت کی تہمت لگاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ: مسلمان علما میں سب سے زیادہ ابن‌تیمیہ نے دوسروں پر بدعت کی تہمت لگائی ہے۔

شیعہ عقیدے کے مطابق نماز میں ہاتھ باندھ لینا، نماز تراویح کو جماعت سے پڑھنا اور نماز میں سورہ حمد کے بعد آمین کہنا بدعت کے مصادیق میں سے ہیں۔ جبکہ بعد اہل سنت علما کا عقیدہ ہے کہ بدعت کی دو قسمیں ہیں: اچھی اور بری بدعت؛ اور نماز تراویح کو جماعت کے ساتھ پڑھنا اچھی بدعتوں میں سے ہے جو دوسرے خلیفہ کے حکم سے رائج ہوئی۔ لیکن بعض دوسرے اہل سنت علما ہر قسم کی بدعت کو حرام سمجھتے ہیں۔

مسلمان علما نے بدعت کے بارے میں بعض کتابیں بھی لکھی ہیں؛ جیسے ابواسحاق ابراہیم شاطبی کی کتاب، کتاب الاِعتصام اور جعفر سبحانی کی کتاب، البدعہ انہی کتابوں میں شمار ہوتی ہیں۔

بدعت کی تعریف

جعفر سبحانی کے مطابق مسلمانوں نے بدعت کی مختلف تعریفیں کی ہیں۔[1]اور انہوں نے اپنی کتاب البدعہ میں 22 تعریفیں شیعہ اور سنی علما کے بیان کیا ہے۔[2] مثال کے طور پر آپ نے ابن‌حَجَر عَسقلانی کی تعریف یوں بیان کیا ہے کہ بدعت ہر اس چیز کو کہا جاتا ہے جو سنت کے مقابلے میں ہو۔[3]اسی طرح سیدِ مرتضی نے بدعت دین میں کسی چیز کو اضافہ کرنا یا اس سے کچھ کم کرنے سے تعریف کی ہے۔[4]

فقہا نے ہر وہ چیز جو دین میں نہیں اسے دین میں داخل کرنے کو بدعت قرار دیا ہے؛[5] مثلا جو عبادت دین میں نہیں اسے دین میں تاکید شدہ عبادات میں سے شمار کریں۔[6]فقہا کے فتوا کے مطابق جو کام دینی اعمال میں سے نہیں اسے مُستَحَب سمجھیں تو یہ بدعت ہے۔[7]

محمدباقر مجلسی نے بدعت کی ایک مفصل تعریف میں یوں لکھا ہے کہ پیغمبر اکرمؐ کے بعد ایسی چیز کا اسلام میں شامل کرنا جس سے منع ہوئی ہے یا جس کے بارے میں کوئی روایت نہیں ہے اور اسلامی احکام کی کلیات میں بھی اسے شامل کرنے کی گنجائش نہ ہو۔[8]

بدعت عقائد میں بھی ہوسکتی ہے اور شرعی احکام میں بھی۔[9]بدعت کو ایسی تعلیمات کے مقابلے میں استعمال کیا جاتا ہے جو قرآن اور پیغمبر اور معصومین کی روایات میں بیان ہوئی ہیں۔[10]

فقہی متون میں بدعت کو «تشریع» کے نام سے بھی یاد کیا ہے۔[11]اور ان دونوں کے لیے یکساں تعریف پیش کی گئی ہے۔[12]

بدعت، گناہ کبیرہ

جعفر سبحانی کا کہنا ہے کہ شیعہ اور اہل سنت روایات میں بہت ساری احادیث بدعت کی مذمت میں ذکر ہوئی ہیں۔[13]آپ نے اس بارے میں 30 احادیث نقل کیا ہے۔[14]مثال کے طور پر مُسنَد احمد بن حنبل اور سُنَن ابن‌ماجہ قزوینی میں نقل شدہ حدیث کے مطابق پیغمبر اکرمؐ نے ہر بدعت کو گمراہی قرار دیا ہے۔[15] ابن‌ماجہ نے پیغمبر اکرمؐ سے نقل کرتے ہوئے کہا ہے: بدعت والوں کا روزہ، نماز، صدقہ، حج، عمرہ اور جہاد قبول نہیں ہوتا ہے۔[16]اسی طرح کُلینی نے بھی اپنی کتاب کافی میں امام باقرؑ اور امام صادقؑ سے نقل کیا ہے کہ ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی کا انجام جہنم ہے۔[17]

جعفر سبحانی بدعت کو گناہان کبیرہ میں سے سمجھتے ہیں۔[18] شیخ صدوق نے بھی اپنی کتاب مَن لا یَحضُرُہ الفقیہ میں بدعت سے مربوط احادیث کو گناہان کبیرہ والی احادیث کے حصے میں ذکر کیا ہے۔[19] ان کے مطابق امام باقرؑ نے بدعت کو کفر اور شرک کے مصادیق میں سے شمار کیا ہے۔[20]

قرآن میں بدعت کی مذمت

مسلمان مفسروں اور فقہا کے نظریے کے مطابق قرآنی آیات کی روشنی میں بدعت حرام ہے۔[21]ان آیات میں سے سورہ حدید کی 27ویں آیت، سورہ نحل کی 116ویں آیت[22] سورہ انعام کی 65ویں اور 159ویں آیت اور سورہ توبہ کی 31ویں آیت ہیں۔[23]

علامہ طباطبایی کا کہنا ہے کہ سورہ حدید کی 27ویں آیت کے مطابق اللہ تعالی نے رَہبانیت مسیحیوں کےلیے تشریع نہیں کیا ہے بلکہ یہ ان کی طرف سے ایک بدعت تھی۔[24]اسی طرح سورہ نحل کی آیت نمبر 116 میں ذکر ہوا ہے کہ:«اور خبردار جو تمہاری زبانیں غلط بیانی سے کام لیتی ہیں اس کی بنا پر یہ نہ کہو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ اس طرح خدا پر جھوٹا بہتان باندھنے والے ہوجاؤ گے»۔[25] علامہ طباطبائی کے مطابق آیت کے سیاق سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ اس آیت میں مومنوں کو بدعت سے منع کیا گیا ہے۔[26]

فقہی حکم

فقہا نے بدعت کے تمام مصادیق کو حرام قرار دیا ہے۔[27]مثال کے طور پر محقق حِلّی نے عدالت میں گواہوں کے قسم کھانے کے بارے میں کہا ہے کہ اللہ تعالی کے نام کے علاوہ کسی اور چیز کی قسم کھانا جیسے آسمانی کتابیں، پیغمبر اکرمؐ، ائمہؑ کی قسم کھانا جائز نہیں ہے؛ کیونکہ یہ بدعت ہے۔[28]اسی طرحجواہرالکلام میں امامیہ فقہاء سے نقل کیا ہے کہ وضو میں ہاتھ اور چہرے کو تین مرتبہ دھونا بدعت اور حرام ہے۔[29]

ملااحمد نراقی کا کہنا ہے کہ بدعت حرام ہونے کے بارے میں مسلمانوں کا اِجماع ہے۔[30]انہوں نے بدعت حرام ہونے کو اسلام کی ضروریات (یقینی احکام) میں سے قرار دیا ہے۔[31]

مسلمان اور بدعتوں کے الزام

اسلام میں کونسی چیز بدعت ہے اس بارے میں ہمیشہ سے مسلمانوں کے درمیان اختلاف رہا ہے۔[32]ابن رشد کا کہنا ہے کہ اسلامی مذاہب ایک دوسرے پر بدعت کا الزام لگاتی ہیں۔[33]مثال کے طور پر حنبلی‌ اور وہابی، اسلامی فلاسفر جیسے؛ فارابی، ابن‌سینا اور شیعہ، معتزلہ، اشاعرہ اور خوارج کے متکلموں کو اہل بدعت سمجھتے ہیں۔[34]

اشاعرہ اپنے سواے باقی تمام اسلامی فرقے جیسے؛ معتزلہ، شیعہ اور باطنیہ کو اہل بدعت سمجھتے ہیں۔[35]جبکہ شیعوں کے عقیدے کے مطابق اہل سنت، غالی، معتزلہ، خوارج اور صوفیہ اہل بدعت‌ ہیں۔[36]

کہا گیا ہے کہ مسلمان علما میں سب سے زیادہ ابن‌ تیمیہ نے دوسروں پر بدعت کا الزام لگایا ہے۔[37]وہ ہر اس کام کو بدعت سمجھتا ہے جو اس کے عقیدے کے مطابق قرآن سے یا پیغمبر اکرمؐ، صحابہ اور تابعین کی سنت سے اخذ نہ کیا ہو۔[38]

شیعہ اثناعشری کے مطابق، نماز میں ہاتھ باندھے رکھنا،[39]نماز تراویح کو جماعت کے ساتھ پڑھنا،[40]نماز میں آمین کہنا[41]اور ایک ہی جلسے میں تین طلاق جائز ہونے کو [42]بدعت سمجھتے ہیں۔[43]

اچھی اور بری بدعتیں

جعفر سبحانی اور نجم‌الدین طبسی کا کہنا ہے کہ بعض اہل سنت علماء جیسے شافعی، ابن‌حزم، غزالی اور ابن‌اثیر[44] نے ہر بدعت کو مذموم قرار نہیں دیا ہے اور اچھی بدعت کا بھی تذکرہ کیا ہے۔[45] اور انہوں نے اپنی اس بات کو دوسرے خلیفے کا نماز تراویح جماعت کے ساتھ پڑھنے کی تاکید سے استناد کیا ہے اور اسے اچھی بدعت سے تعبیر کی ہے۔[46]غزالی کی تحریر کے مطابق ہر وہ بدعت حرام ہے جو سنت سے متعارض ہو اور کسی شرعی حکم کے خلاف ہو۔[47]بعض اہل سنت علما نے بدعت کو بھی احکام خمسہ؛ واجب، حرام، مستحب، مکروہ اور مُباح پر تقسیم کرتے ہوئے اس کی پانچ اقسام قرار دی ہے۔[48]

اکثر شیعہ علما اور بعض اہل سنت علما اس تقسیم کو نہیں مانتے ہیں۔ مثال کے طور پر شہید اول لکھتے ہیں: پیغمبر اکرمؐ کے بعد جو امور سامنے آئے وہ پانچ قسموں میں تقسیم ہوتے ہیں، واجب جیسے قرآن کی تدوین، حرام جیسے متعہ کو حرام قرار دینا، مستحب جیسے، مدرسے بنانا، مکروہ جیسے، زیادہ کھانا جبکہ مباح جیسے اپنی سہولت اور رفاہ کے لیے وسائل فراہم کرنا ہے؛ لیکن حرام میں صرف بدعت ہے؛[49]اگرچہ سبحانی کے بقول شہید اول نے اپنی دوسری کتاب الذکری میں مکروہ بدعت کا بھی نام لیا ہے۔[50] محمدباقر مجلسی بدعت کو پانچ اقسام میں تقسیم کرنے کو رد کیا ہے اور اس کے لئے ایک روایت سے تمسک کیا ہے جس میں کہا گیا ہے: «ہر بدعت حرام ہے»۔[51]

اہل سنت کے عالم دین شاطبی نے بھی بدعت کے اقسام کی مخالفت کی ہے۔ ان کا پہلا اشکال یہ ہے کہ سب سے پہلے تو اس تقسیم پر ہی کوئی شرعی دلیل نہیں ہے لہذا یہ خود بدعت ہے۔ دوسرا اشکال یہ ہے کہ واجب، مستحب یا مباح بدعت کا مفہوم خود متناقض ہے؛ کیونکہ کسی چیز کے واجب یا مستحب اور مباح ہونے پر دلیل موجود ہو تو پھر وہ بدعت نہیں ہوسکتی، کیونکہ بدعت اس چیز کو کہا جاتا ہے جس پر شرعی دلیل موجود نہ ہو۔[52]

مباہتہ

اصل مضمون: مباہتہ

امام صادقؑ نے پیغمبر اکرمؐ سے نقل کرتے ہوئے اہل بدعت سے رفتار کے بارے میں «بَاھتُوھُمْ» کی عبارت استعمال کیا ہے۔[53]جس کے بارے میں شیعہ علما کے نظریات مختلف ہیں۔ سیدابوالقاسم خوئی اور سید محمد رضا گلپایگانی جیسے علما کا کہنا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ اہل بدعت پر تہمت لگاؤ۔[54] جبکہ فیض کاشانی، سیدعبدالکریم موسوی اردبیلی اور جعفر سبحانی وغیرہ کا کہنا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اہل بدعت کو مبہوت کرو؛ یعنی ان سے بحث مباحثہ کر کے انہیں مات دو۔[55] صاحب‌ریاض لکھتے ہیں: جھوٹ حرام ہونے کی وجہ سے اہل بدعت پر جھوٹے الزام لگانا جائز نہیں ہے۔[56]

بدعت کے بارے میں کتابیں

جعفر سبحانی کا کہنا ہے کہ مسلمان دانشوروں نے ماضی سے اب تک بدعت کے بارے میں بہت ساری کتابیں لکھی ہیں[57] جن میں سے بعض مندرجہ ذیل ہیں:

  • البِدَع و النّہی عنہا، بقلم ابن‌وضّاح قرطبی
  • الحوادث و البِدَع، بقلم طرطوشی
  • الباعث، بقلم ابوشامہ
  • الاِعتصام، بقلم ابواسحاق ابراہیم شاطبی
  • البِدَع المُحدَثہ، بقلم ابوالقاسم کوفی
  • البِدَع، بقلم جعفر باقری
  • البدعہ، بقلم جعفر سبحانی[58]

حوالہ جات

  1. سبحانی، البدعہ، ۱۴۱۶ق، ص۲۵.
  2. سبحانی، البدعہ، ۱۴۱۶ق، ص۲۵تا۳۰.
  3. سبحانی، البدعہ، ۱۴۱۶ق، ص۲۵.
  4. سبحانی، البدعہ، ۱۴۱۶ق، ص۲۸.
  5. مراجعہ کریں: طباطبایی، ریاض‌المسائل، ۱۴۱۸ق، ج۸، ص۱۷۵؛ خویی، صراط‌النجاة، ۱۴۱۶ق، ج۳، ص۴۲۸.
  6. خویی، صراط‌النجاة، ۱۴۱۶ق، ج۳، ص۴۲۸.
  7. مراجعہ کریں: خویی، موسوعةالامام خویی، ۱۴۱۸ق، ج۶، ص۳۵۵.
  8. مراجعہ کریں: مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۷۱، ص۲۰۲و۲۰۳
  9. مؤسسہ دایرةالمعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ، ۱۳۸۸ش، ص۷۵.
  10. مؤسسہ دایرةالمعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ، ۱۳۸۸ش، ص۷۵.
  11. مراجعہ کریں: نراقی، عوائدالايام، ۱۴۱۷ق، ص۳۱۹.
  12. مراجعہ کریں: خویی، موسوعةالامام خویی، ۱۴۱۸ق، ج۶، ص۳۵۵؛ نراقی، عوائدالايام، ۱۴۱۷ق، ص۳۱۹.
  13. سبحانی، البدعہ، ۱۴۱۶ق، ص۱۵.
  14. مراجعہ کریں: سبحانی، البدعہ، ۱۴۱۶ق، ص۱۵تا۲۱.
  15. مراجعہ کریں: سبحانی، البدعہ، ۱۴۱۶ق، ص۱۵و۱۶.
  16. مراجعہ کریں: سبحانی، البدعہ، ۱۴۱۶ق، ص۱۷.
  17. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۱، ص۵۶.
  18. مراجعہ کریں: سبحانی، البدعہ، ۱۴۱۶ق، ص۵.
  19. مراجعہ کریں: شیخ صدوق، من لا یحضرہ الفقیہ، ۱۴۱۳ق، ج۳، ص۵۷۲.
  20. شیخ صدوق، من لا یحضرہ الفقیہ، ۱۴۱۳ق، ج۳، ص۵۷۲.
  21. سبحانی، البدعہ، ۱۴۱۶ق، ص۱۳-۱۵.
  22. طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۱۲، ص۳۶۵.
  23. سبحانی، البدعہ، ۱۴۱۶ق، ص۱۳و۱۴.
  24. طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۱۹، ص۱۷۳.
  25. ترجمہ جوادی
  26. طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۱۲، ص۳۶۵.
  27. نراقی، عوائدالايام، ۱۴۱۷ق، ص۳۱۹.
  28. محقق حلی، النہایہ و نکتہا، ۱۴۱۲ق، ج۲، ص۷۸.
  29. نجفی، جواہر الکلام، بیروت، ج۲، ص۲۷۶.
  30. مراجعہ کریں: نراقی، عوائدالايام، ۱۴۱۷ق، ص۳۱۹.
  31. مراجعہ کریں: نراقی، عوائدالايام، ۱۴۱۷ق، ص۳۱۹.
  32. گذشتہ، «بدعت؛ مقدمہ، تعریفہا و تقسیمات»، ص۵۶۰.
  33. گذشتہ، «بدعت؛ مقدمہ، تعریف‌ہا و تقسیمات»، ص۵۶۰.
  34. گذشتہ، «بدعت؛ مقدمہ، تعریف‌ہا و تقسیمات»، ص۵۶۰.
  35. گذشتہ، «بدعت؛ مقدمہ، تعریف‌ہا و تقسیمات»، ص۵۶۱.
  36. گذشتہ، «بدعت؛ مقدمہ، تعریف‌ہا و تقسیمات»، ص۵۶۱.
  37. طارمی، «بدعت»، ص۵۱۷.
  38. طارمی، «بدعت»، ص۵۱۷.
  39. سبحانی، البدعہ، ۱۴۱۶ق، ص۱۶۰و۱۶۱.
  40. سبحانی، البدعہ، ۱۴۱۶ق، ص۱۷۹.
  41. پاکتچی، «بدعت؛‌بررسی تاریخی»، ص۵۶۶.
  42. سبحانی، البدعہ، ۱۴۱۶ق، ص۱۹۹و۲۰۰.
  43. سبحانی، البدعہ، ۱۴۱۶ق، ص۱۱۹.
  44. سبحانی، البدعہ، ۱۴۱۶ق، ص۲۶و۲۷.
  45. طبسی، دراسات فقہیہ فی مسائل الخلافیہ، ۱۴۲۹ق، ص۱۶۸؛ سبحانی، البدعہ، ۱۴۱۶ق، ص۲۶و۲۷.
  46. طبسی، دراسات فقہیہ فی مسائل الخلافیہ، ۱۴۲۹ق، ص۱۶۸.
  47. غزالی، احیاءالعلوم، ۱۴۰۶ق، ج۲، ص۴و۵.
  48. شاطبی، الاعتصام، ۱۴۱۲ق، ج۱، ص۲۴۱تا۲۴۵.
  49. مراجعہ کریں: شہید اول، القواعد و الفوائد، ۱۴۰۰ق، ج۲، ص۱۴۴تا۱۴۶.
  50. سبحانی، البدعہ، ۱۴۱۶ق، ص۲۸.
  51. مراجعہ کریں: مجلسی، مرآةالعقول، ۱۴۰۴ق، ج۱، ص۱۹۳.
  52. مراجعہ کریں: شاطبی،الاعتصام، ۱۴۱۲ق، ج۱، ص۲۴۶.
  53. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۲، ص۳۷۵.
  54. مراجعہ کریں:خوئی، مصباح‌الفقاہہ، ۱۴۱۷ق، ج۱، ص۲۸۱؛ گلپایگانی، الدرالمنضود، ۱۴۱۲ق، ج۱، ص۱۴۹۔
  55. رجوع کریں: فیض کاشانی، الوافی، ۱۴۰۶ق، ج۱، ص۲۴۵؛ «فتوای ۵ مرجع تقلید دربارہ دروغ گفتن و بہتان زدن»، ایسنا ویب سائٹ، ۶ اسفند ۱۳۹۵ش، دیدہ‌شدہ در ۲۶ تیر ۱۳۹۷ش.
  56. طباطبایی، ریاض‌المسائل، ۱۴۱۸ق، ج۱۶، ص۴۲.
  57. سبحانی، البدعہ، ۱۴۱۶ق، ص۹.
  58. سبحانی، البدعہ، ۱۴۱۶ق، ص۹.


مآخذ

  • قرآن، ترجمہ حیدر جوادی.
  • پاکتچی، احمد، «بدعت؛‌بررسی تاریخی»، دایرةالمعارف بزرگ اسلامی، ج۱۱، تہران، مرکز دایرةالمعارف بزرگ اسلامی، چاپ اول، ۱۳۸۱ش.
  • خویی، سیدابوالقاسم، صراط‌النجاة، جمع‌آوری موسى مفیدالدین عاصى عاملى‌، قم، نشر المنتخب، چاپ اول، ۱۴۱۶ق.
  • خویی، سیدابوالقاسم، موسوعةالامام خوئی، قم، مؤسسة احیاء آثار الامام خوئی، چاپ اول، ۱۴۱۸ق.
  • خوئی، سیدابوالقاسم خوئی، مصباح‌الفقاہہ، تقریر میرزامحمدعلی توحیدی، قم، انصاریان، چاپ چہارم، ۱۴۱۷ق.
  • سبحانی، جعفر، البدعہ؛ مفہومہا، حدہا و آثارہا، قم، مؤسسہ امام صادق، ۱۴۱۶ق.
  • شاطبی، ابراہیم بن موسی، الاعتصام، تحقیق سلیم بن عید الہلالی، ریاض، دار ابن عفان، چاپ اول، ۱۴۱۲ق.
  • شیخ صدوق، محمد بن على، من لا یحضرہ الفقیہ، ‏ تصحیح علی‌اکبر غفارى، قم، دفتر انتشارات اسلامى وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم‏، چاپ دوم، ۱۴۱۳ق.
  • طارمی، «بدعت»، دانشنامہ جہان اسلام، تہران، بنیاد دایرةالمعارف اسلامی، چاپ دوم، ۱۳۷۵ش.
  • طباطبایی، سیدعلى، ریاض‌المسائل فی تحقیق الاحکام بالدلایل، قم، مؤسسہ آل‌البيت، چاپ اول، ۱۴۱۸ق.
  • طباطبایی، سیدمحمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، قم، دفتر انتشارات اسلامى جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، چاپ پنجم، ۱۴۱۷ق.
  • طبسی، نجم‌الدین، دراسات فقہیہ فی مسائل خلافیہ، قم، دفتر تبلیغات اسلامی حوزہ علمیہ قم، چاپ اول، ۱۴۲۹ق.
  • غزالی، محمد، احیاء علوم الدین، بیروت، دارالفکر، چاپ اول، ۱۴۰۶ق.
  • «فتوای ۵ مرجع تقلید دربارہ دروغ گفتن و بہتان زدن»، ایسنا ویب سائٹ، ۶ اسفند ۱۳۹۵ش، دیدہ‌شدہ در ۲۶ تیر ۱۳۹۷ش.
  • فیض کاشانی، محمدمحسن، الوافی، تحقیق ضیاءالدین حسینی اصفہانی، اصفہان، کتابخانہ امام امیرالمؤمنین، چاپ اول، ۱۴۰۶ق.
  • کلینی، محمدبن یعقوب، الکافی، تحقیق علی‌اکبر غفاری‌، تہران، دارالکتب الإسلامیة، چاپ چہارم، ۱۴۰۷ق.
  • گذشتہ، ناصر، «بدعت»، دایرةالمعارف بزرگ اسلامی، ج۱۱، تہران، مرکز دایرةالمعارف بزرگ اسلامی، چاپ اول، ۱۳۸۱ش.
  • گلپایگانی، سیدمحمدرضا، الدرالمنضود فی احکام الحدود، قم، دارالقرآن الکریم، چاپ اول، ۱۴۱۲ق.
  • مجلسى، محمدباقر، بحارالأنوار الجامعہ لدرر اخبار الائمة الاطہار، تصحیح جمعى از محققان،‏ بیروت، دار إحیاء التراث العربی، چاپ دوم، ۱۴۰۳ق.
  • مجلسی، محمدباقر، مرآةالعقول فی شرح اخبار آل الرسول، تحقیق سیدہاشم رسولى‌،‌ تہران، دارالكتب الإسلامیة‌، چاپ دوم، ۱۴۰۴ق.
  • محقق حلّى، جعفر بن حسن‌، النہایہ و نکتہا، تصحیح گروہ پژوہش دفتر انتشارات اسلامى، قم، دفتر انتشارات اسلامى وابستہ بہ جامعہ مدرسين حوزہ علميہ قم‌، چاپ اول، ۱۴۱۲ق.
  • مؤسسہ دایرةالمعارف فقہ اسلامی، فرہنگ فقہ مطابق مذہب اہل بیت علیہم‌السلام، قم، مؤسسہ دایرةالمعارف فقہ اسلامی، چاپ دوم، ۱۳۸۸ش.
  • نجفى، محمدحسن، ‌جواہرالکلام فی شرح شرائع‌الاسلام، تصحیح عباس قوچانى و على آخوندى، بیروت، دار إحیاء التراث العربی، چاپ ہفتم‌، بی‌تا.
  • نراقى، احمد، عوائدالأیام فی بیان قواعدالأحكام و مہمات مسائل الحلال و الحرام‌، قم، انتشارات دفتر تبلیغات اسلامى حوزہ علمیہ قم‌، چاپ اول، ۱۴۱۷ق.